Wednesday, 5 February 2025

ہندوستانی نسل کی گائے برازیل کے ’مویشی میلہ‘ میں 40 کروڑ روپے میں فروخت، اس کی خصوصیات ہیں بے شمار!

 









برازیل کے میناس گیریس میں اِن دنوں مویشیوں کا میلہ لگا ہوا ہے جہاں ہندوستانی نسل کی ایک گائے سب سے زیادہ قیمت میں فروخت کی گئی ہے۔ اس گائے کا نام ویاٹینا-19 ہے جو نیلّور نسل کی گائے ہے۔ گائے کی یہ نسل ہندوستان کے آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں پائی جاتی ہے۔ یہ گائے دیکھنے میں جس قدر خوبصورت ہے اتنی ہی زیادہ اس کے اندر خوبیاں بھی ہیں۔ اس گائے نے ’مِس ساو¿تھ امریکہ‘ کا ٹائٹل بھی جیتا تھا۔ اس کے بعد سے ہی یہ گائے خبروں میں ہے۔ یہی نہیں دنیا کے کئی ممالک میں لوگ اس گائے کے بچھڑے لے کر گئے ہیں تاکہ اچھی نسل کی گائے تیار کی جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس گائے کے لیے بولی لگائی گئی تو ایک خریدار نے 40 کروڑ روپے تک کی اونچی قیمت ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔


نیلّور نسل کی گایوں کو آگنول بِرِیڈ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ ان گایوں کی خصوصیات یہ ہے کہ یہ انتہائی مشکل اور گرم حالات میں بھی رہ سکتی ہیں اور ان کی دودھ دینے کی صلاحیت بھی متاثر نہیں ہوتی ہے۔ ویسے عام طور پر انتہائی گرم موسم میں دیگر نسلوں کی گایوں کی دودھ کم ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ نیلّور نسل کی گایوں کی امیونٹی سسٹم (قوت مدافعت) بھی شاندار ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کے پوری دنیا میں ان کی مقبولیت بہت زیادہ ہے۔



نیلّور نسل کی گایوں گی دیگر خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ یہ کم دیکھ بھال اور مشکل حالات والے علاقوں میں بھی آسانی سے رہ لیتی ہیں۔ سفید اور کندھے پر اونچے کوہان والی ان گایوں میں یہ خاصیت بھی ہے کہ یہ اونٹوں کی طرح طویل عرصے تک کے لیے کھانا اور پانی کو ذخیرہ کر سکتی ہیں۔ ذخیرہ اندوزی میں اونٹ والی صفت ہونے کی وجہ سے ان کا صحراو¿ں اور گرم علاقوں میں رہنا آسان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں نیلّور نسل کی گایوں کی مانگ بڑھ گئی ہے۔ بعض اوقات چارے وغیرہ کی کمی ہونے پر پشوو¿ں کے لیے زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں یہ گائیں ایک بہترین آپشن ہیں۔ ساتھ ہی یہ گائیں فَیٹ (چربی) کی بھی اسٹوریج (ذخیرہ) کر لیتی ہیں۔ ان ہی سب خصوصیات کی وجہ سے مشکل اور ناموافق حالات میں بھی ان کی صحت پر خاصا اثر نہیں ہوتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ نیلّور نسل کی گائیں برازیل میں بھی بڑے پیمانے پر پالی جاتی ہیں۔ 1800 سے ہی برازیل میں اس نسل کی گائیں پالی جا رہی ہیں۔



عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث آسمان پر پہنچیں سونے کی قیمتیں، 24 گھنٹوں میں 1300 روپے کا اضافہ

 








نئی دہلی: عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال اور امریکہ-چین تجارتی کشیدگی کے باعث سونے کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن (آئی بی جے اے) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 24 قیراط سونے کی قیمت 1300 روپے اضافے کے ساتھ 84320 روپے فی 10 گرام تک پہنچ گئی ہے، جو اس سے پہلے 83010 روپے فی 10 گرام تھی۔


جبکہ 22 قیراط سونے کی قیمت 82300 روپے فی 10 گرام، 20 قیراط سونا 75050 روپے اور 18 قیراط سونا 63800 روپے فی 10 گرام میں فروخت ہو رہا ہے۔


کاما جیولری کے مینیجنگ ڈائریکٹر کالن شاہ کے مطابق، بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 2880 ڈالر فی اونس کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ ڈالر انڈیکس کا کمزور ہونا ہے، جو 109 سے کم ہو کر 107 پر آ گیا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی اختلافات نے بھی سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا ہے، جس سے سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔



بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت جنوری کے آغاز سے اب تک 8 فیصد تک بڑھ چکی ہے اور فی الحال 2,891 ڈالر فی اونس پر ہے۔ کالن شاہ نے کہا کہ مستقبل قریب میں بھی سونے کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہنے کا امکان ہے اور یہ بین الاقوامی مارکیٹ میں 3000 ڈالر فی اونس اور مقامی مارکیٹ میں 88000 روپے فی 10 گرام تک پہنچ سکتی ہے۔


دوسری جانب امریکہ نے کینیڈا اور میکسیکو پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کو 30 دن کے لیے مو¿خر کر دیا ہے، تاہم چینی مصنوعات پر 10 فیصد تجارتی ٹیرف کے اپنے موقف پر قائم ہے۔ چین نے بھی جوابی اقدام کے طور پر امریکی مصنوعات پر ٹیرف عائد کیے ہیں، جس سے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔



جھارکھنڈ: سوشل میڈیا استعمال کرنے والے سرکاری ملازمین کے لیے حکومت نے جاری کیے رہنما اصول، خلاف ورزی پر ہوگی کارروائی

 









جھارکھنڈ میں سرکاری ملازمین کے لیے ایک نیا فرمان جاری کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے استعمال کے لیے نئے اصول و قواعد نافذ کیے گئے ہیں۔ اب ملازمین کو جھارکھنڈ کے پرسنل ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ قوانین کے دائرے میں رہ کر ہی پوسٹ کرنی ہوگی۔ تمام ریاستی سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے استعمال کیے جانے کے حوالے سے جھارکھنڈ حکومت کے پرسنل ایڈمنسٹریٹو ریفارمز اور ریاستی زبان کے محکمہ کی جانب سے نئے قواعد جاری کیے گئے ہیں۔ اب تمام سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کچھ بھی پوسٹ کرنے سے قبل کچھ باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔


آئیے جانتے ہیں کہ جھارکھنڈ کے سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ جیسے کچھ پوسٹ کرتے اور لکھتے ہوئے نرمی اختیار کرنا، اخلاقیات کو برقرار رکھنا اور کسی بھی طرح کے قابل اعتراض، تفریق پیدا کرنے والا یا پھر سیاسی پوسٹ نہ کرنا شامل ہے۔ علاوہ ازیں سرکاری ملازمین کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت میں کوئی پوسٹ نہیں لکھ سکتے۔ ملازمین اپنی پوسٹ میں حکومت کی پالیسیوں پر تنقید نہیں کریں گے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر ہونے والی چرچہ میں شامل ہوں گے۔ ساتھ ہی آفس کے اوقات میں اپنے ذاتی اکاو¿نٹ کا استعمال بھی نہیں کریں گے۔ سرکاری ملازمین سوشل میڈیا پر حکومت کی شبیہ کو خراب کرنے والی کسی بھی سرگرمی کا حصہ بھی نہیں ہوں گے۔



اب کوئی سرکاری ملازم اپنے ساتھی یا کسی اور کے لیے سوشل میڈیا پر دھمکی آمیز، فحش یا غیراخلاقی پوسٹ نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ اپنے عہدے کے غلط استعمال کرنے پر بھی کارروائی ہوگی۔ ریاستی ملازمین کسی بھی مذہب یا ذات کے خلاف نہیں لکھیں گے۔ لوگوں کو ٹرول کرنے کا کام بھی نہیں کریں گے۔ ملازمین اپنی کوئی ذاتی تفصیل سوشل میڈیا پر پوسٹ نہیں کریں گے۔ ساتھ ہی سرکاری ملازمین سرکاری اکاو¿نٹ پر اپنی ذاتی تصویر بھی شیئر نہیں کر سکتے۔


قابل ذکر ہے کہ اگر کوئی ریاستی سرکاری ملازم مذکورہ بال اصول و قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کوئی پوسٹ کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ وہیں جھارکھنڈ حکومت کی جانب سے جاری کردہ اصول و ضوابط کے حوالے سے جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے قومی ترجمان منوج پانڈے نے کہا کہ ”ریاستی ملازمین کے لیے ضابطہ اخلاق ضروری ہے، ریاستی افسران اور ملازمین کا طرز عمل اور برتاو¿ کیسا ہوگا۔ یہ تو ریاستی حکومت طے کر ہی سکتی ہے اور یہی حکومت نے طے کیا ہے۔“


بہار کی ذات پر مبنی مردم شماری پر راہل گاندھی کے سوالات، تلنگانہ کی مثال پیش کی

 






پٹنہ: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بدھ کے روز پٹنہ میں منعقد ایک پروگرام کے دوران کہا کہ آج ہندوستان میں اقتدار کے ڈھانچے میں دلتوں اور پسماندہ طبقات کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں کو نمائندگی تو دی جاتی ہے، لیکن حقیقی اختیار سے محروم رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی نمائندگی بے معنی بن جاتی ہے۔


انہوں نے آزادی کے مجاہد جگ لال چودھری کی جینتی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک کے اقتدار کے ڈھانچے میں، چاہے وہ تعلیم ہو، صحت ہو، کاروبار ہو، عدلیہ ہو یا میڈیا، پسماندہ طبقات کی شرکت بہت محدود ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ دلتوں کے درد اور ان کے حقوق کی آواز بابا صاحب امبیڈکر اور جگ لال چودھری تھے، لیکن آزادی کے بعد بھی اقتدار کے ڈھانچے میں ان کی شراکت کم رہی ہے۔



راہل گاندھی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انتخابی ٹکٹ تو دیا جاتا ہے لیکن حقیقی اختیارات نہیں دیے جاتے۔ انہوں نے ملک گیر سطح پر ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بہار کی طرز پر نہیں بلکہ تلنگانہ کی طرز پر مردم شماری ہونی چاہیے تاکہ واضح ہو سکے کہ دلت، پسماندہ، اقلیتیں اور دیگر طبقات کی آبادی کتنی ہے اور ان کی اداروں میں شراکت داری کیا ہے۔


انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کی 200 بڑی کمپنیوں میں کوئی بھی دلت، او بی سی یا قبائلی اعلیٰ عہدوں پر فائز نہیں ہے۔ ملک کے بجٹ کا تعین کرنے والے 90 افراد میں صرف تین دلت شامل ہیں اور ان کے پاس بھی معمولی ذمہ داریاں ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت کے 100 روپے کے اخراجات میں صرف ایک روپے کے فیصلے دلت افسران کرتے ہیں جبکہ پسماندہ طبقات کی شراکت داری بھی صرف چھ فیصد ہے۔


کانگریس لیڈر نے کہا کہ ان کی پارٹی دلتوں، پسماندہ طبقات اور قبائلیوں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس آئین کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔


راہل گاندھی نے کہا کہ آبادی کے تناسب سے تمام شعبوں میں مساوی نمائندگی کے لیے ذات پر مبنی مردم شماری ضروری ہے تاکہ لیڈرشپ کی سطح پر دلتوں، پسماندہ اور قبائلیوں کی موجودگی یقینی بنائی جا سکے۔


صرف ایک پنکھا اور بلب استعمال کرنے پر بجلی بل آیا 7 کروڑ روپے

 





ریاست اترپردیش کے بستی ضلع سے ایک حیرت انگیز خبر سامنے آ رہی ہے، جہاں صرف ایک بلب اور پنکھے کا بجلی بل 7 کروڑ روپے آیا ہے۔ محکمہ بجلی کی اس لاپرواہی نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ یہ حیرت انگیز معاملہ بستی ضلع کے ہریّا بجلی سب اسٹیشن کے کیشوپور فیڈر واقع رامیا گاو¿ں کا ہے۔ مولہو نام کے کسان کو اتنی بڑی رقم کا بجلی بل بھیجا گیا ہے۔ اگر وہ اپنی پوری جائیداد فروخت کر دے تو بھی اس رقم کو ادا نہیں کر سکتا۔ کسان نے اس بل کے حوالے سے کہا کہ اس کے گھر میں صرف ایک پنکھا اور بلب جلتا ہے، پھر بھی اتنا زیادہ بجلی بل آیا ہے جو اس کی سمجھ سے بالاتر ہے۔


واضح ہو کہ اتنی بڑی رقم کا بجلی بل دیکھ کر کسان خاصا پریشان ہو گیا اور مسلسل محکمہ بجلی کا چکر لگانے پر مجبور ہوا۔ پریشان کسان نے محکمہ کے کئی چکر لگائے لیکن اس کی کوئی مدد نہیں ہوئی۔ پھر اس نے اپنے دکھ کا اظہار سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان کیا جو جلد ہی موضوع بحث بن گیا۔ سوشل میڈیا پر معاملے نے اتنا طول پکڑ لیا کہ اس کی خبر ریاست کے وزیر توانائی اے کے شرما تک پہنچ گئی۔ وزیر نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری طور پر تحقیقات کا حکم دیا۔ علاوہ ازیں وزیر توانائی نے کہا کہ یہ محکمہ کی بہت بڑی لاپرواہی تھی جسے جلد ہی ٹھیک کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ایک افسر دیپک تیواری کو معطل بھی کر دیا۔



کسان مولہو نے 2014 میں ایک کلوواٹ کا بجلی کنیکشن لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دسمبر 2024 میں اس کا بقایہ بل 75 ہزار روپے تھا لیکن ایک ماہ بعد اس کے پاس 7.33 کروڑ روپے کا بل آ گیا۔ کسان مولہو نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ”یہ بل دیکھ کر مجھے ہارٹ اٹیک آنے والا تھا۔ میری ایک بیٹی ہے اس کی شادی کیسے ہوگی؟ ہم جیسی غریب فیملی کے لیے اتنے بڑے بل کی ادائیگی ناممکن ہے۔“ کسان مولہو کے بیٹے نے اس تعلق سے بتایا کہ انہوں نے کئی دفعہ شکایت کی لیکن کوئی سننے والا نہیں تھا۔ جب معاملے نے طول پکڑا تو سپرنٹنڈنگ انجینئر پرشانت سنگھ نے کہا کہ معاملہ ان کے علم میں آیا ہے اور جلد ہی بجلی کا بل درست کر دیا جائے گا۔



سرکاری ملازمین 'چَیٹ جی پی ٹی' اور 'ڈیپ سیک' کا استعمال نہ کریں، حکومت ہند نے کیا انتباہ

 




حکومت ہند کی طرف سے ایک حکم جاری کیا گیا ہے جس میں سرکا
ری ملازمین کو اے ا?ئی ایپس اور اے ا?ئی پلیٹ فارم کو لے کر ضروری جانکاری دی گئی ہے۔ وزارت خزانہ کی طرف سے جاری حکم میں سرکاری ملازمین سے کہا گیا ہے کہ کچھ ملازم آفس کے کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ میں اے آئی ایپس (جیسے چیٹ جی پی ٹی، ڈیپ سیک وغیرہ) کا استعمال کرتے ہیں جو حکومت ہند کے خفیہ دستاویز اور ڈیٹا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

مرکزی حکومت کے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ اے آئی ایپس اور ٹولس کو سرکاری کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور ڈیوائس میں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ یہ فیصلہ ڈیٹا اور پرائیویسی کو ترجیح دیتے ہوئے لیا گیا ہے۔ حالانکہ اس سے وہ اے آئی یوزرس کے حوصلے پست نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

ہندوستان میں کئی ایسے غیر ملکی اے آئی ایپس موجود ہیں جن میں چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT)، ڈیپ سیک (DeepSeek) اور گوگل جیمنی وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ ہندوستان میں کئی لوگ ان کا استعمال اپنا کام آسان بنانے کے ارادے سے کرتے ہیں۔ ڈیوائس میں اے ا?ئی ایپس یا ٹولس انسٹال کرنے کے بعد وہ ضروری پرمیشن کا ایکسس مانگتے ہیں، ایسے میں سرکاری فائلوں کا ڈیٹا لیک ہونے کا خطرہ بنا رہتا ہے۔


اے آئی ایپس اور اے آئی چیٹ بوٹ کی مدد سے کئی لوگ پرومپٹ دے کر لیٹر، آرٹیکل، یا پھر ٹرانسلیشن وغیرہ کا کام کر سکتے ہیں۔ کئی لوگ تو اس کا استعمال پرزنٹیشن وغیرہ بنانے میں بھی کرتے ہیں۔ یہاں یوزرس کو ایک سمپل یا ٹیکسٹ پرومپٹ دینا ہوتا ہے۔

چینی اسمارٹ اَپ ڈیپ سیک نے حال ہی میں مقبولیت حاصل کی ہے اور اس اسٹارٹ اَپ نے کفایتی قیمتوں کی وجہ سے پوری دنیا میں کھلبلی مچا دی ہے۔ چین کا یہ اسٹارٹ اَپ قریب 20 مہینے پہلے شروع ہوا تھا۔ 20 جنوری 2025 کو ڈیپ سیک آر آئی چیٹ بوٹ اچانک تیزی سے مقبول ہوا اور اس نے پرانی اے آئی کمپنیوں کے کئی ریکارڈس توڑ دیے۔



دہلی اسمبلی انتخابات: ووٹنگ ختم، اب ریزلٹ کے لیے 8 فروری کا انتظار

 




دہلی اسمبلی کی 70 نشستوں کے لیے ووٹنگ کا عمل انجام پا گیا۔ آج صبح 7 بجے سے ووٹنگ شروع ہوئی تھی جو شام 6 بجے کے بعد تک جاری رہی۔ ووٹنگ کا وقت شام 6 بجے ختم ہو گیا تھا، لیکن قطار بند لوگوں کو وقت ختم ہونے کے بعد بھی حق رائے دہی کا موقع فراہم کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے ذریعہ ابھی ووٹنگ کا حتمی فیصد جاری نہیں کیا گیا ہے، لیکن 5 بجے تک کا جو ڈاٹا فراہم کیا گیا ہے، اس کے مطابق 57.70 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ ظاہر ہے، ووٹنگ فیصد میں اضافہ یقینی ہے۔


امریکہ میں غیر قانونی طریقے سے مقیم 104 ہندوستانی تارکین وطن کو لے کر ’سی-17‘ طیارہ امرتسر پہنچا

 





غیر قانونی طور پر امریکی میں مقیم ہندوستانی تارکین وطن کو لے کر امریکی فوجی طیارہ بدھ کی دوپہر امرتسر میں اترا۔ ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کی حلف برداری کے بعد ہندوستانی تارکین وطن کے خلاف یہ پہلی کارروائی ہے۔ پنجاب پولیس کی سخت سیکورٹی کے درمیان طیارہ شری گرو رام داس جی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا۔


امریکی فوج کے سی-17 طیارہ سے آئے ہندوستانیوں کی تعداد 104 بتائی جا رہی ہے۔ پہلے خبریں ا? رہی تھیں کہ امریکی فوجی طیارہ 205 ہندوستانیوں کو لے کر ہندوستان آ رہا ہے، لیکن جب طیارہ ہندوستان میں لینڈ ہوا تو اس میں ڈیپورٹ کیے گئے 104 لوگ ہی موجود تھے۔ طیارہ کی لینڈنگ 1.55 بجے ہوئی اور اس وقت امرتسر کے پولیس کمشنر، ڈی سی و دیگر اہم سینئر انتظامی افسران ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ ایئرپورٹ پر موجود ایویشن کلب میں سبھی ڈیپورٹ کیے گئے ہندوستانیوں کے بیک گراو?نڈ چیک کیے گئے ہیں۔



میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیپورٹ کیے گئے 104 لوگوں میں پنجاب کے 30 شہری شامل ہیں، جبکہ گجرات اور ہریانہ کے 33-33 افراد ہیں۔ اتر پردیش اور مہاراشٹر کے 3-3 شہری بھی اس طیارہ سے ہندوستان پہنچے ہیں، جبکہ چنڈی گڑھ کے 2 اشخاص ہیں۔ حالانکہ امریکہ سے ہندوستان پہنچے تارکین وطن کی تعداد سرکاری طور پر ابھی تک نہیں بتائی گئی ہے۔

جو خبریں سامنے ا? رہی ہیں، اس میں بتایا جا رہا ہے کہ ہندوستان پہنچے تارکین وطن میں 13 بچے، 79 مرد اور 25 خواتین شامل ہیں۔ حالانکہ کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ تعداد کچھ مختلف بھی بتائی جا رہی ہے۔ امریکہ سے آئے اس طیارہ میں عملہ کے اہلکار و امریکی افسران بھی موجود تھے جو ہندوستانیوں کو امرتسر ایئرپورٹ پر اتارنے کے بعد ضروری کاغذی کارروائی مکمل ہوتے ہی وطن واپس لوٹ جائیں گے۔



واضح رہے کہ امریکی فوج کے سی-17 طیارہ نے 4 فروری کو امریکہ کے سین اینٹونیو سے امرتسر ایئرپورٹ کے لیے پرواز بھری تھی۔ ان میں بیشتر ڈنکی روٹ یا دیگر طریقے سے امریکہ پہنچ گئے تھے، لیکن ان کے پاس ضروری کاغذات نہیں تھے۔ آج جب ان سبھی تارکین وطن کو امرتسر میں اتارا گیا تو اس سے قبل سیکورٹی کا خاص خیال رکھتے ہوئے ایئرپورٹ کے کارگو گیٹ اور ایک دیگر داخلی دروازے پر بیریکیڈنگ کر دی گئی تھی۔


یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ کا دورہ کرنے والے ہیں۔ مودی 2 روزہ دورے پر امریکہ جائیں گے جہاں ان کی امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات ہوگی اور کچھ اہم امور پر بات چیت کا بھی منصوبہ ہے۔ حال ہی میں پی ایم مودی اور ٹرمپ کی فون پر بات چیت ہوئی تھی۔ اس بات چیت کے بارے میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ”مودی کے ساتھ امیگریشن پر گفتگو کی۔ غیر قانونی تارکین وطن کو واپس لینے کے معاملے میں ہندوستان وہی کرے گا جو درست ہوگا۔“ دراصل ہندوستان نے امریکہ کو غیر قانونی طور سے امریکہ میں داخل ہونے والے ہندوستانیوں کو واپس لے کر غیر قانونی رہائش سے نمٹنے میں تعاون کا بھروسہ دلایا تھا۔


Tuesday, 4 February 2025

ووٹ ضرور دیں، کانگریس کو دیا گیا ایک-ایک ووٹ آپ کے حقوق کی حفاظت کرے گا: راہل گاندھی

 







دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے 70 اسمبلی سیٹوں پر ووٹنگ کا دور جاری ہے۔ ووٹر کافی جوش و خروش کے ساتھ اپنی حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں کئی رہنماو¿ں نے لوگوں سے جمہوریت کے اس عظیم تہوار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے بھی سوشل میڈیا سائٹ 'ایکس' پر اپنے ایک پوسٹ میں ووٹروں سے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔


انہوں نے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے، "میں آپ سبھی سے اپیل کرتا ہوں کہ آج ووٹ دینے ضرور جائیں۔ کانگریس کو دیا گیا آپ کا ایک-ایک ووٹ آپ کے حقوق کی حفاظت کرے گا، آئین کو مضبوط کرے گا اور دہلی کو ترقی کی راہ پر پھر سے موڑ دے گا۔" راہل نے ووٹروں سے اپیل کرتے ہوئے آگے کہا، "آپ یاد رکھیں کہ آلودہ ہوا، گندے پانی، ٹوٹی سڑکوں کے لیے کون ذمہ دار ہے۔ شفاف سیاست کرنے کی بات بول کر دہلی کا سب سے بڑا گھوٹالہ کس نے کیا۔"


واضح ہو کہ بدھ کی صبح 7 بجے مقررہ وقت سے سبھی پولنگ مراکز پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس دوران رائے دہندگان میں کافی جوش دیکھا جا رہا ہے۔ کئی جگہوں پر 7 بجے سے پہلے ہی ووٹنگ مراکز کے باہر ووٹروں کی قطار لگ گئی۔ ابھی تک کئی اہم رہنماو?ں نے بھی اپنی حق رائے دہی کا استعمال کر لیا ہے۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ، کانگریس ایم پی راہل گاندھی اور دہلی کی وزیر اعلیٰ آتشی سمیت کئی دیگر رہنماو¿ں نے پولنگ بوتھ پہنچ کر ووٹ ڈالا۔ اس دوران انہوں نے لوگوں سے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اپیل بھی کی۔


'آپ کا ووٹ آپ کے بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے'، ترقی اور ایمانداری کے لیے ووٹ کرنے کی کیجریوال کی اپیل


دہلی اسمبلی انتخاب کے لیے ووٹنگ شروع ہو چکی ہے۔ کئی ووٹروں نے جوش دکھاتے ہوئے صبح میں ہی اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرلیا ہے۔ اس درمیان عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پوسٹ کرکے دہلی کے عوام سے بڑی اپیل کی ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، "پیارے دہلی والوں، آج ووٹ کا دن ہے، آپ کا ووٹ صرف ایک بٹن نہیں، یہ آپ کے بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے، اچھے اسکول، بہترین اسپتال اور ہر کنبہ کو باعزت زندگی دینے کا موقع ہے۔"


اروند کیجریوال نے ا?گے لکھا، "ا?ج ہمیں جھوٹ، نفرت اور خوف کی سیاست کو شکست دے کر سچائی، ترقی اور ایمانداری کو فتح دلانا ہے۔ خود بھی ووٹ کریں اور اپنے دوستوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں کو بھی راغب کریں، غنڈہ گردی ہارے گی، دلّی جیتے گی۔"


واضح ہو کہ اروند کیجریوال نئی دہلی سیٹ سے انتخابی میدان میں ہیں۔ انہیں دو سابق وزیر اعلیٰ کے بیٹوں سے چیلنج کا سامنا ہے۔ کیجریوال کے سامنے ایک طرف کانگریس کے سندیپ دیکشت ہیں تو وہیں دوسری طرف بی جے پی کے پرویش سنگھ ورما ہیں۔ ادھر عا?پ کے سینئر رہنما منیش سسودیا کو اپنی پارٹی کی جیت کا بھروسہ ہے۔ ووٹنگ سے پہلے کالکاجی کے درشن کرتے ہوئے سسودیا نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ دہلی کے عوام اروند کیجریوال کو ایک بار پھر سے وزیر اعلیٰ بنائیں گے اور وہ خود جنگ پورہ سیٹ سے انتخاب جیتیں گے۔

بدھ (5 فروری) کو دہلی کی سبھی 70 اسمبلی سیٹوں پر ایک ساتھ ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس انتخاب میں عام ا?دمی پارٹی، کانگریس اور بی جے پی سمیت دیگر مقامی پارٹیاں اور آزاد امیدوار ملا کر ک±ل 699 امیدوار میدان میں ہیں۔ ووٹنگ کے لیے دہلی میں 13 ہزار سے زیادہ بوتھ بنائے گئے ہیں جہاں تحفظ کے سخت انتظامات میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔



بہار کی سیاست میں مسلمانوں کی سیاسی حصے داری کو ختم کرنے کی شازش ایڈووکیٹ شاہد

 



دربھنگہ :- جن سوراج پارٹی کے لیڈر ایڈووکٹ شاہد اطہر نے اج جن سوراج بیداری کارواں مہم کے تحت دربھنگہ نگر کے محلہ سرائے ستار خان میں نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بہار میں ایک بہتر نظام بنانے کے لیے ہم لوگ بیداری کارواں کے تحت بیداری پیدا کر رہے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ بہار کے کروڑوں لوگوں کو ان کے جائز حقوق دلوایا جائے قوم کے بچوں کو بہتر تعلیم اور روزگار فراہم کیا جائے اس کے ساتھ ہی قوم ملت سے جڑے کچھ اہم سماجی اور سیاسی مسائل پر گفتگو و ان سے مسئلے مسائل کے عملی عمل کے لیے آپسی مشورے کے ذریعے حکمت عملی طے کی جائے گی- ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ جہاں تک غور کرنے کی بات ہے مسلمانوں میں بہار کے چند بنیادی اور اہم مسائل جن میں بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں اور خوف کا ماحول پیدا کر کے بڑی تعداد میں بے قصور نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے وہیں اگر بات کریں سیاسی حصہ داری اور مسلم نمائندگی کی تو بہار میں مسلمانوں کی سیاسی شرکت میں بڑی کمی دیکھی جا رہی ہے ابادی میں 18 فیصد ہونے کے باوجود پنچایتی راج سے لے کر اسمبلی و پارلیمنٹ تک میں مسلمانوں کی نمائندگی دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے اگر بہار کی قانون ساز اسمبلی کی بات کریں تو یہاں بھی مسلمانوں کی شرکت نہ صرف کم ہے بلکہ حقیقت میں نہ ہونے کے برابر ہے- ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ بے روزگاری تعلیم اور اے ایم ہو سنٹر کا جو وقت کی اہم ضرورت ہے وہ قابل غور ہے کہ بہار میں مسلمانوں کی تعلیم روزگار کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے تعلیم کے میدان میں ان کی حالت مناسب معیار کی تعلیم سے کوسوں دور ہے غربت پسماندگی اور سماجی مسائل ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں ایڈووکٹ شاہد اطہر نے کہا کہ جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع بھی بہت محدود ہوتے جا رہے ہیں بہار حکومت ایک عرصے سے اردو زبان کو تعلیمی میدان میں سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے جس کی وجہ سے اردو سے متعلق کئی مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں وہیں بہار اردو اکیڈمی کو بند بھی کر دیا گیا ہے سرکاری مدارس کی حالت پہ کیا بات کی جائے ان کی تو حالت ہی خراب ہوتی جا رہی ہے کشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شاخ کی تعمیرات کو جان بوجھ کر روکا گیا ہے شدید احتجاج کے باوجود بھی کوئی حکومت یا ایسی کوئی سیکولر پارٹی اس طرف توجہ نہیں دے رہی ہے- ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے آگے کہا کہ بہار میں سیکولر پارٹیاں یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ تمام مذاہب کے لوگوں کو یکساں اہمیت دیتی ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ مسلمان کا لفظ استعمال کرنے سے بھی گریزاں ہیں انتخابات میں ٹکٹ دیتے وقت مسلمانوں کو ان کی ابادی کے مطابق مناسب نمائندگی نہیں ملتی ایڈوکٹ شاہد اطغ نے کہا کہ اگر انہیں ٹکٹ دیا بھی جاتا ہے تو انہیں ان سیٹوں پہ دیا جائے گا جہاں مسلم ووٹوں کی تعداد بہت کم ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ پارٹیاں مسلمانوں کا ووٹ لینا چاہتی ہیں لیکن مسلمانوں کو اپنی پارٹی کا چہرہ نہیں بنانا چاہتے یہ مسلمانوں کے حقوق کے ساتھ خلا سیاسی فریب بدترین خیانت ہے ابادی کے لحاظ سے حصے داری کو جب تک یقینی نہیں بنایا جائے گا بہار میں مسلمانوں کا بھلا نہیں ہو سکتا- اسی باتوں کو نظر میں رکھتے ہوئے جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے مسلمانوں سے اپیل کیا ہے کہ اپ بیداری کارواں کے ساتھ جڑیں اور ائندہ اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کو ابادی کے حساب سے 18 فیصد کے حساب سے 40 ٹکٹ کم و بیش دینے کا کام کیا جائے گا اور ان کو جتانے کا بھی کام کیا جائے گا-

کینسر کے علاج میں جدید ادویہ کے ساتھ ساتھ یونانی دواﺅں سے بہتر نتائج برآمد ہونگے:ڈاکٹر شمیم اختر






عالمی یوم کینسر کے موقع پر گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ میں یک روزہ سمینار کا انعقاد

پٹنہ،پی جی اسکالر ڈاکٹرمحمد ظفر اقبال نےپریس ریلیز کرتے ہو¿ے کہا کہ آج 4 فروری 2025 بروز منگل عالمی یومِ کینسر(سرطان) کے موقع پر شعبہ ماہیت الامراض گورنمنٹ طبی کالج ،پٹنہ کی جانب سے ایک علمی اور بیداری پر مبنی ایک روزہ سیمینارمنعقد کیا گیا۔جس میں ماہرینِ صحت، طلباء، اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ پروگرام کی شروعات تلاوت قران پاک سے ہوئی۔ ڈاکٹر محمد ظفر اقبال نے تلاوت کی۔اس سیمینار کے سرپرستِ اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر محفوظ الرحمٰن پرنسپل گورنمنٹ طبی کالج و ہسپتال ،پٹنہ،تھے۔جنہوں نے پروگرام کی اہمیت اور اس کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ مہمانِ خصوصی کے طور پر پروفیسر ڈاکٹر عباس مصطفیٰ صدرشعبہ علم الجراحت نے شرکت کی، جنہوں نے اپنے وسیع تجربات اور علمی بصیرت سے شرکاءکو مستفیض کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کینسر جیسے موذی مرض کے خطرات، تحقیق کی ضرورت، اور جدید طبی سہولیات کی دستیابی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، "ایسے علمی پروگرام معاشرے میں صحت کے حوالے سے بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کینسر جیسے موذی مرض سے نمٹنے کے لیے تحقیق، جدید علاج، اور آگاہی مہمات کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ابوالقاسم زہراوی کے تعلق سے انکے کیے گئے کینسر سے متعلق جراحی تجربات کا خاص طور سے ذکر کیا جو آج بھی قابل عمل ہیں" انہوں نے سیمینار کے مقررین کی کاوشوں کو سراہا اور حاضرین کو صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دی۔

سیمینارکے مہمان اعزازی روندکمار، ڈائریکٹر بدھا کینسر سنٹر،پٹنہ نے شرکت کی۔ انہوں نے عالمی سطح پر کینسر کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز، علاج کے جدید طریقے، اور تحقیق میں ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کینسر کے مریضوں کی ذہنی صحت اور ان کی بحالی کے عمل پر بھی زور دیا، اور کہا کہ کینسر کے علاج کے ساتھ ساتھ مریض کی ذہنی اور جذباتی صحت پر توجہ دینا بھی نہایت اہم ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کینسر کے خاتمے میں Autophagy کا اہم رول ہے۔اسکے لیے روزہ رکھنا یا فاقہ کشی کرنا یا کم کھانا،بہت ضروری ہے۔

پروگرام کے آرگنائزنگ چیرمین ڈاکٹرمحمد شمیم اختر صدر شعبہ ماہیت الامراض گورنمنٹ طبی کالج ،پٹنہ نے سیمینار کے کامیاب انعقاد میں مرکزی اور فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے سیمینار کے اغراض و مقاصد بیان کیے اور کہا کہ کینسر ایک خطرناک بیماری ہے ،لیکن بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ہمارا مقصد عوام میں اس حوالے سے بیدار ی پیداکرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکیں۔ان کی قائدانہ صلاحیتیں، عمدہ منصوبہ بندی، اور انتظامی مہارت نے پروگرام کو ایک کامیاب علمی تقریب میں تبدیل کر دیا۔ ان کی انتھک محنت اور و سیع نظری نے سیمینار کو ایک مثالی علمی پلیٹ فارم فراہم کیا۔



سیمینار میں مختلف موضوعات پر پی جی اسکالر شعبہ ماہیت الامراض نے اپنی معلومات پیش کیں۔ ڈاکٹر محمد ظفر اقبال پی جی اسکالر نے 'پروسٹیٹ کینسر' کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے پروسٹیٹ کینسر کی ابتدائی علامات، خطرے کے عوامل، جدید تشخیصی طریقے، اور علاج کی جدید ترین ٹیکنالوجیز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، "پروسٹیٹ کینسر کی بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے مریض کی زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔" ان کا خطاب نہایت جامع اور سائنسی بنیادوں پر مبنی تھا جس نے شرکاءکو اہم معلومات فراہم کیں۔

ڈاکٹر سکینہ بانو نے 'سروائیکل کینسر' کے حوالے سے معلومات فراہم کرتے ہوئے اس کی وجوہات، علامات اور بچاو¿ کے طریقوں پر زور دیا۔ انہوں نے ایچ پی وی ویکسین کی اہمیت اور اس بیماری سے بچاو¿ کے اقدامات پر تفصیل سے بات کی۔9سے 14 سال کی بچیوں کو HPV ویکسین لینا چاہیے۔جن سے سروائکل کنسر(بچہ دانی کا کنسر) کے امکانات 90 فیصد یکم ہو جاتے ہیں۔ڈاکٹر عصمت حیات نے 'بریسٹ کینسر' پر گفتگو کی، جس میں انہوں نے خود معائنہ کرنے کے طریقے اور ابتدائی مراحل میں تشخیص کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

ڈاکٹر تنویر نور نے 'پھیپھڑوں کے کینسر' پر سیر حاصل گفتگو کی، جس میں انہوں نے سگریٹ نوشی کے خطرات، ماحولیاتی آلودگی، اور دیگر خطرناک عوامل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دیا کہ "پھیپھڑوں کے کینسر سے بچنے کے لیے صحت مند طرزِ زندگی اپنانا اور سگریٹ نوشی ترک کرنا ضروری ہے۔" ڈاکٹر سمرن خان نے عالمی یومِ کینسر کے تھیم پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے عالمی سطح پر کینسر سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور آگاہی مہمات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

اس سیمینارمیں ڈپارٹمنٹ آف ماہیت الامراض کے اساتذہ، جن میںسابق پرنسپل جناب پروفیسر توحید کبریا صاحب ، گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ایس کے پنکج ،اسسٹنٹ پروفیسر جناب ادیب احمدصاحب،۔اسکے علاوہ مختلف شعبہ جات مثلاً تحفظی و سماجی طب سے داکٹر ملکہ بلند ،ڈاکٹر وجیہ الدین، ڈاکٹر طلعت ناہیدشعبہ علم الادویہ سے صدر شعبہ ڈاکٹر محمد انس، ڈاکٹر محمد راشد، ڈاکٹر محمد نظام الدین، شعبہ معالجات سے صدر شعبہ داکٹر نجیب الرحمان ، ڈاکٹر جمال احمداور شعبہ کلیات سے صدر شعبہ ڈاکٹر تنویر عالم ، ڈاکٹر متانت کریم ، داکٹر جمال اختر اور پروفیسر رضوان احمد ، شعبہ صیدلہ سے ڈاکٹر محمد یوسف ، شعبہ علم الاطفال سے ڈاکٹر محمد شیبہ فروز اور شعبہ ای این ٹی سے ڈاکٹر خصال احمداور میڈیکل آفیسر ڈاکٹر جاوید احمد اور سبھی پی جی ڈپارٹمنٹ کے پی جی طلبا و طالبات موجود تھے،جنہوں نے سیمینار کی اہمیت میں اضافہ کیا۔

اس تقریب کے تعلق سے کوارڈینیٹرکے فرائض انجام دے رہےپی جی اسکا لر ڈاکٹر محمد ظفر اقبال اور ڈاکٹر سکینہ بانو، اور نظامت کر ر ہےڈاکٹر ندیم اخترنے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ا خیر میں پروفیسر جناب توحید کبریا صاحب نے اس پروگرام کی کامیابی پر طبی کالج کے پرنسپل ،آرگنازنگ چیئرمین ،کوارڈینیٹر ، مہمانان خصوصی اور دیگر شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا۔



Monday, 3 February 2025

وکاس یاترا یاترا کے دوران عوام کا جم غفیر اور ان کا جوش و خروش نتیش کمار کی زبردست مقبولیت کا ثبوت:نول شرما

 




پٹنہ:جے ڈی یو کے ترجمان نول شرما نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی وکاس یاترا کئی لحاظ سے تاریخی ثابت ہو رہی ہے۔ اس یاترا کے دوران عوام کا جم غفیر اور ان کا جوش و خروش نتیش کمار کی زبردست مقبولیت کا ثبوت ہے۔

شرما نے کہا کہ وزیر اعلیٰ جس بھی ضلع کا دورہ کر رہے ہیں، وہاں کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کر رہے ہیں۔ ہر ضلع کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے دور اندیشی کے ساتھ منصوبے ترتیب دیے جا رہے ہیں۔

بانکا ضلع کے بابر چک میں بہار کے پہلے اسمارٹ ولیج کی تعمیر وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی ایک ایسی سوغات ہے جسے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ یہ گاو¿ں خاص طور پر اس لحاظ سے اہم ہے کہ 1989 کے فسادات میں یہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا، لیکن آج وہی گاو¿ں جدید سہولیات سے آراستہ ایک اسمارٹ ولیج کے طور پر وزیر اعلیٰ کے وژن کا ثبوت پیش کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وکاس یاترا سے بہار میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، جو ریاست کی ہمہ جہتی ترقی کو مزید رفتار دے گا۔


ڈاکٹر شکیل احمد خان کے فرزند آیان کی ناگہانی موت پر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ سمیت سنیئر کانگریسی رہنماﺅں کا اظہار غم

 


پٹنہ، 03 فروری 2025 بہار کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر شکیل احمد خان کے اکلوتے بیٹے آیان خان کے ناگہانی انتقال پرریاستی کانگریس صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ سمیت پارٹی کے سینئر رہنماو¿ں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

ریاستی کانگریس صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ بارہویں جماعت میں زیر تعلیم آیان ایک نہایت نیک دل اور شریف النفس طالب علم تھے۔ ان کے اچانک انتقال سے پورا کانگریسی کنبہ غمزدہ ہے۔ میں دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اہل خانہ کو اس صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔

ڈاکٹر شکیل احمد خان کے فرزند آیان کے انتقال پر قانون ساز کونسل میں پارٹی لیڈر ڈاکٹر مدن موہن جھا، سابق گورنر نکھل کمار، سابق وزیر کرپاناتھ پاٹھک، پریم چندر مشر، ڈاکٹر سمیر کمار سنگھ، نریندر کمار، اودھیش کمار سنگھ، برجیش پانڈے، برجیش پرساد منن، نرمل ورما، راجیش راٹھوڑ، لال بابو لال، ایم ایل اے اظہار الحسن، منا تیواری، ڈاکٹر اجے کمار سنگھ، ترجمان آنند مادھو، ڈاکٹر سنہاشیش وردھن پانڈے، گیان رنجن، راج کشور سنگھ، ندھی پانڈے، آشوتوش شرما، سدے شرما سمیت دیگر رہنماو¿ں نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔