پٹنہ، 07 فروری 2025 بہار پردیش راشٹریہ جنتا دل کے تر
جمان اعجاز احمد نے کہا کہ بہار میں پولیس کے ظلم و جبر کے باعث عام لوگوں کی زندگی دشوار ہو گئی ہے اور پولیس کی من مانی کا شکار عام شہری ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مظفرپور کے کانٹی تھانے میں ہونے والی شیوم کی موت کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں پولیس کے مظالم کے جو واقعات سامنے آ رہے ہیں، ان سے عوام کا حکومت اور انتظامیہ پر سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ پولیس مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے عام لوگوں پر زبردستی جرم قبول کروانے کے لیے غیر انسانی طریقے اپنا رہی ہے۔ بہار میں بھی اب اتر پردیش کی طرز پر پولیس کے مظالم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح کے واقعات کو دیکھتے ہوئے معزز سپریم کورٹ نے بھی کہا تھا کہ بہار میں پولیس کا راج چل رہا ہے۔
اعجاز احمد نے کہا کہ کچھ دن قبل مدھوبنی ضلع کے بینی پٹی میں مولانا فیروز کے ساتھ بہیمانہ طریقے سے پولیس نے زیادتی کی۔ دوسری طرف، مظفرپور ضلع کے کانٹی تھانے میں بائیک چوری کے الزام میں پولیس کے تشدد اور بربریت کے باعث شیوم کی حوالات میں موت ہو گئی، اور ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پولیس کی مارپیٹ ہی ان کی موت کا سبب بنی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس حراست میں ہونے والی اس موت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بہار میں پولیس کا راج چل رہا ہے۔ جب قائد حزب اختلاف تیجسوی پرساد یادو حکومت کے ان کارناموں اور پولیس کے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو حکومت کے ترجمان الٹا ایسے پولیس افسران کا دفاع کرنے لگتے ہیں۔ اپوزیشن کی آواز کو دبانے اور سچائی کو سامنے نہ آنے دینے کے لیے ایسے بیانات دیے جاتے ہیں، جبکہ اپوزیشن کی تحریک کو کچلنے کے لیے پولیس کے ظلم و جبر کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
اعجاز احمد نے مزید کہا کہ بہار میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جہاں ایک طرف جرائم اور مجرموں کو حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے، وہیں دوسری طرف مافیا اور جرائم پیشہ افراد کو اعلیٰ سطح پر تحفظ دیا جا رہا ہے، جس کے باعث عام شہریوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔
No comments:
Post a Comment