قاہرہ:
مسئلہ فلسطین میں پیش رفت پر تبادلہ خیال کے لیے مصری وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ قاہرہ 27 فروری کو ہنگامی عرب سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
مصری وزارت خارجہ نے اطلاع دی ہے کہ سربراہی اجلاس بحرین، عرب سربراہی اجلاس کے موجودہ صدر اور عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد منعقد کیا جارہا ہے۔
مصر کی طرف سے حالیہ دنوں میں عرب ممالک کے ساتھ اعلیٰ سطح پر مشاورت اور رابطہ کاری کے بعد اجلاس بلانے کا فیصلہ ہوا۔ اس دوران ریاست فلسطین نے سربراہی اجلاس منعقد کرنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ سربراہی اجلاس میں مسئلہ فلسطین میں نئی اور خطرناک پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
نقل مکانی کے منصوبوں کا مقابلہ
باخبر ذرائع نے قبل ازیں چند دنوں کے اندر قاہرہ میں "ہنگامی" عرب سربراہی اجلاس منعقد کرنے کے لیے مشاورت کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا تاکہ فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے منصوبوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ذرائع نے ”العربیہ ڈاٹ نیٹ“ کو بتایا کہ سربراہی اجلاس میں ایک متفقہ عرب فیصلے اور موقف تک پہنچنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ ایساموقف ہوگا جو نقل مکانی کو مسترد کرے اور فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے ضروری قانونی اور بین الاقوامی اقدامات پر زور دے گا۔
ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سربراہی اجلاس میں فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کیے بغیر غزہ کی تعمیر نو کے منصوبوں پر بھی بات کی جائے گی۔ جنگ بندی معاہدے کی تکمیل اور کسی بھی خلاف ورزی کو روکنے کی حمایت بھی کی جائے گی۔
دریں اثنا عرب ریاستوں کی لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے فلسطینی کاز کے اصولوں کو کمزور کرنے سے انکار کرنے کے لیے عرب اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام اپنی سرزمین پر باقی رہیں اور انہیں ان کے حق خود ارادیت سے محروم نہ کیا جائے۔ ہنگامی سربراہی اجلاس کا انعقاد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا کہ ان کا ملک غزہ کی پٹی پر قبضہ کرنے اور اہل غزہ کو اردن اور مصر سمیت دیگر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے۔ دریں اثنا اردن اور مصر نے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے منصوبوں کی کئی مرتبہ مخالفت کی ہے۔
No comments:
Post a Comment