Tuesday, 11 February 2025

پوپ فرانسس کو بھی امریکہ سے تارکین وطن کی ملک بدری قبول نہیں، ٹرمپ انتطامیہ کو سرزنش

 










کیتھو لک مسیحیوں کے فرقے کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے منگل کے روز امریکہ سے بڑی تعداد میں تارکین وطن کی بے دخلی اور ملک بدری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس منصوبے کو تقریباً ناقابل عمل قرار دے کر ٹرمپ انتظامیہ کی سرزنش کی ہے۔


واضح رہے صدر ٹرمپ نے بر سر اقتدار آتے ہی امریکہ میں تارکین وطن کے خلاف سخت اقدام کرتے ہوئے انہیں جبری ڈی پورٹ کرنا شروع کر دیا اور سرحد پر میکسیکو کی جانب مزید اقدامات کیے۔ نیز تارکین وطن کے نومولود بچوں کو امریکہ میں شہریت دینے کے دیرینہ حق سے بھی محروم کر دیا۔ دوسری جانب غزہ سے 20 لاکھ فلسطینیوں کو اپنی ہی سرزمین سے جبری طور پر مصر اور اردن منتقل کرنے کا اعلان کر دیا۔


پوپ نے پہلے معاملے پر امریکی مذہبی پیشواو¿ں کو خط لکھ کر اس کا نوٹس لیا ہے۔


پوپ فرانسس جو عام طور پر سیاسی موضوعات پر بات کرنے سے گریزاں رہتے ہیں کہ ان کے مسیحی مذہبی فلسفے میں مذہب کو سیاست سے دور رکھا جاتا ہے۔ لیکن انہوں نے بھی اسے انسانی مسئلے کے طور پر دیکھتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی ملک بدری اور اپنے ملک سے جبری نقل مکانی ان لوگوں کو ان کے موروثی وقار سے محروم کر دے گی۔


پوپ فرانسس نے اس سلسلے میں امریکی مذہبی رہنماو¿ں اور بشپس کے نام لکھے گئے خط میں لکھا ہے کہ اس جبری بے دخلی اور انخلا سے کمزوروں کو نقصان پہنچے گا۔


خیال رہے پوپ فرانسس خود بھی لاطینی امریکہ سے تعلق رکھنے والے پہلے مسیحی پوپ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے دنیا کے ملک تنازعات، افلاس اور موسمیاتی آفات و مصائب سے نکل کر بھاگنے اور پناہ کے طلبگاروں کا جہاں تک ان کے لیے ممکن ہو ان کا خیر مقدم کریں نہ کہ انہیں رد کریں۔



No comments:

Post a Comment