امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا کہ وہ موجودہ ڈیوٹی کے علاوہ امریکہ میں سٹیل اور ایلومینیم کی تمام درآمدات پر نئے 25 فیصد ٹیرف متعارف کرائیں گے۔ یہ نیا اعلان ان کی تجارتی پالیسی میں ایک اور بڑے اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
ٹرمپ نے نیو اورلینز میں این ایف ایل سپر باو¿ل کے سفر میں ایئر فورس ون طیارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیر کو دھاتوں کے نئے ٹیرف کا اعلان کرنے والے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ منگل یا بدھ کو باہمی جوابی ٹیرف کا اعلان کریں گے جو تقریباً فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔ یہ ٹیرف تمام ممالک پر نافذ ہوں گے اور ہر ملک کی طرف سے لگائے گئے ٹیرف کی شرح سے مماثل ہوں گے۔
ٹرمپ نے باہمی ٹیرف پلان کے بارے میں کہا، "اور یہ بہت سادہ بات ہے، اگر وہ ہم سے چارج کرتے ہیں تو ہم ان سے چارج کریں گے۔"
حکومت اور امریکی آئرن اینڈ سٹیل انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی سٹیل کی درآمد کے سب سے بڑے ذرائع کینیڈا، برازیل اور میکسیکو ہیں۔ اس کے بعد جنوبی کوریا اور ویتنام آتے ہیں۔
ہائیڈرو پاور سے مالا مال کینیڈا امریکہ کو بنیادی ایلومینیم دھات کا سب سے بڑا فراہم کنندہ ہے جو 2024 کے پہلے 11 مہینوں میں کل درآمدات کا 79 فیصد رہا ہے۔
کینیڈا کے وزیر برائے اختراعات فرانکوئس-فلپ شیمپین نے ایکس پر پوسٹ کیا، "کینیڈین سٹیل اور ایلومینیم امریکہ میں دفاعی، بحری جہاز سازی اور آٹو جیسی کلیدی صنعتوں کی معاونت کرتے ہیں۔ ہم اپنے کارکنان، اپنی صنعتوں اور کینیڈا کے لیے کھڑے رہیں گے۔"
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ امریکی حکومت جاپان کی نیپون سٹیل کو امریکی سٹیل میں سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دے گی لیکن وہ اسے اکثریت کا حصہ نہیں بننے دے گی۔
ٹرمپ نے امریکی سٹیل کے بارے میں کہا، "ٹیرف اسے دوبارہ بہت کامیاب بنا سکتے ہیں اور میرے خیال میں اس کی انتظامیہ اچھی ہے۔"
نپون سٹیل نے ٹرمپ کے تازہ ترین اعلانات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
کوٹے سے متعلق سوالات
ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت کے دوران سٹیل پر 25 فیصد اور ایلومینیم پر 10 فیصد محصولات عائد کیے تھے لیکن بعد میں کئی تجارتی شراکت داروں کے لیے یہ ڈیوٹی فری کر دیا تھا جن میں کینیڈا، میکسیکو اور برازیل شامل ہیں۔ میکسیکو ایلومینیم سکریپ اور ایلومینیم مرکب سے بنی دھاتوں کا ایک بڑا فراہم کنندہ ہے۔
سابق صدر جو بائیڈن نے بعد میں برطانیہ، یورپی یونین اور جاپان کے ساتھ ڈیوٹی فری کوٹہ مختص کرنے کے بارے میں بات چیت کی۔ ٹرمپ کے اعلان سے فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان رعایتوں اور مخصوص کوٹے کا کیا ہو گا۔
کیوبیک کے وزیرِ اعظم فرانسوا لیگلٹ نے ایکس پر کہا، "کیوبیک (امریکہ کو) 2.9 ملین ٹن ایلومینیم برآمد کرتا ہے یعنی ان کی ضروریات کا 60 فیصد۔ کیا وہ چین سے سپلائی لینے کو ترجیح دیں گے؟ ان سب باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں جلد از جلد امریکہ کے ساتھ اپنے آزاد تجارتی معاہدے پر دوبارہ بات چیت شروع کرنی چاہیے اور 2026 کے لیے طے شدہ جائزے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں اس غیر یقینی صورتِ حال کو ختم کرنا چاہیے۔"
ٹرمپ کے ابتدائی محصولات کے بعد 2019 میں سٹیل مل کی صلاحیت کا استعمال 80 فیصد سے اوپر پہنچ گیا لیکن اس کے بعد سے اس میں کمی آئی کیونکہ اس شعبے پر چین کا عالمی غلبہ سٹیل کی قیمتوں میں کی کا باعث بنا۔ ٹیرف کے ذریعے بحال ہونے والا ایک میزوری ایلومینیم سمیلٹر (دھاتوں کو الگ کرنے والی بھٹی) گذشتہ سال میگنیٹیوڈ سیون میٹلز کے باعث بند ہو گیا۔
امریکی آئرن ینڈ سٹیل انسٹی ٹیوٹ (اے آئی ایس آئی) کے صدر اور سی ای او کیون ڈیمپسی نے کہا کہ انڈسٹری ٹریڈ گروپ نے مضبوط امریکی سٹیل انڈسٹری کے لیے ٹرمپ کے عزم کا خیر مقدم کیا۔
انہوں نے کہا، "ایک مضبوط اور از سرِ نو تجارتی ایجنڈا نافذ کرنے کے لیے ہم صدر اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں تاکہ مارکیٹ کو خراب کرنے والی کئی غیر ملکی پالیسیوں اور طریقوں کو حل کیا جائے جو امریکی سٹیل سازوں کے لیے ایک غیر مساوی ہیں۔"
مماثل نرخ
ٹرمپ نے کہا کہ وہ باہمی ٹیرف پلان کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرنے کے لیے منگل یا بدھ کو ایک نیوز کانفرنس کریں گے۔ نئے امریکی صدر نے طویل عرصے سے گاڑیوں کی درآمدات پر یورپی یونین کے 10 فیصد ٹیرف کے بارے میں شکایت کی ہے جو امریکی کاروں کی 2.5 فیصد شرح سے کہیں زیادہ ہے۔
تاہم امریکہ کو پک اپ ٹرکوں پر 25 فیصد ٹیرف حاصل ہے جو ڈیٹرائٹ کے کار ساز اداروں جنرل موٹرز، فورڈ اور سٹیلنٹِس کے امریکی آپریشنز کے لیے منافع کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
عالمی ادار? تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کے اوسط ٹیرف کی شرح تقریباً 2.2 فیصد ہے جبکہ ہندوستان کے لیے 12 فیصد، برازیل کے لیے 6.7 فیصد، ویتنام کے لیے 5.1 فیصد اور یورپی یونین کے ممالک کے لیے 2.7 فیصد ہے۔
امریکہ کی ڈسٹلڈ سپرٹس کونسل کے سی ای او کرس سوونگر نے خدشہ ظاہر کیا کہ ٹرمپ کے سٹیل کے نئے ٹیرف یورپی یونین کو امریکی وہسکی پر دوبارہ جوابی ڈیوٹیز لگانے اور 50 فیصد تک بڑھانے کا باعث بنیں گے۔
انہوں نے کہا، "ہم اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ امریکہ اور یورپی یونین ایک حل تلاش کرنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھیں۔ ہماری عظیم امریکی وہسکی کی صنعت داو¿ پر لگی ہوئی ہے۔ امریکہ کی اصل وہسکی پر 50 فیصد ٹیرف کا پورے امریکہ میں 3,000 چھوٹے اداروں کے لیے تباہ کن اثر ہو گا۔
سرحدی اقدام
فاکس نیوز کے ایک الگ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور منشیات اور تارکینِ وطن کی آمد کو روکنے کے لیے کینیڈا اور میکسیکو کے اقدامات ناکافی ہیں۔
ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ میکسیکو اور کینیڈا کی تمام درآمدات پر 25 فیصد کے محصولات عائد کریں گے جب تک امریکہ کے دو سب سے بڑے تجارتی شراکت دار سخت اقدامات نہیں کرتے۔
انہوں نے دونوں ممالک کی جانب سے سرحدی حفاظتی رعایت کے بعد یکم مارچ تک محصولات کو موقوف کر دیا۔ ان رعایتوں میں میکسیکو نے اپنی سرحد پر 10,000 نیشنل گارڈ فوجیوں کو شامل کرنے کا وعدہ کیا اور کینیڈا نے نئی ٹیکنالوجی اور اہلکار تعینات کیے اور فینٹانیل کے خلاف نئے اقدامات کیے۔
کیا میکسیکو اور کینیڈا کے اقدامات کافی اچھے تھے، اس سوال کا ٹرمپ نے یہ جواب دیا: "نہیں، یہ کافی اچھا نہیں ہے۔کچھ ضرور ہونا ہے، یہ پائیدار نہیں ہے، اور میں اسے تبدیل کر رہا ہوں۔"
ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ کینیڈا اور میکسیکو کو یکم مارچ کو نافذ ہونے والے وسیع محصولات سے بچنے کے لیے کیا کرنا ہو گا۔
No comments:
Post a Comment