Saturday, 15 February 2025

ورلڈ یونانی ڈے کے موقع پر طبی کالج پٹنہ میں جمع ہونگے بہار کے یونانی ڈاکٹر

 



پٹنہ (پریس ریلیز)ڈاکٹر محمد شفاعت کریم، جنرل سکریٹری، ایسو سی ایشن آف یونانی فزیشین، بہار نے پریس اعلانیہ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ٓاج مورخہ16 فروری کو پٹنہ کے گورنمنٹ طبی کالج کے اجمل خاں آڈیٹوریم میں ایک روزہ سی ایم ای کا انعقاد کیا گیا ہے جس کا موضوع جلدی امراض ہے۔ اس پروگرام میں بہار کے مختلف اضلاع سے یونانی ڈاکٹر مندوبین کی شکل میں شامل ہونگے۔ اس کے علاوہ بہار کے سبھی یونانی کالج کے طلباء و طالبات بڑی تعداد میں موجود رہیںگے۔پروگرام میں جلدی امراض کے موضوع پر جامعہ ہمدرد کے اسسٹنٹ پروفیسر اور یونانی سسٹم کے پہلے پی ایچ ڈی ڈاکٹر محمد انظار عالم کا لکچر ہوگا۔پٹنہ کی مشہور گائنیکو لاجسٹ ڈاکٹر نیلو یادو اورنیشنل انسٹی چیوٹ آف یونانی میڈیسین ، بنگلورکے امراض جلد و تزینیات شعبہ کی پہلی ایم ڈی ڈاکٹر سلطانہ انجم کا بھی خطاب ہوگا۔ 

بتاتا چلوں کہ2017 سے موجودہ مرکزی حکومت نے ورلڈ یونانی ڈے کا آغاز کیا تھا جو کہ حکیم اجمل خاں کے یوم پیدائش کے مناسبت سے ۱۱ فروری کو منایا جاتا ہے۔ امسال نواں ورلڈ یونانی ڈے منایا جا رہا ہے۔ ایسو سی ایشن آف یونانی فزیشین ہر سال یونانی ڈے مناتی رہی ہے اور اس سال گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے اشتراک سے کالج ہذا کے آڈیٹوریم میں ہی پروگرام کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔


Friday, 14 February 2025

پریس کانفرنس میں بیٹے کو ساتھ بٹھانے پر ایلون مسک تنقید کی زد میں – غیر روایتی انداز پر ملا جلا ردعمل

 






وائٹ ہاو¿س میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران ایلون مسک کے 4 سالہ بیٹے نے اپنی معصوم مگر شرارتی حرکات سے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کروالی۔


اس دوران وہ نہ صرف اپنے ارب پتی والد کی نقل اتارتا رہا بلکہ اوول آفس میں بیٹھے ناک بھی صاف کرتا رہا۔


پریس کانفرنس کے دوران ایلون مسک صحافیوں کے سوالات کے جوابات دینے لگے، تو ان کا بیٹا مختلف انداز بناکر والد کے کندھوں سے لپٹ کر اور گفتگو میں مداخلت کرکے ایک مزاحیہ منظر پیش کرنے لگا۔


اہم پریس کانفرنس کے دوران بیٹے کو ساتھ رکھنے پر ایلون مسک پر تنقید بھی کی گئی، ناقدین نے بچے کو کندھے پر بٹھا کر اہم امور پر گفتگو کو غیر سنجیدہ عمل قرار دے دیا۔


ایک اور موقع پر جب ایلون مسک جمہوریت پر گفتگو کر رہے تھے تو ان کے بیٹے نے ان کی نقل اتارنا شروع کر دی، جس پر انہیں لمحہ بھر کے لیے رکنا بھی پڑا۔


اس پر سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ "یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ایلون مسک کی بے ترتیب گفتگو سے زیادہ بور کون ہو رہا ہے، ٹرمپ یا مسک کا بیٹا!"


خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی ملازمین کی چھانٹی کے حکم نامے پر دستخط کر دیے، ایلون مسک وائٹ ہاو¿س میں اس ایگزیکٹو آرڈر کی دستخطی تقریب میں شرکت کے لیے آئے ہوئے تھے۔



حکومتی اخراجات میں کٹوتی کے معاملے میں ججوں کی مخالفت پر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے جج مجھے وہ کرنے دیں جس کے لیے عوام نے مجھے منتخب کیا، اگر جج کہے کہ وہ کسی عمل کا جائزہ نہیں لے سکتے تو ملک کیلئے افسوس ناک ہے۔


انہوں نے کہا کہ بہت بڑے پیمانے پر دھوکا دیا جا رہا ہے، جج ہمیں فراڈ کا پتہ چلانے سے کیسے روک سکتے ہیں؟، میں ہمیشہ عدلیہ کے فیصلے پر عمل کرتا ہوں۔


ارب پتی ایلون مسک بھی حکومتی استعداد کار سے متعلق محکمے کے دفاع میں ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔


انہوں نے کہا کہ غیر جمہوری بیوروکریسی ملک کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے محکمہ خزانہ میں ادائیگی کے نظام میں خرابیاں دور کریں گے۔


غزہ میں طبی امداد سے متعلق غلط بیانی کو صحافیوں نے جھوٹا ثابت کیا تو ایلون مسک نے کہا کہ میری کہی کچھ باتوں کو درست کیا جاسکتا ہے اور کرنا چاہیے۔


واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب مسک نے اپنے بیٹے کو کسی بڑے سیاسی لمحے کا حصہ بنایا ہو، وہ پہلے بھی ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں اسٹیج پر نظر آ چکا ہے اور الیکشن نائٹ کی براہ راست نشریات میں بھی موجود تھا۔



ایلون مسک کی بھارتی وزیراعظم سے ملاقات، کیا بڑا اعلان متوقع ہے؟






امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے نریندر مودی سے ایلون مسک کی بھی ملاقات ہوئی ہے۔ یہ ملاقات مودی اور ٹرمپ کی ملاقات سے پہلے ہوئی۔ تاہم نہیں اندازہ کیا جا سکا کہ اس ملاقات میں کن موضوعات پر تبادلہ خیال اور گفتگو کی گئی۔


البتہ نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس' پر یہ ضرور لکھا ہے کہ دونوں شخصیات نے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وہ جن کے بارے میں ایلون مسک خصوصی جذباتی رغبت رکھتے ہیں۔ ان میں خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی و پیش رفت بھی شامل ہے۔


یاد رہے ایلون مسک کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں امریکہ میں قائم کردہ ایک نئے محکمے کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ یہ نیا محکمہ حکومتی کارکردگی کو بہتر اور فعال بنانے کے لیے ہے جسے 'ڈی او جی ای' ، 'ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ افیشی اینسی' کا نام دیا گیا ہے۔


مسک نے کہا ہے کہ وہ پریقین ہیں کہ 'ٹیسلا' جلد بھارت میں ہوگی۔ اتنا جلدی کہ جتنا انسانی بس میں۔


تاہم صدر ٹرمپ کو اس بارے میں زیادہ وضاحت نہیں ہے کہ مودی اور مسک کی یہ ملاقات کس موضوع پر ہوئی ہے۔ خیال رہے دونوں کی ملاقات جمعرات کے روز ایسے وقت میں ہوئی جب مسک کے تینوں بچے بھی ملاقات میں موجود تھے۔


مودی کے ساتھ اس موقع پر ان کے اعلیٰ مشیر اور وزیر برائے خارجہ امور جے شینکر بھی موجود تھے اور قومی سلامتی کے وزیر ایجو دول بھی موجود تھے۔ گویا ایلون مسک کی طرف سے ان کے نوعمر بچوں کے مدمقابل دوسری طرف سے بھارت کے سینیئر حکام موجود تھے۔ جو اس بات کا مظہر تھا کہ ایلون مسک اس ملاقات کو رسمی سے زیادہ غیر رسمی انداز سے نتیجہ خیز بنانا چاہتے ہیں۔


بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے اداروں کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں گے۔ ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبے خاص طور پر خلائی میدان میں نئی جہتیں سامنے آئیں گی۔ مصنوعی ذہانت اور پائیدار ترقی کے علاوہ کاروبار اور سرمایہ کاری و گڈ گورننس کے امور میں دوطرفہ تعاون کا امکان بڑھے گا۔


ایلون مسک کے بھارت میں عزائم بھی کافی بلند ہیں۔ وہ اس سے پہلے اپنے آپ کو مودی کا مداح قرار دے چکے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ ان کے 'سٹارلنک' نامی مصنوعی سیارے کے ذریعے بھارت میں انٹرنیٹ کی سہولیات کا فروغ ہو اور بھارتی مارکیٹ ان کے ہاتھ میں آجائے۔


اگرچہ سٹارلنک کی لانچنگ بعض ریگولیٹری مسائل کی وجہ سے التوا میں ہے اور بعض سلامتی سے متعلق پہلو بھی اس میں تاخیر کا سبب ہیں۔ اسی طرح بھارت کے اندر سے ٹیلی کام کے بڑے ادارے جن میں امبانی گروپ بھی شامل ہے بعض رکاوٹیں پید اکیے ہوئے ہے۔


پچھلے سال ماہ نومبر میں بھارت کے ٹیلی کام کے وزیر نے کہا تھا کہ سٹارلنک کو ابھی بھارت کی سلامتی سے متعلق کئی چیزوں کو پورا کرنا ہے۔ اس لیے سٹارلنک کو لائسنس ان شرائط اور تقاضوں کو پورا کیے جانے کے بعد ہی جاری کیا جا سکے گا۔


دوسری جانب ایلون مسک بھارت میں لائسنس جاری کرنے کی پالیسی پر تنقید کر چکے ہیں۔ بعدازاں بھارتی حکومت نے اپنی پالسی میں تبدیلی کی اور یہ اعلان کیا کہ بھارتی حکومت سیٹلائٹ کے لیے نیلامی کا طریقہ اختیار نہیں کرے گی بلکہ ییہ ذمہ داری بھارتی حکومت کی طرف سے تفویض کی جائے گی۔


بھارت سیٹلائٹ براڈبینڈ کی وسیع صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت کی براڈبینڈ سیٹلائٹ سروس کی مارکیٹ مقابلے میں موجود ہے۔ مارکیٹ کو کنٹرول کرنے والی کم از کم چھ کمپنیاں امبانی ریلائنس جیﺅ سے تعلق رکھتی ہیں۔


خیال رہے امبانی گروپ کی طرف سے پچھلے سال کہا گیا تھا کہ سیٹلائٹ کی نیلامی منصفانہ مقابلے کے نتیجے میں ہونی چاہیے۔


یاد رہے مسک کا سٹارلنک کم از کم 6900 متحرک سیارچوں کے ساتھ منسلک ہے۔ جو زمین کے محور میں متحرک ہیں اور کم تاخیر کے ساتھ 4.6 ملین صارفین کو براڈبینڈ فراہم کرتا ہے۔


تاہم بھارتی شہریوں کے لیے سٹارلنک کے ذریعے ملنے والی براڈبینڈ کی خدمات مہنگی ہونا ایک تشویش کا باعث ہو سکتا ہے۔ کیونکہ وہ اس سے پہلے امبانی گروپ کی یہی خدمات کم قیمت کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں۔


بھارت کی 40 فیصد آبادی اب بھی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہے اور اس کی اس تک رسائی نہیں ہے۔ اس فاصلے کو ختم کرنے کے لیے سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ کی سہولیات کا سستا ہونا ضروری ہے۔ خاص طور پر بھارت کے دور افتادہ اور پہاڑی علاقوں میں۔


ایلون مسک کی کمپنی 'ٹیسلا' کی تیار کردہ گاڑیاں ابھی بھارت میں داخل نہیں ہو سکیں۔ حالانکہ بھارتی مارکیٹ دنیا کی گاڑیوں کی بڑی مارکیٹ میں شامل ہے۔ لیکن بھارت میں زیادہ ڈیوٹی ٹیکسز ہونے کی وجہ سے امپورٹ مشکل ہے۔


بھارت میں بجلی سے چلنے والی گاڑیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ گاڑیوں کی پچھلے سال کی فروخت میں ان کی تعداد صرف 2 فیصد سے زیادہ تھی۔ تاہم حکومت بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کو 2030 تک 30 فیصد تک لے جانا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں بھارت کی نئی پالیسی سامنے آچکی ہے۔


پرشانت کشور جی، آپ بی جے پی کی "بی ٹیم" ہیں سیاست آپ کے بس کی بات نہیں: اعجاز احمد

 






پٹنہ، 14 فروری 2025بہار پردیش راشٹریہ جنتا دل کے ترجمان اعجاز احمد نے پرشانت کشور کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تیجسوی جی کی جانب سے خواتین کو اقتصادی انصاف دینے کے نظریے سے پرشانت کشور اتنے بے چین اور گھبرائے ہوئے کیوں ہیں؟ سبھی جانتے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو جملہ بازی میں ماہر بنانے والے اور اپنی پی آر ایجنسی کی فکر کرنے والے پرشانت کشور جی، کوئی بھی بات کہنے سے پہلے یہ ضرور سمجھ لیں کہ تمام حساب کتاب کے بعد ہی تیجسوی جی نے "مائی-بہن مان یوجنا" کے تحت مہاگٹھ بندھن حکومت بننے پر خواتین کے کھاتوں میں 2500 روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی اور جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کی بے چینی تو سمجھ میں آتی ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ خواتین کے اقتصادی انصاف کے لیے ڈبل انجن حکومت نے کوئی کام نہیں کیا، اور مہنگائی کی مار سب سے زیادہ ہماری مائیں اور بہنیں جھیل رہی ہیں۔

پرشانت کشور اس طرح بے چین نظر آ رہے ہیں جیسے 2020 کے اسمبلی انتخابات کے وقت، جب تیجسوی جی نے کہا تھا کہ پہلی ہی کابینہ میٹنگ میں 10 لاکھ نوکریاں اور روزگار دیں گے۔ اس وقت وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ "پیسہ کہاں سے لاو¿ گے، باپ کے گھر سے یا جیل سے؟" لیکن تیجسوی جی نے اپنے اس عہد کو 17 مہینوں میں مہاگٹھ بندھن حکومت کے ذریعے پورا کرتے ہوئے ساڑھے 5 لاکھ نوکریاں دیں اور تقریباً 3.3 لاکھ خالی اسامیوں کو بھی چھوڑ کر گئے۔ اس سے واضح ہے کہ تیجسوی جی عمر میں نوجوان ضرور ہیں لیکن اپنے وعدے کے پکے ہیں۔

پرشانت کشور جی، آپ بی جے پی کی "بی ٹیم" ہیں اور سیاست آپ کے بس کی بات نہیں۔ آپ بی جے پی کے اشارے پر کب تک تیجسوی جی کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کرتے رہیں گے؟ آپ اپنی پی آر ایجنسی کی فکر کریں، سیاست آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔ بہار کی عوام آپ کو بخوبی جان چکی ہے اور سمجھتی ہے کہ آپ یہاں کس کے لیے سیاست کر رہے ہیں۔


Tuesday, 11 February 2025

عبدالفتتاح السیسی : غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کیے بغیر تعمیر نو کی جائے

 






مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے اسرائیلی جنگ سے تباہ ہو چکے غزہ کے بارے میں زور دے کر کہا ہے ' غزہ کی تعمیر نو فلسطینیوں کو غزہ سے جبری طور پر بے دخل کیے بغیر کی جائے۔' ان کا یہ بیان امری
کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کا فلسطینیوں کے بغیر کنٹرول سنبھال کر اس کی تعمیر نو کرنے کا اعلان کے تناظر میں آیا ہے۔


صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک امریکی پراپرٹی ٹائیکون ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اگر غزہ میں فلسطینی نہ رہیں تو سمندر سے جڑی یہ غزہ کی پٹی مشرق وسطیٰ کا ' ریویرا ' بن سکتی ہے۔


ڈونلڈ ٹرمپ نے ان بے دخل کیے جانے والے غزہ کے فلسطینیوں کو مصر اور اردن میں بسانے کا کہا ہے۔ تاہم یہ دونوں ملک اس منصوبے سے اتفاق نہیں کرتے۔


مصری وزیر خارجہ نے پیر کے روز اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی ہے، جبکہ اردن کے شاہ عبداللہ دوم ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکہ پہنچے ہیں۔


صدر السیسی کا کہنا ہے کہ اہل غزہ کو ان کی زمین سے نکالے بغیر تعمیر نو کرنے سے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی ممکن ہوگا اور وہ اپنی سرزمین پر رہ سکیں گے۔


بتایا گیا ہے کہ السیسی نے ان خیالات کا اظہار ڈنمارک کے وزیر اعظم میٹے فریڈریکسن سے فون پر گفتگو کے دوران کیا ہے۔

مصر کے صدر نے اس گفتگو کے دوران یہ بھی کہا ' فلسطینی ریاست کا قیام ہی اس امر کی پائیدار ضمانت بن سکتا ہے کہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔' یہ بیان ان کے دفتر کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔


غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلا کے سلسلے میں عرب دنیا کے وزرائے خارجہ کی طرف سے بھی رد عمل سامنے آچکا ہے۔ جبکہ دنیا بھر سے اس ٹرمپ منصوبے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔




ٹرمپ کی حماس کو آخری مہلت کے ساتھ "جہنم کے دروازے" کھولنے کی دھمکی

 








حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری میں ناکامی اور معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد اسرائیلی جنگی قیدیوں کی رہائی غٰیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کے اعلان کےرد عمل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے حماس کو آخری مہلت دیتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر حماس نے تمام قیدیوں کو ایک ساتھ واپس نہ کیا تو اس پر "جہنم کے دروازے کھل جائیں گے"۔


ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو حماس کی طرف سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کی دھمکی کو "خوفناک" قرار دیتے ہوئے فلسطینی تحریک کو "حقیقی جہنم" کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر "تمام قیدیوں کو ہفتے کی دوپہر تک واپس نہ کیا گیا تو مزید مہلت نہیں ملے گی اور حماس پر ج



ھنم کے دروازے کھل جائیں گے‘۔


آخری تاریخ

ٹرمپ نے وائٹ ہاو¿س میں صحافیوں سے کہا کہ اگر حماس اگلے ہفتے کی دوپہر تک تمام قیدیوں کو رہا نہیں کرتی ہے تو اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کو "منسوخ" کر دینا چاہیے۔


انہوں نے مزید کہا کہ "میں ہفتے کے روز بنجمن نیتن یاہو سے معاہدے کی منسوخی کے بارےمیں بات کر سکتا ہوں"۔


اس کے علاوہ ٹرمپ نے اردن اور مصر کو غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی قبول کرنے پر زور دیتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر ان ملکوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کو آنے سے روکا تو ان کی امداد روک دی جائے گی۔


تا اطلاع ثانی قیدیوں کی رہائی ملتوی

کل پیر کے روز حماس کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کی شرائط کے بارے میں ایک سامنے آیا جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنی تمام ذمہ داریوں کو "درست اور بروقت" نافذ کرہی ہے جب کہ اسرائیل معاہدے کی پاسداری سے فرار اختیار کررہا ہے۔ اس دوران اسرائیل کی طرف سے "متعدد خلاف ورزیاں" کی گئیں جس کی وجہ سے حماس نے قیدیوں کی رہائی کو تا اطلاع ثانی موخر کردیا ہے۔


حماس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ اسرائیل نے شمالی غزہ کی پٹی میں بے گھر ہونے والوں کی واپسی میں تاخیر کی اور فلسطینیوں پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا جس کے نتیجے میں پٹی کے مختلف علاقوں میں ہلاکتیں ہوئیں۔ اسرائیل نے معاہدے کے تحت غزہ میں خیمے اور شیلٹرز لانے پر عاید پابندی نہیں اٹھائی اور وہ بھاری مشینری اور بنیادی ضرورت کا سامان لانے میں بھی رکاوٹیں کھڑی کررہا ہے۔


حماس نے وضاحت کی کہ تبادلے کی طے شدہ تاریخ سے پانچ دن پہلے التوا کا اعلان کر کے"ثالثوں کو قابض اسرائیل پر دباو¿ ڈالنے کے لیے کافی موقع

دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے معاہدے کی پاسداری کی تو قیدیوں کے تبادلے کا عمل وقت مقررہ پر ممکن ہے۔


حماس نے ٹرمپ کی اس تجویز کی سخت الفاظ میں مذمت کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل سے"غزہ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے کر فلسطینیوں کو مصر اور اردن سمیت دیگر ممالک میں منتقل کریں گے‘۔



پوپ فرانسس کو بھی امریکہ سے تارکین وطن کی ملک بدری قبول نہیں، ٹرمپ انتطامیہ کو سرزنش

 










کیتھو لک مسیحیوں کے فرقے کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے منگل کے روز امریکہ سے بڑی تعداد میں تارکین وطن کی بے دخلی اور ملک بدری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس منصوبے کو تقریباً ناقابل عمل قرار دے کر ٹرمپ انتظامیہ کی سرزنش کی ہے۔


واضح رہے صدر ٹرمپ نے بر سر اقتدار آتے ہی امریکہ میں تارکین وطن کے خلاف سخت اقدام کرتے ہوئے انہیں جبری ڈی پورٹ کرنا شروع کر دیا اور سرحد پر میکسیکو کی جانب مزید اقدامات کیے۔ نیز تارکین وطن کے نومولود بچوں کو امریکہ میں شہریت دینے کے دیرینہ حق سے بھی محروم کر دیا۔ دوسری جانب غزہ سے 20 لاکھ فلسطینیوں کو اپنی ہی سرزمین سے جبری طور پر مصر اور اردن منتقل کرنے کا اعلان کر دیا۔


پوپ نے پہلے معاملے پر امریکی مذہبی پیشواو¿ں کو خط لکھ کر اس کا نوٹس لیا ہے۔


پوپ فرانسس جو عام طور پر سیاسی موضوعات پر بات کرنے سے گریزاں رہتے ہیں کہ ان کے مسیحی مذہبی فلسفے میں مذہب کو سیاست سے دور رکھا جاتا ہے۔ لیکن انہوں نے بھی اسے انسانی مسئلے کے طور پر دیکھتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی ملک بدری اور اپنے ملک سے جبری نقل مکانی ان لوگوں کو ان کے موروثی وقار سے محروم کر دے گی۔


پوپ فرانسس نے اس سلسلے میں امریکی مذہبی رہنماو¿ں اور بشپس کے نام لکھے گئے خط میں لکھا ہے کہ اس جبری بے دخلی اور انخلا سے کمزوروں کو نقصان پہنچے گا۔


خیال رہے پوپ فرانسس خود بھی لاطینی امریکہ سے تعلق رکھنے والے پہلے مسیحی پوپ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے دنیا کے ملک تنازعات، افلاس اور موسمیاتی آفات و مصائب سے نکل کر بھاگنے اور پناہ کے طلبگاروں کا جہاں تک ان کے لیے ممکن ہو ان کا خیر مقدم کریں نہ کہ انہیں رد کریں۔



غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنا مسئلے کا حل نہیں: فرانس

 





غزہ کی پٹی پر اپنا کنٹرول مسلط کرنے اور فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے اثرات اب بھی جاری ہیں۔


فرانس کے ایک سفارتی ذریعے نے العربیہ/الحدث سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے"۔


انہوں نے مزید کہا کہ "ہم غزہ کے حوالے سے عرب-یورپی اتفاق رائے پر کام کر رہے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ "اگر اب دو ریاستی حل حاصل نہیں کیا گیا تو یہ کبھی حاصل نہیں ہو سکے گا"۔


قابل ذکر ہے کہ 20 جنوری کو عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ٹرمپ نے غزہ کا کنٹرول سنبھالنے اور بڑے پیمانے پر تعمیر نو کی کوششوں میں شامل ہونے کا خیال پیش کیا۔


اس کے بعد انہوں نے اسی خیال کو کئی بار دہرایا، غزہ کے مکینوں کو ان کی بار بار مخالفت کے باوجود انہوں نے فلسطینیوں کو دوسرے ممالک خاص طور پر مصر اور اردن میں منتقل کرنے کی بات کی۔


انہوں نے گذشتہ رات بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ غزہ کو خریدنے اور اس کی ملکیت کے لیے پرعزم ہیں۔ وہ ساحلی پٹی کے کچھ حصے مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو تعمیر نو کی کوششوں میں مدد کے لیے دے سکتے ہیں۔


انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ غزہ کو مستقبل کی ترقی کے لیے ایک اچھی جگہ میں بدل دے گا۔


ٹرمپ کی تجویز پر متعدد عرب اور مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی جانب سے فوری طور پر سخت تنقید کی گئی۔ ان کے اس موقف کوعالمی قوانین کےخلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی نقل مکانی بین الاقوامی قوانین اور ضوابط سے متصادم ہے۔



مصر: عرب ملک فلسطینی جبری انخلا کے ٹرمپ منصوبے کو قبول نہیں کرتے

 





مصر کے وزیر خارجہ کی امریکہ میں اپنے ہم منصب مارکو روبیو کے ساتھ ملاقات کے بعد مصری وزارت خارجہ نے جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ فلسطینیوں کی طرف سے جبری انخلا کے منصوبے کو مسترد کرنے کے موقف کی عرب ممالک حمایت کرتے ہیں۔


مصری وزارت خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مصر کی طرف سے امریکی وزیر خارجہ کو اس بارے میں مصری اور عرب ملکوں کے مو¿قف سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلا اور غزہ کا کنٹرول امریکہ کے پاس آنے کو بھی قبول نہیں کرتے۔


واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی صفائی کے لیے فلسطینیوں کو 20 لاکھ کی تعداد میں مصر اور اردن میں منتقل کر دینے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ جس پر پوری دنیا کے ساتھ ساتھ امریکہ و اسرائیل سے بھی رد عمل سامنے آرہا ہے۔


مصر کے وزیر خارجہ اس سلسلے میں اپنا موقف پیش کرنے اتوار کے روز امریکہ پہنچے تھے۔ اردن کے شاہ عبداللہ دوم بھی امریکہ پہنچنے والے ہیں تاکہ وہ بھی براہ راست صدر ٹرمپ کو اپنے ملک کے مو¿قف سے آگاہ کر سکیں۔


مصر اور امریکہ کے وزرائے خارجہ کی یہ ملاقات پیر کے روز واشنگٹن میں ہوئی ہے۔ ملاقات میں امریکہ کی طرف سے غزہ کی تعمیر نو کے عمل کے لیے کوششوں کو تیز کرنے پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر مصر کے وزیر خارجہ نے کہا ان کا ملک امریکی انتظامیہ کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔


وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر خارجہ نے واشنگٹن میں مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی نمائندہ سٹیو وٹکوف سے بھی ملاقات کی ہے۔ ان کے سامنے بھی مصر اور عرب ملکوں کے فلسطینی انخلا کے بارے میں مو¿قف کا اظہار کیا گیا۔


علاوہ ازیں مصر کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو مل کر فلسطینیوں کے حق کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے۔ کیونکہ فلسطینی عوام ایک تاریخ بے انصافی کا ہدف ہیں۔ یاد رہے ٹرمپ کے فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنے کے منصوبے کی ہر جگہ سے مذمت کی جارہی ہے۔


ادھر 'فاکس نیوز' پر ماہرین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے ' امریکی صدر کے منصوبے میں فلسطینیوں کو واپس غزہ آنے کا حق نہیں ہوگا۔'



ٹرمپ کی دھمکی کی کوئی حیثیت نہیں ، معاہدے کا احترام لازم ہے : حماس

 







فلسطینی تنظیم حماس کے رہنما سامی ابو زہری نے باور کرایا ہے کہ "امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایک معاہدہ ہے جس کا احترام دونوں فریقوں پر لازم ہے، یہ قیدیوں کی واپسی کا واحد راستہ ہے"۔


آج منگل کے روز ایک بیان میں ابو زہری نے زور دے کر کہا کہ "دھمکیوں کی زبان کی کوئی حیثیت نہیں ہے، یہ معاملات کو مزید پیچیدہ بناتی ہے"۔


حماس کا رد عمل امریکی صدر کے تازہ انتباہ کے جواب میں آیا ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ "فائر بندی معاہدے کے مطابق اگر ہفتے کے روز اسرائیلی قیدیوں کو رہا نہ کیا گیا تو وہ 'جہنم کے دروازے' کھول دیں گے"۔


حماس نے اسرائیل پر معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے مذکورہ قیدیوں کی رہائی کو ملتوی کر دیا ہے۔


ٹرمپ نے اپنی دھمکی میں واضح کیا کہ اگر آئندہ ہفتے کے روز دوپہر 12 بجے تک غزہ سے تمام یرغمالیوں کو واپس نہ کیا گیا تو وہ فائر بندی معاہدے کی منسوخی کا مطالبہ کر دیں گے۔


اسی طرح ٹرمپ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اگر مصر اور اردن نے غزہ کے پناہ گزینوں کا استقبال نہ کیا تو وہ ان دونوں ممالک کی امداد روک سکتے ہیں۔


دوسری جانب حماس نے باور کرایا ہے کہ اسرائیل فائر بندی معاہدے کی شقوں کی پاسداری نہیں کر رہا ہے۔ ان میں بے گھر افراد کی غزہ کی پٹی کے شمال کی سمت واپسی میں تاخیر، غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں بم باری اور فائرنگ اور معاہدے میں طے شدہ طریقے کے مطابق امدادی سامان کو تمام صورتوں میں داخلے کو روکنا شامل ہے۔


دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فائر بندی معاہدے پر قائم ہے، تاہم انھوں نے حماس کی جانب سے معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی سے خبردار کیا



شام سے فرار اور حکومت کے سقوط پر بشارالاسد کے بیٹے کے چشم کشا انکشافات

 





شام میں برسوں تک سیاہ وسفید کے مالک رہنے والے اسد خاندان کے پچھلے سال آٹھ دسمبر کو سقوط کے بعد بشارالاسد اور ان کے خاندان کے روس فرار کی تفصیلات گاہے گئے میڈیا پر آتی رہتی ہیں۔


اس حوالے سے مختلف زاویوں سے تفصیلات سامنے آتی رہیں، جن کی تازہ کڑی بشارالاسد کے بیٹے حافظ الاسد کے نام سے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر بنے اکاو¿نٹ سےآنے والے تفصیلات ہیں۔


شام کے سابق مفرور صدر بشار الاسد کے بیٹے "حافظ الاسد" کے نام سے ایک تصدیق شدہ اکاو¿نٹ نے سوشل میڈیا پر اس وقت ایک ہنگامہ برپا کردیا جب اس نے شامی حکومت کے خاتمے اور ان کے ماسکو فرار ہونے سے پہلے کے آخری لمحات کی تفصیلات شائع کیں۔


"خزاں کی رات کی تفصیلات" کے عنوان سے شائع پوسٹ ایک گھنٹہ سے بھی کم وقت کے بعد X پلیٹ فارم سے حذف کردی گئی۔کسی سرکاری رد عمل کے بغیر ہی اکاو¿نٹ بند کر دیا لیکن ایوا کیرن بارٹلیٹ نامی ایک امریکی صحافیہ نے تصدیق کی کہ جس اکاو¿نٹ نے یہ تفصیلات ’ایکس‘ پلیٹ فارم اور ٹیلی گرام پر شائع کی ہیں وہ دراصل حافظ الاسد کا ہے۔


اسد کی حامی صحافیہ نے اپنے فیس بک اکاو¿نٹ پر کہاکہ "میں تصدیق کر سکتی ہوں کہ یہ اکاو¿نٹ حقیقی ہے جعلی نہیں۔ ہم حال ہی میں رابطے میں تھے۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ یہ چینل ٹیلی گرام کے ساتھ ساتھ X پلیٹ فارم پر اپنا اکاو¿نٹ بنانے والا ہے"۔


"دمشق سے فرار"

حافظ الاسد کے اس اکاو¿نٹ کی تصدیق ’بلیو ٹیک‘کے ساتھ کی گئی تھی۔ اس نے اکاو¿نٹ پر لکھا کہ دمشق چھوڑنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا، یہاں تک کہ کوئی بیک اپ بھی نہیں تھا۔


انہوں نے مزید کہا کہ "گذشتہ 14 سالوں میں شام ایسے حالات سے گذزا ہے جو نومبر کے آخر اور دسمبر کے شروع میں گذرے حالات سے کم مشکل اور خطرناک نہیں تھے۔ جو بھی فرار ہونا چاہتا تھا وہ ان برسوں میں ملک سے نکل گیا۔ خاص طور پر پہلے سالوں میں جب دمشق کا تقریبا محاصرہ کیا گیا اور روزانہ بمباری کی جاتی تھی۔دہشت گرد اس کے مضافات میں تھے، اور ان کے دارالحکومت تک پہنچنے کے تمام امکانات موجود تھے مگر اس وقت بھی بشارالاسد نے ملک نہیں چھوڑا"۔


اکاو¿نٹ پر لکھی پوسٹ میں کہا گیا کہ "حالیہ واقعات شروع ہونے سے پہلے میں نے 29 نومبر کو اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے شام ونگز ایئر لائنز پر 20 نومبر کو دمشق سے ماسکو کا سفر کیا۔ میری والدہ (اسمائ الاسد) اس وقت ماسکو میں تھیں جو ہڈیوں کی پیوند کاری کے بعد موسم گرما کے آخر میں علاج کروا رہی تھیں۔ ڈگری سے متعلق کچھ طریقہ کار کو مکمل کرنے کے لیے مجھے ڈاکٹریٹ کے بعد کچھ دیر ماسکو میں ٹھہرنا تھا، لیکن شام میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے میں اتوار یکم دسمبر کو شامی ایئر لائنز کے ذریعے دمشق واپس آگیا تاکہ اپنے والد اور اپنے بھائی کریم کے ساتھ رہوں، میری والدہ اپنا علاج مکمل کرنے کے لیے ماسکو میں رہیں۔ ان کے ساتھ بہن زین کو چھوڑا گیا‘۔


حکومت کے زوال کی تفصیلات

اس کے بعد ’ ایکس‘ اکاو¿نٹ پر شامی حکومت کے زوال کی تفصیلات شائع کی گئیں جب اسد رجیم مسلح دھڑوں کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچی۔ اس نے لکھا کہ"جہاں تک ہفتہ 7 اور 8 دسمبر کے واقعات کا تعلق ہے تو ہفتے کی صبح میرے بھائی نے دمشق میں ہائر انسٹی ٹیوٹ برائے اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں ریاضی کا امتحان دیا جہاں وہ پڑھ رہا تھا۔ میں خود کو اگلے دن کام پر واپس جانے کے لیے تیار کر رہا تھا۔ میری بہن نے اگلے دن شام کی ایئر لائنز کا ٹکٹ بک کرایا“۔


اس نے وضاحت کی کہ "ہفتے کی سہ پہر افواہیں پھیل گئیں کہ ہم ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔بہت سے لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا کہ تو میں نے بتایا کہ ہم دمشق میں ہیں۔ میں اس افواہ کی تردید کرنے کے لیے المہاجرین کے پڑوس میں واقع النیرابین پارک گیا اور اپنی ایک تصویر لی جو میں نے انسٹاگرام پر پوسٹ کی تاکہ لوگوں کو یقین ہو کہ میں دمشق میں ہوں۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی“۔


بیان میں کہا گیا ہے کہ "اس وقت تک دور دراز سے فائرنگ کی آوازوں کے باوجود جنگ کے پہلے ابتدائی عرصےے جیسی کوئی چیز نہیں تھی۔ حالات ایسے ہی جاری رہے جیسے کہ فوج دمشق کے دفاع کی تیاری کر رہی تھی۔حالات اس وقت تک خراب نہیں ہوئے جب تک حمص سے فوج کے انخلائ کی خبر نہ آئی۔ حمص کی طرف سے فوج کے انخلائ کی وجہ سے ہم حیران رہ گئے تھے‘۔


روسی اہلکار اور الاذقیہ جانے کی درخواست


بشار الاسد کے بیٹے نے اپنی پوسٹ میں اشارہ کیا کہ: "ایسی کوئی تیاری یا کوئی چیز نہیں تھی جس سے یہ باور کرایا جاتا کہ ہم وہاں سے چلے جائیں، یہاں تک کہ روس کی جانب سے ایک اہلکار آدھی رات کے بعد المالکی محلے میں واقع ہمارے گھر پر پہنچا۔ اس نے صدر سے الاذقیہ منتقل ہونے کی درخواست کی۔"


انہوں نے مزید کہا کہ "تھوڑی دیر کے بعد ہم دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہوئے اور نصف شب کے بعد تقریباً تین بجے وہاں پہنچے۔ وہاں ہم اپنے چچا ماہر سے ملے، کیونکہ ہوائی اڈہ کنٹرول ٹاور سمیت ملازمین سے خالی تھا۔ پھر ہم روسی فوجی طیارے میں الاذقیہ چلے گئے، جہاں سے ہم فجر سے پہلے حمیمیم ہوائی اڈے پر اترے"۔


انہوں نے بتایا کہ کہ "اتوار کو دن کے ابتدائی اوقات میں ہمیں برج اسلام کے علاقے میں واقع صدارتی ریسٹ ہاو¿س کی طرف لے جایا گیا جو اڈے سے بذریعہ سڑک 40 کلومیٹر سے زیادہ دور ہے، لیکن کسی سے رابطہ کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں"۔




"ماسکو روانگی "

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس وقت "وہ تمام فون بند کر دیے گئے تھے جنہیں کال کی جا رہی تھی۔دہشت گردوں کے ساتھ محاذ سے افواج کے انخلائ اور آخری فوجی مقامات کے سقوط کے بارے میں اطلاعات آنا شروع ہو گئیں۔ اسی وقت پے در پے ڈرون حملے شروع ہو گئے، اور اس کے آس پاس کے علاقے میں قریب اور دور سے گولہ باری شروع ہو گئی"۔


آخر میں حافظ الاسد نے کہا کہ "دوپہر میں ایئر بیس حکام کی قیادت نے ہمیں اس کے ارد گرد کی صورت حال کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ہمیں بتایا کہ دہشت گردوں کے پھیلاو¿، افراتفری اور بیس کی حفاظت کے لیے ذمہ دار یونٹوں کے انخلائ کی وجہ سے اڈہ چھوڑنا ناممکن ہے۔ اس کے علاوہ ماسکو سے مشاورت کے بعد ہم نے ماسکو کو محفوظ طریقے سے ایک طیارہ روانہ کرنے کے لیے کہا جہاں ہم اتوار 8 کی رات ماسکو کے لیے روانہ ہوئے"۔


پوسٹ کی طوالت کی وجہ سے بہت سے شامیوں کی طرف سے اس پوسٹ کا مذاق اڑایا گیا، جس کا اختتام اس بیان پر ہوا کہ وہ 8 دسمبر کی صبح شام سے فرار ہو گئے تھے، جبکہ اکاو¿نٹس نے اس بات کی تردید کی تھی کہ یہ اکاو¿نٹ بشار الاسد کے بیٹے سے وابستہ تھا۔



میں ہمیشہ سے سعودی عرب کے دورے کا مشتاق تھا : احمد الشرع

 









شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے ایک بار پھر اپنے ملک کے استحکام میں سعودی عرب کے کردار کی اہمیت باور کرائی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا "میں ہمیشہ سے سعودی عرب جانے کا مشتاق تھا ، مجھے شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے دورے کی دعوت موصول ہوئی"۔

الشرع نے یہ بات the rest is politics پوڈکاسٹ کے ساتھ ایک طویل انٹریو میں کہی۔

شامی صدر نے مزید کہا کہ "ذاتی طور پر سعودی عرب میرا آبائی علاقہ ہے اور جہاں تک ریاست کا تعلق ہے تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ پہلا دورہ ایک بڑے عرب ریاست کا کیا جائے لہذا میں نے شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت ملنے کے بعد سعودی عرب کا دورہ کرنا پسند کیا۔ اس کی وجہ خطے میں مملکت کا مقام اور اثر و رسوخ ہے"۔


الشرع کے دورے سے قبل شامی وزیر خارجہ نے جنوری کے اوائل میں ریاض کا دورہ کیا تھا۔


شامی صدر احمد الشرع نے سعودی عرب کے دورے اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد باور کرایا کہ شامی حکومت سعودی عرب کے ساتھ تمام شعبوں میں رابطوں اور تعاون کی سطح بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔ الشرع کا کہنا تھا کہ "ہم نے سعودی عرب کے ساتھ توانائی، تعلیم، ٹیکنالوجی اور صحت کے شعبوں میں مستقبل کے منصوبوں پر بات چیت کی"۔



فوجی آپشن میز پر ہے: حماس کا ٹرمپ کو جواب

 













لبنان میں حماس کے میڈیا آفس کے انچارج، محمود طحہ نے تحریک حماس کی طرف سے ٹرمپ کے منصوبے کو دوٹوک طور پر مسترد کرنے کی تصدیق کی او ر اس کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی آپشن کی طرف اشارہ کیا۔


انہوں نے روسی "سپوتنک" ایجنسی کو بتایا کہ اس منصوبے کو فلسطینی عوام، یا عرب ممالک اور یورپی ممالک کی طرف سے کوئی قبولیت حاصل نہیں ہے جنہوں نے اسے مسترد کر دیا ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ حماس ان منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے فوجی آپشن کا اعلان کرتی ہے اور "اس سلسلے میں تمام آپشن کھلے ہیں۔"


انہوں نے اسرائیلی حکومت پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے کام کر رہی ہے کیونکہ یہ خیموں اور پہلے سے تیار شدہ مکانات کے داخلے کو روک رہی ہے حالانکہ ان چیزوں کو لانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ منصوبہ حماس اور فلسطینی عوام پر دباو¿ کے تناظر میں آیا ہے کہ وہ ا±ن اسرائیلی منصوبوں کے آگے سر تسلیم خم کر دیں جن کا مقصد انہیں اپنی سرزمین سے بے
گھر کرنا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ٹرمپ کے منصوبے سے ملتا جلتا کوئی بھی منصوبہ اپنے سے پہلے کے منصوبوں کی طرح ناکامی سے دوچار ہو گا۔


قبل ازیں حماس کے سیاسی بیورو کے ایک رکن عزت الرشق نے کہا تھا کہ فلسطینی ان تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیں گے جن کا مقصد انہیں بے گھر کرنا ہے۔ انہوں نے جاری کردہ ایک بیان میں مزید کہا کہ غزہ کوئی ایسی جائیداد نہیں ہے جسے خریدا اور بیچا جا سکے، بلکہ یہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے غزہ کی خریداری اور ملکیت کے بارے میں ٹرمپ کے بیانات کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ ٹرمپ کے بیانات فلسطین اور خطے کے بارے میں ان کی گہری جہالت کی عکاسی کرتے ہیں۔


یاد رہے 20 جنوری کو عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ٹرمپ نے غزہ کا کنٹرول سنبھالنے اور بڑے پیمانے پر تعمیر نو کی کوششوں میں شامل ہونے کا خیال پیش کیا تھا۔ پھر اس نے اسی خیال کو کئی بار دہرایا۔ مصر اور اردن کی قیادت میں غزہ کے باشندوں کی بار بار کی مخالفت کے باوجود ٹرمپ غزہ کے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے پر اصرار کر رہے ہیں۔