Friday, 14 February 2025

ایلون مسک کی بھارتی وزیراعظم سے ملاقات، کیا بڑا اعلان متوقع ہے؟






امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے نریندر مودی سے ایلون مسک کی بھی ملاقات ہوئی ہے۔ یہ ملاقات مودی اور ٹرمپ کی ملاقات سے پہلے ہوئی۔ تاہم نہیں اندازہ کیا جا سکا کہ اس ملاقات میں کن موضوعات پر تبادلہ خیال اور گفتگو کی گئی۔


البتہ نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس' پر یہ ضرور لکھا ہے کہ دونوں شخصیات نے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وہ جن کے بارے میں ایلون مسک خصوصی جذباتی رغبت رکھتے ہیں۔ ان میں خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی و پیش رفت بھی شامل ہے۔


یاد رہے ایلون مسک کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں امریکہ میں قائم کردہ ایک نئے محکمے کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ یہ نیا محکمہ حکومتی کارکردگی کو بہتر اور فعال بنانے کے لیے ہے جسے 'ڈی او جی ای' ، 'ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ افیشی اینسی' کا نام دیا گیا ہے۔


مسک نے کہا ہے کہ وہ پریقین ہیں کہ 'ٹیسلا' جلد بھارت میں ہوگی۔ اتنا جلدی کہ جتنا انسانی بس میں۔


تاہم صدر ٹرمپ کو اس بارے میں زیادہ وضاحت نہیں ہے کہ مودی اور مسک کی یہ ملاقات کس موضوع پر ہوئی ہے۔ خیال رہے دونوں کی ملاقات جمعرات کے روز ایسے وقت میں ہوئی جب مسک کے تینوں بچے بھی ملاقات میں موجود تھے۔


مودی کے ساتھ اس موقع پر ان کے اعلیٰ مشیر اور وزیر برائے خارجہ امور جے شینکر بھی موجود تھے اور قومی سلامتی کے وزیر ایجو دول بھی موجود تھے۔ گویا ایلون مسک کی طرف سے ان کے نوعمر بچوں کے مدمقابل دوسری طرف سے بھارت کے سینیئر حکام موجود تھے۔ جو اس بات کا مظہر تھا کہ ایلون مسک اس ملاقات کو رسمی سے زیادہ غیر رسمی انداز سے نتیجہ خیز بنانا چاہتے ہیں۔


بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے اداروں کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں گے۔ ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبے خاص طور پر خلائی میدان میں نئی جہتیں سامنے آئیں گی۔ مصنوعی ذہانت اور پائیدار ترقی کے علاوہ کاروبار اور سرمایہ کاری و گڈ گورننس کے امور میں دوطرفہ تعاون کا امکان بڑھے گا۔


ایلون مسک کے بھارت میں عزائم بھی کافی بلند ہیں۔ وہ اس سے پہلے اپنے آپ کو مودی کا مداح قرار دے چکے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ ان کے 'سٹارلنک' نامی مصنوعی سیارے کے ذریعے بھارت میں انٹرنیٹ کی سہولیات کا فروغ ہو اور بھارتی مارکیٹ ان کے ہاتھ میں آجائے۔


اگرچہ سٹارلنک کی لانچنگ بعض ریگولیٹری مسائل کی وجہ سے التوا میں ہے اور بعض سلامتی سے متعلق پہلو بھی اس میں تاخیر کا سبب ہیں۔ اسی طرح بھارت کے اندر سے ٹیلی کام کے بڑے ادارے جن میں امبانی گروپ بھی شامل ہے بعض رکاوٹیں پید اکیے ہوئے ہے۔


پچھلے سال ماہ نومبر میں بھارت کے ٹیلی کام کے وزیر نے کہا تھا کہ سٹارلنک کو ابھی بھارت کی سلامتی سے متعلق کئی چیزوں کو پورا کرنا ہے۔ اس لیے سٹارلنک کو لائسنس ان شرائط اور تقاضوں کو پورا کیے جانے کے بعد ہی جاری کیا جا سکے گا۔


دوسری جانب ایلون مسک بھارت میں لائسنس جاری کرنے کی پالیسی پر تنقید کر چکے ہیں۔ بعدازاں بھارتی حکومت نے اپنی پالسی میں تبدیلی کی اور یہ اعلان کیا کہ بھارتی حکومت سیٹلائٹ کے لیے نیلامی کا طریقہ اختیار نہیں کرے گی بلکہ ییہ ذمہ داری بھارتی حکومت کی طرف سے تفویض کی جائے گی۔


بھارت سیٹلائٹ براڈبینڈ کی وسیع صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت کی براڈبینڈ سیٹلائٹ سروس کی مارکیٹ مقابلے میں موجود ہے۔ مارکیٹ کو کنٹرول کرنے والی کم از کم چھ کمپنیاں امبانی ریلائنس جیﺅ سے تعلق رکھتی ہیں۔


خیال رہے امبانی گروپ کی طرف سے پچھلے سال کہا گیا تھا کہ سیٹلائٹ کی نیلامی منصفانہ مقابلے کے نتیجے میں ہونی چاہیے۔


یاد رہے مسک کا سٹارلنک کم از کم 6900 متحرک سیارچوں کے ساتھ منسلک ہے۔ جو زمین کے محور میں متحرک ہیں اور کم تاخیر کے ساتھ 4.6 ملین صارفین کو براڈبینڈ فراہم کرتا ہے۔


تاہم بھارتی شہریوں کے لیے سٹارلنک کے ذریعے ملنے والی براڈبینڈ کی خدمات مہنگی ہونا ایک تشویش کا باعث ہو سکتا ہے۔ کیونکہ وہ اس سے پہلے امبانی گروپ کی یہی خدمات کم قیمت کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں۔


بھارت کی 40 فیصد آبادی اب بھی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہے اور اس کی اس تک رسائی نہیں ہے۔ اس فاصلے کو ختم کرنے کے لیے سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ کی سہولیات کا سستا ہونا ضروری ہے۔ خاص طور پر بھارت کے دور افتادہ اور پہاڑی علاقوں میں۔


ایلون مسک کی کمپنی 'ٹیسلا' کی تیار کردہ گاڑیاں ابھی بھارت میں داخل نہیں ہو سکیں۔ حالانکہ بھارتی مارکیٹ دنیا کی گاڑیوں کی بڑی مارکیٹ میں شامل ہے۔ لیکن بھارت میں زیادہ ڈیوٹی ٹیکسز ہونے کی وجہ سے امپورٹ مشکل ہے۔


بھارت میں بجلی سے چلنے والی گاڑیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ گاڑیوں کی پچھلے سال کی فروخت میں ان کی تعداد صرف 2 فیصد سے زیادہ تھی۔ تاہم حکومت بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کو 2030 تک 30 فیصد تک لے جانا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں بھارت کی نئی پالیسی سامنے آچکی ہے۔


No comments:

Post a Comment