Tuesday, 14 April 2026

اب لوک سبھا میں 543 کی جگہ ہوں گی 850 نشستیں

 




مرکزی حکومت نے ملک کے جمہوری ڈھانچے میں بڑی تبدیلی لانے والے 3 اہم بلوں کا مسودہ اراکین پارلیمنٹ کو دیا ہے۔ مرکزی حکومت آئین (131ویں ترمیم) بل، حد بندی بل اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ قانون (ترمیم) بل 2026 جلد پاس کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ تینوں بل آئندہ مردم شماری کی بنیاد پر لوک سبھا سیٹوں کی تعداد بڑھا کر 850 کرنے، انتخابی حلقوں کی نئے سرے سے حد بندی اور خواتین ریزرویشن کو موثر طریقے سے نافذ کرنے کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ حکومت کے اس قدم کے ساتھ ہی کئی دہائیوں سے زیر التوا سیٹوں کی تنظیم نو اور لسانی و علاقائی نمائندگی کے نئے نظام کی باقاعدہ منظوری کا عمل شروع ہو گیا ہے۔


واضح رہے کہ یہ تینوں بل ہندوستان کے سیاسی ڈھانچے اور سیٹوں کی حد بندی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تجویز پیش کرتے ہیں:


آئین (131ویں ترمیمی) بل 2026 (بل 107):

یہ بل لوک سبھا میں سیٹوں کی تعداد کو زیادہ سے زیادہ 815 (ریاستوں سے) اور 35 (مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے) تک بڑھانے کا التزام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ آبادی کی تعریف کو تبدیل کرتا ہے تاکہ انتخابی حلقوں کی از سر نو ترتیب پارلیمنٹ کے ذریعہ طے شدہ تازہ ترین مردم شماری کی بنیاد پر کی جا سکے۔


حد بندی بل 2026 (بل 108):

یہ تازہ ترین مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کی سیٹوں کی تقسیم اور انتخابی حلقوں کی تقسیم کے لیے ایک حد بندی کمیشن کی تشکیل کا التزام کرتا ہے۔ سپریم کورٹ کے موجودہ یا سابق جسٹس کمیشن کے صدر ہوں گے۔


مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین (ترمیم) بل 2026 (بل 109):

یہ بل پڈوچیری، دہلی اور جموں و کشمیر کے قوانین میں ترمیم کرتا ہے تاکہ انہیں نئے حد بندی قوانین اور خواتین کے ریزرویشن (آئین کی دفعہ 334اے) کے مطابق بنایا جا سکے۔ اس کے تحت پڈوچیری میں نامزد اراکین کی تعداد بڑھا کر 5 کرنے کی تجویز ہے، جن میں 2 خواتین ہوں گی۔



اراکین پارلیمنٹ کو سونپے گئے تینوں بل (آئین ترمیم، حد بندی اور مرکز کے زیر انتظام قانون) یہ واضح کرتے ہیں کہ ہندوستان کی انتخابی سیاست اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی کی دہلیز پر ہے۔ آئین (131 ویں ترامیم) بل 2026 کے مطابق لوک سبھا کے اراکین کی تعداد بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 850 کرنے کی تجویز ہے۔ اس میں 815 اراکین ریاستوں سے اور 35 مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے ہوں گے۔ فی الحال لوک سبھا میں سیٹوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 550 (543 موثر) ہیں۔ 300 سے زائد سیٹوں کا یہ اضافہ گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے بڑی جمہوری توسیع ہے۔ اب تک سیٹوں کی تقسیم 1971 کی مردم شماری کی بنیاد پر اٹکی ہوئی تھی۔ بل 107 کے ذریعہ دفعہ 82 اور 170 میں ترمیم کی تجویز ہے۔ اس کے تحت آبادی کا مطلب وہ نئی مردم شماری ہوگی جس کے اعداد و شمار پارلیمنٹ کے ذریعہ طے کیے جائیں گے۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ 2026 کے کے بعد ہونے والی پہلی مردم شماری ہی نئی سیٹوں کی تقسیم کی بنیاد بنے گی۔


حد بندی بل 2026 (بل 108) ایک طاقتور حد بندی کمیشن کی تشکیل کا راہ ہموار کرتا ہے۔ یہ کمیشن طے کرے گا کہ آبادی کے تناسب سے کس ریاست کو کتنی اضافی سیٹیں ملیں گی۔ اس میں عدالتی اور انتظامی شفافیت کو برقرار رکھنے لیے سپریم کورٹ کے ججوں اور الیکشن کمیشن کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ کمیشن شمالی اور جنوبی ہندوستان کی ریاستوں کے درمیان آبادی پر مبنی نمائندگی کے عدم توازن کو بھی ختم کرے گا۔ تیسرا بل (109) مرکز کے زیر انتظام علاقوں (دہلی، پڈوچیری، جموں و کشمیر) کے قوانین میں تبدیلی لاتا ہے۔ یہ یقینی بناتا ہے کہ 106ویں آئینی ترمیم (ناری شکتی وندن ادھینیم) کے تحت 33 فیصد خواتین ریزرویشن نئی حد بندی کے ساتھ نافذ ہو۔ اس میں پڈوچیری جیسے علاقوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے خصوصی التزام کیے گئے ہیں۔


مزدوروں کا استحصال برداشت نہیں کیا جائے گا

 



نوئیڈا کی کئی کمپنیوں کے ملازمین اس وقت سراپا تحریک نظر آ رہے ہیں۔ اتر پردیش کی حکومت نے کم از کم تنخواہ میں 3 ہزار اضافہ کرنے کا اعلان ضرور کر دیا ہے، لیکن ملازمین کی ناراضگی ختم نہیں ہوئی ہے۔ اس معاملہ میں کانگریس لگاتار ملازمین کے مطالبات کی حمایت کر رہی ہے اور ان کی تحریک کو حق بہ جانب ٹھہرا رہی ہے۔ کانگریس کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارٹی مزدوروں کا استحصال برداشت نہیں کرے گی۔



اس معاملہ میں کانگریس لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ ادت راج نے ایک پریس کانفرنس کی، جس میں کچھ اہم حقائق سامنے رکھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’نوئیڈا میں کل ملازمین کی تحریک ہوئی۔ کچھ دن قبل ہی ہریانہ کے مانیسر میں بھی مظاہرہ ہوا تھا۔ کانگریس نے مزدوروں کے مفاد کے لیے لیبر لاء بنائے، لیکن بی جے پی کی حکومت ان قوانین کو ختم کرتے ہوئے 4 لیبر کوڈ لے آئی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ایک دہائی قبل مزدور ٹریڈ یونینوں سے اپنی بات منوانے کے لیے ہڑتال کرتے تھے، جس سے ملک متاثر ہوتا تھا اور حکومتیں ان سے بات کرتی تھیں۔ لیکن اب ماحول بدل چکا ہے۔ آج ان 4 لیبر کوڈ کی آڑ میں مزدوروں کا استحصال ہو رہا ہے۔‘‘




مزدوروں کے موجودہ مشکل حالات کا ذکر کرتے ہوئے اُدت راج نے کہا کہ ’’نوئیڈا میں مزدوروں کو ہر ماہ تقریباً 12 ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے، جس میں 6-5 ہزار روپے کرایہ میں خرچ ہو جاتے ہیں۔ بچے ہوئے پیسوں میں بچوں کی پڑھائی، کھانا اور باقی خرچ پورے کرنے ہوتے ہیں۔‘‘ کانگریس لیڈر نے ایک خاتون مزدور کی حالت زار کا ذکر بھی پریس کانفرنس میں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں نے سوشل میڈیا پر ایک خاتون کی ویڈیو دیکھی، جو کہہ رہی تھی کہ وہ اپنے بیمار بچے کو 2 دن کے وقفہ میں دوا دیتی ہے، تاکہ دوا بچی رہے۔‘‘ یہ ذکر کرنے کے بعد انھوں نے سوال کیا کہ کیا یہی امرت کال ہے؟ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’کل احتجاجی مظاہرہ کے بعد یوپی حکومت نے تنخواہ میں تھوڑا اضافہ کیا ہے، جس میں مہنگائی بھتہ شامل ہے، لیکن یہ ناکافی ہے۔‘‘



اُدت راج نے مزدوروں کو درپیش مسائل کے لیے مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ منریگا کو کمزور بنائے جانے کے سبب مزدوروں کا انحصار ان ملازمتوں پر بڑھ گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’مزدوروں کا انحصار ان ملازمتوں پر کیوں بڑھا، کیونکہ منریگا نے دم توڑ دیا ہے۔ منریگا کے ہونے سے مزدور کی اتنی بے بسی نہیں ہوتی تھی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’بی جے پی حکومت نے وی بی-جی رام جی منصوبہ لانے سے قبل ہی منریگا کو کمزور کرنا شروع کر دیا تھا۔ منریگا کے ختم ہونے سے مزدوروں کا استحصال بڑھا ہے، ان کی تکلیف بڑھی ہے اور صنعت کاروں کا منافع بڑھا ہے۔‘‘




پریس کانفرنس میں اُدت راج نے مزدورں کے ساتھ مالکوں کے رویہ کی بھی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملازمین کی تنخواہ سے پی ایف کے نام پر پیسہ کاٹ لیا جاتا ہے، لیکن کمپنی مالکان کے ذریعہ جمع نہیں کیا جاتا۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’نوئیڈا میں افسران جس طرح ملازمین سے بات کر رہے تھے، صاف نظر آ رہا ہے کہ استحصال کی پوری تیاری ہے۔‘‘ اپنی باتیں رکھنے کے بعد کانگریس لیڈر نے سوال کیا کہ ’’کیا یہی ہے ’وِکست بھارت‘ اور ’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس‘؟ ی ایک اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔ آخر اتنی کم تنخواہ میں کسی مزدور کا گھر کیسے چل پائے گا؟‘‘


ایران نے 5 عرب ممالک سے ہرجانہ کا کیا مطالبہ



اسرائیل و امریکہ کے ذریعہ ایران پر کیے گئے حملوں نے تباہی کا ایک دردناک منظر سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ مذاکرات کی کوششیں جاری ضرور ہیں، لیکن یہ جنگ فی الحال ختم ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اس درمیان ایران نے 5 عرب ممالک پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے اپنے علاقوں کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی۔ اسی اجازت کے سبب امریکہ و اسرائیل کو طاقت ملی، اور اس نے حملوں کا ایک دراز سلسلہ شروع کر دیا۔


’پریس ٹی وی‘ کے مطابق ایران کے سفیر امیر سعید ایراوانی نے بحرین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور اردن کے ذریعہ معاوضہ سے متعلق کیے گئے مطالبات کو خارج کر دیا ہے۔ ایران نے اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری اینٹونیو گٹیریس اور سیکورٹل کونسل کے سربراہ جمال فاریس الرووائی کو اس سلسلے میں ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں کہا ہے کہ عرب ممالک نے اپنے علاقوں کو کھول کر امریکہ و اسرائیل کی مدد کی ہے۔ تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ حملہ کا شکار ہوا ہے، اور اپنی حفاظت کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال کر رہا ہے۔



قابل ذکر ہے کہ امریکی بحریہ نے پیر سے سبھی ایرانی بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی ہے۔ اس سے ایران سخت ناراض ہو گیا ہے۔ جواب میں ایران نے خلیج فارس اور خلیج عمان کے سبھی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے ڈالی ہے۔ اس سے دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی ناکام ہونے اور جنگ پھر سے شروع ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔


انتخاب ختم ہوتے ہی پٹرول 18 روپے اور ڈیزل 35 روپے تک ہو سکتا ہے مہنگا

 






غیر ملکی بروکریج فرم ’میکویری‘ کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں آئی بھاری تیزی کا بوجھ اب گھریلو تیل کمپنیوں (او ایم سی) کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ حالانکہ فی الحال پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم ہیں، لیکن اس سے کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں واراننگ دی گئی ہے کہ مغربی بنگال سمیت 5 ریاستوں میں جاری اسمبلی انتخاب ختم ہوتے ہی کمپنیاں قیمتوں میں بڑا اضافہ کر سکتی ہیں۔


گزشتہ 46 دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ 27 فروری کو جو خام تیل 73 ڈالر فی بیرل پر تھا وہ 19 مارچ کو 120 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا اور فی الحال 100 ڈالر فی بیرل کے آس پاس بنا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر کا اضافہ ہندوستانی کمپنیوں کے نقصان میں 6 روپے فی لیٹر کا اضافہ کرتا ہے۔



واضح رہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود قیمتیں نہ بڑھنے کی وجہ سے تیل کمپنیوں کو پٹرول پر 18 روپے اور ڈیزل پر 35 روپے فی لیٹر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ ماہ یہ نقصان 2400 کروڑ یومیہ تک پہنچ گیا تھا، جو ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے کی تخفیف کے بعد اب 1600 کروڑ روپے یومیہ پر ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ سرکاری ریونیو میں تیل پر لگنے والی ایکسائز ڈیوٹی کا حصہ جو 2017 میں 22 فیصد تھا، اب کم ہو کر صرف 8 فیصد رہ گیا ہے، جس کی وجہ سے حکومت کے پاس قیمتوں کو مزید کم کرنے کی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔


ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً 88 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے، جس میں سے 45 فیصد مشرق وسطیٰ اور 35 فیصد روس سے آتا ہے۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں نہ صرف مہنگائی میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ اندازہ ہے کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ خسارہ بڑھ کر 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جو معیشت کی مضبوطی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔



قابل ذکر ہے کہ یہ مسئلہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہے۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں اگست 2022 کے بعد پہلی بار 4 ڈالر فی گیلن کے پار نکل گئی ہے۔ ہندوستان کے پڑوسی ممالک پاکستان، نیپال اور سری لنکا پہلے ہی اپنی گھریلو قیمتوں میں بھاری اضافہ کر چکے ہیں۔ ایسے میں ہندوستان میں انتخاب کے بعد قیمتوں میں اضافے کا امکان کافی قوی نظر آ رہا ہے۔


Monday, 16 March 2026

ایک نیا مشرق وسطیٰ


زید بن کمی



امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے سے دو روز قبل میں نے ایک کالم لکھا تھا۔ جس کا عنوان 'تیس سال بعد مشرق وسطیٰ کیسا نظر آئے گا؟' کوشش یہ تھی کہ حالات کے دھارے کی اس تیز رفتاری کے نتائج اور اثرات کو سمجھا جائے۔ کیونکہ یہ خطہ ایک عرصے سے استحکام کی کمزوری کے بعض مسائل کا شکار چلا آرہا ہے۔ اس میں کئی ایسے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں جو اچانک اور غیر متوقع خرابی کا موجب ہوئے۔


لیکن اب جنگ کے تیزی سے چلنے والے پہیوں نے حقیقت میں حالات کا رخ موڑ دیا ہے۔ اب یہ سوال پہلے سے بھی زیادہ فوری اور واضح شکل میں سامنے آکھڑا ہے۔ موجودہ جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ کس سمت میں ہوگا؟


اس تناظر میں اس سے پہلے کہ ہم یہ سوال اٹھائیں کہ جنگ کا خاتمہ کب ہو گا یا جنگ کے بعد کیسے حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہمیں ایک سادہ سا سوال یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ جنگ شروع کیوں ہوئی؟ بہت سے لوگ جنگ کے سبب کو زیر بحث لانے میں ایرانی جوہری پروگرام کو جوڑتے ہیں۔ کچھ کے نزدیک ایران سے اسرائیل کو لاحق خظرہ اس جنگ کا سبب بنا ہے۔ اس دوسرے سبب کو اہم جاننے والے یہ سمجھتے ہیں کہ سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حملے کے بعد اسرائیل کو ایران سے بطور خاص خطرہ محسوس ہونے لگا تھا۔


ان دونوں نکتہ ہائے نظر کے علاوہ حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اصل مسئلہ ایرانی جوہری پروگرام نہیں تھا بلکہ وہ سوچ اور فکر بنی ہے جو ایران پر پچھلی تقریبا پانچ دہائیوں سے حکمرانی کرتی چلی آرہی ہے۔ حکمرانی کی یہ ذہنیت اپنے انقلاب کو ایک سیاسی نظریے اور منصوبے کے طور پر برآمد کرنے، علاقائی سطح پر موجود اپنے اثر و رسوخ کو اپنے خیالات اور طرز سیاست کی توسیع کے لیے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اس سوچ کو خطے میں ایک مستقل تصادم اور کشیدگی کا ذریعہ بنائے رکھنے کی کوشش میں رہی۔


میرے خیال میں یہ ذہنیت انقلاب کے بانی خمینی اور مرحوم سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے دور تک بھی تبدیل نہ ہو سکی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اب نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں بھی اسی طرح جاری رکھنے کی کوشش کی جائے۔ کیونکہ سالہا سال کی اقتصادی پابندیوں کے باوجود سوچ اور ذہنیت تبدیل نہں ہو سکی ہے۔ ایران معاشی اعتبار سے مکمل طور پر تنہا ہو کر رہ گیا، حتیٰ کہ دنیا میں بہت سی اور بڑی بڑی تبدیلیاں آتی رہیں مگر ایران وہیں پڑا رہا۔


علاقے کے دوسرے ملک اپنے ہاں ترقی و استحکام کی دوسری ترجیحات کے لیے آگے بڑھتے رہے جبکہ ایران ایک مختلف سمت اور الگ نوعیت کی مساوی کے پیچھے لگا رہا۔ استحکام سے پہلے تحفظ اور ترقی سے پہلے تصادم ایران کی حکمت عملی رہی۔


اس وجہ سےعلاقے کو ایک ایسی کشیدگی کا سامنا کرنا پڑا جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی گئی تھی۔ ایران نے 3000 سے زائد میزائل اور ڈرونز علاقے میں داغے ہیں۔ ان میزائلوں اور ڈرونز کا ہدف خلیج ممالک بنے۔ خلیجی ممالک کی توانائی سے متعلق تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہ میزائل بمباری اس کے باوجود کی گئی کہ ان ملکوں نے ایران کو واضح طور پر بتا دیا تھا کہ وہ امریکہ کو ایران پرحملہ آور ہونے میں کسی بھی طرح کی سہولت یا مدد نہیں دیں گے۔ یوں ان کی زمینی و فضائی حدود ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوں گی۔


ان میں کئی ممالک نے نہ صرف یہ واضح اعلان کر رکھا تھا بلکہ وہ کشیدگی کم کرنے اور افہام و تفہیم پیدا کرنے کے لیے بھی کوشاں رہے۔ جیسا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بیجنگ معاہدے کے تحت بھی کوششیں سامنے آچکی تھیں۔


کئی خلیجی ملک ایسے بھی رہے جنہوں نے خطے میں معاشی میدان میں ایسے انیشٹو لیے جو ان کی بقائے باہمی کے جذبے کے آئینہ دار تھے۔ جیسا کہ متحدہ عرب امارات نے سالہا سال تک ایران کے لیے معاشی شعبے میں حیات آفریں اقدامات کیے۔ یہ اس کے باوجود کیے کہ ایران سخت اقتصادی پابندیاں بھگت رہا تھا۔ اسی طرح قطر نے تہران کے ساتھ نمایاں تعلقات کی کوشش کی۔ اومان نے تو ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کیا۔


لہٰذا ایران کی طرف سے جاری جنگ کے دوران خلیجی ملکوں کو نشانہ بنانا سیاسی اور تذویراتی دونوں اعتبار سے کافی غیر منصفانہ رہا۔ مگر اصل سوال اس خاص ذہنیت کے حوالے سے ہے جو اپنے پسندیدہ نظام کو دوسروں پر مسلط کرنے سے جڑی ہوئی ہے۔ کہ دوسرے ملک اور ان کی عوام بھی ایک سوچ اور فکر کے تابع ہو کر اپن زندگی اور نظام کار تشکیل دیں۔ ایران بھی یہی کرتا رہا ہے کہ اس میں اس ذہنیت کی حامل حکمرانی رہی ہے۔


خلیجی ملکوں کو نشانہ بنانے سے ایرانی طاقت میں اضافہ ہرگز نہیں ہوا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس نے اپنے لیے نئے محاذ کھول لیے ہیں۔ اس منظر نامے کی وجہ سے ایک اور سوال پیدا ہوگیا ہے کہ آج کے ایران کو اس چیز سے زیادہ کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے کہ اس کی نئی قیادت زیادہ مدبرانہ انداز کی حامل ہو۔ ایسی قیادت جو یہ سمجھتی ہو کہ اکیسویں صدی اب میزائلوں کی زیادہ تعداد کی بنیاد پر آگے بڑھنے والی نہیں رہی ہے۔ یہ بھی اہم نہیں رہا ہے کہ کس ملک نے کتنے زیادہ میزائل داغے۔ اصل ضرورت جو اس اکیسویں صدی کی ضرورت ہے وہ ایک پیداواری معیشت کی تشکیل ہے، سیاسی استحکام ہے اور اپنے اردگرد کے ملکوں کے ساتھ سفارتی میدان میں متوازن تعلقات کا اہتمام اور ماحول ہے۔


یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ایران ایسا ملک نہیں جسے وسائل کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔ اس کے پاس معاشی استحکام اور ترقی کے لیے تمام بنیادی عناصر موجود ہیں جو ایران کو ایک بڑی معیشت بنانے کے لیے کافی ہیں۔ یہ مشرق وسطیٰ کی ایک بڑی معاشی قوت بننے کی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے۔ اس کا جغرافیائی محل وقوع تذویراتی حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ اس کی اپنی منڈی بھی وسیع تر ہے کہ یہ آٹھ نو کروڑ کی آبادی کا ملک ہے۔ کثیر جہتی توانائی کے وسائل سے مالا مال ہے۔ لیکن اس کے یہ وسائل اور ان کا استعمال دہائیوں سے اس خاص سیاسی ویژن کے قیدی بن کر رہ گئے ہیں جو ملک کی اندرونی ترقی سے زیادہ علاقے میں اثر و رسوخ کو اہم سمجھتے ہیں اور اسی کو اپنی اندرونی ترقی و استحکام کا متبادل سمجھتے ہیں۔


مشرق وسطیٰ کے وسیع تر تناظر کی طرف پلٹتے ہوئے کہ آج اس خطے میں کیا ہو رہا ہے یہ محض ایک جنگ نہیں ہے۔ بلکہ ہو سکتا ہے یہ خطے کی نئی صورت گری کا آغاز ہو۔ جس میں نئے تزویراتی ماحول کی تشکیل ہو۔ جیسا کہ امریکی مؤرخ جون لیوس گادیس نے ذکر کیا ہے کہ بڑی جنگیں عام طور پر تصادم اور کشیدگی کے خاتمے کا ذریعہ نہیں بنتیں بلکہ یہ تذویراتی ماحول کی تشکیل نو کا باعث بنتی ہیں۔


دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا خاتمہ علاقائی سطح پر ایک مختلف منظر نامے کا سبب بنے گا جو اس سے پہلے یہاں موجود نہیں تھا۔ اسے بیان کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ میں جاری ان گفتگوؤں کو دیکھا جا سکتا ہے جو 'ایک نیا مشرق وسطیٰ' کے گرد گھومتی ہیں۔ 'ایک نیا مشرق وسطیٰ' کی اصطلاح نئی نہیں ہے۔ امریکی سیاسی بحثوں اور کتب میں دہائیوں سے یہ موضوع موجود رہا ہے۔ تاہم یہ منظر پر نمایاں اس وقت ہوا جب خطے نے اپنے آپ کو بڑی ٹرانسفارمیشن کے دور میں داخل کیا۔


اس کی تہہ میں مرکزی خیال خطے میں طاقت کے توازن کو نئے سرے سے دیکھنا ہے۔ اس میں خطے کے معاشی نیٹ ورکس، سلامتی سے متعلق اتحادوں کو اہمیت دی جاتی ہے بجائے اس کے تصادم کی محوری علامتوں کو۔ امریکی محقق کینتھ پولوک نے بھی اس امر کا جائزہ لیا ہے کہ خطے میں بتدریج معاشی شراکت داری اور سلامتی سے متعلق ارتباط و تعلق کا حوالہ امریکی حکمت عملی بن رہی ہے۔ بجائے اس کے کہ امریکہ نا ختم ہونے والی کشیدگی کو مینیج کرنے کی کوشش کرتا رہے۔ اس پس منظر میں مشرق وسطیٰ کا یہ علاقہ ریاستی گورنرز کے مختلف ماڈلز کے درمیان دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلا ماڈل یہ کہا جا سکتا ہے کہ اثر و رسوخ میں اضافہ، کھلے تصادم اور کشیدگی سے جنم لیتا ہے۔ اس کے لیے مسلح پراکسیز کا نیٹ ورک ضروری ہوتا ہے۔ نیز جغرافیائی وسعت اور دوسروں پر سیاسی غلبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرا ماڈل سیاسی غلبے اور تصادم کی بجائے ترقی و استحکام اور علاقائی سطح پر معاشی شراکت داری پر مبنی ہے۔


پہلے ماڈل کو دیکھا جائے تو یہ علاقے کو آگ کے شعلوں کی طرف دھکیلتا ہے۔ جو خطے کو ایک تسلسل کے ساتھ جنگوں کے لیے ذرخیز بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ تاکہ انتہا پسندی اور زیادہ انتہا پسند جنم لے سکیں۔ جس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کے خطرات ابھرتے رہیں۔ جبکہ دوسرا ماڈل دلیرانہ فیصلوں کی توقع کرتا ہے۔ تاکہ علاقائی سطح پر پائے جانے والے تنازعات کو طے کیا جائے۔ اس کا آغاز فلسطین و اسرائیل کے تنازعے سے ہو سکتا ہے کہ ملکوں کے درمیان نارمل تعلقات کے لیے دروازے کھولے جائیں۔ ایسی صورت میں ترقی، سیاسی جائزیت کے لیے انتہائی بنیادی ذریعہ بنیں گی اور وہ پیمانے جن پر ریاستیں اپنی صلاحیتوں کا اندازہ کرتی ہیں اور کامیابیوں کی طرف بڑھنے اور استحکام کی پیمائش کرتی ہیں۔ ماضی کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ علاقے میں کوئی بھی ایسا نظم یا نظام استحکام نہیں پا سکتا جب تک کہ اس کا جنم یا اظہار خود اسی علاقے سے تعلق نہ رکھتا ہو۔


یہی بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ آیا مشرق وسطیٰ ابھر سکے گا۔ اس کا جواب صرف اگلے برسوں میں ہی مل سکے گا۔ لیکن جو چیزیں پہلے سے واضح اور صاف دکھائی دیتی ہیں کہ خطہ ایک گہری ٹرانسفارمیشن کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور آنے والے وقتوں میں خطے کے بارے میں فیصلہ سازی کی میز پر صرف وہ ریاستیں نہیں ہوں گی جو تنازعات کو مینیج کرنے کی ماہر ہوں گی بلکہ وہ بھی میز پر اہم کردار ادا کر سکیں گے جنہوں نے بر وقت یہ سمجھ لیا تھا کہ ترقی کسی بھی جنگ سے زیادہ طاقتور چیز ہوتی ہے۔


 ٹرمپ جزیرہ خرج میں ایرانی تیل پر قبضے پر غور کر رہے ہیں : رپورٹ

امریکی ویب سائٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے نہ کھولا گیا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جزیرہ خرج میں ایرانی تیل پر کنٹرول حاصل کرنے پر غور کر رہی ہے۔






حکام نے اشارہ دیا کہ اس اقدام پر عمل درآمد کے لیے زمین پر امریکی افواج کی موجودگی درکار ہوگی، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک اہل کار نے تصدیق کی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق بعض حکام کا ماننا ہے کہ جزیرہ خرج کے تیل پر کنٹرول ایران کے لیے ایک سخت معاشی دھچکا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہ اس کے تیل کی برآمد کا اہم ترین مرکز ہے۔


یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی بحریہ کے ماتحت کام کرنے والے ادارے 'یو کے ایم ٹی او' (UKMTO) نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ حملوں، جہاز رانی میں مداخلت اور مسلسل عملیاتی رکاوٹوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں خطرہ اب بھی برقرار ہے، اگرچہ گذشتہ تین دنوں میں کسی واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ ادارے نے واضح کیا کہ تین ہفتے قبل جنگ شروع ہونے کے بعد سے خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان کے گرد و نواح میں کم از کم بیس بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔


آبنائے ہرمز کی لمبائی تقریباً 212 کلومیٹر اور چوڑائی 33 سے 55 کلومیٹر کے درمیان ہے، جبکہ اس کی گہرائی 60 سے 100 میٹر تک ہے۔ یہ خصوصیات بڑے بحری جہازوں کے گزرنے کے لیے محفوظ راستے کو انتہائی تنگ بنا دیتی ہیں۔ یہ آبنائے خلیج عرب کو بحیرہ عمان اور بحر ہند سے جوڑتی ہے، جس کے شمال میں ایران اور جنوب میں عمان کا جزیرہ نما مسندم اور متحدہ عرب امارات واقع ہیں۔


جہاز رانی کے اعتبار سے اس مقام سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے، ساتھ ہی مائع قدرتی گیس (LNG)، یوریا، ہیلیئم اور ایلومینیم کی بڑی مقدار بھی یہیں سے گزرتی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان اور خود ایران (جن کی بندرگاہیں آبنائے سے باہر بھی ہیں) کے علاوہ قطر، کویت، عراق اور بحرین جیسے ممالک اپنی بیرونی تجارت کے لیے مکمل طور پر اسی آبنائے پر منحصر ہیں۔


ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے جس نے مشرق وسطیٰ اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں اضطراب پیدا کر رکھا ہے۔ گذشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ جو ممالک خلیجی تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس آبنائے کی حفاظت کریں جہاں سے عالمی توانائی کا 20 فی صد حصہ گزرتا ہے۔


فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا "میں ان ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مداخلت کریں اور اپنے علاقوں کی حفاظت کریں، کیونکہ یہ ان کا علاقہ ہے... یہ وہ جگہ ہے جہاں سے وہ اپنی توانائی حاصل کرتے ہیں۔"


ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی انتظامیہ نے اس سلسلے میں سات ممالک سے رابطہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ان کے نام نہیں بتائے۔ البتہ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک اس میں شریک ہوں گے۔


Sunday, 15 March 2026



شام ڈھلتے ہی پٹنہ کے  بازاروں کی رونق دوبالا

پٹنہ، — ماہِ رمضان اپنے اختتام کے قریب ہے اور عیدالفطر کی آمد کے پیش نظر بازاروں میں خریداری کا زور بڑھ گیا ہے۔ شہر کے مختلف بازاروں میں ان دنوں خریداروں کا خاصا ہجوم دیکھنے کو مل رہا ہے۔


شام ڈھلتے ہی بازاروں کی رونق دوبالا ہو جاتی ہے اور لوگ عید کی تیاریوں کے سلسلے میں کپڑے، جوتے اور دیگر ضروری اشیا کی خریداری میں مصروف نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر سبزی باغ، کھیتان مارکیٹ، پٹنہ مارکیٹ، ہتھوا مارکیٹ، باقر گنج، گاندھی میدان، راجہ بازار، بورنگ روڈ، عالم گنج، سلطان گنج، اور پھلواری شریف کے بازاروں میں شام کے وقت غیر معمولی بھیڑ دیکھی جا رہی ہے۔



دکانداروں کے مطابق عید قریب آنے کے ساتھ ہی خریداروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور رات گئے تک بازاروں میں چہل پہل برقرار رہتی ہے۔ شہر کے بیشتر بازار ان دنوں عید کی تیاریوں کے باعث روشنیوں اور گہما گہمی سے جگمگا رہے ہیں۔




Wednesday, 24 September 2025

تاریخی صداقت آشرم میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے: عطاءالرحمن




 پٹنہ،( پریس ریلیز ) کانگریس کے سنیئر لیڈر ایڈووکیٹ عطاءالرحمن نے کہاکہ کانگریس پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ پہلی بار بہار کی سرزمین پر تاریخی صداقت آشرم میں منعقد ہو رہی ہے، جو ہندوستانی آزادی کی جدوجہد کا اہم مرکز رہا ہے۔ یہ میٹنگ نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک کی سیاست میں ایک نئے دور کی شروعات ثابت ہوگی۔

انہوںنے کہاکہ یہ اجلاس کانگریس پارٹی کی جمہوری قدروں، عوامی مسائل پر توجہ اور ملک کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے اجتماعی عزم کا مظہر ہے۔ ورکنگ کمیٹی کے اس اجلاس میں کانگریس کے اعلیٰ رہنما راہل گاندھی، سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور صدر ملکا ارجن کھڑگے سمیت دیگر معزز قائدین شریک ہوئے، جن کی کوششوں نے پارٹی کو ایک بار پھر عوامی تحریک کی شکل دے دی ہے۔

 مسٹر رحمن نے کہاکہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا اور حال ہی میں ووٹر ادھیکار یاترا سے لے کر پرینکا گاندھی کی زمینی جدوجہد اور سونیا گاندھی کے تجربے تک، سبھی رہنماو¿ں کی قربانیاں اور محنت کانگریس کے کارکنوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ صدر ملکا ارجن کھڑگے کی مضبوط قیادت پارٹی کو نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔

 انہوں نے کہاکہ اس میٹنگ سے یہ پیغام جائے گا کہ کانگریس پارٹی آج بھی عوامی مسائل کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں، خواتین اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے کانگریس کی پالیسیوں اور عزم کو مزید تقویت ملے گی۔

ہمیں یقین ہے کہ صداقت آشرم کی اس تاریخی میٹنگ کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے اور بہار سمیت پورے ملک میں کانگریس کارکنوں کو نئی توانائی، جوش اور اعتماد کے ساتھ عوامی جدوجہد میں آگے بڑھنے کا حوصلہ ملے گا۔

صداقت آشرم میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک میں کانگریس کو نئی توانائی، اعتماد اور جدوجہد کا حوصلہ دے گی: ہیمنت چترودی

 



پٹنہ(پریس ریلیز) بانکی پور اسمبلی حلقہ کے ممکنہ امیدوار اور بلاک صدر ہیمنت چترویدی نے کہاکہ تاریخی صداقت آشرم میں آزادی کے بعد پہلی بار کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہونا نہ صرف بہار کے لیے فخر کی بات ہے بلکہ پورے ملک کی جمہوریت کے لیے ایک سنگ میل ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں سے آزادی کی تحریک کو نئی توانائی ملی تھی، اور آج ایک بار پھر یہی سرزمین کانگریس کو نئی جہت دینے جا رہی ہے۔

اس اجلاس میں شرکت کرنے والے پارٹی کے قد آور رہنماراہل گاندھی، سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور صدر ملکا ارجن کھڑگے نے پارٹی کی مضبوطی، اتحاد اور عوامی مسائل پر جدوجہد کو نیا رخ دیا ہے۔ ان سب کی مشترکہ کوششوں سے کانگریس ایک بار پھر عوام کی امیدوں کا مرکز بن رہی ہے۔

راہل گاندھی کی عوامی یاترا، پرینکا گاندھی کی بھرپور مہمات، سونیا گاندھی کی بصیرت اور ملکا ارجن کھڑگے کی قیادت، پارٹی کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ اجلاس عوام کو یہ یقین دلاتا ہے کہ کانگریس ہر طبقے کسانوں، مزدوروں، طلبہ، خواتین اور پچھڑے طبقات کے ساتھ کھڑی ہے۔

ہم کارکنان پ±ر اعتماد ہیں کہ صداقت آشرم کی یہ میٹنگ نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک میں کانگریس کو نئی توانائی، اعتماد اور جدوجہد کا حوصلہ دے گی۔ آنے والے وقت میں اس کے اثرات سیاست اور عوامی تحریکوں پر نمایاں طور پر دیکھے جائیں گے۔

Monday, 8 September 2025

بانکی پور اسمبلی سیٹ سے کانگریس کے مضبوط دعویدار ہیں ہیمنت چترویدی



پٹنہ/08 ستمبر : بہار اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی سیاسی سرگرمیاں زوروں پر ہیں۔ تمام بڑی پارٹیاں اپنے اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کی تیاری میں مصروف ہیں۔ ایسے میں بانکی پور اسمبلی حلقے میں کانگریس کے بلاک صدر اور ممکنہ امیدوار ہیمنت چترویدی کو سب سے مضبوط دعویدار مانا جا رہا ہے۔

ہیمنت چترویدی کی سب سے بڑی طاقت ان کی عوامی مقبولیت اور زمینی سطح پر مضبوط گرفت ہے۔ علاقے کے عوامی مسائل کے حل کے لیے وہ ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں اور عوامی خدمت کو اپنی ترجیح مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگ انہیں اپنے درمیان ایک سچے خادم کی صورت میں دیکھتے ہیں۔

کانگریس کی پالیسیوں اور عوامی فلاحی اسکیموں کو گھر گھر پہنچانے میں بھی وہ مسلسل سرگرم ہیں۔ پارٹی کے اندر بھی ان کی لیڈرشپ اور تنظیمی صلاحیت کی کھلے دل سے تعریف کی جا رہی ہے۔

اگرچہ اس سیٹ پر کانگریس کی جانب سے کئی اور چہرے اپنی دعویداری پیش کر رہے ہیںمگر عوامی حمایت اور طویل سماجی خدمت کے سبب ہیمنت چترویدی کو سب سے آگے تصور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق کانگریس ہائی کمان بھی ان پر نگاہ رکھے ہوئے ہے اور امکان ہے کہ آنے والے بہار اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی بڑی امیدیں انہی سے وابستہ ہوں گی۔

Sunday, 7 September 2025

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کی جانب سے صحت بیداری ہفتہ کا انعقاد کیا گیا۔

 








پٹنہ : ڈاکٹر محمد شفاعت کریم، اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ طبی کالج  و اسپتال پٹنہ نے آج مورخہ 07 ستمبر بروز اتوارایک پریس اعلانیہ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ کالج میں ستمبر کے پہلے ہفتے میں طبی کالج کے اسپتال کے احاطہ میں او پی ڈی میں پہنچنے والے مریضوں کے درمیان عمومی صحت بیداری مہم چلائی گئی۔اس کے ذریعہ لوگوں کو ایک صحت مند طرز زندگی، امراض سے تحفظ کے تدابیر اور ایک صحت مند سماج کی تعمیر کے تعلق سے جانکاری فراہم کی گئی، پرچے بانٹے گئے اور پوسٹر کے ذریعہ سمجھایا گیا۔ یہ پروگرام ایک ستمبر سے 07 ستمبر تک چلنا تھا  البتہ 07 ستمبر کو اتوار ہونے کی وجہ سے اس صحت بیدار مہم کا اختتام 06 ستمبر بروز سنیچر ہی کر دیا گیا۔ 

بتاتا چلوں کہ اس صحت بیداری ہفتہ کا انعقاد گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ کے صد سالہ جشن کے ضمن میں کیا گیا تھا۔ اس مہم کے  چیرمین ڈاکٹر محمد نجیب الرحمن تھے جب کہ پورے پروگرام کی سرپرستی کالج ہذا کے پرنسپل پروفیسر (ڈاکٹر) محمد محفوظ الرحمن کر رہے تھے۔ اس پوری مہم میں مختلف موضوعات کا احاطہ کیا گیا جس میں 01 ستمبر کو شعبہ معالجات کے پی جی اسکالر ڈاکٹر  راحت پروین اور نہال اشرف نے ٹیکہ کاری (ویکسینیشن )  کے بارے میں لوگوں بیدار کیا۔ 02 ستمبر کو ڈاکٹر زاہد اور ڈاکٹر مظفر سلیمان نے ذیابیطس شکری  اور اس سے تحفظ کے اپائے سے لوگوں کو آگاہ کیا۔ 03 ستمبر کو ڈاکٹر ہلال انور اور ڈاکٹر شاہد امام نے ضغط الدم قوی (ہائپرٹنشن) سے عوام کو روبرو کرایا۔ اسی طرح سے 04 ستمبر کو ڈاکٹر مظفر سلیمان اور ڈاکٹر نہال اشرف نے سمن مفرط (موٹاپا)  اور اس کے انجام سے عوام کو بیدار کیا۔ آخر دن بروز سنیچر فقر الدم (انیمیا)  اور اس کے علامت سے اس کی فوری پہچان کرنے اور اور اس کے بچائو سےلوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے ڈاکٹر کے ایم سوچیتا اور داکٹر نہال  اشرف نے اپنے تاثرات پیش کئے۔ 

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے صد سالہ جشن میں ہر ماہ مختلف اقسام کے پروگرام منعقد کئے جانے ہیں جس کا مقصد عوام تک یونانی طریقہ علاج کو پہنچانا، یونانی ڈاکٹروں کو اس طریقہ علاج میں باکمال بنانا ، اور طلباء کو بھی اپنی پیتھی میں اعتماد کے ساتھ علاج و معاالجہ کرنے کی تلقین دلانا شامل ہے۔اسی صد سالہ جشن کے تحت اس ماہ مزید تین پروگرام ہونے ہیں جس میں گرین انیشیٹیو کے طور پر پیڑ پودھے لگائیں جائیں گے اور صاف صفائی کا اہتمام کیا جائےگا۔ 21 ستمبر کو ورلڈ الزائیمر ڈے منایا جانا ہے اور اسی ماہ کالج ہذا کے فارغین کے ساتھ آن لائن میٹینگ کا اہتمام کیا جانا ہے جس سے کہ 2026 میں صد سالہ میں ان کا کیا رول ہوگا اس پر لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

راجد کو صرف مسلمانوں کے ووٹوں سے محبت ہے مسلمانوں سے نہیں : شاہد اطہر











 دربھنگہ:- آر جے ڈی کے بانی ر
کن اور شہری اسمبلی حلقہ کے سابق ایم ایل اے جناب سلطان احمد کے انتقال پر پارٹی کے ہائی کمان یا لالو خاندان کے کسی رکن کی غیر موجودگی، جب کہ حیاگھاٹ اسمبلی کے سابق ایم ایل اے جناب ہری نندن یادو کی آخری رسومات میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو، سابق نائب وزیر اعلیٰ کی شرکت یہ ثابت کر رہا ہے کہ راجد کو صرف مسلمانوں کے ووٹوں سے محبت ہے مسلمانوں سے نہیں ۔ یہ باتیں دربھنگہ شہری اسمبلی حلقہ کے ممکنہ امیدوار اور جن سوراج پارٹی بہار کے ایگزیکٹو ممبر ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے آج ایک پریس ریلیز میں کہیں۔ ایڈوکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ یہ آر جے ڈی کا پہلا معاملہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر محمد شہاب الدین صاحب کی موت پر بھی ایسا ہی کیا گیا تھا، جو لالو خاندان کے لیے باعث فخر تھے اور جنہوں نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر پارٹی کو متحد رکھا تھا۔ آخر کب تک ریاست میں مسلمانوں کے ساتھ ایسا ہوتا رہے گا؟ ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ آفت و غم  کے اس موقع پر ہم سب جناب ہری نندن یادو جی کے اہل خانہ کے ساتھ گہرے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے راجد کے ضلع صوبہ و قومی اقلیتی لیڈر سے پوچھا ہے کہ آج جو ہوا ہے وہ کیا کل آپ کے لوگوں کے ساتھ ایسا نہیں ہو سکتا ہے کیا؟ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے مزید کہا کہ کیا آر جے ڈی کو صرف یادو کی پارٹی سمجھا جائے؟ بہار اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور آر جے ڈی والے مسلمانوں کے پاس آئیں گے اور ان سے ہمدردی کی بات کریں گے لیکن حقیقت میں کچھ اور ہی نظر آرہا ہے۔ آر جے ڈی مسلم ووٹ چاہتی ہے لیکن ان کے دکھ درد میں شریک نہیں بن سکتی۔ شہری اسمبلی کے ممکنہ امیدوار ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ دربھنگہ شہری اسمبلی کا ایک ایک مسلمان آر جے ڈی کے خلاف اور جن سوراج کے امیدوار کو ووٹ دے کر سابق ایم ایل اے جناب سلطان احمد صاحب کے گھر نہ آنے کا بدلہ لے گا۔