Sunday, 29 December 2024

سابق آئی پی ایس اور سماجی کارکن آچاریہ کشور کنال کا انتقال، نتیش۔لالو سمیت متعدد شخصیات کا اظہار تعزیت

 




پٹنہ :بہار کے سابق آئی پی ایس افسر کشور کنال کا اتوار کو انتقال ہو گیا۔ان کے انتقال پر وزیراعلیٰ نتیش کمار ، سابق وزیراعلیٰ لالو پرساد یادو سمیت متعدد شخصیات نے غم کا اظہار کیا ہے۔ 

 آچاریہ کشور کوآج صبح میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد انہیں مہاویر کینسر اسپتال لے جایا گیا جہاں انہوں نے آخری سانس لی۔ ان کی عمر 74 سال تھی۔ کشور کنال سبکدوش آئی پی ایس افسر تھے اور بہار راجیہ دھارمک نیاس بورڈ کے چیئرمین کے عہدے پر بھی رہے۔ وہ پٹنہ کے مہاویر مندر نیاس کے سکریٹری اور گیان نکیتن نامی اسکول کے بانی بھی تھے۔ مہاویر مندر ٹرسٹ کے سکریٹری کے طور پر انہوں نے دنیا کے سب سے بڑے مندر کی تعمیر کی ذمہ داری اٹھائی تھی۔ مہاویر ہیلتھ انسٹی چیوٹ، مہاویر کینسر سنستھان، مہاویر نیترالیہ کی بنیاد بھی انہوں نے ہی ڈالی تھی۔ غریبوں کے لیے یہ اسپتال زندگی بخش ثابت ہوئے۔


آچاریہ کشور کنال نے پٹنہ میں مہاویر مندر، مہاویر کینسر اسپتال اور مہاویر واتسلیہ اسپتال قائم کروایا تھا۔ وہ انڈین پرولیس سروس کے مشہور افسر رہے ہیں۔ 1972 میں کشور کنال گجرات کیڈر میں آئی پی ایس افسر بنے تھے۔ ان کی پہلی پوسٹنگ آنند میں ایس پی کے طور پر ہوئی تھی۔ 1978 تک وہ احمد آباد کے پولیس کمشنر بن گئے۔ 1983 میں بہار آنے پر کشور کنال کو پٹنہ کا ایس ایس پی بنایا گیا تھا۔ 2001 میں کشور کنال نے رضاکارانہ طور پر انڈین پولیس سروس سے استعفیٰ دے دیا۔ سبکدوشی کے بعد انہوں نے بہار راجیہ دھارمک نیاس بورڈ کے چیئرمین کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔



آچاریہ کشور کنال کی پیدائش 10 اگست 1950 کو بہار میں مظفرپور کے بروراج گاو¿ں میں ہوئی تھی۔ انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے تاریخ اور سنسکرت میں 1970 میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی اور 1983 میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ کشور کنال نے دربھنگہ کی سنسکرت یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر بھی کام کیا۔ اس کے بعد انہوں نے بہار میں تعلیم اور صحت انتظام بہتر کرنے کے لیے اپنا اہم تعاون دیا۔ ان کے انتقال پر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سمیت کئی سیاسی و سماجی رہنماو¿ں نے گہرے غم کا اظہار کیا ہے اور اسے سماج کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔


آچاریہ کشور کنال کی بے وقت موت ایک ناقابل تلافی نقصان ہے: جے ڈی یو

جے ڈی (یو) کے ریاستی ترجمانوں نے آچاریہ کشور کنال کے بے وقت انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور اسے بہار کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ ایک مشترکہ بیان میںرکن قانون ساز کونسل کم پارٹی کے چیف ریاستی ترجمان مسٹر نیرج کمار، ریاستی ترجمان ڈاکٹر نیہورا پرساد یادو، مسٹر اروند نشاد، مسٹر ہمراج رام، مسز انجم آرا، مسٹر نول شرما، مسٹر ابھیشیک جھا، مسٹر پرمل کمار اور مسٹر منیش یادو نے کہا کہ انہوں نے سماج کے لیے جو کام کیا ہے وہ سب کے لیے ایک مثال ہے۔

 پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ آچاریہ کشور کنال نہ صرف ایک موثر منتظم تھے بلکہ مذہبی اور سماجی میدان میں بھی ان کا تعاون بے مثال ہے۔ مہاویر مندر کے انتظام کے سربراہ کے طور پر، انہوں نے پٹنہ میں مہاویر کینسر انسٹی ٹیوٹ قائم کیا، جو شمالی ہندوستان کا ایک بڑا کینسر ہسپتال ہے، اور غریب مریضوں کے لیے مہاویر وتسالیہ جیسے بڑے ہسپتال بنائے، جہاں مریضوں کا بہت کم خرچ پر علاج کیا جاتا ہے۔ آچاریہ کشور کنال نے ہمیشہ غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا اور ان کے دکھ درد کو سمجھا۔ آچاریہ کشور کنال نے بھی کئی تحریریں لکھیں۔ ان کے بے وقت انتقال سے بہار ایک دور اندیش اور آگے کی سوچ رکھنے والی شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔



آچاریہ کشور کنال کے انتقال پر لالو ، رابڑی ، تیجسوی سمیت آرجے ڈی لیڈران کا اظہار غم 


آر جے ڈی کے قومی صدر جناب لالو پرسادیادو، سابق وزیر اعلیٰ محترمہ رابڑی دیوی، قائد حزب اختلاف جناب تیجسوی پرساد یادو، رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر میسا بھارتی، سابق وزیر جناب تیج پڑتاپ یادو، ریاستی صدر جگدانند سنگھ، قومی نائب صدر جناب ادے نارائن چودھری، قومی جنرل سکریٹری عبدالباری صدیقی، سابق مرکزی وزیر شری جے پرکاش نارائن یادو، ڈاکٹر مسز کانتی سنگھ، قومی چیف ترجمان پروفیسر منوج کمار جھا، راجیہ سبھا کے رکن اسمبلی شری سنجے یادو، قومی جنرل سکریٹری شری بھولا یادو، سید فیصل علی، بنو یادو، ریاستی نائب صدر اشوک کمار سنگھ، ڈاکٹر تنویر حسن، شری شیو چندر رام، شری سریش پاسوان، ریاستی جنرل سکریٹری شری رنوجے ساہو، خزانچی محمدکامران، ریاستی آر جے ڈی کے چیف ترجمان شری شکتی سنگھ یادو، ریاستی ترجمان اعجاز احمد کے ساتھ۔ آر جے ڈی کنبہ کے دیگر رہنماو¿ں نے مہاویر نیاس پریشد کے سکریٹری آچاریہ کشور کنال کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موت سے ریاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں سماجی میدان میں جو کام کیا وہ ناقابل فراموش ہے۔ ایک اچھے انتظامی افسر ہونے کے علاوہ انہوں نے مہاویر اسپتال اور دیگر اسپتالوں کے ذریعہ سماج کے مفاد میں جو تعاون دیا ہے اسے بہار کے لوگ فراموش نہیں کرسکتے ہیں۔



No comments:

Post a Comment