برازیل کے میناس گیریس میں اِن دنوں مویشیوں کا میلہ لگا ہوا ہے جہاں ہندوستانی نسل کی ایک گائے سب سے زیادہ قیمت میں فروخت کی گئی ہے۔ اس گائے کا نام ویاٹینا-19 ہے جو نیلّور نسل کی گائے ہے۔ گائے کی یہ نسل ہندوستان کے آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں پائی جاتی ہے۔ یہ گائے دیکھنے میں جس قدر خوبصورت ہے اتنی ہی زیادہ اس کے اندر خوبیاں بھی ہیں۔ اس گائے نے ’مِس ساو¿تھ امریکہ‘ کا ٹائٹل بھی جیتا تھا۔ اس کے بعد سے ہی یہ گائے خبروں میں ہے۔ یہی نہیں دنیا کے کئی ممالک میں لوگ اس گائے کے بچھڑے لے کر گئے ہیں تاکہ اچھی نسل کی گائے تیار کی جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس گائے کے لیے بولی لگائی گئی تو ایک خریدار نے 40 کروڑ روپے تک کی اونچی قیمت ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔
نیلّور نسل کی گایوں کو آگنول بِرِیڈ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ ان گایوں کی خصوصیات یہ ہے کہ یہ انتہائی مشکل اور گرم حالات میں بھی رہ سکتی ہیں اور ان کی دودھ دینے کی صلاحیت بھی متاثر نہیں ہوتی ہے۔ ویسے عام طور پر انتہائی گرم موسم میں دیگر نسلوں کی گایوں کی دودھ کم ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ نیلّور نسل کی گایوں کی امیونٹی سسٹم (قوت مدافعت) بھی شاندار ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کے پوری دنیا میں ان کی مقبولیت بہت زیادہ ہے۔
نیلّور نسل کی گایوں گی دیگر خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ یہ کم دیکھ بھال اور مشکل حالات والے علاقوں میں بھی آسانی سے رہ لیتی ہیں۔ سفید اور کندھے پر اونچے کوہان والی ان گایوں میں یہ خاصیت بھی ہے کہ یہ اونٹوں کی طرح طویل عرصے تک کے لیے کھانا اور پانی کو ذخیرہ کر سکتی ہیں۔ ذخیرہ اندوزی میں اونٹ والی صفت ہونے کی وجہ سے ان کا صحراو¿ں اور گرم علاقوں میں رہنا آسان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں نیلّور نسل کی گایوں کی مانگ بڑھ گئی ہے۔ بعض اوقات چارے وغیرہ کی کمی ہونے پر پشوو¿ں کے لیے زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں یہ گائیں ایک بہترین آپشن ہیں۔ ساتھ ہی یہ گائیں فَیٹ (چربی) کی بھی اسٹوریج (ذخیرہ) کر لیتی ہیں۔ ان ہی سب خصوصیات کی وجہ سے مشکل اور ناموافق حالات میں بھی ان کی صحت پر خاصا اثر نہیں ہوتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ نیلّور نسل کی گائیں برازیل میں بھی بڑے پیمانے پر پالی جاتی ہیں۔ 1800 سے ہی برازیل میں اس نسل کی گائیں پالی جا رہی ہیں۔
No comments:
Post a Comment