Friday, 7 February 2025

امریکی پابندیوں سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی آزادی کو خطرہ ہے: یورپی یونین

 




ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر پابندیوں کے بعد یورپی یونین نے جمعہ کو خبردار کیا کہ ان سے عدالت کی آزادی اور وسیع تر عدالتی نظام کو خطرہ ہے۔


ٹرمپ نے جمعرات کو ایک حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے کہا کہ دی ہیگ کی عدالت نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے لیے وارنٹ گر
فتاری جاری کر کے "اپنی طاقت کا غلط استعمال" کیا ہے۔ نیتن یاہو سے انھوں نے اس ہفتے کے اوائل میں بات چیت کی تھی۔


یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کی نمائندگی کرنے والی یورپی کونسل کے سربراہ انتونیو کوسٹا نے ایکس پر لکھا، "آئی سی سی پر پابندی سے عدالت کی آزادی کو خطرہ ہے اور مجموعی طور پر بین الاقوامی فوجداری انصاف کے نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔"


یورپی کمیشن نے علیحدہ طور پر ٹرمپ کی پابندیوں کے حوالے سے "افسوس" کا اظہار کیا اور آئی سی سی کی "بین الاقوامی فوجداری انصاف کو برقرار رکھنے اور استثنیٰ کے خلاف جنگ میں کلیدی اہمیت" پر زور دیا۔


کمیشن کے ترجمان نے کہا، صدارتی حکم نامے سے "جاری تحقیقات بشمول یوکرین کے حوالے سے کارروائیوں کے مت?ثر ہونے کا خطرہ ہے جس سے تمام دنیا میں احتساب کو یقینی بنانے کے لیے برسوں کی کوششوں پر اثر پڑے گا"۔


انہوں نے مزید کہا، "یورپی یونین حکم نامے کے مضمرات کی نگرانی اور مزید ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے گی۔"


ٹرمپ کے حکم نامے میں کہا گیا کہ ٹربیونل نے امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل کو نشانہ بناتے ہوئے "ناجائز اور بے بنیاد اقدامات" کیے۔ ان کا اشارہ افغانستان میں امریکی فوجیوں اور غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کی طرف تھا۔


امریکہ اور اسرائیل دونوں ہی عدالت کے رکن نہیں ہیں۔


یورپی یونین کونسل کے صدر کوسٹا نے جمعرات کو آئی سی سی کی صدر جج ٹوموکو اکانے سے ملاقات کی اور انہیں یورپی یونین کی حمایت کا یقین دلایا۔


کوسٹا نے سوشل میڈیا پر لکھا، "آئی سی سی دنیا کے بعض خوفناک ترین جرائم کے مت?ثرین کو انصاف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آزادی اور غیر جانبداری عدالت کے کام کی اہم خصوصیات ہیں۔"


یورپی یونین کے ایک اہلکار نے بتایا، ملاقات کے دوران کوسٹا اور اکانے نے ان ممکنہ طریقوں پر تبادل? خیال کیا جن سے بلاک ادارے کے لیے اپنی حمایت کو مضبوط بنا سکتا ہے۔



No comments:

Post a Comment