مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے اسرائیلی جنگ سے تباہ ہو چکے غزہ کے بارے میں زور دے کر کہا ہے ' غزہ کی تعمیر نو فلسطینیوں کو غزہ سے جبری طور پر بے دخل کیے بغیر کی جائے۔' ان کا یہ بیان امری
کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کا فلسطینیوں کے بغیر کنٹرول سنبھال کر اس کی تعمیر نو کرنے کا اعلان کے تناظر میں آیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک امریکی پراپرٹی ٹائیکون ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اگر غزہ میں فلسطینی نہ رہیں تو سمندر سے جڑی یہ غزہ کی پٹی مشرق وسطیٰ کا ' ریویرا ' بن سکتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ان بے دخل کیے جانے والے غزہ کے فلسطینیوں کو مصر اور اردن میں بسانے کا کہا ہے۔ تاہم یہ دونوں ملک اس منصوبے سے اتفاق نہیں کرتے۔
مصری وزیر خارجہ نے پیر کے روز اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی ہے، جبکہ اردن کے شاہ عبداللہ دوم ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکہ پہنچے ہیں۔
صدر السیسی کا کہنا ہے کہ اہل غزہ کو ان کی زمین سے نکالے بغیر تعمیر نو کرنے سے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی ممکن ہوگا اور وہ اپنی سرزمین پر رہ سکیں گے۔
بتایا گیا ہے کہ السیسی نے ان خیالات کا اظہار ڈنمارک کے وزیر اعظم میٹے فریڈریکسن سے فون پر گفتگو کے دوران کیا ہے۔
مصر کے صدر نے اس گفتگو کے دوران یہ بھی کہا ' فلسطینی ریاست کا قیام ہی اس امر کی پائیدار ضمانت بن سکتا ہے کہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔' یہ بیان ان کے دفتر کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔
غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلا کے سلسلے میں عرب دنیا کے وزرائے خارجہ کی طرف سے بھی رد عمل سامنے آچکا ہے۔ جبکہ دنیا بھر سے اس ٹرمپ منصوبے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔
No comments:
Post a Comment