Sunday, 16 February 2025

ورلڈ یونانی ڈے کے موقع پر طبی کولج پٹنہ میں جمع ہوئے یونانی ڈاکٹرس

 





پٹنہ (پریس ریلیز) ڈاکٹر محمد شفاعت کریم، سابق جنرل سکریٹری، ایسوسی ایشن آف یونانی فزیشین، بہار نے پریس اعلانیہ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آج مورخہ16 فروری کو پٹنہ کے گورنمنٹ طبی کالج کے اجمل خاں آڈیٹوریم میں ایک روزہ سی ایم ای کا انعقاد کیا گیا ۔ ہر سال ۱۱ فروری کو اجمل خاں کی یوم پیدائش کے موقع پر ورلڈ یونانی ڈے منایا جاتا ہے۔ امسال ایسوسی ایشن آف یونانی فزیشین بہار نے گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ کے اشتراک سے یک روزہ سی ایم ای کا انعقاد کیا۔ اس پروگرام کی صدارت کالج ہذا کے پرنسپل، پروفیسر (ڈاکٹر) محمد محفوظ الرحمن نے کی۔ پرنسپل موصوف نے ڈاکٹروں سے خطاب میں کہا کہ یونانی ڈاکٹروں کو مسلسل اپنے تحریر کے ذریعہ عوام کے درمیان رہنا چاہئے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ورلڈ یونانی ڈے کے موقع پر ہم علاج کو ریسرچ کے پہلو سے گزار کر ہی اجمل خان کو سہی معنوں میں خراج عقیدت پیش کرسکتے ہیں ۔ پروگرام میں پھلواری شریف پٹنہ کے ایم ایل اے جناب کو پال روی داس مہمان خصوصی کے طور پر شامل ہوئے۔ انہوں نے سامعین سے فرمایا کہ میں جب چھوٹا تھا تو بچپن میں علاج کے لئے حکیم اورویدہی ہوا کرتے تھے اور ہم سب ان کی خدمت لے کر ہی بڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ طبی کالج پٹنہ آزادی سے قبل کا ادارہ ہے اور آج تک کوئی دوسرا سرکاری طبی کالج کا قیام نہ ہو سکا۔ میری کوشش ہوگی کہ میں حکومت بہار تک آپ کی آواز پہنچاﺅں اور دو مزید سرکاری طبی کالج کے قیام کی مانگ رکھوں گا۔ امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھار کھنڈ کے ناظم جناب محمد شبلی القاسمی نے مہمان اعزازی کے طور پر شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ ڈاکٹروں کو اپنے تجربات اور امراض سے تحفظ کے لحاظ سے مختلف روزنامے میں اپنے عنوان شائع کرانے چاہیئے، یہی آپ کو شناخت دلائے گی۔ ڈاکٹر انظار عالم، اسسٹنٹ پروفیسر جامعہ ہمدرد یونیورسیٹی دہلی خصوصی طور پر مدعو تھے جنہوں نے جلدی امراض میں سے برص کے عنوان پر ایک مقالہ پڑھا۔ انہوں نے بتایا کہ جلدی امراض میں سے برص ایسا مرض ہے جسے یونانی دواﺅں سے بآسانی ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔

یونانی حکماء زمانہ قدیم سے اس طرح کے مرض کا علاج کرتے آئے ہیں لیکن موجودہ دور میں ریسرچ کے ساتھ علاج کرنے کی ضرورت ہے۔ پروگرام میں موجود پروفیسر سید فضل اللہ قادری نے بتایا کہ میں نے 1992 میں مجلہ طبیب کو دوبارہ سے شائع کرایا تھا۔ اور ان دنوں ایک سال کے اندر دوسرے شمارے کی اشاعت قابل تعریف ہے۔ آپ لوگ لکھیئے ، اس سے آپ کی پہچان بنے گی۔ ڈاکٹر نیلو یادو، بدھا کینسر سینٹر پٹنہ کی مشہور گائنوکولا جسٹ نے بھی عوام کو خطاب کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بہار پہلا صوبہ ہے جہاں ایچ پی وی ویکسین لڑکیوں کو فراہم کرائی گئی ہے اس ویکسین سے عورتوں میں سروائیکل کینسر ہونے کے امکانات اتم درجے تک کم ہو جاتے ہیں۔ آپ سب ڈاکٹروں کو معلوم ہونا چاہیئے اور اپنے مریضوں کو اس ویکسین کے لینے کے لئے راغب کرنا چاہئے۔ جلدی امراض کے موضوع پر ڈاکٹر سلطانہ انجم کا بھی خطاب تھا، محترمہ انجم طبی کالج سے طلباءرہی اور امراض جلد و تزینیات شعبہ کی پہلی ایم ڈی ہیں۔ انہوں نے جلدی امراض سے تحفظ کے لئے اٹھائے جانے والی تدابیر پر روشنی ڈالی۔ بتاتا چلوں کہ اتنے بڑے پروگرام کی ذمہ دو مضبوط کندھوں پر تھی، ڈرمیٹ پروگرام کے صدر ڈاکٹر ندیم اختر اور سکریٹری اشرف جلال نے اس پورے پروگرام کو خوبصورتی سے انجام تک پہنچایا۔ اس پروگرام میں سلفیہ یونانی میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر محمد سلیمان صاحب ذوالفقار حیدر یونانی میڈیکل کے نائب صدر ڈاکٹر مختار صاحب بھی موجود تھے۔ مجلس میں ڈاکٹر محمد تنویر عالم، شعبہ صدر، کلیات، ڈاکٹر شمیم اختر، شعبہ صدر ما ہیئت الامراض ، ڈاکٹر ھمایوں سیم ، ڈاکٹر توصیف احمد، ڈاکٹر سرور خان، ڈاکٹر محفوظ عالم، ڈاکٹر امتیاز احمد کے علاوہ 300 سے زائد یونانی ڈاکٹر بہار کے مختلف صوبے سے اس پروگرام میں شامل ہوئے۔ بہار کے یو نیورسٹی میں سے دونوں یونیورسٹی سے ٹاپ نمبرات لانے والے طلباءکو مومینٹو دیگر اعزاز دیا گیا۔ آخر میں منتظمین میں شامل سبھی کارکنان کو مومنٹو دیکر حوصلہ افزائی کی گئی۔ اس پروگرام میں ایسوسی ایشن آف یونانی فزیشین بہار کے جنرل سکریٹری نے جملہ تشکر ادا کیا اور اس کے ساتھ ہی اپنے عہدے سے استعفی دینے کا اعلان کر دیا۔



Saturday, 15 February 2025

غزہ کے مستقبل پر عرب ممالک کا مؤقف: ٹرمپ کے منصوبے کو مسترد، حقیقت پسندانہ حکمت عملی پر کام جاری

 




مشرق وسطیٰ میں نیا بحران یا پائیدار حل؟

غزہ، فلسطین: عرب ممالک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازعہ منصوبے کے مقابلے میں غزہ کے مستقبل کے لیے ایک حقیقت پسندانہ حکمت عملی وضع کرنے میں مصروف ہیں۔ ٹرمپ کے مجوزہ پلان میں غزہ پر امریکی کنٹرول، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور انہیں مصر و اردن منتقل کرنے کی تجویز شامل تھی، جس نے عرب ممالک سمیت عالمی برادری میں شدید غم و غصے کو جنم دیا۔

ٹرمپ پلان اور عرب دنیا کا ردعمل

ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ غزہ کو "رویرا" طرز کے پرتعیش واٹر فرنٹ میں تبدیل کیا جائے گا اور فلسطینیوں کو مصر اور اردن میں آباد کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، مصر اور اردن نے اس منصوبے کو واضح طور پر مسترد کر دیا اور اسے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا۔

غزہ تنازع پر پیش کیے گئے امن منصوبے: تاریخی پس منظر

1967 کی جنگ کے بعد سے فلسطین-اسرائیل تنازع کے حل کے لیے آٹھ سے زائد امن منصوبے سامنے آ چکے ہیں، جن میں چند درج ذیل ہیں:

اقوام متحدہ کی قرارداد 242 (1967): اسرائیل کو فلسطینی سرزمین سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا گیا۔
کیمپ ڈیوڈ معاہدہ (1978): اسرائیل نے سیناء سے انخلا پر رضامندی ظاہر کی۔
اوسلو معاہدہ (1993-1995): اسرائیل اور تنظیم آزادی فلسطین (PLO) کے درمیان پہلا معاہدہ۔
عرب امن منصوبہ (2002): سعودی عرب کی قیادت میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بدلے اسرائیل سے مکمل انخلا کا مطالبہ۔
ابراہیم معاہدہ (2020): اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔

کیا نیا عرب منصوبہ غزہ کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے؟

عرب ممالک ایک ایسا منصوبہ تشکیل دینے کے لیے کوشاں ہیں جو نہ صرف غزہ کے فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ کرے بلکہ علاقائی استحکام اور پائیدار امن کی بنیاد رکھے۔

سعودی عرب، مصر، اردن اور دیگر عرب ممالک اس منصوبے پر متفق ہیں کہ:

    • فلسطینیوں کی جبری بے دخلی قبول نہیں کی جائے گی۔
    • غزہ کی تعمیر نو کے لیے عالمی سطح پر فنڈنگ اکٹھی کی جائے گی۔
    • امریکہ اور اسرائیل کو مذاکرات کے ذریعے قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ وہ متنازعہ منصوبے سے دستبردار ہو جائیں۔

عرب دنیا کا پیغام: فلسطینیوں کے حق میں عملی اقدامات ناگزیر

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران، عرب ممالک ایک مشترکہ حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں تاکہ فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کا سفارتی اور سیاسی سطح پر مقابلہ کیا جا سکے۔

نتیجہ: کیا فلسطین میں پائیدار امن ممکن ہے؟

یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکی انتظامیہ اور اسرائیل عرب دنیا کے اس نئے امن منصوبے پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔ تاہم، ایک بات واضح ہے:
🌍 فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے جبری بے دخل کرنے کا کوئی بھی منصوبہ عالمی سطح پر کامیاب نہیں ہوگا۔


سعودی شہزادہ ترکی الفیصل کا دوٹوک مؤقف: غزہ سے جبری انخلاء مسترد، مارشل پلان کا مطالبہ

 




میونخ:
سعودی عرب کے شہزادہ ترکی الفیصل نے فلسطینیوں کے جبری انخلاء اور انہیں مصر و اردن منتقل کرنے کے امریکی منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے غزہ کی تباہ حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی قیادت سے مارشل پلان طرز پر تعمیر نو کا مطالبہ کیا۔

میونخ سکیورٹی کانفرنس میں خطاب کے دوران شہزادہ ترکی الفیصل نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے فلسطینیوں کی جبری ہجرت کے منصوبے کو ناقابلِ قبول اور غیر عملی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر رہنے کا حق حاصل ہے اور بین الاقوامی برادری کو غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری اور انسانی بحران کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔

مارشل پلان: غزہ کے لیے پائیدار حل؟

سعودی شہزادے نے دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کے لیے امریکی مارشل پلان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے یورپ کو دوبارہ تعمیر کیا، لیکن فلسطینیوں کو ان کے ہی گھروں سے بےدخل کرنے کی حمایت کر رہا ہے۔

"امریکہ نے یورپ کے شہریوں کو وہاں سے نہیں نکالا تھا، تو فلسطینیوں کو ان کے زیتون کے باغات اور زمینوں سے کیوں بےدخل کیا جا رہا ہے؟" – شہزادہ ترکی الفیصل

ٹرمپ کے متنازعہ منصوبے پر عرب ممالک کا ردعمل

ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں غزہ کو 'رویرا' نامی لگژری واٹر فرنٹ میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا اور تجویز دی تھی کہ فلسطینیوں کو مصر یا اردن منتقل کر دیا جائے۔ تاہم، مصر اور اردن نے اس منصوبے کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔

امریکہ کو فلسطینی نقصان کا اعتراف کرنا ہوگا

شہزادہ ترکی الفیصل نے امریکہ کی اسرائیل کو مسلسل عسکری مدد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی ہلاکتوں میں اضافے کی براہِ راست ذمہ داری امریکہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔

"امریکہ کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ اسرائیلی جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیار امریکہ کے فراہم کردہ ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو امن ممکن نہیں ہوگا۔" – شہزادہ ترکی الفیصل

اسرائیلی بمباری اور فلسطینیوں کی ہلاکتیں

48,100 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ بمباری رکنے کے باوجود، بےگھر فلسطینی ملبے سے لاشیں نکالنے میں مصروف ہیں، جس سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

کیا سعودی عرب فلسطین مسئلے میں ثالثی کر سکتا ہے؟

انٹرویو کے دوران جب میزبان نے سوال کیا کہ کیا سعودی عرب فلسطینی تنازع کے حل میں ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے؟ تو شہزادہ ترکی الفیصل نے مثبت اشارہ دیتے ہوئے کہا، "کیوں نہیں؟"

 فلسطین میں امن کا مستقبل کیا ہوگا؟

سعودی عرب نے واضح کر دیا ہے کہ فلسطینیوں کو زبردستی ان کی زمینوں سے بےدخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ غزہ کے لیے ایک نئے مارشل پلان کی تجویز، فلسطین کے مستقبل کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

ترقی کے قافلے کو آگے بڑھانے کے لیے نتیش حکومت ضروری:اومیش سنگھ کشواہا

 





پٹنہ، 15 فروری 2025 ہفتہ کے روز کھگڑیا اور بیگوسرائے اضلاع میں این ڈی اے کارکنان کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر بہار جنتا دل (یو) کے ریاستی صدر اومیش سنگھ کشواہا نے پانچوں اتحادی جماعتوں کے تمام کارکنان کو یکجہتی کا پیغام دیا اور این ڈی اے حکومت کی تمام کامیابیوں اور ترقیاتی منصوبوں کو عوام تک پہنچانے کی اپیل کی۔ انہوں نے تنظیم کے ہر سطح پر باہمی ہم آہنگی قائم رکھنے پر بھی زور دیا۔

ریاستی صدر نے کہا کہ ترقی کا یہ قافلہ بلا رکاوٹ آگے بڑھتا رہے، اس کے لیے این ڈی اے کارکنان کو "2025 میں 225 اور پھر سے نتیش" کے اجتماعی عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی پوری طاقت جھونک دینی ہوگی۔ ہمیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑنی ہے۔ آئندہ بہار اسمبلی انتخابات ریاست کے سنہرے مستقبل کا فیصلہ کریں گے اور ترقی کی نئی راہیں کھولیں گے۔

اومیش کشواہا نے کہا کہ معزز وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی دور اندیشی اور قابل قیادت کی بدولت بہار آج خوشحالی، امن اور ہمہ جہت ترقی کی علامت بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے انصاف کے ساتھ ترقی کے نعرے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے محروم اور پسماندہ طبقات کی ترقی کو یقینی بنایا ہے۔ ان کا واضح مو¿قف ہے کہ بہار کو اس بلندی پر لے جانا ہے جہاں سے اسے کوئی نیچے نہ کھینچ سکے۔

ریاستی صدر نے کہا کہ مایوس اور شکست خوردہ اپوزیشن جھوٹ کے سہارے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن ہمیں ان کے منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت ہونے کی وجہ سے بہار کی ترقی کو نئی رفتار ملی ہے۔ ریاست کے ہمہ جہت ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکزی بجٹ میں بہار کے لیے کئی اہم اعلانات کیے گئے ہیں، جس کا فائدہ ریاست کے 14 کروڑ عوام کو پہنچے گا۔

اس موقع پر بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر دلیپ جیسوال، ہم (سیکولر) کے ریاستی صدر ڈاکٹر انیل کمار، لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے ریاستی صدر راجو تیواری، راشٹریہ لوک سمتا پارٹی کے قائم مقام ریاستی صدر مدن چودھری، معزز وزیر سریندر مہتا، معزز ایم ایل اے سنجیو کمار، معزز ایم ایل اے پنّا لال سنگھ پٹیل، این ڈی اے کے ریاستی پروگرام کوآرڈینیٹر اور جے ڈی (یو) کے ریاستی جنرل سیکرٹری چندن کمار سنگھ سمیت این ڈی اے کے کئی معزز اراکینِ اسمبلی، قانون ساز کونسل کے اراکین اور سینئر رہنما موجود تھے۔


بی جے پی حکومت میں بہار میں دلتوں پر مظالم میں اضافہ: آنند مادھو

 






پٹنہ، ہفتہ، 15 فروری 2025 بی جے پی کے دورِ حکومت میں بہار میں دلتوں پر ظلم و ستم کے واقعات تیزی سے بڑھے ہیں۔ آج حالت یہ ہے کہ بہار میں دلت رکنِ پارلیمنٹ پر بھی بی جے پی اور جے ڈی یو کے غنڈے جان لیوا حملے کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ درج فہرست ذاتوں کے قومی کمیشن کے مطابق، دلتوں پر مظالم کے معاملے میں سرفہرست چاروں ریاستیں بی جے پی کے زیرِ حکومت ہیں۔ یہ باتیں بہار کانگریس کے ترجمان اور ریسرچ ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین آنند مادھو نے کہیں۔

آنند مادھو نے کہا کہ سال 2018-19 کے دوران ملک میں دلتوں پر مظالم کے 1.3 لاکھ واقعات درج ہوئے، جن میں سب سے زیادہ معاملات اتر پردیش اور بہار میں تھے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے اپنی حکومت والی ریاستوں میں دلتوں پر ظلم و جبر کو فروغ دیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 18 فروری کو جب درج فہرست ذاتوں کے قومی کمیشن کے چیئرمین رام شنکر کٹھریا نے بہار میں دلتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم پر تشویش کا اظہار کیا تھا، تو انہوں نے کہا تھا کہ ملک میں دلتوں پر مظالم کی شرح 21 فیصد ہے، جبکہ بہار میں یہ شرح 42 فیصد ہے۔

2015 سے ہر سال دلتوں پر مظالم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ 2018 میں دلتوں پر ظلم و ستم کے 42,792 واقعات درج ہوئے، جبکہ 2019 میں یہ تعداد بڑھ کر 45,935 ہو گئی، جن میں 3,486 عصمت دری کے کیس شامل تھے۔ دلتوں پر حملوں میں مجرموں کو سزا دلانے کی شرح 2018 میں 42 فیصد تھی، جو 2022 میں گھٹ کر 34 فیصد رہ گئی۔ حال ہی میں نوادہ ضلع میں دلتوں کے 80 گھروں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔

دلتوں کے حق میں بولنے والے وزیر اعظم نریندر مودی دلتوں کے پاو¿ں دھونے کا ڈرامہ تو کرتے رہے، لیکن ان ہی کے دورِ حکومت میں اور ان کے زیرِ انتظام ریاستی حکومتوں میں دلتوں پر مظالم میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ اس کے باوجود "فوٹو جیوی" وزیر اعظم نے اس پر کوئی مو¿ثر قدم نہیں اٹھایا۔

سچ تو یہ ہے کہ بہار میں "ڈبل انجن کی حکومت" نہیں، بلکہ "مہا جنگل راج" قائم ہے!


مودی-نتیش کی مشترکہ ٹھگی کا شکار ہے بہار: ڈاکٹر اکھیلیش

 





پٹنہ، 15 فروری 2025 وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی ملی بھگت سے بہار مسلسل پریشانی میں مبتلا رہا ہے۔ ان کی ٹھگی کا انداز بھی الگ ہے۔ جب بھی نتیش کمار بی جے پی کی گود میں بیٹھتے ہیں، تو لوگوں میں امید پیدا ہو جاتی ہے کہ شاید اب بہار کی قسمت بدل جائے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ بہار کو یا تو خصوصی ریاست کا درجہ ملے گا یا پھر خصوصی پیکیج، لیکن نتیجہ ہمیشہ صفر نکلتا ہے۔ مودی جی نتیش بابو کو طفل تسلی دے کر خوش کر دیتے ہیں اور دونوں تالیاں پیٹنے لگتے ہیں۔ پچھلے دس سالوں سے بہار کے ساتھ یہی بھونڈا مذاق مسلسل جاری ہے۔

یہ باتیں بہار کانگریس کے صدر ڈاکٹر اکھیلیش پرساد سنگھ نے کہیں۔ وہ صداقت آشرم میں پارٹی رہنماو¿ں کے ساتھ انتخابی تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ سنا ہے کہ مودی ایک بار پھر بہار آ رہے ہیں، اور وزیر اعظم کا بہار آنا مطلب ایک نئی ٹھگی کی شروعات۔ پچھلے دس سالوں سے کانگریس سمیت تمام سیاسی جماعتیں بہار کے لیے خصوصی پیکیج اور خصوصی ریاست کے درجے کا مطالبہ زور و شور سے کر رہی ہیں، لیکن مرکزکی بی جے پی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اور بنیادی مطالبات سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے مودی حکومت مختلف چالاکیاں دکھاتی رہتی ہے، جیسے کہ بجٹ میں بہار کے لیے معمولی رقم مختص کر کے اسے بہار کا بجٹ قرار دینا۔

ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ صرف انڈیا الائنس کے اتحادی ہی خصوصی ریاست کا درجہ یا خصوصی پیکیج کا مطالبہ دہراتے رہے ہیں، بلکہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی یہی مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ان کے دل میں کیا ہے، یہ تو معلوم نہیں، کیونکہ جب ان کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا تب بھی وہ مودی کی تعریفوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ مودی اور نتیش کی ملی بھگت سے بہار کو کیا ملا؟ اگر سچ کہیں تو صرف جھوٹ، فریب اور مودی کی ٹھگی۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی کے ہر پیمانے پر بہار آج بھی آخری پائیدان پر کھڑا ہے۔ بہار آج بھی بیمار ہے، صحت، تعلیم، بے روزگاری، معاشی بدحالی، صنعتوں کا زوال، ہر طرح سے بہار بدحال ہے، پھر بھی مودی جی کو اپنی ٹھگی کے فن پر اتنا اعتماد ہے کہ وہ یہاں بار بار نئے جھوٹ کا بیوپار کرنے آ جاتے ہیں۔ لیکن اس بار مودی خود شکار بننے والے ہیں۔


بہار کے کھلاڑیوں کے لیے بڑا موقع: بہار کرکٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے "بہار دیہی لیگ" کا انعقاد

 





سیوان( پریس ریلیز )تاریخ: 15 فروری 2025 بہار کرکٹ ایسوسی ایشن (BCA) بہار کے کھلاڑیوں کے لیے اب تک کا سب سے بڑا موقع فراہم کرنے جا رہی ہے۔ اس اقدام سے کھلاڑیوں کو اپنے مستقبل کو سنوارنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور خود کو کرکٹ کی دنیا میں ایک مقام دلانے کا بہترین موقع ملے گا۔ بہار کرکٹ ایسوسی ایشن ریاست کے تمام اضلاع میں "بہار دیہی لیگ" کا انعقاد کرنے جا رہی ہے۔

اس لیگ کے حوالے سے آج سیوان کے پرکاش ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں بہار دیہی لیگ کے مینٹر گیانیشور گوتم اور ضلع کرکٹ ایسوسی ایشن کے تمام عہدیداران موجود تھے۔ گیانیشور گوتم نے بتایا کہ بہار کے تمام اضلاع کے ایسے کھلاڑی جو ابھی تک کسی پروفیشنل کرکٹ ٹیم سے نہیں جڑے ہیں، انہیں اس لیگ میں شرکت کا موقع دیا جائے گا۔

سیوان ضلع کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر اجے تیواری نے پریس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیوان کے ان باصلاحیت کھلاڑیوں کے لیے، جنہیں ابھی تک ضلع کرکٹ ایسوسی ایشن میں کھیلنے کا موقع نہیں ملا، یہ لیگ ایک سنہری موقع ہے۔ اس کے ذریعے گاو¿ں میں چھپی ہوئی کرکٹ کی صلاحیتوں کو بلاک، پنچایت، اسکول اور کالج کی سطح پر تلاش کیا جائے گا اور انہیں کھیل کی مرکزی دھارے سے جوڑنے کا موقع دیا جائے گا۔

مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے سیوان کرکٹ ایسوسی ایشن کے سیکریٹری نندن سنگھ نے بتایا کہ اس لیگ میں 13 سال سے زیادہ اور 23 سال تک کے کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے گا۔ جو کھلاڑی اس ٹورنامنٹ میں بہتر کارکردگی دکھائیں گے، انہیں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ مستقبل میں بہار اور ملک کی نمائندگی کر سکیں۔دیہی کرکٹ لیگ میں رجسٹریشن مکمل طور پر مفت ہوگا۔کھلاڑیوں سے کسی بھی قسم کی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ہر ضلع میں بلاک سطح پر 16 ٹیمیں بنائی جائیں گی جو ناک آو¿ٹ سسٹم کے تحت ایک دوسرے کے خلاف کھیلیں گی۔ان 16 ٹیموں میں سے آگے چل کر سیوان کے لیے ایک حتمی ٹیم بنائی جائے گی۔کھلاڑیوں کے کھیلنے کے تمام اخراجات ضلع کرکٹ ایسوسی ایشن سیوان اور بہار کرکٹ ایسوسی ایشن برداشت کرے گی۔رجسٹریشن فارم سیوان کرکٹ ایسوسی ایشن کے دفتر سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔مزید معلومات کے لیے موبائل نمبر 7903384454 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔بہت جلد اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے ضلع کرکٹ ایسوسی ایشن میچ کی تاریخوں اور مقامات کا اعلان کرے گی۔ اس پریس کانفرنس میں بہار دیہی لیگ کے مینٹر گیانیشور گوتم، سیوان کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر اجے کمار تیواری، سیکریٹری نندن سنگھ اور خزانچی فیاض خان موجود تھے۔

تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں، طلبہ پارامیڈیکل میں اپنا مستقبل سنوار سکتے ہیں: شاہد اطہر

 




بیگو سرائے:
متھلا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے ڈائریکٹر شاہد اطہر ایڈووکٹ نے کہا کہ بچے اور بچیاں ہمارے مستقبل کی بنیاد ہیں، اگر انہیں درست راہ پر نہ ڈالا گیا تو قوم، سماج اور ملک کی ترقی کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔ انہوں نے تعلیمی ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علم حاصل کرنا ہر فرد کے لیے لازمی ہے۔

وہ پنچویر رہبر کوچنگ سینٹر، ضلع بیگو سرائے میں مقامی طلبہ و طالبات اور عوام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے دسویں اور بارہویں کے طلبہ کو پارامیڈیکل کے شعبے میں داخلہ لینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک روشن مستقبل کی ضمانت دے سکتا ہے۔

پارامیڈیکل میں داخلہ لے کر مستقبل سنواریں

ایڈووکٹ شاہد اطہر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دسویں اور بارہویں کے بعد طلبہ پارامیڈیکل سیکٹر میں اپنا کیریئر بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ:

  • میٹرک کے بعد تین سالہ ڈپلومہ کورس کیا جا سکتا ہے۔
  • انٹر سائنس کے بعد دو سالہ ڈپلومہ یا تین سالہ بیچلر کورس میں داخلہ لیا جا سکتا ہے۔
  • اس دوران طلبہ تعلیم کے ساتھ والدین اور سماج کی بھی خدمت کر سکتے ہیں۔

مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں

انہوں نے بتایا کہ مزید تفصیلات کے لیے انسٹیٹیوٹ سے براہ راست یا درج ذیل نمبروں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے:
6201716848, 7209148222, 9939330978

طلبہ و طالبات اخلاق و تعلیم پر توجہ دیں: مولانا افتخار قاسمی

اس موقع پر مسجد سمبھول بیگو سرائے کے امام مولانا افتخار قاسمی نے بھی خطاب کرتے ہوئے طلبہ پر زور دیا کہ وہ دینی اور دنیاوی تعلیم پر یکساں توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ قوم کا سرمایہ ہیں اور ان کے اخلاق و عادات سے ان کی تربیت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔


پروگرام کی نظامت اسکیل انڈیا بیگو سرائے کے ڈائریکٹر سید راشد اقبال نے کی۔ انہوں نے شاہد اطہر ایڈووکٹ کا پھولوں کے گلدستے، شال اور مومنٹو پیش کر کے استقبال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اگر طلبہ ان کی باتوں کو ذہن نشین کر لیں تو یہ نہ صرف ادارے بلکہ پورے علاقے کے لیے باعث فخر ہوگا۔

پروگرام سے قاری حفظ الرحمن (دارالعلوم عثمانیہ بیگو سرائے)، استاد محمد قاسم، محمد حسین اور قاری یاسر نے بھی خطاب کیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ محمد صابر رضا فیضی، جو اس وقت مسقط (سلطنت آف عمان) میں مقیم ہیں، اس سینٹر اور علاقے میں تعلیمی ترقی کے لیے مسلسل سرگرم رہتے ہیں۔

ورلڈ یونانی ڈے کے موقع پر طبی کالج پٹنہ میں جمع ہونگے بہار کے یونانی ڈاکٹر

 



پٹنہ (پریس ریلیز)ڈاکٹر محمد شفاعت کریم، جنرل سکریٹری، ایسو سی ایشن آف یونانی فزیشین، بہار نے پریس اعلانیہ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ٓاج مورخہ16 فروری کو پٹنہ کے گورنمنٹ طبی کالج کے اجمل خاں آڈیٹوریم میں ایک روزہ سی ایم ای کا انعقاد کیا گیا ہے جس کا موضوع جلدی امراض ہے۔ اس پروگرام میں بہار کے مختلف اضلاع سے یونانی ڈاکٹر مندوبین کی شکل میں شامل ہونگے۔ اس کے علاوہ بہار کے سبھی یونانی کالج کے طلباء و طالبات بڑی تعداد میں موجود رہیںگے۔پروگرام میں جلدی امراض کے موضوع پر جامعہ ہمدرد کے اسسٹنٹ پروفیسر اور یونانی سسٹم کے پہلے پی ایچ ڈی ڈاکٹر محمد انظار عالم کا لکچر ہوگا۔پٹنہ کی مشہور گائنیکو لاجسٹ ڈاکٹر نیلو یادو اورنیشنل انسٹی چیوٹ آف یونانی میڈیسین ، بنگلورکے امراض جلد و تزینیات شعبہ کی پہلی ایم ڈی ڈاکٹر سلطانہ انجم کا بھی خطاب ہوگا۔ 

بتاتا چلوں کہ2017 سے موجودہ مرکزی حکومت نے ورلڈ یونانی ڈے کا آغاز کیا تھا جو کہ حکیم اجمل خاں کے یوم پیدائش کے مناسبت سے ۱۱ فروری کو منایا جاتا ہے۔ امسال نواں ورلڈ یونانی ڈے منایا جا رہا ہے۔ ایسو سی ایشن آف یونانی فزیشین ہر سال یونانی ڈے مناتی رہی ہے اور اس سال گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے اشتراک سے کالج ہذا کے آڈیٹوریم میں ہی پروگرام کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔


Friday, 14 February 2025

پریس کانفرنس میں بیٹے کو ساتھ بٹھانے پر ایلون مسک تنقید کی زد میں – غیر روایتی انداز پر ملا جلا ردعمل

 






وائٹ ہاو¿س میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران ایلون مسک کے 4 سالہ بیٹے نے اپنی معصوم مگر شرارتی حرکات سے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کروالی۔


اس دوران وہ نہ صرف اپنے ارب پتی والد کی نقل اتارتا رہا بلکہ اوول آفس میں بیٹھے ناک بھی صاف کرتا رہا۔


پریس کانفرنس کے دوران ایلون مسک صحافیوں کے سوالات کے جوابات دینے لگے، تو ان کا بیٹا مختلف انداز بناکر والد کے کندھوں سے لپٹ کر اور گفتگو میں مداخلت کرکے ایک مزاحیہ منظر پیش کرنے لگا۔


اہم پریس کانفرنس کے دوران بیٹے کو ساتھ رکھنے پر ایلون مسک پر تنقید بھی کی گئی، ناقدین نے بچے کو کندھے پر بٹھا کر اہم امور پر گفتگو کو غیر سنجیدہ عمل قرار دے دیا۔


ایک اور موقع پر جب ایلون مسک جمہوریت پر گفتگو کر رہے تھے تو ان کے بیٹے نے ان کی نقل اتارنا شروع کر دی، جس پر انہیں لمحہ بھر کے لیے رکنا بھی پڑا۔


اس پر سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ "یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ایلون مسک کی بے ترتیب گفتگو سے زیادہ بور کون ہو رہا ہے، ٹرمپ یا مسک کا بیٹا!"


خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی ملازمین کی چھانٹی کے حکم نامے پر دستخط کر دیے، ایلون مسک وائٹ ہاو¿س میں اس ایگزیکٹو آرڈر کی دستخطی تقریب میں شرکت کے لیے آئے ہوئے تھے۔



حکومتی اخراجات میں کٹوتی کے معاملے میں ججوں کی مخالفت پر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے جج مجھے وہ کرنے دیں جس کے لیے عوام نے مجھے منتخب کیا، اگر جج کہے کہ وہ کسی عمل کا جائزہ نہیں لے سکتے تو ملک کیلئے افسوس ناک ہے۔


انہوں نے کہا کہ بہت بڑے پیمانے پر دھوکا دیا جا رہا ہے، جج ہمیں فراڈ کا پتہ چلانے سے کیسے روک سکتے ہیں؟، میں ہمیشہ عدلیہ کے فیصلے پر عمل کرتا ہوں۔


ارب پتی ایلون مسک بھی حکومتی استعداد کار سے متعلق محکمے کے دفاع میں ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔


انہوں نے کہا کہ غیر جمہوری بیوروکریسی ملک کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے محکمہ خزانہ میں ادائیگی کے نظام میں خرابیاں دور کریں گے۔


غزہ میں طبی امداد سے متعلق غلط بیانی کو صحافیوں نے جھوٹا ثابت کیا تو ایلون مسک نے کہا کہ میری کہی کچھ باتوں کو درست کیا جاسکتا ہے اور کرنا چاہیے۔


واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب مسک نے اپنے بیٹے کو کسی بڑے سیاسی لمحے کا حصہ بنایا ہو، وہ پہلے بھی ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں اسٹیج پر نظر آ چکا ہے اور الیکشن نائٹ کی براہ راست نشریات میں بھی موجود تھا۔



ایلون مسک کی بھارتی وزیراعظم سے ملاقات، کیا بڑا اعلان متوقع ہے؟






امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے نریندر مودی سے ایلون مسک کی بھی ملاقات ہوئی ہے۔ یہ ملاقات مودی اور ٹرمپ کی ملاقات سے پہلے ہوئی۔ تاہم نہیں اندازہ کیا جا سکا کہ اس ملاقات میں کن موضوعات پر تبادلہ خیال اور گفتگو کی گئی۔


البتہ نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس' پر یہ ضرور لکھا ہے کہ دونوں شخصیات نے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وہ جن کے بارے میں ایلون مسک خصوصی جذباتی رغبت رکھتے ہیں۔ ان میں خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی و پیش رفت بھی شامل ہے۔


یاد رہے ایلون مسک کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں امریکہ میں قائم کردہ ایک نئے محکمے کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ یہ نیا محکمہ حکومتی کارکردگی کو بہتر اور فعال بنانے کے لیے ہے جسے 'ڈی او جی ای' ، 'ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ افیشی اینسی' کا نام دیا گیا ہے۔


مسک نے کہا ہے کہ وہ پریقین ہیں کہ 'ٹیسلا' جلد بھارت میں ہوگی۔ اتنا جلدی کہ جتنا انسانی بس میں۔


تاہم صدر ٹرمپ کو اس بارے میں زیادہ وضاحت نہیں ہے کہ مودی اور مسک کی یہ ملاقات کس موضوع پر ہوئی ہے۔ خیال رہے دونوں کی ملاقات جمعرات کے روز ایسے وقت میں ہوئی جب مسک کے تینوں بچے بھی ملاقات میں موجود تھے۔


مودی کے ساتھ اس موقع پر ان کے اعلیٰ مشیر اور وزیر برائے خارجہ امور جے شینکر بھی موجود تھے اور قومی سلامتی کے وزیر ایجو دول بھی موجود تھے۔ گویا ایلون مسک کی طرف سے ان کے نوعمر بچوں کے مدمقابل دوسری طرف سے بھارت کے سینیئر حکام موجود تھے۔ جو اس بات کا مظہر تھا کہ ایلون مسک اس ملاقات کو رسمی سے زیادہ غیر رسمی انداز سے نتیجہ خیز بنانا چاہتے ہیں۔


بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے اداروں کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں گے۔ ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبے خاص طور پر خلائی میدان میں نئی جہتیں سامنے آئیں گی۔ مصنوعی ذہانت اور پائیدار ترقی کے علاوہ کاروبار اور سرمایہ کاری و گڈ گورننس کے امور میں دوطرفہ تعاون کا امکان بڑھے گا۔


ایلون مسک کے بھارت میں عزائم بھی کافی بلند ہیں۔ وہ اس سے پہلے اپنے آپ کو مودی کا مداح قرار دے چکے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ ان کے 'سٹارلنک' نامی مصنوعی سیارے کے ذریعے بھارت میں انٹرنیٹ کی سہولیات کا فروغ ہو اور بھارتی مارکیٹ ان کے ہاتھ میں آجائے۔


اگرچہ سٹارلنک کی لانچنگ بعض ریگولیٹری مسائل کی وجہ سے التوا میں ہے اور بعض سلامتی سے متعلق پہلو بھی اس میں تاخیر کا سبب ہیں۔ اسی طرح بھارت کے اندر سے ٹیلی کام کے بڑے ادارے جن میں امبانی گروپ بھی شامل ہے بعض رکاوٹیں پید اکیے ہوئے ہے۔


پچھلے سال ماہ نومبر میں بھارت کے ٹیلی کام کے وزیر نے کہا تھا کہ سٹارلنک کو ابھی بھارت کی سلامتی سے متعلق کئی چیزوں کو پورا کرنا ہے۔ اس لیے سٹارلنک کو لائسنس ان شرائط اور تقاضوں کو پورا کیے جانے کے بعد ہی جاری کیا جا سکے گا۔


دوسری جانب ایلون مسک بھارت میں لائسنس جاری کرنے کی پالیسی پر تنقید کر چکے ہیں۔ بعدازاں بھارتی حکومت نے اپنی پالسی میں تبدیلی کی اور یہ اعلان کیا کہ بھارتی حکومت سیٹلائٹ کے لیے نیلامی کا طریقہ اختیار نہیں کرے گی بلکہ ییہ ذمہ داری بھارتی حکومت کی طرف سے تفویض کی جائے گی۔


بھارت سیٹلائٹ براڈبینڈ کی وسیع صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت کی براڈبینڈ سیٹلائٹ سروس کی مارکیٹ مقابلے میں موجود ہے۔ مارکیٹ کو کنٹرول کرنے والی کم از کم چھ کمپنیاں امبانی ریلائنس جیﺅ سے تعلق رکھتی ہیں۔


خیال رہے امبانی گروپ کی طرف سے پچھلے سال کہا گیا تھا کہ سیٹلائٹ کی نیلامی منصفانہ مقابلے کے نتیجے میں ہونی چاہیے۔


یاد رہے مسک کا سٹارلنک کم از کم 6900 متحرک سیارچوں کے ساتھ منسلک ہے۔ جو زمین کے محور میں متحرک ہیں اور کم تاخیر کے ساتھ 4.6 ملین صارفین کو براڈبینڈ فراہم کرتا ہے۔


تاہم بھارتی شہریوں کے لیے سٹارلنک کے ذریعے ملنے والی براڈبینڈ کی خدمات مہنگی ہونا ایک تشویش کا باعث ہو سکتا ہے۔ کیونکہ وہ اس سے پہلے امبانی گروپ کی یہی خدمات کم قیمت کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں۔


بھارت کی 40 فیصد آبادی اب بھی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہے اور اس کی اس تک رسائی نہیں ہے۔ اس فاصلے کو ختم کرنے کے لیے سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ کی سہولیات کا سستا ہونا ضروری ہے۔ خاص طور پر بھارت کے دور افتادہ اور پہاڑی علاقوں میں۔


ایلون مسک کی کمپنی 'ٹیسلا' کی تیار کردہ گاڑیاں ابھی بھارت میں داخل نہیں ہو سکیں۔ حالانکہ بھارتی مارکیٹ دنیا کی گاڑیوں کی بڑی مارکیٹ میں شامل ہے۔ لیکن بھارت میں زیادہ ڈیوٹی ٹیکسز ہونے کی وجہ سے امپورٹ مشکل ہے۔


بھارت میں بجلی سے چلنے والی گاڑیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ گاڑیوں کی پچھلے سال کی فروخت میں ان کی تعداد صرف 2 فیصد سے زیادہ تھی۔ تاہم حکومت بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کو 2030 تک 30 فیصد تک لے جانا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں بھارت کی نئی پالیسی سامنے آچکی ہے۔


پرشانت کشور جی، آپ بی جے پی کی "بی ٹیم" ہیں سیاست آپ کے بس کی بات نہیں: اعجاز احمد

 






پٹنہ، 14 فروری 2025بہار پردیش راشٹریہ جنتا دل کے ترجمان اعجاز احمد نے پرشانت کشور کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تیجسوی جی کی جانب سے خواتین کو اقتصادی انصاف دینے کے نظریے سے پرشانت کشور اتنے بے چین اور گھبرائے ہوئے کیوں ہیں؟ سبھی جانتے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو جملہ بازی میں ماہر بنانے والے اور اپنی پی آر ایجنسی کی فکر کرنے والے پرشانت کشور جی، کوئی بھی بات کہنے سے پہلے یہ ضرور سمجھ لیں کہ تمام حساب کتاب کے بعد ہی تیجسوی جی نے "مائی-بہن مان یوجنا" کے تحت مہاگٹھ بندھن حکومت بننے پر خواتین کے کھاتوں میں 2500 روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی اور جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کی بے چینی تو سمجھ میں آتی ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ خواتین کے اقتصادی انصاف کے لیے ڈبل انجن حکومت نے کوئی کام نہیں کیا، اور مہنگائی کی مار سب سے زیادہ ہماری مائیں اور بہنیں جھیل رہی ہیں۔

پرشانت کشور اس طرح بے چین نظر آ رہے ہیں جیسے 2020 کے اسمبلی انتخابات کے وقت، جب تیجسوی جی نے کہا تھا کہ پہلی ہی کابینہ میٹنگ میں 10 لاکھ نوکریاں اور روزگار دیں گے۔ اس وقت وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ "پیسہ کہاں سے لاو¿ گے، باپ کے گھر سے یا جیل سے؟" لیکن تیجسوی جی نے اپنے اس عہد کو 17 مہینوں میں مہاگٹھ بندھن حکومت کے ذریعے پورا کرتے ہوئے ساڑھے 5 لاکھ نوکریاں دیں اور تقریباً 3.3 لاکھ خالی اسامیوں کو بھی چھوڑ کر گئے۔ اس سے واضح ہے کہ تیجسوی جی عمر میں نوجوان ضرور ہیں لیکن اپنے وعدے کے پکے ہیں۔

پرشانت کشور جی، آپ بی جے پی کی "بی ٹیم" ہیں اور سیاست آپ کے بس کی بات نہیں۔ آپ بی جے پی کے اشارے پر کب تک تیجسوی جی کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کرتے رہیں گے؟ آپ اپنی پی آر ایجنسی کی فکر کریں، سیاست آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔ بہار کی عوام آپ کو بخوبی جان چکی ہے اور سمجھتی ہے کہ آپ یہاں کس کے لیے سیاست کر رہے ہیں۔


Tuesday, 11 February 2025

عبدالفتتاح السیسی : غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کیے بغیر تعمیر نو کی جائے

 






مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے اسرائیلی جنگ سے تباہ ہو چکے غزہ کے بارے میں زور دے کر کہا ہے ' غزہ کی تعمیر نو فلسطینیوں کو غزہ سے جبری طور پر بے دخل کیے بغیر کی جائے۔' ان کا یہ بیان امری
کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کا فلسطینیوں کے بغیر کنٹرول سنبھال کر اس کی تعمیر نو کرنے کا اعلان کے تناظر میں آیا ہے۔


صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک امریکی پراپرٹی ٹائیکون ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اگر غزہ میں فلسطینی نہ رہیں تو سمندر سے جڑی یہ غزہ کی پٹی مشرق وسطیٰ کا ' ریویرا ' بن سکتی ہے۔


ڈونلڈ ٹرمپ نے ان بے دخل کیے جانے والے غزہ کے فلسطینیوں کو مصر اور اردن میں بسانے کا کہا ہے۔ تاہم یہ دونوں ملک اس منصوبے سے اتفاق نہیں کرتے۔


مصری وزیر خارجہ نے پیر کے روز اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی ہے، جبکہ اردن کے شاہ عبداللہ دوم ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکہ پہنچے ہیں۔


صدر السیسی کا کہنا ہے کہ اہل غزہ کو ان کی زمین سے نکالے بغیر تعمیر نو کرنے سے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی ممکن ہوگا اور وہ اپنی سرزمین پر رہ سکیں گے۔


بتایا گیا ہے کہ السیسی نے ان خیالات کا اظہار ڈنمارک کے وزیر اعظم میٹے فریڈریکسن سے فون پر گفتگو کے دوران کیا ہے۔

مصر کے صدر نے اس گفتگو کے دوران یہ بھی کہا ' فلسطینی ریاست کا قیام ہی اس امر کی پائیدار ضمانت بن سکتا ہے کہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔' یہ بیان ان کے دفتر کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔


غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلا کے سلسلے میں عرب دنیا کے وزرائے خارجہ کی طرف سے بھی رد عمل سامنے آچکا ہے۔ جبکہ دنیا بھر سے اس ٹرمپ منصوبے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔