شام کی نئی رجیم نے 25 فروری کو قومی مکالمے کی کانفرنس بلا لی ہے۔ آٹھ دسمبر سے بر سر اقتدار نئی شامی حکومت کی یہ اس سلسلے کی اب تک کی سب سے بڑی اور وسیع بنیاد کانفرنس ہو گی۔
کانفرنس کا مقصد طویل خانہ جنگی سے تباہ شدہ ملک کو بشارالاسد رجیم کے بعد کس سمت میں آگے بڑھایا جائے ، نیز تعمیر نو کے علاوہ قومی یکجہتی و سلامتی کے چیلنجوں سے کس طرح نمٹا جائے۔ یہ بات کانفرنس کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کے ارکان نے بتائی ہے۔
بیرونی طاقتیں اور علاقے کے ملک بھی اس قومی مکالمے کے فروغ کے لیے بلائی گئی کانفرنس کو ابھی سے توجہ سے مانیٹر کرنے لگے ہیں۔ تاکہ شام کے سیاسی مستقبل کو دیکھ سکیں کہ احمد الشرع کے زیر قیادت شام کے تمام طبقوں کو نئی حکومت اور حکومتی ڈھانچے میں شامل کیا جائے گا یا نہیں۔
بیرونی طاقتوں نے شام پر عائد کی گئی پرانی پابندیوں کو واپس لینے کا معاملہ اسی لیے التوا میں رکھا ہوا ہے۔
سات رکنی کمیٹی کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ملک کے طول و عرض میں 4000 شخصیات کے ساتھ ابتدائی مشاورت کی گئی ہے۔ اس مشاورتی عمل کو ملک کے مستقبل کے اداروں کی تیاری، دستور سازی اور 25 فروری کی قومی کانفرنس کے اعلامیے کے لیے بنیاد بنایا جائے گا۔
بتایا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر کانفرنس دو دنوں کے لیے طلب کی گئی ہے۔ تاہم ضرورت محسوس کی گئی تو کانفرنس کے دورانیے میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ کانفرنس کا انعقاد یکم مارچ تک تشکیل پانے والی عبوری حکومت کی تکمیل سے محض چند روز قبل کیا جا رہا ہے۔
امکان ہے کہ اس کانفرنس میں عبوری حکومت کے وزرا کو براہ راست عوامی رائے کو سمجھنے اور جانچنے کا موقع بھی ملے گا۔
No comments:
Post a Comment