Thursday, 6 February 2025

سعودی ولی عہد نے 'کنگ سلمان آٹوموبائل مینوفیکچرنگ کمپلیکس' کا آغاز کر دیا

 







سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کنگ عبداللہ اکنامک سٹی کے اسپیشل اکنامک زون میں آٹوموبائل کی سرگرمیوں کے لیے مخصوص علاقے کو "کنگ سلمان آٹو موبائل مینوفیکچرنگ کمپلیکس" کا نام دے دیا ہے۔


یہ کمپلیکس مملکت کی معیشت میں تنوع پیدا کرنے کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ یہ نان آئل مقامی پیداوار کو سپورٹ کرنے اور برآمدات میں اضافے میں بھی کردار ادا کرے گا۔ اس کے علاوہ آٹو سیکٹر کی صلاحیت کو بڑھا کر اس صنعت کو مقامی بنانے میں مدد گار بنے گا۔


کنگ سلمان آٹو موبائل مینوفیکچرنگ کمپلیکس آٹو سیکٹر میں مقامی اور عالمی کمپنیوں کا اہم مرکز ثابت ہو گا۔ ان میں نمایاں ترین "سیر" کمپنی ہے جو برقی گاڑیوں میں پہلا سعودی ٹریڈ مارک ہے۔ اسی طرح "لوسڈ موٹرز" جس نے 2023 میں کنگ عبداللہ اکنامک سٹی میں اپنا پہلا بین الاقوامی کارخانہ کھولا تھا۔ ان کے علاوہ کئی دیگر عالمی برانڈز ہوں گے جن میں "ہنڈائی موٹرز" اور "بیریللی" بھی شامل ہیں۔


اس کمپلیکس کا مقصد نجی سیکٹر کے لیے سرمایہ کاری کے مثالی مواقع پیدا کرنا اور مملکت میں تابناک مستقبل کے حامل سیکٹروں کو ترقی دینے میں شرکت ہے۔ اس کا ہدف سال 2035 تک نان آئل مجموعی مقامی پیداوار میں 92 رب ریال سے زیادہ کا حجم شامل کرنا ہے۔


کنگ سلمان کمپلیکس سرمایہ کاری کے لیے معاون اس ماحول سے مستفید ہو رہا ہے جو سعودی عرب کے ویڑن 2030 پروگرام نے پیش کیا ہے، ساتھ ہی ان سرمایہ کاری مراعات سے جو کنگ عبداللہ اکنامک سٹی میں پیش کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس کا لوجسٹک انفرا اسٹرکچر اور عالمی تجارت کے لیے اہم مقام پر واقع ایک جدید بندر گاہ سے جڑا ہونا تا کہ مقامی نجی شعبے اور عالمی کمپنیوں کے لیے اس طرح موقع فراہم کیا جا سکے کہ وہ شراکت دار، سپلائر یا سرمایہ کار بن کر خود کو گاڑیوں اور متعلقہ خدمات کے شعبے میں شامل کر سکیں۔




کنگ سلمان آٹوموبائل مینوفیکچرنگ کمپلیکس مملکت کے ویڑن 2030 کے اہداف کے حصول میں کردار ادا کرے گا جن میں معیشت کو متنوع بنانا اور پائے دار نمو کو یقینی بنانا شامل ہے۔


گاڑیوں اور نقل و حمل کا شعبہ عوامی سرمایہ کاری فنڈ کے لیے ایک تزویراتی اور ترجیحی شعبہ ہے، جہاں فنڈ کے پورٹ فولیو میں متعدد سرمایہ کاریاں شامل ہیں جو نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری میں گاڑیوں کے شعبے میں کی جاتی ہیں۔ اس کا مقصد انفرا اسٹرکچر کو مستحکم کرنا اور مقامی سپلائی چین کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے تا کہ عالمی سطح کی بڑی گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے مقامی مہارتوں اور ٹیکنالوجیز کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔



No comments:

Post a Comment