Wednesday, 5 February 2025

بہار کی ذات پر مبنی مردم شماری پر راہل گاندھی کے سوالات، تلنگانہ کی مثال پیش کی

 






پٹنہ: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بدھ کے روز پٹنہ میں منعقد ایک پروگرام کے دوران کہا کہ آج ہندوستان میں اقتدار کے ڈھانچے میں دلتوں اور پسماندہ طبقات کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں کو نمائندگی تو دی جاتی ہے، لیکن حقیقی اختیار سے محروم رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی نمائندگی بے معنی بن جاتی ہے۔


انہوں نے آزادی کے مجاہد جگ لال چودھری کی جینتی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک کے اقتدار کے ڈھانچے میں، چاہے وہ تعلیم ہو، صحت ہو، کاروبار ہو، عدلیہ ہو یا میڈیا، پسماندہ طبقات کی شرکت بہت محدود ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ دلتوں کے درد اور ان کے حقوق کی آواز بابا صاحب امبیڈکر اور جگ لال چودھری تھے، لیکن آزادی کے بعد بھی اقتدار کے ڈھانچے میں ان کی شراکت کم رہی ہے۔



راہل گاندھی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انتخابی ٹکٹ تو دیا جاتا ہے لیکن حقیقی اختیارات نہیں دیے جاتے۔ انہوں نے ملک گیر سطح پر ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بہار کی طرز پر نہیں بلکہ تلنگانہ کی طرز پر مردم شماری ہونی چاہیے تاکہ واضح ہو سکے کہ دلت، پسماندہ، اقلیتیں اور دیگر طبقات کی آبادی کتنی ہے اور ان کی اداروں میں شراکت داری کیا ہے۔


انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کی 200 بڑی کمپنیوں میں کوئی بھی دلت، او بی سی یا قبائلی اعلیٰ عہدوں پر فائز نہیں ہے۔ ملک کے بجٹ کا تعین کرنے والے 90 افراد میں صرف تین دلت شامل ہیں اور ان کے پاس بھی معمولی ذمہ داریاں ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت کے 100 روپے کے اخراجات میں صرف ایک روپے کے فیصلے دلت افسران کرتے ہیں جبکہ پسماندہ طبقات کی شراکت داری بھی صرف چھ فیصد ہے۔


کانگریس لیڈر نے کہا کہ ان کی پارٹی دلتوں، پسماندہ طبقات اور قبائلیوں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس آئین کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔


راہل گاندھی نے کہا کہ آبادی کے تناسب سے تمام شعبوں میں مساوی نمائندگی کے لیے ذات پر مبنی مردم شماری ضروری ہے تاکہ لیڈرشپ کی سطح پر دلتوں، پسماندہ اور قبائلیوں کی موجودگی یقینی بنائی جا سکے۔


صرف ایک پنکھا اور بلب استعمال کرنے پر بجلی بل آیا 7 کروڑ روپے

 





ریاست اترپردیش کے بستی ضلع سے ایک حیرت انگیز خبر سامنے آ رہی ہے، جہاں صرف ایک بلب اور پنکھے کا بجلی بل 7 کروڑ روپے آیا ہے۔ محکمہ بجلی کی اس لاپرواہی نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ یہ حیرت انگیز معاملہ بستی ضلع کے ہریّا بجلی سب اسٹیشن کے کیشوپور فیڈر واقع رامیا گاو¿ں کا ہے۔ مولہو نام کے کسان کو اتنی بڑی رقم کا بجلی بل بھیجا گیا ہے۔ اگر وہ اپنی پوری جائیداد فروخت کر دے تو بھی اس رقم کو ادا نہیں کر سکتا۔ کسان نے اس بل کے حوالے سے کہا کہ اس کے گھر میں صرف ایک پنکھا اور بلب جلتا ہے، پھر بھی اتنا زیادہ بجلی بل آیا ہے جو اس کی سمجھ سے بالاتر ہے۔


واضح ہو کہ اتنی بڑی رقم کا بجلی بل دیکھ کر کسان خاصا پریشان ہو گیا اور مسلسل محکمہ بجلی کا چکر لگانے پر مجبور ہوا۔ پریشان کسان نے محکمہ کے کئی چکر لگائے لیکن اس کی کوئی مدد نہیں ہوئی۔ پھر اس نے اپنے دکھ کا اظہار سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان کیا جو جلد ہی موضوع بحث بن گیا۔ سوشل میڈیا پر معاملے نے اتنا طول پکڑ لیا کہ اس کی خبر ریاست کے وزیر توانائی اے کے شرما تک پہنچ گئی۔ وزیر نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری طور پر تحقیقات کا حکم دیا۔ علاوہ ازیں وزیر توانائی نے کہا کہ یہ محکمہ کی بہت بڑی لاپرواہی تھی جسے جلد ہی ٹھیک کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ایک افسر دیپک تیواری کو معطل بھی کر دیا۔



کسان مولہو نے 2014 میں ایک کلوواٹ کا بجلی کنیکشن لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دسمبر 2024 میں اس کا بقایہ بل 75 ہزار روپے تھا لیکن ایک ماہ بعد اس کے پاس 7.33 کروڑ روپے کا بل آ گیا۔ کسان مولہو نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ”یہ بل دیکھ کر مجھے ہارٹ اٹیک آنے والا تھا۔ میری ایک بیٹی ہے اس کی شادی کیسے ہوگی؟ ہم جیسی غریب فیملی کے لیے اتنے بڑے بل کی ادائیگی ناممکن ہے۔“ کسان مولہو کے بیٹے نے اس تعلق سے بتایا کہ انہوں نے کئی دفعہ شکایت کی لیکن کوئی سننے والا نہیں تھا۔ جب معاملے نے طول پکڑا تو سپرنٹنڈنگ انجینئر پرشانت سنگھ نے کہا کہ معاملہ ان کے علم میں آیا ہے اور جلد ہی بجلی کا بل درست کر دیا جائے گا۔



سرکاری ملازمین 'چَیٹ جی پی ٹی' اور 'ڈیپ سیک' کا استعمال نہ کریں، حکومت ہند نے کیا انتباہ

 




حکومت ہند کی طرف سے ایک حکم جاری کیا گیا ہے جس میں سرکا
ری ملازمین کو اے ا?ئی ایپس اور اے ا?ئی پلیٹ فارم کو لے کر ضروری جانکاری دی گئی ہے۔ وزارت خزانہ کی طرف سے جاری حکم میں سرکاری ملازمین سے کہا گیا ہے کہ کچھ ملازم آفس کے کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ میں اے آئی ایپس (جیسے چیٹ جی پی ٹی، ڈیپ سیک وغیرہ) کا استعمال کرتے ہیں جو حکومت ہند کے خفیہ دستاویز اور ڈیٹا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

مرکزی حکومت کے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ اے آئی ایپس اور ٹولس کو سرکاری کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور ڈیوائس میں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ یہ فیصلہ ڈیٹا اور پرائیویسی کو ترجیح دیتے ہوئے لیا گیا ہے۔ حالانکہ اس سے وہ اے آئی یوزرس کے حوصلے پست نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

ہندوستان میں کئی ایسے غیر ملکی اے آئی ایپس موجود ہیں جن میں چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT)، ڈیپ سیک (DeepSeek) اور گوگل جیمنی وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ ہندوستان میں کئی لوگ ان کا استعمال اپنا کام آسان بنانے کے ارادے سے کرتے ہیں۔ ڈیوائس میں اے ا?ئی ایپس یا ٹولس انسٹال کرنے کے بعد وہ ضروری پرمیشن کا ایکسس مانگتے ہیں، ایسے میں سرکاری فائلوں کا ڈیٹا لیک ہونے کا خطرہ بنا رہتا ہے۔


اے آئی ایپس اور اے آئی چیٹ بوٹ کی مدد سے کئی لوگ پرومپٹ دے کر لیٹر، آرٹیکل، یا پھر ٹرانسلیشن وغیرہ کا کام کر سکتے ہیں۔ کئی لوگ تو اس کا استعمال پرزنٹیشن وغیرہ بنانے میں بھی کرتے ہیں۔ یہاں یوزرس کو ایک سمپل یا ٹیکسٹ پرومپٹ دینا ہوتا ہے۔

چینی اسمارٹ اَپ ڈیپ سیک نے حال ہی میں مقبولیت حاصل کی ہے اور اس اسٹارٹ اَپ نے کفایتی قیمتوں کی وجہ سے پوری دنیا میں کھلبلی مچا دی ہے۔ چین کا یہ اسٹارٹ اَپ قریب 20 مہینے پہلے شروع ہوا تھا۔ 20 جنوری 2025 کو ڈیپ سیک آر آئی چیٹ بوٹ اچانک تیزی سے مقبول ہوا اور اس نے پرانی اے آئی کمپنیوں کے کئی ریکارڈس توڑ دیے۔



دہلی اسمبلی انتخابات: ووٹنگ ختم، اب ریزلٹ کے لیے 8 فروری کا انتظار

 




دہلی اسمبلی کی 70 نشستوں کے لیے ووٹنگ کا عمل انجام پا گیا۔ آج صبح 7 بجے سے ووٹنگ شروع ہوئی تھی جو شام 6 بجے کے بعد تک جاری رہی۔ ووٹنگ کا وقت شام 6 بجے ختم ہو گیا تھا، لیکن قطار بند لوگوں کو وقت ختم ہونے کے بعد بھی حق رائے دہی کا موقع فراہم کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے ذریعہ ابھی ووٹنگ کا حتمی فیصد جاری نہیں کیا گیا ہے، لیکن 5 بجے تک کا جو ڈاٹا فراہم کیا گیا ہے، اس کے مطابق 57.70 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ ظاہر ہے، ووٹنگ فیصد میں اضافہ یقینی ہے۔


امریکہ میں غیر قانونی طریقے سے مقیم 104 ہندوستانی تارکین وطن کو لے کر ’سی-17‘ طیارہ امرتسر پہنچا

 





غیر قانونی طور پر امریکی میں مقیم ہندوستانی تارکین وطن کو لے کر امریکی فوجی طیارہ بدھ کی دوپہر امرتسر میں اترا۔ ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کی حلف برداری کے بعد ہندوستانی تارکین وطن کے خلاف یہ پہلی کارروائی ہے۔ پنجاب پولیس کی سخت سیکورٹی کے درمیان طیارہ شری گرو رام داس جی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا۔


امریکی فوج کے سی-17 طیارہ سے آئے ہندوستانیوں کی تعداد 104 بتائی جا رہی ہے۔ پہلے خبریں ا? رہی تھیں کہ امریکی فوجی طیارہ 205 ہندوستانیوں کو لے کر ہندوستان آ رہا ہے، لیکن جب طیارہ ہندوستان میں لینڈ ہوا تو اس میں ڈیپورٹ کیے گئے 104 لوگ ہی موجود تھے۔ طیارہ کی لینڈنگ 1.55 بجے ہوئی اور اس وقت امرتسر کے پولیس کمشنر، ڈی سی و دیگر اہم سینئر انتظامی افسران ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ ایئرپورٹ پر موجود ایویشن کلب میں سبھی ڈیپورٹ کیے گئے ہندوستانیوں کے بیک گراو?نڈ چیک کیے گئے ہیں۔



میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیپورٹ کیے گئے 104 لوگوں میں پنجاب کے 30 شہری شامل ہیں، جبکہ گجرات اور ہریانہ کے 33-33 افراد ہیں۔ اتر پردیش اور مہاراشٹر کے 3-3 شہری بھی اس طیارہ سے ہندوستان پہنچے ہیں، جبکہ چنڈی گڑھ کے 2 اشخاص ہیں۔ حالانکہ امریکہ سے ہندوستان پہنچے تارکین وطن کی تعداد سرکاری طور پر ابھی تک نہیں بتائی گئی ہے۔

جو خبریں سامنے ا? رہی ہیں، اس میں بتایا جا رہا ہے کہ ہندوستان پہنچے تارکین وطن میں 13 بچے، 79 مرد اور 25 خواتین شامل ہیں۔ حالانکہ کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ تعداد کچھ مختلف بھی بتائی جا رہی ہے۔ امریکہ سے آئے اس طیارہ میں عملہ کے اہلکار و امریکی افسران بھی موجود تھے جو ہندوستانیوں کو امرتسر ایئرپورٹ پر اتارنے کے بعد ضروری کاغذی کارروائی مکمل ہوتے ہی وطن واپس لوٹ جائیں گے۔



واضح رہے کہ امریکی فوج کے سی-17 طیارہ نے 4 فروری کو امریکہ کے سین اینٹونیو سے امرتسر ایئرپورٹ کے لیے پرواز بھری تھی۔ ان میں بیشتر ڈنکی روٹ یا دیگر طریقے سے امریکہ پہنچ گئے تھے، لیکن ان کے پاس ضروری کاغذات نہیں تھے۔ آج جب ان سبھی تارکین وطن کو امرتسر میں اتارا گیا تو اس سے قبل سیکورٹی کا خاص خیال رکھتے ہوئے ایئرپورٹ کے کارگو گیٹ اور ایک دیگر داخلی دروازے پر بیریکیڈنگ کر دی گئی تھی۔


یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ کا دورہ کرنے والے ہیں۔ مودی 2 روزہ دورے پر امریکہ جائیں گے جہاں ان کی امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات ہوگی اور کچھ اہم امور پر بات چیت کا بھی منصوبہ ہے۔ حال ہی میں پی ایم مودی اور ٹرمپ کی فون پر بات چیت ہوئی تھی۔ اس بات چیت کے بارے میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ”مودی کے ساتھ امیگریشن پر گفتگو کی۔ غیر قانونی تارکین وطن کو واپس لینے کے معاملے میں ہندوستان وہی کرے گا جو درست ہوگا۔“ دراصل ہندوستان نے امریکہ کو غیر قانونی طور سے امریکہ میں داخل ہونے والے ہندوستانیوں کو واپس لے کر غیر قانونی رہائش سے نمٹنے میں تعاون کا بھروسہ دلایا تھا۔


Tuesday, 4 February 2025

ووٹ ضرور دیں، کانگریس کو دیا گیا ایک-ایک ووٹ آپ کے حقوق کی حفاظت کرے گا: راہل گاندھی

 







دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے 70 اسمبلی سیٹوں پر ووٹنگ کا دور جاری ہے۔ ووٹر کافی جوش و خروش کے ساتھ اپنی حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں کئی رہنماو¿ں نے لوگوں سے جمہوریت کے اس عظیم تہوار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے بھی سوشل میڈیا سائٹ 'ایکس' پر اپنے ایک پوسٹ میں ووٹروں سے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔


انہوں نے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے، "میں آپ سبھی سے اپیل کرتا ہوں کہ آج ووٹ دینے ضرور جائیں۔ کانگریس کو دیا گیا آپ کا ایک-ایک ووٹ آپ کے حقوق کی حفاظت کرے گا، آئین کو مضبوط کرے گا اور دہلی کو ترقی کی راہ پر پھر سے موڑ دے گا۔" راہل نے ووٹروں سے اپیل کرتے ہوئے آگے کہا، "آپ یاد رکھیں کہ آلودہ ہوا، گندے پانی، ٹوٹی سڑکوں کے لیے کون ذمہ دار ہے۔ شفاف سیاست کرنے کی بات بول کر دہلی کا سب سے بڑا گھوٹالہ کس نے کیا۔"


واضح ہو کہ بدھ کی صبح 7 بجے مقررہ وقت سے سبھی پولنگ مراکز پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس دوران رائے دہندگان میں کافی جوش دیکھا جا رہا ہے۔ کئی جگہوں پر 7 بجے سے پہلے ہی ووٹنگ مراکز کے باہر ووٹروں کی قطار لگ گئی۔ ابھی تک کئی اہم رہنماو?ں نے بھی اپنی حق رائے دہی کا استعمال کر لیا ہے۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ، کانگریس ایم پی راہل گاندھی اور دہلی کی وزیر اعلیٰ آتشی سمیت کئی دیگر رہنماو¿ں نے پولنگ بوتھ پہنچ کر ووٹ ڈالا۔ اس دوران انہوں نے لوگوں سے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اپیل بھی کی۔


'آپ کا ووٹ آپ کے بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے'، ترقی اور ایمانداری کے لیے ووٹ کرنے کی کیجریوال کی اپیل


دہلی اسمبلی انتخاب کے لیے ووٹنگ شروع ہو چکی ہے۔ کئی ووٹروں نے جوش دکھاتے ہوئے صبح میں ہی اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرلیا ہے۔ اس درمیان عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پوسٹ کرکے دہلی کے عوام سے بڑی اپیل کی ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، "پیارے دہلی والوں، آج ووٹ کا دن ہے، آپ کا ووٹ صرف ایک بٹن نہیں، یہ آپ کے بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے، اچھے اسکول، بہترین اسپتال اور ہر کنبہ کو باعزت زندگی دینے کا موقع ہے۔"


اروند کیجریوال نے ا?گے لکھا، "ا?ج ہمیں جھوٹ، نفرت اور خوف کی سیاست کو شکست دے کر سچائی، ترقی اور ایمانداری کو فتح دلانا ہے۔ خود بھی ووٹ کریں اور اپنے دوستوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں کو بھی راغب کریں، غنڈہ گردی ہارے گی، دلّی جیتے گی۔"


واضح ہو کہ اروند کیجریوال نئی دہلی سیٹ سے انتخابی میدان میں ہیں۔ انہیں دو سابق وزیر اعلیٰ کے بیٹوں سے چیلنج کا سامنا ہے۔ کیجریوال کے سامنے ایک طرف کانگریس کے سندیپ دیکشت ہیں تو وہیں دوسری طرف بی جے پی کے پرویش سنگھ ورما ہیں۔ ادھر عا?پ کے سینئر رہنما منیش سسودیا کو اپنی پارٹی کی جیت کا بھروسہ ہے۔ ووٹنگ سے پہلے کالکاجی کے درشن کرتے ہوئے سسودیا نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ دہلی کے عوام اروند کیجریوال کو ایک بار پھر سے وزیر اعلیٰ بنائیں گے اور وہ خود جنگ پورہ سیٹ سے انتخاب جیتیں گے۔

بدھ (5 فروری) کو دہلی کی سبھی 70 اسمبلی سیٹوں پر ایک ساتھ ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس انتخاب میں عام ا?دمی پارٹی، کانگریس اور بی جے پی سمیت دیگر مقامی پارٹیاں اور آزاد امیدوار ملا کر ک±ل 699 امیدوار میدان میں ہیں۔ ووٹنگ کے لیے دہلی میں 13 ہزار سے زیادہ بوتھ بنائے گئے ہیں جہاں تحفظ کے سخت انتظامات میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔



بہار کی سیاست میں مسلمانوں کی سیاسی حصے داری کو ختم کرنے کی شازش ایڈووکیٹ شاہد

 



دربھنگہ :- جن سوراج پارٹی کے لیڈر ایڈووکٹ شاہد اطہر نے اج جن سوراج بیداری کارواں مہم کے تحت دربھنگہ نگر کے محلہ سرائے ستار خان میں نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بہار میں ایک بہتر نظام بنانے کے لیے ہم لوگ بیداری کارواں کے تحت بیداری پیدا کر رہے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ بہار کے کروڑوں لوگوں کو ان کے جائز حقوق دلوایا جائے قوم کے بچوں کو بہتر تعلیم اور روزگار فراہم کیا جائے اس کے ساتھ ہی قوم ملت سے جڑے کچھ اہم سماجی اور سیاسی مسائل پر گفتگو و ان سے مسئلے مسائل کے عملی عمل کے لیے آپسی مشورے کے ذریعے حکمت عملی طے کی جائے گی- ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ جہاں تک غور کرنے کی بات ہے مسلمانوں میں بہار کے چند بنیادی اور اہم مسائل جن میں بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں اور خوف کا ماحول پیدا کر کے بڑی تعداد میں بے قصور نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے وہیں اگر بات کریں سیاسی حصہ داری اور مسلم نمائندگی کی تو بہار میں مسلمانوں کی سیاسی شرکت میں بڑی کمی دیکھی جا رہی ہے ابادی میں 18 فیصد ہونے کے باوجود پنچایتی راج سے لے کر اسمبلی و پارلیمنٹ تک میں مسلمانوں کی نمائندگی دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے اگر بہار کی قانون ساز اسمبلی کی بات کریں تو یہاں بھی مسلمانوں کی شرکت نہ صرف کم ہے بلکہ حقیقت میں نہ ہونے کے برابر ہے- ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ بے روزگاری تعلیم اور اے ایم ہو سنٹر کا جو وقت کی اہم ضرورت ہے وہ قابل غور ہے کہ بہار میں مسلمانوں کی تعلیم روزگار کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے تعلیم کے میدان میں ان کی حالت مناسب معیار کی تعلیم سے کوسوں دور ہے غربت پسماندگی اور سماجی مسائل ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں ایڈووکٹ شاہد اطہر نے کہا کہ جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع بھی بہت محدود ہوتے جا رہے ہیں بہار حکومت ایک عرصے سے اردو زبان کو تعلیمی میدان میں سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے جس کی وجہ سے اردو سے متعلق کئی مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں وہیں بہار اردو اکیڈمی کو بند بھی کر دیا گیا ہے سرکاری مدارس کی حالت پہ کیا بات کی جائے ان کی تو حالت ہی خراب ہوتی جا رہی ہے کشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شاخ کی تعمیرات کو جان بوجھ کر روکا گیا ہے شدید احتجاج کے باوجود بھی کوئی حکومت یا ایسی کوئی سیکولر پارٹی اس طرف توجہ نہیں دے رہی ہے- ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے آگے کہا کہ بہار میں سیکولر پارٹیاں یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ تمام مذاہب کے لوگوں کو یکساں اہمیت دیتی ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ مسلمان کا لفظ استعمال کرنے سے بھی گریزاں ہیں انتخابات میں ٹکٹ دیتے وقت مسلمانوں کو ان کی ابادی کے مطابق مناسب نمائندگی نہیں ملتی ایڈوکٹ شاہد اطغ نے کہا کہ اگر انہیں ٹکٹ دیا بھی جاتا ہے تو انہیں ان سیٹوں پہ دیا جائے گا جہاں مسلم ووٹوں کی تعداد بہت کم ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ پارٹیاں مسلمانوں کا ووٹ لینا چاہتی ہیں لیکن مسلمانوں کو اپنی پارٹی کا چہرہ نہیں بنانا چاہتے یہ مسلمانوں کے حقوق کے ساتھ خلا سیاسی فریب بدترین خیانت ہے ابادی کے لحاظ سے حصے داری کو جب تک یقینی نہیں بنایا جائے گا بہار میں مسلمانوں کا بھلا نہیں ہو سکتا- اسی باتوں کو نظر میں رکھتے ہوئے جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے مسلمانوں سے اپیل کیا ہے کہ اپ بیداری کارواں کے ساتھ جڑیں اور ائندہ اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کو ابادی کے حساب سے 18 فیصد کے حساب سے 40 ٹکٹ کم و بیش دینے کا کام کیا جائے گا اور ان کو جتانے کا بھی کام کیا جائے گا-

کینسر کے علاج میں جدید ادویہ کے ساتھ ساتھ یونانی دواﺅں سے بہتر نتائج برآمد ہونگے:ڈاکٹر شمیم اختر






عالمی یوم کینسر کے موقع پر گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ میں یک روزہ سمینار کا انعقاد

پٹنہ،پی جی اسکالر ڈاکٹرمحمد ظفر اقبال نےپریس ریلیز کرتے ہو¿ے کہا کہ آج 4 فروری 2025 بروز منگل عالمی یومِ کینسر(سرطان) کے موقع پر شعبہ ماہیت الامراض گورنمنٹ طبی کالج ،پٹنہ کی جانب سے ایک علمی اور بیداری پر مبنی ایک روزہ سیمینارمنعقد کیا گیا۔جس میں ماہرینِ صحت، طلباء، اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ پروگرام کی شروعات تلاوت قران پاک سے ہوئی۔ ڈاکٹر محمد ظفر اقبال نے تلاوت کی۔اس سیمینار کے سرپرستِ اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر محفوظ الرحمٰن پرنسپل گورنمنٹ طبی کالج و ہسپتال ،پٹنہ،تھے۔جنہوں نے پروگرام کی اہمیت اور اس کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ مہمانِ خصوصی کے طور پر پروفیسر ڈاکٹر عباس مصطفیٰ صدرشعبہ علم الجراحت نے شرکت کی، جنہوں نے اپنے وسیع تجربات اور علمی بصیرت سے شرکاءکو مستفیض کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کینسر جیسے موذی مرض کے خطرات، تحقیق کی ضرورت، اور جدید طبی سہولیات کی دستیابی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، "ایسے علمی پروگرام معاشرے میں صحت کے حوالے سے بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کینسر جیسے موذی مرض سے نمٹنے کے لیے تحقیق، جدید علاج، اور آگاہی مہمات کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ابوالقاسم زہراوی کے تعلق سے انکے کیے گئے کینسر سے متعلق جراحی تجربات کا خاص طور سے ذکر کیا جو آج بھی قابل عمل ہیں" انہوں نے سیمینار کے مقررین کی کاوشوں کو سراہا اور حاضرین کو صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دی۔

سیمینارکے مہمان اعزازی روندکمار، ڈائریکٹر بدھا کینسر سنٹر،پٹنہ نے شرکت کی۔ انہوں نے عالمی سطح پر کینسر کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز، علاج کے جدید طریقے، اور تحقیق میں ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کینسر کے مریضوں کی ذہنی صحت اور ان کی بحالی کے عمل پر بھی زور دیا، اور کہا کہ کینسر کے علاج کے ساتھ ساتھ مریض کی ذہنی اور جذباتی صحت پر توجہ دینا بھی نہایت اہم ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کینسر کے خاتمے میں Autophagy کا اہم رول ہے۔اسکے لیے روزہ رکھنا یا فاقہ کشی کرنا یا کم کھانا،بہت ضروری ہے۔

پروگرام کے آرگنائزنگ چیرمین ڈاکٹرمحمد شمیم اختر صدر شعبہ ماہیت الامراض گورنمنٹ طبی کالج ،پٹنہ نے سیمینار کے کامیاب انعقاد میں مرکزی اور فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے سیمینار کے اغراض و مقاصد بیان کیے اور کہا کہ کینسر ایک خطرناک بیماری ہے ،لیکن بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ہمارا مقصد عوام میں اس حوالے سے بیدار ی پیداکرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکیں۔ان کی قائدانہ صلاحیتیں، عمدہ منصوبہ بندی، اور انتظامی مہارت نے پروگرام کو ایک کامیاب علمی تقریب میں تبدیل کر دیا۔ ان کی انتھک محنت اور و سیع نظری نے سیمینار کو ایک مثالی علمی پلیٹ فارم فراہم کیا۔



سیمینار میں مختلف موضوعات پر پی جی اسکالر شعبہ ماہیت الامراض نے اپنی معلومات پیش کیں۔ ڈاکٹر محمد ظفر اقبال پی جی اسکالر نے 'پروسٹیٹ کینسر' کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے پروسٹیٹ کینسر کی ابتدائی علامات، خطرے کے عوامل، جدید تشخیصی طریقے، اور علاج کی جدید ترین ٹیکنالوجیز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، "پروسٹیٹ کینسر کی بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے مریض کی زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔" ان کا خطاب نہایت جامع اور سائنسی بنیادوں پر مبنی تھا جس نے شرکاءکو اہم معلومات فراہم کیں۔

ڈاکٹر سکینہ بانو نے 'سروائیکل کینسر' کے حوالے سے معلومات فراہم کرتے ہوئے اس کی وجوہات، علامات اور بچاو¿ کے طریقوں پر زور دیا۔ انہوں نے ایچ پی وی ویکسین کی اہمیت اور اس بیماری سے بچاو¿ کے اقدامات پر تفصیل سے بات کی۔9سے 14 سال کی بچیوں کو HPV ویکسین لینا چاہیے۔جن سے سروائکل کنسر(بچہ دانی کا کنسر) کے امکانات 90 فیصد یکم ہو جاتے ہیں۔ڈاکٹر عصمت حیات نے 'بریسٹ کینسر' پر گفتگو کی، جس میں انہوں نے خود معائنہ کرنے کے طریقے اور ابتدائی مراحل میں تشخیص کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

ڈاکٹر تنویر نور نے 'پھیپھڑوں کے کینسر' پر سیر حاصل گفتگو کی، جس میں انہوں نے سگریٹ نوشی کے خطرات، ماحولیاتی آلودگی، اور دیگر خطرناک عوامل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دیا کہ "پھیپھڑوں کے کینسر سے بچنے کے لیے صحت مند طرزِ زندگی اپنانا اور سگریٹ نوشی ترک کرنا ضروری ہے۔" ڈاکٹر سمرن خان نے عالمی یومِ کینسر کے تھیم پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے عالمی سطح پر کینسر سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور آگاہی مہمات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

اس سیمینارمیں ڈپارٹمنٹ آف ماہیت الامراض کے اساتذہ، جن میںسابق پرنسپل جناب پروفیسر توحید کبریا صاحب ، گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ایس کے پنکج ،اسسٹنٹ پروفیسر جناب ادیب احمدصاحب،۔اسکے علاوہ مختلف شعبہ جات مثلاً تحفظی و سماجی طب سے داکٹر ملکہ بلند ،ڈاکٹر وجیہ الدین، ڈاکٹر طلعت ناہیدشعبہ علم الادویہ سے صدر شعبہ ڈاکٹر محمد انس، ڈاکٹر محمد راشد، ڈاکٹر محمد نظام الدین، شعبہ معالجات سے صدر شعبہ داکٹر نجیب الرحمان ، ڈاکٹر جمال احمداور شعبہ کلیات سے صدر شعبہ ڈاکٹر تنویر عالم ، ڈاکٹر متانت کریم ، داکٹر جمال اختر اور پروفیسر رضوان احمد ، شعبہ صیدلہ سے ڈاکٹر محمد یوسف ، شعبہ علم الاطفال سے ڈاکٹر محمد شیبہ فروز اور شعبہ ای این ٹی سے ڈاکٹر خصال احمداور میڈیکل آفیسر ڈاکٹر جاوید احمد اور سبھی پی جی ڈپارٹمنٹ کے پی جی طلبا و طالبات موجود تھے،جنہوں نے سیمینار کی اہمیت میں اضافہ کیا۔

اس تقریب کے تعلق سے کوارڈینیٹرکے فرائض انجام دے رہےپی جی اسکا لر ڈاکٹر محمد ظفر اقبال اور ڈاکٹر سکینہ بانو، اور نظامت کر ر ہےڈاکٹر ندیم اخترنے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ا خیر میں پروفیسر جناب توحید کبریا صاحب نے اس پروگرام کی کامیابی پر طبی کالج کے پرنسپل ،آرگنازنگ چیئرمین ،کوارڈینیٹر ، مہمانان خصوصی اور دیگر شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا۔



Monday, 3 February 2025

وکاس یاترا یاترا کے دوران عوام کا جم غفیر اور ان کا جوش و خروش نتیش کمار کی زبردست مقبولیت کا ثبوت:نول شرما

 




پٹنہ:جے ڈی یو کے ترجمان نول شرما نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی وکاس یاترا کئی لحاظ سے تاریخی ثابت ہو رہی ہے۔ اس یاترا کے دوران عوام کا جم غفیر اور ان کا جوش و خروش نتیش کمار کی زبردست مقبولیت کا ثبوت ہے۔

شرما نے کہا کہ وزیر اعلیٰ جس بھی ضلع کا دورہ کر رہے ہیں، وہاں کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کر رہے ہیں۔ ہر ضلع کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے دور اندیشی کے ساتھ منصوبے ترتیب دیے جا رہے ہیں۔

بانکا ضلع کے بابر چک میں بہار کے پہلے اسمارٹ ولیج کی تعمیر وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی ایک ایسی سوغات ہے جسے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ یہ گاو¿ں خاص طور پر اس لحاظ سے اہم ہے کہ 1989 کے فسادات میں یہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا، لیکن آج وہی گاو¿ں جدید سہولیات سے آراستہ ایک اسمارٹ ولیج کے طور پر وزیر اعلیٰ کے وژن کا ثبوت پیش کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وکاس یاترا سے بہار میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، جو ریاست کی ہمہ جہتی ترقی کو مزید رفتار دے گا۔


ڈاکٹر شکیل احمد خان کے فرزند آیان کی ناگہانی موت پر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ سمیت سنیئر کانگریسی رہنماﺅں کا اظہار غم

 


پٹنہ، 03 فروری 2025 بہار کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر شکیل احمد خان کے اکلوتے بیٹے آیان خان کے ناگہانی انتقال پرریاستی کانگریس صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ سمیت پارٹی کے سینئر رہنماو¿ں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

ریاستی کانگریس صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ بارہویں جماعت میں زیر تعلیم آیان ایک نہایت نیک دل اور شریف النفس طالب علم تھے۔ ان کے اچانک انتقال سے پورا کانگریسی کنبہ غمزدہ ہے۔ میں دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اہل خانہ کو اس صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔

ڈاکٹر شکیل احمد خان کے فرزند آیان کے انتقال پر قانون ساز کونسل میں پارٹی لیڈر ڈاکٹر مدن موہن جھا، سابق گورنر نکھل کمار، سابق وزیر کرپاناتھ پاٹھک، پریم چندر مشر، ڈاکٹر سمیر کمار سنگھ، نریندر کمار، اودھیش کمار سنگھ، برجیش پانڈے، برجیش پرساد منن، نرمل ورما، راجیش راٹھوڑ، لال بابو لال، ایم ایل اے اظہار الحسن، منا تیواری، ڈاکٹر اجے کمار سنگھ، ترجمان آنند مادھو، ڈاکٹر سنہاشیش وردھن پانڈے، گیان رنجن، راج کشور سنگھ، ندھی پانڈے، آشوتوش شرما، سدے شرما سمیت دیگر رہنماو¿ں نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔


Friday, 31 January 2025

ڈونلڈ ٹرمپ کی ہندوستان اور چین کو وارننگ، ’ڈالر کو چیلنج کیا تو 100 فیصد ’ٹیرف‘ لگایا جائے گا‘

 







واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس ممالک، جن میں ہندوستان، چین، روس، برازیل اور جنوبی افریقہ شامل ہیں، کو سخت وارننگ دی ہے کہ اگر انہوں نے امریکی ڈالر کے غلبہ کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی کرنسی لانچ کی تو ان پر 100 فیصد ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں دیا۔


ٹرمپ نے کہا کہ برکس ممالک امریکی ڈالر کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر وہ نئی کرنسی کا اجراء یا کسی اور کرنسی کی حمایت کریں گے تو انہیں امریکی بازار سے باہر کر دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اس خطرے کو خاموشی سے نہیں دیکھے گا اور سخت اقدامات کرے گا۔



برکس ممالک کی جانب سے اپنی کرنسی بنانے کا مقصد عالمی تجارت میں امریکی ڈالر پر انحصار کو کم کرنا ہے۔ روس اور چین پہلے ہی یوان اور دیگر مقامی کرنسیوں میں تجارت کر رہے ہیں اور اب یہ گروپ ایک مشترکہ کرنسی کے ذریعے امریکی ڈالر کی برتری کو کم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔


ماہرین کے مطابق، اگر برکس ممالک اپنی کرنسی لانچ کرتے ہیں، تو یہ امریکی ڈالر کے غلبہ کو کمزور کر سکتا ہے اور امریکہ کی اقتصادی طاقت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ امریکہ کی عالمی معاشی برتری کی ایک بڑی وجہ اس کے ڈالر کی اہمیت ہے، جو اگر کم ہوئی تو امریکی معیشت کو بڑا جھٹکا لگ سکتا ہے۔


چین اور روس پہلے ہی امریکی ڈالر سے دور ہونے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں، اور ہندوستان اور برازیل بھی مقامی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔



صدر ٹرمپ کا خطرناک منصوبہ، 30000 غیر قانونی تارکین وطن کو گوانتانامو بے جیل بھیجنے کی تیاری!

 








امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ حلف برداری کے بعد سے ہی غیر قانونی تارکین وطن پر شکنجہ کسنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ اس درمیان بدھ کو ان کے ایک بیان نے سبھی کو چونکا دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کے لیے ایک ڈِٹینشن سینٹر بنائیں گے جہاں 30 ہزار سے زیادہ لوگوں کو ایک ساتھ رکھا جائے گا۔


ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر امریکہ میں رہ رہے لوگوں کو کیوبا کے مشرقی کنارے پر واقع بدنام زمانہ گوانتانامو جیل میں رکھنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ غور طلب ہے کہ اس جیل کو 9/11 کے حملوں کے بعد بنوایا گیا تھا جہاں سب سے خطرناک دہشت گردوں کو رکھا جاتا تھا۔


اس سے پہلے بدھ کو ٹرمپ نے غیر قانونی تارکین وطن کو بغیر مقدمہ کے حراست میں لینے کی اجازت دینے والے قانون کو بھی منظوری دے دی۔ یہ دوسری مدت کار میں ٹرمپ کے ذریعہ دستخط کیا گیا پہلا قانون بھی بن گیا ہے۔ اس قانون کو منظوری دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ گوانتانامو جیل کا یہ منصوبہ امریکہ میں تارکین وطن کے ذریعہ کیے جا رہے جرم کی لعنت سے ا?زادی دلائے گا۔


ٹرمپ نے کہا "ہمارے پاس گوانتانامو میں 30000 بیڈ ہیں جہاں ہم امریکی لوگوں کو دھمکانے والے خطرناک مجرم غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں رکھ سکتے ہیں۔"



قابل ذکر ہے کہ گوانتانامو بے فوجی جیل کو جنوری 2002 میں جنوب-مشرقی کیوبا میں امریکی بحریہ کے ایک بیس پر کھولا گیا تھا۔ اس کے بعد سے دہشت گردانہ سرگرمیوں اور دہشت گردی سے متعلق جرائم کے شبہ میں حراست میں لیے گئے تقریباً 800 لوگوں کو یہاں رکھا گیا تھا۔ گوانتانامو بے میں فی الحال افغانستان اور عراق کے جنگجو سمیت 9/11 حملوں میں شامل 15 مجرمین قید ہیں جن میں ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد بھی شامل ہے۔


حالانکہ یہاں کی حالت ٹھیک نہیں ہونے کی وجہ سے کئی بار امریکہ کی سخت تنقید بھی ہوئی ہے۔ حقوق انسانی تنظیموں کی تنقید کے بعد سابق صدر براک اوبامہ اور جو بائیڈن نے اپنی مدت کار کے دوران اس جیل کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اراکین پارلیمنٹ نے اس کی مخالفت کی تھی جس کی وجہ سے ا?ج بھی یہ جیل کھلا ہے۔




امریکہ: طیارے اور ہیلی کاپٹر کے حادثے میں تمام 67 افراد ہلاک

 



امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب امریکن ایئرلائنز کا ایک طیارہ اور ایک ہیلی کاپٹر آمنے سامنے ٹکرا گئے۔ تصادم کے بعد طیارہ اور ہیلی کاپٹر ٹوٹ کر دریا میں جا گرے۔ اب اس حادثے کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے واشنگٹن کے فائر چیف نے کہا کہ اس حادثے میں تمام 67 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔


واشنگٹن ڈی سی کے فائر چیف کا کہنا ہے کہ طیارے اور ہیلی کاپٹر کے درمیان تصادم میں کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔ واشنگٹن ڈی سی فائر اور ای ایم ایس کے سربراہ جان ڈونیلی نے کہا کہ اب ہم ریسکیو آپریشن کو ریکوری آپریشن میں تبدیل کر رہے ہیں۔ کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اس حادثے میں کوئی نہیں بچا۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹیشن سیکرٹری نے بتایا کہ حادثے کے بعد امریکن ایئر لائن کے طیارے کے تین ٹکڑوں میں پوٹو میک دریا میں پائے گئے۔



حکام کا خیال ہے کہ امریکن ایگل فلائٹ 5342 ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب آرمی کے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر سے ٹکرا گئی۔ طیارے میں سوار تمام مسافر اور عملے کے ارکان کی موت ہوگئی اور سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ قبل ازیں ریسکیو ٹیم نے دریا سے 19 لاشیں نکالیں۔


رپورٹ کے مطابق یہ ایک چھوٹا مسافر طیارہ تھا جو کنساس سے واشنگٹن آرہا تھا۔ طیارے میں 65 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ حادثے کے وقت طیارے میں 64 مسافر سوار تھے۔ جبکہ آرمی ہیلی کاپٹر میں تین افراد سوار تھے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے والا تھا۔ اس کے بعد پیچھے سے آنے والا امریکی فوج کا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اس سے ٹکرا گیا۔ اس کے بعد وہ دونوں ٹکرا گئے اور دریائے پوٹومیک میں گر گئے۔