Tuesday, 15 April 2025

متھلا انسٹی ٹیوٹ کو ایم آئی سی سی ای کامکمل تعاون حاصل ہوگا: موہن کمار جھا





دربھنگہ: متھیلا میں صحت کے شعبے میں روزگار اور ملازمتوں کے بے پناہ امکانات ہیں، کیونکہ متھیلا میں بہت جلد ایمس اسپتال بننے جا رہا ہے جہاں ہزاروں لوگوں کو روزگار ملے گا۔ متھیلانچل چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر موہن کمار جھا نے آج متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے احاطے میں طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ سب کے بارے میں انجینئر اختر حسین، بورڈ آف ڈائریکٹرز سے بہت تفصیل سے سنا تھا، جو آج آپ سب کے درمیان آنے کے بعد دیکھنے کو ملا۔ موہن کمار جھا نے کہا کہ ہماری تنظیم کے ساتھی نے سوپول ضلع میں ایک بڑا ہسپتال بنایا ہے، جہاں میں آپ کے کالج سے پاس آؤٹ ہونے والے طلباء وطالبات کو لے جاؤں گا اور انہیں ملازمتیں فراہم کروں گا۔ متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سجاد احمد نے تعلیم کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔ آپ جتنی زیادہ تعلیم حاصل کریں گے آپ کے علم میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔ جبکہ مہمان اعزازی شمشاد نور نے کہا کہ ہم لوگ ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، جب بھی اور جہاں بھی ضرورت ہو ہمیں یاد رکھیں۔ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے، ڈاکٹر احمد نسیم آرزو، میکسیمائنڈ ہیلتھ کیئر پرائیویٹ لمیٹڈ، نئی دہلی اور الہلال ہسپتال، دربھنگہ کے ڈائریکٹر نے شری موہن کمار جھا کا تہہ دل سے خیرمقدم کیا اور کہا کہ آپ ہمارے درمیان بہت مختصر نوٹس پر آئے ہیں جو بلاشبہ ہر کوئی یہ کام نہیں کر سکتا۔ صحت کے شعبے میں آپ کے ساتھ کام کرنے سے ہم لوگوں کے تجربے میں اضافہ ہوگا۔ مہمان خصوصی جناب موہن موہن کمار جھا کا استقبال سجاد احمد صاحب نے مومنٹو اور شال سے کیا۔ پروگرام کی نظامت ایڈووکیٹ شاہد اطہر، ڈائریکٹر، متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس نے کی۔ انسٹیٹیوٹ کے سنٹر ہیڈ گوپی کشن، استاد سمرن تیواری، استاد امت منڈل، محمد دانش، رگھوناتھ کمار صدیقہ خاتون، محمد رضوان وغیرہ نے پروگرام کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون کیا۔

Friday, 11 April 2025

تاریخی “جن سوراج” ریلی: بہار میں تبدیلی کی نئی لہر کی پرواز :شکیل اشرفی/ شاہد اطہر





گاندھی میدان آج ایک تاریخی منظر کا شاہد بنا، جب “جن سوراج” کی بہار بدلاؤ ریلی میں لاکھوں افراد کا سمندر امڈ آیا۔ پرشانت کشور کی قیادت میں منعقد اس عظیم اجتماع کو بہار کی سیاست میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ جمِ غفیر اس بات کی دلیل ہے کہ بہار کی عوام اب بیروزگاری، ہجرت، اور ذات پر مبنی سیاست سے تنگ آ کر حقیقی تبدیلی کی تلاش میں ہے۔ پرشانت کشور نے جوش و جذبے سے لبریز عوام سے خطاب کرتے ہوئے تعلیم، روزگار، اور شمولیتی طرزِ حکمرانی پر مبنی نئے بہار کے قیام کا عزم ظاہر کیا۔ میدان میں ہر طرف ولولہ انگیز نعرے گونج رہے تھے، اور بینروں کے سائے میں ایک نئے دور کے آغاز کی بازگشت سنائی دے رہی تھی۔ یہ صرف ایک ریلی نہیں، یہ بہار کی بیداری ہے،” کشور نے اعلان کیا، اور نوجوانوں و مایوس ووٹرز سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک کا حصہ بنیں۔ تاہم، یہ ریلی تنازعات سے خالی نہیں رہی۔ اطلاعات کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے ریلی میں لوگوں کی شرکت کو روکنے کی کوششیں کی گئیں — کئی سڑکیں بند کر دی گئیں اور لاکھوں افراد کو پٹنہ پہنچنے سے روکا گیا۔ مگر ان رکاوٹوں کے باوجود، ریلی میں شریک عوام نے یہ پیغام دے دیا کہ اب انہیں نہ دبایا جا سکتا ہے، نہ روکا جا سکتا ہے۔ اگر تم ہمیں روکنے کی کوشش کرو گے، تو ہم اور مضبوط ہو کر لوٹیں گے،” یہ جذبہ ہر چہرے پر نمایاں تھا — ایک ایسی للکار جو اقتدار کے ایوانوں میں خطرے کی گھنٹی بن سکتی ہے۔ یہ ریلی بہار کی سیاست میں زلزلہ لے آئی ہے۔ “جن سوراج” اب نومبر 2025 کے اسمبلی انتخابات میں ایک سنجیدہ اور مضبوط متبادل کے طور پر ابھرتا دکھ رہا ہے۔ آر جے ڈی اور جے ڈی (یو) جیسی بڑی جماعتیں اس عوامی لہر کے بعد ششدر ہیں، اور پوری توجہ کے ساتھ حالات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ پٹنہ کی فضا میں اب تبدیلی کی خوشبو ہے، اور ایک بات طے ہے - 11 اپریل 2025 کا دن بہار کی تاریخ میں اس دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب اس ریاست نے بڑے خواب دیکھنے کی ہمت کی۔ یہ انقلاب کی ابتدا ہے یا ایک لمحاتی اُمید  اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔

حکومت کسانوں کو فی ایکڑ 50 ہزار روپے معاوضہ دے: سی پی آئی

 


پٹنہ، 11 اپریل  بھارتی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی) کے ریاستی سکریٹری رام نریش پانڈے نے بہار بھر میں بے وقت بارش سے فصلوں کو پہنچنے والے بھاری نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے آندھی اور آسمانی بجلی گرنے سے ہونے والی اموات پر بھی دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

رام نریش پانڈے نے جمعہ کو کہا کہ تیز آندھی، موسلادھار بارش اور وِدْیُت پات (آسمانی بجلی) نے پورے بہار میں تباہی مچا دی ہے۔ گندم، مکئی، پیاز، مسور، چنا، مونگ، آم اور لیچی جیسی تیار فصلوں کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ اس صورتحال میں بہار کے کسان برباد ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو فی ایکڑ 50 ہزار روپے کے حساب سے فصلوں کا معاوضہ دیا جائے۔ اس کے علاوہ آسمانی بجلی سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو فی کس 25 لاکھ روپے معاوضہ فراہم کیا جائے۔

سی پی آئی رہنما نے کہا کہ کسانوں نے قرض لے کر گندم کی فصل بوئی تھی، لیکن اس غیرموسمی بارش اور آندھی نے ان کی محنت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ اسی طرح آم اور لیچی کے باغات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر فصل کے نقصان کا تخمینہ لگوائے اور کسانوں کو فی ایکڑ 50 ہزار روپے معاوضہ دے۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ آندھی اور آسمانی بجلی گرنے سے 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام جاں بحق افراد کے پسماندگان کو 25 لاکھ روپے فی کس کی مالی مدد کی ضمانت دے۔

Thursday, 3 April 2025

متھلا انسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس میں ضرورت ہے


 

ملی صفوں میں اتحاد ،اور مفاد پرست سیاسی لیڈران کے مستقل بائیکاٹ کی اپیل:شکیل اشرف

 





سنگھوارہ دربھنگہ (ایس ایم ضیاء)یہ اپیل ایک انتہائی 

سنجیدہ اور نازک مسئلے پر مسلم کمیونٹی کو متحد و متحرک کرنے کی کوشش ہے۔ وقف بل کی حمایت کرنے والے رہنماؤں کے بائیکاٹ کا مطالبہ دراصل ایک بڑے اصولی مؤقف کی نمائندگی کرتا ہے، جو درج ذیل نکات پر مبنی ہے: مذکورہ باتیں شکیل اشرفی ابو ظہبی نے پریس بیان بھیج کر کہی انھوں نے کہا کہ مسلم رہنماؤں کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی کے مفادات، حقوق، اور وقار کا دفاع کریں۔ وقف املاک کا مسئلہ نہ صرف ایک مالیاتی یا قانونی معاملہ ہے بلکہ یہ مسلم وراثت، مذہبی خودمختاری، اور سماجی فلاح و بہبود سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جو رہنما اس بل کی حمایت کرتے ہیں، وہ دراصل ان حقوق کی کمزوری کا سبب بن رہے ہیں، اور اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اجتماعی اثاثے اور ان کی خودمختاری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اسی لئے ایسے سیاسی لیڈران و سیاسی پارٹیوں کا بیکاٹ ہونا چاہیے 

 شکیل اشرفی نے مزید کہا کہ یہ بائیکاٹ کسی ذاتی عناد یا سیاسی رقابت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک اصولی موقف پر ہے۔ اس کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ مسلم کمیونٹی کو سیاسی طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور ان کی حمایت کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔ سیاسی رہنماؤں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے فیصلے عوام کی نظروں میں ہیں اور وہ ان کے ہر اقدام پر جوابدہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ وقت ایسا وقت ہے کہ مسلم کمیونٹی اپنی قیادت پر دوبارہ غور کرے۔ قیادت وہی مستحق ہے جو واقعی کمیونٹی کے مفادات کی نمائندگی کرے، نا کہ وہ جو صرف اپنی پارٹی کے احکامات پر عمل کرے یا وقتی سیاسی فوائد کے لئے فیصلے کرے۔ یہ بائیکاٹ ایک تحریک کا آغاز ہے تاکہ مسلم عوام ایسی قیادت کو مسترد کریں جو ان کے بنیادی حقوق کا دفاع کرنے میں ناکام ر ہے۔ انھوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 

یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنی سیاسی بصیرت کو مزید مضبوط کرنا ہوگا اور ایک اجتماعی شعور پیدا کرنا ہوگا تاکہ وہ اپنی بقا، اپنی جائیدادوں، اور اپنے مذہبی و سماجی تشخص کے دفاع کے لئے صحیح راستہ اختیار کرسکیں۔ یہ وقت مسلمانوں کو متحد ہو کر صرف ان افراد اور جماعتوں کی حمایت کرنے کا ہے جو عملی طور پر مسلمانوں کے مفادات کے لئے کام کر رہے ہیں۔

بائیکاٹ محض ایک علامتی قدم نہیں بلکہ ایک عملی حکمت عملی ہے۔ کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ نہ صرف غفلت برتنے والے رہنماؤں کو مسترد کرے بلکہ ایسے متبادل نمائندے سامنے لائے جو واقعتاً وقف املاک، مسلمانوں کے سیاسی حقوق اور سماجی استحکام کے لئے کام کرنے کے عزم کا مظاہرہ کریں۔ یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ اگر آج مسلم کمیونٹی اپنی قیادت کو جوابدہ نہیں بنائے گی، تو مستقبل میں اس سے بھی زیادہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا، یہ بائیکاٹ صرف ایک وقتی ردعمل نہیں بلکہ ایک طویل مدتی حکمت عملی ہونی چاہیے جو مسلمانوں کی اجتماعی طاقت اور سیاسی بصیرت کو مضبوط کرے

Tuesday, 1 April 2025

عید ملن اور پٹنہ ریلی کے حوالے سے گفتگو: شاہد اطہر

 




دربھنگہ: عید ملن کے موقع پر نگر جن سوراج کے جنرل سکریٹری شوکت صاحب کے ساتھ پارٹی کے لیڈروں علی اکبر اور اسلم صاحب کی رہائش گاہ پر لوگوں سے گلے مل کر مبارکباد دیتے ہوئے دربھنگہ شہری اسمبلی کے لیے پارٹی اور ممکنہ امیدوار ایڈوکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ 11 اپریل 2025 کو پٹنہ گاندھی میدان کی ریلی کو کس طرح کامیاب بنایا جائے اور ہر بار کی طرح اس بار بھی دربھنگہ ضلع کے لوگوں کا ہجوم کیسے جائے گا اس پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ شاہد اطہر نے کہا کہ بسوں اور فور وہیلر کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی آمدو رفت پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ نگر کے جنرل سکریٹری شوکت جی نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے تمام 48 وارڈ اور 18 بلاکس کی تمام پنچایتوں میں گھر گھر جا کر لوگوں کو اس ریلی کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ اسلم بھائی نے کہا کہ ان سہولتوں کے علاوہ لوگوں کے لیے ٹرین سے بھی سفر کرنا زیادہ آسان ہوگا، جہاں سے پٹنہ جنکشن سے گاندھی میدان تک تمام اضلاع سے آنے والے جن سوراج ساتھیوں کا ایک گروپ بنا کر گاندھی میدان کو بھرنے کا کام کیا جائے گا۔ علی اکبر نے کہا کہ اس بار پورے بہار میں رمضان کے دوران پارٹی کے سپریمو محترم پرشانت کشور جی کی قیادت میں کامیاب افطار کا پروگرام انعقاد کیا گیا جس سے جن سوراج کے تمام ساتھیوں کے حوصلے بہت بلند ہوئے ہیں۔ خاص طور پر ہمارے لیڈر نے جس طرح اقلیتی برادری کے درمیان گئے، پریس کانفرنسیں کیں اور لوگوں سے براہ راست رابطہ کیا اور پارٹی کی پالیسیوں کی وضاحت کی، انہوں نے ہمیشہ کہا کہ پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس کی آبادی کے مطابق اسے بھرپور شرکت ملے گی۔ اس لیے ہم سب کا بہت حوصلہ ہوا ہے اور ہم لوگ پوری تیاری کے ساتھ بہار اسمبلی الیکشن لڑیں گے اور اس ڈبل انجن والی حکومت کو گرانے کے لیے کام کریں گے۔




Wednesday, 26 March 2025

وقف ترمیمی بل کے خلاف ہماری پارٹی ہمیشہ کھڑی رہی ہے اور کھڑی رہے گی: لالو پرساد

 




وقف ترمیمی بل کی واپسی تک آر جے ڈی سڑک سے لے کر ایوان تک احتجاج جاری رکھے گی: تیجسوی پرساد یادو




پٹنہ، 26 مارچ :مرکزی حکومت کے ذریعے پیش کردہ وقف ترمیمی بل کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، امارتِ شرعیہ، خانقاہ مجیبیہ، جمعیت علمائے ہند، جماعتِ اسلامی، خانقاہ رحمانی، جماعت اہل حدیث سمیت مختلف مسلم تنظیموں نے گردنی باغ، پٹنہ میں ایک عظیم الشان دھرنا کا انعقاد کیا۔اس موقع پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی صدر لالو پرساد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف ہماری جدوجہد کبھی ختم نہیں ہوگی، اور ہم کسی بھی قیمت پر اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل جمہوریت کے خلاف اور آئینی حقوق پر حملہ ہے، اور ہم اس کی واپسی تک آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

لالو پرساد نے مزید کہا:"بی جے پی ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے، اور جو بھی پارٹی اس کی حمایت میں کھڑی ہے، وہ بے نقاب ہوچکی ہے۔ کچھ پارٹیاں محض اقتدار کی خاطر بی جے پی کی پالیسیوں کی حمایت کر رہی ہیں، جو قابل مذمت ہے۔"

اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا:"یہ بل مکمل طور پر غیر آئینی ہے، اور اس کے خلاف جو زبردست احتجاج کیا گیا ہے، میں اس کے لیے تمام تنظیموں اور عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہماری پارٹی، اور ہمارے رہنما لالو پرساد جی ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔"


انہوں نے کہا کہ:"لالو جی کی طبیعت خراب ہونے کے باوجود وہ آج اس دھرنے میں شامل ہوئے ہیں، تاکہ یہ پیغام دیا جائے کہ اقتدار رہے یا جائے، ہم اس بل کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہم نے آج اسمبلی میں وقف ترمیمی بل کے خلاف تحریک التوا پیش کیا تھا، جس کی وجہ سے حکومت کو ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔"

تیجسوی یادو نے مزید کہا:"یہ وقت آئین کی حفاظت کا ہے۔ جو لوگ محض اقتدار کی خاطر اس غیر آئینی بل کی حمایت کر رہے ہیں، وہ بابا صاحب امبیڈکر کے آئینی نظام کو کمزور کرنے کی سازش میں شامل ہیں۔ لیکن ہم عوام کے ساتھ مل کر اس سازش کو ناکام بنائیں گے۔"

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ:"اگر آپ اس احتجاج میں ایک قدم بڑھائیں گے، تو ہماری پارٹی چار قدم آگے بڑھے گی۔ ہم کسی بھی قیمت پر اس بل کو لاگو نہیں ہونے دیں گے، کیونکہ اس کا مقصد وقف جائیدادوں کو ہڑپنا ہے۔ لیکن ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔"

آر جے ڈی کے ترجمان اعجاز احمد نے بتایا کہ لالو پرساد اور تیجسوی یادو خود دھرنا میں شامل ہوئے اور احتجاج کو مضبوط حمایت دی۔ اس موقع پر پارٹی کے کئی سرکردہ رہنما اور کارکنان بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، جن میں عبدالباری صدیقی،ا±دَے نارائن چودھری،علی اشرف فاطمی،محبوب علی قیصر،ڈاکٹر تنویر حسن،رنوجے ساہو،اختر الاسلام شاہین،محمد نہال الدین،قاری محمد صہیب،یوسف صلاح الدین،شکتی سنگھ یادو،محمد فاروق،اعجاز احمد،مجتبیٰ حسین راہی،خورشید عالم صدیقی،غلام ربانی،محمد مہتاب عالم،محمد افروز عالم،محمد مشتاق احمد،سنیل کمار سنگھ،پروفیسر چندر شیکھر،ڈاکٹر ارمِلا ٹھاکر،اس کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں آر جے ڈی کارکنان اور اقلیتی برادری کے رہنما اس دھرنے میں شریک رہے۔

لالو پرساد اور تیجسوی یادو نے واضح الفاظ میں کہا کہ آر جے ڈی ہمیشہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑی رہے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ بل اقلیتوں کے خلاف ایک سازش ہے، اور ہم اسے کسی بھی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔"ہم نے کبھی فرقہ پرست طاقتوں سے سمجھوتہ نہیں کیا، اور نہ کبھی کریں گے۔ ہمارا یہ عزم ہمیشہ برقرار رہے گا۔"


بہار دیوس میں صغیرہ فاونڈیشن کی خدمات کا اعتراف




صغیرہ فاونڈیشن کے قیام کو بمشکل تین سال ہوئے ہیں۔ان تین سالوں میں اس کی خدمات کا جائزہ ہم لیتے ہیں تو مسرت بھی ہوتی ہے اورافتخار کا جذبہ بھی پیدا ہو تا ہے۔صغیرہ فاونڈیشن کے بانیان شروع سے ہی رمضان کے مبارک مہینہ میں غیر یبوں اورمحتا جوں کے درمیان راشن کی تقسیم کرتے رہے ہیں اور اس نیک کاموں کواب نہ صرف گونڈوی تگ محدود کئے ہوئے ہیں بلکہ نیو ممبئی شیووڈ، ماہم دھاراوی اور ممبئی میں رے روڈ تک اس کام کو بخوبی انجام دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔راشن کی تقسیم میں کسی طرح کی تفریق نہیں برتی گئی ہے، ہر طبقہ کے غریبوں اور محتاجوں کو راشن کا بستہ دیا گیا ہے۔حالیہ برسوں میں صغیرہ فاونڈیشن کا دائرہ ہیلتھ اور تعلیمی امداد تک  جا پہنچا ہے۔اپنے قیام کے باقاعدہ پہلے سال گونڈوی میں ایسے طلباء وطالبات جو اپنی فیس ادا نہیں کر پا رہے تھے ان کی پوری فیس براہ راست اسکول میں ادا کی گئی ہے۔ابتک ایسے مریض جو علاج کے اخراجات ادا نہیں کر پارہے تھے، جنہوں نے صغیرہ فاونڈیشن کے ذمہ داران سے رابطہ کیا ہے، تفتیش کے بعد ان کے علاج کے اخراجات براہ راست اسپتالوں میں داخل کئے گئے ہیں۔ ممبئی میں اہل بہار سالہا سال سے مقیم ہیں ان کے مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کے لئے ممبئی کے اسلام جمخانہ مرین لائنس میں بہار کے دانشوروں کا ایک یادگار عظیم جلسہ منعقد کیا گیا۔مذکورہ پروگرام میں بہار کے ہر مکتبہ فکر کے دانشوروں نے بہت ہی جوش وخروش سے حصہ لیا اور اسکے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔بہار فاونڈیشن ممبئی چیپٹر حکومت بہار کی تنظیم ہے جس کا بنیادی مقصد ممبئی میں مقیم اہل بہار کی فلاح وبہبود سے ہے مزید بہار کے تاجروں کو بہار میں تجارت کے قیام اور فروغ میں مدد اور رہنمائی بھی دینی ہے۔ابھی 23 مارچ سنہ2024 کو نیو ممبئی میں بہار دیوس جوش وخروش کے ساتھ ساتھ منایا گیا مذکورہ جشن میں بہار کے کئی وزراء شریک ہوئے۔ممبئی میں بہار کے اعلی عہدوں پہ فائز افسران بھی موجود تھے۔ اس جشن میں صغیرہ فاونڈیشن کی خدمات کا تذکرہ ہوا،خوب ستائش اور پذیرائی ہوئی۔ جناب سنجے سراوگی ریونیو اینڈ لینڈ منتری کے ہاتھوں جناب ابرار احمد شیخ جنرل سیکریٹری صغیرہ فاونڈیشن کو شال پیش کیا گیا، انھیں صغیرہ فاونڈیشن کی اہم خدمات کے لئے ستائشی شیلڈ بھی پیش کیا گیا۔اس موقع سے صغیرہ فاونڈیشن کے ٹرسٹی جناب نظام الدین اور یا سین انصاری صاحبان کی بھی گلپوشی کی گئ اور انھیں ستائشی کلمات سے نوازا گیا۔

ابرار احمد شیخ 

جنرل سیکرٹری صغیرہ فاونڈیشن گونڈوی ممبئی

Tuesday, 25 March 2025

تہرین ارشاد نے 412 نمبر لاکر نمایاں کامیابی حاصل کی


بھانجی کے کامیابی پے اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں: ایڈووکیٹ شاہد اطہر 




دربھنگہ : تہرین ارشاد نے آئی ایس سی میں 412 نمبر کے ساتھ 4 پیپرز میں ڈسٹنکسن کے ساتھ نمایاں کامیاب ہوتے ہوئے اپنے والدین کے نام روشن کی ہے الحمدللہ- اس موقع پر ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کے اللہ کے حکم سے اور والدین کے دعا کے ساتھ ساتھ محنت و مشقت سے پڑھائی کرنے کے وجہ سے بہترین مقام حاصل کرتے ہوئے سبھی کا نام روشن کیا ہے - اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اسی طرح سبھی منزل پر کامیابی کا پرچم لہراتے ہوئے آگے بڑھتی رہے۔۔۔ امین۔۔ تہرین ارشاد کو مبارکباد دینے والوں میں والدین کے علاوہ نانی محترمہ ' مامو جاوید اشرف حاجی اظہار اشرف حافظ عبداللہ بخاری خالو محمد محسن انصاری محمد اصد بابو کے ساتھ ساتھ سبھی خالہ ممانی کے علاوہ محمد اختر عالم حاجی آفتاب عالم عرف منا وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہے ? معلوم ہو کہ تہرین ارشاد سمستی پور کالج سمستی پور کی ٹاپر ہوئی ہے


Monday, 24 March 2025

قومی صدر لالو پرساد کی دعوتِ افطار میں گورنر عارف محمد خان سمیت ہزاروں روزہ داروںنے کی شرکت

 



پٹنہ، 24 مارچ :راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی صدر لالو پرساد یادو کی جانب سے دعوتِ افطار کا اہتمام آر جے ڈی کے قومی پرنسپل جنرل سکریٹری عبدالباری صدیقی کی سرکاری رہائش گاہ پر کیا گیا۔ اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں روزہ داروں کے ساتھ ساتھ بہار کے گورنر عارف محمد خان، معزز شخصیات اور مہاگٹھ بندھن کے تمام اتحادی جماعتوں کے رہنماو¿ں نے شرکت کی۔

میزبان کے طور پر لالو پرساد یادو، سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی، اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو اور عبدالباری صدیقی آنے والے تمام مہمانوں کا پرتپاک استقبال کر رہے تھے۔

افطار کے لیے روزہ داروں کے لیے علیحدہ خصوصی انتظامات کیے گئے تھے، جہاں نماز ادا کرنے کی سہولت بھی موجود تھی۔ معروف عالم مولانا حسیب اکرام الحق نے نمازِ مغرب کی امامت کی۔

نمازِ مغرب سے قبل روزے اور رمضان المبارک کی فضیلت و اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی اور اجتماعی دعا کی گئی۔ لالو پرساد یادو اور تیجسوی یادو نے کہا کہ اس طرح کے مذہبی و ثقافتی پروگرام مشترکہ وراثت کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ اس موقع پر ملک کی ترقی، یکجہتی، بھائی چارے اور محبت کے فروغ کے لیے دعا کی گئی اور کہا گیا کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو مزید استحکام ملے گا۔

اس موقع پر جن معزز شخصیات نے شرکت کی، ان میں گورنر عارف محمد خان، غلام غوث، پشوپتی کمار پارس، پرنس راج، سورج بھان سنگھ، پرتیماداس، کے ڈی یادو، رام بابو، متھیلیش جھا، علی اشرف فاطمی، ا±دے نارائن چودھری، شیوانند تیواری، اسرائیل منصوری، ڈاکٹر تنویر حسن، سید فیصل علی، قاری شعیب، ڈاکٹر کانتی سنگھ، جے پرکاش نارائن یادو، اخترالاسلام شاہین، ابو دجانہ، اشوک سنگھ، آلوک کمار مہتا، جاوید اقبال انصاری، وجے پرکاش، شکتی سنگھ یادو، اعجاز احمد، ڈاکٹر انور عالم، چترنجن گگن، مہتاب عالم، خورشید عالم صدیقی، آرزو خان، اخلاق احمد، ساریکا پاسوان، بنٹو سنگھ، اشرف صدیقی، شاہنواز عالم، ارون یادو، بھائی ارون کمار، بلی یادو، غلام ربانی، مولانا نقیب، انعام الحق، اروند سہنی، نندو یادو، پروفیسر چندردیپ، انیل سادھو، کمار رائے سمیت ہزاروں کی تعداد میں روزہ دار اور دیگر افراد شامل تھے۔ اس کے علاوہ مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندے بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔


20 سالوں سے ریاستی حکومت نے عوام کو دھوکہ دیا، ایکسرے تو کیا لیکن علاج نہیں: پون کھیڑا

 





پٹنہ:"سرکاربدلو، بہار بدلو" کے نعرے کے ساتھ کانگریس پارٹی ریاستی مسائل کی حقیقی تشخیص (ایکس رے) کرے گی اور اس کا حل بھی نکالے گی۔ یہ باتیں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے میڈیا اور پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین پون کھیڑا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہیں۔انہوں نے کہا کہ بہار ستیہ گرہ اور انقلابات کی سرزمین ہے۔ آج شہید بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی برسی ہے، جبکہ گزشتہ روز بہار نے اپنی 113ویں یومِ تاسیس منائی، لیکن گزشتہ 20 سالوں میں بہار کے ساتھ دھوکہ ہوا۔ بہار کے لوگ پلائن (نقل مکانی) پر مجبور ہیں، جبکہ یہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں بلکہ اس کی صحیح استعمال کی کمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کیگ (CAG) کی رپورٹ سامنے آئی، لیکن نہ تو اس پر پارلیمنٹ میں بحث ہوئی، نہ اسمبلی میں اور نہ ہی ٹی وی چینلز پر اس کا ذکر ہونے دیا گیا۔ بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کی صحت کی سب کو فکر ہے، لیکن بہار کی صحت کا کسی کو خیال نہیں۔

ریاست کے آدھے سے زیادہ اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی کمی ہے، نرسوں کی کمی، دوائیوں کی کمی ہے۔ 86 فیصد ماہر (اسپیشلسٹ) ڈاکٹروں کی کمی ہے اور یہ خود حکومت کی رپورٹ ہے۔ بہار کے بچوں میں سوءتغذیہ (کپوشن) کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ کمسن لڑکیوں میں خون کی کمی (انیمیا) میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ذات پر مبنی مردم شماری کے نفاذ کو سازش کے تحت روکا گیا، اور جب معاملہ عدالت پہنچا، تو وہاں بھی صحیح طریقے سے وکالت نہیں کی گئی، جبکہ تلنگانہ نے یہ مردم شماری نافذ کر کے مثال قائم کی۔

پون کھیڑا نے مزید کہا کہ "اگر بہار کو بدلنا ہے تو بہار کی حکومت کو بدلنا ہوگا۔ آج ہم نعرہ دے رہے ہیں: 'سرکاربدلو، بہار بدلو'"۔ بغیر حکومت بدلے ریاست کی تقدیر نہیں بدلی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس کے پاس ہر طبقے کے لیے ایک مضبوط ویژن ہے۔ گزشتہ بیس سالوں کے بدعنوانی پر مبنی اقتدار میں کوئی بھی طبقہ ایسا نہیں جو خود کو دھوکہ کھایا محسوس نہ کر رہا ہو۔ کانگریس ہر طبقے کے لیے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت بہار میں انتخابات لڑے گی۔ جب عوام کو حکومت کی اصل ذمہ داریوں کا ادراک ہوگا، تبھی بہار کے نوجوان سمجھیں گے کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

ریاستی کانگریس کے انچارج کرشنا الاوارو نے کہا کہ بہار میں ذات پر مبنی مردم شماری کی بات کی جاتی ہے، لیکن اگر ایکسرے ہو چکا ہے، تو علاج شروع کیوں نہیں ہوا؟ ذاتوں کو شمار کرنے کا کام آپ نے کیا، لیکن اعداد و شمار کس بنیاد پر بنائے گئے، آج تک واضح نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت نے ذات پر مبنی مردم شماری کو مکمل کیا اور اسے صحیح طریقے سے نافذ بھی کیا۔ وہاں کی حکومت نے ہر طبقے کو مساوی مواقع فراہم کیے، لیکن بہار میں ڈبل انجن حکومت کے باوجود مردم شماری کے نتائج کو نافذ کرنے میں ناکامی ایک بڑا سوال ہے۔

بہار کانگریس کے صدر راجیش کمار نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بہار کے اپنے پروگرام میں سماجی انصاف اور آئین کے تحفظ کی بات کی تھی، اور ہم اسی راہ پر آگے بڑھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں دلتوں، پسماندہ طبقات اور غریبوں کو ان کا جائز حق دیا جائے گا۔ سب کو ساتھ لے کر پارٹی کو اس کے شاندار ماضی سے جوڑتے ہوئے تنظیم کو مضبوط کیا جائے گا۔

راجیش کمار نے مزید کہا کہ وہ 1990 کے دور کی مضبوط کانگریس کو بہار میں دوبارہ کھڑا کریں گے۔

اے آئی سی سی کے سکریٹری اور بہار کے معاون انچارج سشیل کمار پاسی،قومی میڈیا کوآرڈینیٹر ابھے دوبے،بہار کانگریس میڈیا ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین راجیش راٹھور،موتی لال شرما،قومی ترجمان ڈاکٹر اجے اپادھیائے،ٹینا کرم ویر، رتو سنگھ، اجے چودھری، پردیش ترجمان آنند مادھو، ڈاکٹر سنیہاشیش وردھن پانڈے، گیان رنجن، پنکج چودھری، پرینکا گپتا، جیوتی سنگھ ، امن چین کے سنیئر رپورٹر محمد اشفاق سمیت کئی دیگر رہنما موجود تھے۔


Sunday, 23 March 2025

حکومت ہند سے منظور شدہ پرائمری ٹیچر اسکلنگ پروگرام لانچ





پٹنہ:حکومت ہند کے اسکل منسٹری کے تحت این سی وی ای ٹی کی جانب سے منظور شدہ پرائمری ٹیچر اسکلنگ پروگرام کو پرائیویٹ اسکولز اینڈ چِلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے تعاون سے مشترکہ طور پر لانچ کیا گیا۔

حکومت ہند کے اسکل ڈیولپمنٹ منسٹری اور پرائیویٹ اسکولز اینڈ چِلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے اشتراک سے 23 مارچ 2025 کو پٹنہ کے ہوٹل چانکیہ میں اسکل انڈیا پروگرام کا آغاز کیا گیا، جس کے تحت اساتذہ کو جدید تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ بچوں کو معیاری تعلیم دی جا سکے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

اس پروگرام کے افتتاح کنندہ آئی پی ایس وکاس ویبھو تھے، جبکہ مہمانِ خصوصی کرنل انیل کمار پوکھریال ، پاسوا کے قومی صدرشمائل احمد، سینٹ مائیکل ہائی اسکول کے پرنسپل فادر کرسٹی، سینٹ زیویرس ہائی اسکول کے پرنسپل فادر ڈومینک اور جھارکھنڈ پردیش کے سیکریٹری توفیق حسین نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ پروگرام کا باضابطہ آغاز چراغ روشن کرکے کیا گیا۔

پروگرام کی نظامت ایسوسی ایشن کی قومی سیکریٹری فوزیہ خان نے کی۔

حکومت ہند کے اسکل ڈیولپمنٹ کے سی ای او کرنل انیل کمار پوکھریال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہار پہلی ایسی ریاست ہے جہاں پرائیویٹ اسکولز اینڈ چِلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن سے منسلک ایک لاکھ اساتذہ کو تربیت فراہم کی جائے گی۔

اس موقع پر سینٹ مائیکل ہائی اسکول کے پرنسپل فادر کرسٹی اور سینٹ زیویرس ہائی اسکول کے پرنسپل فادر ڈومینک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اپنے اپنے اداروں میں اساتذہ کی تربیت کا اہتمام کریں گے تاکہ طلبہ کو اس کا فائدہ ہو۔

ایسوسی ایشن کے قومی صدشمائل احمد نے پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے بھارت کے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت پری اسکول کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے اساتذہ کو اسکل ڈیولپمنٹ کے ذریعے تربیت دینے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔

پٹنہ کے ہوٹل چانکیہ میں 400 سے زائد اسکولوں کے سربراہان کے درمیان اسکل ڈیولپمنٹ آف انڈیا اور پرائیویٹ اسکولز اینڈ چِلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے درمیان ایک MOU (مفاہمتی یادداشت) پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت ملک بھر کے اساتذہ کو سبسڈی ریٹ پر تربیت فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا۔

اس موقع پرشمائل احمد نے تمام نجی اسکولوں کے مالکان سے اپیل کی کہ وہ اپنے اساتذہ کو جدید تربیت دلوائیں۔

تعلیمی شعبے میں 50 سال مکمل کرنے پر کٹیہارکے محترم مدن لال منڈل کو ایسوسی ایشن کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اساتذہ کی تربیت کے لیے اسکل ڈیولپمنٹ آف انڈیا نے نالندہ لرننگ کو مجاز ادارہ مقرر کیا ہے۔

اس موقع پر دہلی سے آئے سنتوش سہا، نظام الدین احمد، NSDC کی بھاﺅنا ورما، نالندہ لرننگ کے سی ای او تمَل مکھرجی، انیل رانا، گلوبل گارنر کے وکاس راوت، اکیڈالی کے شریک بانی یش پرکاش اور رشی اگروال، ڈاکٹر شیام نارائن کمار، ڈاکٹر دیوانند جھا سمیت 400 سے زائد شخصیات کو مہمانِ خصوصی وکاس ویبھو کے ہاتھوں مومنٹو پیش کرکے اعزاز سے نوازا گیا۔

پروگرام کے دوران اسٹیج کی میزبانی اور مہمانوں کا استقبال ایسوسی ایشن کی قومی سیکریٹری فوزیہ خان نے کیا۔


بہار حکومت کے محصولات و اصلاحات اراضی کے وزیر سنجے سراﺅگی نے صغیرہ فاﺅنڈیشن کے فلاحی کاموں کی تعریف کی اور ایوارڈ سے نوازا

 



ممبئی: 23-03-2025

کو بنٹ ہال، نوی ممبئی میں بہار دیوس کے موقع پر بہار سرکار کے ادارے بہار فائونڈیشن (ممبئی چیپٹر) کی جانب سے صغیرہ فائونڈیشن کو ممبئی میں صحت، تعلیم، اجتماعی شادیوں اور دیگر فلاحی کاموں میں نمایاں خدمات انجام دینے پر بہار حکومت کے محکمہ محصولات اصلاحات اراضی کے معزز وزیر، جناب سنجے جی سراوگی کے ہاتھوں ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اس موقع پر صغیرہ فا ئونڈیشن کے سیکریٹری ابرار احمد شیخ، ٹرسٹی نظام الدین شیخ، یاسین انصاری صاحب سمیت دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔