Tuesday, 4 February 2025

بہار کی سیاست میں مسلمانوں کی سیاسی حصے داری کو ختم کرنے کی شازش ایڈووکیٹ شاہد

 



دربھنگہ :- جن سوراج پارٹی کے لیڈر ایڈووکٹ شاہد اطہر نے اج جن سوراج بیداری کارواں مہم کے تحت دربھنگہ نگر کے محلہ سرائے ستار خان میں نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بہار میں ایک بہتر نظام بنانے کے لیے ہم لوگ بیداری کارواں کے تحت بیداری پیدا کر رہے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ بہار کے کروڑوں لوگوں کو ان کے جائز حقوق دلوایا جائے قوم کے بچوں کو بہتر تعلیم اور روزگار فراہم کیا جائے اس کے ساتھ ہی قوم ملت سے جڑے کچھ اہم سماجی اور سیاسی مسائل پر گفتگو و ان سے مسئلے مسائل کے عملی عمل کے لیے آپسی مشورے کے ذریعے حکمت عملی طے کی جائے گی- ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ جہاں تک غور کرنے کی بات ہے مسلمانوں میں بہار کے چند بنیادی اور اہم مسائل جن میں بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں اور خوف کا ماحول پیدا کر کے بڑی تعداد میں بے قصور نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے وہیں اگر بات کریں سیاسی حصہ داری اور مسلم نمائندگی کی تو بہار میں مسلمانوں کی سیاسی شرکت میں بڑی کمی دیکھی جا رہی ہے ابادی میں 18 فیصد ہونے کے باوجود پنچایتی راج سے لے کر اسمبلی و پارلیمنٹ تک میں مسلمانوں کی نمائندگی دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے اگر بہار کی قانون ساز اسمبلی کی بات کریں تو یہاں بھی مسلمانوں کی شرکت نہ صرف کم ہے بلکہ حقیقت میں نہ ہونے کے برابر ہے- ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ بے روزگاری تعلیم اور اے ایم ہو سنٹر کا جو وقت کی اہم ضرورت ہے وہ قابل غور ہے کہ بہار میں مسلمانوں کی تعلیم روزگار کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے تعلیم کے میدان میں ان کی حالت مناسب معیار کی تعلیم سے کوسوں دور ہے غربت پسماندگی اور سماجی مسائل ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں ایڈووکٹ شاہد اطہر نے کہا کہ جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع بھی بہت محدود ہوتے جا رہے ہیں بہار حکومت ایک عرصے سے اردو زبان کو تعلیمی میدان میں سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے جس کی وجہ سے اردو سے متعلق کئی مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں وہیں بہار اردو اکیڈمی کو بند بھی کر دیا گیا ہے سرکاری مدارس کی حالت پہ کیا بات کی جائے ان کی تو حالت ہی خراب ہوتی جا رہی ہے کشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شاخ کی تعمیرات کو جان بوجھ کر روکا گیا ہے شدید احتجاج کے باوجود بھی کوئی حکومت یا ایسی کوئی سیکولر پارٹی اس طرف توجہ نہیں دے رہی ہے- ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے آگے کہا کہ بہار میں سیکولر پارٹیاں یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ تمام مذاہب کے لوگوں کو یکساں اہمیت دیتی ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ مسلمان کا لفظ استعمال کرنے سے بھی گریزاں ہیں انتخابات میں ٹکٹ دیتے وقت مسلمانوں کو ان کی ابادی کے مطابق مناسب نمائندگی نہیں ملتی ایڈوکٹ شاہد اطغ نے کہا کہ اگر انہیں ٹکٹ دیا بھی جاتا ہے تو انہیں ان سیٹوں پہ دیا جائے گا جہاں مسلم ووٹوں کی تعداد بہت کم ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ پارٹیاں مسلمانوں کا ووٹ لینا چاہتی ہیں لیکن مسلمانوں کو اپنی پارٹی کا چہرہ نہیں بنانا چاہتے یہ مسلمانوں کے حقوق کے ساتھ خلا سیاسی فریب بدترین خیانت ہے ابادی کے لحاظ سے حصے داری کو جب تک یقینی نہیں بنایا جائے گا بہار میں مسلمانوں کا بھلا نہیں ہو سکتا- اسی باتوں کو نظر میں رکھتے ہوئے جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے مسلمانوں سے اپیل کیا ہے کہ اپ بیداری کارواں کے ساتھ جڑیں اور ائندہ اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کو ابادی کے حساب سے 18 فیصد کے حساب سے 40 ٹکٹ کم و بیش دینے کا کام کیا جائے گا اور ان کو جتانے کا بھی کام کیا جائے گا-

No comments:

Post a Comment