Tuesday, 18 February 2025

امریکا روس بات چیت کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کیوں ہوا ؟




 امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دورے کے بعد آج منگل کے روز سعودی دار الحکومت ریاض میں امریکا اور روس کے سینئر عہدے داران کا اجلاس متوقع ہے۔ اجلاس کا مقصد ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات میں پیش رفت کےلیے بات چیت کا اجرا اور یوکرین کے حوالے سے مذاکرات کے لیے سرکاری طور پر بنیادی وضع کرنا ہے۔ یہ اجلاس بعد ازاں سعودی عرب میں روسی صدر ولادی میری پوتین اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان سربراہ اجلاس کی راہ ہموار کرے گا۔ لہذا اس سفارتی تحریک کی اہمیت نمایاں ہو گئی ہے۔


واضح رہے کہ ٹرمپ اور پوتین کی آئندہ ملاقات کے لیے ریاض کا انتخاب بے سوچے سمجھے نہیں کیا گیا۔ یہ سعودی دار الحکومت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تزویراتی غیر جانب داری اور عالمی سطح پر مملکت کا بطور وساطت کار کردار ظاہر کر رہا ہے۔

سعودی عرب طویل عرصے سے خطے میں امریکا کا اتحادی ہے۔


اسی طرح دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے ذریعے سعودی عرب نے تیل سے متعلق پالیسی میں روس کے ساتھ قریب رہ کر کام کیا ہے۔ فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے مملکت نے خود کو بطور وساطت کار پیش کیا۔


ادھر مملکت نے کئیف حکومت کے ساتھ بھی قابل اعتماد تعلق برقرار رکھا۔ سعودی عرب نے ایک سے زیادہ مرتبہ یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی کا استقبال کیا۔ وہ اپنے ایک دورے میں مئی 2023 میں جدہ میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں بھی شریک ہوئے۔ گذشتہ برس جون میں زیلنسکی نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔


معلوم رہے کہ زیلنسکی کل بدھ کے روز ایک بار پھر ریاض کے سرکاری دورے پر پہنچیں گے جس کی منصوبہ بندی کافی عرصہ پہلے کر لی گئی تھی۔ البتہ وہ مملکت میں روسی یا امریکی عہدے داران سے ملاقات کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔ یہ بات پیر کو زیلنسکی کے ترجمان نے بتائی۔


روس اور یوکرین کی جنگ میں سعودی عرب نے اپنی غیر جانب دار حیثیت برقرار رکھی۔ مملکت نے مقابلے کو تقویت دینے کے بجائے تنازع کے فریقوں کے بیچ حل کے لیے جگہ بنانے کی کوشش کی۔


سعودی عرب نے ستمبر 2022 میں یوکرین میں یرغمال غیر ملکی جنگجوؤں کی رہائی میں بھی کردار ادا کیا۔ ان میں دو کا تعلق امریکا اور پانچ کا برطانیہ سے تھا۔


اسی طرح سعودی عرب نے اگست 2023 میں روس یوکرین جنگ کے حوالے سے بات چیت کے لیے 40 سے زیادہ ممالک کے نمائندوں کی میزبانی کی تاہم اس میں روس نے شرکت نہیں کی۔


اس سلسلے میں برمنگھم یونیورسٹی میں سعودی خارجہ پالیسی کے ماہر عمر کریم کا کہنا ہے کہ آج ہونے والا اجلاس یہ واضح کرتا ہے کہ سعودی قیادت نے ٹرمپ اور پوتین دونوں کے ساتھ دوستانہ قریب تعلق استوار کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب فریقین کے لیے ایک غیر جانب دار اور قابل اعتماد شریک کی حیثیت رکھتا ہے۔


اکتوبر 2023 میں غزہ میں جنگ چھڑنے کے بعد سے سعودی عرب خطے کی سطح پر سرگرم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ جنگ چھڑنے کے ایک ماہ بعد مملکت نے ایک ہنگامی عرب اسلامی سربراہ اجلاس کی میزبانی بھی کی۔


اسی طرح سعودی عرب آئندہ جمعے کے روز ایک چھوٹا سربراہ اجلاس منعقد کر رہا ہے جس میں غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی اردن اور مصر منتقلی سے متعلق ٹرمپ کی تجویز پر رد عمل زیر بحث آئے گا۔ اجلاس میں مصر اور اردن کے علاوہ خلیج تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک کی قیادت شریک ہو گی۔


لبنان کا دوٹوک مؤقف: اسرائیلی فوج کا باقی رہنا "قبضہ" تصور ہوگا

لبنان نے آج منگل کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کی سرزمین پر اسرائیلی فوج کا باقی رہنا "قبضہ" شمار ہو گا۔ یہ موقف حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی معاہدے کی شقوں کے نفاذ کے لیے مقررہ مہلت ختم ہونے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے ابھی تک 5 تزویراتی مقامات پر اپنی موجودگی باقی رکھی ہے۔

لبنان میں ریاست ، حکومت اور پارلیمنٹ کے سربراہان کے ایک اجلاس کے بعد ایوان صدارت کی خاتون ترجمان نجاب شرف الدین نے ایک بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ "لبنانی اراضی کی ایک بالشت پر بھی اسرائیلی وجود کا باقی رہنا یہ قبضہ شمار ہو گا"۔ بیان میں سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور اسرائیل کو فوری طور پر انخلا کا پابند کرنے کے لیے مطلوبہ اقدامات کرے۔ ساتھ یہ تصدیق کی گئی ہے کہ لبنان فوج اسرائیل کے ساتھ سرحد پر اپنے ذمے داری سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آج منگل کے روز لبنانی فوج نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد سرحدی دیہات میں تعیناتی کی تصدیق کی تھی۔

لبنانی فوج کے بیان میں مزید بتایا گیا تھا کہ اس کی فورسز لیطانی کے جنوب میں واقع علاقے میں دیگر سرحدی علاقوں میں بھی تعینات ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت فائر بندی معاہدے کی نگراں پانچ رکنی کمیٹی اور اقوام متحدہ کی عارضی امن فوج (یونیفل) کے ساتھ رابطہ کاری سے سامنے آئی ہے۔

لبنانی فوج کے مطابق اس کے یونٹوں نے ان علاقوں میں انجینئرنگ سروے، راستوں کو کھولنے اور غیر ناکارہ گولہ بارود سے نمٹنے کا کام شروع کر دیا ہے۔

شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جنوبی علاقوں میں تعینات فوجی یونٹوں کی ہدایات کی پاسداری کریں تا کہ ان کی جانوں کی سلامتی کے لیے جاری یہ کام جلد از جلد وقت میں مکمل کیا جائے۔


اس سے قبل لبنانی سیکورٹی ذریعے نے تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں 5 مقامات کے سوا تمام سرحدی دیہات سے نکل چکی ہے۔ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی معاہدے کے نفاذ کی مہلت ختم ہونے کے باوجود اسرائیلی فوج نے ان پانچ جگہوں پر باقری رہنے کا اعلان کیا تھا۔

ایک اسرائیلی ذمے دار کے مطابق اسرائیلی فوج مذکورہ پانچ چیک پوائنٹس پر عارضی طور پر باقی رہے گی اور ایک عرصے کے بعد واپس چلی جائے گی۔ تاہم اس مدت کا دورانیہ نہیں بتایا گیا۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی معاہدے کا نفاذ 27 نومبر 2024 کو ہوا تھا۔ معاہدے میں 60 روز کی مہلت کے اندر جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا مذکورہ ہے۔ تاہم اسرائیل نے اس کی پاسداری نہیں کی اور اپنی بقا کے لیے 18 فروری تک کی توسیع کا مطالبہ کر دیا تھا۔

غزہ میں جنگ بندی کا پہلا مرحلہ اختتام کے قریب، تعمیر نو کے لیے بھاری مشینری داخل

 




غزہ میں حماس اور اسرائیل کےدرمیان 19 جنوری کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ اختتام کے قریب ہے۔ اسرائیل ثالثوں مصر، قطر اور امریکہ پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ چھ زندہ اسرائیلی قیدیوں کی ایک ساتھ گلے ہفتے رہائی کے لیے حماس پر دباؤ ڈالیں۔ سیاسی ذرائع کے مطابق اسرائیل کو بھاری مشینری اور موبائل فون کی اطلاع دی گئی۔

بھاری مشینری کا داخلہ

دریں اثناء ایک باخبر مصری ذریعے نے تصدیق کی کہ ملبہ ہٹانے کی بھاری مشینر ی آج منگل کو رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ کی پٹی میں داخل ہونا شروع ہوگئی ہے۔

قاہرہ نیوز چینل کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ مصری-قطری کوششوں کی کامیابی کے بعد خوراک کے قافلے بھی داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

تباہ شدہ فلسطینی علاقے میں داخل ہونے کی تیاری کے لیے یہ مشینری اور بھاری سامان گذشتہ جمعرات سے سرحدی گزرگاہ کے دونوں جانب قطار میں کھڑا تھا۔

یہ بھاری مشیرن ایک ایسے وقت میں غزہ داخل کی گئی ہے جب دوسری طرف مصر نے کہا ہے کہ اس کے پاس غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک جامع پلان ہے جس کے تحت فلسطینیوں کی بے دخلی کے بغیر غزہ کی تعمیر نو ممکن ہے۔

مصری تجویز میں غزہ کے اندر "محفوظ زون" کا قیام شامل ہے جہاں فلسطینی عارضی طور پر رہ سکتے تھے، جب کہ مصری اور بین الاقوامی کمپنیاں پٹی کے بنیادی ڈھانچے کو ہٹا کر دوبارہ آباد کریں گی۔

تین مراحل

مصری حکام کے مطابق اس نے غزہ سے فلسطینیوں کو ہٹائے بغیر تین مراحل میں پٹی کی تعمیر نو کی شرط بھی رکھی ہے جس میں پانچ سال لگیں گے۔

اس نے ابتدائی چھ ماہ کی "ابتدائی بحالی کی مدت" کے دوران فلسطینیوں کی منتقلی کے لیے پٹی کے اندر تین "محفوظ علاقے" بھی نامزد کیے ہیں۔ ان علاقوں میں انسانی امداد کے بہاؤ کے ساتھ موبائل گھروں اور پناہ گاہوں کی فراہمی کی تجویز شامل ہے۔

بیس سے زیادہ مصری اور بین الاقوامی کمپنیاں ملبہ ہٹانے اور غزہ کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو میں حصہ لیں گی۔

انیس اسرائیلی قیدی

قابل ذکر ہے کہ حماس نے گذشتہ ہفتے کو اسرائیلی جیلوں سے 369 فلسطینیوں کی رہائی کے بدلے 3 اسرائیلیوں کو رہا کیا تھا۔

اس سے جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے آغاز سے لے کر اب تک تحریک کی طرف سے رہائی پانے والوں کی تعداد انیس ہوگئی ہے جب کہ مجموعی طور پر پہلے مرحلے میں پانچ تھائی باشندوں کے علاوہ تینتیس اسرائیلیوں کو رہا کیا جائے گا۔

اسرائیلی اندازوں کے مطابق اس وقت غزہ میں 73 اسرائیلی رہ گئے ہیں جن میں سے صرف نصف کے زندہ ہیں۔

سات اکتوبر 2023 ءسے جب غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر حماس کے حملے کے بعد غزہ پر اسرائیلی جنگ شروع ہوئی۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اسرائیلی بمباری سے تقریباً ایک ملین مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 90 فی صد سے زیادہ سڑکیں اور 80 فی صد سے زیادہ صحت کی سہولیات کو نقصان پہنچا یا تباہ کر دیا گیا۔

بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 30 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جبکہ مکانات کے نقصان کا تخمینہ 16 بلین ڈالر لگایا گیا تھا۔

Sunday, 16 February 2025

امریکہ کی حمایت سے ایران کے خلاف کام کر سکتے ہیں : نیتن یاہو

 





اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل و امریکہ ایرانی جوہری پروگرام کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ اتوار کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ملاقات کے بعد انہوں نے کہا 'ایرانی جوہری پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں ایرانی جارحیت کو ناکام بنانے کے لیے امریکہ و اسرائیل پرعزم ہیں۔'


امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی یہ ملاقات یروشلم میں ہوئی۔ نیتن یاہو نے کہا 'ملاقات میں نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے۔ ایران سے زیادہ کوئی اہم نہیں ہے۔'


نیتن یاہو نے مزید کہا 'ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل و امریکہ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ ہم نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونا چاہیے۔ نیز اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ خطے میں ایرانی جارحیت کو روکا جانا چاہیے۔'


امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا 'دہشت گرد گروپ، تشدد کی کارروائیاں اور خطے میں عدم استحکام خطے کے رہنے والے لاکھوں لوگوں کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔'


نیتن یاہو نے مزید کہا 'صدر ٹرمپ کی حمایت سے ہم اس کام کو ختم کر سکتے ہیں اور کریں گے۔'


انہوں نے کہا اسرائیل نے جنوبی لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو کمزور کر دیا ہے اور شام میں بھی سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔


نیتن یاہو نے کہا اگر کوئی دوسرا گروہ یہ سمجھتا ہے کہ شام کو اسرائیل کے خلاف استعمال کر سکے گا تو وہ سخت غلطی پر ہے۔


اس موقع پر نیتن یاہو نے غزہ کے لیے اسرائیلی پالیسی پر امریکی حمایت کے لیے وزیر خارجہ مارکو روبیو کا شکریہ ادا کیا اور کہا 'ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں اسرائیل نے حکمت عملی بنائی ہے۔'


انہوں نے مزید کہا 'میں ہر اس شخص کو جو ہمیں سن رہا ہے یقین دلانا چاہتا ہوں کہ صدر ٹرمپ اور ہمارے درمیان مکمل تعاون و ہم آہنگی ہے اور ہم مل کر کام کر رہے ہیں۔'


امریکی وزیر خارجہ نے کہا 'حماس حکومتی یا فوجی طاقت کے طور پر نہیں رہ سکتی۔ ایسی کوئی بھی طاقت جو حکومتی نظم و نسق کے ذریعے یا طاقت کے استعمال کے ساتھ ہو اس کے ہوتے ہوئے امن ممکن نہیں ہوتا۔'



ٹرمپ کے اعلان کے بعد بھاری بموں کی کھیپ اسرائیل پہنچ گئی

 








بائیڈن انتظامیہ کے دور میں اسرائیل کو بھاری بموں کی فراہمی معطل کرنے کے فیصلے کے بعد نئی ٹر
مپ انتظامیہ نے ان بموں کی اسرائیل کو فراہمی کا اعلان کیا تھا۔ اب اسرائیلی وزارت دفاع نے آج بھاری بموں کی کھیپ کی اسرائیل آمد کا اعلان کردیا ہے۔


وزارت نے ایک بیان میں کہاکہ امریکی حکومت کی طرف سے حال ہی میں بھیجے گئے بھاری فضائی بموں کی ایک کھیپ موصول ہوئی ہے اور اسے راتوں رات اسرائیل میں اتارا گیا ہے۔ انہوں نے ایم کے (مارک) 84 بموں کا حوالہ دیا جنہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے حال ہی میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔


اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے ٹرمپ انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بھاری بموں کی کھیپ جو ہفتے کی رات اسرائیل پہنچی اسرائیلی فضائیہ اور فوج کی صلاحیت میں ایک اہم اضافہ ہے۔ یسرائیل کاٹزنے وضاحت کی کہ یہ اسرائیلی فضائیہ اور فوج میں ایک اہم اضافہ ہے۔ میں امریکی صدر ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ کا اسرائیل کی ریاست کے لیے ثابت قدم حمایت پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔


ان بھاری بموں میں MK-84 بم شامل ہے جس کے دھماکہ خیز وزن کا تخمینہ نصف ٹن لگایا گیا ہے۔ اس بم کا رداس 365 میٹر تک ہے۔ اسرائیلی وزارت دفاع اور اسرائیلی فوج کی معلومات کے مطابق 76,000 ٹن سے زائد فوجی سازوسامان 678 پروازوں اور 129 سمندری کھیپوں میں اسرائیل پہنچا ہے۔ یہ اسرائیل کی تاریخ کا سب سے بڑا فضائی اور سمندری کھیپ کا آپریشن ہے۔



’جو اپنے ملک کو بچاتا ہے وہ قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتا‘ٹرمپ نےنپولین کا قول کیوں نقل کیا

 






امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی شہنشاہ نپولین بونا پاٹ کا ایک پیرا فریسڈ اقتباس نقل کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے گویا وہ قانون سے بالاتر ہیں۔ انہوں نے نپولین کا قول نقل کرکے اپنے خلاف تنقید کے دروازے کھول دیے۔


ٹرمپ نے ہفتے کے روز ٹویٹر پر لکھا کہ "جو اپنے ملک کو بچاتا ہے وہ کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہا ہے"۔


ٹرمپ کی پوسٹ نے ڈیموکریٹس کی طرف سے تنقید کا دروازہ کھول دیا۔کیلیفورنیا کے رکن کانگریس ایڈم شیف نے کہا کہ "وہ ایک حقیقی آمر کی طرح بولتا ہے"۔


ٹرمپ جنہوں نے صرف تین ہفتے قبل دوسری مدت کے لیے عہدہ سنبھالا تھا، اپنے طرز حکمرانی پر تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔


نپولین 1821 میں جو بحر اوقیانوس کے جزیرے سینٹ ہیلینا میں جلاوطنی میں فوت ہوا آج تک فرانسیسیوں کے درمیان وجہ نزاع ہے۔


کچھ لوگ اسے ایک اصلاح پسند شخصیت اور اہم اداروں کے بانی کے طور پر دیکھتے ہیں، جب کہ دوسرے اسے ایک آمرانہ حکمران کے طور پر دیکھتے ہوئے اس کےسیاسی خیالات کے خلاف ہیں۔


کیوں مچی بھگدڑ، سیڑھیوں پر کیا تھے حالات اور کہاں تھے ریلوے افسر؟

 





نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ کے واقعے کی تحقیقات کے لیے تشکیل شدہ دو رکنی ٹیم نے کارروائی شروع کر دی ہے۔ اتوار کی دوپہر ٹیم پلیٹ فارم نمبر 16 پر پہنچی اور حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تفصیلات جمع کیں۔ تحقیقاتی ٹیم نے ان سیڑھیوں کا بھی معائنہ کیا جہاں بھگدڑ مچی تھی۔ ٹیم نے ریلوے کے متعلقہ افسران سے بھی گفتگو کی اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ حادثے کے وقت محکمہ کے افسران کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے۔ قبل ازیں، پہلے اسٹیشن کے تمام سی سی ٹی وی کیمرے سیل کر دیے گئے تاکہ شواہد محفوظ رہیں۔


بھگدڑ کا یہ واقعہ ہفتے کی رات پیش آیا جب پلیٹ فارم نمبر 14 پر مہاکمبھ جانے والے مسافر الہ آباد (پریاگ راج) کے لیے اسپیشل ٹرین کا انتظار کر رہے تھے۔ اسی دوران پلیٹ فارم نمبر 13 پر دربھنگہ جانے والی ’سوتنترا سینانی ایکسپریس‘ کے مسافروں کی بھیڑ بھی بڑھ گئی۔ دونوں پلیٹ فارم پر مسافروں کا غیر معمولی ہجوم تھا، حتیٰ کہ کھڑے ہونے کی بھی جگہ باقی نہ رہی۔ بھیڑ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک گھنٹے میں 1500 سے زیادہ ٹکٹ فروخت ہوئے۔


مسافروں میں افراتفری اس وقت مچ گئی جب اعلان ہوا کہ پلیٹ فارم نمبر 16 پر پریاگ راج کے لیے ایک اور اسپیشل ٹرین آ رہی ہے۔ اس اعلان کے بعد پلیٹ فارم نمبر 14 پر موجود عام درجے کے ٹکٹ یافتہ مسافر پلیٹ فارم نمبر 16 کی طرف بھاگنے لگے۔



پلیٹ فارم تک پہنچنے کے لیے انہیں فٹ اوور برج عبور کرنا تھا، جہاں پہلے ہی بڑی تعداد میں لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ بھگدڑ کے دوران کئی لوگ ایک دوسرے کے نیچے دب گئے، جس کے نتیجے میں 18 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 9 خواتین، 4 مرد اور 5 بچے شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق بہار اور دہلی سے ہے۔


ریلوے انتظامیہ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ جب اسٹیشن پر ہجوم کے بڑھنے کا خدشہ تھا تو ضروری انتظامات کیوں نہیں کیے گئے۔ تحقیقاتی ٹیم نے ریلوے افسران سے یہ بھی پوچھا کہ حادثے کے وقت ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) کے اہلکاروں کی موجودگی کم کیوں تھی؟ تاہم، شمالی ریلوے کے پرنسپل چیف کمرشل مینجر نر سنگھ دیو نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔


ریل وزیر اشونی ویشنو نے واقعے کی اطلاع مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو دی اور ریلوے کے وار روم پہنچ کر اعلیٰ سطحی میٹنگ کی۔ شمالی ریلوے کے چیف پبلک ریلیشن آفیسر ہمانشو شیکھر اپادھیائے نے بتایا کہ حادثے کے وقت پلیٹ فارم نمبر 14 پر ’مگدھ ایکسپریس‘ کھڑی تھی جبکہ پلیٹ فارم نمبر 15 پر ’اتر سمپرک کرانتی‘ موجود تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مسافر سیڑھیوں سے پھسل کر گر گیا جس کے بعد پیچھے آنے والے دیگر مسافر بھی اس کی زد میں آ گئے اور بھگدڑ مچ گئی۔


واقعے کے بعد انڈین ریل نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 10 لاکھ روپے، شدید زخمیوں کو ڈھائی لاکھ روپے اور معمولی زخمیوں کو ایک لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔



بہار حکومت نے بھی مرنے والوں کے لواحقین کو 2-2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔


اس حادثے سے 17 دن پہلے بھی پریاگ راج میں ’مونی اماوسیہ‘ کے موقع پر بھگدڑ مچی تھی جس میں 30 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ اب ایک بار پھر مہاکمبھ جانے والوں کی بڑی تعداد کے باعث نئی دہلی اسٹیشن پر یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔



نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ میں 18 افراد ہلاک

 







نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ہفتہ کی رات پیش آنے والے بھگدڑ کے المناک واقعے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ حادثے کے بعد ریلوے انتظامیہ نے اسٹیشن پر سیکورٹی بڑھاتے ہوئے بھاری پولیس فورس تعینات کر دی ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔





انگریس کی ترجمان سپریہ شرینیت نے نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر پیش آئے المناک حادثے کو قتل عام قرار دیتے ہوئے ریلوے انتظامیہ اور وزیر ریلوے اشونی ویشنو پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ حکومت کی مجرمانہ لاپروائی اور ریلوے کی سنگین ناکامی کا نتیجہ ہے۔


سپریہ شرینیت نے پریس کانفرنس میں کہا، ”یہ کوئی عام حادثہ نہیں، یہ قتل عام ہے۔ آستھا اور عقیدت کے ساتھ کمبھ کی یاترا پر نکلے افراد کو انتظامیہ کی ناکامی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ حکومت کی نااہلی نے 18 قیمتی جانیں چھین لیں، جس میں 9 خواتین، 4 مرد اور 5 معصوم بچے شامل ہیں۔“


انہوں نے کہا، ”حادثے سے پہلے ہی ریلوے انتظامیہ کو اندازہ تھا کہ عقیدت مندوں کی بڑی تعداد کمبھ میں شرکت کے لیے ٹرینوں کا رخ کرے گی۔ 15 فروری کو ہر گھنٹے تقریباً 1500 جنرل ٹکٹ فروخت ہو رہے تھے لیکن اس کے باوجود بھیڑ کے کنٹرول کے لیے کوئی خاص انتظام نہیں کیا گیا۔ “



سپریہ شرینیت نے عینی شاہدین کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیشن پر خوفناک مناظر دیکھنے کو ملے۔ وہاں لوگوں کی لاشیں بے یار و مددگار پڑی تھیں، مزدوروں نے لاشوں کو اٹھا اٹھا کر باہر نکالا، اسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئی۔ لوگ اپنے پیاروں کو کھو کر بے بسی میں رو رہے تھے لیکن حکومت ان کی چیخیں سننے کو تیار نہیں۔“


انہوں نے مزید کہا کہ پلیٹ فارم کی اچانک تبدیلی کی خبروں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ یہی اصل افراتفری اور بھگدڑ کی بڑی وجہ بنی۔ اگر ریلوے کو پہلے سے علم تھا کہ عقیدت مندوں کا رش ہوگا، تو کیا حفاظتی انتظامات کیے گئے؟ کیا پولیس فورس تعینات کی گئی؟ کیا بار بار اعلانات کر کے بھیڑ کو سنبھالنے کی کوشش کی گئی؟ یا سب کچھ حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا؟


سپریہ شرینیت نے انکشاف کیا کہ حادثے کے بعد حکومت اور ریلوے انتظامیہ نے حقائق کو دبانے کے لیے میڈیا پر دباو¿ ڈالنا شروع کر دیا۔ ریلوے پولیس نے رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے فون ضبط کیے، ان کی فوٹیج زبردستی ڈیلیٹ کرائی، حتیٰ کہ خواتین صحافیوں کے شناختی کارڈ تک چھین لیے گئے۔


انہوں نے سوال کیا کہ آخر حکومت کو کس بات کا خوف ہے؟ اگر آپ نے کچھ غلط نہیں کیا تو حقائق کو چھپانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ آپ کو اپنے عوام کے سامنے سچ بولنے سے ڈر کیوں لگ رہا ہے؟




سپریہ شرینیت نے حکومت کی ترجیحات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت عام لوگوں کے لیے کچھ کرنے کو تیار نہیں ہے، بلکہ صرف اپنے قریبی دوستوں اور وی آئی پی افراد کو سہولیات فراہم کر رہی ہے۔


ایک طرف وزیر اعظم اپنے خاص دوستوں کو وی وی آئی پی ڈبکی لگوا رہے ہیں، دوسری طرف عام عقیدت مندوں کو بھیڑ میں دم گھٹ کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ایک طرف حکومت اپنے دوستوں کو ہیلی کاپٹر میں گھما رہی ہے، دوسری طرف عام عوام کو ریلوے اسٹیشن پر لاوارث چھوڑ دیا گیا۔



انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے وزیر کی بے حسی حد سے تجاوز کر چکی ہے۔ جب لوگ دم گھٹنے سے مر رہے تھے، تو وزیر ریلوے اشونی ویشنو اموات کے اعداد و شمار چھپانے میں لگے تھے۔ جب بھی کوئی ریلوے حادثہ ہوتا ہے، یہ وزیر صرف لیپا پوتی میں لگ جاتے ہیں۔ ان کا مقصد عوام کو جواب دینا نہیں، بلکہ حکومت کا دامن بچانا ہوتا ہے۔ سپریہ شرینیت نے کہا کہ یہ حکومت عام لوگوں کی جان کی پرواہ نہیں کرتی، اس لیے اب انہیں جواب دہ بنانا ہوگا۔


سپریہ شرینیت نے کہا، یہ حکومت کتنی بے حس ہو چکی ہے کہ جب لوگ بے بسی میں مر رہے تھے، تب ان کی جان بچانے کی بجائے ان کی موت کے اعداد و شمار چھپانے میں زیادہ محنت کی جا رہی تھی۔ کیا حکومت کو پہلے سے معلوم نہیں تھا کہ کمبھ کے لیے لاکھوں لوگ سفر کریں گے؟ اگر معلوم تھا تو کیا اضافی ٹرینیں چلائی گئیں؟ کیا حفاظتی انتظامات کیے گئے؟ یا سب کچھ بھگوان بھروسے چھوڑ دیا گیا؟



نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ میں مرنے والوں کے تئیں بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور سابق وزیر ریل لالو پرساد یادو نے بھی گہرے افسوس اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے وزیر ریل کو بھی اپنا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کی لاپروائی سے اتنے لوگوں کی موت ہو گئی۔ وزیر ریل کو اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔ لالو پرساد نے حادثہ میں ہلاک ہوئے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس کے بعد انہوں نے مہا کمبھ پر بھی تبصرہ کیا۔


'لائیو ہندوستان' کے مطابق میڈیا کو دیے گئے بیان میں لالو یادو نے کہا کہ بھگدڑ حادثہ بہت افسوسناک ہے۔ اس میں ریلوے کی غلتی ہے۔ ریلوے کی بدانتظامی سے اتنے سارے لوگوں کی جان چلی گئی۔ ہم واقعہ میں مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اس کا حادثہ کا مجھے کافی افسوس ہے۔ وزیر ریل اشونی ویشنو کو اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔ یہ ریلوے کا فیلور ہے۔ واضح ہو کہ لالو پرساد منموہن سنگھ کی قیادت والی حکومت میں وزیر ریل تھے اور اپنے ایکشن کو لے کر کافی سرخیوں میں رہتے تھے۔



اس سے قبل بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے بھی دہلی واقعہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے این ڈی اے کی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ سوشل میڈیا ہینڈل 'ایکس' پر پوسٹ لکھتے ہوئے تیجسوی نے کہا، "نئی دہلی اسٹیشن پر بدانتظامی اور بھگدڑ کی وجہ سے ہوئی اموات سے من پریشان ہے۔ اتنے سارے وسا?ئل کے باوجود بھگدڑ میں عقیدت مندوں کی جانیں جا رہی ہیں اور حکومت اس سمت میں توجہ نہیں دے رہی صرف اپنی تشہیر کر رہی ہے۔"


ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس حادثے کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی کے رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن ساکیت گوکھلے نے وزیر ریل اشونی ویشنو کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، ”بھگدڑ کے کئی گھنٹوں بعد تک ریلوے نے اس واقعے سے انکار کیا اور اسے محض ’افواہ‘ قرار دیا، یہ حقائق کو چھپانے کی ایک بے شرمانہ کوشش تھی۔ جب لاشیں ملنے لگیں تب جا کر اعتراف کیا گیا۔“





ٹی ایم سی کی سینئر رہنما ساگریکا گھوش نے بھی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی پہلے بھگدڑ سے انکار کرتی رہی، پھر اسے افواہ قرار دیا، پھر زخمیوں کی موجودگی تسلیم کی، اور آخر میں مجبور ہو کر اموات کا اعتراف کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”بی جے پی کی حکومت ہمیشہ ایسی ہولناک اموات کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کا یہ واقعہ بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔“


ٹی ایم سی رہنماو¿ں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ وہ فوراً اشونی ویشنو کو برطرف کریں۔ گوکھلے نے کہا، ”اگر وزیر ریل کو ذرا بھی ذمہ داری کا احساس ہے تو انہیں فوراً استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ اگر وزیر اعظم مودی کو عوام کی جانوں کی کوئی پرواہ ہے تو انہیں وزیر ریل کو فوری برطرف کرنا چاہیے۔“


حادثے کے بعد ریلوے حکام نے اسٹیشن پر سیکورٹی کے سخت اقدامات کیے ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو اس حادثے کی وجوہات کا جائزہ لے گی اور حفاظتی اقدامات میں بہتری کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔


دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر پیش آنے والے افسوسناک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ریلوے انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ناقص انتظامات کی وجہ سے پیش آیا، جس کے باعث مسافروں میں افرا تفری مچ گئی اور قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ یادو نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کی تفصیلی جانچ کرائے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد فراہم کرے۔


دیویندر یادو نے اپنے بیان میں کہا، ”یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس حادثے میں خواتین اور بچوں سمیت کئی معصوم جانیں چلی گئیں، جس سے ریلوے کے ناکافی انتظامات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ ابتدائی طور پر 18 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے لیکن جو مناظر اسٹیشن پر دیکھے گئے اور وہاں موجود افراد نے جو بیان دیا، اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔“


انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس حادثے کے اسباب کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے ریلوے کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر انتظامات مناسب ہوتے تو یہ حادثہ پیش نہ آتا۔ ان کے مطابق، ”جب عوام کو معلوم ہوا کہ حکومت کی جانب سے مفت ریل سروس فراہم کی جا رہی ہے، تو ہزاروں لوگ اسٹیشن پر پہنچ گئے لیکن وہاں کسی قسم کی مناسب حکمت عملی نہیں اپنائی گئی، جس کی وجہ سے حالات قابو سے باہر ہو گئے۔“


انہوں نے کہا، ”حکومت کی اولین ترجیح ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو مالی مدد فراہم کرنا ہونی چاہیے۔ ہم اس دکھ کی گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت فوری طور پر معاوضے کا اعلان کرے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی صورت حال پیدا نہ ہو۔“



ریلوے کے حوالے سے دیویندر یادو نے کہا کہ انتظامیہ کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ جب بھی کسی قسم کی خصوصی سروس فراہم کی جائے، تو ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے اتنی بڑی تعداد میں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اگر پہلے سے ہی کنٹرول روم قائم کیے جاتے، مسافروں کو بہتر طریقے سے منظم کیا جاتا اور ایمرجنسی اقدامات کیے جاتے، تو شاید یہ حادثہ روکا جا سکتا تھا۔“


انہوں نے ریلوے کی جانب سے تشکیل دی گئی جانچ کمیٹی پر بھی سوال اٹھائے اور کہا، ”تحقیقات کو شفاف اور غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جانچ کمیٹی میں آزاد ماہرین کو شامل کیا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔ متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔“


واضح رہے کہ ہفتہ کی رات نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ مچنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے۔ حادثے کے بعد ریلوے حکام نے دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں شمالی ریلوے کے دو سینئر افسران شامل ہیں۔ کمیٹی کو تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لینے اور واقعے کی وجوہات کا پتہ لگانے کی ہدایت دی گئی ہے۔


دریں اثنا، دہلی پولیس نے بھی واقعے کی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور اسٹیشن پر نصب کیمروں کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہجوم کس طرح قابو سے باہر ہوا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق، زخمیوں میں سے 9 کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ ہلاک شدگان میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔



حادثے میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں اور حکومت سے فوری مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔ ریلوے حکام نے کہا ہے کہ متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ تاہم، حزب اختلاف اور سماجی حلقے حکومت پر دباو¿ ڈال رہے ہیں کہ وہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کرائے اور مستقبل میں اس طرح کے حادثات کو روکنے کے لیے مو¿ثر اقدامات کرے۔











پٹنہ سیٹی میں مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد، سینکڑوں افراد مستفیض

 




پٹنہ سیٹی، 16 فروری: مقامی وارڈ 63 کے کون
سلر فیض الرحمن (فیروز بھائی) نے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے عزم کے تحت آج ایک فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا، تاکہ وارڈ کے رہائشی مستفیض ہو سکیں۔

یہ کیمپ پانیئر ہائی اسکول، کنگھیا ٹولہ، نون کا چوڑا، پٹنہ سیٹی میں میڈیکو سینٹر کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا، جس کا افتتاح کونسلر فیض الرحمن (فیروز بھائی) اور اسکول کے پرنسپل قیصر امام نے مشترکہ طور پر فیتہ کاٹ کر کیا۔

اس مفت صحت کیمپ میں شہر کے معروف ماہرینِ طب نے اپنی خدمات فراہم کیں، جن میں:


ڈاکٹر کائنات زہرا (ماہر امراضِ نسواں)



ڈاکٹر یاسر تاجدار (ماہر امراض معدہ و جگر)



ڈاکٹر فیض الرحمن (جے پور) شامل تھے۔


کیمپ میں تقریباً 200 افراد نے اپنی صحت کی جانچ کروائی، جہاں ماہر ڈاکٹروں نے انہیں ضروری مشورے دیے اور مفت ادویات بھی فراہم کیں۔



اس موقع پر پانیئر ہائی اسکول کے پرنسپل قیصر امام، سماجی کارکن ہدایت احمد، ڈاکٹر جمیل احمد، ڈاکٹر وقار عالم، محمد شہزاد بھائی، مہتاب عالم، امتیاز عالم، نوشاد عالم سمیت دیگر معززین بھی موجود تھے، جنہوں نے اس فلاحی اقدام کو سراہا اور آئندہ بھی ایسے کیمپس کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔


کونسلر فیض الرحمن (فیروز بھائی) نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کی صحت اور فلاح و بہبود کے لیے ایسے اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔


ممبئی میں فیاض احمد کا شاندار استقبال

 





ممبئی۔: بہار کے ہر دلعزیز اور سینئر سیاسی رہنما، راجیہ سبھا کے رکن فیاض احمد ان دنوں ممبئی کے دورے پر ہیں، جہاں وہ بہار اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اہالیانِ بہار سے مسلسل مشاورت میں مصروف ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ان کے استقبال میں شاندار اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت دیکھنے کو مل رہی ہے۔گزشتہ روز ناگپاڑہ کے سیف ہال میں ان کے اعزاز میں ایک خصوصی استقبالیہ اجلاس منعقد ہوا، جبکہ اتوار کے روز گوونڈی میں ایک عظیم الشان تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں تین ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں فیاض احمد کے ہمراہ ان کے بیٹے انجینئر آصف احمد بھی موجود تھے۔ 



اس موقع پر صغیرہ فاو¿نڈیشن کے روحِ رواں ابرار احمد شیخ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جب بہار اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہو جائے تو اہالیانِ بہار اسے ایک تیوہار کی طرح منائیں اور جس طرح وہ تہوار منانے کے لیے اپنے گاو¿ں کا رخ کرتے ہیں، اسی طرح انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کے لیے بھی گاو¿ں جائیں، تاکہ مسلم ووٹ فیصد میں اضافہ ہو اور سیکولر جماعتوں کی کامیابی کے امکانات روشن ہوں۔ناگپاڑہ سیف حال میں ڈاکٹر بدرالحسن بدر، نظام الدین شیخ وغیرہ شامل تھے۔


 پروگرام کو نوشادصاحب فرقان شیخ عارف شیخ ندیم شیخ نے آرگنائز کیا تھا۔ اس دورے کے دوران فیاض احمد کی ملاقاتوں کا سلسلہ ممبئی کے دیگر علاقوں میں بھی جاری ہے۔بروز اتوار 16/02/2025بعد نماز عصر، گوونڈی میں بھی ان کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جہاں بہار کے مسائل اور اسمبلی انتخابات میں مسلم ووٹوں کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مقامی رہنماو¿ں اور سماجی کارکنوں نے اس موقع پر اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا اور انتخابات میں متحد ہو کر سیکولر امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنانے کی اپیل کی۔قابلِ ذکر ہے کہ فیاض احمد کا شمار لالو پرساد یادو کی پارٹی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سینئر رہنماو¿ں میں ہوتا ہے۔ وہ بسفی بلاک اسمبلی حلقے سے کئی بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں اور فی الحال راجیہ سبھا کے رکن ہیں۔ مدھوبنی میں ان کے زیر انتظام کئی تعلیمی ادارے، اسپتال اور فلاحی مراکز قائم ہیں، جہاں سے لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ ان کے اس دورہ¿ ممبئی کو بہار کے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو آنے والے انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔
















ورلڈ یونانی ڈے کے موقع پر طبی کولج پٹنہ میں جمع ہوئے یونانی ڈاکٹرس

 





پٹنہ (پریس ریلیز) ڈاکٹر محمد شفاعت کریم، سابق جنرل سکریٹری، ایسوسی ایشن آف یونانی فزیشین، بہار نے پریس اعلانیہ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آج مورخہ16 فروری کو پٹنہ کے گورنمنٹ طبی کالج کے اجمل خاں آڈیٹوریم میں ایک روزہ سی ایم ای کا انعقاد کیا گیا ۔ ہر سال ۱۱ فروری کو اجمل خاں کی یوم پیدائش کے موقع پر ورلڈ یونانی ڈے منایا جاتا ہے۔ امسال ایسوسی ایشن آف یونانی فزیشین بہار نے گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ کے اشتراک سے یک روزہ سی ایم ای کا انعقاد کیا۔ اس پروگرام کی صدارت کالج ہذا کے پرنسپل، پروفیسر (ڈاکٹر) محمد محفوظ الرحمن نے کی۔ پرنسپل موصوف نے ڈاکٹروں سے خطاب میں کہا کہ یونانی ڈاکٹروں کو مسلسل اپنے تحریر کے ذریعہ عوام کے درمیان رہنا چاہئے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ورلڈ یونانی ڈے کے موقع پر ہم علاج کو ریسرچ کے پہلو سے گزار کر ہی اجمل خان کو سہی معنوں میں خراج عقیدت پیش کرسکتے ہیں ۔ پروگرام میں پھلواری شریف پٹنہ کے ایم ایل اے جناب کو پال روی داس مہمان خصوصی کے طور پر شامل ہوئے۔ انہوں نے سامعین سے فرمایا کہ میں جب چھوٹا تھا تو بچپن میں علاج کے لئے حکیم اورویدہی ہوا کرتے تھے اور ہم سب ان کی خدمت لے کر ہی بڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ طبی کالج پٹنہ آزادی سے قبل کا ادارہ ہے اور آج تک کوئی دوسرا سرکاری طبی کالج کا قیام نہ ہو سکا۔ میری کوشش ہوگی کہ میں حکومت بہار تک آپ کی آواز پہنچاﺅں اور دو مزید سرکاری طبی کالج کے قیام کی مانگ رکھوں گا۔ امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھار کھنڈ کے ناظم جناب محمد شبلی القاسمی نے مہمان اعزازی کے طور پر شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ ڈاکٹروں کو اپنے تجربات اور امراض سے تحفظ کے لحاظ سے مختلف روزنامے میں اپنے عنوان شائع کرانے چاہیئے، یہی آپ کو شناخت دلائے گی۔ ڈاکٹر انظار عالم، اسسٹنٹ پروفیسر جامعہ ہمدرد یونیورسیٹی دہلی خصوصی طور پر مدعو تھے جنہوں نے جلدی امراض میں سے برص کے عنوان پر ایک مقالہ پڑھا۔ انہوں نے بتایا کہ جلدی امراض میں سے برص ایسا مرض ہے جسے یونانی دواﺅں سے بآسانی ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔

یونانی حکماء زمانہ قدیم سے اس طرح کے مرض کا علاج کرتے آئے ہیں لیکن موجودہ دور میں ریسرچ کے ساتھ علاج کرنے کی ضرورت ہے۔ پروگرام میں موجود پروفیسر سید فضل اللہ قادری نے بتایا کہ میں نے 1992 میں مجلہ طبیب کو دوبارہ سے شائع کرایا تھا۔ اور ان دنوں ایک سال کے اندر دوسرے شمارے کی اشاعت قابل تعریف ہے۔ آپ لوگ لکھیئے ، اس سے آپ کی پہچان بنے گی۔ ڈاکٹر نیلو یادو، بدھا کینسر سینٹر پٹنہ کی مشہور گائنوکولا جسٹ نے بھی عوام کو خطاب کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بہار پہلا صوبہ ہے جہاں ایچ پی وی ویکسین لڑکیوں کو فراہم کرائی گئی ہے اس ویکسین سے عورتوں میں سروائیکل کینسر ہونے کے امکانات اتم درجے تک کم ہو جاتے ہیں۔ آپ سب ڈاکٹروں کو معلوم ہونا چاہیئے اور اپنے مریضوں کو اس ویکسین کے لینے کے لئے راغب کرنا چاہئے۔ جلدی امراض کے موضوع پر ڈاکٹر سلطانہ انجم کا بھی خطاب تھا، محترمہ انجم طبی کالج سے طلباءرہی اور امراض جلد و تزینیات شعبہ کی پہلی ایم ڈی ہیں۔ انہوں نے جلدی امراض سے تحفظ کے لئے اٹھائے جانے والی تدابیر پر روشنی ڈالی۔ بتاتا چلوں کہ اتنے بڑے پروگرام کی ذمہ دو مضبوط کندھوں پر تھی، ڈرمیٹ پروگرام کے صدر ڈاکٹر ندیم اختر اور سکریٹری اشرف جلال نے اس پورے پروگرام کو خوبصورتی سے انجام تک پہنچایا۔ اس پروگرام میں سلفیہ یونانی میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر محمد سلیمان صاحب ذوالفقار حیدر یونانی میڈیکل کے نائب صدر ڈاکٹر مختار صاحب بھی موجود تھے۔ مجلس میں ڈاکٹر محمد تنویر عالم، شعبہ صدر، کلیات، ڈاکٹر شمیم اختر، شعبہ صدر ما ہیئت الامراض ، ڈاکٹر ھمایوں سیم ، ڈاکٹر توصیف احمد، ڈاکٹر سرور خان، ڈاکٹر محفوظ عالم، ڈاکٹر امتیاز احمد کے علاوہ 300 سے زائد یونانی ڈاکٹر بہار کے مختلف صوبے سے اس پروگرام میں شامل ہوئے۔ بہار کے یو نیورسٹی میں سے دونوں یونیورسٹی سے ٹاپ نمبرات لانے والے طلباءکو مومینٹو دیگر اعزاز دیا گیا۔ آخر میں منتظمین میں شامل سبھی کارکنان کو مومنٹو دیکر حوصلہ افزائی کی گئی۔ اس پروگرام میں ایسوسی ایشن آف یونانی فزیشین بہار کے جنرل سکریٹری نے جملہ تشکر ادا کیا اور اس کے ساتھ ہی اپنے عہدے سے استعفی دینے کا اعلان کر دیا۔



Saturday, 15 February 2025

غزہ کے مستقبل پر عرب ممالک کا مؤقف: ٹرمپ کے منصوبے کو مسترد، حقیقت پسندانہ حکمت عملی پر کام جاری

 




مشرق وسطیٰ میں نیا بحران یا پائیدار حل؟

غزہ، فلسطین: عرب ممالک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازعہ منصوبے کے مقابلے میں غزہ کے مستقبل کے لیے ایک حقیقت پسندانہ حکمت عملی وضع کرنے میں مصروف ہیں۔ ٹرمپ کے مجوزہ پلان میں غزہ پر امریکی کنٹرول، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور انہیں مصر و اردن منتقل کرنے کی تجویز شامل تھی، جس نے عرب ممالک سمیت عالمی برادری میں شدید غم و غصے کو جنم دیا۔

ٹرمپ پلان اور عرب دنیا کا ردعمل

ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ غزہ کو "رویرا" طرز کے پرتعیش واٹر فرنٹ میں تبدیل کیا جائے گا اور فلسطینیوں کو مصر اور اردن میں آباد کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، مصر اور اردن نے اس منصوبے کو واضح طور پر مسترد کر دیا اور اسے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا۔

غزہ تنازع پر پیش کیے گئے امن منصوبے: تاریخی پس منظر

1967 کی جنگ کے بعد سے فلسطین-اسرائیل تنازع کے حل کے لیے آٹھ سے زائد امن منصوبے سامنے آ چکے ہیں، جن میں چند درج ذیل ہیں:

اقوام متحدہ کی قرارداد 242 (1967): اسرائیل کو فلسطینی سرزمین سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا گیا۔
کیمپ ڈیوڈ معاہدہ (1978): اسرائیل نے سیناء سے انخلا پر رضامندی ظاہر کی۔
اوسلو معاہدہ (1993-1995): اسرائیل اور تنظیم آزادی فلسطین (PLO) کے درمیان پہلا معاہدہ۔
عرب امن منصوبہ (2002): سعودی عرب کی قیادت میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بدلے اسرائیل سے مکمل انخلا کا مطالبہ۔
ابراہیم معاہدہ (2020): اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔

کیا نیا عرب منصوبہ غزہ کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے؟

عرب ممالک ایک ایسا منصوبہ تشکیل دینے کے لیے کوشاں ہیں جو نہ صرف غزہ کے فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ کرے بلکہ علاقائی استحکام اور پائیدار امن کی بنیاد رکھے۔

سعودی عرب، مصر، اردن اور دیگر عرب ممالک اس منصوبے پر متفق ہیں کہ:

    • فلسطینیوں کی جبری بے دخلی قبول نہیں کی جائے گی۔
    • غزہ کی تعمیر نو کے لیے عالمی سطح پر فنڈنگ اکٹھی کی جائے گی۔
    • امریکہ اور اسرائیل کو مذاکرات کے ذریعے قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ وہ متنازعہ منصوبے سے دستبردار ہو جائیں۔

عرب دنیا کا پیغام: فلسطینیوں کے حق میں عملی اقدامات ناگزیر

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران، عرب ممالک ایک مشترکہ حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں تاکہ فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کا سفارتی اور سیاسی سطح پر مقابلہ کیا جا سکے۔

نتیجہ: کیا فلسطین میں پائیدار امن ممکن ہے؟

یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکی انتظامیہ اور اسرائیل عرب دنیا کے اس نئے امن منصوبے پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔ تاہم، ایک بات واضح ہے:
🌍 فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے جبری بے دخل کرنے کا کوئی بھی منصوبہ عالمی سطح پر کامیاب نہیں ہوگا۔


سعودی شہزادہ ترکی الفیصل کا دوٹوک مؤقف: غزہ سے جبری انخلاء مسترد، مارشل پلان کا مطالبہ

 




میونخ:
سعودی عرب کے شہزادہ ترکی الفیصل نے فلسطینیوں کے جبری انخلاء اور انہیں مصر و اردن منتقل کرنے کے امریکی منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے غزہ کی تباہ حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی قیادت سے مارشل پلان طرز پر تعمیر نو کا مطالبہ کیا۔

میونخ سکیورٹی کانفرنس میں خطاب کے دوران شہزادہ ترکی الفیصل نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے فلسطینیوں کی جبری ہجرت کے منصوبے کو ناقابلِ قبول اور غیر عملی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر رہنے کا حق حاصل ہے اور بین الاقوامی برادری کو غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری اور انسانی بحران کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔

مارشل پلان: غزہ کے لیے پائیدار حل؟

سعودی شہزادے نے دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کے لیے امریکی مارشل پلان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے یورپ کو دوبارہ تعمیر کیا، لیکن فلسطینیوں کو ان کے ہی گھروں سے بےدخل کرنے کی حمایت کر رہا ہے۔

"امریکہ نے یورپ کے شہریوں کو وہاں سے نہیں نکالا تھا، تو فلسطینیوں کو ان کے زیتون کے باغات اور زمینوں سے کیوں بےدخل کیا جا رہا ہے؟" – شہزادہ ترکی الفیصل

ٹرمپ کے متنازعہ منصوبے پر عرب ممالک کا ردعمل

ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں غزہ کو 'رویرا' نامی لگژری واٹر فرنٹ میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا اور تجویز دی تھی کہ فلسطینیوں کو مصر یا اردن منتقل کر دیا جائے۔ تاہم، مصر اور اردن نے اس منصوبے کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔

امریکہ کو فلسطینی نقصان کا اعتراف کرنا ہوگا

شہزادہ ترکی الفیصل نے امریکہ کی اسرائیل کو مسلسل عسکری مدد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی ہلاکتوں میں اضافے کی براہِ راست ذمہ داری امریکہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔

"امریکہ کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ اسرائیلی جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیار امریکہ کے فراہم کردہ ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو امن ممکن نہیں ہوگا۔" – شہزادہ ترکی الفیصل

اسرائیلی بمباری اور فلسطینیوں کی ہلاکتیں

48,100 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ بمباری رکنے کے باوجود، بےگھر فلسطینی ملبے سے لاشیں نکالنے میں مصروف ہیں، جس سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

کیا سعودی عرب فلسطین مسئلے میں ثالثی کر سکتا ہے؟

انٹرویو کے دوران جب میزبان نے سوال کیا کہ کیا سعودی عرب فلسطینی تنازع کے حل میں ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے؟ تو شہزادہ ترکی الفیصل نے مثبت اشارہ دیتے ہوئے کہا، "کیوں نہیں؟"

 فلسطین میں امن کا مستقبل کیا ہوگا؟

سعودی عرب نے واضح کر دیا ہے کہ فلسطینیوں کو زبردستی ان کی زمینوں سے بےدخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ غزہ کے لیے ایک نئے مارشل پلان کی تجویز، فلسطین کے مستقبل کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔