Friday, 7 February 2025

آرجے ڈی نے کانٹی تھانے میں ہوئی موت کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا

 



پٹنہ، 07 فروری 2025 بہار پردیش راشٹریہ جنتا دل کے تر
جمان اعجاز احمد نے کہا کہ بہار میں پولیس کے ظلم و جبر کے باعث عام لوگوں کی زندگی دشوار ہو گئی ہے اور پولیس کی من مانی کا شکار عام شہری ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مظفرپور کے کانٹی تھانے میں ہونے والی شیوم کی موت کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں پولیس کے مظالم کے جو واقعات سامنے آ رہے ہیں، ان سے عوام کا حکومت اور انتظامیہ پر سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ پولیس مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے عام لوگوں پر زبردستی جرم قبول کروانے کے لیے غیر انسانی طریقے اپنا رہی ہے۔ بہار میں بھی اب اتر پردیش کی طرز پر پولیس کے مظالم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح کے واقعات کو دیکھتے ہوئے معزز سپریم کورٹ نے بھی کہا تھا کہ بہار میں پولیس کا راج چل رہا ہے۔

اعجاز احمد نے کہا کہ کچھ دن قبل مدھوبنی ضلع کے بینی پٹی میں مولانا فیروز کے ساتھ بہیمانہ طریقے سے پولیس نے زیادتی کی۔ دوسری طرف، مظفرپور ضلع کے کانٹی تھانے میں بائیک چوری کے الزام میں پولیس کے تشدد اور بربریت کے باعث شیوم کی حوالات میں موت ہو گئی، اور ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پولیس کی مارپیٹ ہی ان کی موت کا سبب بنی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس حراست میں ہونے والی اس موت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بہار میں پولیس کا راج چل رہا ہے۔ جب قائد حزب اختلاف تیجسوی پرساد یادو حکومت کے ان کارناموں اور پولیس کے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو حکومت کے ترجمان الٹا ایسے پولیس افسران کا دفاع کرنے لگتے ہیں۔ اپوزیشن کی آواز کو دبانے اور سچائی کو سامنے نہ آنے دینے کے لیے ایسے بیانات دیے جاتے ہیں، جبکہ اپوزیشن کی تحریک کو کچلنے کے لیے پولیس کے ظلم و جبر کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

اعجاز احمد نے مزید کہا کہ بہار میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جہاں ایک طرف جرائم اور مجرموں کو حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے، وہیں دوسری طرف مافیا اور جرائم پیشہ افراد کو اعلیٰ سطح پر تحفظ دیا جا رہا ہے، جس کے باعث عام شہریوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔


Thursday, 6 February 2025

غزہ کی پٹی کے ساحلوں کے لیے ٹرمپ کا داماد کیا خواب دیکھ رہا ہے ؟

 







امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں تجویز پیش کی تھی کہ غزہ کی پٹی کو فلسطینیوں سے خالی کرا کر اسے امریکا کے زیر کنٹرول ایک بین الاقوامی ساحلی سیاحتی مقام میں تبدیل کر دیا جائے۔ اس طرح کی تجویز کا عندیہ ٹرمپ کے داماد گیرڈ کوشنر تقریبا ایک برس پہلے دے چکے ہیں۔


ٹرمپ کی اس تجویز پر فلسطینیوں کے علاوہ عرب اور مغربی ممالک کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نسلی تطہیر ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت یہ غیر قانونی اقدام ہو گا۔


یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے پراپرٹی سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے غزہ کے بارے میں بات کی۔ اس سے پہلے اکتوبر 2024 میں وہ ایک ریڈیو انٹرویو میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر غزہ کی درست طریقے سے تعمیر نو کی جائے تو یہ "موناکو" سے بہتر جگہ بن جائے گی۔


اس سے پہلے ایوانکا ٹرمپ کے شوہر اور پراپرٹی کا کاروبار کرنے والے گیرڈ کوشنر نے 15 فروری 2024 کو ہاورڈ یونیورسٹی میں ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر لوگ رہائش اختیار کرنے پر توجہ مرکوز کریں تو غزہ میں سمندر کے مقابل واقع املاک بہت قیمتی ہیں۔


ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت سے قبل خود کوشنر نیویارک میں ایک پراپرٹی ڈیولپر تھے۔


فسلطینیوں کے لیے غزہ کو ایک ساحلی سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کی بات جو کہ خارج از امکان نظر آتی ہے، انھیں 1948 کی جنگ اور اسرائیل کے قیام کے بعد کے المیے کی یاد دلاتی ہے جب 7 لاکھ فلسطینیوں کو فرار ہونے یا اپنے گھروں کو چھوڑ جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔


ابھی تک یہ بات سامنے نہیں آئی ہے کہ غزہ میں "مشرق وسطی کا ریویرا" قائم کرنے کے حوالے سے ٹرمپ کے ویڑن پر عمل درآمد کس طرح کیا جائے گا۔ غزہ میں امور کی زمام ابھی تک حماس تنظیم کے پاس ہے۔


غزہ میں زمینوں کی ملکیت عثمانی دور کی حکم رانی، برطانوی سامراجی اور اردنی قوانین کی بنیاد پر ایک پیچیدہ امتزاج ہے۔ اس کے علاوہ خاندانوں کے مخصوص رواج بھی اس میں شامل ہیں جنہیں بعض اوقات سابقہ قانونی نظاموں کی دستاویزات کے ذریعے سہارا ملتا ہے۔ اس وقت غزہ میں غیر ملکیوں کے لیے زمین خریدنے پر سخت پابندیاں ہیں۔


ٹرمپ کے بیان کے مطابق تقریبا 15 ماہ کی مسلسل بم باری کے بعد غزہ "انہدام کا مقام" بن چکا ہے۔ مشرق وسطی کے لیے ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو ویٹکوف یہ کہہ چکے ہیں کہ غزہ کی پٹی کی تعمیر نو میں 10 سے 15 برس درکار ہوں گے۔


مختلف اندازوں کے مطابق غزہ کی تعمیر نو پر آنے والی لاگت 100 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔


اسرائیل جنگ ختم ہونے کے بعد غزہ کو امریکا کے حوالے کر دے گا: ٹرمپ

 







صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ غزہ کے حوالے سے ان کی پیش کردہ تجویز میں"امریکہ کو کسی فوجی کی ضرورت نہ ہو گی۔" چند دن قبل انہوں نے یہ اعلان کیا کہ امریکہ غزہ کی پٹی پر "قبضہ" کر سکتا اور اسے "اپنی ملکیت" میں لے سکتا ہے۔


"امریکہ کو کسی فوجی کی ضرورت نہیں ہو گی! خطے میں استحکام آئے گا!!!" انہوں نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر صبح سویرے ایک پوسٹ میں کہا۔ ٹرمپ جنہوں نے پہلے غزہ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا امکان ظاہر کیا تھا، اب اپنے تبصروں میں انہوں نے اپنے منصوبوں کی وضاحت کر دی ہے۔


انہوں نے کہا کہ اسرائیل جنگ کے اختتام پر غزہ کی پٹی کو امریکہ کے حوالے کر دے گا۔ فلسطینیوں کو "خطے میں نئے اور جدید گھروں کے ساتھ پہلے سے زیادہ محفوظ اور زیادہ خوبصورت کمیونٹیز میں دوبارہ آباد کیا جا چکا ہو گا۔"


اس ہفتے کے شروع میں جب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو امریکہ کے دورے پر تھے تو ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ "امریکہ غزہ کی پٹی کو اپنی تحویل میں لے لے گا۔"


انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا تھا، "ہم غزہ کے ساتھ بھی ایک کام کریں گے۔ ہم اس کے مالک ہوں گے۔" اس دوران ان کے ہانپنے کی آواز سنی جا سکتی تھی۔ انہوں نے اس بارے میں بعض تفصیلات پیش کیں کہ امریکہ کس طرح 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو وہاں سے نکال سکتا ہے یا کیسے جنگ زدہ علاقے کو کنٹرول کر سکتا ہے۔


فلسطینیوں، عرب حکومتوں اور عالمی رہنماو¿ں کی جانب سے تنقید کی شدید لہر کا سامنا کرنے کے بعد ان کی انتظامیہ بدھ تک اس تجویز سے دستبردار ہوتی نظر آئی۔


ٹرمپ کے سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اس خیال کا مقصد دشمنی یا مخالفت نہیں تھا جبکہ وائٹ ہاو¿س نے کہا کہ غزہ میں امریکی فوج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔



سعودی ولی عہد نے 'کنگ سلمان آٹوموبائل مینوفیکچرنگ کمپلیکس' کا آغاز کر دیا

 







سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کنگ عبداللہ اکنامک سٹی کے اسپیشل اکنامک زون میں آٹوموبائل کی سرگرمیوں کے لیے مخصوص علاقے کو "کنگ سلمان آٹو موبائل مینوفیکچرنگ کمپلیکس" کا نام دے دیا ہے۔


یہ کمپلیکس مملکت کی معیشت میں تنوع پیدا کرنے کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ یہ نان آئل مقامی پیداوار کو سپورٹ کرنے اور برآمدات میں اضافے میں بھی کردار ادا کرے گا۔ اس کے علاوہ آٹو سیکٹر کی صلاحیت کو بڑھا کر اس صنعت کو مقامی بنانے میں مدد گار بنے گا۔


کنگ سلمان آٹو موبائل مینوفیکچرنگ کمپلیکس آٹو سیکٹر میں مقامی اور عالمی کمپنیوں کا اہم مرکز ثابت ہو گا۔ ان میں نمایاں ترین "سیر" کمپنی ہے جو برقی گاڑیوں میں پہلا سعودی ٹریڈ مارک ہے۔ اسی طرح "لوسڈ موٹرز" جس نے 2023 میں کنگ عبداللہ اکنامک سٹی میں اپنا پہلا بین الاقوامی کارخانہ کھولا تھا۔ ان کے علاوہ کئی دیگر عالمی برانڈز ہوں گے جن میں "ہنڈائی موٹرز" اور "بیریللی" بھی شامل ہیں۔


اس کمپلیکس کا مقصد نجی سیکٹر کے لیے سرمایہ کاری کے مثالی مواقع پیدا کرنا اور مملکت میں تابناک مستقبل کے حامل سیکٹروں کو ترقی دینے میں شرکت ہے۔ اس کا ہدف سال 2035 تک نان آئل مجموعی مقامی پیداوار میں 92 رب ریال سے زیادہ کا حجم شامل کرنا ہے۔


کنگ سلمان کمپلیکس سرمایہ کاری کے لیے معاون اس ماحول سے مستفید ہو رہا ہے جو سعودی عرب کے ویڑن 2030 پروگرام نے پیش کیا ہے، ساتھ ہی ان سرمایہ کاری مراعات سے جو کنگ عبداللہ اکنامک سٹی میں پیش کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس کا لوجسٹک انفرا اسٹرکچر اور عالمی تجارت کے لیے اہم مقام پر واقع ایک جدید بندر گاہ سے جڑا ہونا تا کہ مقامی نجی شعبے اور عالمی کمپنیوں کے لیے اس طرح موقع فراہم کیا جا سکے کہ وہ شراکت دار، سپلائر یا سرمایہ کار بن کر خود کو گاڑیوں اور متعلقہ خدمات کے شعبے میں شامل کر سکیں۔




کنگ سلمان آٹوموبائل مینوفیکچرنگ کمپلیکس مملکت کے ویڑن 2030 کے اہداف کے حصول میں کردار ادا کرے گا جن میں معیشت کو متنوع بنانا اور پائے دار نمو کو یقینی بنانا شامل ہے۔


گاڑیوں اور نقل و حمل کا شعبہ عوامی سرمایہ کاری فنڈ کے لیے ایک تزویراتی اور ترجیحی شعبہ ہے، جہاں فنڈ کے پورٹ فولیو میں متعدد سرمایہ کاریاں شامل ہیں جو نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری میں گاڑیوں کے شعبے میں کی جاتی ہیں۔ اس کا مقصد انفرا اسٹرکچر کو مستحکم کرنا اور مقامی سپلائی چین کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے تا کہ عالمی سطح کی بڑی گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے مقامی مہارتوں اور ٹیکنالوجیز کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔



اسرائیلی آپریشن جاری، جنین میں 15 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر

 





ہلاکتوں کی تعداد 25 تک پہنچ گئی ، اسرائیلی فوج نے جنین اور اس کے کیمپ میں 180 مکانات کو تباہ کر دیا


اسرائیلی فوج کی مغربی کنارے کے شہر جنین اور اس کے کیمپ میں مسلسل 17ویں روز بھی کارروائیاں جاری رہیں۔ ان کارروائیوں میں اب تک 25 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ جنین کیمپ کی میڈیا کمیٹی کے مطابق کیمپ سے بے گھر ہونے والے افراد کی کل تعداد 15 ہزار شہریوں تک پہنچ گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے 180 گھروں کو تباہ کردیا ہے۔


میڈیا کمیٹی کے مطابق فوجی آپریشن کی وجہ سے بنیادی خدمات میں خلل ہے، سکول معطل ہوگئے ہیں اور چار ہسپتالوں کو پانی سے محروم کر دیا گیا ہے۔ جنین شہر کے لوگ پانی اور بجلی کی تعطل سے المناک حالات سے دوچار ہیں۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق آج جمعرات کو اسرائیلی گاڑیوں نے جنین کے سرکاری ہسپتال کے داخلی راستے اور اس کی طرف جانے والی مرکزی سڑک کو بلڈوز کرنے کے بعد اس کا محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے۔


مسلسل 17ویں دن ہسپتال کے محکمے پینے کے پانی کی شدید قلت سے دوچار ہیں۔، جنین میونسپلٹی سول ڈیفنس کے ساتھ مل کر چھوٹے زرعی ٹریکٹروں کے ذریعے ہسپتال تک پانی پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ جنین کے گورنر کمال ابو الرب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کیمپ کے اندر ہونے والے بم دھماکوں کے بعد اس کی ہندسی اور آبادیاتی شکل مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گی۔ جنین کے میئر محمد جرار نے تصدیق کی ہے کہ جنین میں صورتحال تباہ کن ہے اور شہر کے زندگی کے تمام پہلوو¿ں سے مفلوج ہوجانے کا خطرہ ہے۔


کل الیکٹریسٹی کمپنی کے عملے نے ان علاقوں میں بجلی کے کرنٹ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جہاں سے فوج جزوی طور پر پیچھے ہٹ گئی تھی۔ یہ جبل ابوظہیر اور جبریات کے علاقے تھے۔ دریں اثنا اسرائیلی فورسز نے جنین میونسپلٹی کے عملے کو ہدف بنائے گئے علاقوں اور شہر کے مغربی محلوں میں پانی کی لائنوں کی مرمت مکمل کرنے سے روک دیا۔


اسرائیلی فوج کی جانب سے جینین کیمپ میں مکانات کو اڑانے اور تباہ کرنے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ کیمپ کے اندر سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ بوبی ٹریپنگ سے گھروں کو اڑا دیا گیا ہے۔ کیمپ میں ایک مکان کو آگ لگنے کے نتیجے میں دھوئیں کے بادل اٹھ رہے ہیں۔


ٹرمپ کا فلسطینیوں کو مزید تین علاقوں میں منتقل کرنے پر غور

 





گذشتہ چند گھنٹوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے رہائشیوں کو بے گھر کرنے کے وڑن کے بارے میں متعدد تبصرے اور رد عمل دیکھنے میں آئے ہیں، جن میں سے تازہ ترین اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئےکیا۔ انہوں نے کہا کہ "غزہ سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے ٹرمپ کے خیال میں کوئی غلط بات نہیں ہے"۔

ادھر اسرائیلی میڈیا نے تین دیگر علاقوں کا انکشاف کیا ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کو منتقل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

چینل 12 اسرائیل نے وضاحت کی کہ مراکش کے ساتھ صومالی لینڈ اور پنٹ لینڈ وہ جگہیں ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ ان فلسطینیوں کے استقبال کے لیے نامزد کیا گیا ہے جنہیں امریکی انتظامیہ بے گھر کرنا چاہتی ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے وضاحت کی کہ صدر ٹرمپ نے غزہ کے مکینوں کو بے گھر کرنے کے بارے میں جو کچھ کہا وہ بیانات نہیں تھے بلکہ پہلے سے تیار کردہ منصوبے تھے۔


وائٹ ہاو¿س: ایک تاریخی منصوبہ

وائٹ ہاو¿س کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے اپنی طرف سے کچھ تفصیلات پر پیچھے ہٹ کر ٹرمپ کے منصوبے کی وضاحت کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے غزہ کی پٹی کی تعمیر نو اور وہاں موجود لوگوں کو عارضی طور پر منتقل کرنے کا عزم کیا ہے۔ ٹرمپ نے پٹی میں امریکی افواج کی تعیناتی کا وعدہ نہیں کیا، لیکن ساتھ ہی انہوں نے غزہ کے حوالے سے ٹرمپ کے منصوبے کو تاریخی قرار دیا۔

"صدر نے غزہ میں زمینی فوج بھیجنے کا عہد نہیں کیا۔ غزہ میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کا امکان نہیں، لیکن غزہ کی تعمیر نو اور انہیں عارضی طور پر وہاں منتقل کرنے کے لیے وہ امید کرتے ہیں کہ اردن اور مصر انہیں عارضی طور پر قبول کریں گے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ فلسطینی عارضی طور پر غزہ سے نکل جائیں، پٹی کی تعمیر نو کا کام زیر التوا ہے۔انہوں نے غزہ کے بارے میں ٹرمپ کی تجویز کو ایک منفرد اور انتہائی فراخدلانہ پیشکش قرار دیا۔




ریپبلکنز میں ملا جلا ردعمل

ٹرمپ کے منصوبے پر ردعمل ان کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے اراکین کی طرف سے بھی سنایا جا رہا ہے، اور انہیں کنفیوڑن قرار دیا جا سکتا ہے۔

سب سے نمایاں پوزیشن امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن کی تھی جنہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے امریکا کی تجویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایوان نمائندگان میں ریپبلکن ٹرمپ کے اس اقدام کی حمایت کریں گے۔

لیکن ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے ایکس پلیٹ فارم پر طنزیہ انداز میں کہا: "میں نے سوچا کہ ہم نے پہلے امریکہ کو ووٹ دیا ہے، ہمیں کسی دوسرے قبضے کے بارے میں سوچنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے جو ہماری دولت کو تباہ کر سکتا ہے اور ہمارے فوجیوں کا خون بہا سکتا ہے"

سینیٹر کرس وان ہولن نے MSNBC پر کہا کہ "یہ کسی اور نام سے نسلی صفائی ہے۔"


سینیٹر لیزا مرکووسکی نے ہنگامہ خیز علاقے میں امریکی فوجیوں کو بھیجنے کی کسی بھی ممکنہ تجویز کو "انتہائی خوفناک" قرار دیا۔

ریپبلکن نیشنل کمیٹی کے سابق چیئرمین مائیکل اسٹیل نے اس خیال کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے اس کی فزیبلٹی اور ممکنہ نتائج پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

سینیٹ میں ٹرمپ کے سب سے نمایاں اتحادیوں میں سے ایک سینیٹر لنڈسے گراہم نے اس تجویز کو مشکل قرار دیا اور غزہ میں امریکی فوج بھیجنے کے خلاف خبردار کیا۔انہوں نے کہا ان کے ووٹرز اسے مسترد کرتے ہیں۔


ہومی بھابھا کینسر اسپتال متھیلا انسٹی ٹیوٹ میں مفت چیک اپ کیمپ کا انعقاد کرے گا شاہد اطہر

 


 دربھنگہ: – عالمی یوم کینسر کے موقع پر ہومی بھابھا کینسر ہسپتال دربھنگہ یونٹ 8 فروری 2025 بروز سنیچر صبح 11:00 بجے سے دوپہر 3:00 بجے تک متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے احاطے میں مفت کینسر کی بیماری کی اسکریننگ اور کنسلٹیشن کیمپ (4 فروری سے 10 فروری 2025) کا انعقاد کر رہا ہے۔ جس میں ڈاکٹر انورادھا، ڈاکٹر شریٹی سنہا، ڈاکٹر محمد صدام انصاری، ڈاکٹر باسط علی، ڈاکٹر صویتا کے علاوہ نیہا کماری، رنجیت کمار اور کرن کمار بھی ہوں گے۔  یہ جانکاری ایڈووکیٹ شاہد اطہر ڈائریکٹر (مارکیٹنگ اینڈ پروموشن) نے ایک پریس ریلیز میں بتائی۔ شاہد اطہر نے کہا کہ اس ایک دن کے پروگرام میں کینسر سے متعلق ہر قسم کی معلومات، ٹیسٹ اور ادویات مفت دی جائیں گی۔ شاہد اطہر نے بتایا کہ ہومی بھابھا کینسر ہسپتال دربھنگہ کا ہیڈ آفس مظفر پور میں ہے جو ٹاٹا میموریل سنٹر ممبئی کے یونٹ کے ساتھ ساتھ حکومت ہند کے محکمہ جوہری توانائی کے تحت آتا ہے۔ یہ دربھنگہ ضلع کے لوگوں اور متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے طلباء وطالبات کے لیے بڑی خوش قسمتی کی بات ہے کہ سینئر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس میں آکر مفت چیک اپ کیمپ کا انعقاد کررہی ہے۔ جن کو بھی اس سلسلے میں کوئی معلومات حاصل کرنا ہے وہ متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس، نزد بنسی داس مڈل اسکول، جی این گنج، لہریا سرائے پر آ سکتا ہے یا مفت کیمپ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے 7209148222، 6201716848 اور 6203800996 پر رابطہ کر سکتا ہے۔

قومی اساتذہ تنظیم مظفر پور ضلع سکریٹری آفتاب عالم نے اردو کے تحفظ و فروغ کے سلسلے میں لوگو ں سے ملاقات کی

 




میناپور( مظفرپور) قومی اساتذہ تنظیم بہار کے مظفرپور ضلع سکریٹری آفتاب عالم نے میناپور کے مدھوبنی اور چک جمال مسجد کے امام مولانا ممتاز احمد و مولانا زاہد رضا سے تحریک "تحفظ اردو زبان و ادب کے سلسلے میں ملاقات کی اور انہیں تحریک کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس تحریک کا آغاز یوم اردو،10/جنوری 2025 سے کیا گیا ہے۔ اس تحریک کو جناب عبدالسلام انصاری سکریٹری بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ و جناب ایس ایم اشرف فرید مدیر اعلی روزنامہ قومی تنظیم کی سرپرستی حاصل ہے اور اس تنظیم و تحریک کے روح رواں جناب محمد رفیع ہیں- یہ تحریک تقریبا ایک ماہ سے بہار کے شہر شہر،بستی بستی جاکر محبان اردو و دانشوران ملت اور عوام الناس سے اردو کو عام کرنے، اردو کی تعلیم وتعلم کو لازم پکڑنے، اردو کے سلسلے میں سرکاری احکامات کے نفاذ میں اپنا کردار ادا کرنے،اردو اخبارات خریدنے، مکان و دکان پر ہندی کے ساتھ اردو میں نیم پلیٹ و سائن بورڈ لگانے کی اپیل کر رہی ہے۔

ضلعی سکریٹری آفتاب عالم نے موقع پر موجود تمام حضرات سے کہا کہ اردو ہماری مادری زبان ہے۔ہمیں کسی بھی سطح پر اردو کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔اردو کی ترویج واشاعت کیلئے ہمیں انفرادی واجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی۔ اردو کی ترقی و تحفظ ہمارا دینی، ملی اور قومی فریضہ ہے۔

جناب زین العابدین، محمد ادریس، محمد انور، مرتضی انصاری، محمد فرید، معین الدین، وغیرہ صاحبان سے بھی اس تحریک سے جڑنے اور اسے مضبوط بنانے کی اپیل کی گئی۔ حاضرین کے درمیان تحریک سے جڑی بکلیٹ اور اسٹیکر تقسیم کیا گیا۔


Wednesday, 5 February 2025

امریکہ سے آئے غیر قانونی ہندوستانی تارکین وطن کے ہاتھوں میں ’ہتھکڑی‘ دیکھ کر کانگریس حیران، ناراضگی کا کیا اظہار

 





امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں غیر قانونی طور پر رہ رہے ہندوستانی شہریوں کو ملک سے نکالنے کا عہد کر لیا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت امریکی فوجی طیارہ ’سی-17‘ کے ذریعہ 104 ہندوستانی تارکین وطن کو واپس ہندوستان بھیج دیا گیا ہے۔ یہ غیر قانونی تارکین وطن ہندوستان پہنچ چکے ہیں، لیکن جس حالت میں وہ لائے گئے ہیں، اس پر کانگریس نے حیرانی ظاہر کی ہے۔ کئی تصویریں اور ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سامنے آئی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ’سی-17‘ میں سوار ہندوستانی باشندوں کے ہاتھوں اور پیروں میں ہتھکڑی لگی ہوئی ہے۔


ہندوستانی شہریوں کو جس طرح امریکہ سے ملک بدر کیا گیا ہے، اس پر کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکہ سے جلاوطن کیے جانے کے دوران ہندوستانیوں کو ہتھکڑی لگائے جانے اور ذلیل کیے جانے کی تصاویر دیکھ کر ایک ہندوستانی کے طور پر مجھے افسوس ہوتا ہے۔“ پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ”مجھے یاد ہے کہ دسمبر 2013 میں امریکہ میں ایک ہندوستانی سفارت کار دیویانی کھوبراگڑے کو ہتھکڑی لگائی گئی تھی اور کپڑے اتار کر تلاشی لی گئی تھی۔ خارجہ سکریٹری سجاتا سنگھ نے امریکی سفیر نینسی پاویل کے سامنے سخت احتجاج درج کرایا تھا۔ یو پی اے حکومت نے اس پر سخت رد عمل ظاہر کیا تھا۔“ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ”میرا کمار، سشیل کمار شندے اور راہل گاندھی جیسے لیڈران نے اس وقت ہندوستان آئے امریکی کانگریس کے وفد (جارج ہولڈنگ، ڈیوڈ شویکرٹ، راب ووڈل اور میڈلین بورڈالو) سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔“

کانگریس لیڈر نے اس پوسٹ میں آگے لکھا کہ اس وقت کے ہندوستانی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے امریکہ کہ اس قدم کو قابل مذمت قرار دیا تھا۔ ساتھ ہی وہ لکھتے ہیں کہ ”ہندوستان نے امریکی سفارتخانے کو دی جانے والی کئی سہولیات واپس لے لی تھیں۔ جن میں سفارتخانے کے اہلکاروں کے لیے کھانے پینے کی اشیائ اور شراب کی رعایتی درآمد کی اجازت بھی شامل تھی۔ محکمہ انکم ٹیکس نے امریکی سفارتخانے کے اسکول کی تحقیقات شروع کر دی تھی۔“ پون کھیڑا نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ ”جان کیری نے دیویانی کھوبراگڑے کے ساتھ کیے گئے سلوک پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ امریکی انتظامیہ نے خارجہ سکریٹری سجاتا سنگھ کو فون کر کیا تھا جس میں امریکہ کی جانب سے اظہارِ افسوس کیا گیا تھا۔“


پون کھیڑا کے علاوہ کانگریس کے ایک دیگر سینئر لیڈر ششی تھرور نے منگل (4 فروری) کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس حوالے سے لکھا تھا کہ ”کل امریکہ سے 150 سے زائد غیر قانونی ہندوستانی تارکین وطن کی ملک بدری پر میڈیا نے کچھ حقائق کو چھپا دیا ہے: 1- یہ اس طرح کا پہلا طیارہ لوڈ نہیں ہے، نہ ہی یہ براہ راست ڈونلد ٹرمپ کے صدر بننے کی وجہ سے ہوا ہے۔ گزشتہ مالی سال (ستمبر 2024 کے اخیر میں) 1100 ہندوستانیوں کو ملک بدر کیا گیا تھا جو کہ ٹرمپ کی نہیں بلکہ بائیڈن کی حکومت میں ہوا تھا۔“

ششی تھرور نے اس حوالے سے مزید حقائق پیش کیے۔ انہوں نے حقائق نمبر 2 کے تحت لکھا کہ ”2022 تک امریکہ میں 725،000 نامعلوم ہندوستانی تارکین وطن تھے- تیسرا سب سے بڑا گروپ جس کی تعداد صرف میکسیکو اور ایل سلواڈور کے شہریوں سے زیادہ ہے۔“ ششی تھرور نے حقائق نمبر 3 کے تحت لکھا کہ ”اکتوبر 2020 سے امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن افسران نے کناڈا اور میکسیکو سے غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے تقریباً 170،000 ہندوستانی تارکین وطن کو حراست میں لیا ہے۔ وہ سب ملک بدری کے شکار ہیں۔“


’ہر حال میں تیجسوی کو وزیر اعلیٰ بنائیں گے‘، نتیش کمار کے آبائی ضلع نالندہ میں لالو پرساد کا اظہارِ عزم

 









ایک طرف دہلی میں اسمبلی انتخاب کے پیش نظر ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، اور دوسری طرف بہار میں اسمبلی انتخاب کی سرگرمیاں دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس درمیان آر جے ڈی چیف اور سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو نے اپنے بیٹے تیجسوی یادو کو ریاست کا وزیر اعلیٰ بنانے سے متعلق عزم ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے 5 فروری کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے آبائی ضلع نالندہ میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم لوگ ہر حال میں تیجسوی یادو کو وزیر اعلیٰ بنائیں گے۔“ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ”ہم لوگوں کو اکٹھا ہو کر اس ملک میں اپنی حکومت بنانی ہے۔ آپ لوگ کہیں کسی کے سامنے سر مت جھکانا۔ نہ ہم نے کبھی جھکایا ہے اور نہ آپ لوگ کسی کے سامنے جھکنا۔“


لالو پرساد یادو نالندہ واقع اسلام پور اسمبلی کے سابق رکن اسمبلی آنجہانی کرشن ولبھ پرساد کے 24ویں یوم وفات پر منعقد تقریب میں شرکت کرنے پہنچے تھے۔ اس موقع پر انھوں نے لوگوں سے کہا کہ ”میں آپ لوگوں سے اپیل کرتا ہوں، آپ لوگ اس ملک کی حفاظت کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہوں۔ ہم حکومت بنائیں گے۔ تیجسوی یادو کو ہر حال میں ہم لوگ وزیر اعلیٰ بنائیں گے۔“ انھوں نے لگے ہاتھوں کچھ وعدے بھی کر دیے۔ لالو پرساد نے کہا کہ ”خواتین کو 2500 روپے دیے جائیں گے۔ جس طرح جھارکھنڈ میں دیا جا رہا ہے، اور مفت بجلی بھی دیا جائے گا، روزگار بھی ملے گا۔ ہم جو بولتے ہیں، وہ کرتے ہیں۔“




یہ تقریب اسلام پور رکن اسمبلی راکیش کمار روشن کے ذریعہ منقد کی گئی تھی۔ لالو پرساد نے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ علاقے میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ انھیں اپنی بھرپور حمایت دیں۔ اس تقریب میں آر جے ڈی کے قومی جنرل سکریٹری عبدالباری صدیقی، حکومت ہند کے سابق وزیر جئے پرکاش نارائن اور آر جے ڈی ترجمان شکتی سنگھ یادو نے بھی شرکت کی۔ لالو پرساد کو سننے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ بھی پہنچے تھے۔ خانقاہ ہائی اسکول کے میدان میں منعقد اس تقریب میں آر جے ڈی کے لیے نعرے بلند ہوتے ہوئے بھی سنائی دیے۔



ہندوستانی نسل کی گائے برازیل کے ’مویشی میلہ‘ میں 40 کروڑ روپے میں فروخت، اس کی خصوصیات ہیں بے شمار!

 









برازیل کے میناس گیریس میں اِن دنوں مویشیوں کا میلہ لگا ہوا ہے جہاں ہندوستانی نسل کی ایک گائے سب سے زیادہ قیمت میں فروخت کی گئی ہے۔ اس گائے کا نام ویاٹینا-19 ہے جو نیلّور نسل کی گائے ہے۔ گائے کی یہ نسل ہندوستان کے آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں پائی جاتی ہے۔ یہ گائے دیکھنے میں جس قدر خوبصورت ہے اتنی ہی زیادہ اس کے اندر خوبیاں بھی ہیں۔ اس گائے نے ’مِس ساو¿تھ امریکہ‘ کا ٹائٹل بھی جیتا تھا۔ اس کے بعد سے ہی یہ گائے خبروں میں ہے۔ یہی نہیں دنیا کے کئی ممالک میں لوگ اس گائے کے بچھڑے لے کر گئے ہیں تاکہ اچھی نسل کی گائے تیار کی جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس گائے کے لیے بولی لگائی گئی تو ایک خریدار نے 40 کروڑ روپے تک کی اونچی قیمت ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔


نیلّور نسل کی گایوں کو آگنول بِرِیڈ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ ان گایوں کی خصوصیات یہ ہے کہ یہ انتہائی مشکل اور گرم حالات میں بھی رہ سکتی ہیں اور ان کی دودھ دینے کی صلاحیت بھی متاثر نہیں ہوتی ہے۔ ویسے عام طور پر انتہائی گرم موسم میں دیگر نسلوں کی گایوں کی دودھ کم ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ نیلّور نسل کی گایوں کی امیونٹی سسٹم (قوت مدافعت) بھی شاندار ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کے پوری دنیا میں ان کی مقبولیت بہت زیادہ ہے۔



نیلّور نسل کی گایوں گی دیگر خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ یہ کم دیکھ بھال اور مشکل حالات والے علاقوں میں بھی آسانی سے رہ لیتی ہیں۔ سفید اور کندھے پر اونچے کوہان والی ان گایوں میں یہ خاصیت بھی ہے کہ یہ اونٹوں کی طرح طویل عرصے تک کے لیے کھانا اور پانی کو ذخیرہ کر سکتی ہیں۔ ذخیرہ اندوزی میں اونٹ والی صفت ہونے کی وجہ سے ان کا صحراو¿ں اور گرم علاقوں میں رہنا آسان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں نیلّور نسل کی گایوں کی مانگ بڑھ گئی ہے۔ بعض اوقات چارے وغیرہ کی کمی ہونے پر پشوو¿ں کے لیے زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں یہ گائیں ایک بہترین آپشن ہیں۔ ساتھ ہی یہ گائیں فَیٹ (چربی) کی بھی اسٹوریج (ذخیرہ) کر لیتی ہیں۔ ان ہی سب خصوصیات کی وجہ سے مشکل اور ناموافق حالات میں بھی ان کی صحت پر خاصا اثر نہیں ہوتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ نیلّور نسل کی گائیں برازیل میں بھی بڑے پیمانے پر پالی جاتی ہیں۔ 1800 سے ہی برازیل میں اس نسل کی گائیں پالی جا رہی ہیں۔



عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث آسمان پر پہنچیں سونے کی قیمتیں، 24 گھنٹوں میں 1300 روپے کا اضافہ

 








نئی دہلی: عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال اور امریکہ-چین تجارتی کشیدگی کے باعث سونے کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن (آئی بی جے اے) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 24 قیراط سونے کی قیمت 1300 روپے اضافے کے ساتھ 84320 روپے فی 10 گرام تک پہنچ گئی ہے، جو اس سے پہلے 83010 روپے فی 10 گرام تھی۔


جبکہ 22 قیراط سونے کی قیمت 82300 روپے فی 10 گرام، 20 قیراط سونا 75050 روپے اور 18 قیراط سونا 63800 روپے فی 10 گرام میں فروخت ہو رہا ہے۔


کاما جیولری کے مینیجنگ ڈائریکٹر کالن شاہ کے مطابق، بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 2880 ڈالر فی اونس کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ ڈالر انڈیکس کا کمزور ہونا ہے، جو 109 سے کم ہو کر 107 پر آ گیا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی اختلافات نے بھی سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا ہے، جس سے سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔



بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت جنوری کے آغاز سے اب تک 8 فیصد تک بڑھ چکی ہے اور فی الحال 2,891 ڈالر فی اونس پر ہے۔ کالن شاہ نے کہا کہ مستقبل قریب میں بھی سونے کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہنے کا امکان ہے اور یہ بین الاقوامی مارکیٹ میں 3000 ڈالر فی اونس اور مقامی مارکیٹ میں 88000 روپے فی 10 گرام تک پہنچ سکتی ہے۔


دوسری جانب امریکہ نے کینیڈا اور میکسیکو پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کو 30 دن کے لیے مو¿خر کر دیا ہے، تاہم چینی مصنوعات پر 10 فیصد تجارتی ٹیرف کے اپنے موقف پر قائم ہے۔ چین نے بھی جوابی اقدام کے طور پر امریکی مصنوعات پر ٹیرف عائد کیے ہیں، جس سے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔



جھارکھنڈ: سوشل میڈیا استعمال کرنے والے سرکاری ملازمین کے لیے حکومت نے جاری کیے رہنما اصول، خلاف ورزی پر ہوگی کارروائی

 









جھارکھنڈ میں سرکاری ملازمین کے لیے ایک نیا فرمان جاری کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے استعمال کے لیے نئے اصول و قواعد نافذ کیے گئے ہیں۔ اب ملازمین کو جھارکھنڈ کے پرسنل ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ قوانین کے دائرے میں رہ کر ہی پوسٹ کرنی ہوگی۔ تمام ریاستی سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے استعمال کیے جانے کے حوالے سے جھارکھنڈ حکومت کے پرسنل ایڈمنسٹریٹو ریفارمز اور ریاستی زبان کے محکمہ کی جانب سے نئے قواعد جاری کیے گئے ہیں۔ اب تمام سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کچھ بھی پوسٹ کرنے سے قبل کچھ باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔


آئیے جانتے ہیں کہ جھارکھنڈ کے سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ جیسے کچھ پوسٹ کرتے اور لکھتے ہوئے نرمی اختیار کرنا، اخلاقیات کو برقرار رکھنا اور کسی بھی طرح کے قابل اعتراض، تفریق پیدا کرنے والا یا پھر سیاسی پوسٹ نہ کرنا شامل ہے۔ علاوہ ازیں سرکاری ملازمین کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت میں کوئی پوسٹ نہیں لکھ سکتے۔ ملازمین اپنی پوسٹ میں حکومت کی پالیسیوں پر تنقید نہیں کریں گے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر ہونے والی چرچہ میں شامل ہوں گے۔ ساتھ ہی آفس کے اوقات میں اپنے ذاتی اکاو¿نٹ کا استعمال بھی نہیں کریں گے۔ سرکاری ملازمین سوشل میڈیا پر حکومت کی شبیہ کو خراب کرنے والی کسی بھی سرگرمی کا حصہ بھی نہیں ہوں گے۔



اب کوئی سرکاری ملازم اپنے ساتھی یا کسی اور کے لیے سوشل میڈیا پر دھمکی آمیز، فحش یا غیراخلاقی پوسٹ نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ اپنے عہدے کے غلط استعمال کرنے پر بھی کارروائی ہوگی۔ ریاستی ملازمین کسی بھی مذہب یا ذات کے خلاف نہیں لکھیں گے۔ لوگوں کو ٹرول کرنے کا کام بھی نہیں کریں گے۔ ملازمین اپنی کوئی ذاتی تفصیل سوشل میڈیا پر پوسٹ نہیں کریں گے۔ ساتھ ہی سرکاری ملازمین سرکاری اکاو¿نٹ پر اپنی ذاتی تصویر بھی شیئر نہیں کر سکتے۔


قابل ذکر ہے کہ اگر کوئی ریاستی سرکاری ملازم مذکورہ بال اصول و قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کوئی پوسٹ کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ وہیں جھارکھنڈ حکومت کی جانب سے جاری کردہ اصول و ضوابط کے حوالے سے جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے قومی ترجمان منوج پانڈے نے کہا کہ ”ریاستی ملازمین کے لیے ضابطہ اخلاق ضروری ہے، ریاستی افسران اور ملازمین کا طرز عمل اور برتاو¿ کیسا ہوگا۔ یہ تو ریاستی حکومت طے کر ہی سکتی ہے اور یہی حکومت نے طے کیا ہے۔“