وقف ترمیمی بل کی واپسی تک آر جے ڈی سڑک سے لے کر ایوان تک احتجاج جاری رکھے گی: تیجسوی پرساد یادو
پٹنہ، 26 مارچ :مرکزی حکومت کے ذریعے پیش کردہ وقف ترمیمی بل کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، امارتِ شرعیہ، خانقاہ مجیبیہ، جمعیت علمائے ہند، جماعتِ اسلامی، خانقاہ رحمانی، جماعت اہل حدیث سمیت مختلف مسلم تنظیموں نے گردنی باغ، پٹنہ میں ایک عظیم الشان دھرنا کا انعقاد کیا۔اس موقع پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی صدر لالو پرساد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف ہماری جدوجہد کبھی ختم نہیں ہوگی، اور ہم کسی بھی قیمت پر اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل جمہوریت کے خلاف اور آئینی حقوق پر حملہ ہے، اور ہم اس کی واپسی تک آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
لالو پرساد نے مزید کہا:"بی جے پی ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے، اور جو بھی پارٹی اس کی حمایت میں کھڑی ہے، وہ بے نقاب ہوچکی ہے۔ کچھ پارٹیاں محض اقتدار کی خاطر بی جے پی کی پالیسیوں کی حمایت کر رہی ہیں، جو قابل مذمت ہے۔"
اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا:"یہ بل مکمل طور پر غیر آئینی ہے، اور اس کے خلاف جو زبردست احتجاج کیا گیا ہے، میں اس کے لیے تمام تنظیموں اور عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہماری پارٹی، اور ہمارے رہنما لالو پرساد جی ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔"
انہوں نے کہا کہ:"لالو جی کی طبیعت خراب ہونے کے باوجود وہ آج اس دھرنے میں شامل ہوئے ہیں، تاکہ یہ پیغام دیا جائے کہ اقتدار رہے یا جائے، ہم اس بل کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہم نے آج اسمبلی میں وقف ترمیمی بل کے خلاف تحریک التوا پیش کیا تھا، جس کی وجہ سے حکومت کو ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔"
تیجسوی یادو نے مزید کہا:"یہ وقت آئین کی حفاظت کا ہے۔ جو لوگ محض اقتدار کی خاطر اس غیر آئینی بل کی حمایت کر رہے ہیں، وہ بابا صاحب امبیڈکر کے آئینی نظام کو کمزور کرنے کی سازش میں شامل ہیں۔ لیکن ہم عوام کے ساتھ مل کر اس سازش کو ناکام بنائیں گے۔"
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ:"اگر آپ اس احتجاج میں ایک قدم بڑھائیں گے، تو ہماری پارٹی چار قدم آگے بڑھے گی۔ ہم کسی بھی قیمت پر اس بل کو لاگو نہیں ہونے دیں گے، کیونکہ اس کا مقصد وقف جائیدادوں کو ہڑپنا ہے۔ لیکن ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔"
آر جے ڈی کے ترجمان اعجاز احمد نے بتایا کہ لالو پرساد اور تیجسوی یادو خود دھرنا میں شامل ہوئے اور احتجاج کو مضبوط حمایت دی۔ اس موقع پر پارٹی کے کئی سرکردہ رہنما اور کارکنان بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، جن میں عبدالباری صدیقی،ا±دَے نارائن چودھری،علی اشرف فاطمی،محبوب علی قیصر،ڈاکٹر تنویر حسن،رنوجے ساہو،اختر الاسلام شاہین،محمد نہال الدین،قاری محمد صہیب،یوسف صلاح الدین،شکتی سنگھ یادو،محمد فاروق،اعجاز احمد،مجتبیٰ حسین راہی،خورشید عالم صدیقی،غلام ربانی،محمد مہتاب عالم،محمد افروز عالم،محمد مشتاق احمد،سنیل کمار سنگھ،پروفیسر چندر شیکھر،ڈاکٹر ارمِلا ٹھاکر،اس کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں آر جے ڈی کارکنان اور اقلیتی برادری کے رہنما اس دھرنے میں شریک رہے۔
لالو پرساد اور تیجسوی یادو نے واضح الفاظ میں کہا کہ آر جے ڈی ہمیشہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑی رہے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ بل اقلیتوں کے خلاف ایک سازش ہے، اور ہم اسے کسی بھی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔"ہم نے کبھی فرقہ پرست طاقتوں سے سمجھوتہ نہیں کیا، اور نہ کبھی کریں گے۔ ہمارا یہ عزم ہمیشہ برقرار رہے گا۔"













