Friday, 7 February 2025

'اسرائیل کے ساتھ امریکی اظہار یکجہتی' بین الاقوامی فوجداری عدالت پر بھی پابندیاں ؟

 






امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اپنی صدارت کے پہلے ہی روز سے اپنے حکم ناموں اور اقدامات سے دنیا کو حیران کر رہے ہیں۔ انہوں نے جمعرات کے روز ایک بار پھر لوگوں کواس وقت حیرت میں ڈال دیا جب وائٹ ہاو¿س سے یہ خبر سامنے آئی کہ امریکہ ایک بار پھر بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگانے کے قریب ہے۔


اس بین الاقوامی عدالت نے پچھلے سال کے اواخر میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کے ساتھ تقریبا ایک سال تک غزہ میں اسرائیلی جنگ کی کمان کرنے والے وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے سلسلے میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ بین الاقوامی عدالت کو نیتن یاہو کے خلاف کارروائی کرنے کے آغاز پر ہی بے اثر کر دینے اور انتقام کا نشانہ بنانے کا امریکی صدر ٹرمپ نے فیصلہ کر لیا ہے۔ تاکہ نیتن یاہو وغیرہ کے خلاف کارروائی آگے نہ بڑھ سکے۔


تاہم اس امریکی فیصلے سے ایک نئی بحث ضرور چھڑ گئی ہے کہ ان امریکی پابندیوں سے اس بین الاقوامی ادارے کی ساکھ متاثر ہو گی یا امریکی ساکھ تباہی کی طرف مزید دھکیلی جائے گی۔ نیز امریکہ کی طرف سے کئی ملکوں پر لگائی پابندیوں پر بھی سوال اٹھنے لگیں گے کہ ان کا اخلاقی جواز ہے بھی یا نہیں۔ فوجداری عدالت پر پابندیوں کے لگائے جانے کے حوالے وائٹ ہاو¿س کے ایک ذمہ دار نے بتایا ہے کہ صدر ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔


وائٹ ہاو¿س حکام کے مطابق اس حکم نامے پر دستخطوں کے بعد فوجداری عدالت سے وابستہ تمام افراد اور ان کے خاندانوں پر معاشی اور امریکہ میں آنے جانے پر پابندیاں لگ جائیں گی۔ وہ تمام افراد جو عدالت کے لیے کام کرتے ہیں یا اس بین الاقوامی عدالت کی کسی حوالے سے معاونت کرتے ہیں اور امریکہ یا اس کے اتحادی ملکوں کے عہدے داروں کے خلاف تحقیق اور تفتیش کا حصہ ہیں پابندیوں کی زد پر آجائیں گے۔


ٹرمپ کی طرف سے ایگزیکٹو آرڈر کرنے کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے ان پابندیوں سے متعلق بل کو پچھلے ہفتے روک دیا تھا۔ تاہم بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اس امریکی فیصلے کے بارے میں ابھی تک کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ البتہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے ان ممکنہ پابندیوں کی اطلاعات سامنے اتے ہی اپنے بچاو¿ کے لیے اقدامات کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔


' رائٹرز' کو معلوم ہوا ہے کہ عدالت اپنے سٹاف کو تین ماہ کی پیشگی تنخواہ دے گی تاکہ بنکوں کے ساتھ کوئی مسئلہ ہو تو عملے کے ارکان کی تنخواہیں رک نہ جائیں۔


واضح رہے یہ دوسرا موقع پر کہ امریکہ بین الاقوامی عدالت کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا رہا ہے اس سے پہلے 2020 میں بھی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے جنگی جرائم کی بنیاد پر عدالتی کارروائی شروع ہونے پر یہی کارروائی کر چکی ہے۔ تاہم بعد ازاں جوبائیڈن انتظامیہ کے دور میں یہ پابندیاں ختم ہو گئی تھیں۔



No comments:

Post a Comment