Tuesday, 4 February 2025

کینسر کے علاج میں جدید ادویہ کے ساتھ ساتھ یونانی دواﺅں سے بہتر نتائج برآمد ہونگے:ڈاکٹر شمیم اختر






عالمی یوم کینسر کے موقع پر گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ میں یک روزہ سمینار کا انعقاد

پٹنہ،پی جی اسکالر ڈاکٹرمحمد ظفر اقبال نےپریس ریلیز کرتے ہو¿ے کہا کہ آج 4 فروری 2025 بروز منگل عالمی یومِ کینسر(سرطان) کے موقع پر شعبہ ماہیت الامراض گورنمنٹ طبی کالج ،پٹنہ کی جانب سے ایک علمی اور بیداری پر مبنی ایک روزہ سیمینارمنعقد کیا گیا۔جس میں ماہرینِ صحت، طلباء، اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ پروگرام کی شروعات تلاوت قران پاک سے ہوئی۔ ڈاکٹر محمد ظفر اقبال نے تلاوت کی۔اس سیمینار کے سرپرستِ اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر محفوظ الرحمٰن پرنسپل گورنمنٹ طبی کالج و ہسپتال ،پٹنہ،تھے۔جنہوں نے پروگرام کی اہمیت اور اس کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ مہمانِ خصوصی کے طور پر پروفیسر ڈاکٹر عباس مصطفیٰ صدرشعبہ علم الجراحت نے شرکت کی، جنہوں نے اپنے وسیع تجربات اور علمی بصیرت سے شرکاءکو مستفیض کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کینسر جیسے موذی مرض کے خطرات، تحقیق کی ضرورت، اور جدید طبی سہولیات کی دستیابی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، "ایسے علمی پروگرام معاشرے میں صحت کے حوالے سے بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کینسر جیسے موذی مرض سے نمٹنے کے لیے تحقیق، جدید علاج، اور آگاہی مہمات کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ابوالقاسم زہراوی کے تعلق سے انکے کیے گئے کینسر سے متعلق جراحی تجربات کا خاص طور سے ذکر کیا جو آج بھی قابل عمل ہیں" انہوں نے سیمینار کے مقررین کی کاوشوں کو سراہا اور حاضرین کو صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دی۔

سیمینارکے مہمان اعزازی روندکمار، ڈائریکٹر بدھا کینسر سنٹر،پٹنہ نے شرکت کی۔ انہوں نے عالمی سطح پر کینسر کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز، علاج کے جدید طریقے، اور تحقیق میں ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کینسر کے مریضوں کی ذہنی صحت اور ان کی بحالی کے عمل پر بھی زور دیا، اور کہا کہ کینسر کے علاج کے ساتھ ساتھ مریض کی ذہنی اور جذباتی صحت پر توجہ دینا بھی نہایت اہم ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کینسر کے خاتمے میں Autophagy کا اہم رول ہے۔اسکے لیے روزہ رکھنا یا فاقہ کشی کرنا یا کم کھانا،بہت ضروری ہے۔

پروگرام کے آرگنائزنگ چیرمین ڈاکٹرمحمد شمیم اختر صدر شعبہ ماہیت الامراض گورنمنٹ طبی کالج ،پٹنہ نے سیمینار کے کامیاب انعقاد میں مرکزی اور فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے سیمینار کے اغراض و مقاصد بیان کیے اور کہا کہ کینسر ایک خطرناک بیماری ہے ،لیکن بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ہمارا مقصد عوام میں اس حوالے سے بیدار ی پیداکرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکیں۔ان کی قائدانہ صلاحیتیں، عمدہ منصوبہ بندی، اور انتظامی مہارت نے پروگرام کو ایک کامیاب علمی تقریب میں تبدیل کر دیا۔ ان کی انتھک محنت اور و سیع نظری نے سیمینار کو ایک مثالی علمی پلیٹ فارم فراہم کیا۔



سیمینار میں مختلف موضوعات پر پی جی اسکالر شعبہ ماہیت الامراض نے اپنی معلومات پیش کیں۔ ڈاکٹر محمد ظفر اقبال پی جی اسکالر نے 'پروسٹیٹ کینسر' کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے پروسٹیٹ کینسر کی ابتدائی علامات، خطرے کے عوامل، جدید تشخیصی طریقے، اور علاج کی جدید ترین ٹیکنالوجیز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، "پروسٹیٹ کینسر کی بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے مریض کی زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔" ان کا خطاب نہایت جامع اور سائنسی بنیادوں پر مبنی تھا جس نے شرکاءکو اہم معلومات فراہم کیں۔

ڈاکٹر سکینہ بانو نے 'سروائیکل کینسر' کے حوالے سے معلومات فراہم کرتے ہوئے اس کی وجوہات، علامات اور بچاو¿ کے طریقوں پر زور دیا۔ انہوں نے ایچ پی وی ویکسین کی اہمیت اور اس بیماری سے بچاو¿ کے اقدامات پر تفصیل سے بات کی۔9سے 14 سال کی بچیوں کو HPV ویکسین لینا چاہیے۔جن سے سروائکل کنسر(بچہ دانی کا کنسر) کے امکانات 90 فیصد یکم ہو جاتے ہیں۔ڈاکٹر عصمت حیات نے 'بریسٹ کینسر' پر گفتگو کی، جس میں انہوں نے خود معائنہ کرنے کے طریقے اور ابتدائی مراحل میں تشخیص کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

ڈاکٹر تنویر نور نے 'پھیپھڑوں کے کینسر' پر سیر حاصل گفتگو کی، جس میں انہوں نے سگریٹ نوشی کے خطرات، ماحولیاتی آلودگی، اور دیگر خطرناک عوامل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دیا کہ "پھیپھڑوں کے کینسر سے بچنے کے لیے صحت مند طرزِ زندگی اپنانا اور سگریٹ نوشی ترک کرنا ضروری ہے۔" ڈاکٹر سمرن خان نے عالمی یومِ کینسر کے تھیم پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے عالمی سطح پر کینسر سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور آگاہی مہمات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

اس سیمینارمیں ڈپارٹمنٹ آف ماہیت الامراض کے اساتذہ، جن میںسابق پرنسپل جناب پروفیسر توحید کبریا صاحب ، گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ایس کے پنکج ،اسسٹنٹ پروفیسر جناب ادیب احمدصاحب،۔اسکے علاوہ مختلف شعبہ جات مثلاً تحفظی و سماجی طب سے داکٹر ملکہ بلند ،ڈاکٹر وجیہ الدین، ڈاکٹر طلعت ناہیدشعبہ علم الادویہ سے صدر شعبہ ڈاکٹر محمد انس، ڈاکٹر محمد راشد، ڈاکٹر محمد نظام الدین، شعبہ معالجات سے صدر شعبہ داکٹر نجیب الرحمان ، ڈاکٹر جمال احمداور شعبہ کلیات سے صدر شعبہ ڈاکٹر تنویر عالم ، ڈاکٹر متانت کریم ، داکٹر جمال اختر اور پروفیسر رضوان احمد ، شعبہ صیدلہ سے ڈاکٹر محمد یوسف ، شعبہ علم الاطفال سے ڈاکٹر محمد شیبہ فروز اور شعبہ ای این ٹی سے ڈاکٹر خصال احمداور میڈیکل آفیسر ڈاکٹر جاوید احمد اور سبھی پی جی ڈپارٹمنٹ کے پی جی طلبا و طالبات موجود تھے،جنہوں نے سیمینار کی اہمیت میں اضافہ کیا۔

اس تقریب کے تعلق سے کوارڈینیٹرکے فرائض انجام دے رہےپی جی اسکا لر ڈاکٹر محمد ظفر اقبال اور ڈاکٹر سکینہ بانو، اور نظامت کر ر ہےڈاکٹر ندیم اخترنے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ا خیر میں پروفیسر جناب توحید کبریا صاحب نے اس پروگرام کی کامیابی پر طبی کالج کے پرنسپل ،آرگنازنگ چیئرمین ،کوارڈینیٹر ، مہمانان خصوصی اور دیگر شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا۔



No comments:

Post a Comment