گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی پٹی پر قبضے اور وہاں کے لوگوں کو بے گھر کرنے کے بیانات سے اٹھنے والے عرب اور بین الاقوامی ردعمل کے طوفان کی بازگشت ابھی تھمی نہیں تھی کہ اسرائیل نے ایک بار پھر یہ تجویز تازہ کردی ہے۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس بات پر زوردیا کہ امریکی صدر کی تجویز پہلے سے اچھی ہے اور اس سے قبل اس طرح کی تجویز سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ غزہ پر سے متعلق ٹرمپ کی تجویز کو کئی سالوں میں اپنی نوعیت کی پہلی تجویز ہے۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "کچھ لوگ ہم پر غزہ کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کرنے کا الزام لگاتے تھے، لیکن اب وہ ٹرمپ کے انہیں اس جیل سے نکالنے کے خیال کو مسترد کرتے ہیں"۔
انہوں نے ’فاکس نیوز‘ کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران زور دیتے ہوئے کہا کہ مصر ہی فلسطینیوں کو تباہ شدہ پٹی چھوڑنے سے روک رہا ہے۔
انہوں نے مصر پر غزہ کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ "یہ فلسطینیوں کو غزہ چھوڑنے کا موقع دینے کا وقت ہے"۔
انہوں نے غزہ کے لوگوں کے لیے متبادل جگہ تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیل ان فلسطینیوں کو "جو دہشت گردی ترک کریں گے غزہ کی تعمیر نو کے بعد واپس آنے کی اجازت دے گا"۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایران کے بارے میں کہا کہ ہم نے 8 اکتوبر 2023 ئ کو اپنا وعدہ پورا کر دیا، جب ہم نے عزم کیا تھا کہ ہم ایرانی محور کو الٹا کر دے یں گے۔ ہم نے حزب اللہ کو کمزور کردیا جو خطے میں ایران کے "تاج کا زیور" ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حماس کو شکست دے دی۔ بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ بھی ان کی حکمت عملی کانتیجہ ہے‘-
انہوں نے مزید کہا کہ صرف تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا باقی رہ گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس معاملے پر ٹرمپ کے ساتھ اس وقت بات کی تھی جب وہ چند روز قبل واشنگٹن میں ان سے ملے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ غزہ کے حوالے سے ٹرمپ کی تجویز چند روز قبل وائٹ ہاو¿س میں نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے دوران سامنے آئی تھی۔
یہ بات قابل غور ہے کہ فلسطینی علاقے غز ہ کی پٹی سے جبری نقل مکانی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ صرف خطے میں بلکہ واشنگٹن کے مغربی اتحادیوں کی طرف سے بھی اس کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔
No comments:
Post a Comment