پٹنہ، 11 فروری :بہار پردیش راشٹریہ جنتا دل کے ترجمان اعجاز احمد نے الزام لگایا کہ بہار حکومت کے اشارے پر سابق قانون ساز کونسل کے رکن اور بسکومان کے سابق صدر ڈاکٹر سنیل کمار سنگھ کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ دوہرا معیار اپنایا جا رہا ہے۔ جہاں حکمران جماعت کے لوگوں کو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرکے سرکاری رہائش فراہم کی جا رہی ہے، وہیں اپوزیشن کے سابق ایم ایل سی ڈاکٹر سنیل سنگھ کی رہائش گاہ کو زبردستی خالی کرایا جا رہا ہے۔ یہ حکومت کا کیسا انصاف ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر سنیل سنگھ کی قانون ساز کونسل کی رکنیت کے معاملے پر معزز سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ رکھا ہوا ہے۔ دوسری طرف، ان کی رہائش گاہ کو معزز پٹنہ ہائی کورٹ نے خالی کرانے پر روک لگا رکھی تھی، لیکن جب اس کی مدت ختم ہونے والی تھی، تو اس سے پہلے ہی حکومت نے صبح سویرے پولیس کے ذریعے زبردستی ان کا سامان کوارٹر سے باہر پھینکوا دیا اور ان کی غیر موجودگی میں رہائش گاہ کو خالی کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔
ریاستی حکومت کا یہ رویہ واضح طور پر انتقامی کارروائی ہے۔ آخر حکومت ڈاکٹر سنیل سنگھ سے اتنا خوفزدہ کیوں ہے؟ اس سے پہلے بسکومان کے ڈائریکٹر کے انتخابات میں بھی انہیں مسلسل پریشان کیا گیا، لیکن جب دوبارہ گنتی کے بعد بھی ڈاکٹر سنیل سنگھ کے پینل کو اکثریت مل گئی، تب بھی مرکزی اور ریاستی حکومت نے صدر کے انتخاب کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ حکومت جب ووٹ کے ذریعے نہیں جیت سکی، تو اب نئے طریقے اپنا کر صدر کا انتخاب نہیں ہونے دے رہی، حالانکہ ڈائریکٹر کے انتخابات کا نتیجہ 24 جنوری کو ہی جاری ہو چکا ہے۔
اعجاز احمد نے مزید کہا کہ معزز سپریم کورٹ کے ذریعہ قانون ساز کونسل کے نتائج کو روکنے اور فیصلے کو محفوظ رکھنے کے بعد حکومت پوری طرح بےچین اور گھبرائی ہوئی ہے۔ دوسری طرف، بسکومان کے ڈائریکٹر بورڈ میں ڈاکٹر سنیل سنگھ کے پینل کو اکثریت ملنے کے بعد حکومت کو لگ رہا ہے کہ ان کے من پسند صدر کا انتخاب نہیں ہوگا، جس سے ان کی سبکی ہو سکتی ہے، اسی لیے حکومت کی جانب سے ڈاکٹر سنیل سنگھ کی غیر موجودگی میں ان کا سامان باہر پھینک دیا گیا اور انہیں زبردستی رہائش سے بےدخل کرنے کا عمل کیا گیا۔ یہ سراسر ناانصافی اور جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔
جبکہ بہار حکومت کی مہربانی سے حکمران جماعت کے کئی رہنما سرکاری کوارٹرز میں مقیم ہیں اور ان پر حکومت کی کوئی سخت نظر نہیں ہوتی، نہ ہی عمارت سازی کے محکمے کی کوئی توجہ ہوتی ہے۔ ایسے واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بہار میں حکومت کی طرف سے حکمران جماعت کے لیے خصوصی رعایت جبکہ اپوزیشن کے لیے الگ قانون نافذ ہے، جس کے تحت ان کے سامان کو زبردستی باہر پھینک دیا جاتا ہے۔

No comments:
Post a Comment