Wednesday, 5 February 2025

بہار کی ذات پر مبنی مردم شماری پر راہل گاندھی کے سوالات، تلنگانہ کی مثال پیش کی

 






پٹنہ: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بدھ کے روز پٹنہ میں منعقد ایک پروگرام کے دوران کہا کہ آج ہندوستان میں اقتدار کے ڈھانچے میں دلتوں اور پسماندہ طبقات کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں کو نمائندگی تو دی جاتی ہے، لیکن حقیقی اختیار سے محروم رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی نمائندگی بے معنی بن جاتی ہے۔


انہوں نے آزادی کے مجاہد جگ لال چودھری کی جینتی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک کے اقتدار کے ڈھانچے میں، چاہے وہ تعلیم ہو، صحت ہو، کاروبار ہو، عدلیہ ہو یا میڈیا، پسماندہ طبقات کی شرکت بہت محدود ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ دلتوں کے درد اور ان کے حقوق کی آواز بابا صاحب امبیڈکر اور جگ لال چودھری تھے، لیکن آزادی کے بعد بھی اقتدار کے ڈھانچے میں ان کی شراکت کم رہی ہے۔



راہل گاندھی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انتخابی ٹکٹ تو دیا جاتا ہے لیکن حقیقی اختیارات نہیں دیے جاتے۔ انہوں نے ملک گیر سطح پر ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بہار کی طرز پر نہیں بلکہ تلنگانہ کی طرز پر مردم شماری ہونی چاہیے تاکہ واضح ہو سکے کہ دلت، پسماندہ، اقلیتیں اور دیگر طبقات کی آبادی کتنی ہے اور ان کی اداروں میں شراکت داری کیا ہے۔


انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کی 200 بڑی کمپنیوں میں کوئی بھی دلت، او بی سی یا قبائلی اعلیٰ عہدوں پر فائز نہیں ہے۔ ملک کے بجٹ کا تعین کرنے والے 90 افراد میں صرف تین دلت شامل ہیں اور ان کے پاس بھی معمولی ذمہ داریاں ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت کے 100 روپے کے اخراجات میں صرف ایک روپے کے فیصلے دلت افسران کرتے ہیں جبکہ پسماندہ طبقات کی شراکت داری بھی صرف چھ فیصد ہے۔


کانگریس لیڈر نے کہا کہ ان کی پارٹی دلتوں، پسماندہ طبقات اور قبائلیوں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس آئین کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔


راہل گاندھی نے کہا کہ آبادی کے تناسب سے تمام شعبوں میں مساوی نمائندگی کے لیے ذات پر مبنی مردم شماری ضروری ہے تاکہ لیڈرشپ کی سطح پر دلتوں، پسماندہ اور قبائلیوں کی موجودگی یقینی بنائی جا سکے۔


No comments:

Post a Comment