Friday, 27 December 2024

علم ودانش اور انکساری کی علامت ڈاکٹر منموہن سنگھ جیسے لیڈر سے ہم محروم ہو گئے : سونیا گاندھی

 



کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال پر آج ایک تعزیتی پیغام جاری کیا۔ اس پیغام میں انھوں نے کہا کہ ”ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال سے ہم ایک ایسے لیڈر سے محروم ہو گئے ہیں جو علم و دانش، بڑپن اور انکساری کی علامت تھے، جنھوں نے پورے دل اور دماغ سے ہمارے ملک کی خدمت کی۔ وہ کانگریس پارٹی کے لیے ایک روشن و محبوب راہنما ثابت ہوئے، ان کی ہمدردی اور دور اندیشی نے لاکھوں ہندوستانیوں کی زندگی کو بدل دیا اور انھیں مضبوط بنایا۔“ وہ مزید لکھتی ہیں کہ ”انھیں ہندوستانیوں کے ذریعہ پاک و صاف دل اور تیز ذہن کے لیے پیار کیا جاتا تھا، ان کے صلاح مشوروں کو ہمارے ملک کے سیاسی حلقوں میں انتہائی سنجیدگی سے سنا جاتا تھا اور ان کا بہت احترام تھا۔“


سونیا گاندھی کا کہنا ہے کہ ”وہ ایک ایسے شخص تھے جن کا دنیا بھر کے لیڈران اور دانشور احترام کرتے تھے۔ عالمی لیڈران انھیں ایک عالم اور ایک عظیم شخصیت والے سیاسی لیڈر کی شکل میں دیکھتے تھے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے جس بھی عہدہ کی ذمہ داری سنبھالی، انھوں نے اس عہدہ کو اہم شناخت دی اور کام کرتے ہوئے ہندوستان کے وقار کو بلند کیا۔ میرے لیے ڈاکٹر منموہن سنگھ کا انتقال ایک بڑا ذاتی خسارہ ہے۔“

تعزیتی پیغام میں سونیا گاندھی آگے لکھتی ہیں کہ ”وہ میرے دوست، فلسفی اور گائیڈ تھے۔ وہ اپنے رویہ میں بہت ہی نرم مزاج، لیکن اپنے اقدار کے تئیں پرعزم تھے۔ سماجی انصاف، سیکولر و جمہوری اقدار کے تئیں ان کے عزائم گہرے اور اٹوٹ تھے۔ ان کے ساتھ تھوڑا سا بھی وقت گزارنے سے ان کی علم و دانشوری کا احساس ہوتا تھا۔ ان سے ملنے والا ان کی ایمانداری سے متاثر ہوتا تھا اور ان کی حقیقی انکساری کا احساس بھی بخوبی ہوتا تھا۔“


ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیتی پیغام میں سونیا گاندھی لکھتی ہیں کہ ”وہ ہماری قومی زندگی میں ایک ایسا خلا چھوڑ گئے ہیں جسے کبھی بھرا نہیں جا سکتا۔ ہم کانگریس پارٹی میں اور ہندوستان کے لوگ ہمیشہ اس بات پر فخر کریں گے اور اظہارِ تشکر کریں گے کہ ہمارے پاس ڈاکٹر منموہن سنگھ جیسے لیڈر تھے، جن کا ہندوستان کی ترقی میں تعاون لاجواب ہے۔“





کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کو خراج عقیدت پیش، تعزیتی قرارداد منظور

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی، لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش، کے سی وینوگوپال اور پرینکا گانددھی سمیت دیگر سرکردہ کانگریس لیڈران کی موجودگی میں آج کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ یہ میٹنگ ڈاکٹر منموہن سنگھ کو تعزیت پیش کرنے کے مقصد سے ہوئی جس میں تعزیتی قرارداد منظور ہوا۔

اس میٹنگ میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ ہندوستان کے سیاسی اور معاشی منظرنامہ میں ایک عظیم شخصیت تھے۔ ان کے تعاون نے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور معیشت کے شعبہ میں انھوں نے جو کچھ کیا، اس سے دنیا بھر میں انھیں عزت و احترام حاصل ہوا۔ میٹنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈی ریگولیشن، نجکاری اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو حوصلہ بخشنے کی اپنی پالیسیوں کے ذریعہ سے منموہن سنگھ نے ہندوستان کی تیز رفتار معاشی ترقی کی بنیاد رکھی۔ ان کی قیات میں ہندوستان تیزی سے بڑھتی معیشت کی شکل میں ابھرا۔ انھوں نے عالمی شعبہ میں ہندوستان کی حالت کو مضبوط کیا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے عام آدمی کے فلاح پر بھی توجہ مرکوز کی۔

سی ڈبلیو سی کی اس میٹنگ میں منموہن سنگھ کی کارگزاریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایک سیاسی لیڈر کی شکل میں اپنے تعاون کے علاوہ منموہن سنگھ ایک قابل احترام ماہر تعلیم بھی تھے۔ انھوں نے ماہر معیشت کے طور پر ہندوستان کی پالیسیوں کا خاکہ تیار کرنے میں مدد کی۔ ایک ماہر معیشت کی شکل میں ان کے دانشمندانہ کاموں اور اقوام متحدہ و ریزرو بینک آف انڈیا جیسے اداروں میں ان کے تعاون نے ان معاشی اصلاحات کی بنیاد رکھی جنھیں انھوں نے بعد میں ایک پالیسی کی شکل میں فروغ دیا۔ ڈاکٹر سنگھ کی معیشت سے متعلق گہری سمجھ اور تعلیم کے تئیں ان کے عزائم نے لاتعداد طلبا، دانشوروں اور پالیسی سازوں کو ترغیب دی۔




سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وفات پر جمعیہ علماء ہند کا خراج عقیدت

نئی دہلی: صدر جمعیہ علماءہند مولانا محمود اسعد مدنی نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وفات پر گہرے رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کا نقصان عظیم قرار دیا ہے۔ مولانا مدنی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ایک ممتاز ماہر معاشیات، قابل سیاست داں اور فاضل رہنما کی حیثیت سے ملک کی ترقی اور استحکام میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی قیادت میں ملک میں نہ صرف اقتصادی اصلاحات کی بنیاد پڑی بلکہ امن و ترقی اور سب کے لیے انصاف کی مضبوط روایت کو فروغ ملا۔


مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ انھوں نے اپنی غیر متنازعہ شخصیت، بردباری اور عوامی خدمت کے جذبے سے ایک مثال قائم کی، وہ سیاست میں شائستگی اور اصول پسندی کے ایک روشن نمونہ تھے، جن کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔ وہ جمعیہ علماء ہند کی قیادت بالخصوص فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی سے خاص تعلق رکھتے تھے۔ بحیثیت ممبر پارلیمنٹ حضرت فدائے ملت کے ساتھی بھی رہے۔ اس خاکسار کے ساتھ بھی شفقت کا معاملہ کرتے تھے۔ جمعیہ علماءہند کے مطالبے پر انھوں نے سچر کمیٹی تشکیل دی اور سچر کمیٹی کے کچھ اہم مطالبات کو نافذ کرنے کی بھی کوشش کی۔ ان کے انتقا ل پر جمعیہ علماء ہند ان کے اہل خانہ، تمام محبین سے دلی ہمدردی کا اظہا رکرتی ہے۔






سچن تندولکر بھی منموہن سنگھ کی موت پر ہوئے غمگین،
محمد شامی نے بتایا دور اندیش و عظیم لیڈر


ہندوستان کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال پر ہندوستان کا ہر طبقہ غمگین دکھائی دے رہا ہے۔ مایہ ناز سابق کرکٹر سچن تندولکر اور موجودہ مایہ ناز تیز گیندباز محمد شامی نے بھی ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال کو ملک کے لیے بڑا خسارہ قرار دیا ہے۔ آج ان دونوں ہی شخصیات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آنجہانی سابق وزیر اعظم کے تئیں اپنا خراج عقیدت پیش کیا۔

قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کا انتقال 92 سال کی عمر میں 26 دسمبر کی شب راجدھانی دہلی واقع ایمس میں ہوا۔ ان کے پسماندگان میں بیوی گرشرن کور اور 3 بیٹیاں ہیں۔ آج صدر جمہوریہ دروپدی مرمو، نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ، وزیر اعظم نریندر مودی سمیت برسراقتدار و حزب اختلاف طبقہ کے سرکردہ لیڈران نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کا آخری دیدار کیا اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

سچن تندولکر نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ”ڈاکٹر منموہن سنگھ جی کا انتقال ہندوستان کے لیے ایک بڑا خسارہ ہے۔ ہمارے ملک کے لیے ان کے تعاون کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے انتقال پر اظہارِ غم کرتے ہوئے میری دعائیں ان کے اہل خانہ اور احباب کے ساتھ ہیں۔ اوم شانتی۔“

دوسری طرف محمد شامی نے بھی تعزیتی پیغام کے لیے ’ایکس‘ کا استعمال کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ”وہ (ڈاکٹر منموہن سنگھ) ایک سچے، دور اندیش اور عظیم لیڈر تھے۔ ہندوستان کی ترقی اور ان کی قیادت میں ان کے تعاون کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے کنبہ اور احباب کے تئیں میری گہری ہمدردی۔ بھگوان ان کی روح کو سکون دے۔“




No comments:

Post a Comment