Saturday, 15 February 2025

مودی-نتیش کی مشترکہ ٹھگی کا شکار ہے بہار: ڈاکٹر اکھیلیش

 





پٹنہ، 15 فروری 2025 وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی ملی بھگت سے بہار مسلسل پریشانی میں مبتلا رہا ہے۔ ان کی ٹھگی کا انداز بھی الگ ہے۔ جب بھی نتیش کمار بی جے پی کی گود میں بیٹھتے ہیں، تو لوگوں میں امید پیدا ہو جاتی ہے کہ شاید اب بہار کی قسمت بدل جائے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ بہار کو یا تو خصوصی ریاست کا درجہ ملے گا یا پھر خصوصی پیکیج، لیکن نتیجہ ہمیشہ صفر نکلتا ہے۔ مودی جی نتیش بابو کو طفل تسلی دے کر خوش کر دیتے ہیں اور دونوں تالیاں پیٹنے لگتے ہیں۔ پچھلے دس سالوں سے بہار کے ساتھ یہی بھونڈا مذاق مسلسل جاری ہے۔

یہ باتیں بہار کانگریس کے صدر ڈاکٹر اکھیلیش پرساد سنگھ نے کہیں۔ وہ صداقت آشرم میں پارٹی رہنماو¿ں کے ساتھ انتخابی تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ سنا ہے کہ مودی ایک بار پھر بہار آ رہے ہیں، اور وزیر اعظم کا بہار آنا مطلب ایک نئی ٹھگی کی شروعات۔ پچھلے دس سالوں سے کانگریس سمیت تمام سیاسی جماعتیں بہار کے لیے خصوصی پیکیج اور خصوصی ریاست کے درجے کا مطالبہ زور و شور سے کر رہی ہیں، لیکن مرکزکی بی جے پی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اور بنیادی مطالبات سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے مودی حکومت مختلف چالاکیاں دکھاتی رہتی ہے، جیسے کہ بجٹ میں بہار کے لیے معمولی رقم مختص کر کے اسے بہار کا بجٹ قرار دینا۔

ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ صرف انڈیا الائنس کے اتحادی ہی خصوصی ریاست کا درجہ یا خصوصی پیکیج کا مطالبہ دہراتے رہے ہیں، بلکہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی یہی مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ان کے دل میں کیا ہے، یہ تو معلوم نہیں، کیونکہ جب ان کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا تب بھی وہ مودی کی تعریفوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ مودی اور نتیش کی ملی بھگت سے بہار کو کیا ملا؟ اگر سچ کہیں تو صرف جھوٹ، فریب اور مودی کی ٹھگی۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی کے ہر پیمانے پر بہار آج بھی آخری پائیدان پر کھڑا ہے۔ بہار آج بھی بیمار ہے، صحت، تعلیم، بے روزگاری، معاشی بدحالی، صنعتوں کا زوال، ہر طرح سے بہار بدحال ہے، پھر بھی مودی جی کو اپنی ٹھگی کے فن پر اتنا اعتماد ہے کہ وہ یہاں بار بار نئے جھوٹ کا بیوپار کرنے آ جاتے ہیں۔ لیکن اس بار مودی خود شکار بننے والے ہیں۔


No comments:

Post a Comment