Saturday, 28 December 2024

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی آخری رسومات میں بھوٹان کے بادشاہ اور ماریشش کے وزیر خارجہ کی بھی شرکت





ہندوستان کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی آخری رسومات آج پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا ہو گئیں۔ اس موقع پر نہ صرف ہندوستان کی سرکردہ سیاسی شخصیات موجود تھیں، بلکہ بیرون ممالک کے بھی کئی اہم شخصیات نے نم آنکھوں کے ساتھ انھیں الوداع کہا۔ بیرون ملکی شخصیات میں بھوٹان کے بادشاہ جگمے کھیسر نامیگل وانگ چک اور ماریشش کے وزیر خارجہ دھننجے رام پھل کا نام قابل ذکر ہے، جنھوں نے دہلی کے نگم بودھ گھاٹ پر منموہن سنگھ کی آخری رسومات میں شرکت کی۔


موصولہ اطلاع کے مطابق ماریشس اور بھوٹان دونوں ہی ممالک نے اپنے قومی پرچم کو 28 دسمبر کے لیے نصف سرنگوں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماریشس کی حکومت نے ڈاکٹر منموہن کے احترام میں 28 دسمبر کو اپنا قومی پرچم نصف جھکا رکھنے کا اعلان کیا اور ایک نوٹ میں ماریشس کے وزیر اعظم نوین چندر رامگولم کے دفتر نے پرائیویٹ سیکٹر سے بھی پرچم کو نصف جھکائے رکھنے کی گزارش کی۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ماریشس کے وزیر اعظم نوین چندر رامگولم نے پورٹ لوئس میں ہندوستانی ہائی کمیشن میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی یاد میں ایک تعزیتی کتاب پر دستخط بھی کیے۔


یہ بھی پڑھیں :منموہن سنگھ کو ریاستی اعزازکے ساتھ قوم نے آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ الوداع کہا، راہل ہر جگہ موجود رہے



جہاں تک بھوٹان کا سوال ہے، وہاں بھی قومی پرچم اآدھا سرنگوں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پورے بھوٹان اور بیرون ملک بھوٹانی سفارت خانوں، مشنز و قونصل خانوں پر آنجہانی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے احترام اور حکومت ہند و ہندوستانی عوام کے ساتھ یکجہتی کی علامت کے طور پر قومی پرچم نصف سرنگوں رکھے جائیں گے۔


اس سے قبل جمعہ کو بھوٹان کے بادشاہ اور ملکہ نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی یاد میں خصوصی دعائیہ تقریب میں شرکت کی تھی۔ بھوٹان کے بادشاہ اور ملکہ نے آنجہانی منموہن سنگھ کی یاد میں کرمی ٹونگچوڈ یا مکھن کے ایک ہزار لیمپ پیش کیے۔ دعائیہ تقریب میں بھوٹان کے وزیر اعظم، ہندوستانی سفیر اور شاہی حکومت و حکومت ہند کے اعلیٰ افسروں نے بھی شرکت کی تھی۔ اسی طرح کی دعائیہ تقریبات تمام 20 جونگ کھاگ میں بھی منعقد کی گئیں۔


No comments:

Post a Comment