پٹنہ، ہفتہ، 15 فروری 2025 بی جے پی کے دورِ حکومت میں بہار میں دلتوں پر ظلم و ستم کے واقعات تیزی سے بڑھے ہیں۔ آج حالت یہ ہے کہ بہار میں دلت رکنِ پارلیمنٹ پر بھی بی جے پی اور جے ڈی یو کے غنڈے جان لیوا حملے کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ درج فہرست ذاتوں کے قومی کمیشن کے مطابق، دلتوں پر مظالم کے معاملے میں سرفہرست چاروں ریاستیں بی جے پی کے زیرِ حکومت ہیں۔ یہ باتیں بہار کانگریس کے ترجمان اور ریسرچ ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین آنند مادھو نے کہیں۔
آنند مادھو نے کہا کہ سال 2018-19 کے دوران ملک میں دلتوں پر مظالم کے 1.3 لاکھ واقعات درج ہوئے، جن میں سب سے زیادہ معاملات اتر پردیش اور بہار میں تھے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے اپنی حکومت والی ریاستوں میں دلتوں پر ظلم و جبر کو فروغ دیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 18 فروری کو جب درج فہرست ذاتوں کے قومی کمیشن کے چیئرمین رام شنکر کٹھریا نے بہار میں دلتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم پر تشویش کا اظہار کیا تھا، تو انہوں نے کہا تھا کہ ملک میں دلتوں پر مظالم کی شرح 21 فیصد ہے، جبکہ بہار میں یہ شرح 42 فیصد ہے۔
2015 سے ہر سال دلتوں پر مظالم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ 2018 میں دلتوں پر ظلم و ستم کے 42,792 واقعات درج ہوئے، جبکہ 2019 میں یہ تعداد بڑھ کر 45,935 ہو گئی، جن میں 3,486 عصمت دری کے کیس شامل تھے۔ دلتوں پر حملوں میں مجرموں کو سزا دلانے کی شرح 2018 میں 42 فیصد تھی، جو 2022 میں گھٹ کر 34 فیصد رہ گئی۔ حال ہی میں نوادہ ضلع میں دلتوں کے 80 گھروں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔
دلتوں کے حق میں بولنے والے وزیر اعظم نریندر مودی دلتوں کے پاو¿ں دھونے کا ڈرامہ تو کرتے رہے، لیکن ان ہی کے دورِ حکومت میں اور ان کے زیرِ انتظام ریاستی حکومتوں میں دلتوں پر مظالم میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ اس کے باوجود "فوٹو جیوی" وزیر اعظم نے اس پر کوئی مو¿ثر قدم نہیں اٹھایا۔
سچ تو یہ ہے کہ بہار میں "ڈبل انجن کی حکومت" نہیں، بلکہ "مہا جنگل راج" قائم ہے!

No comments:
Post a Comment