پٹنہ
پورے وقار اور بلند ترین معیار و اقدار کے ساتھ اُردو ہندی کی انتہائی محترم شخصیت جن کا رب العزّت پر مصمم یقین رہا اور اپنے بچپن میں ہی والد کی شفقت سے محروم ہونے کے بعد انتہائی مشکل ترین حالات سے گزرتے ہوئے سخت تگ و دو کے بعد اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کی اپنی طالب علمی کے زمانے سے ہی درس و تدریس کے ساتھ تخلیقی سفر شروع کیا اور ملک اور بیرون ملک کے رسائل اور جرائد میں شائع بھی ہوتے رہے پھر کڑے وقت میں رشتوں کی بے اعتنائیوں کے باوجود کبھی ہمت نہیں ہارے اور کم عمری میں ہی ہندوستان گیر سطح پر سروس کمیشن سے مشتہر کلاس ون آفیسر کے واحد عہدے پر فائز ہوکر ایک تاریخ بھی رقم کی اور بحیثیت صدر شعبہ اور انچارج ڈائریکٹر بھی اپنی صلاحیتوں سے بےحد متاثر کیا وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی سربراہی میں یوم تعلیم اور بہار دیوس کی شروعات سے ہی نیشنل سیمینار مشاعرہ کوی سمیلن کے کنوینر کے طور پر لگاتار اپنی خدمات دیں- خود قومی اور بین الاقوامی سیمینار مشاعرے میں مدعو کیے جاتے رہے جن میں حال میں ہی بحرین کا عالمی مشاعرہ اُن کی تخلیقی بصیرت کا غماز ہے- ڈاکٹر قاسم خورشید کی اُردو ہندی اور انگریزی میں 23 سے زیادہ کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں امسال ہی اُن کا دو شعری مجموعہ "دل کی کتاب"(اُردو)اور "دستکیں خاموش ہیں"(ہندی)بےحد مقبول ہو رہے ہیں ڈاکٹر قاسم خورشید اعزازی طور پر مُختلف ادبی سماجی تعلیمی اور ثقافتی ادارے کے چیئرمین وائس چیئر مین سیکرٹری ممبر مشاورتی بورڈ بھی ره چکے ہیں مختلف قومی اور بین الاقوامی اعزاز و اکرام سے بھی نوازے جاچکے ہیں اور بڑی بات یہ ہے کہ پوری فعالیت و شدّت کے ساتھ فلاحی کاموں سے جڑے ہوئے بھی ہیں اُن کی ایسی ہی متعدّد خدمات کو ملحوظ رکھتے ہوئے فلاحی ثقافتی ادبی ثقافتی تنظیم اُجالا فاؤنڈیشن نے سال 2024 کا بےحد پرکشش اور اعلیٰ امیر خسرو ایوارڈ ڈاکٹر قاسم خورشید کو دینے کا فیصلہ کیا جسے انتہائی خوبصورت عالیشان تقریب میں پٹنہ کے بہترین سماجی رہنما جناب ششی شیکھر رستوگی نے عنایت کیا - قاسم خورشید کے اس ایوارڈ پر کثیر تعداد میں اُردو ہندی کی ہر دلعزیز شخصیتوں مداحوں اور سامعین نے پرجوش خیر مقدم کیا محترم ششی شیکھر رستوگی نے کہا کہ یہ ہمارے لیے انتہائی خوشی اور فخر کی بات ہے کہ ڈاکٹر قاسم خورشید جیسی محترم شخصیت کا تعلق بہار سے ہے اور انہوں نے پوری دنیا میں صوبے کا سر بلند کیا ہے ان کے لیے بہُت ساری دعائیں اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں ساتھ ہی فاؤڈیشن کے روحِ رواں اور بچوں کی تعلیم نیز ادبی ثقافتی کاموں کیلئے فاؤنڈیشن کے روحِ رواں جناب معین ابر اور اُنکی بڑی ٹیم کو بھی اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ڈاکٹر قاسم خورشید نے فرط جذبات سے لبریز ہوتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب ہر گوشے سے دعائیں اور محبتیں مل رہی ہُوں سوائے اللہ کا شُکر ادا کرنے کے زبان اور بھی کچھ کہنے سے قاصر رہتی ہے میرے لیے یہ اعزاز اس لیے بڑا ہے کہ حضرت امیر خسرو ہندوستانی تہذیب کے ایسے شاعر تھے جن کے روحانی کیف سے بھی زمانہ واقف ہے اور جب تک ہم محبت وطنیت اور روحانیت سے سرشار رہیں گے حضرت امیر خسرو ہماری ملی وراثت کا حصہ رہیں ہے میں اُجالا فاؤنڈیشن کو اور محترم معین ابر اور اُن کے ہم نوا کو امیر خسرو کی یاد میں اس ایوارڈ کی تفہیم کے لیے بھی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں
ڈاکٹر قاسم خورشید کو امیر خسرو ایوارڈ دیے جانے پر ہر طرف سے پذیرائی جاری ہے
اس موقع پر ڈاکٹر قاسم خورشید کی صدارت میں ایک شاندار مشاعرے اور کوی سمیلن کا بھی انعقاد عمل میں آیا جس میں مطیع الرحمان ساحل ارادھنا پرساد وریندر ناتھ وبھاتسو طلعت پروین کاظم رضا پربھات کمار دھون شبانہ عشرت چندر پرکاش اور ناظمِ مشاعرہ کوی سمیلن نسیم احمد نے اپنے خوبصورت کلام سے محفل کو یادگار بناتے ہوئے ہندوی کے سب سے بڑے شاعر امیر خسرو کو بھی بہترین خراج دیا
No comments:
Post a Comment