ہلاکتوں کی تعداد 25 تک پہنچ گئی ، اسرائیلی فوج نے جنین اور اس کے کیمپ میں 180 مکانات کو تباہ کر دیا
اسرائیلی فوج کی مغربی کنارے کے شہر جنین اور اس کے کیمپ میں مسلسل 17ویں روز بھی کارروائیاں جاری رہیں۔ ان کارروائیوں میں اب تک 25 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ جنین کیمپ کی میڈیا کمیٹی کے مطابق کیمپ سے بے گھر ہونے والے افراد کی کل تعداد 15 ہزار شہریوں تک پہنچ گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے 180 گھروں کو تباہ کردیا ہے۔
میڈیا کمیٹی کے مطابق فوجی آپریشن کی وجہ سے بنیادی خدمات میں خلل ہے، سکول معطل ہوگئے ہیں اور چار ہسپتالوں کو پانی سے محروم کر دیا گیا ہے۔ جنین شہر کے لوگ پانی اور بجلی کی تعطل سے المناک حالات سے دوچار ہیں۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق آج جمعرات کو اسرائیلی گاڑیوں نے جنین کے سرکاری ہسپتال کے داخلی راستے اور اس کی طرف جانے والی مرکزی سڑک کو بلڈوز کرنے کے بعد اس کا محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے۔
مسلسل 17ویں دن ہسپتال کے محکمے پینے کے پانی کی شدید قلت سے دوچار ہیں۔، جنین میونسپلٹی سول ڈیفنس کے ساتھ مل کر چھوٹے زرعی ٹریکٹروں کے ذریعے ہسپتال تک پانی پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ جنین کے گورنر کمال ابو الرب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کیمپ کے اندر ہونے والے بم دھماکوں کے بعد اس کی ہندسی اور آبادیاتی شکل مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گی۔ جنین کے میئر محمد جرار نے تصدیق کی ہے کہ جنین میں صورتحال تباہ کن ہے اور شہر کے زندگی کے تمام پہلوو¿ں سے مفلوج ہوجانے کا خطرہ ہے۔
کل الیکٹریسٹی کمپنی کے عملے نے ان علاقوں میں بجلی کے کرنٹ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جہاں سے فوج جزوی طور پر پیچھے ہٹ گئی تھی۔ یہ جبل ابوظہیر اور جبریات کے علاقے تھے۔ دریں اثنا اسرائیلی فورسز نے جنین میونسپلٹی کے عملے کو ہدف بنائے گئے علاقوں اور شہر کے مغربی محلوں میں پانی کی لائنوں کی مرمت مکمل کرنے سے روک دیا۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جینین کیمپ میں مکانات کو اڑانے اور تباہ کرنے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ کیمپ کے اندر سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ بوبی ٹریپنگ سے گھروں کو اڑا دیا گیا ہے۔ کیمپ میں ایک مکان کو آگ لگنے کے نتیجے میں دھوئیں کے بادل اٹھ رہے ہیں۔
No comments:
Post a Comment