Thursday, 6 February 2025

قومی اساتذہ تنظیم مظفر پور ضلع سکریٹری آفتاب عالم نے اردو کے تحفظ و فروغ کے سلسلے میں لوگو ں سے ملاقات کی

 




میناپور( مظفرپور) قومی اساتذہ تنظیم بہار کے مظفرپور ضلع سکریٹری آفتاب عالم نے میناپور کے مدھوبنی اور چک جمال مسجد کے امام مولانا ممتاز احمد و مولانا زاہد رضا سے تحریک "تحفظ اردو زبان و ادب کے سلسلے میں ملاقات کی اور انہیں تحریک کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس تحریک کا آغاز یوم اردو،10/جنوری 2025 سے کیا گیا ہے۔ اس تحریک کو جناب عبدالسلام انصاری سکریٹری بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ و جناب ایس ایم اشرف فرید مدیر اعلی روزنامہ قومی تنظیم کی سرپرستی حاصل ہے اور اس تنظیم و تحریک کے روح رواں جناب محمد رفیع ہیں- یہ تحریک تقریبا ایک ماہ سے بہار کے شہر شہر،بستی بستی جاکر محبان اردو و دانشوران ملت اور عوام الناس سے اردو کو عام کرنے، اردو کی تعلیم وتعلم کو لازم پکڑنے، اردو کے سلسلے میں سرکاری احکامات کے نفاذ میں اپنا کردار ادا کرنے،اردو اخبارات خریدنے، مکان و دکان پر ہندی کے ساتھ اردو میں نیم پلیٹ و سائن بورڈ لگانے کی اپیل کر رہی ہے۔

ضلعی سکریٹری آفتاب عالم نے موقع پر موجود تمام حضرات سے کہا کہ اردو ہماری مادری زبان ہے۔ہمیں کسی بھی سطح پر اردو کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔اردو کی ترویج واشاعت کیلئے ہمیں انفرادی واجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی۔ اردو کی ترقی و تحفظ ہمارا دینی، ملی اور قومی فریضہ ہے۔

جناب زین العابدین، محمد ادریس، محمد انور، مرتضی انصاری، محمد فرید، معین الدین، وغیرہ صاحبان سے بھی اس تحریک سے جڑنے اور اسے مضبوط بنانے کی اپیل کی گئی۔ حاضرین کے درمیان تحریک سے جڑی بکلیٹ اور اسٹیکر تقسیم کیا گیا۔


Wednesday, 5 February 2025

امریکہ سے آئے غیر قانونی ہندوستانی تارکین وطن کے ہاتھوں میں ’ہتھکڑی‘ دیکھ کر کانگریس حیران، ناراضگی کا کیا اظہار

 





امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں غیر قانونی طور پر رہ رہے ہندوستانی شہریوں کو ملک سے نکالنے کا عہد کر لیا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت امریکی فوجی طیارہ ’سی-17‘ کے ذریعہ 104 ہندوستانی تارکین وطن کو واپس ہندوستان بھیج دیا گیا ہے۔ یہ غیر قانونی تارکین وطن ہندوستان پہنچ چکے ہیں، لیکن جس حالت میں وہ لائے گئے ہیں، اس پر کانگریس نے حیرانی ظاہر کی ہے۔ کئی تصویریں اور ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سامنے آئی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ’سی-17‘ میں سوار ہندوستانی باشندوں کے ہاتھوں اور پیروں میں ہتھکڑی لگی ہوئی ہے۔


ہندوستانی شہریوں کو جس طرح امریکہ سے ملک بدر کیا گیا ہے، اس پر کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکہ سے جلاوطن کیے جانے کے دوران ہندوستانیوں کو ہتھکڑی لگائے جانے اور ذلیل کیے جانے کی تصاویر دیکھ کر ایک ہندوستانی کے طور پر مجھے افسوس ہوتا ہے۔“ پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ”مجھے یاد ہے کہ دسمبر 2013 میں امریکہ میں ایک ہندوستانی سفارت کار دیویانی کھوبراگڑے کو ہتھکڑی لگائی گئی تھی اور کپڑے اتار کر تلاشی لی گئی تھی۔ خارجہ سکریٹری سجاتا سنگھ نے امریکی سفیر نینسی پاویل کے سامنے سخت احتجاج درج کرایا تھا۔ یو پی اے حکومت نے اس پر سخت رد عمل ظاہر کیا تھا۔“ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ”میرا کمار، سشیل کمار شندے اور راہل گاندھی جیسے لیڈران نے اس وقت ہندوستان آئے امریکی کانگریس کے وفد (جارج ہولڈنگ، ڈیوڈ شویکرٹ، راب ووڈل اور میڈلین بورڈالو) سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔“

کانگریس لیڈر نے اس پوسٹ میں آگے لکھا کہ اس وقت کے ہندوستانی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے امریکہ کہ اس قدم کو قابل مذمت قرار دیا تھا۔ ساتھ ہی وہ لکھتے ہیں کہ ”ہندوستان نے امریکی سفارتخانے کو دی جانے والی کئی سہولیات واپس لے لی تھیں۔ جن میں سفارتخانے کے اہلکاروں کے لیے کھانے پینے کی اشیائ اور شراب کی رعایتی درآمد کی اجازت بھی شامل تھی۔ محکمہ انکم ٹیکس نے امریکی سفارتخانے کے اسکول کی تحقیقات شروع کر دی تھی۔“ پون کھیڑا نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ ”جان کیری نے دیویانی کھوبراگڑے کے ساتھ کیے گئے سلوک پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ امریکی انتظامیہ نے خارجہ سکریٹری سجاتا سنگھ کو فون کر کیا تھا جس میں امریکہ کی جانب سے اظہارِ افسوس کیا گیا تھا۔“


پون کھیڑا کے علاوہ کانگریس کے ایک دیگر سینئر لیڈر ششی تھرور نے منگل (4 فروری) کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس حوالے سے لکھا تھا کہ ”کل امریکہ سے 150 سے زائد غیر قانونی ہندوستانی تارکین وطن کی ملک بدری پر میڈیا نے کچھ حقائق کو چھپا دیا ہے: 1- یہ اس طرح کا پہلا طیارہ لوڈ نہیں ہے، نہ ہی یہ براہ راست ڈونلد ٹرمپ کے صدر بننے کی وجہ سے ہوا ہے۔ گزشتہ مالی سال (ستمبر 2024 کے اخیر میں) 1100 ہندوستانیوں کو ملک بدر کیا گیا تھا جو کہ ٹرمپ کی نہیں بلکہ بائیڈن کی حکومت میں ہوا تھا۔“

ششی تھرور نے اس حوالے سے مزید حقائق پیش کیے۔ انہوں نے حقائق نمبر 2 کے تحت لکھا کہ ”2022 تک امریکہ میں 725،000 نامعلوم ہندوستانی تارکین وطن تھے- تیسرا سب سے بڑا گروپ جس کی تعداد صرف میکسیکو اور ایل سلواڈور کے شہریوں سے زیادہ ہے۔“ ششی تھرور نے حقائق نمبر 3 کے تحت لکھا کہ ”اکتوبر 2020 سے امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن افسران نے کناڈا اور میکسیکو سے غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے تقریباً 170،000 ہندوستانی تارکین وطن کو حراست میں لیا ہے۔ وہ سب ملک بدری کے شکار ہیں۔“


’ہر حال میں تیجسوی کو وزیر اعلیٰ بنائیں گے‘، نتیش کمار کے آبائی ضلع نالندہ میں لالو پرساد کا اظہارِ عزم

 









ایک طرف دہلی میں اسمبلی انتخاب کے پیش نظر ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، اور دوسری طرف بہار میں اسمبلی انتخاب کی سرگرمیاں دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس درمیان آر جے ڈی چیف اور سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو نے اپنے بیٹے تیجسوی یادو کو ریاست کا وزیر اعلیٰ بنانے سے متعلق عزم ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے 5 فروری کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے آبائی ضلع نالندہ میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم لوگ ہر حال میں تیجسوی یادو کو وزیر اعلیٰ بنائیں گے۔“ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ”ہم لوگوں کو اکٹھا ہو کر اس ملک میں اپنی حکومت بنانی ہے۔ آپ لوگ کہیں کسی کے سامنے سر مت جھکانا۔ نہ ہم نے کبھی جھکایا ہے اور نہ آپ لوگ کسی کے سامنے جھکنا۔“


لالو پرساد یادو نالندہ واقع اسلام پور اسمبلی کے سابق رکن اسمبلی آنجہانی کرشن ولبھ پرساد کے 24ویں یوم وفات پر منعقد تقریب میں شرکت کرنے پہنچے تھے۔ اس موقع پر انھوں نے لوگوں سے کہا کہ ”میں آپ لوگوں سے اپیل کرتا ہوں، آپ لوگ اس ملک کی حفاظت کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہوں۔ ہم حکومت بنائیں گے۔ تیجسوی یادو کو ہر حال میں ہم لوگ وزیر اعلیٰ بنائیں گے۔“ انھوں نے لگے ہاتھوں کچھ وعدے بھی کر دیے۔ لالو پرساد نے کہا کہ ”خواتین کو 2500 روپے دیے جائیں گے۔ جس طرح جھارکھنڈ میں دیا جا رہا ہے، اور مفت بجلی بھی دیا جائے گا، روزگار بھی ملے گا۔ ہم جو بولتے ہیں، وہ کرتے ہیں۔“




یہ تقریب اسلام پور رکن اسمبلی راکیش کمار روشن کے ذریعہ منقد کی گئی تھی۔ لالو پرساد نے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ علاقے میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ انھیں اپنی بھرپور حمایت دیں۔ اس تقریب میں آر جے ڈی کے قومی جنرل سکریٹری عبدالباری صدیقی، حکومت ہند کے سابق وزیر جئے پرکاش نارائن اور آر جے ڈی ترجمان شکتی سنگھ یادو نے بھی شرکت کی۔ لالو پرساد کو سننے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ بھی پہنچے تھے۔ خانقاہ ہائی اسکول کے میدان میں منعقد اس تقریب میں آر جے ڈی کے لیے نعرے بلند ہوتے ہوئے بھی سنائی دیے۔



ہندوستانی نسل کی گائے برازیل کے ’مویشی میلہ‘ میں 40 کروڑ روپے میں فروخت، اس کی خصوصیات ہیں بے شمار!

 









برازیل کے میناس گیریس میں اِن دنوں مویشیوں کا میلہ لگا ہوا ہے جہاں ہندوستانی نسل کی ایک گائے سب سے زیادہ قیمت میں فروخت کی گئی ہے۔ اس گائے کا نام ویاٹینا-19 ہے جو نیلّور نسل کی گائے ہے۔ گائے کی یہ نسل ہندوستان کے آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں پائی جاتی ہے۔ یہ گائے دیکھنے میں جس قدر خوبصورت ہے اتنی ہی زیادہ اس کے اندر خوبیاں بھی ہیں۔ اس گائے نے ’مِس ساو¿تھ امریکہ‘ کا ٹائٹل بھی جیتا تھا۔ اس کے بعد سے ہی یہ گائے خبروں میں ہے۔ یہی نہیں دنیا کے کئی ممالک میں لوگ اس گائے کے بچھڑے لے کر گئے ہیں تاکہ اچھی نسل کی گائے تیار کی جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس گائے کے لیے بولی لگائی گئی تو ایک خریدار نے 40 کروڑ روپے تک کی اونچی قیمت ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔


نیلّور نسل کی گایوں کو آگنول بِرِیڈ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ ان گایوں کی خصوصیات یہ ہے کہ یہ انتہائی مشکل اور گرم حالات میں بھی رہ سکتی ہیں اور ان کی دودھ دینے کی صلاحیت بھی متاثر نہیں ہوتی ہے۔ ویسے عام طور پر انتہائی گرم موسم میں دیگر نسلوں کی گایوں کی دودھ کم ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ نیلّور نسل کی گایوں کی امیونٹی سسٹم (قوت مدافعت) بھی شاندار ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کے پوری دنیا میں ان کی مقبولیت بہت زیادہ ہے۔



نیلّور نسل کی گایوں گی دیگر خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ یہ کم دیکھ بھال اور مشکل حالات والے علاقوں میں بھی آسانی سے رہ لیتی ہیں۔ سفید اور کندھے پر اونچے کوہان والی ان گایوں میں یہ خاصیت بھی ہے کہ یہ اونٹوں کی طرح طویل عرصے تک کے لیے کھانا اور پانی کو ذخیرہ کر سکتی ہیں۔ ذخیرہ اندوزی میں اونٹ والی صفت ہونے کی وجہ سے ان کا صحراو¿ں اور گرم علاقوں میں رہنا آسان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں نیلّور نسل کی گایوں کی مانگ بڑھ گئی ہے۔ بعض اوقات چارے وغیرہ کی کمی ہونے پر پشوو¿ں کے لیے زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں یہ گائیں ایک بہترین آپشن ہیں۔ ساتھ ہی یہ گائیں فَیٹ (چربی) کی بھی اسٹوریج (ذخیرہ) کر لیتی ہیں۔ ان ہی سب خصوصیات کی وجہ سے مشکل اور ناموافق حالات میں بھی ان کی صحت پر خاصا اثر نہیں ہوتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ نیلّور نسل کی گائیں برازیل میں بھی بڑے پیمانے پر پالی جاتی ہیں۔ 1800 سے ہی برازیل میں اس نسل کی گائیں پالی جا رہی ہیں۔



عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث آسمان پر پہنچیں سونے کی قیمتیں، 24 گھنٹوں میں 1300 روپے کا اضافہ

 








نئی دہلی: عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال اور امریکہ-چین تجارتی کشیدگی کے باعث سونے کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن (آئی بی جے اے) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 24 قیراط سونے کی قیمت 1300 روپے اضافے کے ساتھ 84320 روپے فی 10 گرام تک پہنچ گئی ہے، جو اس سے پہلے 83010 روپے فی 10 گرام تھی۔


جبکہ 22 قیراط سونے کی قیمت 82300 روپے فی 10 گرام، 20 قیراط سونا 75050 روپے اور 18 قیراط سونا 63800 روپے فی 10 گرام میں فروخت ہو رہا ہے۔


کاما جیولری کے مینیجنگ ڈائریکٹر کالن شاہ کے مطابق، بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 2880 ڈالر فی اونس کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ ڈالر انڈیکس کا کمزور ہونا ہے، جو 109 سے کم ہو کر 107 پر آ گیا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی اختلافات نے بھی سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا ہے، جس سے سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔



بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت جنوری کے آغاز سے اب تک 8 فیصد تک بڑھ چکی ہے اور فی الحال 2,891 ڈالر فی اونس پر ہے۔ کالن شاہ نے کہا کہ مستقبل قریب میں بھی سونے کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہنے کا امکان ہے اور یہ بین الاقوامی مارکیٹ میں 3000 ڈالر فی اونس اور مقامی مارکیٹ میں 88000 روپے فی 10 گرام تک پہنچ سکتی ہے۔


دوسری جانب امریکہ نے کینیڈا اور میکسیکو پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کو 30 دن کے لیے مو¿خر کر دیا ہے، تاہم چینی مصنوعات پر 10 فیصد تجارتی ٹیرف کے اپنے موقف پر قائم ہے۔ چین نے بھی جوابی اقدام کے طور پر امریکی مصنوعات پر ٹیرف عائد کیے ہیں، جس سے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔



جھارکھنڈ: سوشل میڈیا استعمال کرنے والے سرکاری ملازمین کے لیے حکومت نے جاری کیے رہنما اصول، خلاف ورزی پر ہوگی کارروائی

 









جھارکھنڈ میں سرکاری ملازمین کے لیے ایک نیا فرمان جاری کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے استعمال کے لیے نئے اصول و قواعد نافذ کیے گئے ہیں۔ اب ملازمین کو جھارکھنڈ کے پرسنل ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ قوانین کے دائرے میں رہ کر ہی پوسٹ کرنی ہوگی۔ تمام ریاستی سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے استعمال کیے جانے کے حوالے سے جھارکھنڈ حکومت کے پرسنل ایڈمنسٹریٹو ریفارمز اور ریاستی زبان کے محکمہ کی جانب سے نئے قواعد جاری کیے گئے ہیں۔ اب تمام سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کچھ بھی پوسٹ کرنے سے قبل کچھ باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔


آئیے جانتے ہیں کہ جھارکھنڈ کے سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کرتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ جیسے کچھ پوسٹ کرتے اور لکھتے ہوئے نرمی اختیار کرنا، اخلاقیات کو برقرار رکھنا اور کسی بھی طرح کے قابل اعتراض، تفریق پیدا کرنے والا یا پھر سیاسی پوسٹ نہ کرنا شامل ہے۔ علاوہ ازیں سرکاری ملازمین کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت میں کوئی پوسٹ نہیں لکھ سکتے۔ ملازمین اپنی پوسٹ میں حکومت کی پالیسیوں پر تنقید نہیں کریں گے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر ہونے والی چرچہ میں شامل ہوں گے۔ ساتھ ہی آفس کے اوقات میں اپنے ذاتی اکاو¿نٹ کا استعمال بھی نہیں کریں گے۔ سرکاری ملازمین سوشل میڈیا پر حکومت کی شبیہ کو خراب کرنے والی کسی بھی سرگرمی کا حصہ بھی نہیں ہوں گے۔



اب کوئی سرکاری ملازم اپنے ساتھی یا کسی اور کے لیے سوشل میڈیا پر دھمکی آمیز، فحش یا غیراخلاقی پوسٹ نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ اپنے عہدے کے غلط استعمال کرنے پر بھی کارروائی ہوگی۔ ریاستی ملازمین کسی بھی مذہب یا ذات کے خلاف نہیں لکھیں گے۔ لوگوں کو ٹرول کرنے کا کام بھی نہیں کریں گے۔ ملازمین اپنی کوئی ذاتی تفصیل سوشل میڈیا پر پوسٹ نہیں کریں گے۔ ساتھ ہی سرکاری ملازمین سرکاری اکاو¿نٹ پر اپنی ذاتی تصویر بھی شیئر نہیں کر سکتے۔


قابل ذکر ہے کہ اگر کوئی ریاستی سرکاری ملازم مذکورہ بال اصول و قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کوئی پوسٹ کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ وہیں جھارکھنڈ حکومت کی جانب سے جاری کردہ اصول و ضوابط کے حوالے سے جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے قومی ترجمان منوج پانڈے نے کہا کہ ”ریاستی ملازمین کے لیے ضابطہ اخلاق ضروری ہے، ریاستی افسران اور ملازمین کا طرز عمل اور برتاو¿ کیسا ہوگا۔ یہ تو ریاستی حکومت طے کر ہی سکتی ہے اور یہی حکومت نے طے کیا ہے۔“


بہار کی ذات پر مبنی مردم شماری پر راہل گاندھی کے سوالات، تلنگانہ کی مثال پیش کی

 






پٹنہ: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بدھ کے روز پٹنہ میں منعقد ایک پروگرام کے دوران کہا کہ آج ہندوستان میں اقتدار کے ڈھانچے میں دلتوں اور پسماندہ طبقات کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں کو نمائندگی تو دی جاتی ہے، لیکن حقیقی اختیار سے محروم رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی نمائندگی بے معنی بن جاتی ہے۔


انہوں نے آزادی کے مجاہد جگ لال چودھری کی جینتی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک کے اقتدار کے ڈھانچے میں، چاہے وہ تعلیم ہو، صحت ہو، کاروبار ہو، عدلیہ ہو یا میڈیا، پسماندہ طبقات کی شرکت بہت محدود ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ دلتوں کے درد اور ان کے حقوق کی آواز بابا صاحب امبیڈکر اور جگ لال چودھری تھے، لیکن آزادی کے بعد بھی اقتدار کے ڈھانچے میں ان کی شراکت کم رہی ہے۔



راہل گاندھی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انتخابی ٹکٹ تو دیا جاتا ہے لیکن حقیقی اختیارات نہیں دیے جاتے۔ انہوں نے ملک گیر سطح پر ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بہار کی طرز پر نہیں بلکہ تلنگانہ کی طرز پر مردم شماری ہونی چاہیے تاکہ واضح ہو سکے کہ دلت، پسماندہ، اقلیتیں اور دیگر طبقات کی آبادی کتنی ہے اور ان کی اداروں میں شراکت داری کیا ہے۔


انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کی 200 بڑی کمپنیوں میں کوئی بھی دلت، او بی سی یا قبائلی اعلیٰ عہدوں پر فائز نہیں ہے۔ ملک کے بجٹ کا تعین کرنے والے 90 افراد میں صرف تین دلت شامل ہیں اور ان کے پاس بھی معمولی ذمہ داریاں ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت کے 100 روپے کے اخراجات میں صرف ایک روپے کے فیصلے دلت افسران کرتے ہیں جبکہ پسماندہ طبقات کی شراکت داری بھی صرف چھ فیصد ہے۔


کانگریس لیڈر نے کہا کہ ان کی پارٹی دلتوں، پسماندہ طبقات اور قبائلیوں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس آئین کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔


راہل گاندھی نے کہا کہ آبادی کے تناسب سے تمام شعبوں میں مساوی نمائندگی کے لیے ذات پر مبنی مردم شماری ضروری ہے تاکہ لیڈرشپ کی سطح پر دلتوں، پسماندہ اور قبائلیوں کی موجودگی یقینی بنائی جا سکے۔


صرف ایک پنکھا اور بلب استعمال کرنے پر بجلی بل آیا 7 کروڑ روپے

 





ریاست اترپردیش کے بستی ضلع سے ایک حیرت انگیز خبر سامنے آ رہی ہے، جہاں صرف ایک بلب اور پنکھے کا بجلی بل 7 کروڑ روپے آیا ہے۔ محکمہ بجلی کی اس لاپرواہی نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ یہ حیرت انگیز معاملہ بستی ضلع کے ہریّا بجلی سب اسٹیشن کے کیشوپور فیڈر واقع رامیا گاو¿ں کا ہے۔ مولہو نام کے کسان کو اتنی بڑی رقم کا بجلی بل بھیجا گیا ہے۔ اگر وہ اپنی پوری جائیداد فروخت کر دے تو بھی اس رقم کو ادا نہیں کر سکتا۔ کسان نے اس بل کے حوالے سے کہا کہ اس کے گھر میں صرف ایک پنکھا اور بلب جلتا ہے، پھر بھی اتنا زیادہ بجلی بل آیا ہے جو اس کی سمجھ سے بالاتر ہے۔


واضح ہو کہ اتنی بڑی رقم کا بجلی بل دیکھ کر کسان خاصا پریشان ہو گیا اور مسلسل محکمہ بجلی کا چکر لگانے پر مجبور ہوا۔ پریشان کسان نے محکمہ کے کئی چکر لگائے لیکن اس کی کوئی مدد نہیں ہوئی۔ پھر اس نے اپنے دکھ کا اظہار سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان کیا جو جلد ہی موضوع بحث بن گیا۔ سوشل میڈیا پر معاملے نے اتنا طول پکڑ لیا کہ اس کی خبر ریاست کے وزیر توانائی اے کے شرما تک پہنچ گئی۔ وزیر نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری طور پر تحقیقات کا حکم دیا۔ علاوہ ازیں وزیر توانائی نے کہا کہ یہ محکمہ کی بہت بڑی لاپرواہی تھی جسے جلد ہی ٹھیک کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ایک افسر دیپک تیواری کو معطل بھی کر دیا۔



کسان مولہو نے 2014 میں ایک کلوواٹ کا بجلی کنیکشن لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دسمبر 2024 میں اس کا بقایہ بل 75 ہزار روپے تھا لیکن ایک ماہ بعد اس کے پاس 7.33 کروڑ روپے کا بل آ گیا۔ کسان مولہو نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ”یہ بل دیکھ کر مجھے ہارٹ اٹیک آنے والا تھا۔ میری ایک بیٹی ہے اس کی شادی کیسے ہوگی؟ ہم جیسی غریب فیملی کے لیے اتنے بڑے بل کی ادائیگی ناممکن ہے۔“ کسان مولہو کے بیٹے نے اس تعلق سے بتایا کہ انہوں نے کئی دفعہ شکایت کی لیکن کوئی سننے والا نہیں تھا۔ جب معاملے نے طول پکڑا تو سپرنٹنڈنگ انجینئر پرشانت سنگھ نے کہا کہ معاملہ ان کے علم میں آیا ہے اور جلد ہی بجلی کا بل درست کر دیا جائے گا۔



سرکاری ملازمین 'چَیٹ جی پی ٹی' اور 'ڈیپ سیک' کا استعمال نہ کریں، حکومت ہند نے کیا انتباہ

 




حکومت ہند کی طرف سے ایک حکم جاری کیا گیا ہے جس میں سرکا
ری ملازمین کو اے ا?ئی ایپس اور اے ا?ئی پلیٹ فارم کو لے کر ضروری جانکاری دی گئی ہے۔ وزارت خزانہ کی طرف سے جاری حکم میں سرکاری ملازمین سے کہا گیا ہے کہ کچھ ملازم آفس کے کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ میں اے آئی ایپس (جیسے چیٹ جی پی ٹی، ڈیپ سیک وغیرہ) کا استعمال کرتے ہیں جو حکومت ہند کے خفیہ دستاویز اور ڈیٹا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

مرکزی حکومت کے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ اے آئی ایپس اور ٹولس کو سرکاری کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور ڈیوائس میں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ یہ فیصلہ ڈیٹا اور پرائیویسی کو ترجیح دیتے ہوئے لیا گیا ہے۔ حالانکہ اس سے وہ اے آئی یوزرس کے حوصلے پست نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

ہندوستان میں کئی ایسے غیر ملکی اے آئی ایپس موجود ہیں جن میں چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT)، ڈیپ سیک (DeepSeek) اور گوگل جیمنی وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ ہندوستان میں کئی لوگ ان کا استعمال اپنا کام آسان بنانے کے ارادے سے کرتے ہیں۔ ڈیوائس میں اے ا?ئی ایپس یا ٹولس انسٹال کرنے کے بعد وہ ضروری پرمیشن کا ایکسس مانگتے ہیں، ایسے میں سرکاری فائلوں کا ڈیٹا لیک ہونے کا خطرہ بنا رہتا ہے۔


اے آئی ایپس اور اے آئی چیٹ بوٹ کی مدد سے کئی لوگ پرومپٹ دے کر لیٹر، آرٹیکل، یا پھر ٹرانسلیشن وغیرہ کا کام کر سکتے ہیں۔ کئی لوگ تو اس کا استعمال پرزنٹیشن وغیرہ بنانے میں بھی کرتے ہیں۔ یہاں یوزرس کو ایک سمپل یا ٹیکسٹ پرومپٹ دینا ہوتا ہے۔

چینی اسمارٹ اَپ ڈیپ سیک نے حال ہی میں مقبولیت حاصل کی ہے اور اس اسٹارٹ اَپ نے کفایتی قیمتوں کی وجہ سے پوری دنیا میں کھلبلی مچا دی ہے۔ چین کا یہ اسٹارٹ اَپ قریب 20 مہینے پہلے شروع ہوا تھا۔ 20 جنوری 2025 کو ڈیپ سیک آر آئی چیٹ بوٹ اچانک تیزی سے مقبول ہوا اور اس نے پرانی اے آئی کمپنیوں کے کئی ریکارڈس توڑ دیے۔



دہلی اسمبلی انتخابات: ووٹنگ ختم، اب ریزلٹ کے لیے 8 فروری کا انتظار

 




دہلی اسمبلی کی 70 نشستوں کے لیے ووٹنگ کا عمل انجام پا گیا۔ آج صبح 7 بجے سے ووٹنگ شروع ہوئی تھی جو شام 6 بجے کے بعد تک جاری رہی۔ ووٹنگ کا وقت شام 6 بجے ختم ہو گیا تھا، لیکن قطار بند لوگوں کو وقت ختم ہونے کے بعد بھی حق رائے دہی کا موقع فراہم کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے ذریعہ ابھی ووٹنگ کا حتمی فیصد جاری نہیں کیا گیا ہے، لیکن 5 بجے تک کا جو ڈاٹا فراہم کیا گیا ہے، اس کے مطابق 57.70 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ ظاہر ہے، ووٹنگ فیصد میں اضافہ یقینی ہے۔


امریکہ میں غیر قانونی طریقے سے مقیم 104 ہندوستانی تارکین وطن کو لے کر ’سی-17‘ طیارہ امرتسر پہنچا

 





غیر قانونی طور پر امریکی میں مقیم ہندوستانی تارکین وطن کو لے کر امریکی فوجی طیارہ بدھ کی دوپہر امرتسر میں اترا۔ ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کی حلف برداری کے بعد ہندوستانی تارکین وطن کے خلاف یہ پہلی کارروائی ہے۔ پنجاب پولیس کی سخت سیکورٹی کے درمیان طیارہ شری گرو رام داس جی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا۔


امریکی فوج کے سی-17 طیارہ سے آئے ہندوستانیوں کی تعداد 104 بتائی جا رہی ہے۔ پہلے خبریں ا? رہی تھیں کہ امریکی فوجی طیارہ 205 ہندوستانیوں کو لے کر ہندوستان آ رہا ہے، لیکن جب طیارہ ہندوستان میں لینڈ ہوا تو اس میں ڈیپورٹ کیے گئے 104 لوگ ہی موجود تھے۔ طیارہ کی لینڈنگ 1.55 بجے ہوئی اور اس وقت امرتسر کے پولیس کمشنر، ڈی سی و دیگر اہم سینئر انتظامی افسران ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ ایئرپورٹ پر موجود ایویشن کلب میں سبھی ڈیپورٹ کیے گئے ہندوستانیوں کے بیک گراو?نڈ چیک کیے گئے ہیں۔



میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیپورٹ کیے گئے 104 لوگوں میں پنجاب کے 30 شہری شامل ہیں، جبکہ گجرات اور ہریانہ کے 33-33 افراد ہیں۔ اتر پردیش اور مہاراشٹر کے 3-3 شہری بھی اس طیارہ سے ہندوستان پہنچے ہیں، جبکہ چنڈی گڑھ کے 2 اشخاص ہیں۔ حالانکہ امریکہ سے ہندوستان پہنچے تارکین وطن کی تعداد سرکاری طور پر ابھی تک نہیں بتائی گئی ہے۔

جو خبریں سامنے ا? رہی ہیں، اس میں بتایا جا رہا ہے کہ ہندوستان پہنچے تارکین وطن میں 13 بچے، 79 مرد اور 25 خواتین شامل ہیں۔ حالانکہ کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ تعداد کچھ مختلف بھی بتائی جا رہی ہے۔ امریکہ سے آئے اس طیارہ میں عملہ کے اہلکار و امریکی افسران بھی موجود تھے جو ہندوستانیوں کو امرتسر ایئرپورٹ پر اتارنے کے بعد ضروری کاغذی کارروائی مکمل ہوتے ہی وطن واپس لوٹ جائیں گے۔



واضح رہے کہ امریکی فوج کے سی-17 طیارہ نے 4 فروری کو امریکہ کے سین اینٹونیو سے امرتسر ایئرپورٹ کے لیے پرواز بھری تھی۔ ان میں بیشتر ڈنکی روٹ یا دیگر طریقے سے امریکہ پہنچ گئے تھے، لیکن ان کے پاس ضروری کاغذات نہیں تھے۔ آج جب ان سبھی تارکین وطن کو امرتسر میں اتارا گیا تو اس سے قبل سیکورٹی کا خاص خیال رکھتے ہوئے ایئرپورٹ کے کارگو گیٹ اور ایک دیگر داخلی دروازے پر بیریکیڈنگ کر دی گئی تھی۔


یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ کا دورہ کرنے والے ہیں۔ مودی 2 روزہ دورے پر امریکہ جائیں گے جہاں ان کی امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات ہوگی اور کچھ اہم امور پر بات چیت کا بھی منصوبہ ہے۔ حال ہی میں پی ایم مودی اور ٹرمپ کی فون پر بات چیت ہوئی تھی۔ اس بات چیت کے بارے میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ”مودی کے ساتھ امیگریشن پر گفتگو کی۔ غیر قانونی تارکین وطن کو واپس لینے کے معاملے میں ہندوستان وہی کرے گا جو درست ہوگا۔“ دراصل ہندوستان نے امریکہ کو غیر قانونی طور سے امریکہ میں داخل ہونے والے ہندوستانیوں کو واپس لے کر غیر قانونی رہائش سے نمٹنے میں تعاون کا بھروسہ دلایا تھا۔


Tuesday, 4 February 2025

ووٹ ضرور دیں، کانگریس کو دیا گیا ایک-ایک ووٹ آپ کے حقوق کی حفاظت کرے گا: راہل گاندھی

 







دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے 70 اسمبلی سیٹوں پر ووٹنگ کا دور جاری ہے۔ ووٹر کافی جوش و خروش کے ساتھ اپنی حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں کئی رہنماو¿ں نے لوگوں سے جمہوریت کے اس عظیم تہوار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے بھی سوشل میڈیا سائٹ 'ایکس' پر اپنے ایک پوسٹ میں ووٹروں سے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔


انہوں نے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے، "میں آپ سبھی سے اپیل کرتا ہوں کہ آج ووٹ دینے ضرور جائیں۔ کانگریس کو دیا گیا آپ کا ایک-ایک ووٹ آپ کے حقوق کی حفاظت کرے گا، آئین کو مضبوط کرے گا اور دہلی کو ترقی کی راہ پر پھر سے موڑ دے گا۔" راہل نے ووٹروں سے اپیل کرتے ہوئے آگے کہا، "آپ یاد رکھیں کہ آلودہ ہوا، گندے پانی، ٹوٹی سڑکوں کے لیے کون ذمہ دار ہے۔ شفاف سیاست کرنے کی بات بول کر دہلی کا سب سے بڑا گھوٹالہ کس نے کیا۔"


واضح ہو کہ بدھ کی صبح 7 بجے مقررہ وقت سے سبھی پولنگ مراکز پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس دوران رائے دہندگان میں کافی جوش دیکھا جا رہا ہے۔ کئی جگہوں پر 7 بجے سے پہلے ہی ووٹنگ مراکز کے باہر ووٹروں کی قطار لگ گئی۔ ابھی تک کئی اہم رہنماو?ں نے بھی اپنی حق رائے دہی کا استعمال کر لیا ہے۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ، کانگریس ایم پی راہل گاندھی اور دہلی کی وزیر اعلیٰ آتشی سمیت کئی دیگر رہنماو¿ں نے پولنگ بوتھ پہنچ کر ووٹ ڈالا۔ اس دوران انہوں نے لوگوں سے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اپیل بھی کی۔


'آپ کا ووٹ آپ کے بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے'، ترقی اور ایمانداری کے لیے ووٹ کرنے کی کیجریوال کی اپیل


دہلی اسمبلی انتخاب کے لیے ووٹنگ شروع ہو چکی ہے۔ کئی ووٹروں نے جوش دکھاتے ہوئے صبح میں ہی اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرلیا ہے۔ اس درمیان عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پوسٹ کرکے دہلی کے عوام سے بڑی اپیل کی ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، "پیارے دہلی والوں، آج ووٹ کا دن ہے، آپ کا ووٹ صرف ایک بٹن نہیں، یہ آپ کے بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے، اچھے اسکول، بہترین اسپتال اور ہر کنبہ کو باعزت زندگی دینے کا موقع ہے۔"


اروند کیجریوال نے ا?گے لکھا، "ا?ج ہمیں جھوٹ، نفرت اور خوف کی سیاست کو شکست دے کر سچائی، ترقی اور ایمانداری کو فتح دلانا ہے۔ خود بھی ووٹ کریں اور اپنے دوستوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں کو بھی راغب کریں، غنڈہ گردی ہارے گی، دلّی جیتے گی۔"


واضح ہو کہ اروند کیجریوال نئی دہلی سیٹ سے انتخابی میدان میں ہیں۔ انہیں دو سابق وزیر اعلیٰ کے بیٹوں سے چیلنج کا سامنا ہے۔ کیجریوال کے سامنے ایک طرف کانگریس کے سندیپ دیکشت ہیں تو وہیں دوسری طرف بی جے پی کے پرویش سنگھ ورما ہیں۔ ادھر عا?پ کے سینئر رہنما منیش سسودیا کو اپنی پارٹی کی جیت کا بھروسہ ہے۔ ووٹنگ سے پہلے کالکاجی کے درشن کرتے ہوئے سسودیا نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ دہلی کے عوام اروند کیجریوال کو ایک بار پھر سے وزیر اعلیٰ بنائیں گے اور وہ خود جنگ پورہ سیٹ سے انتخاب جیتیں گے۔

بدھ (5 فروری) کو دہلی کی سبھی 70 اسمبلی سیٹوں پر ایک ساتھ ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس انتخاب میں عام ا?دمی پارٹی، کانگریس اور بی جے پی سمیت دیگر مقامی پارٹیاں اور آزاد امیدوار ملا کر ک±ل 699 امیدوار میدان میں ہیں۔ ووٹنگ کے لیے دہلی میں 13 ہزار سے زیادہ بوتھ بنائے گئے ہیں جہاں تحفظ کے سخت انتظامات میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔



بہار کی سیاست میں مسلمانوں کی سیاسی حصے داری کو ختم کرنے کی شازش ایڈووکیٹ شاہد

 



دربھنگہ :- جن سوراج پارٹی کے لیڈر ایڈووکٹ شاہد اطہر نے اج جن سوراج بیداری کارواں مہم کے تحت دربھنگہ نگر کے محلہ سرائے ستار خان میں نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بہار میں ایک بہتر نظام بنانے کے لیے ہم لوگ بیداری کارواں کے تحت بیداری پیدا کر رہے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ بہار کے کروڑوں لوگوں کو ان کے جائز حقوق دلوایا جائے قوم کے بچوں کو بہتر تعلیم اور روزگار فراہم کیا جائے اس کے ساتھ ہی قوم ملت سے جڑے کچھ اہم سماجی اور سیاسی مسائل پر گفتگو و ان سے مسئلے مسائل کے عملی عمل کے لیے آپسی مشورے کے ذریعے حکمت عملی طے کی جائے گی- ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ جہاں تک غور کرنے کی بات ہے مسلمانوں میں بہار کے چند بنیادی اور اہم مسائل جن میں بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں اور خوف کا ماحول پیدا کر کے بڑی تعداد میں بے قصور نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے وہیں اگر بات کریں سیاسی حصہ داری اور مسلم نمائندگی کی تو بہار میں مسلمانوں کی سیاسی شرکت میں بڑی کمی دیکھی جا رہی ہے ابادی میں 18 فیصد ہونے کے باوجود پنچایتی راج سے لے کر اسمبلی و پارلیمنٹ تک میں مسلمانوں کی نمائندگی دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے اگر بہار کی قانون ساز اسمبلی کی بات کریں تو یہاں بھی مسلمانوں کی شرکت نہ صرف کم ہے بلکہ حقیقت میں نہ ہونے کے برابر ہے- ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ بے روزگاری تعلیم اور اے ایم ہو سنٹر کا جو وقت کی اہم ضرورت ہے وہ قابل غور ہے کہ بہار میں مسلمانوں کی تعلیم روزگار کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے تعلیم کے میدان میں ان کی حالت مناسب معیار کی تعلیم سے کوسوں دور ہے غربت پسماندگی اور سماجی مسائل ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں ایڈووکٹ شاہد اطہر نے کہا کہ جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع بھی بہت محدود ہوتے جا رہے ہیں بہار حکومت ایک عرصے سے اردو زبان کو تعلیمی میدان میں سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے جس کی وجہ سے اردو سے متعلق کئی مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں وہیں بہار اردو اکیڈمی کو بند بھی کر دیا گیا ہے سرکاری مدارس کی حالت پہ کیا بات کی جائے ان کی تو حالت ہی خراب ہوتی جا رہی ہے کشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شاخ کی تعمیرات کو جان بوجھ کر روکا گیا ہے شدید احتجاج کے باوجود بھی کوئی حکومت یا ایسی کوئی سیکولر پارٹی اس طرف توجہ نہیں دے رہی ہے- ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے آگے کہا کہ بہار میں سیکولر پارٹیاں یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ تمام مذاہب کے لوگوں کو یکساں اہمیت دیتی ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ مسلمان کا لفظ استعمال کرنے سے بھی گریزاں ہیں انتخابات میں ٹکٹ دیتے وقت مسلمانوں کو ان کی ابادی کے مطابق مناسب نمائندگی نہیں ملتی ایڈوکٹ شاہد اطغ نے کہا کہ اگر انہیں ٹکٹ دیا بھی جاتا ہے تو انہیں ان سیٹوں پہ دیا جائے گا جہاں مسلم ووٹوں کی تعداد بہت کم ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ پارٹیاں مسلمانوں کا ووٹ لینا چاہتی ہیں لیکن مسلمانوں کو اپنی پارٹی کا چہرہ نہیں بنانا چاہتے یہ مسلمانوں کے حقوق کے ساتھ خلا سیاسی فریب بدترین خیانت ہے ابادی کے لحاظ سے حصے داری کو جب تک یقینی نہیں بنایا جائے گا بہار میں مسلمانوں کا بھلا نہیں ہو سکتا- اسی باتوں کو نظر میں رکھتے ہوئے جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے مسلمانوں سے اپیل کیا ہے کہ اپ بیداری کارواں کے ساتھ جڑیں اور ائندہ اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کو ابادی کے حساب سے 18 فیصد کے حساب سے 40 ٹکٹ کم و بیش دینے کا کام کیا جائے گا اور ان کو جتانے کا بھی کام کیا جائے گا-