Thursday, 20 February 2025

مصر کے صدر السیسی سعودی عرب کے دورے پر روانہ،غزہ سے متعلق پیش رفت پر بات کریں گے

 









مصر کے سرکاری ٹی وی نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ صدر عبدالفتاح السیسی سعودی عرب روانہ ہو رہے ہیں اور توقع ہے کہ وہ وہاں غزہ سے متعلق پیش رفت پر بات کریں گے۔


عرب ریاستیں جنگ کے بعد غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبے پر تبادلہ ¿ خیال کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں جو ممکنہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کے زیرِ قبضہ پٹی کی تعمیرِ نو کی تجویز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہے۔



سعودی عرب:ولی عہد کی طرف سےخلیجی سربراہان،شاہ عبداللہ دوم اورصدرالسیسی کوریاض آنے کی دعوت

 





خلیجی ملکوں کے سربراہان کے ساتھ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم جمعہ کے روز سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر ریاض پہنچیں گے۔ یہ خبر سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ' ایس پی اے ' نے جمعرات کو رپورٹ کی ہے۔


خبر رساں ادارے کے مطابق عرب ممالک کے یہ یہ رہنما خطے کی موجودہ صورت حال کے اس اہم موقع پر باہمی مشاورت کا اہتمام کریں گے۔ اس سے قبل عرب وزرائے خارجہ کا ایک اہم اور ہنگامی اجلاس اسی ماہ کے دوران مصر میں ہو چکا ہے جو غزہ سے فلسطینیوں کو مصر اور اردن منتقل کرنے کے امریکی منصوبے کے پس منظر میں منعقد کیا گیا تھا۔جس کے بعد مصری وزیر خارجہ اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم الگ الگ امریکہ کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔


لیکن خبر رساں ادارے ' ایس پی اے ' کے مطابق ولی عہد کی دعوت پر ان رہنماو¿ں کا مشترکہ مگر غیر رسمی نوعیت کا اجلاس ہو گا۔ یہ ان رہنماو¿ں کی معمول کی نجی دوستانہ طرز کی ملاقاتوں میں سے ایک ملاقات ہوگی۔ اس غیر رسمی اور دوستانہ ملاقاتوں کا اہتمام کئی برسوں سے کیا جا رہا ہے۔ جو مضبوط برادرانہ تعلقات کا مظہر ہوتی ہیں۔


ان دوستانہ ملاقاتوں میں باہمی تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے امکانات کو آگے بڑھانے کے امور پر غور کیا جاتا ہے اور باہمی دلچسپی کے امور کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔


' ایس پی اے ' کے مطابق خلیجی ملکوں اور مصر و اردن کے درمیان تعاون کے علاوہ اگلی غیر معمولی عرب سربراہ کانفرنس جو 4 مارچ کو غزہ کے سلسلے میں مصر کی طرف سے بلائی گئی ہے۔ علاوہ ازیں جمعہ کے روز کی غیر رسمی ملاقات کے دوران دیگر کئی امور پر بھی عرب سربراہان کے درمیان تبادلہ خیال ہوگا۔



اسمبلی انتخابات میں نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹ دیے جائیں گے : ڈاکٹر اکھیلیش

 



پٹنہ، 20 فروری :بہار میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نوجوان کارکنوں کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹ دے کر ان کا حق دلائے گی۔ بہار کی سیاست میں نوجوانوں کی شمولیت کو یقینی بنانا ہمیشہ میرا مقصد رہا ہے تاکہ بہار میں متحرک قیادت کی کمی محسوس نہ ہو۔ یہ باتیں بہار کانگریس کے صدر ڈاکٹر اکھیلیش پرساد سنگھ نے کہی۔ وہ بہار پردیش یوتھ کانگریس کی جانب سے منعقدہ 'شنکھناد پردیش ایگزیکٹو میٹنگ' میں خطاب کر رہے تھے۔ اس پروگرام کا انعقاد بنیادی طور پر بہار کے نومنتخب انچارج کرشنا اللہ وار±و کے استقبال کے لیے کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ کرشناالاروفی الحال یوتھ کانگریس کے قومی انچارج بھی ہیں۔

بہار کانگریس کے انچارج الا رونے مختلف اضلاع سے آئے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہاگٹھ بندھن میں ملنے والی سیٹوں کی فکر کیے بغیر، یوتھ کانگریس کے کارکنان 'چلو پنچایت، چلو گاو¿ں' پروگرام کو تیز کریں، کیونکہ سیاست میں زمین یہی سے تیار ہوتی ہے اور آپ کا مستقبل بھی اسی سے طے ہوتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نکارہ کارکنوں کو پانچ دن کے اندر تنظیم سے نکال دیا جائے گا۔

یوتھ کانگریس کے محمد شہید نے کہا کہ بہار پردیش یوتھ کانگریس کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔جبکہ ریاستی یوتھ کانگریس کے صدر شیور پرکاش غریب داس نے کرشنا الار±و کے پہلی بار پٹنہ آمد پر ان کا استقبال کیا اور یوتھ کانگریس کی تنظیم میں مضبوط شمولیت اور انتخابات میں مناسب ٹکٹ تقسیم کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر محمد شہید، سمرات کیشری جینا، روشنی کوشل جیسوال موجود رہے۔پروگرام کی صدارت بہار پردیش یوتھ کانگریس کے صدر شیور پرکاش غریب داس نے کی۔مزید منو جین، سابق ایم ایل اے امیت کمار ٹنا، سابق یوتھ کانگریس صدر گنجن پٹیل، ابھیشیک رنجن، ابو تنویر، وکاس جھا، بٹو یادو، مکل یادو، وویک چوبے، صدام عارف نواز بھی اس موقع پر موجود تھے۔ 


اسمارٹ رائیڈنگ کے تجربے میں انقلابی تبدیلی لانے کے لیے پیور ای وی اور جیو تھنگز کے درمیان شراکت

 



رائے پور، فروری : بھارت کے معروف ٹو وہیلر مینوفیکچررز میں سے ایک، پیور ای وی نے اپنے الیکٹرک وہیکلز میں سمارٹ ڈیجیٹل کلسٹر اور ٹیلی میٹکس کو شامل کرنے کے لیے جیو پلیٹ فارمز لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی جیو تھنگز لمیٹڈ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (MOU) پر دستخط کیے ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد جدید آئی او ٹی سلوشنز، مستحکم کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل انٹیگریشن کے ذریعے صارف کے تجربے کو نئی جہت دینا ہے۔

پیور ای وی اپنے الیکٹرک وہیکلز میں جیو تھنگز اسمارٹ ڈیجیٹل کلسٹرز کا استعمال کرے گا، جن میں اینڈ ٹو اینڈ آئی او ٹی سلوشنز شامل ہوں گے تاکہ ان کی کارکردگی اور انٹرایکٹوٹی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ 4G کنیکٹیویٹی سے لیس ٹیلی میٹکس کے اضافے کی بدولت صارفین کو حقیقی وقت میں اپنے وہیکل کی کارکردگی کی نگرانی کرنے اور مزید مو¿ثر آپریشن کے لیے مفید ڈیٹا حاصل کرنے کی سہولت ملے گی۔

جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال

جیو تھنگز 4G اسمارٹ ڈیجیٹل کلسٹر اینڈرائیڈ اوپن سورس پروجیکٹ (AOSP) پر مبنی AvnionOS کا استعمال کرتا ہے۔ یہ ریئل ٹائم ڈیٹا اینالیٹکس، ٹو وہیلر انٹرفیس کسٹمائزیشن اور فل ایچ ڈی+ ٹچ اسکرین ڈسپلے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ انقلابی ڈیجیٹل کلسٹر OEMs (اورجینل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز) کو اپنے پروڈکٹس میں جدید آئی او ٹی سلوشنز کو تیزی سے شامل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

جیو آٹوموٹیو ایپ سوئٹ (JAAS) ایک اور جدید انٹیگریٹڈ سلوشن ہے، جو ٹو وہیلر صارفین کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ پروڈکٹس اور سروسز کی ایک رینج پیش کرتا ہے۔ اس میں جیو اسٹور، میوزک اسٹریمنگ، ویب براو¿زنگ، ہینڈز فری وائس اسسٹنٹ، نیویگیشن اور گیمنگ جیسی سہولتیں شامل ہیں۔

پیور ای وی کے بانی اور منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نشانت ڈونگری نے کہا:"ہمارے وہیکلز میں ‘Exploring JioThings’ کی جدید آئی او ٹی صلاحیتوں کا اضافہ، پیور ای وی کی پروڈکٹس کو اعلیٰ انڈسٹری معیارات تک پہنچانے کا ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔ ہمارا ہدف اپنے وہیکلز کی کارکردگی اور انٹرایکٹوٹی کو بڑھا کر الیکٹرک موبیلٹی کے تصور کو نئے سرے سے متعارف کرانا ہے۔ یہ اقدام EV ایکو سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور صارفین کو بہترین کنیکٹیویٹی، فنکشنلٹی اور سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔”

جیو پلیٹ فارمز لمیٹڈ کے صدر آشیش لوڈھا نے کہا:"ہمیں پیور ای وی کے ساتھ شراکت داری کر کے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ کمپنی الیکٹرک موبیلٹی اسپیس میں جدت اور معیار کی ہماری سوچ سے ہم آہنگ ہے۔ ہمارے جدید آئی او ٹی سلوشنز کے ذریعے، ہم پیور ای وی کی مدد کرنا چاہتے ہیں تاکہ صارفین کو بہترین الیکٹرک ٹو وہیلر تجربہ فراہم کیا جا سکے، جو نئی کنیکٹیویٹی اور کارکردگی کے معیار طے کرے گا۔ یہ شراکت داری الیکٹرک ٹو وہیلر انڈسٹری کے مستقبل کی تشکیل اور پائیدار ٹرانسپورٹ سلوشنز کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگی۔”


اڈانی-اسکون مہاپرساد: دنیا کا سب سے درست فوڈ ڈسٹریبیوشن سسٹم، کھانے کا ضیاع نہ ہونے کے برابر

 





اڈانی اور اسکون نے کھانے کے ضیاع کو روکنے کے لیے مضبوط نظام بنایا

اڈانی گروپ اور اسکون مل کر پریاگ راج کمبھ میلہ کے ساتھ ساتھ شہر بھر میں مہاپرساد کی تقسیم کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اڈانی گروپ نے روزانہ 1 لاکھ عقیدت مندوں کو کھانا فراہم کرنے کا عزم کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسکون کے باورچی خانے میں سارا دن سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ لاکھوں افراد تک پہنچنے والے اس پرساد کی سب سے نمایاں خصوصیت کھانے کے ضیاع کو روکنے کے لیے کی جانے والی منصوبہ بندی اور کاوشیں ہیں۔ اسکون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کسی بھی حالت میں کھانے کا ضیاع 2 فیصد سے زیادہ نہیں ہونے دیا جاتا۔

اسکون کے باورچی خانے میں مہاپرساد کی تیاری کا عمل رات 2 بجے کے قریب شروع ہو جاتا ہے۔ اسکون کے سیوک (رضاکار) نکھل بتاتے ہیں کہ ہم روز صبح اس کام کے لیے نکلتے ہیں اور تقریباً 500 کوئنٹل سبزیاں خریدی جاتی ہیں۔ یہ خریداری اچانک نہیں ہوتی بلکہ ایک دن پہلے سے منصوبہ بندی کر لی جاتی ہے کہ پرساد میں کیا پیش کیا جائے گا۔ آنے والے دن کی منصوبہ بندی بھی مکمل طور پر تیار رکھی جاتی ہے۔

پرساد کی تیاری کے ساتھ ہی کھانے کے ضیاع کو روکنے کے لیے بھی ایک خاص حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے۔ اس کے لیے 4 افراد کی ایک خصوصی ٹیم ہے جو مسلسل کھانے کی کھپت کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ یہ ٹیم ہر گھنٹے میں کھانے کی کھپت کا جائزہ لیتی ہے۔ اندازے کے مطابق کمبھ میلے میں ایک مقام پر ایک گھنٹے میں تقریباً 800 سے 1000 افراد مہاپرساد کھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی جانچا جاتا ہے کہ لوگ کتنی مقدار میں کھا رہے ہیں۔ پرساد تقسیم کرنے والی ٹیم کے ایک رکن کے مطابق، عام طور پر جب لوگ بیٹھ کر کھاتے ہیں تو فی کس مقدار تقریباً 750 گرام ہوتی ہے، جبکہ کھڑے ہو کر یا چلتے پھرتے کھانے کی صورت میں یہ مقدار 350-400 گرام تک کم ہو جاتی ہے۔

اڈانی-اسکون کی مہاپرساد تقسیم کرنے والی ٹیم کے پاس زوماٹو اور سوئیگی جیسے فوڈ ایپس کے ٹریکنگ سسٹم نہیں ہیں، لیکن پھر بھی تقسیم کا عمل مسلسل مانیٹر کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے 4-5 افراد پر مشتمل ایک ٹیم ہے جو باورچی خانے سے باہر جانے والے کھانے کی مسلسل نگرانی کرتی ہے۔ جہاں جہاں مہاپرساد تقسیم کیا جا رہا ہے، وہاں موجود ٹیم کے ارکان وقتاً فوقتاً کھانے کی دستیابی اور کھپت کی اطلاع دیتے رہتے ہیں۔

شام ہوتے ہی تمام تقسیم مراکز سے بچا ہوا کھانا اکٹھا کر کے دوبارہ 6 سے 7 بجے تک بانٹ دیا جاتا ہے۔ ایک ٹیم یہ بھی چیک کرتی ہے کہ کھانے کی کوالٹی برقرار ہے یا نہیں۔ اگر کسی وجہ سے کھانے کو واپس لانا ممکن نہ ہو تو اڈانی اور اسکون کے رضاکار ٹریفک جام میں پھنسے یا پیدل چلنے والے افراد میں اسے تقسیم کر دیتے ہیں۔

یہ تمام اقدامات اس مقصد کے تحت کیے جا رہے ہیں کہ کھانے کا ایک دانہ بھی ضائع نہ ہو۔ اڈانی گروپ نے اسکون کے ساتھ مل کر روزانہ 1 لاکھ افراد میں مہاپرساد تقسیم کرنے کا ہدف رکھا ہے، جو کمبھ میلے کے اختتام تک جاری رہے گا۔ اس کے علاوہ، اڈانی گروپ گیتا پریس کے ساتھ مل کر 1 کروڑ آرتی سنگرہ بھی تقسیم کر رہا ہے۔


خواتین کو بااختیار بنانے کے معاملے میں بہار ایک سرکردہ ریاست: شیلا منڈل

 




پٹنہ، 20 فروری :جمعرات کو جنتا دل (یونائیٹڈ) کے ریاستی دفتر، پٹنہ میں منعقدہ عوامی سماعت پروگرام میں بہار حکومت کی معزز وزیر برائے ٹرانسپورٹ، محترمہ شیلا منڈل نے ریاست کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے لوگوں کے مسائل کو سنا اور ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات دیں۔

اس موقع پر معزز ایم ایل سی سنجے کمار سنگھ عرف گاندھی جی اور پارٹی کے ریاستی جنرل سیکریٹری ارون کمار سنگھ بھی موجود تھے۔

اس دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے معزز وزیر محترمہ شیلا منڈل نے کہا کہ معزز وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے خواتین کے بااختیار بنانے کے میدان میں جو تاریخی اقدامات کیے ہیں، ان کی پذیرائی نہ صرف ملک میں بلکہ پوری دنیا میں ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے ہمارا بہار آج ایک سرکردہ ریاست ہے۔


روہتاس میں امری مسجد کی زمین کو تجاوزات سے آزاد کرایا جائے: اعجاز احمد

 




پٹنہ، 20 فروری 2025:بہار پردیش راشٹریہ جنتا دل کے ترجمان اعجاز احمد نے بہار حکومت سے فوری طور پر وقف اسٹیٹ نمبر 1982 امری مسجد، کرواندیہ، ساسارام کو پٹنہ ہائی کورٹ کے حکم (سی ڈبلیو جے سی 2012 16442) کے تحت تجاوزات سے آزاد کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں شمش الحق انصاری، سیکریٹری وقف اسٹیٹ نمبر 1982 کی جانب سے سنی وقف بورڈ سے لے کر مقامی انتظامیہ تک درخواستیں دی جا رہی ہیں، لیکن اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ اس وجہ سے نمازیوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مسجد کی زمین پر تجاوزات کرنے والے مسلسل قبضہ کرتے جا رہے ہیں، جس سے عوام میں شدید غصہ اور بےچینی پائی جا رہی ہے۔

اعجاز احمد نے ریاستی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر پٹنہ ہائی کورٹ کے حکم کی روشنی میں امری مسجد کی زمین کو تجاوزات سے آزاد کرا کر نمازیوں کو انصاف دلائیں تاکہ معاشرے میں بہتر اور پرامن ماحول پیدا ہو سکے۔ 


Wednesday, 19 February 2025

مسلمانوں کے اندر سیاسی شعور کی کمی ہے : پرشانت کشور

 





پٹنہ: مسلم سماج میں سیاسی شعور بیدار نہیں ہو رہا ہے۔ ان کے دل و دماغ میں ڈر بیٹھا ہوا ہے کہ اگر ہم اپنے حق و حقوق کیلئے احتجاج کریں گے تو گرفتار ہو جائیں گے لیکن اگر کوئی مسلم نوجوان غلط طریقے سے گرفتار ہوتا ہے تو جن سوراج اسے بچائے گا لہذا مسلمانوں کو جمہوریت میں حصہ دار بننا پڑے گا ورنہ آپ کا وجود ختم ہو جائے گا۔مذکورہ باتیں آج ستیہ گرہ آشرم میں جن سوراج کے روح رواں پرشانت کیشور نے اردو اخبارات کے نمائندوں اور صحافیوں سے ایک خصوصی ملاقات میں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست صرف چناو± لڑنے یا ووٹ کرنے کا نام نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو گاندھی جی نے کبھی چناو± نہیں لڑا تو کیا ان سے بڑا کوئی لیڈر پیدا ہوا۔ لہزا جس کے ساتھ عوام ہوگی وہی اپنے سماج کا لیڈر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا کی اپنی کوئی طاقت نہیں ہے بلکہ سنگھ کی طاقت پر بھاجپا اقتدار میں آتی ہے۔ سنگھ مسلسل اپنے وچار دھارا کیلئے برسوں برس سے کام میں لگا ہوا ہے۔ اس لئے ابھی وچار دھارا کی لڑائی چل رہی ہے۔ واجپائی، اڈوانی، مودی، یوگی سب سنگھ کے وچار دھارا سے نکل کر آئے ہیں۔ میں نے پایا ہے کہ مسلمانوں کے اندر اتحاد کی کمی ہے مسلم سماج کو سیاسی طور پر بیدار کرنے کی میں مسلسل کوشش کر رہا لیکن وہ اپنے بچوں کو سیاسی تربیت حاصل کرنے کیلئے نہیں بھیج رہے ہیں۔ وہ اسلام کی بنیادی تعلیم سے بھی بے بہرہ ہیں اسلام نے تعداد کی بات کبھی نہیں کی۔ اگر تعداد کی بات ہوتی تو اسلام مذہب کبھی کھڑا ہی نہیں ہوتا۔ سچ پوچھئے تو مسلمانوں کی لیڈر شپ کو راجد نے ختم کیا۔ وقف بل کے سلسلے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ نائڈو، جگن ریڈی، اور نتیش کمار ہی اس بل کو روک سکتے ہیں ان سے سوال کرنے کی ضرورت ہے ان پارٹیوں کے مسلم لیڈروں کو احتجاج کرنے کی ضرورت ہے پارٹی سے استعفی دینے کی ضرورت ہے اگر میں کہہ دوں کہ وقف بل کے خلاف ہوں تو اس سے کیا ہوگا انہوں نے کہا کہ جن گننا کے مطابق بہار میں مسلمانوں کی تعداد 18 فیصد ہے تو جن سوراج آبادی کے مطابق مسلمانوں کو اسمبلی انتخاب کیلئے ٹکٹ دے گا۔ اگر لوگ کہتے ہیں کہ جن سوراج بھاجپا کی بی ٹیم تو یہ غلط ہے نتیش کمار بھاجپا کے ساتھ ہیں تو مسلمان ان کو کیوں ووٹ کرتے ہیں اسی لئے میں کہتا ہوں کہ مسلمانوں کے اندر سیاسی شعور کی کمی ہے۔


Tuesday, 18 February 2025

غزہ کی پٹی کے حوالے سے مصر کے منصوبے کی نئی تفصیلات

 







امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی پٹی کی آبادی کی ہمسایہ ممالک جبری ہجرت سے متعلق دھماکا خیز تجویز کے بعد سے مصر غزہ کی تعمیر نو کے ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہا ہے جس میں فلسطینیوں کے کوچ کی نوبت نہ آئے۔



مصری تجویز میں غزہ کے اندر "محفوظ علاقوں" کا قیام شامل ہے جہاں فلسطینی عارضی طور پر رہ سکیں جب کہ اس دوران میں مصری اور بین الاقوامی ملبے کو صاف کر کے بنیادی ڈھانچے کو دوبارہ سے بحال کریں۔


اسی طرح تجویز میں غزہ کی پٹی کے انتظامی امور چلانے اور تعمیر نو کی کوششوں کی نگرانی کے لیے ایک ایسی غیر جانب دار فلسطینی انتظامیہ بنانا بھی مذکورہ ہے جو حماس یا فلسطینی اتھارٹی میں سے کسی کی جانب مائل نہ ہو۔ یہ بات ان کوششوں میں شریک مصری ذمے داران نے بتائی۔


مصری تجویز میں ایک فلسطینی پولیس فورس تشکیل دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ یہ فورس مرکزی طور پر فلسطینی اتھارٹی کے ان سابق پولیس اہل کاروں پر مشتمل ہو جو 2007 میں غزہ کی پٹی پر حماس کے کنٹرول کے بعد وہاں باقی رہ گئے۔ اس فورس کو مصر اور مغربی ممالک کی تربیت یافتہ فورس کی کمک فراہم کی جائے گی۔


مصری منصوبے میں غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کو تین مراحل پر تقسیم کیا گیا ہے۔ مصری ذمے داران کے مطابق تعمیر نو میں پانچ برس کا عرصہ درکار ہو گا اور اس دوران میں فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی سے باہر نہیں نکالا جائے گا۔


اسی طرح غزہ کے اندر تین "محفوظ علاقوں" کا تعین کیا گیا ہے جہاں فلسطینیوں کو ابتدائی چھ ماہ کے لیے منتقل کیا جائے گا۔ ان علاقوں کو موبائل گھروں اور پناہ گاہوں سے لیس کیا جائے گا، ساتھ ہی انسانی امداد کی ترسیل بھی جاری رہے گی۔


غزہ کی پٹی میں ملبے کی صفائی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو میں بیس سے زیادہ مصری اور بین الاقوامی کمپنیاں شریک ہوں گی۔

غزہ میں عرب فورس تعینات کرنے کے امکان کے حوالے سے سوال کے جواب میں ایک مصری اور عرب سفارت کار نے کہا کہ عرب ممالک اس صورت میں آمادہ ہوں گے اگر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے "واضح راستہ" موجود ہوا۔


یہ تجویز ابھی تک زیر بحث ہے۔ مصری عہدے داران اس منصوبے پر یورپی سفارت کاروں، سعودی عرب، قطر اور امارات کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ بات عرب اور مغربی سفارت کاروں نے بتائی۔


اسی طرح تعمیر نو کے لیے فنڈنگ کے طریقے بھی زیر غور ہیں۔ ان میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد شامل ہے۔


مصر کی یہ تجویز رواں ہفتے ریاض میں مصر، سعودی عرب، قطر، امارات اور اردن کے ذمے داران کے بیچ زیر بحث آئے گی۔ بعد ازاں اسے رواں ماہ عرب سربراہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ یہ بات مصری ذمے داران اور ایک عرب سفارت کار نے بتائی۔


دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ کی آئندہ حکومت میں حماس یا فلسطینی اتھارٹی کے کسی بھی کردار کو مسترد کر دیا ہے۔


ادھر حماس نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں اقدار سے دست بردار ہونے کے لیے تیار ہے۔ حماس کے ترجامن عبداللطيف القانوع نے اتوار کے روز ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ حماس نے غزہ کی پٹی کو چلانے کے لیے فلسطینی یکجہتی کی حکومت یا ٹیکنوکریٹس کمیٹی کو قبول کر لیا ہے جس میں حماس شامل نہیں ہو گی۔


یاد رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے غلاف غزہ کے علاقے میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر بڑے حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں جنگ چھیڑ دی۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں اور بم باری میں ڈھائی لاکھ رہائشی یونٹ تباہ ہو چکے ہیں۔


اسی طرح غزہ کی پٹی میں 90% سے زیادہ راستے اور 80% سے زیادہ طبی تنصیبات تباہ ہو گئیں۔

غزہ کی پٹی میں بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ 30 ارب ڈالر کے قریب لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گھروں اور رہائش گاہوں کو ہونے والے نقصان کا اندازہ تقریبا 16 ارب ڈالر ہے۔


امریکا روس بات چیت کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کیوں ہوا ؟




 امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دورے کے بعد آج منگل کے روز سعودی دار الحکومت ریاض میں امریکا اور روس کے سینئر عہدے داران کا اجلاس متوقع ہے۔ اجلاس کا مقصد ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات میں پیش رفت کےلیے بات چیت کا اجرا اور یوکرین کے حوالے سے مذاکرات کے لیے سرکاری طور پر بنیادی وضع کرنا ہے۔ یہ اجلاس بعد ازاں سعودی عرب میں روسی صدر ولادی میری پوتین اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان سربراہ اجلاس کی راہ ہموار کرے گا۔ لہذا اس سفارتی تحریک کی اہمیت نمایاں ہو گئی ہے۔


واضح رہے کہ ٹرمپ اور پوتین کی آئندہ ملاقات کے لیے ریاض کا انتخاب بے سوچے سمجھے نہیں کیا گیا۔ یہ سعودی دار الحکومت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تزویراتی غیر جانب داری اور عالمی سطح پر مملکت کا بطور وساطت کار کردار ظاہر کر رہا ہے۔

سعودی عرب طویل عرصے سے خطے میں امریکا کا اتحادی ہے۔


اسی طرح دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے ذریعے سعودی عرب نے تیل سے متعلق پالیسی میں روس کے ساتھ قریب رہ کر کام کیا ہے۔ فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے مملکت نے خود کو بطور وساطت کار پیش کیا۔


ادھر مملکت نے کئیف حکومت کے ساتھ بھی قابل اعتماد تعلق برقرار رکھا۔ سعودی عرب نے ایک سے زیادہ مرتبہ یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی کا استقبال کیا۔ وہ اپنے ایک دورے میں مئی 2023 میں جدہ میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں بھی شریک ہوئے۔ گذشتہ برس جون میں زیلنسکی نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔


معلوم رہے کہ زیلنسکی کل بدھ کے روز ایک بار پھر ریاض کے سرکاری دورے پر پہنچیں گے جس کی منصوبہ بندی کافی عرصہ پہلے کر لی گئی تھی۔ البتہ وہ مملکت میں روسی یا امریکی عہدے داران سے ملاقات کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔ یہ بات پیر کو زیلنسکی کے ترجمان نے بتائی۔


روس اور یوکرین کی جنگ میں سعودی عرب نے اپنی غیر جانب دار حیثیت برقرار رکھی۔ مملکت نے مقابلے کو تقویت دینے کے بجائے تنازع کے فریقوں کے بیچ حل کے لیے جگہ بنانے کی کوشش کی۔


سعودی عرب نے ستمبر 2022 میں یوکرین میں یرغمال غیر ملکی جنگجوؤں کی رہائی میں بھی کردار ادا کیا۔ ان میں دو کا تعلق امریکا اور پانچ کا برطانیہ سے تھا۔


اسی طرح سعودی عرب نے اگست 2023 میں روس یوکرین جنگ کے حوالے سے بات چیت کے لیے 40 سے زیادہ ممالک کے نمائندوں کی میزبانی کی تاہم اس میں روس نے شرکت نہیں کی۔


اس سلسلے میں برمنگھم یونیورسٹی میں سعودی خارجہ پالیسی کے ماہر عمر کریم کا کہنا ہے کہ آج ہونے والا اجلاس یہ واضح کرتا ہے کہ سعودی قیادت نے ٹرمپ اور پوتین دونوں کے ساتھ دوستانہ قریب تعلق استوار کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب فریقین کے لیے ایک غیر جانب دار اور قابل اعتماد شریک کی حیثیت رکھتا ہے۔


اکتوبر 2023 میں غزہ میں جنگ چھڑنے کے بعد سے سعودی عرب خطے کی سطح پر سرگرم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ جنگ چھڑنے کے ایک ماہ بعد مملکت نے ایک ہنگامی عرب اسلامی سربراہ اجلاس کی میزبانی بھی کی۔


اسی طرح سعودی عرب آئندہ جمعے کے روز ایک چھوٹا سربراہ اجلاس منعقد کر رہا ہے جس میں غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی اردن اور مصر منتقلی سے متعلق ٹرمپ کی تجویز پر رد عمل زیر بحث آئے گا۔ اجلاس میں مصر اور اردن کے علاوہ خلیج تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک کی قیادت شریک ہو گی۔


لبنان کا دوٹوک مؤقف: اسرائیلی فوج کا باقی رہنا "قبضہ" تصور ہوگا

لبنان نے آج منگل کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کی سرزمین پر اسرائیلی فوج کا باقی رہنا "قبضہ" شمار ہو گا۔ یہ موقف حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی معاہدے کی شقوں کے نفاذ کے لیے مقررہ مہلت ختم ہونے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے ابھی تک 5 تزویراتی مقامات پر اپنی موجودگی باقی رکھی ہے۔

لبنان میں ریاست ، حکومت اور پارلیمنٹ کے سربراہان کے ایک اجلاس کے بعد ایوان صدارت کی خاتون ترجمان نجاب شرف الدین نے ایک بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ "لبنانی اراضی کی ایک بالشت پر بھی اسرائیلی وجود کا باقی رہنا یہ قبضہ شمار ہو گا"۔ بیان میں سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور اسرائیل کو فوری طور پر انخلا کا پابند کرنے کے لیے مطلوبہ اقدامات کرے۔ ساتھ یہ تصدیق کی گئی ہے کہ لبنان فوج اسرائیل کے ساتھ سرحد پر اپنے ذمے داری سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آج منگل کے روز لبنانی فوج نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد سرحدی دیہات میں تعیناتی کی تصدیق کی تھی۔

لبنانی فوج کے بیان میں مزید بتایا گیا تھا کہ اس کی فورسز لیطانی کے جنوب میں واقع علاقے میں دیگر سرحدی علاقوں میں بھی تعینات ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت فائر بندی معاہدے کی نگراں پانچ رکنی کمیٹی اور اقوام متحدہ کی عارضی امن فوج (یونیفل) کے ساتھ رابطہ کاری سے سامنے آئی ہے۔

لبنانی فوج کے مطابق اس کے یونٹوں نے ان علاقوں میں انجینئرنگ سروے، راستوں کو کھولنے اور غیر ناکارہ گولہ بارود سے نمٹنے کا کام شروع کر دیا ہے۔

شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جنوبی علاقوں میں تعینات فوجی یونٹوں کی ہدایات کی پاسداری کریں تا کہ ان کی جانوں کی سلامتی کے لیے جاری یہ کام جلد از جلد وقت میں مکمل کیا جائے۔


اس سے قبل لبنانی سیکورٹی ذریعے نے تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں 5 مقامات کے سوا تمام سرحدی دیہات سے نکل چکی ہے۔ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی معاہدے کے نفاذ کی مہلت ختم ہونے کے باوجود اسرائیلی فوج نے ان پانچ جگہوں پر باقری رہنے کا اعلان کیا تھا۔

ایک اسرائیلی ذمے دار کے مطابق اسرائیلی فوج مذکورہ پانچ چیک پوائنٹس پر عارضی طور پر باقی رہے گی اور ایک عرصے کے بعد واپس چلی جائے گی۔ تاہم اس مدت کا دورانیہ نہیں بتایا گیا۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی معاہدے کا نفاذ 27 نومبر 2024 کو ہوا تھا۔ معاہدے میں 60 روز کی مہلت کے اندر جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا مذکورہ ہے۔ تاہم اسرائیل نے اس کی پاسداری نہیں کی اور اپنی بقا کے لیے 18 فروری تک کی توسیع کا مطالبہ کر دیا تھا۔

غزہ میں جنگ بندی کا پہلا مرحلہ اختتام کے قریب، تعمیر نو کے لیے بھاری مشینری داخل

 




غزہ میں حماس اور اسرائیل کےدرمیان 19 جنوری کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ اختتام کے قریب ہے۔ اسرائیل ثالثوں مصر، قطر اور امریکہ پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ چھ زندہ اسرائیلی قیدیوں کی ایک ساتھ گلے ہفتے رہائی کے لیے حماس پر دباؤ ڈالیں۔ سیاسی ذرائع کے مطابق اسرائیل کو بھاری مشینری اور موبائل فون کی اطلاع دی گئی۔

بھاری مشینری کا داخلہ

دریں اثناء ایک باخبر مصری ذریعے نے تصدیق کی کہ ملبہ ہٹانے کی بھاری مشینر ی آج منگل کو رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ کی پٹی میں داخل ہونا شروع ہوگئی ہے۔

قاہرہ نیوز چینل کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ مصری-قطری کوششوں کی کامیابی کے بعد خوراک کے قافلے بھی داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

تباہ شدہ فلسطینی علاقے میں داخل ہونے کی تیاری کے لیے یہ مشینری اور بھاری سامان گذشتہ جمعرات سے سرحدی گزرگاہ کے دونوں جانب قطار میں کھڑا تھا۔

یہ بھاری مشیرن ایک ایسے وقت میں غزہ داخل کی گئی ہے جب دوسری طرف مصر نے کہا ہے کہ اس کے پاس غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک جامع پلان ہے جس کے تحت فلسطینیوں کی بے دخلی کے بغیر غزہ کی تعمیر نو ممکن ہے۔

مصری تجویز میں غزہ کے اندر "محفوظ زون" کا قیام شامل ہے جہاں فلسطینی عارضی طور پر رہ سکتے تھے، جب کہ مصری اور بین الاقوامی کمپنیاں پٹی کے بنیادی ڈھانچے کو ہٹا کر دوبارہ آباد کریں گی۔

تین مراحل

مصری حکام کے مطابق اس نے غزہ سے فلسطینیوں کو ہٹائے بغیر تین مراحل میں پٹی کی تعمیر نو کی شرط بھی رکھی ہے جس میں پانچ سال لگیں گے۔

اس نے ابتدائی چھ ماہ کی "ابتدائی بحالی کی مدت" کے دوران فلسطینیوں کی منتقلی کے لیے پٹی کے اندر تین "محفوظ علاقے" بھی نامزد کیے ہیں۔ ان علاقوں میں انسانی امداد کے بہاؤ کے ساتھ موبائل گھروں اور پناہ گاہوں کی فراہمی کی تجویز شامل ہے۔

بیس سے زیادہ مصری اور بین الاقوامی کمپنیاں ملبہ ہٹانے اور غزہ کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو میں حصہ لیں گی۔

انیس اسرائیلی قیدی

قابل ذکر ہے کہ حماس نے گذشتہ ہفتے کو اسرائیلی جیلوں سے 369 فلسطینیوں کی رہائی کے بدلے 3 اسرائیلیوں کو رہا کیا تھا۔

اس سے جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے آغاز سے لے کر اب تک تحریک کی طرف سے رہائی پانے والوں کی تعداد انیس ہوگئی ہے جب کہ مجموعی طور پر پہلے مرحلے میں پانچ تھائی باشندوں کے علاوہ تینتیس اسرائیلیوں کو رہا کیا جائے گا۔

اسرائیلی اندازوں کے مطابق اس وقت غزہ میں 73 اسرائیلی رہ گئے ہیں جن میں سے صرف نصف کے زندہ ہیں۔

سات اکتوبر 2023 ءسے جب غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر حماس کے حملے کے بعد غزہ پر اسرائیلی جنگ شروع ہوئی۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اسرائیلی بمباری سے تقریباً ایک ملین مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 90 فی صد سے زیادہ سڑکیں اور 80 فی صد سے زیادہ صحت کی سہولیات کو نقصان پہنچا یا تباہ کر دیا گیا۔

بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 30 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جبکہ مکانات کے نقصان کا تخمینہ 16 بلین ڈالر لگایا گیا تھا۔

Sunday, 16 February 2025

امریکہ کی حمایت سے ایران کے خلاف کام کر سکتے ہیں : نیتن یاہو

 





اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل و امریکہ ایرانی جوہری پروگرام کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ اتوار کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ملاقات کے بعد انہوں نے کہا 'ایرانی جوہری پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں ایرانی جارحیت کو ناکام بنانے کے لیے امریکہ و اسرائیل پرعزم ہیں۔'


امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی یہ ملاقات یروشلم میں ہوئی۔ نیتن یاہو نے کہا 'ملاقات میں نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے۔ ایران سے زیادہ کوئی اہم نہیں ہے۔'


نیتن یاہو نے مزید کہا 'ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل و امریکہ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ ہم نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونا چاہیے۔ نیز اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ خطے میں ایرانی جارحیت کو روکا جانا چاہیے۔'


امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا 'دہشت گرد گروپ، تشدد کی کارروائیاں اور خطے میں عدم استحکام خطے کے رہنے والے لاکھوں لوگوں کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔'


نیتن یاہو نے مزید کہا 'صدر ٹرمپ کی حمایت سے ہم اس کام کو ختم کر سکتے ہیں اور کریں گے۔'


انہوں نے کہا اسرائیل نے جنوبی لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو کمزور کر دیا ہے اور شام میں بھی سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔


نیتن یاہو نے کہا اگر کوئی دوسرا گروہ یہ سمجھتا ہے کہ شام کو اسرائیل کے خلاف استعمال کر سکے گا تو وہ سخت غلطی پر ہے۔


اس موقع پر نیتن یاہو نے غزہ کے لیے اسرائیلی پالیسی پر امریکی حمایت کے لیے وزیر خارجہ مارکو روبیو کا شکریہ ادا کیا اور کہا 'ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں اسرائیل نے حکمت عملی بنائی ہے۔'


انہوں نے مزید کہا 'میں ہر اس شخص کو جو ہمیں سن رہا ہے یقین دلانا چاہتا ہوں کہ صدر ٹرمپ اور ہمارے درمیان مکمل تعاون و ہم آہنگی ہے اور ہم مل کر کام کر رہے ہیں۔'


امریکی وزیر خارجہ نے کہا 'حماس حکومتی یا فوجی طاقت کے طور پر نہیں رہ سکتی۔ ایسی کوئی بھی طاقت جو حکومتی نظم و نسق کے ذریعے یا طاقت کے استعمال کے ساتھ ہو اس کے ہوتے ہوئے امن ممکن نہیں ہوتا۔'