Sunday, 9 February 2025

مسئلہ فلسطین پر تبادلہ خیال کے لیے قاہرہ میں ہنگامی عرب سربراہی اجلاس 27 فروری کو طلب

 






قاہرہ:

مسئلہ فلسطین میں پیش رفت پر تبادلہ خیال کے لیے مصری وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ قاہرہ 27 فروری کو ہنگامی عرب سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔


مصری وزارت خارجہ نے اطلاع دی ہے کہ سربراہی اجلاس بحرین، عرب سربراہی اجلاس کے موجودہ صدر اور عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد منعقد کیا جارہا ہے۔


مصر کی طرف سے حالیہ دنوں میں عرب ممالک کے ساتھ اعلیٰ سطح پر مشاورت اور رابطہ کاری کے بعد اجلاس بلانے کا فیصلہ ہوا۔ اس دوران ریاست فلسطین نے سربراہی اجلاس منعقد کرنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ سربراہی اجلاس میں مسئلہ فلسطین میں نئی اور خطرناک پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔


نقل مکانی کے منصوبوں کا مقابلہ

باخبر ذرائع نے قبل ازیں چند دنوں کے اندر قاہرہ میں "ہنگامی" عرب سربراہی اجلاس منعقد کرنے کے لیے مشاورت کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا تاکہ فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے منصوبوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ذرائع نے ”العربیہ ڈاٹ نیٹ“ کو بتایا کہ سربراہی اجلاس میں ایک متفقہ عرب فیصلے اور موقف تک پہنچنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ ایساموقف ہوگا جو نقل مکانی کو مسترد کرے اور فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے ضروری قانونی اور بین الاقوامی اقدامات پر زور دے گا۔


ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سربراہی اجلاس میں فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کیے بغیر غزہ کی تعمیر نو کے منصوبوں پر بھی بات کی جائے گی۔ جنگ بندی معاہدے کی تکمیل اور کسی بھی خلاف ورزی کو روکنے کی حمایت بھی کی جائے گی۔


دریں اثنا عرب ریاستوں کی لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے فلسطینی کاز کے اصولوں کو کمزور کرنے سے انکار کرنے کے لیے عرب اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام اپنی سرزمین پر باقی رہیں اور انہیں ان کے حق خود ارادیت سے محروم نہ کیا جائے۔ ہنگامی سربراہی اجلاس کا انعقاد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا کہ ان کا ملک غزہ کی پٹی پر قبضہ کرنے اور اہل غزہ کو اردن اور مصر سمیت دیگر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے۔ دریں اثنا اردن اور مصر نے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے منصوبوں کی کئی مرتبہ مخالفت کی ہے۔



غزہ سے فلسطینی انخلا کا ٹرمپ منصوبہ : ہم اپنے حصے کا کام کریں گے، اسرائیل

 







اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کو فلسطینیوں سے صاف کرنے کے منصوبے کی تحسین کی ہے۔ اگرچہ دنیا بھر سے ٹرمپ کے اس منصوبے پر تنقید و مذمت پر مبنی بیانات آ رہے ہیں۔


اسرائیلی وزیراعظم نے اس تنقید و مذمت کی پروا کیے بغیر کہا ہے کہ اسرائیل صدر ٹرمپ کے منصوبے میں رنگ بھرنے کے لیے غزہ سے فلسطینیوں کے انخلائ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔


نیتن یاہو نے ان خیالات کا اظہار 'فاکس نیوز' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔ ان کا یہ انٹرویو امریکی دورے کے اختتام کے موقع پر سامنے آیا ہے۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ سے فلسطینیوں کے نکالے جانے کے حوالے سے سامنے آنے والے منصوبے جس کے سامنے آنے پر دنیا بھر میں سخت تنقید کی جا رہی ہے، نیتن یاہو نے اس منصوبے کا پوری طرح دفاع کیا اور کہا 'میرا خیال ہے صدر ٹرمپ کا یہ منصوبہ پہلا تازہ تصور ہے جو برسوں بعد سامنے آیا ہے اور اس منصوبے میں اتنی جان ہے کہ یہ غزہ کو مکمل طور پر بدل دے گا۔'


میرے خیال میں یہ منصوبہ بالکل صحیح اپروچ پر مبنی ہے اور صحیح اپروچ کی نمائندگی کرتا ہے۔ ٹرمپ نے وہ سب کچھ کہہ دیا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ سارے دروازے کھول دوں اور انہیں موقع دوں کہ وہ غزہ سے نکل جائیں۔ اس دوران ہم غزہ کو نئے سرے سے تعمیر کر لیں، نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کے منصوبے کو بیان کرتے ہوئے کہا۔


انہوں نے یہ بھی کہا کہ 'ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کبھی نہیں کہا کہ اس مقصد کے لیے وہ اپنی مسلح افواج کو غزہ میں لائیں گے۔ جو امریکی فوج کے کرنے کا کام ہوگا وہ غزہ میں ہم کریں گے۔' نیتن یاہو نے یہ بات کھلے انداز میں بیان کی۔


خیال رہے اسرائیل نے غزہ پر 1967 پر قبضہ کیا تھا اور اس قبضے کو 2005 تک جاری رکھا گیا۔ تاہم 2005 میں اسرائیل نے غزہ سے اپنی فوج نکالنے کے ساتھ ساتھ یہودی آبادکاروں کوبھی نکال لیا۔


اس کے بعد اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی شروع کردی۔ تاکہ حماس غزہ پر اپنی حکمرانی کو آسانی سے نبھا نہ سکے۔ اسی ناکہ بندی کے دوران حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ایک مثالی حملہ کر دیا۔ اس طرح کا حملہ اسرائیل پر اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔


اسرائیل و حماس کے درمیان غزہ میں کئی جنگیں ہوئی ہیں۔ تاہم جو جنگ اکتوبر 2023 میں شروع ہوئی اور اب تک کے فیصلے کے مطابق 19 جنوری 2025 تک لڑی جاتی رہی ہے، اس کی ماضی میں کبھی مثال نہیں تھی۔ یہ جنگ انسانی ہلاکتوں، گھروں، سکولوں، ہسپتالوں مسیت مساجد و گرجا گھروں کی تباہی کی ایک بدترین مثال کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ اس میں 48000 سے زائد فلسطینیوں میں سے دو تہائی خواتین اور بچے جنگ میں اسرائیل کی طرف سے قتل کیے گئے ہیں۔


نیتن یاہو نے کہا 'یہ وہی پرانا منصوبہ ہے جو ہم چلا رہے ہیں کہ غزہ کو حماس سے پاک کیا جائے۔ میراخیال ہے کہ ہمیں ٹرمپ کے اس منصوبے کی پیروی کرنی چاہیے۔'


انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا 'اہم معاملہ یہ ہے کہ غزہ کے لوگوں کو لینے کے لیے کون سا ملک تیار ہوگا۔' اسرائیلی رہنما نے کہا 'فلسطینیوں کو غزہ میں واپس آنے کے لیے دہشت گردی سے برائ ت کا اعلان کرنا پڑے گا۔'


نیتن یاہو نے کہا 'ہر کوئی کہتا ہے کہ غزہ ایک کھلی جیل ہے۔ میں انہیں کہتا ہوں اگر وہ غزہ کے لوگوں کو جیل میں سمجھتے ہیں تو وہ انہیں اپنے ہاں لے کیوں نہیں جاتے تاکہ وہ کھلی فضا میں سانس لے سکیں۔'


نیتن یاہو نے مزید کہا 'اگر وہ نیک لوگ انہیں لے جائیں گے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں جیل میں رکھا ہے تو پھر نہ زبردستی نکالنا ہوگا، نہ نسلی صفائی ہوگی اور نہ ہی لوگوں کو ملک سے باہر نکلنے کا خوف ہوگا۔



ٹرمپ کا غزہ سے فلسطینیوں کے انخلاءکا منصوبہ : پاکستان کا 'او آئی سی' اجلاس بلانے کامطالبہ

 







پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے غزہ سے فلسطینی عوام کے دوسرے ملکوں میں منتقل کیے جانے کے ٹرمپ منصوبے کے بعد اس ہفتے میں سامنے آنے والے ردعمل کے دوران کہا ہے کہ 'او آئی سی' کے وزرائے خارجہ کا اس معاملے میں اجلاس بلا کر فلسطینیوں کے خلاف جاری مظالم کا جائزہ لیا جائے اور ٹرمپ کے منصوبے کے سامنے آنے سے پیدا شدہ صورتحال پر غور کے لیے مسلم دنیا کے وزرائے خارجہ اکٹھے ہوں۔


ٹرمپ نے یہ منصوبہ اسی مہینے کے شروع میں پرزور انداز میں پیش کیا ہے۔ تاکہ غزہ فلسطینیوں سے خالی ہوجائے۔ ان فلسطینیوں کو مصر، اردن یا کچھ اور ملکوں میں منتقل کر دیا جائے اور غزہ کی صفائی کے ساتھ غزہ میں تعمیرات کا آغاز کر سکیں۔


اس حوالے سے صدر ٹرمپ پر مشرق وسطیٰ کے سب ملکوں کے علاوہ یورپ اور دنیا کے دیگر خطوں سے بھی تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور سرزمین سے نکال کر وہاں پر ساحلی تفریحی مرکز بنانا چاہتے ہیں۔


تاہم صدر ٹرمپ کے اس منصوبے پر اسرائیلی حکومت اور انتہا پسند اسرائیلی جماعتوں میں غیر معمولی طور پر جوش پایا جاتا ہے اور وہ اس سے بہت خوش ہوئے ہیں کہ جو کام اسرائیل نہیں کر سکا امریکی صدر نے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اس تجویز کو اردن، مصر سمیت دنیا کے دوسرے ملکوں اور پاکستان نے مذمت کی۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے بھی اس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔


پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس بارے میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران کہا ہے کہ دونوں اعلیٰ سفارتکاروں نے ٹرمپ کے اس منصوبے پر باہم تبادلہ خیال کیا اور گہرا اضطراب و تشویش ظاہر کی ہے کہ ٹرمپ کا یہ منصوبہ غیرمنصفانہ اور بین القوامی قاون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہے۔


اسحاق ڈار نے مطالبہ کیا کہ اس بارے میں مشترکہ مو¿قف اختیار کرنے کے لیے مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا فوری اجلاس بلایا جائے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ پاکستانی وزیر خارجہ کی گفتگو میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ پاکستان اور ایران اگلے دنوں سامنے آنے والی ایسی ڈویلپمنٹس پر آپس میں رابطے میں رہیں گے۔


اسحاق ڈار نے کہا کہ 'غزہ کی سرزمین فلسطینوں کی سرزمین ہے اور اس پر فلسطینی عوام کا حق ہے۔ '


اس موقع پر انہوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر بھی زور دیا۔ ان کے خیال میں یہی ایک ممکنہ حل موجود ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان فلسطینیوں کی آزاد و خودمختار ریاست کے قیام کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ ایسی فلسطینی ریاست جس کی سرحدیں 1967 کے فلسطین کی سرحدوں کی بنیاد پر ہوں اور جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔'


صدر ٹرمپ کا یہ منصوبہ اسرائیل و حماس کے درمیان ساڑھے 15 ماہ کی جنگ کے بعد ہونے والی جنگ بندی کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس جنگ بندی معاہدے کے مطابق اسرائیلی قیدیوں کی غزہ سے رہائی کے تبادلے میں اسرائیلی جیلوں سے فلسطینیوں کی رہائی شامل ہے۔













غزہ پر ٹرمپ کی تجویز نئی ہے، مصر پٹی کو جیل میں تبدیل پر تلا ہوا ہے: نیتن یاھو

 






گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی پٹی پر قبضے اور وہاں کے لوگوں کو بے گھر کرنے کے بیانات سے اٹھنے والے عرب اور بین الاقوامی ردعمل کے طوفان کی بازگشت ابھی تھمی نہیں تھی کہ اسرائیل نے ایک بار پھر یہ تجویز تازہ کردی ہے۔


اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس بات پر زوردیا کہ امریکی صدر کی تجویز پہلے سے اچھی ہے اور اس سے قبل اس طرح کی تجویز سامنے نہیں آئی۔


انہوں نے کہا کہ غزہ پر سے متعلق ٹرمپ کی تجویز کو کئی سالوں میں اپنی نوعیت کی پہلی تجویز ہے۔


انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "کچھ لوگ ہم پر غزہ کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کرنے کا الزام لگاتے تھے، لیکن اب وہ ٹرمپ کے انہیں اس جیل سے نکالنے کے خیال کو مسترد کرتے ہیں"۔


انہوں نے ’فاکس نیوز‘ کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران زور دیتے ہوئے کہا کہ مصر ہی فلسطینیوں کو تباہ شدہ پٹی چھوڑنے سے روک رہا ہے۔


انہوں نے مصر پر غزہ کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ "یہ فلسطینیوں کو غزہ چھوڑنے کا موقع دینے کا وقت ہے"۔



انہوں نے غزہ کے لوگوں کے لیے متبادل جگہ تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔


انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیل ان فلسطینیوں کو "جو دہشت گردی ترک کریں گے غزہ کی تعمیر نو کے بعد واپس آنے کی اجازت دے گا"۔


اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایران کے بارے میں کہا کہ ہم نے 8 اکتوبر 2023 ئ کو اپنا وعدہ پورا کر دیا، جب ہم نے عزم کیا تھا کہ ہم ایرانی محور کو الٹا کر دے یں گے۔ ہم نے حزب اللہ کو کمزور کردیا جو خطے میں ایران کے "تاج کا زیور" ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حماس کو شکست دے دی۔ بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ بھی ان کی حکمت عملی کانتیجہ ہے‘-


انہوں نے مزید کہا کہ صرف تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا باقی رہ گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس معاملے پر ٹرمپ کے ساتھ اس وقت بات کی تھی جب وہ چند روز قبل واشنگٹن میں ان سے ملے تھے۔


قابل ذکر ہے کہ غزہ کے حوالے سے ٹرمپ کی تجویز چند روز قبل وائٹ ہاو¿س میں نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے دوران سامنے آئی تھی۔


یہ بات قابل غور ہے کہ فلسطینی علاقے غز ہ کی پٹی سے جبری نقل مکانی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ صرف خطے میں بلکہ واشنگٹن کے مغربی اتحادیوں کی طرف سے بھی اس کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔



جنگ بندی کے بعد غزہ میں 3380 ٹرک داخل، ہم نے 800 زخمیوں کا علاج کیا: گورنر شمالی سینا

 












شمالی سینا کے گورنر میجر جنرل خالد مجاور نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحادث ڈاٹ نیٹ کو خصوصی بیانات دیتے ہوئے کہا کہ مصر نے جنگ بندی کے آغاز سے اب تک فلسطینی علاقوں میں داخل ہونے والی کل انسانی امداد کا 80 فیصد فراہم کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رفح کے راستے داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد 3300 سے تجاوز کرگئی ہے۔ جس میں 430 انسانی امدادی ٹرک شامل ہیں۔ 238 ایندھن اور کھانا پکانے والی گیس کے ٹرک اس کے علاوہ ہیں۔


انہوں نے کہا کہ فضائی اور سمندری راستے سے بھیجی جانے والی امداد 22 بحری جہازوں اور 3000 سے زائد طیاروں کے ذریعے العریش کے ہوائی اڈے اور بندرگاہ پر پہنچی ہے۔


انہوں نے کہا کہ ریاستی سطح پر ایک کرائسس روم ہے جس میں تمام متعلقہ شعبوں، وزارتوں اور ایجنسیوں کے نمائندے شامل ہیں۔ یہ پہلے سے طے شدہ معاہدے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ امداد کے داخلے اور زخمیوں کو وصول کرنے کے طریقہ کار کے ساتھ ساتھ سیاسی اور انسانی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ امداد بہترین طریقے سے فراہم کی جائے۔


میجر جنرل خالد مجاور نے بحری جہاز پر ترکیہ کی جانب سے 10 ہزار خیموں کی آمد کا انکشاف کیا۔ ان خیموں کا استقبال مصر میں ترک سفیر نے کیا۔ اس میں امدادی سامان، خیمے اور پناہ گاہوں کے سامان سمیت 5800 ٹن امدادی سامان بھی شامل تھا۔ غزہ کی پٹی سے زخمیوں کو وصول کرنے کے بارے میں شمالی سینائی کے گورنر نے وضاحت کی کہ ان کا داخلہ 3 درجے کے نظام کے مطابق ہوتا ہے۔ پہلی سطح میں شمالی سینائی گورنریٹ شامل ہے۔ گورنریٹ میں طبی شعبے کو مختلف سپیشلٹیز کے ڈاکٹروں کی تعداد کو دوگنا کر دیا گیا ہے۔ دوسرے درجے میں سینا میں طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ تیسرے درجے میں قاہرہ کے ہسپتال شامل ہیں۔


گورنر نے تصدیق کی کہ اب تک 800 زخمیوں کا علاج مکمل ہو چکا ہے۔ اب بھی 690 کے قریب زخمی پھنسے ہوئے ہیں ، جیسے ہی راہداری آمد و رفت کے لیے کھولی جائے گی ان کی واپسی ہو جائے گی۔


شمالی سینائ کے گورنر نے اشارہ کیا کہ مصری ہلال احمر نے اپنے رضاکاروں کی تعداد کو 1,200 سے بڑھا کر 1,500 رضاکاروں تک کردیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ رضاکار 3 ماہ تک جاری رہنے والی سخت تربیت سے گزرتے ہیں۔ ان کی تربیت میں نظریاتی اور عملی دونوں پہلو شامل ہیں۔ یہ رضا کار فیلڈ ورک میں شامل ہونے سے پہلے کوالیفائنگ ٹیسٹ پاس کرتے ہیں۔



غزہ کی تعمیر کے لیے صرف تین سال درکار ہیں: مصری ڈیویلپر کا دعویٰ

 






غزہ جنگ کی وجہ سے ہونے والی بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد تعمیر نو کا عمل، اس کی لاگت اور کام کے سالوں کی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہے۔ جنوری 2025 میں اقوام متحدہ کی طرف سے کیے گئے نقصان کے تخمینے سے ظاہر کیا گیا تھا کہ غزہ میں جنگ کے نتیجے میں 50 ملین ٹن سے زیادہ ملبے کو ہٹانے میں 21 سال لگ سکتے ہیں اور اس کی لاگت 1.2 بلین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے ایک مصری تاجر نے حیران کن بیان دیا ہے۔


متبادل منصوبہ

مصری بزنس مین ہشام طلعت مصطفیٰ نے 3 سال کے اندر غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک متبادل منصوبے کا انکشاف کیا۔ اپنے منصوبے میں انہوں نے مصر کے تجربات کی بنیاد پر بڑے ہاو¿سنگ پراجیکٹس کو موثر طریقے سے نافذ کرنے کے امکان کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے چینل "ایم بی سی مصر" کے پروگرام ” الحکای?“ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں 1.2 سے 1.3 ملین بے گھر افراد ہیں۔ تعمیر نو کے لیے 100 مربع میٹر فی یونٹ کی شرح سے 200,000 مکانات کی تعمیر کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب ہے ہر مربع میٹر پر تعمیر کی لاگت ایک ہزار ڈالر آئے تو تعمیر کی لاگت کا تخمینہ 20 ملین ڈالر ہوگا۔


انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس منصوبے کو 40 سے 50 کنٹریکٹ کرنے والی کمپنیوں کے ذریعے 3 سال کے اندر 6 مرحلوں میں لاگو کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس پر ” مدینتی“ اور ” الرحاب“ کے منصوبوں کا حوالہ بھی دیا جن میں ایک لاکھ 80 ہزار رہائشی یونٹس موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسی طرح ایک لاکھ 20 ہزار رہائشی یونٹس ” نور“ تعمیراتی منصوبے میں بھی موجود ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مصر کے پاس یہ استعداد ہے کہ وہ غزہ میں بھی ایسے ہی منصوبے مکمل کر سکتا ہے۔


انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ میں فلسطینیوں کے لیے بین الاقوامی برادری کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورت حال کا تسلسل خطرناک حالات کا باعث بن سکتا ہے۔


واضح رہے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکو نے 30 جنوری کو وضاحت کی تھی کہ غزہ کی پٹی میں تقریباً کچھ بھی نہیں بچا ہے۔ انہوں نے تجویز کیا تھا کہ غزہ کی تعمیر نو کے عمل میں 10 سے 15 سال لگ جائیں گے۔ انہوں نے غزہ کے لیے 5 سال کے اندر کسی ٹھوس منصوبے تک پہنچنے کو بھی ناممکن قرار دیا اور کہا کہ تعمیر نو میں 10 سے 15 سال لگ سکتے ہیں۔


یاد رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ 15 ماہ کی وحشیانہ جنگ کے بعد 19 جنوری کو نافذ ہوا اور دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی شرط رکھی گئی۔ اس میں شمال میں بفر زون کے قیام کے ساتھ ساتھ پوری غزہ کی پٹی سے بتدریج اسرائیلی انخلائ بھی شامل تھا۔ معاہدے میں جنگ کے مستقل خاتمے اور غزہ کی تعمیر نو کی بھی شرط رکھی گئی تھی۔






فلسطینیوں کی نقل مکانی سے متعلق نیتن یاہو کے بیانات ناقابل قبول ہیں: سعودی عرب

 







اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کی تجویز پر دوبارہ زور دیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے فلسطین کے مسئلے پر اپنے ٹھوس مو¿قف کا اعادہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ مملکت فلسطینیوں کی نقل مکانی کو مسترد کرتی ہے۔


سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اتوار کو ایک اخباری بیان میں اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین پر رہنے کا حق حاصل ہے۔ فلسطینی بیرون ملک سے آنے والے غیر ملکی قابض یا تارکین وطن نہیں ہیں۔


انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام کا حق ثابت قدم رہے گا اور کوئی بھی اسے چھین نہیں سکے گا چاہے اس میں کتنا وقت لگے۔


فلسطینیوں کی نقل مکانی

سعودی عرب نے فلسطینیوں کی نقل مکانی سے متعلق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے بیانات کو مسترد کر دیا۔ مملکت نے فلسطینی کاز کی مرکزیت پر زور دینے والے ممالک کی کاوشوں کو سراہا۔


سعودی عرب نے فلسطینیوں کو جبری طور پر بے گھر کرنےکے حوالے سے نیتن یاہو کے بیانات کی مذمت کرنے والے "برادر ممالک" کے موقف کو سراہا۔


سعودی عرب نے زور دے کر کہا کہ دو ریاستی حل کے ذریعے بقائے باہمی کے اصول کو قبول کرنے سے ہی پائیدار امن حاصل کیا جا سکتا ہے۔


وزارت خارجہ نے گذشتہ بدھ کو اس بات پر زور دیا تھا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بارے میں مملکت کا موقف مضبوط، غیر متزلزل اور ٹھوس ہے۔ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے سفارتی تعلقات نہیں ہوں گے۔


سعودی عرب کا یہ موقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے غزہ کی پٹی کے باشندوں دوسرے ملکوں میں منتقل کرنے اور غزہ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کا اعلان کیا تھا۔


قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کئی برسوں سے اسرائیل۔فلسطین تنازعے کے حل کے لیے دو ریاستی حل پر قائم رہنے کا اعلان کرتا رہا ہے اور فلسطینیوں کے ان کی سرزمین پر حق کی پاسداری کا اعادہ کرتا ہے۔


اردن: شاہ عبداللہ دوم کی پوتی ایمان کے ساتھ کھیلتے ہوئے تصویر وائرل

 






شاہ عبداللہ دوم اپنی پوتی ایمان کے ساتھ لاڈ پیار کے لیے وقت ضرور نکالتے ہیں۔ یہ ننھی پوتی ان کے بیٹے حسین کی بیٹی ہے ، جس کی عمر ابھی محض چند ماہ ہے۔


پوتی ایمان کے ساتھ شاہ عبداللہ دوم کی ایک تصویر 'انسٹا گرام' پر وائرل ہوئی ہے جس میں ان کی پوتی ایمان اپنے دادا کے گالوں کو اپنے ننھے ہاتھوں سے چھو رہی ہے۔ اس پر شاہ عبداللہ عجیب سے سرور کی کیفیت میں ہیں۔


یہ تصویر شہزادہ حسین بن عبداللہ نے 'انسٹا گرام' پر وائرل کی ہے۔ شہزادہ حسین کی اہلیہ شہزادی رجوا ہیں۔ شہزادی کا تعلق سعودی شاہی خاندان سے ہے۔ ایمان اس شاہی جوڑے کی پہلی بیٹی ہے۔ ایمان 3 اگست 2024 کو دنیا میں آئی تھی۔


اس کی پیدائش پر شاہ اردن نے سوشل میڈیا پر پوسٹ میں لکھا تھا 'میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہمیں ہماری پہلی پوتی ایمان بنت حسین عطا کی ہے۔ میں پیارے حسین اور رجوا کو نومولود کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔'


شہزادہ حسین کی طرف سے 'انسٹا گرام' پر لگائی گئی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہزادی ایمان کے دادا شاہ عبداللہ دوم کھیل رہے ہیں اور خوب خوش ہیں۔ 'انسٹا گرام' پر اس پوسٹ میں لکھا ہے' ایمان سب سے پیارے دادا کے ساتھ۔'


شاہ اردن نے مزید لکھا ' ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس کی اچھی پرورش کرے اور اس کے والدین کے لیے اس کی حفاظت کرے۔'





















امریکہ سے کشیدگی، ایرانی کرنسی قدر کی کم ترین سطح پر چلی گئی

 





ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی تازہ یلغار اور کشیدگی کے ماحول میں اضافے کے باعث ہفتے کے کا دن ایرانی کرنسی کے لیے سخت خطرناک رہا جب ایرانی کرنسی اب تک کی کم ترین سطح پر جا گری۔ اس تناظر میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے امریکہ کی 'زیادہ سے زیادہ دباو¿' کی پالیسی کے ماحول میں بات چیت کو مسترد کر دیا ہے۔

ایرانی ریال جمعہ کے روز کے ڈالر کے مقابلے میں ہفتے کے روز مزید نیچے گر گیا ہے۔ جمعہ کے روذ ایرانی ریال 869.500 کی سطح پر تھا جبکہ ہفتے کے روز یہ 892.500 کی سطح پر چلا گیا۔ کرنسی سے متعلق ویب سائٹ کے مطابق ایرانی ریال کی تبادلے کی سطح 883.100 ہوگئی اور ڈالر کی تجارت کی اطلاع 891.000 ہوگئی۔

اس کے نتیجے میں افراط زر کی سطح 35 فیصد ہو گئی ہے اور مقامی لوگ ریال کو دوسری کرنسیوں میں تبدیل کرانے یا پھر کرپٹو کرنسی کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ سونے کی خریداری بھی بڑھ گئی ہے۔ ماہرین اگلے دنوں ایرانی ریال کے مزید نیچے آنے کی اطلاع دے رہے ہیں۔

واضح رہے ٹرمپ کے نومبر میں الیکشن جیتنے کے دوران ایرانی ریال 690.000 کے آس پاس تھا۔ لیکن ٹرمپ کی ایران کے بارے میں پالیسیاں سخت کرنے کی سوچ نے ایرانی ریال کو انتہائی نیچے گرا دیا ہے۔


بہار میں ریلوے کی بے مثال سرمایہ کاری، 2014 کے بعد بہارمیں جتنا نیا ریلوے ٹریک بچھایا گیا ہے وہ ملیشیا کے مکمل ریلوے نیٹ ورک سے زیادہ ہے : اشونی ویشنو

 





بیتیا:معزز ریلوے وزیر جناب اشونی ویشنو آج ایک روزہ دورے پر بہار پہنچے، جہاں وہ بیتیا، مظفرپور اور پٹنہ ریلوے اسٹیشنوں کا معائنہ کر رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے بیتیا ریلوے اسٹیشن پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور ریلوے کی ترقی سے متعلق اہم نکات پر روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ بہار میں ریلوے کی مجموعی سرمایہ کاری 95,566 کروڑ روپے ہے، جس سے آئندہ پانچ برسوں میں ریلوے نیٹ ورک میں مکمل تبدیلی آئے گی۔ اس تاریخی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2014 کے بعد بہار میں جتنا نیا ریلوے ٹریک بچھایا گیا ہے، وہ ملیشیا کے مکمل ریلوے نیٹ ورک سے زیادہ ہے۔

ریلوے وزیر جناب اشونی ویشنو نے امرت بھارت اسٹیشن یوجنا کے تحت جدید بنائے جانے والے بیتیا ریلوے اسٹیشن کے 3D ماڈل کا جائزہ لیا۔ اس کے ساتھ، انہوں نے بیتیا میں تعمیر شدہ سڑک اوور برج (آر. او. بی.) کے قوم کے نام وقف کیے جانے کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر ناری شکتی کا احترام کرتے ہوئے، خواتین نے اس آر او بی کا افتتاح کیا۔ریلوے وزیر کے اس دورے سے بہار کے ریلوے نیٹ ورک میں جاری ترقیاتی کاموں کو نئی رفتار ملے گی اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔


جھوٹ اور لوٹ کی سیاست کو دہلی کی عوام نے مسترد کر دیا: امیش سنگھ کشواہا

 





پٹنہ:بہار جنتا دل (یو) کے معزز ریاستی صدر امیش سنگھ کشواہا نے ہفتہ کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے دہلی اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی تاریخی جیت پر تمام دہلی واسیوں اور این ڈی اے کے کارکنوں کو دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی عوام نے این ڈی اے کی خوشحالی اور ترقیاتی پالیسی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور انتخابات کے نتائج نے یہ ثابت کر دیا کہ ملک کی سیاست میں این ڈی اے کی طاقت اور اتحاد کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

ریاستی صدر نے کہا کہ عوام سے کیے گئے جھوٹے وعدوں کی سیاسی قیمت اروند کیجریوال اور ان کی پارٹی کو چکانی پڑی ہے۔ جھوٹ اور لوٹ پر مبنی سیاست کرنے والوں کو عوام نے واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہوں یا بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، دونوں نے اپنی شاندار قیادت اور بہترین طرزِ حکمرانی سے ترقی کی نئی مثالیں قائم کی ہیں۔

ا±میش سنگھ کشواہا نے کہا کہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کے سیاسی زوال کا جو انجام ہوا ہے، بہار میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کا حال اس سے بھی بدتر ہوگا، کیونکہ دونوں پارٹیوں کی سیاسی حکمت عملی اور طرز عمل ایک جیسا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ہی کرپشن اور گھوٹالوں کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ دہلی میں اروند کیجریوال اور بہار میں تیجسوی یادو، دونوں کی سیاست جھوٹ پر مبنی ہے۔

ساتھ ہی، ریاستی صدر نے کہا کہ دہلی کے انتخابی نتائج پورے ملک، خاص طور پر بہار میں این ڈی اے کارکنان کے لیے ایک نئی توانائی، جوش، ولولہ اور اعتماد پیدا کریں گے۔ اس سے آئندہ بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کو زبردست فائدہ ملے گا اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں 225 سیٹوں پر تاریخی جیت درج کی جائے گی۔


مرکزی حکومت نے امریکی پالیسیوں کے آگے ملک کی عزت کو گروی رکھ دیا : ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ

 





غیر مقیم بھارتیوں کے مسئلے پر کانگریس کا احتجاج، مودی اور ٹرمپ کے پتلے نذر آتش

پٹنہ، 9 فروری :امریکی حکومت کی جانب سے غیر مقیم بھارتیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک، انہیں زنجیروں میں جکڑ کر کارگو طیاروں کے ذریعے بھارت بھیجنے کے خلاف بہار کانگریس کے صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ کی قیادت میں انکم ٹیکس چوراہے پر کانگریس کارکنان نے مرکزی حکومت کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پتلے نذر آتش کیے گئے۔احتجاج کے بعد کانگریس کے ریاستی صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ نے کہا کہ کمزور قیادت والی این ڈی اے حکومت کے سربراہ نریندر مودی، غیر مقیم بھارتیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، ہر موضوع پر بیان دینے والے وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی اس معاملے کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خود کو وشو گرو کہنے والی بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے بھارتی شہریوں کے وقار کو اپنے امریکی دوست ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے گروی رکھ دیا ہے۔ بھارتی شہریوں کو کارگو طیاروں میں زنجیروں سے باندھ کر بھارت بھیجنے کا یہ غیر انسانی طریقہ قطعی ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ دنیا بھر میں گھومتے ہیں، لاکھوں روپے کے تحائف دیتے ہیں اور تقریبات کے ذریعے اپنی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب امریکی حکومت بھی بھارت کے ساتھ دوسرے درجے کا نہیں بلکہ اس سے بھی کمتر سلوک کر رہی ہے۔ "نمستے ٹرمپ" اور "ہاو¿ڈی مودی" جیسے شاندار پروگراموں پر بھارتی عوام کی کمائی کے کروڑوں روپے خرچ کرنے والے، اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے ایک عام طیارہ تک فراہم نہیں کر سکے۔ وزیر خارجہ جے شنکر کا یہ کہنا کہ "یہ امریکی پالیسی ہے"، صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ حکومت صرف خود کو مضبوط دکھانے کے لیے عالمی تقریبات کا سہارا لے رہی ہے، جبکہ عالمی سیاست میں ناکام ثابت ہو چکی ہے۔کانگریس پارٹی نے پورے ملک میں اس مسئلے پر مظاہرے کیے اور بہار کے تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔

احتجاجی مظاہرے میں ریاستی صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ کے علاوہ سابق ریاستی صدر ڈاکٹر مدن موہن جھا، پروفیسر رام جتن سنہا، پریم چندر مشرا، وینا شاہی، ایم ایل اے وجے شنکر دوبے، پرتیمہ کماری داس، عابد الرحمن، نیتو سنگھ، برجیش پانڈے، راجیش راٹھوڑ، لال بابو لال، برجیش پرساد مونن، امیتا بھوشن، راج کمار راجن، سروت جہاں فاطمہ، آنند مادھو، ڈاکٹر سنیہاشیش وردھن پانڈے، ڈاکٹر سنجے یادو، سوربھ سنہا، ندھی پانڈے، منوج کمار سنگھ، انیل کمار، کمار آشیش، چندر پرکاش سنگھ، ناگندر کمار وکل، رامائن یادو، آشوتوش شرما، پروفیسر ونود کمار، راج کشور سنگھ، روشنی جیسوال، گنجن پٹیل، سنجے پانڈے، منت رحمانی، ششی رنجن، آصف غفور، سدیہ شرما، محمد کامران، مرنال انامی، روی گولڈن، دھننجے شرما، متھیلیش شرما مدھوکر، اشوک گگن، رمیش رام، وملیش تیواری، للن یادو، ستیندر کمار سنگھ، سنتوش سریواستو، وسی اختر، گرجیت سنگھ، سومت کمار سنی، سدھارتھ کشتریہ، رما شنکر پانڈے، ندیم انصاری، ارملا سنگھ نیلو، پردیومن یادو، آدتیہ پاسوان، وشال رنجن، شریف رنگریز، روی کمار، راہل کمار مشرا، گردیال سنگھ سمیت سینکڑوں کانگریس کارکنان موجود تھے۔


Saturday, 8 February 2025

سعودی عرب کے خلاف اسرائیلی بیان پر مصر کی جانب سے شدید مذمت

 





مصر نے سعودی عرب کے خلاف اسرائیلی بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے حد سے تجاوز اور نا قابل قبول قرار دیا ہے۔ مصر نے باور کرایا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی سرخ لکیر ہے جس کو نقصان پہنچانے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی۔


مصری وزارت خارجہ نے آج ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے خلاف اسرائیل کے غیر ذمے دارانہ بیان کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، اور اس بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔


بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف اشتعال انگیز بیان میں سعودی اراضی پر فلسطینی ریاست بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ بیان سعودی عرب کی خود مختاری پر براہ راست حملے کے مترادف ہے اور بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہے۔


مصری وزارت خارجہ نے باور کرایا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور اس کی خود مختاری کا احترام "سرخ لکیر" ہے اور مصر اسے گزند پہنچانے کی اجازت ہر گز نہیں دے گا۔



مصر کا کہنا ہے کہ مملکت سعودی عرب کا استحکام اور قومی سلامتی مصر اور عرب ممالک کی سلامتی و استحکام کا حصہ ہے جس کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ اسرائیل کا یہ بیان سعودی عرب کی خود مختاری اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق پر حملہ ہے۔


مصر نے باور کرایا ہے کہ وہ اس طرح کے غیر ذمے دارانہ بیانات کے خلاف پوری طرح سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ... اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس بیان کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا جائے۔


واضح رہے کہ اس سے قبل با خبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا تھا کہ رواں ماہ فروری کے اواخر میں قاہرہ میں عرب لیگ کا ایک ہنگامی سربراہ اجلاس منعقد کرنے کے حوالے سے عرب وزرائے خارجہ کے بیچ کثیر مشاورت جاری ہے۔ اجلاس میں فلسطینیوں کی جبری ہجرت کی کوششوں اور منصوبوں کے حوالے سے ایک یکساں موقف پیش کیا جائے گا۔


مصری وزیر خارجہ نے مسئلہ فلسطین کی صورت حال کے حوالے سے تبادلہ خیال کے لیے سعودی عرب، امارات، کویت، سلطنت عمان، بحرین، اردن، عراق، الجزائر، تونس، موریتانیا اور سوڈان کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے ہیں۔ ساتھ ہی فسلطینی عوام کو ان کی سرزمین سے ہجرت پر مجبور کرنے یا فلسطینی اراضی کے باہر دوسرے ممالک منتقل کرنے کے حوالے سے کسی بھی اقدام کو مسترد کرنے کے سلسلے میں دو ٹوک موقف کو دہرایا۔