Sunday, 9 February 2025

غزہ پر ٹرمپ کی تجویز نئی ہے، مصر پٹی کو جیل میں تبدیل پر تلا ہوا ہے: نیتن یاھو

 






گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی پٹی پر قبضے اور وہاں کے لوگوں کو بے گھر کرنے کے بیانات سے اٹھنے والے عرب اور بین الاقوامی ردعمل کے طوفان کی بازگشت ابھی تھمی نہیں تھی کہ اسرائیل نے ایک بار پھر یہ تجویز تازہ کردی ہے۔


اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس بات پر زوردیا کہ امریکی صدر کی تجویز پہلے سے اچھی ہے اور اس سے قبل اس طرح کی تجویز سامنے نہیں آئی۔


انہوں نے کہا کہ غزہ پر سے متعلق ٹرمپ کی تجویز کو کئی سالوں میں اپنی نوعیت کی پہلی تجویز ہے۔


انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "کچھ لوگ ہم پر غزہ کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کرنے کا الزام لگاتے تھے، لیکن اب وہ ٹرمپ کے انہیں اس جیل سے نکالنے کے خیال کو مسترد کرتے ہیں"۔


انہوں نے ’فاکس نیوز‘ کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران زور دیتے ہوئے کہا کہ مصر ہی فلسطینیوں کو تباہ شدہ پٹی چھوڑنے سے روک رہا ہے۔


انہوں نے مصر پر غزہ کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ "یہ فلسطینیوں کو غزہ چھوڑنے کا موقع دینے کا وقت ہے"۔



انہوں نے غزہ کے لوگوں کے لیے متبادل جگہ تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔


انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیل ان فلسطینیوں کو "جو دہشت گردی ترک کریں گے غزہ کی تعمیر نو کے بعد واپس آنے کی اجازت دے گا"۔


اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایران کے بارے میں کہا کہ ہم نے 8 اکتوبر 2023 ئ کو اپنا وعدہ پورا کر دیا، جب ہم نے عزم کیا تھا کہ ہم ایرانی محور کو الٹا کر دے یں گے۔ ہم نے حزب اللہ کو کمزور کردیا جو خطے میں ایران کے "تاج کا زیور" ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حماس کو شکست دے دی۔ بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ بھی ان کی حکمت عملی کانتیجہ ہے‘-


انہوں نے مزید کہا کہ صرف تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا باقی رہ گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس معاملے پر ٹرمپ کے ساتھ اس وقت بات کی تھی جب وہ چند روز قبل واشنگٹن میں ان سے ملے تھے۔


قابل ذکر ہے کہ غزہ کے حوالے سے ٹرمپ کی تجویز چند روز قبل وائٹ ہاو¿س میں نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے دوران سامنے آئی تھی۔


یہ بات قابل غور ہے کہ فلسطینی علاقے غز ہ کی پٹی سے جبری نقل مکانی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ صرف خطے میں بلکہ واشنگٹن کے مغربی اتحادیوں کی طرف سے بھی اس کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔



جنگ بندی کے بعد غزہ میں 3380 ٹرک داخل، ہم نے 800 زخمیوں کا علاج کیا: گورنر شمالی سینا

 












شمالی سینا کے گورنر میجر جنرل خالد مجاور نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحادث ڈاٹ نیٹ کو خصوصی بیانات دیتے ہوئے کہا کہ مصر نے جنگ بندی کے آغاز سے اب تک فلسطینی علاقوں میں داخل ہونے والی کل انسانی امداد کا 80 فیصد فراہم کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رفح کے راستے داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد 3300 سے تجاوز کرگئی ہے۔ جس میں 430 انسانی امدادی ٹرک شامل ہیں۔ 238 ایندھن اور کھانا پکانے والی گیس کے ٹرک اس کے علاوہ ہیں۔


انہوں نے کہا کہ فضائی اور سمندری راستے سے بھیجی جانے والی امداد 22 بحری جہازوں اور 3000 سے زائد طیاروں کے ذریعے العریش کے ہوائی اڈے اور بندرگاہ پر پہنچی ہے۔


انہوں نے کہا کہ ریاستی سطح پر ایک کرائسس روم ہے جس میں تمام متعلقہ شعبوں، وزارتوں اور ایجنسیوں کے نمائندے شامل ہیں۔ یہ پہلے سے طے شدہ معاہدے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ امداد کے داخلے اور زخمیوں کو وصول کرنے کے طریقہ کار کے ساتھ ساتھ سیاسی اور انسانی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ امداد بہترین طریقے سے فراہم کی جائے۔


میجر جنرل خالد مجاور نے بحری جہاز پر ترکیہ کی جانب سے 10 ہزار خیموں کی آمد کا انکشاف کیا۔ ان خیموں کا استقبال مصر میں ترک سفیر نے کیا۔ اس میں امدادی سامان، خیمے اور پناہ گاہوں کے سامان سمیت 5800 ٹن امدادی سامان بھی شامل تھا۔ غزہ کی پٹی سے زخمیوں کو وصول کرنے کے بارے میں شمالی سینائی کے گورنر نے وضاحت کی کہ ان کا داخلہ 3 درجے کے نظام کے مطابق ہوتا ہے۔ پہلی سطح میں شمالی سینائی گورنریٹ شامل ہے۔ گورنریٹ میں طبی شعبے کو مختلف سپیشلٹیز کے ڈاکٹروں کی تعداد کو دوگنا کر دیا گیا ہے۔ دوسرے درجے میں سینا میں طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ تیسرے درجے میں قاہرہ کے ہسپتال شامل ہیں۔


گورنر نے تصدیق کی کہ اب تک 800 زخمیوں کا علاج مکمل ہو چکا ہے۔ اب بھی 690 کے قریب زخمی پھنسے ہوئے ہیں ، جیسے ہی راہداری آمد و رفت کے لیے کھولی جائے گی ان کی واپسی ہو جائے گی۔


شمالی سینائ کے گورنر نے اشارہ کیا کہ مصری ہلال احمر نے اپنے رضاکاروں کی تعداد کو 1,200 سے بڑھا کر 1,500 رضاکاروں تک کردیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ رضاکار 3 ماہ تک جاری رہنے والی سخت تربیت سے گزرتے ہیں۔ ان کی تربیت میں نظریاتی اور عملی دونوں پہلو شامل ہیں۔ یہ رضا کار فیلڈ ورک میں شامل ہونے سے پہلے کوالیفائنگ ٹیسٹ پاس کرتے ہیں۔



غزہ کی تعمیر کے لیے صرف تین سال درکار ہیں: مصری ڈیویلپر کا دعویٰ

 






غزہ جنگ کی وجہ سے ہونے والی بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد تعمیر نو کا عمل، اس کی لاگت اور کام کے سالوں کی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہے۔ جنوری 2025 میں اقوام متحدہ کی طرف سے کیے گئے نقصان کے تخمینے سے ظاہر کیا گیا تھا کہ غزہ میں جنگ کے نتیجے میں 50 ملین ٹن سے زیادہ ملبے کو ہٹانے میں 21 سال لگ سکتے ہیں اور اس کی لاگت 1.2 بلین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے ایک مصری تاجر نے حیران کن بیان دیا ہے۔


متبادل منصوبہ

مصری بزنس مین ہشام طلعت مصطفیٰ نے 3 سال کے اندر غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک متبادل منصوبے کا انکشاف کیا۔ اپنے منصوبے میں انہوں نے مصر کے تجربات کی بنیاد پر بڑے ہاو¿سنگ پراجیکٹس کو موثر طریقے سے نافذ کرنے کے امکان کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے چینل "ایم بی سی مصر" کے پروگرام ” الحکای?“ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں 1.2 سے 1.3 ملین بے گھر افراد ہیں۔ تعمیر نو کے لیے 100 مربع میٹر فی یونٹ کی شرح سے 200,000 مکانات کی تعمیر کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب ہے ہر مربع میٹر پر تعمیر کی لاگت ایک ہزار ڈالر آئے تو تعمیر کی لاگت کا تخمینہ 20 ملین ڈالر ہوگا۔


انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس منصوبے کو 40 سے 50 کنٹریکٹ کرنے والی کمپنیوں کے ذریعے 3 سال کے اندر 6 مرحلوں میں لاگو کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس پر ” مدینتی“ اور ” الرحاب“ کے منصوبوں کا حوالہ بھی دیا جن میں ایک لاکھ 80 ہزار رہائشی یونٹس موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسی طرح ایک لاکھ 20 ہزار رہائشی یونٹس ” نور“ تعمیراتی منصوبے میں بھی موجود ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مصر کے پاس یہ استعداد ہے کہ وہ غزہ میں بھی ایسے ہی منصوبے مکمل کر سکتا ہے۔


انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ میں فلسطینیوں کے لیے بین الاقوامی برادری کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورت حال کا تسلسل خطرناک حالات کا باعث بن سکتا ہے۔


واضح رہے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکو نے 30 جنوری کو وضاحت کی تھی کہ غزہ کی پٹی میں تقریباً کچھ بھی نہیں بچا ہے۔ انہوں نے تجویز کیا تھا کہ غزہ کی تعمیر نو کے عمل میں 10 سے 15 سال لگ جائیں گے۔ انہوں نے غزہ کے لیے 5 سال کے اندر کسی ٹھوس منصوبے تک پہنچنے کو بھی ناممکن قرار دیا اور کہا کہ تعمیر نو میں 10 سے 15 سال لگ سکتے ہیں۔


یاد رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ 15 ماہ کی وحشیانہ جنگ کے بعد 19 جنوری کو نافذ ہوا اور دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی شرط رکھی گئی۔ اس میں شمال میں بفر زون کے قیام کے ساتھ ساتھ پوری غزہ کی پٹی سے بتدریج اسرائیلی انخلائ بھی شامل تھا۔ معاہدے میں جنگ کے مستقل خاتمے اور غزہ کی تعمیر نو کی بھی شرط رکھی گئی تھی۔






فلسطینیوں کی نقل مکانی سے متعلق نیتن یاہو کے بیانات ناقابل قبول ہیں: سعودی عرب

 







اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کی تجویز پر دوبارہ زور دیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے فلسطین کے مسئلے پر اپنے ٹھوس مو¿قف کا اعادہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ مملکت فلسطینیوں کی نقل مکانی کو مسترد کرتی ہے۔


سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اتوار کو ایک اخباری بیان میں اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین پر رہنے کا حق حاصل ہے۔ فلسطینی بیرون ملک سے آنے والے غیر ملکی قابض یا تارکین وطن نہیں ہیں۔


انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام کا حق ثابت قدم رہے گا اور کوئی بھی اسے چھین نہیں سکے گا چاہے اس میں کتنا وقت لگے۔


فلسطینیوں کی نقل مکانی

سعودی عرب نے فلسطینیوں کی نقل مکانی سے متعلق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے بیانات کو مسترد کر دیا۔ مملکت نے فلسطینی کاز کی مرکزیت پر زور دینے والے ممالک کی کاوشوں کو سراہا۔


سعودی عرب نے فلسطینیوں کو جبری طور پر بے گھر کرنےکے حوالے سے نیتن یاہو کے بیانات کی مذمت کرنے والے "برادر ممالک" کے موقف کو سراہا۔


سعودی عرب نے زور دے کر کہا کہ دو ریاستی حل کے ذریعے بقائے باہمی کے اصول کو قبول کرنے سے ہی پائیدار امن حاصل کیا جا سکتا ہے۔


وزارت خارجہ نے گذشتہ بدھ کو اس بات پر زور دیا تھا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بارے میں مملکت کا موقف مضبوط، غیر متزلزل اور ٹھوس ہے۔ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے سفارتی تعلقات نہیں ہوں گے۔


سعودی عرب کا یہ موقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے غزہ کی پٹی کے باشندوں دوسرے ملکوں میں منتقل کرنے اور غزہ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کا اعلان کیا تھا۔


قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کئی برسوں سے اسرائیل۔فلسطین تنازعے کے حل کے لیے دو ریاستی حل پر قائم رہنے کا اعلان کرتا رہا ہے اور فلسطینیوں کے ان کی سرزمین پر حق کی پاسداری کا اعادہ کرتا ہے۔


اردن: شاہ عبداللہ دوم کی پوتی ایمان کے ساتھ کھیلتے ہوئے تصویر وائرل

 






شاہ عبداللہ دوم اپنی پوتی ایمان کے ساتھ لاڈ پیار کے لیے وقت ضرور نکالتے ہیں۔ یہ ننھی پوتی ان کے بیٹے حسین کی بیٹی ہے ، جس کی عمر ابھی محض چند ماہ ہے۔


پوتی ایمان کے ساتھ شاہ عبداللہ دوم کی ایک تصویر 'انسٹا گرام' پر وائرل ہوئی ہے جس میں ان کی پوتی ایمان اپنے دادا کے گالوں کو اپنے ننھے ہاتھوں سے چھو رہی ہے۔ اس پر شاہ عبداللہ عجیب سے سرور کی کیفیت میں ہیں۔


یہ تصویر شہزادہ حسین بن عبداللہ نے 'انسٹا گرام' پر وائرل کی ہے۔ شہزادہ حسین کی اہلیہ شہزادی رجوا ہیں۔ شہزادی کا تعلق سعودی شاہی خاندان سے ہے۔ ایمان اس شاہی جوڑے کی پہلی بیٹی ہے۔ ایمان 3 اگست 2024 کو دنیا میں آئی تھی۔


اس کی پیدائش پر شاہ اردن نے سوشل میڈیا پر پوسٹ میں لکھا تھا 'میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہمیں ہماری پہلی پوتی ایمان بنت حسین عطا کی ہے۔ میں پیارے حسین اور رجوا کو نومولود کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔'


شہزادہ حسین کی طرف سے 'انسٹا گرام' پر لگائی گئی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہزادی ایمان کے دادا شاہ عبداللہ دوم کھیل رہے ہیں اور خوب خوش ہیں۔ 'انسٹا گرام' پر اس پوسٹ میں لکھا ہے' ایمان سب سے پیارے دادا کے ساتھ۔'


شاہ اردن نے مزید لکھا ' ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس کی اچھی پرورش کرے اور اس کے والدین کے لیے اس کی حفاظت کرے۔'





















امریکہ سے کشیدگی، ایرانی کرنسی قدر کی کم ترین سطح پر چلی گئی

 





ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی تازہ یلغار اور کشیدگی کے ماحول میں اضافے کے باعث ہفتے کے کا دن ایرانی کرنسی کے لیے سخت خطرناک رہا جب ایرانی کرنسی اب تک کی کم ترین سطح پر جا گری۔ اس تناظر میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے امریکہ کی 'زیادہ سے زیادہ دباو¿' کی پالیسی کے ماحول میں بات چیت کو مسترد کر دیا ہے۔

ایرانی ریال جمعہ کے روز کے ڈالر کے مقابلے میں ہفتے کے روز مزید نیچے گر گیا ہے۔ جمعہ کے روذ ایرانی ریال 869.500 کی سطح پر تھا جبکہ ہفتے کے روز یہ 892.500 کی سطح پر چلا گیا۔ کرنسی سے متعلق ویب سائٹ کے مطابق ایرانی ریال کی تبادلے کی سطح 883.100 ہوگئی اور ڈالر کی تجارت کی اطلاع 891.000 ہوگئی۔

اس کے نتیجے میں افراط زر کی سطح 35 فیصد ہو گئی ہے اور مقامی لوگ ریال کو دوسری کرنسیوں میں تبدیل کرانے یا پھر کرپٹو کرنسی کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ سونے کی خریداری بھی بڑھ گئی ہے۔ ماہرین اگلے دنوں ایرانی ریال کے مزید نیچے آنے کی اطلاع دے رہے ہیں۔

واضح رہے ٹرمپ کے نومبر میں الیکشن جیتنے کے دوران ایرانی ریال 690.000 کے آس پاس تھا۔ لیکن ٹرمپ کی ایران کے بارے میں پالیسیاں سخت کرنے کی سوچ نے ایرانی ریال کو انتہائی نیچے گرا دیا ہے۔


بہار میں ریلوے کی بے مثال سرمایہ کاری، 2014 کے بعد بہارمیں جتنا نیا ریلوے ٹریک بچھایا گیا ہے وہ ملیشیا کے مکمل ریلوے نیٹ ورک سے زیادہ ہے : اشونی ویشنو

 





بیتیا:معزز ریلوے وزیر جناب اشونی ویشنو آج ایک روزہ دورے پر بہار پہنچے، جہاں وہ بیتیا، مظفرپور اور پٹنہ ریلوے اسٹیشنوں کا معائنہ کر رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے بیتیا ریلوے اسٹیشن پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور ریلوے کی ترقی سے متعلق اہم نکات پر روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ بہار میں ریلوے کی مجموعی سرمایہ کاری 95,566 کروڑ روپے ہے، جس سے آئندہ پانچ برسوں میں ریلوے نیٹ ورک میں مکمل تبدیلی آئے گی۔ اس تاریخی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2014 کے بعد بہار میں جتنا نیا ریلوے ٹریک بچھایا گیا ہے، وہ ملیشیا کے مکمل ریلوے نیٹ ورک سے زیادہ ہے۔

ریلوے وزیر جناب اشونی ویشنو نے امرت بھارت اسٹیشن یوجنا کے تحت جدید بنائے جانے والے بیتیا ریلوے اسٹیشن کے 3D ماڈل کا جائزہ لیا۔ اس کے ساتھ، انہوں نے بیتیا میں تعمیر شدہ سڑک اوور برج (آر. او. بی.) کے قوم کے نام وقف کیے جانے کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر ناری شکتی کا احترام کرتے ہوئے، خواتین نے اس آر او بی کا افتتاح کیا۔ریلوے وزیر کے اس دورے سے بہار کے ریلوے نیٹ ورک میں جاری ترقیاتی کاموں کو نئی رفتار ملے گی اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔


جھوٹ اور لوٹ کی سیاست کو دہلی کی عوام نے مسترد کر دیا: امیش سنگھ کشواہا

 





پٹنہ:بہار جنتا دل (یو) کے معزز ریاستی صدر امیش سنگھ کشواہا نے ہفتہ کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے دہلی اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی تاریخی جیت پر تمام دہلی واسیوں اور این ڈی اے کے کارکنوں کو دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی عوام نے این ڈی اے کی خوشحالی اور ترقیاتی پالیسی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور انتخابات کے نتائج نے یہ ثابت کر دیا کہ ملک کی سیاست میں این ڈی اے کی طاقت اور اتحاد کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

ریاستی صدر نے کہا کہ عوام سے کیے گئے جھوٹے وعدوں کی سیاسی قیمت اروند کیجریوال اور ان کی پارٹی کو چکانی پڑی ہے۔ جھوٹ اور لوٹ پر مبنی سیاست کرنے والوں کو عوام نے واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہوں یا بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، دونوں نے اپنی شاندار قیادت اور بہترین طرزِ حکمرانی سے ترقی کی نئی مثالیں قائم کی ہیں۔

ا±میش سنگھ کشواہا نے کہا کہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کے سیاسی زوال کا جو انجام ہوا ہے، بہار میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کا حال اس سے بھی بدتر ہوگا، کیونکہ دونوں پارٹیوں کی سیاسی حکمت عملی اور طرز عمل ایک جیسا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ہی کرپشن اور گھوٹالوں کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ دہلی میں اروند کیجریوال اور بہار میں تیجسوی یادو، دونوں کی سیاست جھوٹ پر مبنی ہے۔

ساتھ ہی، ریاستی صدر نے کہا کہ دہلی کے انتخابی نتائج پورے ملک، خاص طور پر بہار میں این ڈی اے کارکنان کے لیے ایک نئی توانائی، جوش، ولولہ اور اعتماد پیدا کریں گے۔ اس سے آئندہ بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کو زبردست فائدہ ملے گا اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں 225 سیٹوں پر تاریخی جیت درج کی جائے گی۔


مرکزی حکومت نے امریکی پالیسیوں کے آگے ملک کی عزت کو گروی رکھ دیا : ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ

 





غیر مقیم بھارتیوں کے مسئلے پر کانگریس کا احتجاج، مودی اور ٹرمپ کے پتلے نذر آتش

پٹنہ، 9 فروری :امریکی حکومت کی جانب سے غیر مقیم بھارتیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک، انہیں زنجیروں میں جکڑ کر کارگو طیاروں کے ذریعے بھارت بھیجنے کے خلاف بہار کانگریس کے صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ کی قیادت میں انکم ٹیکس چوراہے پر کانگریس کارکنان نے مرکزی حکومت کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پتلے نذر آتش کیے گئے۔احتجاج کے بعد کانگریس کے ریاستی صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ نے کہا کہ کمزور قیادت والی این ڈی اے حکومت کے سربراہ نریندر مودی، غیر مقیم بھارتیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، ہر موضوع پر بیان دینے والے وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی اس معاملے کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خود کو وشو گرو کہنے والی بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے بھارتی شہریوں کے وقار کو اپنے امریکی دوست ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے گروی رکھ دیا ہے۔ بھارتی شہریوں کو کارگو طیاروں میں زنجیروں سے باندھ کر بھارت بھیجنے کا یہ غیر انسانی طریقہ قطعی ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ دنیا بھر میں گھومتے ہیں، لاکھوں روپے کے تحائف دیتے ہیں اور تقریبات کے ذریعے اپنی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب امریکی حکومت بھی بھارت کے ساتھ دوسرے درجے کا نہیں بلکہ اس سے بھی کمتر سلوک کر رہی ہے۔ "نمستے ٹرمپ" اور "ہاو¿ڈی مودی" جیسے شاندار پروگراموں پر بھارتی عوام کی کمائی کے کروڑوں روپے خرچ کرنے والے، اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے ایک عام طیارہ تک فراہم نہیں کر سکے۔ وزیر خارجہ جے شنکر کا یہ کہنا کہ "یہ امریکی پالیسی ہے"، صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ حکومت صرف خود کو مضبوط دکھانے کے لیے عالمی تقریبات کا سہارا لے رہی ہے، جبکہ عالمی سیاست میں ناکام ثابت ہو چکی ہے۔کانگریس پارٹی نے پورے ملک میں اس مسئلے پر مظاہرے کیے اور بہار کے تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔

احتجاجی مظاہرے میں ریاستی صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ کے علاوہ سابق ریاستی صدر ڈاکٹر مدن موہن جھا، پروفیسر رام جتن سنہا، پریم چندر مشرا، وینا شاہی، ایم ایل اے وجے شنکر دوبے، پرتیمہ کماری داس، عابد الرحمن، نیتو سنگھ، برجیش پانڈے، راجیش راٹھوڑ، لال بابو لال، برجیش پرساد مونن، امیتا بھوشن، راج کمار راجن، سروت جہاں فاطمہ، آنند مادھو، ڈاکٹر سنیہاشیش وردھن پانڈے، ڈاکٹر سنجے یادو، سوربھ سنہا، ندھی پانڈے، منوج کمار سنگھ، انیل کمار، کمار آشیش، چندر پرکاش سنگھ، ناگندر کمار وکل، رامائن یادو، آشوتوش شرما، پروفیسر ونود کمار، راج کشور سنگھ، روشنی جیسوال، گنجن پٹیل، سنجے پانڈے، منت رحمانی، ششی رنجن، آصف غفور، سدیہ شرما، محمد کامران، مرنال انامی، روی گولڈن، دھننجے شرما، متھیلیش شرما مدھوکر، اشوک گگن، رمیش رام، وملیش تیواری، للن یادو، ستیندر کمار سنگھ، سنتوش سریواستو، وسی اختر، گرجیت سنگھ، سومت کمار سنی، سدھارتھ کشتریہ، رما شنکر پانڈے، ندیم انصاری، ارملا سنگھ نیلو، پردیومن یادو، آدتیہ پاسوان، وشال رنجن، شریف رنگریز، روی کمار، راہل کمار مشرا، گردیال سنگھ سمیت سینکڑوں کانگریس کارکنان موجود تھے۔


Saturday, 8 February 2025

سعودی عرب کے خلاف اسرائیلی بیان پر مصر کی جانب سے شدید مذمت

 





مصر نے سعودی عرب کے خلاف اسرائیلی بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے حد سے تجاوز اور نا قابل قبول قرار دیا ہے۔ مصر نے باور کرایا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی سرخ لکیر ہے جس کو نقصان پہنچانے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی۔


مصری وزارت خارجہ نے آج ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے خلاف اسرائیل کے غیر ذمے دارانہ بیان کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، اور اس بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔


بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف اشتعال انگیز بیان میں سعودی اراضی پر فلسطینی ریاست بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ بیان سعودی عرب کی خود مختاری پر براہ راست حملے کے مترادف ہے اور بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہے۔


مصری وزارت خارجہ نے باور کرایا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور اس کی خود مختاری کا احترام "سرخ لکیر" ہے اور مصر اسے گزند پہنچانے کی اجازت ہر گز نہیں دے گا۔



مصر کا کہنا ہے کہ مملکت سعودی عرب کا استحکام اور قومی سلامتی مصر اور عرب ممالک کی سلامتی و استحکام کا حصہ ہے جس کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ اسرائیل کا یہ بیان سعودی عرب کی خود مختاری اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق پر حملہ ہے۔


مصر نے باور کرایا ہے کہ وہ اس طرح کے غیر ذمے دارانہ بیانات کے خلاف پوری طرح سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ... اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس بیان کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا جائے۔


واضح رہے کہ اس سے قبل با خبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا تھا کہ رواں ماہ فروری کے اواخر میں قاہرہ میں عرب لیگ کا ایک ہنگامی سربراہ اجلاس منعقد کرنے کے حوالے سے عرب وزرائے خارجہ کے بیچ کثیر مشاورت جاری ہے۔ اجلاس میں فلسطینیوں کی جبری ہجرت کی کوششوں اور منصوبوں کے حوالے سے ایک یکساں موقف پیش کیا جائے گا۔


مصری وزیر خارجہ نے مسئلہ فلسطین کی صورت حال کے حوالے سے تبادلہ خیال کے لیے سعودی عرب، امارات، کویت، سلطنت عمان، بحرین، اردن، عراق، الجزائر، تونس، موریتانیا اور سوڈان کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے ہیں۔ ساتھ ہی فسلطینی عوام کو ان کی سرزمین سے ہجرت پر مجبور کرنے یا فلسطینی اراضی کے باہر دوسرے ممالک منتقل کرنے کے حوالے سے کسی بھی اقدام کو مسترد کرنے کے سلسلے میں دو ٹوک موقف کو دہرایا۔



کیمائی ہتھیار : واچ ڈاگ ادارے کے سربراہ کی شام آمد، احمد الشرع سے ملاقات

 






کیمیائی ہتھیار بنانے اور استعمال کرنے والے بعض ملکوں پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے کے سربراہ کی ہفتے کے روز شام آمد ہوئی ہے۔ اس خطے میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ خانہ جنگی کے برسوں میں بشارالاسد نے دمشق کے مضافات میں غوطہ کے علاقے میں ان ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا اور حالیہ اسرائیلی غزہ جنگ میں اسرائیل پر یہ الزام لگایا گیا ہے۔ جس سے امریکی حساس اداروں کے مطابق غوطہ میں 1000 کے قریب لوگ مارے گئے تھے۔


بشارالاسد کی اقتدار سے محرومی کے بعد کیمیائی ہتھیاروں کے عالمی ' واچ ڈاگ ' ادارے کے سربراہ کا شام کا یہ پہلا دورہ ہے۔ جہاں ان کی نئے شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات ہوئی ہے۔


دس سال بعد شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا عمل مکمل کر لیا گیا تھا۔ تاہم بشارالاسد کے مخالفین ان پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ اب بھی شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا ایک حصہ موجود ہے۔


بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بھی یہ واچ ڈاگ شام کو انہی نظروں سے دیکھتا ہے۔ شام کے ایوان صدر میں ہفتے کے روز 'فرنینڈو ایریاس' کے زیر قیادت وفد نے احمد الشرع سے ملاقات کی اور اپنی سرگرمیوں سے متعلق اہداف کا ذکر کیا۔


بین الاقوامی ادارے 'او پی سی ڈبلیو' کے وفد نے اس موقع پر اس خدشے کا اظہارکیا ہے کہ شام پر اسرائیل کے حالیہ شدید حملوں سے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے متعلق قیمتی شواہد تباہ ہو سکتے ہیں۔


بمباری کے ہدف میں شام کے کیمیائی ہتھیار شامل تھے۔ واضح رہے کئی سال پہلے عراق پر امریکہ نے بھی وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تباہی کے لیے حملہ کیا تھا۔



حماس نے 183 فلسطینی قیدیوں کے بدلے تین اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے

 






 


حماس نے 183 فلسطینی قیدیوں کے بدلے تین اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے


مزاحمتی تحریک حماس نے سنیچر کے روز 183 فلسطینی قیدیوں کے بدلے تین اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے۔ بین الاقوامی ریڈ کراس کو تین اسرائیلی یرغمالی موصول ہوئے جنہیں اسرائیل منتقلی کی تیاری کی گئی تھی۔ دوسری طرف اسرائیلی جیل انتظامیہ نے عوفر جیل سے فلسطینیوں کی رہائی کا عمل شروع کرنے کا کہا۔


ہفتے کے روز حماس اور اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے ایک حصے کے طور پر قیدیوں اور یرغمالیوں کی پانچویں کھیپ کا تبادلہ کیا۔ امریکی صدر ٹرمپ کے امریکہ کی جانب سے غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالنے کے بیان کے بعد حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے۔


حماس کے عسکری ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے اپنے ٹیلی گرام پیج پر بتایا کہ رہائی پانے والے قیدیوں میں لیاہو شرابی، اور لیوی اور اوھاد بن عامی شامل ہیں۔ حماس نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل آج 183 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا جن میں سے 18 کو عمر قید، 54 قیدیوں کو سخت سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ان میں غزہ کی پٹی کے 111 ایسے قیدی بھی شامل ہیں جنہیں سات اکتوبر 2023 کو حملے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔


پانچویں کھیپ

"العربیہ" کے نجی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی پانچویں قسط میں ہفتہ کو رہا کیے جانے والے قیدیوں کے نام جمع کرانے میں تاخیر ہو سکتی ہے جو اسرائیل اور حماس کی طرف سے ثالثوں کے لیے ایک پیغام ہے۔


دریں اثنا اسرائیلی پبلک براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے جمعہ کے روز کہا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کے لیے ایک اسرائیلی وفد کل بروز ہفتہ کو قطری دارالحکومت دوحہ جائے گا۔


رہائی پانے والے قیدیوں میں لیاہو شرابی، اور لیوی اور اوھاد بن عامی شامل ہیں

ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ حماس نے ثالثوں کو آگاہ کیا ہے کہ اسرائیل نے منظور شدہ انسانی پروٹوکول کی پاسداری نہیں کی۔ خاص طور پر موبائل گھروں، خیموں اور ملبہ ہٹانے کے لیے ضروری سامان لانے، ہسپتالوں کی بحالی اور ایندھن فراہم کرنے کے حوالے سے پروٹوکول کا دھیان نہیں رکھا گیا۔ سخت سردی میں شہریوں اور بے گھر ہونے والوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔


ذرائع نے مزید کہا کہ حماس نے ثالثوں بالخصوص مصر اور قطر سے مطالبہ کیا کہ وہ مداخلت کریں اور اسرائیل پر دباو¿ ڈالیں کہ وہ معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ ایسے وقت میں جب اسرائیل اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مسلسل تاخیر کر رہا ہے۔


تین مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی کے معاہدے میں لڑائی کے خاتمے اور آبادی والے علاقوں سے اسرائیل کا انخلا طے کیا گیا تھا۔ پہلا مرحلہ چھ ہفتوں تک جاری ہے۔ اس میں غزہ سے 33 یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے تقریباً 1,900 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کی بات کی گئی ہے۔



ہمارا موقف اٹل ہے، غزہ سے فلسطینیوں کو جلا وطن کرنا ناممکن": مصر نے امریکہ کو آگاہ کردیا

 







مصرنے غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلائ سے متعلق تجاویز سامنے آنے کے بعد امریکہ کو دوٹوک الفاظ میں جواب دیا ہے کہ فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی ہر گز ممکن نہیں۔


العربیہ اور الحدث چینلز نے اطلاع دی ہے کہ مصر نے امریکہ کو غزہ کی پٹی کے مکینوں کو بے گھر کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کے ناممکن ہونے کے بارے میں مطلع کیا ہے۔ قاہرہ نے باور کرایا غزہ کے باشندوں کو بے گھر کرنے سے متعلق اس کا موقف تبدیل نہیں ہوگا۔


ذرائع نے بتایا کہ مصر اس بات پر زور دیتا ہے کہ وہ فلسطینی باشندوں کو بے گھر کیے بغیر غزہ کی تعمیر نو کا وڑن رکھتا ہے اور غزہ کے باشندوں کو بے گھر کیے بغیر ان کے اندر موجود رہنے پر اصرار کرتا ہے۔


ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مصر اور اسرائیل کے درمیان تقریباً نصف صدی تک جاری رہنے والے امن معاہدے کو اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی پٹی کے منصوبے سے خطرہ لاحق ہے۔


مصری حکومت نے جمعرات کو غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی کی کوششوں کو بین الاقوامی قانون کی "صاف خلاف ورزی" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا جس سے جنگ بندی مذاکرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں تعلقات کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔


قاہرہ جو اس تجویز کے خلاف پردے کے پیچھے سفارتی مہم چلا رہا ہے، کا کہنا ہے کہ"یہ طرز عمل جنگ کی طرف واپسی پر اکساتا ہے اور پورے خطے اور امن کی بنیادوں کو خطرات سے دوچار کررہا ہے“۔


مصری حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بند کمرے میں ہونے والی بات چیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قاہرہ نے ٹرمپ انتظامیہ اور اسرائیل پر واضح کر دیا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی تجویز کی مزاحمت کرے گا۔ ایسی تجاویز پر اصرار اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ امن معاہدہ کوخطرے میں ڈالنا ہے۔


ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ پیغام امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون، محکمہ خارجہ اور امریکی کانگریس کے ارکان کو پہنچا دیا گیا ہے۔ ایک دوسرے اہلکار نے بتایا کہ اسے اسرائیل اور مغربی یورپ میں اس کے اتحادیوں بشمول برطانیہ، فرانس اور جرمنی کو بھی منتقل کر دیا گیا ہے۔


قاہرہ میں ایک مغربی سفارت کارنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں متعدد چینلز کے ذریعے مصر کی سخت مخالفت کا پیغام ملا ہے۔ سفارت کار نے کہا کہ مصر بہت سنجیدہ ہے اور اس منصوبے کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔


سفارت کار نے کہا کہ مصر نے 7 اکتوبر 2023 کو حما س کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے اوائل میں بائیڈن انتظامیہ اور یورپی ممالک کی طرف سے اسی طرح کی تجاویز کو مسترد کر دیا تھا۔


"ہنگامی" عرب سربراہ اجلاس

قبل ازیں باخبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو انکشاف کیا تھا کہ فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے چند دنوں کے اندر قاہرہ میں ایک "ہنگامی" عرب سربراہی اجلاس منعقد کرنے کے لیے مشاورت ہو رہی ہے۔


ذرائع نے بتایا کہ سربراہی اجلاس میں ایک متفقہ عرب فیصلے اور موقف تک پہنچنے پر بات چیت کی جائے گی جو نقل مکانی کو مسترد کرتا ہے اور فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے ضروری قانونی اور بین الاقوامی اقدامات کرنے کے لیے عرب اتفاق رائے پر زور دیتا ہے۔


ذرائع نے انکشاف کیا کہ سربراہی اجلاس میں فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے گھر کیے بغیر غزہ کی تعمیر نو کے منصوبوں پر بھی بات کی جائے گی اور جنگ بندی معاہدے کی تکمیل اور کسی بھی نوعیت کی خلاف ورزی کو روکنے کی حمایت کی جائے گی۔


دریں اثنائ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے فلسطینی کاز کے تسلسل پر کسی بھی خلاف ورزی کو مسترد کرنے کے لیے عرب اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنی سرزمین پر باقی رہیں اور ان کے حق خود ارادیت سے محروم نہ ہوں۔


جمعرات کو لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ کے ہیڈکوارٹر میں فلسطینی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد مصطفیٰ سے ملاقت کے دوران، ابو الغیط نے کہا کہ اس مرحلے پر جس چیز کی ضرورت ہے وہ جنگ بندی کو مستحکم کرنا، فوری امدادی امداد پہنچانے کے لیے کام کرنا اور آبادی کو بتدریج معمول پر لانے کے لیے منصوبہ بندی کرنے میں مدد کرنا ہے۔


عرب لیگ کے ترجمان جمال رشدی نے کہا کہ غزہ کی پٹی سے آبادی کے رضاکارانہ انخلائ کے بارے میں اسرائیلی وزیر اعظم کے حالیہ بیانات اسرائیلی منصوبے اور اس کے اہداف کی نوعیت کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔انہوں نے س بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام رضاکارانہ یا جبری انخلائ کے بہانے دوسری بار نکبہ کو دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔