امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دورے کے بعد آج منگل کے روز سعودی دار الحکومت ریاض میں امریکا اور روس کے سینئر عہدے داران کا اجلاس متوقع ہے۔ اجلاس کا مقصد ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات میں پیش رفت کےلیے بات چیت کا اجرا اور یوکرین کے حوالے سے مذاکرات کے لیے سرکاری طور پر بنیادی وضع کرنا ہے۔ یہ اجلاس بعد ازاں سعودی عرب میں روسی صدر ولادی میری پوتین اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان سربراہ اجلاس کی راہ ہموار کرے گا۔ لہذا اس سفارتی تحریک کی اہمیت نمایاں ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ اور پوتین کی آئندہ ملاقات کے لیے ریاض کا انتخاب بے سوچے سمجھے نہیں کیا گیا۔ یہ سعودی دار الحکومت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تزویراتی غیر جانب داری اور عالمی سطح پر مملکت کا بطور وساطت کار کردار ظاہر کر رہا ہے۔
سعودی عرب طویل عرصے سے خطے میں امریکا کا اتحادی ہے۔
اسی طرح دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے ذریعے سعودی عرب نے تیل سے متعلق پالیسی میں روس کے ساتھ قریب رہ کر کام کیا ہے۔ فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے مملکت نے خود کو بطور وساطت کار پیش کیا۔
ادھر مملکت نے کئیف حکومت کے ساتھ بھی قابل اعتماد تعلق برقرار رکھا۔ سعودی عرب نے ایک سے زیادہ مرتبہ یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی کا استقبال کیا۔ وہ اپنے ایک دورے میں مئی 2023 میں جدہ میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں بھی شریک ہوئے۔ گذشتہ برس جون میں زیلنسکی نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔
معلوم رہے کہ زیلنسکی کل بدھ کے روز ایک بار پھر ریاض کے سرکاری دورے پر پہنچیں گے جس کی منصوبہ بندی کافی عرصہ پہلے کر لی گئی تھی۔ البتہ وہ مملکت میں روسی یا امریکی عہدے داران سے ملاقات کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔ یہ بات پیر کو زیلنسکی کے ترجمان نے بتائی۔
روس اور یوکرین کی جنگ میں سعودی عرب نے اپنی غیر جانب دار حیثیت برقرار رکھی۔ مملکت نے مقابلے کو تقویت دینے کے بجائے تنازع کے فریقوں کے بیچ حل کے لیے جگہ بنانے کی کوشش کی۔
سعودی عرب نے ستمبر 2022 میں یوکرین میں یرغمال غیر ملکی جنگجوؤں کی رہائی میں بھی کردار ادا کیا۔ ان میں دو کا تعلق امریکا اور پانچ کا برطانیہ سے تھا۔
اسی طرح سعودی عرب نے اگست 2023 میں روس یوکرین جنگ کے حوالے سے بات چیت کے لیے 40 سے زیادہ ممالک کے نمائندوں کی میزبانی کی تاہم اس میں روس نے شرکت نہیں کی۔
اس سلسلے میں برمنگھم یونیورسٹی میں سعودی خارجہ پالیسی کے ماہر عمر کریم کا کہنا ہے کہ آج ہونے والا اجلاس یہ واضح کرتا ہے کہ سعودی قیادت نے ٹرمپ اور پوتین دونوں کے ساتھ دوستانہ قریب تعلق استوار کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب فریقین کے لیے ایک غیر جانب دار اور قابل اعتماد شریک کی حیثیت رکھتا ہے۔
اکتوبر 2023 میں غزہ میں جنگ چھڑنے کے بعد سے سعودی عرب خطے کی سطح پر سرگرم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ جنگ چھڑنے کے ایک ماہ بعد مملکت نے ایک ہنگامی عرب اسلامی سربراہ اجلاس کی میزبانی بھی کی۔
اسی طرح سعودی عرب آئندہ جمعے کے روز ایک چھوٹا سربراہ اجلاس منعقد کر رہا ہے جس میں غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی اردن اور مصر منتقلی سے متعلق ٹرمپ کی تجویز پر رد عمل زیر بحث آئے گا۔ اجلاس میں مصر اور اردن کے علاوہ خلیج تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک کی قیادت شریک ہو گی۔
No comments:
Post a Comment