Wednesday, 26 February 2025

حق ہاﺅس محلہ مرزا حیات بیگ میں امسال بھی ہوگی عورتوں کی تراویح

 




دربھنگہ:- ہر سال کی طرح اس س
ال بھی حافظہ فاطمہ شاہد بنت ایڈووکیٹ شاہد اطہر، محلہ مرزا حیات بیگ، وارڈ نمبر 30 نزدیک رنکو وارڈ کونسلر کے گھر کے پاس حق ہاﺅس میں عورتوں کی تراویح کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ نیز بعد نماز تراویح روزانہ ۵منٹ کی تفسیر(بیان)کااہتمام رہے گا۔ان شاءاللہ۔

لہٰذاآپ لوگوں سے گزارش کی جاتی ہے کہ اپنے ساتھ بالغ بچیوں کو ہی لے کر تراویح کی نماز ادا کرنے کے لیے تشریف لائیں ،جا نماز لانے کی زحمت گوارا نہ کریں ،عشاءکی نماز شام آٹھ(8) بجے اور تراویح کا وقت (8.15)سوا آٹھ بجے مقرر کی گئی ہے،مزید کسی بھی جانکاری کے لیے ایڈووکیٹ شاہد اطہر کے موبائل نمبر 6201716848 پہ رابطہ قائم کر کے لی جا سکتی ہے۔


Tuesday, 25 February 2025

ایچ ڈی ایف سی لائف نے خوابوں اور اہداف کی تکمیل کے لیے "کلک 2 اچیو پار ایڈوانٹیج" لانچ کیا

 



بھوپال، فروری 2025: بھارت کی معروف لائف انشورنس کمپنی ایچ ڈی ایف سی لائف نے اپنا نیا پروڈکٹ "ایچ ڈی ایف سی لائف کلک 2 اچیو پار ایڈوانٹیج" متعارف کرایا ہے۔ یہ ایک پارٹیسپیٹنگ پلان ہے، جو لوگوں کی زندگی کے مختلف مراحل میں اہم مالی اہداف کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ عام طور پر، جب لوگ اپنے خوابوں اور ضروریات کے لیے بچت کرتے ہیں، تو وہ فلیکسیبیلٹی، فوری رقم نکالنے کی سہولت اور مستقبل کے لیے مالی تحفظ کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ پلان انہی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خاص طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔

پلان کی نمایاں خصوصیات

اگر پالیسی ہولڈر کا انتقال ہو جائے تو پالیسی کے مزید پریمیئم ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

 لواحقین کو ایک مشت رقم ملتی ہے اور پالیسی کے دیگر فوائد بھی جاری رہتے ہیں۔

 پالیسی ہولڈر اپنی ضرورت کے مطابق ڈیتھ بینیفٹ کا انتخاب کر سکتا ہے، جو 5 گنا، 7 گنا یا 11 گنا تک ہو سکتا ہے۔

 کیش بونس کو پید اپ ایڈیشن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جسے پالیسی کی مدت کے دوران کسی بھی وقت نکالا جا سکتا ہے۔

 اس میں لائف انشورنس تحفظ کے ساتھ ساتھ اضافی فوائد بھی شامل ہیں، جس میں شریک حیات کو بھی انشورنس میں شامل کرنے کا آپشن دیا گیا ہے۔

 موجودہ ٹیکس قوانین کے مطابق، اس پر ٹیکس فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

ایچ ڈی ایف سی لائف کا عزم

ایچ ڈی ایف سی لائف ہمیشہ اپنے صارفین کی ضروریات کے مطابق نئے اور مفید انشورنس پروڈکٹس متعارف کرانے میں پیش پیش رہا ہے۔ کمپنی اپنی جدید ڈیجیٹل سروسز کے ذریعے صارفین کو آن لائن سہولیات فراہم کرتی ہے، جس کی مدد سے پالیسی سے متعلق تمام خدمات آسانی سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ایچ ڈی ایف سی لائف
کے کلیم سیٹلمنٹ کا تناسب 2024 میں 99.50% رہا، جو کمپنی کی بہترین سروس کا ثبوت ہے۔

ایچ ڈی ایف سی لائف کے پروڈکٹ ہیڈ کا بیان

اس پروڈکٹ کے لانچ کے موقع پر ایچ ڈی ایف سی لائف کے پروڈکٹس اینڈ سیگمنٹس کے سربراہ، انیش کھنہ نے کہا:

"ہم سمجھتے ہیں کہ ہر فرد کی عمر، آمدنی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو مدنظر رکھتے ہوئے لائف انشورنس پروڈکٹس تیار کیے جانے چاہئیں۔ ہر شخص اپنے خاندان کے محفوظ مستقبل کا خواب دیکھتا ہے، چاہے وہ گھر خریدنے کا منصوبہ ہو یا بچوں کی اعلیٰ تعلیم۔ ان خوابوں کو پورا کرنے کے لیے طویل مدتی مالی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں لچک اور تحفظ دونوں موجود ہوں۔ 'ایچ ڈی ایف سی لائف کلک 2 اچیو پار ایڈوانٹیج' ان لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے جو اپنے خوابوں کو یقینی تحفظ دینا چاہتے ہیں۔"

یہ نیا پروڈکٹ ان افراد کے لیے ایک بہترین موقع ہے جو محفوظ سرمایہ کاری، لچکدار مالی منصوبہ بندی اور زندگی کے بڑے اہداف کو مکمل کرنا چاہتے ہیں۔









Monday, 24 February 2025

غزہ میں بالغ مردوں کو قتل کردیاجائے

 





اسرائیلی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر کا مطالبہ


اسرائیلی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نیسیم وٹوری کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان سامنے آیا ہے۔


عبرانی زبان کے ریڈیو "کول برما" کے مطابق وٹوری نے غزہ کی پٹی میں تمام بالغ مردوں کو قتل کر دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "یقینا یہ (غزہ کے فلسطینی) ٹھکرائے ہوئے ہیں اور دنیا میں کوئی بھی انہیں نہیں چاہتا، لہذا بچوں اور عورتوں کو الگ کر کے بالغ افراد (مردوں) کو ختم کر دیا جائے"۔


ڈپٹی اسپیکر کے نزدیک اسرائیل غزہ کی آبادی کے ساتھ "ضرورت سے زیادہ درگزر" کا معاملہ کر رہا ہے۔


وٹوری نے دعویٰ کیا کہ عالمی برادری یہ جانتی ہے کہ غزہ کی آبادی کو کہیں بھی خوش آمدید نہیں کہا جائے گا لہذا وہ انھیں اسرائیل کے طرف دھکیل رہی ہے۔


واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب کسی اسرائیلی عہدے دار نے فلسطینیوں کے قتل کا مطالبہ کیا ہے، اس سے قبل اسرائیلی سیاسی اور مذہبی شخصیات اس قسم کے بیان جاری کر چکی ہیں۔


شدت پسند وزیر خزانہ بتسلیل سموٹرچ ایک سے زیادہ موقع پر اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے قتل پر زور دے چکے ہیں۔

اسی طرح اسرائیلی حاخام الیاہو مالی نے یہودی شریعت سے متعلق اپنی تشریحات کے ضمن میں مطالبہ کیا تھا کہ غزہ میں فلسطینیوں کو قتل کر دیا جائے۔


سات اکتوبر 2023 کو حماس نے غلاف غزہ میں اسرائیلی فوجی اڈوں اور اسرائیلی آباد کاروں کی بستیوں پر بڑا حملہ کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جانب سے خون ریز جنگ چھڑ گئی۔ اس دوران میں 1.6 لاکھ فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہوئے جن میں زیادہ تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔

دوسری جانب غزہ کی پٹی میں 14 ہزار سے زیادہ لوگ لا پتا ہیں جب کہ 80% کے قریب عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔



واضح رہیکہ ان تمام کے باوجود پوری عالمی برادری خاموش ہے اور اسرائیل کی حمایت کر رہی ہے جو کہ انسانیت کیلئے کسی عار سے کم نہیں ہے ۔ اسرائیل فلسطینیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے انہیں بموں سے اڑا رہا ہے ان کے گھروں کو اجاڑ رہا ہے ۔ ان کی بستیوں کو بلڈوز کر رہا ہے اس کے باوجود امریکہ اور پوری دنیا اسرائیل کی گوشمالی کرنے کے بجائے اس کے مظالم پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے جو کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے ۔ اسرائیل تن تنہا کچھ نہیں کرسکتا ہے اس میں امریکہ اور اس کے حواری اس کی پوری مدد کر رہے ہیں تاکہ اسرائیل کے تو سیع پسندانہ عزائم کی تکمیل ہو سکے ۔ دنیا تو خاموش ہے ہی لیکن عالم اسلام بالخصوص مسلم ممالک کی خاموشی نے اسرائیل کو جری بنا دیا ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ تمام مسلم ممالک بولنے کے بجائے کچھ کریں کیونکہ جب تک اسرائیل کو آئیسولیٹ نہیں کیا جائے گا تب تک اس کی یہی حالت ر ہے گی اور فلسطینیوں سمیت پڑوسی ممالک کو پریشان کرتا رہے گا۔ یہ صرف عربوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت اور امن عالم کا مسئلہ ہوچکا ہے جتنا جلدہوسکے دنیااس بات کو سمجھ لے اور اسرائیل کے ساتھ اس کے حواریوں کی بھی گوشمالی کرے تبھی دنیا میں امن و شانتی ہوگی ورنہ امن تو رہنے سے رہا۔



Sunday, 23 February 2025

برطانیہ میں سعودی سفیر نے فلسطین کے لیے یک ریاستی حل مسترد کر دیا

 





لندن - ایجنسیاں


برطانیہ میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن بندر نے ریاض کے اس مو¿قف کی تصدیق کی ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے دو ریاستی حل ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔


ایم ای این اے (شرقِ اوسط و شمالی افریقہ) میں قائم تھنک ٹینک ایس آر ایم جی تھنک کی میزبانی میں عرب نیوز کے ایڈیٹر انچیف فیصل عباس کے ساتھ جمعہ کو ایک پینل ڈسکشن منقعد ہوئی جس میں بات کرتے ہوئے سفیر نے واضح کیا کہ مملکت یک ریاستی حل کے کسی بھی تصور کو مسترد کرتی ہے۔


انہوں نے کہا، "ابھی گفتگو ہو رہی ہے اور عرب سربراہی اجلاس میں معاہدہ ہو جائے گا۔ میرے لئے اس کے بارے میں بات کرنا تھوڑا قبل از وقت ہے لیکن میں آپ کو یہ بتا دوں کہ یقیناً ہمارے سامنے کچھ بھی قابلِ پیش گوئی نہیں۔ فوری طور پر کوئی ایک ریاستی حل نہیں ہے۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہم غزہ کے لوگوں کی نقلِ مکانی کو خوشحالی کے حصول کے لیے ایک قابلِ عمل طریقہ نہیں سمجھتے۔"


ان کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب خلیج تعاون کونسل (جی سی سی)، اردن اور مصر کے رہنماو¿ں نے چار مارچ کو قاہرہ میں ہونے والی ہنگامی عرب سربراہی کانفرنس سے قبل ریاض میں ملاقات کی۔ یہ اجلاس فلسطین کی حمایت میں مربوط کوششوں، غزہ کے معاملے میں پیشرفت اور وسیع تر علاقائی مسائل پر مرکوز ہیں۔



عرب لیگ کا اجلاس بڑی حد تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واشنگٹن کے غزہ پر "قبضے"، اس کے رہائشیوں کو بے گھر اور انکلیو کو "شرقِ اوسط کی ساحلی تفریح گاہ" میں تبدیل کرنے کی تجویز کے جواب میں ہے - جس کی عرب رہنماو¿ں نے وسیع پیمانے پر مذمت کی ہے۔ توقع ہے کہ وہ قاہرہ میں باضابطہ ردِ عمل پیش کریں گے۔


شہزادہ خالد نے کہا، "مجھے ایک حل تلاش کرنے کے لیے امید کی کرن نظر آتی ہے کیونکہ بہت حد تک دنیا کا تقریباً ہر ملک اسی نکتے پر پہنچ گیا ہے جس کی امن کے لیے ضرورت ہے۔" تاہم انہوں نے ایک اہم رکاوٹ کی طرف اشارہ کیا: اسرائیل کی مشغولیت کا فقدان۔


سفیر نے کہا، "پہلی بار بہت واضح طور پر ہمارا سب سے بڑا مسئلہ اسرائیل سے نمٹنا ہے۔ تل ابیب کی حکومت کے پاس لگتا ہے کوئی حل نہیں ہے اور جو حل اس اسرائیلی حکومت کے سب سے زیادہ صاف گو اراکین پیش کرتے ہیں وہ حل نہیں ہیں۔"


انہوں نے بات جاری رکھی: "ایک دو دن دیں اور مزید باتیں سامنے آ جائیں گی۔ میں آپ کو اس بات کی ضمانت دے سکتا ہوں کہ مجموعی طور پر ہم دو ریاستی حل یعنی فلسطین کی حکومت پر متفق ہیں اور پھر ہم ہر چیز پر بات کر سکتے ہیں لیکن باقی سب کچھ اس کے بغیر نہیں ہو گا۔"



عرب ریاستیں غزہ میں ہونے والی تباہی کی مذمت کرنے اور فوری امن مذاکرات کا مطالبہ کرنے کے لیے متحد ہو گئی ہیں۔ تاہم شہزادہ خالد نے کہا کہ انہوں نے گذشتہ ماہ کے دوران نکت? نظر میں ایک قابلِ ذکر تبدیلی دیکھی ہے۔


سفیر نے کہا، "(امریکی) انتظامیہ کے آخری 30 دنوں سے ایسا لگتا ہے جیسے 10 سال ہو گئے ہیں۔ بہت کم وقت میں بہت کچھ ہوا ہے۔ ٹرمپ کی دفتر میں واپسی کے بعد سے خطے اور اس سے آگے کی مصروفیات "ناقابلِ یقین رہی ہیں۔ چیزیں بدل گئی ہیں۔ لوگوں نے ایکشن لینا اور بیٹھ کر انتظار کرنے کے بجائے خود کو مشغول کرنا شروع کر دیا ہے۔"


انہوں نے کہا، "(ریاض میں جمعہ کا اجلاس) اور قاہرہ میں سربراہی اجلاس بہت اچھی مثالیں ہیں۔ دنیا کے ہمارے والے حصے میں جو کچھ ہو رہا ہے، ہم نے اس کی ذمہ داری خود لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم اپنا حل تلاش کرنے جا رہے ہیں اور ہم اسے دنیا تک لے جائیں گے۔ اور میرا گمان یہ ہے کہ دنیا کے ہمارا ساتھ دینے کی امید ہے۔ اس نے یقیناً عرب ممالک کو اس طرح مجتمع کیا ہے جس کا میں نے ا±س وقت اندازہ نہیں لگایا تھا۔"


گفتگو کے دوران شہزادہ خالد نے علاقائی طاقتوں بشمول شام، ایران اور ترکی کے ساتھ سعودی عرب کے بدلتے ہوئے تعلقات پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دمشق اور اس کی نئی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں لیکن ریاض بدستور "محتاط" ہے۔


شہزادہ خالد نے کہا، "نئی حکومت کے ساتھ ہماری مشغولیت ناقابلِ یقین حد تک مثبت رہی ہے۔ تو کیا ہم محتاط ہیں؟ یقیناً، ہم محتاط رہیں گے۔ محتاط رہنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔"


انہوں نے مزید کہا، دونوں ممالک کے درمیان اعتماد ایک اہم چیلنج ہے خاص طور پر جب شام ایک "تکلیف آمیز" دور سے نکل رہا ہے۔


شہزادہ خالد نے کہا، "ہمیں دونوں طرف سے اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت ہے لیکن شام کے ساتھ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت نے ہم سے بات چیت کرنے کی کوشش کی ہے اور ہم اس سے انکار نہیں کریں گے۔" انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شام کو "بہت زیادہ مدد کی ضرورت ہے۔"


شہزادہ خالد نے شام کی سفارتی رسائی کو سعودی عرب اور ترکی کے درمیان "واقعی مثبت" پیش رفت قرار دیا۔



شہزادہ خالد نے امریکہ اور روس کے حالیہ مذاکرات سے بھی خطاب کیا جو اس ہفتے ریاض میں منعقد ہوئے تھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کا کردار مذاکرات کے لیے ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔


انہوں نے کہا، "ہمارے روس کے ساتھ مکمل اچھے تعلقات ہیں اور امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ ہماری پالیسی ہمیشہ ہر کسی سے بات کرنے کی ہے۔ یہ ہمیشہ ممکن نہیں ہے لیکن ہم مسلسل کوشش کرتے ہیں۔ اور مجھے لگتا ہے کہ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ دونوں ممالک نے بات کرنے میں آسانی محسوس کی۔"


مذاکرات میں کئیف کی نمائندگی کیوں نہیں کی گئی، اس سوال پر شہزادہ خالد نے کہا: "یہ ایک عمل کا آغاز ہے۔ یہ ایک ایسا عنصر ہے جس کے لیے کئی اجلاسوں اور کئی معاہدوں بشمول یوکرین کی ضرورت ہو گی۔ میز پر ایک شخص کے بغیر آپ دو لوگوں کے درمیان صلح نہیں کروا سکتے۔"



کیا ٹرمپ غضہ سے متعلق اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں؟

 




امریکی صدر ٹرمپ نے جمعہ کو فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ ان کا غزہ کا منصوبہ اچھا اور کارگر ہے تاہم وہ اسے مسلط نہیں کریں گے اور اس منصوبے کی صرف سفارش کریں گے۔ ان کے اس بیان کو بعض افراد نے ان کی پسپائی شمار کیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ غزہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا اور اگر اس کے باشندوں کو پسند کی آزادی دی گئی تو وہ اسے چھوڑ دیں گے۔ امریکی صدر کا خیال تھا کہ غزہ ایک شاندار مقام رکھتا ہے اور اسرائیل کا ماضی میں اسے چھوڑ دینا قابل اعتراض ہے۔


ٹرمپ کا یہ بیان چند روز قبل کے ایک اور بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ کو خریدنے کے لیے پرعزم ہیں۔ بعد میں ٹرمپ نے فلسطینی پٹی کو خالی کرنے کے خیال کو برقرار رکھتے ہوئے اس خریداری کے معاملے سے پیچھے ہٹنے کو اختیار کیا تھا۔


کیا ٹرمپ واقعی غزہ کے باشندوں کو بے گھر کرنے کے منصوبے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں کیونکہ ان کی تجویز نے بین الاقوامی سطح پر شدید غصے اور تنقید کو پیدا کیا ہے؟ یا ان کی پسپائی کسی اور وجہ سے ہوئی ہے؟ مصری مرکز برائے فکر و حکمت عملی کے نائب صدر میجر جنرل محمد ابراہیم الدویری نے اس حوالے سے ” العربیہ ڈاٹ نیٹ“ نے بات کی ہے۔ انہوں نےکہا کہ غزہ کے حوالے سے امریکی صدر کے کل کے بیانات کو غزہ کی آبادی کی نقل مکانی کے حوالے سے ان کی تجاویز سے ان کے پیچھے ہٹنے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا 25 جنوری کے بعد سے ٹرمپ کے تمام بیانات ایک ہی طرح کے ہیں اور ان بیانات میں آبادی کی نقل مکانی کا ذکر ہے۔


اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت میں ایسے بیان کا کیا مطلب ہے؟ اس حوالے سے دیکھا جائے تو صدر ٹرمپ وقتاً فوقتاً کچھ ایسے بیانات دیتے رہے ہیں جنہیں ایک طرح کی پسپائی کی نمائندگی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے لیکن واضح سچائی یہ ہے کہ وہ متعلقہ فریقوں کے موقف کا اندازہ لگانے کے علاوہ اپنی تجاویز کی مخالفت کے ردعمل کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ یہ معلوم کر رہے ہیں کہ وہ کس حد تک اس تجویز کا جواب دے سکتے ہیں۔


اس صورت حال میں پھر کب کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ نقل مکانی کی تجویز سے پیچھے ہٹ گئے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں میجر جنرل محمد ابراہیم الدویری نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ کسی بھی نئے بیان کی عدم موجودگی کے باوجود امریکی تجویز اب بھی قائم ہے۔ ہم اس وقت تک یہ نہیں کہہ سکتے کہ صدر ٹرمپ کے موقف میں کمزوری آئی ہے جب تک کہ وائٹ ہاو¿س کی جانب سے کوئی سرکاری بیان جاری نہ کردیا جائے۔


ایسے میں ٹرمپ کے بیانات کا نچوڑ کیا ہے؟ اس پر میجر جنرل محمد ابراہیم الدویری نے کہا کہ اگر کچھ افراد کا خیال ہے کہ امریکی موقف میں کمزوری آئی ہے تو ٹرمپ کے انہی بیانات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ غزہ کا مالک ہوگا اور وہ اس بات پر حیران ہیں کہ اسرائیل بحیرہ روم کے اس شاندار مقام سے کیسے پیچھے ہٹ گیا۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی تجاویز کا نچوڑ جوں کا توں برقرار ہے اور ان تجاویز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔



سعودی عرب کے 34 نئے امدادی قافلے غزہ کی پٹی پہنچ گئے

 








گزشتہ روزغزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کو ریلیف دینے کی مقبول مہم کے ایک حصے کے طور پر 34 نئے سعودی امدادی قافلے ہنگامی طبی سامان لے کر جنوبی غزہ کی پٹی پہنچ گئے۔ کنگ سلمان ریلیف سنٹر کی غزہ میں ایگزیکٹو پارنٹر سعودی مرکز برائے ثقافت و ورثہ نے قافلوں کا استقبال کیا۔ غزہ کے ہسپتالوں اور صحت کے مراکز میں ہنگامی طبی سامان تقسیم کرنے کی تیاری شروع کردی گئی۔ اس امدادی سامان سے پٹی میں طبی سامان کی شدید قلت کے شکار مراکز میں مشکل حالات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔



امدادی سامان کی فراہمی سعودی عرب کے تاریخی اور معروف کردار کے فریم ورک کے تحت آتی ہے جس میں سعودی عرب مختلف بحرانوں اور مصیبتوں میں برادر فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔



شام : عبوری حکومت کے ارکان سے پہلے قومی مکالمے کے لیے کانفرنس طلب

 








شام کی نئی رجیم نے 25 فروری کو قومی مکالمے کی کانفرنس بلا لی ہے۔ آٹھ دسمبر سے بر سر اقتدار نئی شامی حکومت کی یہ اس سلسلے کی اب تک کی سب سے بڑی اور وسیع بنیاد کانفرنس ہو گی۔


کانفرنس کا مقصد طویل خانہ جنگی سے تباہ شدہ ملک کو بشارالاسد رجیم کے بعد کس سمت میں آگے بڑھایا جائے ، نیز تعمیر نو کے علاوہ قومی یکجہتی و سلامتی کے چیلنجوں سے کس طرح نمٹا جائے۔ یہ بات کانفرنس کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کے ارکان نے بتائی ہے۔


بیرونی طاقتیں اور علاقے کے ملک بھی اس قومی مکالمے کے فروغ کے لیے بلائی گئی کانفرنس کو ابھی سے توجہ سے مانیٹر کرنے لگے ہیں۔ تاکہ شام کے سیاسی مستقبل کو دیکھ سکیں کہ احمد الشرع کے زیر قیادت شام کے تمام طبقوں کو نئی حکومت اور حکومتی ڈھانچے میں شامل کیا جائے گا یا نہیں۔


بیرونی طاقتوں نے شام پر عائد کی گئی پرانی پابندیوں کو واپس لینے کا معاملہ اسی لیے التوا میں رکھا ہوا ہے۔

سات رکنی کمیٹی کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ملک کے طول و عرض میں 4000 شخصیات کے ساتھ ابتدائی مشاورت کی گئی ہے۔ اس مشاورتی عمل کو ملک کے مستقبل کے اداروں کی تیاری، دستور سازی اور 25 فروری کی قومی کانفرنس کے اعلامیے کے لیے بنیاد بنایا جائے گا۔


بتایا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر کانفرنس دو دنوں کے لیے طلب کی گئی ہے۔ تاہم ضرورت محسوس کی گئی تو کانفرنس کے دورانیے میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ کانفرنس کا انعقاد یکم مارچ تک تشکیل پانے والی عبوری حکومت کی تکمیل سے محض چند روز قبل کیا جا رہا ہے۔


امکان ہے کہ اس کانفرنس میں عبوری حکومت کے وزرا کو براہ راست عوامی رائے کو سمجھنے اور جانچنے کا موقع بھی ملے گا۔



ٹرمپ زیلنسکی پر کیوں غصہ ہیں

 




"ہم نے انہیں یہ رقم مفت میں دی تھی اور ہم اسے واپس حاصل کریں گے " یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوکرین اور اس کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے بارے میں حال ہی میں دیے گئے شعلے دار بیانات کی ایک مثال ہے۔


ہفتہ کی شام امریکی صدر نے ایک بار پھر اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کے ملک نے اس سے پہلے یوکرین کی امداد پر جو رقم خرچ کی ہے اسے وہ واپس حاصل کریں گے۔ انہوں نے کنزرویٹو پولیٹیکل ایکشن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا "میں اپنا پیسہ واپس لانے یا اس کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔"


ٹرمپ نے مزید کہا کہ "یورپ نے کیف کو 100 بلین ڈالر قرض کے طور پر دیے جبکہ واشنگٹن نے اسے 350 بلین ڈالر دیے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ وہ ہمیں فراہم کردہ تمام رقم کے بدلے میں کچھ دیں۔"


یہ بیانات ٹرمپ کی طرف سے حال ہی میں دئے گئے غصے سے بھرے اشتعال انگیز بیانات کے سلسلے کے ایک حصے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ٹرمپ اپنے بیانات میں یوکرینی صدر زیلنسکی کو مسلسل ایک آمر کے طور پر بیان کرنے تک چلے گئے ہیں۔ جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین بھی ایک آمر ہیں تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔


غصے کی وجہ کیا ہے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ کے غصے کی سیاسی وجوہات اور محرکات واضح ہیں اور ٹرمپ ماضی میں بارہا ان کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان وجوہات میں سرفہرست وہ رقم ہے جو امریکہ نے کیف کو اب تک ادا کی ہے۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ اس رقم کی تلافی کی جائے۔ لیکن پچھلے دس دنوں کے 5 لائیو واقعات نے بھی ٹرمپ، ان کے نائب صدر وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کے غصے اور اشتعال کو ہوا دی ہے۔


12 فروری کو ٹریڑری سکریٹری سکاٹ بیسنٹ نے کیف میں زیلنسکی سے ملاقات کی تاکہ ایک تجویز پیش کی جا سکے جو واشنگٹن کو امریکی تحفظ کے بدلے یوکرینی معدنیات تک رسائی دے گی۔ لیکن زیلینسکی نے بیسنٹ کے ساتھ بدتمیزی کی اور اس کے ساتھ اپنی ملاقات اس بنا پر ملتوی کر دی کہ وہ سو رہے تھے۔


پھر دو دن بعد 14 فروری کو میونخ سیکورٹی کانفرنس میں ٹرمپ کے نائب صدر اور وزیر خارجہ نے زیلنسکی سے ملاقات کی تاکہ دھاتوں کے سودے کی منظوری حاصل کی جا سکے۔ لیکن باخبر حکام نے انکشاف کیا کہ زیلنسکی نے یہ کہہ کر امریکیوں کو حیران کر دیا کہ اس کے پاس پارلیمنٹ میں واپس آئے بغیر اسے منظور کرنے کا اختیار نہیں ہے۔


15 فروری کو سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب زیلنسکی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران عوامی طور پر اعلان کیا کہ اس نے امریکی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ وائٹ ہاو¿س کے ذرائع نے تصدیق کی کہ ان کے بیانات گزشتہ روز دیے گئے سابقہ بیانات سے بالکل مختلف تھے۔


چوتھا واقعہ 18 فروری کو پیش آیا جب روبیو اور امریکی صدارتی ایلچی سٹیو وٹ کوف سعودی عرب میں امن کے بارے میں بات کرنے کے لیے روسی مذاکرات کاروں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اس ملاقات پر تنقید کی گئی کیونکہ یہ ملاقات مذاکرات کی میز پر یوکرینی وفد کی موجودگی کے بغیر منعقد ہوئی۔


اس کے بعد ناراض ٹرمپ نے زیلنسکی کو تنقید کا نشانہ بنایا زیلنسکی پر روس کے ساتھ جنگ شروع کرنے کا الزام لگایا۔ ٹرمپ نے زیلنسکی کی بہت زیادہ گرتی ہوئی مقبولیت پر بھی تنقید کی۔


تاہم یوکرین کے صدر نے جواب دینے میں دیر نہیں کی اور اگلے ہی دن 19 فروری کو انہوں انے کہا کہ ان کے امریکی ہم منصب کو روسی معلومات سے گمراہ کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے پاس زیلنسکی پر اپنی تنقید کو بڑھانے اور ہدایت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یوکرین کے صدر ایک انتہائی معمولی کامیاب کامیڈین ہیں اور وہ بغیر انتخابات کے آمر بن چکے ہیں۔


لفظوں کی یہ جنگ اس وقت ہوئی جب امریکی انتظامیہ ابھی تک یوکرینی معدنیات پر کوئی معاہدہ طے کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ امریکی وزیر خزانہ نے یوکرین کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا یہ معاہدہ روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے بعد ملک کی ترقی کو سہارا دے گا اور اس میں کوئی زبردستی معاشی دباو¿ شامل نہیں ہوگا۔ یوکرین کے متعدد عہدیداروں نے کہا ہے کہ ٹرمپ کا زیلنسکی پر حملہ اور انہیں ایک آمر کے طور پر بیان کرنا محض اس معاہدے کو ختم کرنے اور اس کی شرائط کو تسلیم کرنے کے لیے دباو¿ کا ایک ذریعہ ہے۔



Saturday, 22 February 2025

’ہمیں علیحدگی پسند بننے پر مجبور کیا جا رہا‘، مرکز کی سہ لسانی پالیسی سے ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ اے راجہ سخت ناراض

 





ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ اے راجہ نے مرکزی حکومت کی ’سہ لسانی پالیسی‘ کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم علیحدگی پسند نہیں ہیں، لیکن مرکزی حکومت ہمیں علیحدگی پسند بننے پر مجبور کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے وزیر اعظم مودی کی لسانی پالیسی پر بھی سخت تنقید کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”وزیر اعظم نے ایک پروگرام میں کہا کہ کچھ لوگ زبان کے نام پر ملک کو الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو شک ہے کہ ہم زبان کے طور پر ملک کو تقسیم کریں گے تو کیا ہمیں اس بات پر شک نہیں کرنی چاہیے کہ آپ مذہب کے نام پر ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟“

 

اے راجہ نے تنبیہ بھی دی ہے کہ اگر وزیر اعظم زبان کے ایشو پر بولنا جاری رکھتے ہیں تو اس کی سخت مخالفت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ”اگر آپ ابھی بھی زبان کے مسئلہ پر بیان دیتے ہیں تو ہمارے نائب وزیر اعلیٰ کہیں گے- واپس جاو¿، مودی اور ہم پارلیمنٹ میں کہیں گے- مودی چپ رہو۔“ علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی پارٹی علیحدگی پسندی کی وکالت نہیں کرتی ہے، لیکن مرکز کی پالیسیاں انہیں مجبور کر رہی ہیں۔ اے راجہ کے علاوہ تمل ناڈو کانگریس کے ریاستی صدر سیلواپرونتھاگئی نے بھی مرکز کی ’سہ لسانی پالیسی‘ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”بی جے پی تمل ناڈو میں آر ایس ایس کے نظریے کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن ان کا یہ خواب کبھی شرمندہ¿ تعبیر نہیں ہوگا۔“



واضح ہو کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ (21 فروری) کو کہا تھا کہ ”ہندوستانی زبانوں کے درمیان کبھی کوئی دشمنی نہیں رہی، بلکہ وہ ایک دوسرے کو تقویت بخشتی رہی ہیں۔“ ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے زبان کی بنیاد پر اختلاف پیدا کرنے والی غلط فہمیوں سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”حکومت ملک کی ہر زبان کو مین اسٹریم کا حصہ سمجھتی ہے۔ زبانوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کو متاثر کیا ہے اور اسے تقویت بخشی ہے۔ جب زبان کی بنیاد پر تقسیم کی کوشش کی جاتی ہے تو ہماری مشترکہ لسانی وراثت اس کا مضبوط جواب پیش کرتی ہے۔ تمام زبانوں کو تسلیم کرنا اور اس کو قبول کرنا ہماری معاشرتی ذمہ داری ہے۔“


قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے ذریعہ وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے خط پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹالن سیاسی محرکات سے متاثر ہوکر خیالی خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی وزیر تعلیم نے کہا کہ ”قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کسی بھی ریاست پر کوئی زبان مسلط کرنے کی سفارش نہیں کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ این ای پی کسی بھی طرح سے تمل ناڈو میں ہندی مسلط کرنے کی پالیسی نہیں بنا رہی ہے۔“ واضح ہو کہ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے وزیر اعظ مودی کو ایک خط لکھ کر ریاست کے لیے ’سمگر سکشا‘ فنڈ جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ علاوہ ازیں ایم کے اسٹالن نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے اس بیان پر بھی تشویش کا اظہار کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ”تمل ناڈو کو فنڈ تبھی ملے گا جب وہ این ای پی 2020 میں مذکور ’سہ لسانی پالیسی‘ کو نافذ کرے گا۔“


مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے نتیش کے بیٹے کا سیاست میں کیا استقبال

 




طویل عرصے تک سیاسی سرگرمیوں سے دوری بنا کر رکھنے والے نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کے حوالے سے ایک بڑی خبر سامنے آ رہی ہے۔ ممکن ہے کہ رواں سال ہونے والے بہار اسمبلی انتخاب سے قبل وہ سیاسی میدان میں اتر جائیں۔ ایک طرف جہاں کچھ لوگ نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کے عملی سیاست میں آنے کا استقبال کر رہے ہیں، وہیں کئی لوگ ایسے ہیں جو سیاست میں ان کے داخلے پر سوال بھی اٹھا رہے ہیں۔ دریں اثنا مرکزی وزیر اور ہندوستانی عوامی مورچہ (ہَم) کے صدر جیتن رام مانجھی نے نتیش کمار کے بیٹے نشانت کی سیاست میں انٹری کی حمایت کی ہے۔


جیتن رام مانجھی نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا۔ پوسٹ میں جیتن رام مانجھی نے لکھا کہ ”ڈاکٹر کا بیٹا ڈاکٹر بنے تو اچھا، آئی اے ایس کا بیٹا آئی اے ایس بنے تو قابل، انجنیئر کا بیٹا انجنیئر بنے تو ہونہار، پر نیتا کا بیٹا نیتا بنے تو کئی سوال... یہ ٹھیک نہیں...۔“ علاوہ ازیں جیتن رام مانجھی نے لکھا کہ ”سیاست میں بہار کے معزز وزیر اعلیٰ نتیش کمار جی کے بیٹے نشانت کمار کا استقبال ہے۔ ’ہَم‘ نشانت کے ساتھ ہیں۔“



واضح ہو کہ سیاسی گلیاروں میں ایسی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار رواں سال ہونے اسمبلی انتخاب میں میدان میں اتر سکتے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ بھی چرچہ ہے کہ نشانت کمار اپنے والد نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو سنبھالیں گے۔ اس کے لیے وقت اور تاریخ کا تعین خود ان کے والد اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار طے کریں گے۔ حالانکہ اس حوالے سے جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کی جانب سے ابھی تک کوئی آفیشیل بیان سامنے نہیں آیا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ این ڈی اے خاص طور سے بی جے پی ہمیشہ سے سیاسی وراثت یا کنبہ پروری کے خلاف رہی ہے۔ نتیش کمار طویل عرصے سے اپنے بیٹے نشانت کو سیاست سے دور رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ان کے بیٹے کا سیاست میں داخلہ آسان نہیں ہوگا۔ ان کو اپوزیشن خاص طور سے آر جے ڈی کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ این ڈی اے کے لیڈران بشمول نتیش کمار کئی بار آر جے ڈی پر کنبہ پروری کا الزام عائد کر چکے ہیں۔ کمال کی بات یہ ہے کہ نتیش کمار کے بیٹے کے عملی سیاست میں آنے سے قبل ہی سیاسی گلیاروں میں مخالفت اور موافقت کو لے کر ایک بحث چھڑ چکی ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ کنبہ پروری کی مخالفت کرنے والا این ڈی اے اپنی حلیف جماعت ’ہَم‘ کے صدر جیتن رام مانجھی کے بیان پر کیا موقف اختیار کرتا ہے۔


آر بی آئی کے سابق گورنر شکتی کانت داس کو ملی اہم ذمہ داری، پی ایم مودی کے پرنسپل سکریٹری مقرر

 





آر بی آئی (ریزرو بینک آف انڈیا) کے سابق گورنر شکتی کانت داس وزیر اعظم نریندر مودی کے پرنسپل سکریٹری مقرر کیے گئے ہیں۔ انھوں نے ا?ر بی ا?ئی گورنر کے طور پر 6 سال تک اپنی خدمات دینے کے بعد گزشتہ سال دسمبر میں سبکدوش ہوئے تھے۔ سبکدوشی کے کچھ ماہ بعد ہی اب انھیں اہم ذمہ داری دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔


فی الحال پرمود کمار مشرا وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری1- ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ اب شکتی کانت داس پرنسپل سکریٹری2- کے کردار میں نظر آئیں گے۔ شکتی کانت 1980 بیچ کے ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر ہیں۔ کابینہ کی تقرری کمیٹی (اے سی سی) نے شکتی کانت کی تقرری سے متعلق جانکاری دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کی تقرری وزیر اعظم کی مدت کار کے ساتھ ساتھ یا اگلے حکم، جو بھی پہلے ہو، تک رہے گی۔



قابل ذکر ہے کہ شکتی کانت داس دسمبر 2018 سے چھ سالوں تک آر بی آئی چیف رہے۔ ان کے پاس چار دہائیوں میں حکومت کے مختلف شعبوں میں وسیع تجربہ ہے۔ وہ مالیات، ٹیکسیشن، صنعت، بنیادی ڈھانچے وغیرہ شعبوں میں مرکزی و ریاستی حکومتوں میں اہم عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔ اپنے چھ سالہ مدت کار کے دوران شکتی کانت نے آر بی آئی کو کئی اہم چیلنجز سے پار دلایا، جس میں کووڈ19- وبا کے معاشی نتائج اور روس-یوکرین جنگ کا اثر بھی شامل تھا۔


ایئر انڈیا پر شیوراج کی برہمی، کانگریس کا طنز، ’عام مسافروں کی شکایات نظر انداز، مگر اب کارروائی ہوگی؟‘

 








 ایئر انڈیا کی ناقص خدمات پر مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان کی تنقید کے بعد کانگریس نے حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ عام مسافر ہمیشہ مشکلات کا شکار رہے ہیں، مگر حکومت نے ان کی شکایات پر کوئی دھیان نہیں دیا۔


خیال رہے کہ شیوراج چوہان نے ہفتہ کو ایئر انڈیا کی بھوپال سے دہلی فلائٹ اے آئی-436 میں خراب نشست ملنے پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ میں کہا کہ انہیں نشست نمبر 8سی الاٹ کی گئی، جو اندر دھنس چکی تھی اور بیٹھنے کے قابل نہیں تھی۔ عملے نے بتایا کہ انتظامیہ کو پہلے ہی اس خرابی کی اطلاع دی جا چکی تھی، مگر اس کے باوجود نشست فروخت کی گئی۔


چوہان نے کہا کہ انہیں لگا تھا کہ ٹاٹا گروپ کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد ایئر انڈیا کی سروس میں بہتری آئے گی، مگر یہ ان کا وہم نکلا۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا ایئر انڈیا اس مسئلے کو حل کرے گا یا ہمیشہ کی طرح مسافروں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتا رہے گا؟


چوہان کی اس شکایت کے بعد کانگریس نے حکومت کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ عام مسافر پہلے ہی بدانتظامی کا شکار ہیں، مگر حکومت نے کبھی ایکشن نہیں لیا۔ پارٹی کے آفیشل ایکس ہینڈل سے جاری پوسٹ میں کہا گیا، ”مودی حکومت نے ہر شعبے کا بھٹہ بٹھا دیا ہے۔ ریل میں مسافر پریشان ہیں۔ ہوائی جہاز میں مسافر پریشان ہیں۔“



پارٹی نے مزید لکھا، ”لوگ مسلسل شکایت کرتے ہیں، ویڈیوز بناتے ہیں، مگر کوئی سنوائی نہیں ہوتی۔ اب چونکہ شیوراج جی کو مسئلہ ہوا ہے، تو ٹویٹ بھی ہو رہا ہے اور شاید ایکشن بھی لے لیا جائے۔ مگر نظام ایسے نہیں سدھرتے، بلکہ اوپر سے درست کیے جاتے ہیں اور اوپر تو صرف ‘سب چنگا سی’ کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے، جبکہ عوام مشکلات جھیل رہے ہیں۔”


کانگریس کے اس بیان کے بعد یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ کیا حکومت عام مسافروں کی تکالیف پر توجہ دے گی یا صرف بڑے لیڈران کی شکایات پر ہی کارروائی ہوگی؟


واضح رہے کہ ایئر انڈیا کو 2022 میں ٹاٹا گروپ نے سنبھالا تھا اور کمپنی نے سروس کو بہتر بنانے کے کئی دعوے کیے تھے۔ دسمبر 2023 میں ایئر انڈیا نے ایئربس کو 100 اضافی طیاروں کا آرڈر دیا تھا، اور مجموعی طور پر 350 ایئربس اور 220 بوئنگ طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا گیا تھا۔ تاہم، حالیہ واقعات سے ایئر انڈیا کی سروس کے معیار پر سوال اٹھ رہے ہیں، جس پر اب خود بی جے پی کے لیڈر بھی ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں۔


آسام: مسلم اراکین اسمبلی کو اب نہیں ملے گی نماز کے لیے چھٹی، بی جے پی حکومت نے 90 سالہ روایت کر دی ختم

 






آسام کی بی جے پی حکومت نے اسمبلی میں نماز کے لیے دی جانے والی چھٹی یعنی بریک کی 90 سالہ روایت کو ختم کر دیا ہے۔ حالانکہ یہ فیصلہ گزشتہ سال اگست ماہ میں لیا گیا تھا، لیکن نافذ اسے بجٹ سیشن کے دوران کیا گیا ہے۔ آسام حکومت کے اس فیصلے کے بعد زبردست مخالفت بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔


اے آئی یو ڈی ایف کے رکن اسمبلی رفیق الاسلام نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اکثریت کی بنیاد پر تھوپا گیا فیصلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسمبلی میں تقریباً 30 مسلم رکن اسمبلی ہیں۔ ہم نے اس قدم کے خلاف اپنے نظریات ظاہر کیے تھے، لیکن ان (بی جے پی) کے پاس تعداد ہے اور وہ اسی کی بنیاد پر اسے تھوپ رہے ہیں۔



قابل ذکر ہے کہ اسمبلی اسپیکر بسوجیت دیماری نے آئین کو پیش نظر رکھتے ہوئے تجویز پیش کی تھی کہ آسام اسمبلی کو دیگر دنوں کی طرح جمعہ کو بھی اپنی کارروائی کو چلایا جانا چاہیے۔ اس اصول کو کمیٹی کے سامنے رکھا گیا تھا، جسے کمیٹی نے اتفاق رائے سے پاس کر دیا۔


آسام اسمبلی میں نافذ اس روایت کے تحت مسلم اراکین اسمبلی کو جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے دو گھنٹے کا بریک دیا جاتا تھا۔ یعنی اس دوران ایوان کی کارروائی نہیں ہوتی تھی۔ اپوزیشن نے ایوان کے اس فیصلے پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے اسے اکثریتوں کی منمانی بتایا ہے۔



اسمبلی کے اس فیصلے کے بعد وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے اس فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ یہ روایت مسلم لیگ کے سید سعداللہ کی طرف سے 1937 میں شروع کی گئی تھی، اور اس التزام کو بند کرنے کا فیصلہ پروڈکٹیویٹی کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کے جواب میں اسپیکر بسوجیت دیماری نے کہا کہ آئین کے جمہوری اصولوں کے تحت یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ باقی دنوں کی طرح جمعہ کو بھی بغیر کسی نماز بریک کے ایوان چلے گا۔