بائیڈن انتظامیہ کے دور میں اسرائیل کو بھاری بموں کی فراہمی معطل کرنے کے فیصلے کے بعد نئی ٹر
مپ انتظامیہ نے ان بموں کی اسرائیل کو فراہمی کا اعلان کیا تھا۔ اب اسرائیلی وزارت دفاع نے آج بھاری بموں کی کھیپ کی اسرائیل آمد کا اعلان کردیا ہے۔
وزارت نے ایک بیان میں کہاکہ امریکی حکومت کی طرف سے حال ہی میں بھیجے گئے بھاری فضائی بموں کی ایک کھیپ موصول ہوئی ہے اور اسے راتوں رات اسرائیل میں اتارا گیا ہے۔ انہوں نے ایم کے (مارک) 84 بموں کا حوالہ دیا جنہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے حال ہی میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے ٹرمپ انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بھاری بموں کی کھیپ جو ہفتے کی رات اسرائیل پہنچی اسرائیلی فضائیہ اور فوج کی صلاحیت میں ایک اہم اضافہ ہے۔ یسرائیل کاٹزنے وضاحت کی کہ یہ اسرائیلی فضائیہ اور فوج میں ایک اہم اضافہ ہے۔ میں امریکی صدر ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ کا اسرائیل کی ریاست کے لیے ثابت قدم حمایت پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ان بھاری بموں میں MK-84 بم شامل ہے جس کے دھماکہ خیز وزن کا تخمینہ نصف ٹن لگایا گیا ہے۔ اس بم کا رداس 365 میٹر تک ہے۔ اسرائیلی وزارت دفاع اور اسرائیلی فوج کی معلومات کے مطابق 76,000 ٹن سے زائد فوجی سازوسامان 678 پروازوں اور 129 سمندری کھیپوں میں اسرائیل پہنچا ہے۔ یہ اسرائیل کی تاریخ کا سب سے بڑا فضائی اور سمندری کھیپ کا آپریشن ہے۔
No comments:
Post a Comment