Sunday, 9 March 2025

"شام میں موجودہ کشیدگی کے پیچھےحزب اللہ کا ہاتھ، اہم شخصیات گرفتار کرلیں"

 




شام کے جنوبی علاقے اللاذقیہ میں سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ اور تین دن تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد ایک شامی عہدیدار نے کہا ہے کہ کشیدگی کے پیچھے لبنانی حزب اللہ کا ہاتھ ہے۔


اللاذقیہ کے سیکورٹی عہدیدار ساجد الدیک نے کہا کہ گورنری اور دوسرے علاقوں میں حالیہ کشیدگی میں حزب اللہ اور بیرونی قوتوں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔


انہوں نے العربیہ/الحدث کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ "حزب اللہ نے ساحلی علاقوں میں کچھ گروپوں کو مدد فراہم کی۔حزب اللہ اور بیرونی ممالک شام کے ساحل پر بعض جماعتوں اور اسد کی باقیات کو مدد فراہم کر رہے ہیں"۔


انہوں نے کہا کہ پبلک سکیورٹی فورسز نے "سابق حکومت کی باقیات" سے سینئر شخصیات کو گرفتار کیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ "ہم نے خطے میں سابق حکومت کی باقیات میں سے پانچ سینئر شخصیات کو گرفتار کیا"۔


تاہم انہوں نے کہا کہ اس نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ان شخصیات کی شناخت ظاہر نہیں کی۔


"یہ محفوظ ہے"

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صورتحال اب 90 فیصد محفوظ ہے۔


ساجد الدیک نے اس بات پر زور دیا کہ سکیورٹی فورسز علوی فرقے کے سرکردہ افراد سے رابطہ کر رہی ہیں تاکہ اسد کی باقیات میں سے مطلوب عسکریت پسندوں کو ہمارے حوالے کیا جا سکے اور شہر کو واقعات یا جھڑپوں سے بچایا جا سکے۔


الاذقیہ کے گورنر محمد عثمان نے العربیہ کو بتایا کہ ان کے بقول کہ "بغاوت پھیلانے اور اس مقصد کے لیے عناصر کو بھرتی کرنے کے پیچھے بیرونی جماعتیں ہیں"۔


انہوں نے بدامنی پر قابو پانے اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کو مسترد کرنے پر زور دیا۔ایسے لوگ ہیں جو فرقہ واریت پر شرط لگا رہے ہیں اور بغاوت کو ہوا دے رہے ہیں"۔


گذشتہ جمعرات سے شام کے ساحلی علاقوں میں علوی فرقے کی اکثریت والے کئی علاقوں میں کشیدگی اور جھڑپیں بھڑک اٹھی ہیں۔


دریں اثنا، العربیہ/الحدث کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ شام کے ساحل پر ہونے والی لڑائیوں میں 700 سے زیادہ سیکورٹی فورسز اور "حکومتی باقیات"کے کئی افراد مارے گئے ہیں۔


ذریعے کے مطابق اس سے تشدد سے مرنے والوں کی تعداد 1,018 سے زیادہ ہو گئی ہے، جس میں سکیورٹی فورسز کے 273 ارکان اور اسد کے حامی عسکریت پسند شامل ہیں۔


شام کے ساحل پر شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے گروہوں کی گرفتاری شروع

 



شامی جنرل سکیورٹی نے شام کے ساحل پر شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے پر غیر منظم گروہوں کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے تاکہ لوگوں کو کسی بھی قسم کی خلاف ورزی سے بچایا جاسکے۔ شامی فوج نے ساحلی علاقوں سے فوجی ڈیوٹی پر مامور نہ ہونے والوں کی واپسی کا حکم دیا تاکہ آپریشن صرف فوج کی ٹیموں اور پبلک سیکیورٹی فورسز تک محدود رہے۔ فوج نے ساحل کی طرف جانے والی سڑکوں کے ایک حصے کو بھی بند کردیا ہے۔


قبل ازیں ہفتے کے روز العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے شام کے ساحلی شہروں میں محتاط رہنے کا اشارہ دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ شامی فوج طرطوس اور لاذقیہ کے دیہی علاقوں میں سرچ آپریشن کر رہی ہے۔ اس سے پہلے شام کی وزارت دفاع کے ایک ذریعے نے سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بتایا تھا کہ بشار الاسد کی حکومت کی باقیات کے خلاف فوج اور سکیورٹی فورسز بشار الاسد کے خاندان کی جائے پیدائش قرداحہ شہر میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔


العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے شام کے شہر لاذقیہ میں شام کے آپریشن ڈیپارٹمنٹ اور سابق حکومت کے باقیات کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کا بتایا اور کہا سابق حکومت کے ارکان نیشنل ہسپتال کے قریب عمارتوں میں سے ایک میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔


بڑے ساحلی شہروں میں شامی سکیورٹی فورسز کی تعیناتی اور وہاں سکیورٹی کے کنٹرول کے ساتھ رات کے وقت محدود جھڑپیں لاذقیہ میں ابن سینا اسپتال کے آس پاس میں شروع ہوئیں۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے کہا ہے کہ شامی فوج جبلہ شہر میں داخل ہو گئی ہے اور نیول کالج کا مکمل کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔ ساحل کی لڑائی میں شامی فوج اور سکیورٹی کے صفوں میں سے 90 اہلکار اور سابق حکومت کی باقیات میں شامل گروہوں کے 160 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔


ذرائع نے بتایا کہ فوج کے 44 ارکان سکیورٹی فورسز کو مدد فراہم کرتے ہوئے گھات لگا کیے گئے حملوں میں مارے گئے۔ شامی شہر لاذقیہ کے ایک محلے میں شامی سکیورٹی اور سابق حکومت کے حامیوں درمیان پرتشدد جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔ شام کے صدر احمد الشرع نے سابق حکومت کی باقیات میں شامل گروپوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سے پہلے کے دیر ہوجائے وہ فوری طور پر ہتھیار حوالے کر دیں۔ شامی صدر نے ہسپتالوں پر حملوں، ہلاکتوں اور دھاوا بولنے کی مذمت کی۔


شام کی وزارت دفاع کے ترجمان حسین عبدالغنی نے العربیہ کو ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مسلح افواج طرطوس اور لاذقیہ میں غیر قانونی گروپوں سے نمٹ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا جبلہ شہر میں استحکام بحال کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز مضبوط ہیں۔


شام کے ساحل پر کیا ہو رہا ہے؟

حالیہ گھنٹوں میں شام کے ساحل پر بشار حکومت کے زوال کے بعد سے باقیات کے خلاف سب سے بڑی حفاظتی مہم ریکارڈ کی گئی۔ جھڑپیں جبلہ کے آس پاس جاری تھیں۔ وزارت دفاع نے لاذقیہ اور طرطوس کے گورنروں کو علاقے کو محفوظ بنانے اور شہر کے مراکز اور آس پاس کے پہاڑوں میں وسیع کومبنگ آپریشن شروع کرنے کے لیے بھاری کمک بھیجی ہے۔


سنگل واٹر فرنٹ

شام کا واحد واٹر فرنٹ بحیرہ روم پر ملک کے مغرب میں 183 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کا رقبہ چار ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ ساحلی علاقہ پیچیدہ ہے جس کی وجہ سے سابق حکومت کے عناصر کو ڈھونڈنا اور ان کا پیچھا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پہاڑوں کے ساحل کے بہت قریب ہونے کی وجہ سے یہ ایک تنگ میدانی پٹی ہے۔ اس میں جنوب میں طرطوس اور شمال میں لاذقیہ کی گورنری شامل ہیں۔


علوی اکثریت

دونوں گورنریٹس میں علوی اکثریت آباد ہے جس نے کئی دہائیوں سے سابق حکومت کے لیے ایک انکیوبیٹر بنایا تھا۔ اس کے علاوہ ایک سنی اور عیسائی افراد بھی موجود ہیں۔ دونوں گورنریٹس میں جنگ سے پہلے کی آبادی 10 لاکھ 800 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ لیکن ریڈ کراس کے اعداد و شمار کے مطابق وہاں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد 10 لاکھ سے زیادہ ہے۔


ساحل پر شام کی تین بندرگاہیں اسد جونیئر کے ساتھ معاہدوں کی بنا پر روس کے کنٹرول میں تھیں۔ ان میں سے سب سے بڑی بندرگاہ لاذقیہ، پھر طرطوس اور پھر بانیاس کی بندرگاہ ہے۔


پاکستان فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کی ہر کوشش کو مسترد کرتا ہے: اسحٰق ڈار

 





پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے مسلم امہ پر زور دیا ہے کہ فلسطینی عوام کی غزہ یا مغربی کنارے سے زبردستی نقل مکانی کو نسلی تعصب کی بنیاد پر بے دخلی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی جرم قرار دیا جائے۔


ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اسحٰق ڈار نے جدہ، سعودی عرب میں منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزرائے خارجہ کی کونسل کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کے دوران پاکستان کی جانب سے فوری سفارشات بھی پیش کیں جن میں جنگ بندی معاہدے پر تین مراحل میں مکمل اور فوری عمل درآمد شامل ہے، دشمنی کا مستقل خاتمہ، غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، غیر محدود انسانی امداد تک رسائی اور تعمیر نو کا ایک جامع منصوبہ بھی پاکستان کی تجاویز کا حصہ ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2735 (2024) پر عمل درآمد کے مطالبے کی مکمل حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت ختم ہونی چاہیے، جنین، تلکرم، نور الشمس اور الفارع میں پناہ گزین کیمپوں کی تباہی نے غزہ کی تباہی کی عکاسی کرتے ہیں۔


انہوں نے مطالبہ کیا کہ جبری نقل مکانی، غیر قانونی قبضے اور آباد کاروں پر تشدد کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں 2720 (2024) اور 2334 (2016)کے مطابق تبدیل کیا جانا چاہیے اور الحر م الشریف/مسجد اقصیٰ کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔


اسحٰق ڈار نے کہا کہ فلسطینیوں کو وسیع اور بلا روک ٹوک انسانی امداد ملنی چاہیے۔ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کو بغیر کسی رکاوٹ کے کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 (5) کے تحت اسرائیل کا قانونی فرض تھا کہ وہ اس کام میں آسانی پیدا کرے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد اس ذمہ داری کو تقویت دیتی اور انسانی امداد میں رکاوٹ ڈالنے کی تمام کوششوں کی مذمت کرتی ہے۔


انہوں نے کہا کہ امدادی اداروں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا ایک غیر اخلاقی عمل اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، انسانی امداد کو کبھی بھی ہتھیار نہیں بنانا چاہیے، جبکہ فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو سرخ لکیر کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔



نائب وزیراعظم نے امت مسلمہ پر زور دیا کہ او آئی سی کو اجتماعی طور پر فلسطینیوں کو ان کے آبائی وطن سے منتقل کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت اور روکنا چاہیے، چاہے وہ براہ راست جبر کے ذریعے ہو یا انسانی امداد اور تعمیر نو کی آڑ میں ہو، اس طرح کا کوئی بھی اقدام نسلی تعصب کی بنیاد پر بے گھر کرنے کا عمل اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔


انہوں نے کہا کہ دو ریاستی حل کی جانب ایک قابل اعتماد اور ناقابل واپسی سیاسی عمل کی بحالی اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے اندر ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنانا ہوگا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، یہی پائیدار امن کا واحد قابل عمل حل ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی کو فلسطین کی ریاست کو اقوام متحدہ کے مکمل رکن کے طور پر تسلیم کرانے کے لیے بھی اپنے اجتماعی اثر و رسوخ کو متحرک کرنا چاہیے۔


فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں جون میں ہونے والی آئندہ کانفرنس کے حوالے سے اسحٰق ڈار نے کہا کہ یہ کانفرنس مسئلہ فلسطین کے پرامن اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے ایک اہم موقع ہوگا۔ او آئی سی کو غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیل کو اس کے جرائم کا جوابدہ ٹھہرانے کے لیے فیصلہ کن سفارتی اور اقتصادی اقدامات کرنے چاہئیں، اس میں تجارتی پابندیاں، مسلسل سفارتی دباؤ اور بین الاقوامی عدالت انصاف میں قانونی کارروائی شامل ہونی چاہیے۔


انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مصر کی طرف سے غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہ منصوبہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک متوازن، عملی اور موثر طریقہ کار پیش کرتا ہے، یہ حقیقت کہ فلسطینیوں کو اس منصوبے کو حتمی شکل دینے میں شامل کیا گیا ہے اور ان کے مستقبل کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرنے کا تصور کیا گیا ہے، اس سے اس منصوبے کو مزید تقویت ملتی ہے۔


دو ریاستی حل کے لیے عالمی اتحاد کے ذریعے ملکوں کے ساتھ کام کر رہے: سعودی عرب

 




عرب اور اسلامی کوششوں کو تقویت دینے کے لیے فلسطینی کاز کی حمایت جاری رکھیں گے: سعودی وزیر خارجہ


سعودی عرب نے جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی وزارتی اجلاس میں فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے گھر کرنے کے مطالبات اور خیالات کو مسترد کرنے کی تجدید کردی۔ وزارتی اجلاس میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے غزہ میں پائیدار امن کی ضرورت پر زور دیا۔


سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک دو ریاستی حل کے لیے بین الاقوامی اتحاد کے ذریعے ممالک کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔


انہوں نے کہا خطے میں مستقل اور جامع امن صرف ایک ایسی فلسطینی ریاست کے قیام کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو اور جس کی سرحدیں چار جون 1967 والی ہوں۔


شہزادہ فیصل بن فرحان نے مزید کہا کہ ان کا ملک امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام عرب اور اسلامی کوششوں کو تقویت دینے کی کوششوں کے ذریعے فلسطینی کاز کی حمایت ایسے ہی کرتا رہے گا جیسے اس نے 2023 اور 2024 میں بھی دو غیر معمولی مشترکہ عرب اسلامی سربراہی اجلاس منعقد کیے ہیں۔ ان اجلاسوں کے نتیجے میں مملکت کی سربراہی میں وزارتی کمیٹی نے امن کے حصول کے لیے سنجیدگی سے قدم اٹھایا اور امن کے حامی ملکوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا۔


فرانس ،جرمنی ، اٹلی اور برطانیہ نے غزہ کی تعمیر نو کے عرب منصوبے کی حمایت کی

 



فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وہ غزہ کی تعمیر نو کے عرب من
صوبے کی حمایت کرتے ہیں، جس پر 53 بلین ڈالر لاگت آئے گی۔ اس منصوبے کے تحت غزہ کی پٹی کے باشندوں کو بے گھر کرنے سے گریز کیا جائے گا۔


خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق وزراء خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہاکہ "یہ منصوبہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک حقیقت پسندانہ راستہ متعین کرتا ہے اور اگر اس پر عمل درآمد ہوتا ہے تو غزہ میں رہنے والے فلسطینیوں کے تباہ کن حالاتِ زندگی میں تیزی سے اور پائیدار بہتری کا وعدہ کیا گیا ہے"۔


مصر نے اس منصوبے کا مسودہ تیار کیا تھا اور عرب رہنماؤں نے رواں ماہ اسے اپنا لیا تھا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے مسترد کر دیا تھا۔


گذشتہ جمعرات کو مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی جس میں انہوں نے غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے عرب ممالک کے منصوبے پر بات کی۔


جمعہ کو مصری وزارت خارجہ کے ترجمان تمیم خلف کے ایک بیان کے مطابق عبدالعاطی نے غزہ میں جلد بحالی اور تعمیر نو کے عرب منصوبے کا جائزہ لیا، اس کے مختلف عناصر اور مراحل پر غور کیا گیا۔ مصری وزیر خارجہ نے امریکی عہدیدار کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوے اس منصوبے کو مکمل عرب اتفاق رائے کو اجاگر کیا۔


انہوں نے توجہ دلائی کہ مصر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ کے ساتھ اس منصوبے اور اس کے فوائد کا جامع انداز میں جائزہ لینے کے لیے مثبت اور تعمیری بات چیت جاری رکھنے کا منتظر ہے۔ انہوں نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے تمام مراحل پر تمام فریقین سے عمل درآمد کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو انسانی امداد غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت دینے، جنگ کے بعد بحالی اور تعمیر نو کے راستے کو ہموار کرنے کے لیے عرب ممالک کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔


وٹکوف نے زور دیا کہ انہیں عرب منصوبے کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔وہ اس میں پرکشش عناصر شامل ہیں اور اچھے ارادوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہ آنے والے عرصے کے دوران اس منصوبے کے بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے لیے پرعزم ہیں۔


مدرسہ حمیدیہ قلعہ گھاٹ میں سوموار کو دعوت افطار ایڈووکٹ شاہد اطہر

 




 دربھنگہ:- رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ میں روزہ کا خاص اہتمام لوگوں کے ذریعہ کیا جاتا ہے - اس ماہ میں دعوت افطار کا بھی اہتمام بڑے زور وشور سے کیا جاتا ہے- دربھنگہ شہر کے عوام الناس کے طرف سے اس موقع پہ ایک بڑے دعوت افطار کا اہتمام بروز سوموار بوقت شام ساڑھے پانچ بجے بمقام مدرسہ حمیدیہ قلعہ گھاٹ دربھنگہ شہر میں کیا جا رہا ہے- اس موقع پہ شہر کے سبھی طبقات کے لوگوں کو دعوت دینے کا کام اخبار و سوسل میڈیا کے ساتھ ساتھ دعوت نامہ بھی ارسال کیا جا رہا ہے - جن حضرات کو وقت کی کمی یا صحیح پتہ نہیں معلوم ہونے کے وجہ سے اگر وقت پہ دعوت نامہ نہیں مل سکا تو وہ اس خبر کو دعوت سمجھ کر افطار میں ضرور بالضرور شرکت کریں - افطار کے موقع پہ جن سوراج کے بانی محترم پرشانت کشور جی بھی تشریف لا رہے ہیں جہاں وہ لوگوں سے ملنے کا بھی اہتمام کریں گے-

Saturday, 8 March 2025

ڈاکٹر عبد الوہاب ایک عظیم سرجن





ڈاکٹر عبد الوہاب ایک عظیم سرجن، بے مثال استاد، بلند پایہ مفکر اور بے لوث سماجی کارکن تھے، جن کی زندگی خدمتِ خلق، تعلیم اور طبی میدان میں نمایاں کارناموں سے بھرپور رہی۔ وہ نہ صرف جراحی (سرجری) کے فن میں مہارت رکھتے تھے بلکہ اپنی انسان دوستی، شفقت اور علم دوستی کی بدولت ایک مکمل ادارہ کی حیثیت اختیار کر گئے تھے۔


ابتدائی زندگی اور تعلیمی سفر


ڈاکٹر عبد الوہاب 1931 میں پیدا ہوئے اور اپنی ابتدائی تعلیم جے آر ڈی ٹاٹا ہائی اسکول، جمشید پور سے 1949 میں مکمل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے 1951 میں پٹنہ سائنس کالج میں داخلہ لیا اور طب (میڈیکل سائنس) کی طرف رجحان رکھتے ہوئے 1957 میں دربھنگہ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل (DMCH) سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔


اپنی قابلیت، محنت اور علم کے شوق کی بدولت انہوں نے مزید مہارت کے لیے انگلینڈ کا سفر کیا، جہاں انہوں نے 1965-66 میں FRCS (فیلو آف دی رائل کالج آف سرجنز) کی سند حاصل کی—جو کسی بھی سرجن کے لیے اعلیٰ ترین اعزاز میں شمار ہوتی ہے۔


طبّی دنیا میں خدمات اور تربیت کا سفر


انگلینڈ سے واپسی کے بعد 1968 میں انہوں نے DMCH میں اسسٹنٹ پروفیسر آف سرجری کے طور پر شمولیت اختیار کی اور 1981 تک درس و تدریس اور جراحی کے شعبے میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ نہ صرف بہترین معالج تھے بلکہ نوجوان ڈاکٹروں کے لیے ایک عظیم استاد اور رہنما بھی ثابت ہوئے۔


ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں سعودی عرب میں کنگ فہد اسپیشلسٹ ہسپتال، جیزان میں بطور کنسلٹنٹ سرجن مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے بین الاقوامی سطح پر طبی خدمات انجام دیں اور مزید تجربہ حاصل کیا۔


علاج کو عام کرنے کا مشن – اسپتالوں کا قیام


اپنی غیر ملکی خدمات کے باوجود، ڈاکٹر عبد الوہاب ہمیشہ اپنے وطن اور اپنے لوگوں کی خدمت کے جذبے سے سرشار رہے۔ اسی لیے انہوں نے 1989 میں "الحلال نرسنگ ہوم" قائم کیا، جو آج ان کے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر احمد نسیم ارزو کی سربراہی میں "الحلال اسپتال" کے نام سے ایک جدید طبی ادارہ بن چکا ہے۔


انہوں نے صرف کاروباری سطح پر ہسپتال قائم نہیں کیا بلکہ ان کا مقصد غریب اور نادار مریضوں کو سستی اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا تھا۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے "ملت شفا خانہ" قائم کیا، جہاں مستحق مریضوں کا علاج بالکل مفت کیا جاتا ہے۔ یہ شفا خانہ آج بھی ان کے مشن اور خدمت کے جذبے کی جیتی جاگتی مثال ہے۔


تعلیم اور خواتین کی خودمختاری کے لیے انقلابی قدم


ڈاکٹر عبد الوہاب کا ماننا تھا کہ ایک صحت مند اور کامیاب معاشرہ صرف تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ وہ خاص طور پر مسلم لڑکیوں کی تعلیم کے زبردست حامی تھے۔ اسی وژن کے تحت انہوں نے "حاجن بیگم صغریٰ حسن میموریل گرلز ہائی اسکول" قائم کیا، تاکہ لڑکیوں کو جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جا سکے اور وہ معاشی و سماجی طور پر خودمختار بن سکیں۔


ان کی یہ کوشش محض تعلیمی ادارہ قائم کرنے تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ایسی سماجی تحریک کا آغاز کر رہے تھے، جس کا مقصد مسلم خواتین کو علم اور شعور کی روشنی فراہم کرنا تھا۔


ایک لازوال ورثہ – خدمت، تعلیم اور انسان دوستی


ڈاکٹر عبد الوہاب کی زندگی خدمت، ایثار اور علم کی روشنی سے عبارت تھی۔ انہوں نے ہزاروں مریضوں کا علاج کیا، بے شمار شاگردوں کی رہنمائی کی، طبی سہولیات کو عام کیا اور تعلیم کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔

6

 مارچ 2019 کو وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کے چھوڑے ہوئے نقوش آج بھی زندہ ہیں۔ الحلال اسپتال، ملت شفا خانہ، اور حاجن بیگم صغریٰ حسن میموریل اسکول جیسے ادارے ان کے انسانی ہمدردی کے سفر کو ہمیشہ جاری رکھیں گے۔


وہ محض ایک طبیب یا استاد نہیں تھے، بلکہ ایک عہد ساز شخصیت تھے، جنہوں نے نہ صرف زندگیوں کو بچایا بلکہ انہیں بہتر بنانے کا عزم بھی کیا۔ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کا مشن ہزاروں لوگوں کی رہنمائی کرتا رہے گا۔


اللّٰہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین!

Wednesday, 5 March 2025

خوشی اندر ہے، باہر نہیں





 تحریر : قاسم علی شاہ

 میتھیو ریکارڈایک فرانسیسی مصنف اورمصورہیں۔امریکا کی ویس کانسن یونیورسٹی کے سائنسی ماہرین نے 12گھنٹوں تک ان پر تحقیق کی۔ان کے سرپر 256سے زیادہ سینسرز لگائے گئے اور یہ جان کر حیران رہ گئے کہ میتھیو کے دماغ میں گاما لہروں(خوشی والی لہر) کی تعداد روئے زمین پر موجود کسی بھی انسان کے دماغ میں موجودگاما لہروں کی تعداد سے بہت زیادہ ہے۔ اسی تحقیق کی بنیاد پر سائنسی ماہرین نے یہ اعلان کیا کہ میتھیوریکارڈ اس وقت دنیا کا سب سے خوش ترین آدمی ہے۔

میتھیوریکارڈ نے مالیکیول جینیٹک میں پی ایچ ڈی کی ہے۔52سال پہلے وہ خوشی کی تلاش میں بھارت آیا جہاں اس کی ملاقات ایک گروسے ہوئی۔ گرو نے اسے خوش رہنے کے ایسے طریقے سکھائے جنھوں نے میتھیو کی دنیا بدل کررکھ دی میتھیوریکارڈ 1991ء میں پہلی بار دکھی ہوئے جب ان کے گرو کا انتقال ہوا تھا لیکن اس کے بعدوہ کبھی غمزدہ نہیں ہوئے۔وہ کہتے ہیں کہ ہر انسان خوشی چاہتاہے لیکن وہ اسے بیرونی دنیا میں تلاش کرتاہے جو کہ بنیادی غلطی ہے۔خوشی کا تعلق بیرونی دنیا سے نہیں بلکہ اندرونی دنیاسے ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم خوش رہنا چاہتے ہیں لیکن ہمارا دماغ ہمیں خوف زدہ کرتاہے۔اگر دماغ سے خوف کی یہ چابی نکال کر پھینک دی جائے تو ہم ہمیشہ خوش رہ سکتے ہیں۔

خوشی ایسی چیز ہے جس کے لیے انسان تمام عمرمحنت کرتاہے،مشقت اٹھاتاہے،یہاں تک کہ غم بھی اس لیے برداشت کرتاہے کہ اس کے بعدخوشی ملے گی۔میں خوشی کے لفظ پر تحقیق کرتارہتاہوں،میں نے نومبر2024 میں یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس وقت تک خوشی کے موضوع پر کتنی کتابیں لکھی جاچکی ہیں تو جواب آیابائیس ہزار۔ ایک ماہ بعد دوبارہ گوگل سے یہی سوال پوچھا توجواب ا?یا، تئیس ہزار۔یہ جان کر میں حیرت زدہ رہ گیا۔ایک مہینے میں ایک ہزارکتابوں کا اضافہ ہوچکا تھا۔آپ کے ذہن میں سوال ہوگا کہ اس اضافے کاسبب کیاہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں:

(ا) ہم جوں جوں ترقی کررہے ہیں ویسے ویسے بے سکون ہوتے جارہے ہیں۔سوشل میڈیا، تیز رفتار زندگی، بڑھتا ہوا ذہنی دباﺅ اور بے یقینی کا ماحول،وہ عوامل ہیں جنھوں نے ا?ج کے انسان کوخوشی اور سکون کامتلاشی بنادیاہے۔

(ب)عمومی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں میں (خاص طور پر مغرب میں)ذہنی صحت کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے دباﺅ،بے چینی اور تناﺅجیسے عوارض میں مبتلا لوگ خوشی کی طرف رجوع کررہے ہیں تاکہ ذہنی اطمینان حاصل کرسکیں۔

(ج)خوشی کے موضوع پر ہونے والی تحقیقات میں بھی اضافہ ہواہے۔Positive Psychology خوشی حاصل کرنے کی ترغیب دیتی ہے جس کی بنیاد پر ماہرین نفسیات اورمحققین نے خوشی کے نت نئے طریقوں پر مزید لکھنا شروع کر دیا ہے۔

(د)مغربی دنیا میں بے پناہ معاشی ترقی کے باوجود لوگوں میں اکیلاپن اور مایوسی بڑھ رہی ہے۔دولت میں اضافے کے باوجود حقیقی اطمینان حاصل نہیں ہو رہا، اس لیے لوگ خوشی کے نئے طریقے اورراستے تلاش کر رہے ہیں۔

خوشی تلاش کرنے والے رجحان کے پیچھے ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ مغرب میں خوشی کے فلسفے کو مختلف زاویوں سے دیکھا جاتا ہے۔اس میں فلسفیانہ، سائنسی اور نفسیاتی نقطہ نظر شامل ہے۔


Hedonism( لذت پسندی):

یہ نظریہ کہتا ہے کہ خوشی کا مطلب زیادہ سے زیادہ لذت اور کم سے کم درد ہے۔ ایپی کیورس (Epicurus) جیسے فلسفیوں نے اس نظریے کو فروغ دیا کہ کھانا، پینا، ا?رام اور لذت حاصل کرناہی انسان کی اصل خواہش ہے۔ جدید مغربی معاشروں میں صارفانہ تہذیب (Consumer Culture) اسی تصور کو فروغ دیتی ہے، جس میں لوگوں کو خوشی حاصل کرنے کے لیے چیزیں خریدنے اور سیر و تفریح جیسی سرگرمیوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی جاتی ہے۔


Eudaimonia( معنوی خوشی):

یونانی فلسفی ارسطو نے خوشی کو صرف لذت یا عارضی مسرت تک محدود نہیں کیا بلکہ وہ بامقصد زندگی کوہی اصل خوشی قراردیتا ہے۔ارسطو کہتاہے کہ جب انسان اپنی صلاحیتوں کو نکھارتا ہے، عمدہ اخلاق اپناتا ہے اور معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا ہے تب اسے حقیقی خوشی حاصل ہوتی ہے۔

مائنڈفلنس اور اسٹوئکزم :

مغرب میں بدھ مت کے اصولوں اور اسٹوئک فلسفے نے بھی خاصی مقبولیت حاصل کی ہے۔ مائنڈفلنس سکھاتا ہے کہ لمحہ موجود میں جینا اور غیر ضروری فکروں سے نجات حاصل کرنا خوشی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ جب کہ اسٹوئک فلسفہ کہتا ہے کہ خوشی اندرونی سکون اور جذبات پر قابو پانے سے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ بیرونی دنیا سے۔


Positive Psychology(مثبت نفسیات):

یہ مغرب میں خوشی کا جدید فلسفہ ہے۔مارٹن سیلگمین اور دیگر ماہرین نے اس بات پر تحقیق کی کہ خوشی کیسے ماپی جاسکتی ہے اور اس کی مقدا ر کیسے بڑھائی جاسکتی ہے۔یہ فلسفہ پانچ عناصر”مثبت جذبات“،”مشغولیت“،” تعلقات“، ”مقصد“، ”کامیابی“ اور”اجتماعی خوشی“پر مشتمل ہے۔

برطانوی فلسفی جیریمی بینتھم اور جان اسٹوارٹ مِل نے یہ نظریہ پیش کیا کہ خوشی کوفقط اپنی ذات تک محدودنہ رکھاجائے بلکہ اس میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کوشامل کیاجائے۔اسی بنیاد پر کہاجاسکتاہے کہ ایک اچھا معاشرہ وہی ہوگا جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو خوشی دے۔

ہمیں یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ انسان چارچیزوں کامجموعہ ہے۔دل ، دماغ، جسم اور روح۔ خوشی کے حصول کے لیے ان چاروں کا بہتر ہونابہت ضروری ہے، اگر ایسا نہ ہوتوپھر انسان جس قدر بھی کامیابیاں پالے ، کہیں نہ کہیں وہ بے چینی کا شکار رہے گا۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ ان چاروں کو بہتر اور صحت مند کیسے بنایاجاسکتاہے۔

دل:

دل صرف ایک جسمانی عضو ہی نہیں بلکہ جذبات اور احساسات کا مرکز بھی ہے۔ خوشی اور سکون کے لیے دل کی صحت کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے کیونکہ یہی وہ عضو ہے جو محبت، تعلقات، رحم دلی اور اطمینان سے جڑا ہے۔ اگرانسان جسمانی یا جذباتی طوربیمار ہو تو اس کی زندگی میں بے سکونی بڑھ جاتی ہے۔

جذباتی صحت کوبہتر بنانے کے لیے تجاویز:

مثبت تعلقات: خوش گوار اور سچے تعلقات جذباتی صحت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ہمیشہ منفی اور زہریلے رشتوں سے بچیں۔

معافی اور درگزر: غصہ اور کینہ دل کی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دوسروں کو معاف کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ ا?پ کو سکون حاصل ہو۔

محبت اور ہمدردی: دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ رکھیں۔ سخاوت اوراپنی نعمتوں کوبانٹنا دل کو خوشی اور سکون دیتا ہے۔

عبادت: ذکر، دعا اور عبادات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ دل جب اللہ سے جڑتاہے تو اسے حقیقی سکون ملتاہے۔

دماغ (ذہن):

دماغ انسانی سوچ، یادداشت، تخلیقی صلاحیتوں اور فیصلہ سازی کا مرکز ہے۔ اگر دماغ صحت مند ہو تو زندگی کے ہر پہلو میں بہتری آتی ہے اور اگر ذہنی صحت خراب ہو جائے تو زندگی الجھنوں اور پریشانیوں کا شکار ہو جاتی ہے۔

ذہنی صحت کوبہتر بنانے کے لیے تجاویز:

شکر گزاری: 

خدا نے آپ کو جو کچھ دیا ہے اس پر شکرادا کریں۔شکرگزاری ذہن کو مثبت بناتی ہے جس کی بدولت انسان بہت سی غیر ضروری سوچوں سے محفوظ ہوجاتاہے۔

مثبت خیالات:

منفی حالات میں بھی مثبت پہلو ڈھونڈیں اورمنفی چیزوں سے بچنے کی کوشش کریں۔


تخلیقی سرگرمیاں: 

مصوری، تحریر، موسیقی یا کوئی اور تخلیقی کام دماغی صحت کے لیے بہترین ہے اس کی بدولت صلاحیتیں بڑھ جاتی ہیں۔

جسم:

جسم صحت مند ہو توہم روزمرہ کے کام کرسکتے ہیں اور چیزوں کوموثرانداز میں پایہ تکمیل تک پہنچاسکتے ہیں۔ اگر جسمانی صحت خراب ہو جائے تویہ چیز ذہنی اور روحانی صحت پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔

جسمانی صحت بہتر بنانے کے لیے تجاویز:

خوراک: 

پروٹین، فائبر، وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور غذا کھائیں۔ جنک فوڈ، سافٹ ڈرنکس اور فاسٹ فوڈ سے پرہیز کریں۔

ورزش: 

روزانہ کم از کم آدھاگھنٹہ ورزش کریں۔یوگا، چہل قدمی اور کسرت جسم کو متحرک رکھتی ہے۔

پانی کا استعمال:

 دن میں زیادہ پانی پینے اورحرکت کرنے کی کوشش کریں۔

نیند اور آرام: 

مسلسل کام کرتے رہنے سے جسمانی تھکن بڑھتی ہے، اس لیے نیند اور آرام کو بھی اہمیت دیں۔

زہریلے مادوں سے پرہیز: 

سگریٹ نوشی اور دیگر لت دلانے والی چیزیں جسمانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں،ان سے بچنے کی کوشش کریں۔

فطرت کی قربت:

 تازہ ہوا اورقدرتی ماحول میں وقت گزارنااور دھوپ لینا جسمانی صحت کے لیے دواجیساکام کرتاہے۔

جسمانی حد کوپار نہ کریں:

 بہت زیادہ محنت کرکے جسم پر بوجھ نہ ڈالیں۔ ہمیشہ توازن کے راستے پر چلیں۔

روح:

روح انسان کی اصل پہچان ہے۔جسم سے روح نکل جائے توانسان ایک لمحے میں زندہ سے مردہ بن جاتاہے۔پرسکون زندگی کے لیے روحانی صحت بہت ضروری ہے، روحانی کمزوری انسان کو بے چینی اور اضطراب میں مبتلاکردیتی ہے۔

روحانی صحت بہتر کرنے کے لیے تجاویز:

عبادات اور دعا:

نماز، روزہ، ذکر اور دعا مانگنا روح کو پاکیزہ رکھتا ہے اور اندرونی سکون دیتا ہے۔

سچائی اور دیانت داری: 

جھوٹ، فریب اور دھوکا دہی سے بچیں، کیونکہ یہ چیزیں روح کو کمزور کر دیتی ہیں۔

سادگی: 

کم چیزوں میں خوش رہنا اور غیر ضروری خواہشات کو کم کرنا روحانی طاقت کو بڑھاتا ہے۔

خدمتِ خلق:

 دوسروں کی مدد کرنا، یتیموں، بیواﺅں اور محتاجوں کی مدد کرنا روح کو سکون دیتا ہے۔

تنہائی میں غور و فکر: 

روزانہ کچھ وقت خاموشی میں گزاریں، اپنی زندگی کے مقصد پر غور کریں اور اپنے اعمال کا جائزہ لیں۔

معاف کرنا:

 دوسروں کو معاف کرنا روح کو ہلکا کر دیتا ہے اور ذہنی بوجھ کم ہوتا ہے۔

آج کازمانہ تیز رفتار ہوچکا ہے، ہر شخص فوری نتائج چاہتاہے۔جب فرد بے چینی کاشکارہوتاہے تووہ فوری طورپر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتاہے اور لذت کے لیے مختلف سرگرمیاں اپناتاہے لیکن یادرکھیں کہ لذت دائمی چیز نہیں بلکہ عارضی ہے۔بعض اوقات انسان لذت حاصل کرنے کے لیے ایسے طریقے اپناتاہے جوبعد میں پچھتاوا بن جاتے ہیں۔اصل چیز خوشی ہے جس کا اثرگہرا ہوتاہے، جب کہ دین نے ہمیں سکون اوراطمینان حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے جوخوشی سے بھی زیادہ مضبوط چیز ہے۔

جس شخص کو اطمینان مل جائے اس کا چہرہ کھلارہتاہے۔کیوں کہ وہ مخلوق کی خدمت کی بدولت خداکو راضی کرلیتاہے توخدا بھی اس کی آخرت بہتر بنادیتاہے۔یہ چیزاسے پرسکون بنادیتی ہے اور اس امید کی وجہ سے اس کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے۔اطمینان کی دوسری نشانی برداشت ہے۔ایسا شخص بدترین حالات میں بھی شکوہ نہیں کرتا،وہ صبر سے کام لیتاہے اور یہ چیز اس کے سکون میں مزید اضافہ کردیتی ہے۔

دلی طورپر مطمئن شخص کو ماضی پر پچھتاوا نہیں ہوتااور نہ ہی وہ مستقبل کے اندیشوں میں مبتلا ہوتاہے۔یہی اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام ہے۔


بشکریہ روزنامہ دنیا


مصر کا منصوبہ جامع ہے اور ہم غزہ میں روشن مستقبل کے خواہاں ہیںِ: قطر

 






قطر نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں غزہ کے مستقبل کے حوالے سے منعقدہ عرب سربراہ اجلاس کے موقعے پر مصر کی طرف سے پیش کردہ فارمولے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔


قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور محمد الخلیفی نے زور دے کر کہا کہ قاہرہ کی تجویز میں جامع خصوصیات کی حامل ہے۔


انہوں نے العربیہ/الحدث کو آج منگل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کا حل پورے خطے کے مفاد میں ہے اور یہ کہ غزہ کا مسئلہ سب سے پہلے فلسطین اور عربوں کا مسئلہ ہے۔


اصلاحات کا طریقہ

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کے مستقل حل کے لیے اصلاحات کا راستہ نکالا جانا چاہیے۔


انہوں نے مزید کہاکہ "ہمیں امید ہے کہ فلسطینی ایک متفقہ فیصلے تک پہنچنے کے لیے ساتھ کھڑے ہوں گے"۔


قطری عہدیدارنے مزید کہا کہ قطر ایک فلسطینی آواز تک پہنچنے کی کوشش میں مصر کی کوششوں کو سراہتا ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں خطے کے حل کے لیے ایک واضح روڈ میپ کی ضرورت ہے"۔


جبری نقل مکانی مسترد

الخلیفی نے واضح کیا کہ مصر کا منصوبہ غزہ کے مستقبل کا خاکہ پیش کرتا ہے اور اس میں بہت سی تفصیلات ہیں۔


انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہاکہ "ہم فلسطینیوں کی جبری ھجرت کو قطعی طور پر قبول نہیں کرتے"۔


انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے وقت اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔ غزہ کا بحران جنگ بندی سے ختم نہیں ہوتا۔ غزہ میں جنگ بندی کو اہم مسائل کو حل کیے بغیر نہیں آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔


روشن مستقبل

قطری عہدیدار نے انکشاف کیا کہ تعمیر نو کے منصوبے میں حفاظتی انتظامات اور غزہ کے لیے ایک انتظامی حکومتی عمل شامل ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ "مصر کے منصوبے میں جامع خصوصیات ہیں اور ہم غزہ میں ایک روشن مستقبل کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔

غزہ کے حوالے سے نظریات کو یکجا کرنے کے لیے امریکہ اور عرب ممالک کے ساتھ براہ راست رابطہ ہے۔


انہوں نے زور دے کر کہا کہ "ہم نے مصر اور امریکہ کے ساتھ مل کر غزہ میں ایک معاہدے تک پہنچنے کی بھرپور کوشش کی۔"



ٹرمپ کا کانگریس کے اجلاس سے خطاب، پاکستان کے لیے اظہار تشکر

 




علاقائی امن و استحکام یقینی بنانے کے لیے امریکہ کے ساتھ قریبی شراکت داری جاری رکھیں گے: شہباز شریف


امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابل ایئرپورٹ کے ایبی گیٹ پر اگست 2021 میں ہونے والے دھماکے کے منصوبہ سازوں میں شامل مبینہ ملزم کی گرفتاری میں مدد پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔


منگل کی شب کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ حملے کے 'دہشت گرد' کو امریکہ لایا جا رہا ہے۔ کانگریس سے خطاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی انخلا کا ذکر کرتے ہوئے اسے امریکی تاریخ کا "سب سے شرمناک لمحہ" قرار دیا۔


ڈونلڈ ٹرمپ نے اس انخلا کے موقع پر دھماکے میں مرنے والے امریکی فوجیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا،"ساڑھے تین سال قبل افغانستان میں آئی ایس ایس (داعش) کے دہشت گردوں نے 13 امریکی فوجیوں اور دیگر کو قتل کر دیا تھا۔"


انہوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا، "مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے اس ظلم کے ذمہ دار ٹاپ دہشت گرد کو پکڑ لیا ہے اور وہ اس وقت امریکہ لایا جا رہا ہے تاکہ امریکی انصاف کی تیز دھار تلوار کا سامنا کر سکے۔"


انہوں نے اس موقع پر پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "میں اس حیوان کو حراست میں لینے میں مدد کرنے پر پاکستانی حکومت کا خاص طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔" ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا،"یہ ان 13 خاندانوں کے لیے بہت بڑا دن تھا۔۔۔ افغانستان میں اس اندوہ ناک دن میں 42 لوگ بری طرح زخمی بھی ہوئے تھے۔"


تاہم امریکی صدر نے حراست میں لیے جانے والے شخص یا پاکستان کے حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں اور نہ ہی پاکستان کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے آیا ہے۔


خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی اٹارنی جنرل پیم بونڈی نے کہا ہے کہ اس شخص کو، جس کی شناخت انہوں نے واضح نہیں کی، امریکی محکمہ انصاف، ایف بی آئی اور سی آئی اے کے ذریعے امریکی حراست میں لیا جائے گا۔


خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے وائٹ ہاو¿س کے ایک عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ کے حوالے کیے جانے والے شخص کا نام ’محمد شریف اللہ ہے‘ جو مبینہ طور پر بم دھماکے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔


حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز پہلے ہی شریف اللہ کی تلاش میں تھیں۔ تاہم کچھ دن قبل امریکی انٹیلی جینس کی اطلاع پر بارڈر سیکیورٹی میں کارروائی کے دوران اسے گرفتار کیا گیا۔


پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ملزم کی گرفتار کے لیے پاکستان سے کہا تھا تاہم گرفتاری کے لیے امریکہ کے ساتھ مشترکہ آپریشن نہیں کیا گیا بلکہ اسے پاکستانی فورسز نے پاک افغان سرحدی علاقے میں کارروائی کے گرفتار کیا اور ضروری قانونی کارروائی کے بعد امریکہ منتقل کیا گیا۔


اے پی کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ ملزم افغانستان اور پاکستان کے لیے داعش کے تنظیمی رہنماو¿ں میں سے ایک ہے اور یہ 'جعفر' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔


'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق ایک امریکی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم سے ویک اینڈ پر تحقیقات کیں جس کے دوران اس نے کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکے میں اپنے کردار کا اعتراف کیا۔


رپورٹ کے مطابق ملزم نے مارچ 2024 میں روس کے شہر ماسکو میں ہونے والے دھماکے اور ایران میں متعدد کاررائیوں سمیت کئی حملوں کی ذمے داری بھی قبول کی ہے۔


ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ملزم کی پاکستان سے امریکہ حوالگی کا عمل شروع ہو چکا ہے اور بدھ کو اس کی امریکہ آمد متوقع ہے۔


دوسرے امریکی عہدیدار کا دعویٰ ہے کہ شریف اللہ کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے جس نے بم دھماکے کی منصوبہ بندی سے لے کر دھماکہ ہونے تک کے عمل کی نگرانی بھی کی۔


حکام کا کہنا ہے کہ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہے کہ ملزم شریف اللہ کو کن الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔


دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی تصدیق کی ہے کہ ملزم کو افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقے میں انسدادِ دہشت گردی کے ایک کامیاب آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ خطے میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے پاکستان کے کردار کے اعتراف پر وہ صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔


ایک بیان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغانستان میں انسدادِ دہشت گردی میں پاکستان کا کردار تسلیم کرنے پر امریکی صدر کا شکریہ، پاکستان ہمیشہ انسدادِ دہشت گردی میں ایک اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔


وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہمارا مقصد دہشت گردوں اور عسکریت پسند گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے سے روکنا اور کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کے لیے جگہ نہ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے پختہ عزم اور غیر متزلزل وابستگی پر قائم ہیں اور دہشت گردی کی تمام اقسام اور اشکال کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔


وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اس مقصد کے لیے پاکستان نے عظیم قربانیاں دی ہیں، ہمارے 80،000 سے زائد بہادر فوجیوں اور شہریوں کی جانوں کی قربانیاں شامل ہیں۔


ان کا مزید کہنا ہے کہ ہماری قیادت اور عوام کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی، ہم اپنے ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ علاقائی امن و استحکام یقینی بنانے کے لیے امریکہ کے ساتھ قریبی شراکت داری جاری رکھیں گے۔



امریکہ کا ردعمل اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ غزہ مذاکرات مشکل ہوں گے:ابو الغیط




غزہ کی پٹی کے مستقبل کے بارے میں جاری مذاکرات کے درمیان عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کہا ہے کہ غزہ کی تباہی 7 اکتوبر کی وجہ سے ہوئی۔ یہ تباہی سات اکتوبر 2023 ئ میں غزہ کے اطراف میں حماس کی طرف سے شروع کیے گئے حملے کےنتیجے میں شروع ہوئی تھی۔


"سات اکتوبر غلط راستے پر چلا گیا"

انہوں نے العربیہ/الحدث سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ مزاحمت کی کئی شکلیں ہیں مگر 7 اکتوبر کا آپریشن غلط سمت میں چلا گیا۔


انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک قابض اسرائیل تنازعے کے حل کو مسترد کرنے اور قبضے کو ختم کرنے پر م±صر کوئی بھی مزاحمت کے حق سے انکار نہیں کرسکتا۔


انہوں نے انکشاف کیا کہ غزہ کی تعمیر نو کے فنڈ کی نگرانی عالمی بینک کرے گا، لیکن امریکی ردعمل اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مذاکرات مشکل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاوس نے مصر کے منصوبے کو مسترد کرکے یہ تاثر دیا ہے کہ مذاکرات مشکل ہوں گے۔


ان کا خیال تھا کہ امریکہ فلسطینی سرزمین پر مزید قتل و غارت نہیں دیکھنا چاہتا اور اس کی توجہ فلسطینی اتھارٹی پر نہیں بلکہ حماس پر ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ پٹی میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں ہیں۔ غزہ میں اقوام متحدہ کی افواج برسوں تک رہ سکتی ہیں۔


عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے انکشاف کیا کہ جب تک مکمل جنگ بندی نہیں ہو جاتی غزہ کی تعمیر نو شروع نہیں ہو گی۔ عرب منصوبہ نقل مکانی اور تعمیر نو کے خیال کو ایک ساتھ ختم کرنے پر مرکوز ہے۔


انہوں نے جنگ کے بعد برلن اور ٹوکیو کے تجربات سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ انہوں نے اپنی سرزمین کیسے نہیں چھوڑی۔


خیال رہے کہ ان کا یہ بیان گذشتہ روز قاہرہ میں منعقدہ غیر معمولی عرب سربراہ اجلاس میں غزہ کے لیے مصر کے منصوبے کو منظور کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔


دوسری جانب اسرائیل نے مصری تجویز کو مسترد کردیا ہے۔ اس نے تباہ شدہ فلسطینی علاقے پر کی صورت حال کی حقیقت پر توجہ نہیں دی۔اسرائیل نے زور دیا کہ حماس غزہ میں باقی نہیں رہ سکتی۔


دوسری جانب وائٹ ہاو¿س نے مصری منصوبے کو مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ پٹی میں بگڑتے ہوئے انسانی بحران کو حل نہیں کرتا۔


قابل ذکر ہے کہ گذشتہ روز عرب سربراہی اجلاس میں پیش کیے جانے والے مصری منصوبے میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے 53 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ مصری منصوبہ پانچ سال میں مکمل ہوگا۔



فلسطینی قوم کے نصب العین کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں:سعودی عرب

 




غزہ کی پٹی کی تعمیر نو پر تبادلہ خیال کے لیے قاہرہ میں ہنگامی عرب سربراہی اجلاس کے انعقاد کے ساتھ سعودی ذرائع نے کہا ہےکہ قاہرہ سمٹ میں مملکت کی شرکت عرب مسائل، خاص طور پر فلسطینی کاز کے دفاع کے لیے سعودی عرب کے پختہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔


ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب مقبوضہ علاقوں میں سیاسی یا آبادیاتی حقیقت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا ہے جبکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔


سعودی عرب نے قاہرہ میں منعقدہ ہنگامی عرب سربراہی اجلاس میں شرکت کے دوران مسئلہ فلسطین پر اپنے ٹھوس مو¿قف کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ سنہ 1967 ءکی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے واضح عزم کے بغیر منصفانہ اور جامع امن کا حصول ممکن نہیں ہے۔ سعودی عرب مشسرقی یروشلم پر مشتمل ایک ایسی آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا مطالبہ کرتا رہے گا جس کی حمایت عالمی قراردادوں میں بھی دی گئی ہے۔


ریاض سربراہی اجلاس پر مبنی ایک متحدہ عرب پوزیشن

دریں اثناءحالیہ عرب موقف نومبر 2024 میں ریاض میں منعقدہ عرب اور اسلامی سربراہی اجلاس کے فیصلوں پر مبنی ہیں، جو فلسطین میں پیشرفت، خاص طور پر فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنے کی بنیاد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ سعودی عرب کی طرف سے سفارتی میدان میں مختلف بین الاقوامی فورمز پر فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے مضبوط اور معاون موقف اختیار کیا گیا ہے۔


دو ریاستی حل کو نافذ کرنے کے لیے بین الاقوامی اتحاد

سعودی عرب نے مشترکہ عرب اور اسلامی وزارتی کمیٹی، کنگڈم آف ناروے اور یورپی یونین کے ساتھ شراکت داری میں دو ریاستی حل کو نافذ کرنے کے لیے بین الاقوامی اتحاد کا اعلان کیا تاکہ ایک منصفانہ سیاسی حل کے لیے آگے بڑھنے کا عزم کیا جا سکے۔ ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے وسیع بین الاقوامی حمایت کے واضح اشارے ہیں۔


فوری انسانی امداد اور مسلسل مدد

انسانی ہمدردی کی سطح پر سعودی عرب نے غزہ کی پٹی میں بحران کے آغاز سے ہی مدد اور ریلیف فراہم کرنے میں تیزی سے کام کیا ہے۔ مملکت نے 707 ملین سعودی ریال سے زیادہ کی ایک عوامی عطیہ مہم شروع کی ، جبکہ فضائی اور سمندری پلوں کے ذریعے امداد بھیجی ہے، اس کے علاوہ ماہانہ مالی امداد جو سعودی عرب فلسطینی بھائیوں کو بحران کے خاتمے کے لیے فراہم کرتا ہے اس کے علاوہ ہے۔

سعودی عرب نے غزہ کی پٹی اور اس کے گردونواح میں انسانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ماہانہ 5.3 بلین ڈالر سے زائد کی مالی امداد فراہم کی ہے۔


اسرائیلی خلاف ورزیوں کی مذمت اور عالمی برادری سے ایکشن لینے کا مطالبہ

سعودی عرب نے شام کے متعدد علاقوں پر اسرائیلی بمباری کو دوٹوک الفاظ میں رد کرنے اور ان کی مذمت کے ساتھ قابض ریاست کی طرف سے بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے پھیلاو¿ کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے خطے میں سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے والے اسرائیلی اقدامات کو روکنے کے لیے عالمی برادری کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔


قابل ذکر ہے کہ مصر نے اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ دو روز قبل مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے قاہرہ میں ایک پریس کانفرنس میں زو ر دیا کہ یہ منصوبہ تیار ہے اور اسے منظوری کے لیے عرب سربراہی اجلاس کے دوران عرب رہنماو¿ں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔


’اے ایف پی‘ کی طرف سے دیکھے گئے ایک مسودے کی دستاویز کے مطابق مصر نے پانچ سالہ منصوبہ تیار کیا ہے جس میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے 53 بلین ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس میں ہنگامی امداد، تعمیر نو اور طویل مدتی اقتصادی ترقی پر توجہ دی گئی ہے۔


منصوبہ تعمیر نو کے دو مراحل تجویز کرتا ہے اور بین الاقوامی نگرانی میں ایک ایسے فنڈ کے قیام کی تجویز پیش کرتا ہے جو "موثر فنانسنگ" کے ساتھ ساتھ "شفافیت اور نگرانی" کو یقینی بناتا ہے۔



سعودی کابینہ کا قاہرہ میں "فلسطین اجلاس" کے فیصلوں کی مکمل حمایت کا اعلان

 





سعودی کابینہ نے مصر میں "فلسطین اجلاس" کے عنوان سے منعقد ہونے والے غیر معمولی عرب سربراہ اجلاس کے فیصلوں کے لیے مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔ یہ موقف سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں سامنے آیا۔


کابینہ اجلاس میں فلسطینی عوام کی ان کی سرزمین سے جبری ہجرت کو مسترد کر دیا گیا اور جنگ کے نتیجے میں سامنے آنے والے الم ناک محرکات کے خاتمے پر زور دیا گیا۔ کابینہ نے باور کرایا کہ فلسطینی عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے اور قانونی حقوق حاصل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ان میں 1967 کی سرحدوں پر ایک خود مختار آزاد فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے جس کا دار الحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔


اسی سیاق میں سعودی کابینہ نے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کا داخلہ روکنے سے متعلق قابض اسرائیلی حکومت کے فیصلے کی مذمت کی۔ کابینہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنی ذمے داریاں پوری کرے، بین الاقوامی طور پر احتساب کو فعال بنائے اور امداد کی مستقل وصولی یقینی بنائے۔


لبنان کی صورت حال

کابینہ کے اجلاس میں سعودی ولی عہد نے لبنانی صدر کے ریاض کے سرکاری دورے کے موقع پر ان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے نتائج سے آگاہ کیا۔ بات چیت میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور مختلف شعبوں میں انھیں مضبوط بنانے کی صورتوں کا جائزہ لیا گیا۔ کابینہ نے سعودی عرب اور لبنان کے مشترکہ بیان میں شامل امور کی اہمیت باور کرائی۔ ان میں طائف معاہدے پر مکمل عمل درآمد، متعلقہ بین الاقوامی قرار دادیں، لبنانی ریاست کی خود مختاری، ہتھیاروں کا صرف ریاست کے ہاتھ میں ہونا، لبنان کی قومی فوج کا کردار اور لبنانی اراضی سے قابض اسرائیلی فوج کا انخلا شامل ہے۔


سعودی – عراق سیکورٹی مفاہمت

سعودی کابینہ نے ولی عہد کی صدارت میں ... ریاستی امن کے سعودی ادارے اور عراق میں قومی انٹیلی جنس کے ادارے کے بیچ دہشت گردی کے جرائم اور ان کی فنڈنگ کے انسداد کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت کی منظوری دی۔


سعودی – مصری سرمایہ کاری

درین اثنا، سعودی کابینہ نے سعودی عرب اور مصر کے درمیان متبادل سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور تحفظ سے متعلق سمجھوتے کی بھی منظوری دی۔


عرب سائبر سیکورٹی

کابینہ نے سعودی عرب اور عرب سائب سیکورٹی کی کابینہ کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کو منظور کیا۔ یہ بات سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی "ایس پی اے" نے بتائی۔