Friday, 7 February 2025

فلسطین کوئی سرمایہ کاری کا منصوبہ نہیں ہے : فلسطینی اتھارٹی کا ٹرمپ کو جواب

 







فلسطینی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام اور قیادت 1948 اور 1967 کے سانحات کو دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے اور اس قضیے کو ختم کرنے کے مقصد سے پیش کیے جانے والے کسی بھی منصوبے کو ناکام بنا دیں گے۔


یہ بات فلسطینی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے فلسطینی اتھارٹی کے سرکاری ترجمان نبیل ابو ردینہ کے حوالے سے آج جمعرات کے روز بتائی۔


ابو ردینہ کے مطابق فلسطین اپنی سرزمین، تاریخ اور مقامات مقدسہ کے حوالے سے فروخت کے لیے نہیں ہے، یہ کوئی سرمایہ کاری کا منصوبہ نہیں ہے، فلسطینی عوام کے حقوق قابل مذاکرات نہیں ہیں، یہ سودے بازی کا کارڈ نہیں"۔


فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان نے مزید کہا کہ "ہماری فلسطینی قوم جس نے اپنے قانونی قومی حقوق کے دفاع کے لیے بھرپور قربانیاں دیں، اپنی سرزمین کی ایک بالشت سے بھی دست بردار نہیں ہو گی خواہ وہ غزہ کی پٹی ہو یا مغربی کنارا جس میں فلسطینی ریاست کا دار الحکومت مشرقی بیت المقدس بھی شامل ہے"۔


ابو ردینہ کے مطابق ... فلسطینیوں کی جبری ہجرت کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کے منصوبوں پر عربی اور بین الاقوامی رد عمل نے ثابت کر دیا ہے کہ پوری دنیا ایک زبان ہو کر بات کر رہی ہے جو اس مسئلے کی بین الاقوامی قانونی حیثیت اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں ہے .. جب کہ اکیلی امریکی انتظامیہ مختلف زبان بول رہی ہے ... اسی طرح امریکی شخصیات اور ارکان کانگریس اور اسرائیلی آوازیں بھی ہیں جن کے نزدیک یہ منصوبہ نا قابل عمل ہے"۔


ابو ردینہ نے باور کرایا کہ امن و استحکام کا یقینی بنایا جانا فلسطین کے اندر بالخصوص اس کے دار الحکومت بیت المقدس کے اندر پوشیدہ ہے، اس کا کسی دوسری جگہ یا کسی فرد کے فیصلے سے کوئی تعلق نہیں۔


ابو ردینہ نے بتایا کہ صدر محمود عباس نے اپنے سرکاری بیان میں ان عرب اور عالمی ممالک کے مواقف کو گراں قدر قرار دیا ہے جن میں جبری ہجرت یا انضمام کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے باور کرایا کہ مستقل اور مستحکم امن کے لیے بین الاقوامی قوانین اور عرب امن منصوبے کی بنیاد پر سیاسی حل کا کوئی متبادل نہیں ہے۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی شام وائٹ ہاو¿س میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا تھا کہ ان کا ملک غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی دیگر ممالک میں جبری ہجرت کے بعد پٹی کا کنٹرول سنبھالے گا۔


ٹرمپ کے مطابق غزہ کی تعمیر نو میں معاونت کے لیے امریکی فوج کی تعیناتی خارج از امکان نہیں۔ انھوں نے توقع ظاہر کی کہ غزہ کی پٹی میں امریکا کی "طویل المدت" ملکیت ہو سکتی ہے۔


بدھ کے روز سعودی عرب، امارات، اردن، مصر اور سلطنت عمان کے علاوہ فلسطین، عرب لیگ، عرب پارلیمنٹ اور خلیج تعاون کونسل نے ٹرمپ کے منصوبے کو مسترد کردیا۔ دوسری جانب اسرائیل میں سیاسی سطح پر منصوبے کو وسیع پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔


یورپ میں جرمنی، فرانس، برطانیہ، ہسپانیہ، پولینڈ، سلووینیا، اسکاٹ لینڈ، بیلجیم اور سوئٹزرلینڈ نے بدھ کے روز ٹرمپ کے منصوبوں کو یکسر مسترد کر دیا۔ ساتھ ہی خبردار کیا گیا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے جو مشرق وسطی میں نفرت اور بے چینی کو جنم دے سکتی ہے۔


مذکورہ ممالک نے دو ریاستی حل پر عمل درآمد کی جانب بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا جو تنازع ختم کرنے اور خطے میں امن یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔


گذشتہ ماہ 25 جنوری سے امریکی صدر ٹرمپ غزہ کے فلسطینیوں کی ہمسایہ ممالک مثلا مصر اور اردن منتقلی کے منصوبے کی ترویج کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا ہے اور دیگر عرب ممالک اور علاقائی اور بین الاقوامی تنظیمیں بھی اس موقف کی صف میں شامل ہو چکی ہیں۔



No comments:

Post a Comment