Wednesday, 19 March 2025

بہار میں 20 کوّوں کی پراسرار موت، برڈ فلو کا شبہ مسترد

 



پٹنہ: بہار کے ضلع بھوجپور کے ہرہنگی گاؤں میں دو دنوں کے دوران تقریباً 20 کوّے پراسرار طور پر مردہ پائے گئے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ تاہم، ابتدائی تحقیقات میں برڈ فلو (ایوین انفلوئنزا) کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔


ضلعی محکمۂ حیوانات اور ماہی پروری کے افسر ڈاکٹر دنکر دیواکر نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مردہ کوّے گاؤں کے باہر ایک ساگوان کے باغ میں پائے گئے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے مردہ کوّوں کے نمونے اکٹھے کر کے کولکاتا کی ریجنل ڈیزیز ڈائیگنوسٹک لیب بھیجے ہیں۔ ابتدائی رپورٹ میں برڈ فلو کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔‘‘


علاقے میں احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں حکام نے ممکنہ انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مردہ پرندوں کو گاؤں کے قریب ہی دفنا دیا ہے۔ اگرچہ برڈ فلو کی موجودگی سے انکار کیا گیا ہے لیکن مقامی باشندے کسی نامعلوم بیماری کے خدشے سے پریشان ہیں۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں کوّوں کی موت ہوئی ہے، وہاں سے تقریباً 4 سے 5 کلومیٹر کے دائرے میں کوئی پولٹری فارم نہیں ہے، جس کی وجہ سے برڈ فلو پھیلنے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود، محکمہ حیوانات کی ایک ٹیم نے علاقے کا دورہ کیا اور دیہاتیوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔



پچھلے مہینے بھی ہوئی تھی پراسرار اموات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ 18 فروری کو بہار کے جہان آباد میں بھی درجنوں کوّے پراسرار طور پر ہلاک ہو گئے تھے۔ جانچ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان کوّوں میں ایچ5 این1 وائرس پایا گیا تھا، جو برڈ فلو کا ایک انتہائی متعدی اسٹرین ہے اور انسانوں میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔


جہان آباد میں برڈ فلو کی تصدیق کے بعد ضلع انتظامیہ نے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کی تھیں۔ مقامی لوگوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی پرندے کی غیر معمولی موت کی اطلاع فوری طور پر دینے کی ہدایت دی گئی تھی۔


بھوجپور میں حالیہ واقعے کے بعد بھی محکمہ صحت اور محکمہ حیوانات الرٹ پر ہیں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مردہ یا بیمار پرندوں سے دور رہیں اور کسی بھی مشتبہ معاملے کی فوراً اطلاع دیں۔


 Ad







خوبانی کے پھلوں کے چھلکے کا مشروب رمضان میں ایک صحت مند جوس ہے

 




رمضان المبارک کےدوران دن کے اوقات میں روزے کی وجہ سے روزہ داروں کو گرمی میں پیاس لگنا معمول کی بات ہے۔ یہی وجہ ہےکہ بہت سے روزہ دار ایسے کھانے اور مشروبات کی تلاش میں رہتے ہیں جو روزے کے اوقات میں ان کی پیاس کو کم سے کم کریں۔


ہیلتھ لائن کے مطابق یہاں کھانے اور مشروبات کی فہرست ہے جو روزے کے دوران پیاس کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔



کھجور کے ساتھ دودھ

دودھ جسم کے بہترین موئسچرائزرز میں سے ایک ہے اور جب اسے کھجور میں شامل کیا جائے تو یہ ایک توانائی سے بھرپور مشروب بن جاتا ہے جو پیٹ بھرنے کا احساس بھی بڑھاتا ہے اور پیاس بھی بجھاتا ہے۔



کیروب

قدرتی کیروب ڈرنک بہت سے لوگوں کے لیے رمضان کا پسندیدہ مشروب ہے۔اس کا لطف سحری یا افطار میں لیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ جسم کو ہائیڈریٹ کرتا ہے اور دن کے وقت پیاس کو کم کرتا ہے۔


تربوز

سحری کھانے کے دوران تربوز کا رس پینے کی سفارش کی جاتی ہے کیونکہ اس میں پانی کی بڑی مقدار ہوتی ہے، جو جسم کو ہائیڈریٹ کرنے میں مدد دیتی ہے اور رمضان میں دن کے وقت پیاس کو روکتی ہے۔



خوبانی کا جوس

خوبانی کے پھلوں کے چھلکے کا مشروب رمضان میں ایک صحت مند جوس ہے۔ خوبانی کے دانوں کو گرم پانی میں بھگو کر ان کا پیسٹ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ پیسٹ نما مشرروب روزے کے دوران پیاس بجھانے کا جادوئی حل سمجھا جاتا ہے۔


اسٹرابیری

اسٹرابیری میں پانی کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔اس لیے رمضان میں دن کے وقت پیاس کے احساس کو کم کرنے کے لیے سحری کھانے کے بعد اسٹرابیری کا جوس پینے کی سفارش کی جاتی ہے۔


غذائیت کے ماہرین کے مطابق جسم کو دو لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور روزہ کی حالت میں پیاس بجھانے کے لیے اس پانی کو افطار اور سحری کے درمیان بتدریج اور صحت بخش طریقے سے تقسیم کیا جانا چاہیے۔


"نیتن یاھو تم مجرم ہو"

 



غزہ میں جنگ دوبارہ شروع کرنے اور قیدیوں کے انجام کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے اسرائیلی عوامی حلقوں میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔


یروشلم میں ہزاروں اسرائیلیوں نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ان پر غیر جمہوری طرز عمل اور غزہ میں جنگ جاری رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاھو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے غزہ میں قید ان کے پیاروں کو نظرانداز کررہے ہیں۔


بدھ کو پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب ہونے والے مظاہرے میں غزہ میں قید اسرائیلیوں کے اہل خانہ سمیت ہزاروں شہریوں نے شرکت کی۔



یہ احتجاج حزب اختلاف کے گروپوں کی کال پر اس وقت سامنے آیا جب نیتن یاہو نے انٹرنل سکیورٹی سروس (شین بیت) کے سربراہ رونن بار کو برطرف کرنے کا اعلان کیا ہے۔


"نیتن یاھو تم مجرم ہو"

سرخ دستانے پہنے مظاہرین نے وزیر اعظم نیتن یاھو کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے کہا کہ’’آپ کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں‘‘ اور آپ ہی مجرم اور قصوروار ہیں‘‘۔


خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق دیگر مظاہرین نے قیدیوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ "فوجی دباؤ قیدیوں کو مار ڈالے گا۔ اسرائیل کو نیتن یاہو سے بچاؤ"۔



دریں اثناء اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر آج پھر سے شدید فضائی حملے شروع کر دیے جس میں کل صبح سے اب تک سینکڑوں افراد مارے گئے۔


دریں اثنا قیدیوں کے خاندانوں کے فورم نے کل منگل کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی قیدیوں کی قربان کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئےجنگ دوبارہ شروع کرنے پر تنقید کی۔


ان کا کہنا ہےکہ نیتن یاہو اندرونی تنقید سے بچنے اور اقتدار کو انتظامی حکام کے ہاتھوں میں مرکوز کرنے کے لیے جنگ کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔



یہ بات قابل غور ہے کہ نیتن یاہو نے گذشتہ اتوار کو شین بیت کے سربراہ رونن بار کو برطرف کرنے کے اپنے ارادے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی کے بعد وہ مزید ان پر اعتماد نہیں کرتے۔


دوسری جانب نیتن یاہو کی حکومت نے اپنے ہی اٹارنی جنرل کو ہٹانے کے لیے کارروائی شروع کی، جو وزیر اعظم کی پالیسیوں کی مخالفت کے لیے مشہور ہیں۔


اسرائیل کے غزہ پر حملے سے امن کی ’امیدیں چکنا چور ہو گئیں‘: برلن

 






جرمنی کی وزیرِ خارجہ اینالینا بیئرباک نے بدھ کو کہا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے حملوں سے "دونوں اطراف سے کئی اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کی مصائب کے خاتمے کی ٹھوس امیدیں مایوسی میں بدل رہی ہیں۔"


لبنان کا دورہ شروع کرنے سے قبل خطاب کرتے ہوئے انہوں نے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے بعد تنازع کے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ "تحمل کا مظاہرہ کریں، انسانی قانون کا احترام کریں اور مذاکرات کی طرف واپس آئیں"۔


انہوں نے کہا، "درجنوں قیدیوں بشمول جرمن (اور) ہزاروں فلسطینیوں کی زندگیاں" امن پر منحصر ہے۔


بیئرباک نے کہا، "دشمنی دوبارہ شروع ہو جانے سے ان عرب ریاستوں کی مثبت کوششوں کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے جو حماس سے آزاد غزہ کے لیے ایک پرامن راستہ تلاش کرنا چاہتی ہیں۔"


انہوں نے اس بات سے بھی خبردار کیا کہ ایک ایسے وقت میں "وسیع تر علاقائی کشیدگی کا سنگین خطرہ" ہے جب "لبنان میں صورتِ حال مستحکم ہو چکی ہے اور اسرائیل-لبنان سرحد پر تنازعات کے حل کے لیے اقدامات ہوئے ہیں۔"


بیئرباک لبنان کے صدر جوزف عون اور وزیرِ اعظم نواف سلام سے ملاقات کریں گی۔ دونوں نے اسرائیل اور لبنانی مزاحمتی گروپ حزب اللہ کے درمیان جنگ کے تناظر میں اس سال عہدہ سنبھالا ہے۔


اشفاق رحمان کی جانب سے پرتکلف دعوت افطار کا اہتمام

 







ہوٹل پاٹلی پترا کونٹینٹل میں اشفاق رحمان کی جانب سے پرتکلف دعوت افطار کا اہتمام کیا گیا جس میں شہر کی معزز شخصیات سمیت کثیر تعدادمیں لوگوں نے شرکت کی خاص طور پر ایم ایل سی آفاق احمد خان ، سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر اظہار احمد شریک ہوئے۔

ایسوسی ایشن کے قومی صدر شمائل احمد کی رہائش گاہ پر 400 افراد نے افطار کیا

 









پٹنہ:پرائیویٹ اسکولز اینڈ چِلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر شمایل احمد کی جانب سے ان کی رہائش گاہ جمیل کمپائونڈ، سمن پورہ، راجا بازار میں گزشتہ چار دہائیوں سے رمضان المبارک کے مقدس موقع پر افطار پارٹی کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے، اور اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس سال بھی اٹھارہویں روزے کے دن افطار کی دعوت دی گئی، جس میں پٹنہ شہر کے 400 سے زائد معزز تعلیمی ماہرین، مشہور شخصیات، انتظامی افسران سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے نمایاں رہنمائوں نے شرکت کی۔اس موقع پر اذان ہوتے ہی شام 6 بجے تمام روزہ داروں نے کھجور، پھل، شربت اور مختلف لذیذ پکوانوں کے ساتھ روزہ افطار کیا۔


تقریب میں شریک اہم شخصیات

افطار پارٹی میں خصوصی طور پر سکم کے سابق گورنر جناب گنگا پرساد، بہار اسمبلی میں کانگریس لیڈر شکیل احمد خان، سابق کونسل ممبر پریم چند مشرا، ایم ایل سی قاری شعیب، آئی پی ایس افسر وکاس ویبھو، سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر سی پی ٹھاکر کے فرزند دیپک ٹھاکر، اعجاز احمد صدیقی، سید شکیل احمد، سید شاہجہاں احمد، سید پرویز اعظم، سہیل اکرام، قیصر خان، ایاز احمد، حیدر امام، ڈاکٹر مصباح، جاوید خان، ڈاکٹر حسن، پرویز منظر، شاہ ذلفی، شہاب الدین بیگ، فیروز خان، جوگیندر سنگھ، انیل سنگھ، نتن شیکھر، امریش کمار، آشیش، چندر لوک سمیت 400 سے زائد افراد شریک ہوئے۔



بھائی چارے اور یکجہتی کی مثال

افطار پارٹی کے میزبان اور ایسوسی ایشن کے قومی صدر جناب شمایل احمد نے رمضان المبارک کے اس بابرکت موقع پر تشریف لانے والے تمام مہمانوں کا دل کی گہرائیوں سے خیرمقدم کیا اور برسوں پرانی بھائی چارگی اور یکجہتی کی روایت کو برقرار رکھا۔

رمضان کا مقدس مہینہ انسان کو سچائی اور صبر و تحمل کا درس دیتا ہے۔ اس بابرکت ماہ میں روزہ دار عبادت میں مصروف رہتے ہیں اور افطار میں شریک تمام افراد نے ملک اور ریاست میں امن و سلامتی کی دعا کی۔

افطار کے بعد مولانا انور صاحب نے مغرب کی نماز کی امامت کی اور اپنے خطاب میں کہا کہ روزہ رکھنے سے انسان کو بھوک اور پیاس کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے اور وہ ان غریب بھائیوں کے دکھ درد کو سمجھ سکتا ہے جن کے پاس دو وقت کی روٹی بھی نہیں ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ رمضان میں زکوٰةدینے کا ثواب 70 گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔


روحانی ماحول اور مسحور کن منظر

افطار کا منظر انتہائی دلکش تھا، جہاں امیر و غریب، چھوٹے بڑے سب نے ایک ساتھ روزہ افطار کیا، جس س
ے اتحاد و محبت کا حسین نظارہ دیکھنے کو ملا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اللہ تعالیٰ نے خود کسی باغ میں رنگ برنگے پھول سجا دیے ہوں۔

400 سے زائد شرکاءنے مزیدار پکوانوں کا لطف اٹھایا اور ہر سال کی طرح اس سال بھی اتنی شاندار افطار پارٹی کے انعقاد پر ایسوسی ایشن کے قومی صدر شمایل احمد کو مبارکباد پیش کی۔

اس موقع پر ایسوسی ایشن کی قومی سیکرٹری فوزیہ خان نے تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اس مقدس تقریب میں شرکت کرنے پر سبھی کا خیرمقدم کیا۔









Tuesday, 18 March 2025

اسرائیل کا دوگنی طاقت کے ساتھ غزہ پر حملے جاری رکھنے کا اعلان

 



اسرائیلی فوج نے منگل کو ایک بیان میں اعلان کیا کہ وہ اور داخلی سلامتی کے ادارے ’شین بیت‘ غزہ کی پٹی میں حماس اور اسلامی جہاد کے اہداف کے خلاف حملے جاری رکھیں گے۔


انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ گھنٹوں میں جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا ان میں سیلز، لانچنگ پوائنٹس، جنگی سازوسامان اور دیگر فوجی ڈھانچے شامل ہیں جو ان کے دعوے کے مطابق، منصوبہ بندی اور عسکری سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے دونوں تحریکوں کے ذریعے استعمال کیے گئے تھے۔


انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اہداف اسرائیلی افواج اور شہریوں کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے غزہ کی پٹی میں دی گئی ہدایات میں تبدیلیاں کی ہیں۔


اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے بھی اعلان کیا کہ اسرائیل حماس کے خلاف فوجی طاقت میں اضافے کے ساتھ کارروائی کرے گا۔ دفتر نے کہا کہ فوج کو مکمل طاقت کے ساتھ مقررہ اہداف پر حملہ کرنے کی ہدایات ہیں۔


بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے غزہ میں پیش رفت پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے وزیر دفاع اور سکیورٹی سربراہان کی موجودگی میں سکیورٹی مشاورت کے لیے اجلاس طلب کیاہے۔


اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے تباہ شدہ غزہ کی پٹی میں درجنوں اہداف پر بمباری کی ہے۔ بیان میں کہا کہ جب تک ضروری ہوا حملے جاری رہیں گے ۔


دریں اثناء العربیہ/الحدث کے نامہ نگار کے مطابق منگل کے روز اسرائیلی جارحیت میں غزہ میں مارے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد 413 سے زائد ہوچکی ہے۔


حماس نے اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے اور مستقل جنگ بندی کے لیے ثالثوں کی کوششوں کے نتائج کو دھمکی دینے کا الزام عائد کیا۔


سعودی کابینہ نے غزہ پر اسرائیل کے دوبارہ حملے کی مذمت کر دی




سعودی کابینہ نے غزہ میں اسرائیلی فورسز کے دوبارہ حملوں کی سخت مذمت اور انسانی بحران کے خاتمے کےلیے فوری بین الاقوامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔


سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق کابینہ کا اجلاس منگل کو جدہ میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت ہوا ہے۔



اجلاس نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام کے انسانی مصائب کے خاتمے اور مظالم کو رکوانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔


اجلاس میں سعودی ولی عہد نے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کے ساتھ ہونے والے ٹیلی فونک رابطوں کے بارے میں آگاہ کیا۔


کابینہ نے حالیہ عرب، علاقائی، اور بین الاقوامی صورتحال کا جائزہ لیا، اپنے دیرینہ موقف کو دہراتے ہوئے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی و استحکام کو بڑھانے کی کوششوں کی سپورٹ کا اعادہ کیا۔




سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے اجلاس کے بعد ایس پی اے کو بتایا کابینہ نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کا خیرمقدم کیا تاجکستان اور قازقستان کے درمیان سرحد کے تعین کے معاہدے کو بھی سراہا۔


کابینہ نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان کسٹمز امور میں تعاون کے ایک معاہدے کی بھی منظوری دی ہے۔


غزہ میں نئے سرے سے جاری کشیدگی کو فوری طور پر روکا جائے:یورپی یونین



غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد جن میں تقریباً 400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں یورپی یونین نے غزہ میں نئے سرے سے جاری کشیدگی کو ہولناک قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔


یورپی یونین کے کرائسز مینجمنٹ کی سربراہ حجا لحبیب نے منگل کو ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "غزہ میں نئے سرے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی تباہ کن ہے۔شہری ناقابل تصور تکالیف کا سامنا کر رہے ہیں اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں‘‘۔


انہوں نے کہا کہ غزہ میں نئے سرے سے جاری کشیدگی تباہ کن ہے۔ شہریوں نے ناقابل تصور تکالیف برداشت کی ہیں۔ یہ سلسلہ اب رکنا چاہیے۔


انہوں نے مزید کہا کہ "بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کیا جانا چاہیے اور غزہ میں انسانی امداد کا بہاؤ شروع ہونا چاہیے۔ مزید جانی و مالی نقصان کو روکنے کے لیے فوری طور پر جنگ بندی پر واپس جانا ضروری ہے"۔


جتنی جلدی ممکن ہو کشیدگی روکی جائے

برطانوی حکومت نے بھی غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو "جلد از جلد" بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔


وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے ترجمان نے کہا کہ "ہم اس جنگ بندی کو جلد از جلد بحال ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ شہری ہلاکتوں کی تعداد "خوفناک" تھی۔ غزہ کی پٹی میں حماس کے زیرانتظام وزارت صحت نے بتایا کہ فضائی حملوں میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔


فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ منگل کے روز غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 400 سے زائد افراد مارے گئے، جس سے دو ماہ پرانی جنگ بندی مکمل طور پر ختم ہونے کے خطرے کی علامت ہے۔


دوسری جانب حماس نے اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے اور مستقل جنگ بندی کے لیے ثالثوں کی کوششوں کے نتائج کو دھمکی دینے کا الزام عائد کیا۔


اس کے جواب میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے فوج کو غزہ میں حماس کے خلاف "سخت کارروائی" کرنے کی ہدایت کی ہے۔یہ کارروائی حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کی تجاویز سے انکار کے بعد کی گئی ہے۔


دنیا غزہ پر اسرائیلی جنگی جارحیت رکوائے : محمود عباس




فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے عالمی براداری پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ پر پھر سے مسلط کی گئی اسرائیلی جنگی جارحیت رکوائے۔ انہوں نے اس امر کا مطالبہ منگل کے روز کیا ہے جب ایک ہی دن میں اسرائیلی فوج نے اپنے نئے فوجی سربراہ کے زیر قیادت غزہ میں مختلف مقامات پر بد ترین بمباری کر کے 400 سے زائد فلسطینی کو قتل کر دیا ہے۔


غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ان قتل کیے گئے فلسطینیوں میں بچوں اور عورتوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔


فلسطینی اتھارٹی کے صدر کے ترجمان نبیل ابو روضینے نے غزہ پر نئے سرے سے شروع کی گئی جنگی جارحیت کی مذمت کی اور کہا ' بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ قابض اسرائیل کو یہ جارحیت روکنے پر مجبور کرے۔ جس نے غزہ میں ہر طرف بمباری کر کے ایک ہی دن میں سینکڑوں فلسطینی ہلاک کر دیے ہیں۔ '


دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم محمد مصطفیٰ نے کابینہ کے اجلاس کے بعد اسی طرح کا ایک بیان جاری کر کے اسرائیل کی نئے سرے سے شروع کی گئی جنگ کی مذمت کی ہے۔


پرائیوٹ اسکول اینڈ چلڈرین ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ دعوت افطار میں شریک ہوں: شمائل احمد


 

معہد الہدی الاسلامی عبد اللہ نگر سپول کا رمضان المبارک میں اپنے صدقات و عطیات سے بھر پور تعاون کریں: قمر الہدیٰ اسلامی

 




جناب قمرالہدیٰ اسلامی ناظم معہد الہدی الاسلامی عبدا للہ نگر ،سپول بہار نے اپنے پریس اعلانیہ کے ذریعہ ملت کے بہی خواہوں اور اسلامی بھائیوں سے اس رمضان المبارک کے موقع پر اپنے، زکوٰة ، صدقات وعطیات سے ادارے کی بھرپور مالی معاونت کی اپیل کی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ 1957کو الحاج عبد اللہ وسواس ؒکے ہاتھوںمعہد الہدی الاسلامی عبداللہ نگرکی تاسیس میں عمل میں آئی۔ اس وقت سے ابتدائی تعلیم ہوتی رہی۔ 2001ءکو چندذی شعور نو جوانوں اور دانشوروں کی کوشش سے معیار تعلیم ثانویہ ( عربی چہارم ) تک کیا گیا۔ ماشاء اللہ گذشتہ پچیس سالوں سے شعبہ ¿ حفظ و تجوید کے ساتھ ساتھ ثانویہ تک کی معیاری تعلیم ہورہی ہے۔ فی الوقت چار سو ساٹھ (460) طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ جن میں سے ایک سوستر (170) طلبہ کی پوری کفالت معہد کی جانب سے کی جاتی ہے۔ چودہ (14) با صلاحیت اساتذہ تدریسی ودعوتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔معہد کا سالانہ اخراجات تقریباًسینتیس لاکھ روپے ہیں۔ کلاس روم ، دار الاقامہ اور لا ئبر یری ہال کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ جس میںپچہتر لاکھ روپیوں کی ضرورت ہے۔ جب کہ اخراجات کا سارا انحصار اللہ کے فضل کے بعد محسنین اور اہل خیر حضرات کے تعاون پر ہے۔

لہذاملت کے اہل خیر حضرات سے پرُزور گذارش کی جاتی ہے کہ رمضان 1446ھ کے مبارک موقع پر زکوٰة ،فطرہ ،صدقات اور عطیات سے معہد کا بھر پور تعاون فرما کر عنداللہ ماجور اور عند الناس مشکور ہوں گے۔ اللہ تعالی ہم سے اور آپ سے اپنی رضا کا کام لے۔ آمین (ان اللہ لایضیع اجرالمحسنین)


ادارے کا مندرجہ ذیل اکاﺅنٹ کے ذریعہ تعاون کریں:۔

MAAHAD AL-HODA AL ISLAMI

 A/C No. 3146550854 IFSC : CBIN0280063

(CBI) BIRPUR BRANCH (SUPAUL)



رمضان المبارک میں قرآن مجید کی خیر برکت نظر آرہی ہے

 


Tuesday, 11 March 2025

پٹنہ میں رینیوایبل انرجی اور الیکٹرک وہیکل ایکسپو 2025: بہار میں سبز توانائی اور ای-موبلٹی کا سنہرا دور

 



پٹنہ، 21-23 مارچ 2025 – بہار کی تاریخی راجدھانی پٹنہ ایک انقلابی تقریب کی میزبانی کرنے جا رہی ہے۔ رینیوایبل انرجی اور الیکٹرک وہیکل ایکسپو 2025 کے ذریعے، بہار سبز توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں کے میدان میں ایک نئی سمت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ تقریب نہ صرف ریاست بلکہ پورے مشرقی بھارت کے صنعتی اور اقتصادی منظرنامے میں ایک نئی روح پھونکے گی۔

مشرقی بھارت میں صنعتی ترقی کی نئی امید

اب تک بہار، جھارکھنڈ اور اوڈیشہ جیسے ریاستوں کو صنعتی ترقی کے معاملے میں پیچھے سمجھا جاتا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہاں اس طرح کے اعلیٰ سطحی تکنیکی اور تجارتی تقریبات کی تعداد کم رہی ہے۔ لیکن، ٹیم گرین او ویو کا پختہ یقین ہے کہ یہ علاقہ بے پناہ امکانات سے بھرپور ہے۔ صحیح رہنمائی، جدت اور صنعتی ہم آہنگی کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ ایکسپو ان تمام امکانات کو حقیقت میں بدلنے کی ایک اہم کوشش ہے۔

ملک کا سب سے بڑا الیکٹرک وہیکل اور رینیوایبل انرجی میلہ

گیان بھون، پٹنہ میں منعقد ہونے والی یہ تقریب ملک کی اب تک کی سب سے بڑی رینیوایبل انرجی اور الیکٹرک وہیکل ایکسپو ہوگی، جس میں 70 سے زائد سرکردہ کمپنیاں اپنی جدید ترین مصنوعات اور ٹیکنالوجیز کا مظاہرہ کریں گی۔ اس ایکسپو میں گاہکوں کو ایک ہی چھت کے نیچے الیکٹرک وہیکل مینوفیکچررز، بینک فنانسرز اور انشورنس خدمات کی سہولت دستیاب ہوگی، جس سے وہ بغیر کسی مشکل کے اپنی پسند کی گاڑی کا انتخاب کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ، گاہکوں کو گاڑی کی کوالٹی اور کارکردگی کو خود جانچنے کے لیے ٹیسٹ ڈرائیو کی خاص سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

بہار کو سبز توانائی اور ای-موبلٹی میں نئی پہچان

یہ تقریب صرف تجارتی نقطہ نظر سے ہی اہم نہیں ہوگی، بلکہ اس کا مقصد رینیوایبل انرجی اور الیکٹرک وہیکل کے میدان میں ہونے والی نئی تحقیق کو فروغ دینا، اس صنعت سے وابستہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی قائم کرنا، اور اس شعبے میں موجود چیلنجز کے حل کے لیے پالیسی سازی کی سمت میں مؤثر مکالمے کو فروغ دینا بھی ہے۔

خاص طور پر، بہار میں کام کرنے والے باصلاحیت نوآوروں، اسٹارٹ اپس اور کاروباری افراد کو بھی اس پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی مصنوعات اور خدمات کو پیش کرنے کا سنہری موقع ملے گا، جس سے انہیں ایک وسیع مارکیٹ دستیاب ہوگا اور وہ اپنی صلاحیتوں کا مناسب استعمال کر سکیں گے۔

گورنر کریں گے شاندار افتتاح، چھ خصوصی سیشنز میں ہوگا گہرا مکالمہ

اس تاریخی تقریب کا افتتاح معزز گورنر محترم کے ذریعہ کیا جائے گا۔ ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے اور کاربن اخراج میں کمی لانے کے مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس تین روزہ ایکسپو کے دوران چھ اعلیٰ سطحی سیشنز منعقد کیے جائیں گے۔

ان سیشنز میں حکومت کے مختلف محکموں کے وزراء، پالیسی ساز، صنعت کے ماہرین، انتظامی افسران اور سرکردہ کاروباری اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ ان سیشنز میں رینیوایبل انرجی، الیکٹرک وہیکل انڈسٹری کے چیلنجز، سرکاری پالیسیاں، مالی مواقع اور سبز توانائی کے تئیں سماجی بیداری جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جس سے اس شعبے کو بہار اور پورے مشرقی بھارت میں مضبوط کیا جا سکے۔

وزیر اعلیٰ اور قائد حزب اختلاف کی موجودگی سے ہوگا مؤثر پالیسی مکالمہ

اس تقریب میں 22 مارچ کو معزز قائد حزب اختلاف اور 23 مارچ کو معزز وزیر اعلیٰ کی شرکت متوقع ہے۔ اس اہم پہل کے ذریعے نہ صرف بیداری کو فروغ ملے گا، بلکہ یہ ایکسپو اس شعبے میں ضروری پالیسی اصلاحات کی سمت میں ایک مضبوط پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔

اس کے علاوہ، بہار کے تمام سیاسی جماعتوں کے معزز اراکین اسمبلی، قانون ساز کونسل کے اراکین، ضلعی سطح کے عوامی نمائندے، سماجی تنظیموں کے سربراہان اور غیر سیاسی تنظیموں کے عہدیداران کو بھی اس تقریب میں مدعو کیا گیا ہے، تاکہ اس موضوع پر ایک وسیع اور جامع نقطہ نظر تیار کیا جا سکے۔

بہار کے صنعتی احیاء کی طرف ایک مضبوط قدم

یہ ایکسپو صرف ایک تجارتی تقریب نہیں، بلکہ بہار کے پائیدار اور سبز صنعتی ترقی کی سمت میں ایک مضبوط پہل ہے۔ یہ تقریب بہار اور مشرقی بھارت کو گرین انرجی اور الیکٹرک وہیکل کے مرکز کے طور پر قائم کرنے کی سمت میں ایک فیصلہ کن قدم ثابت ہوگی۔

یہ پلیٹ فارم صنعت اور حکومت کے درمیان ایک پل کا کام کرے گا، جس سے نئی پالیسیوں کا قیام ممکن ہو سکے اور بہار میں رینیوایبل انرجی اور الیکٹرک وہیکل کے نئے امکانات کو فروغ ملے۔ اس تقریب کے ذریعے نہ صرف کاروباری اور صنعتی شعبے کو فائدہ پہنچے گا، بلکہ یہ بہار کے نوجوان نوآوروں اور کاروباری افراد کے لیے بھی نئے مواقع کے دروازے کھولے گا۔

مقام: گیان بھون، پٹنہ  تاریخ: 21 سے 23 مارچ 2025  منتظم: ٹیم گرین او ویو

سر زمین شام پر ایک نئی صبح کا آغاز

 






حمزہ اجمل جونپوری



گزشتہ رات ایک صد آفرین رات تھی جس میں کرد باغیوں نے شام میں سنیوں کی حمایت کا اعلان کیا تھا جس کے بعد پورے شام میں ایک جشن کا سماں بندھ گیا اور ایسا کیوں نا ہوتا کہ پورا شام اب ایک ریاست کے طور پر قائم ہوگیا ہے ۔

خارجی طاقتیں اسرائیل ایران حزب اللہ اور اسدی باقیات کے ارادے ناکام ہو گئے جنہوں نے یہ عزم کیا تھا کہ شام کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور اسکی عظمت و رفعت کو خاک آلود کر دیا جائے تاکہ وہ ملک ہمیشہ خانہ جنگی کا شکار رہے ۔

جس کے لئے اسرائیل نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ہم کرد ملیشیا کو ایک ملین ڈالر کے ذریعہ سے جنگ میں مدد کریں گے جو شام میں اسلام پسند حکومت کو تخت سے دستبردار کر دے اسی اثنا میں شام میں اسدی باقیات کی جانب سے لاذقیہ طرطوس اور بانیاس میں بغاوت کا علم بلند کر دیا اور تقریبا ایک لمحہ میں سو سے زائد شام کی امن فوج کو منظم طریقے سے شہید کر دیا بعضوں کے جسد کو جلا دیا تو کسی کو زیر زمین دفن کر دیا اور عوام پر بے تحاشا گولیاں برسائیں ۔

جس کے بعد دمشق و حلب اور ادلب میں عوام نے نفیر عام کا اعلان کیا اور مجاہدین کے شانہ بشانہ تقریبا تیس ہزار کا لشکر اس بغاوت کو کچلنے کے لئے چل پڑا ایک رپورٹ کے مطابق عوام الناس کی تعداد تقریبا پچاس ہزار تھی جنہوں نے باغیوں کو تہہ و تیغ کرنے کے لئے اپنے ہتھیار اٹھا لئے ۔

لاذقیہ میں بغاوت کو 6 گھنٹے کے اندر اندر پسپا کر دیا گیا اسی طرح طرطوس اور بانیاس میں بھی بغیر کسی رعایت کے نصیری شیعوں اور اسدی باقیات کو تباہ کر دیا گیا اس بغاوت کا سربراہ مقداد فتحہ ہے جس نے اسدی دور حکومت میں اہل سنت پر بے انتہا ظلم ڈھائے تھے کہ تاریخ کے اوراق اگر لکھنے پر آ جائیں تو قلم سے سیاہی کی جگہ لہو ٹپکے ۔

یہ بغاوت کوئی معمولی بغاوت نہیں تھی اور اس بغاوت کا اندیشہ بھی تھا کہ شام میں بغاوت ضرور ابھرے گی کیوں کہ جس طرح فتح کے دوران  اسدی باقیات اپنے ہتھیار ڈال کر بھاگ رہے تھے اندازہ یہی تھا کہ وہ ضرور ابھریں گے اور انہوں نے شامی سربراہ کی معافی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر بغاوت کی تیاری کرنے لگے ۔

بغاوت کی تیاری لبنان میں کی گئی تھی حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی موت پر تمام شیعہ ایک جگہ جمع ہوئے تھے ایران اور حزب اللہ نے اس میں بھرپور شرکت کی اور ہتھیاروں کا ایک بڑا ذخیرہ شام ساحلی علاقوں میں پہنچا دیا گیا حسن نصر اللہ کے جنازے کے کچھ دن بعد ہی ساحلی علاقوں میں بغاوت پھوٹ پڑی اور شام کے کئی مجاہدین یک لمحہ شہادت کے رتبہ پر فائز ہو گئے ۔

جس کے بعد شام کے سربراہ احمد الشرع نے بغاوت کو کچلنے کا فرمان جاری کیا اور عوام الناس کی کثیر تعداد نے اس بغاوت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کیوں کہ احمد الشرع نے اعلان کر دیا تھا آج کے بعد کوئی معافی نہیں ہوگی ہر ایک مجرم کا احتساب ہوگا ہر ایک خون کے قطرے کا بدلہ لیا جائے گا اور ایسا ہی ہوا علوی اور نصیری باغی ہر جگہ مارے گئے کچھ گرفتار ہوئے کچھ بھاگ گئے اور روپوش ہو گئے اسی پر بس نہیں ہوا احمد الشرع نے دوبارہ کہا کہ جو ہتھیار ڈالے گا اسکا بھی احتساب ہوگا اور اپنے جرم کی سزا پائے گا وہ وقت ختم ہو گیا جب معاف کر دیا جاتا ہے ہم شام کو بنانے آئے ہیں جس کو تم نے تباہ کر دیا تھا اور اس کو دوبارہ کھڑا کریں گے اور ہم کسی مجرم کو نہیں بخشیں گے ۔

جب بغاوت کا سر کچلا جا چکا اور پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا تو دوسرے مرحلے کی جانب شامی مجاہدین نے قدم بڑھایا اور شام کے چپے چپے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا آبادی سے لیکر پہاڑوں تک سمندر سے لیکر جنگلات تک ہر طرف مجاہدین پھیلے ہوئے ہیں جو باغیوں کو ان کے کئے کی سزا دے رہے ہیں ۔

اسی اثنا میں شامی حکومت کو کئی مرتبہ بھڑکانے کی کوشش کی گئی اور اسرائیل کے خلاف خروج کے لئے اکسایا گیا لیکن ابھی تو شام انہی لوگوں سے الجھ رہا تھا جو اکسانے کی کوشش کر رہے تھے وہ بھول گئے تھے کہ احمد الشرع صرف ایک آدمی نہیں بلکہ ایک عظیم دماغ کا کمانڈر بھی ہے جسے داعش نے بھی ختم کرنے کی کوشش کی بشار الاسد نے بھی پنجہ آزمائی کیا اور ادلب کو تباہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ سب سے بچتا رہا اللہ اسکی حفاظت کرتا رہا آج وہ تخت دمشق پر خدا کی مدد سے بیٹھا ہوا ہے ۔

بغاوت کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کرد ملیشیا جو کبھی حیات تحریر الشام کی مخالف تھی گزشتہ رات اس نے شامی حکومت سے معاہدہ کر لیا کل تلک جو دشمن تھے وہ آج شامی حکومت میں ضم ہو گئے اور یہ فیصلہ ہوا کرد کے علاقوں میں جو ذخائر ہیں اس پر شامی حکومت کا مکمل کنٹرول ہوگا اور کرد لوگوں کو شامی حکومت میں شامل کیا جائے گا کیوں کہ کرد قوم شام کا ایک اٹوٹ حصہ ہیں ۔

جب یہ معاہدہ ہوا شام کے ہر شہر میں جشن منایا گیا کیوں کہ جو شام کبھی ٹکڑے ہونے کے دہانے پر تھا اور اس میں ایک سرخ لکیر تھی سب مٹ گئی اور پورا شام سبز ہو گیا باطل کے ارادے ناکام ہو گیے فسطائی قوتیں منھ کے بل گر گئیں ایرانی عزائم خاک میں مل گئے اسرائیلی تدبیر الٹی ہو گئی ۔

اس علان کے بعد اسرائیل حواس باختگی کا شکار ہو گیا اس نے شام کے جنوبی علاقوں میں تقریبا اٹھائیس حملے کئے اور یہ وقت اسرائیل کے لئے خطرناک بتایا ہے کیوں کہ اسے امید دی کہ وہ کردوں کو پیسوں کا لالچ دیکر شام میں خانہ جنگی کو برقرار رکھے گا اور یوں وہ اپنے آس پاس ایک اسلامی ریاست کو قائم نہیں ہونے دے گا ۔

ان سب میں سب سے اہم کردار ترکی نے ادا کیا ہے جس نے شام کے لئے اپنے ہتھیاروں کے خزانے کو کھول دیا اور اس کو مزید تقویت بخشی جنگی امداد کی اور مالی تعاون کیا الغرض جو کچھ ہو سکتا تھا ترکی نے شام کے لئے کیا اور احمد الشرع کی سیاسی تدبیر نے اس ملک کو خانہ جنگی سے بچا لیا باغیوں کو کچلے میں ایک عظیم کمانڈر کی طرح نظر آئے اور کردوں سے معاہدہ کرتے ہوئے ایک بہتریں سیاست دان نظر آئے ۔

کردوں کا شامی حکومت کے ساتھ ضم ہونا ایک خوش کن خبر ہے کیوں کہ صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کا تعلق اسی قوم سے تھا جس کو امریکہ نے پیسوں کا لالچ دیکر ترکی کے خلاف کھڑا کیا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ صلاح الدین ایوبی کی قوم اپنے گھر کو واپس آ ہی گئی اور ایسا کیوں نا ہوتا کہ یہ تو ایک عظیم کمانڈر کی قوم ہے گھر ہر کسی کو آنا ہے سو وہ آ گئے اور معافی برقرار رہا تو ان شاءاللہ اسرائیل اپنا انجام بھی دیکھے گا کیوں کہ بیت المقدس کی آزادی کا راستہ شام سے ہو کر ہی جاتا ہے ۔

شام ایک عظیم ملک کی طرف گامزن ہے دعا کریں اللہ اسکو سلامت رکھے اور شیطانوں کے شر سے اسکی حفاظت فرمائے ان شاءاللہ بیت جلد شام کے افق سے ایک نئی جماعت بیدار ہوگی جو اقصی کی آزادی کے لئے اپنی تمام تر مہارت کو صرف کرے گی کیوں کہ یہ شام ہی ہے جس سے اسرائیل خوف کھا رہا ہے جس کی وجہ سے اس نے شام کو ایک ہونے پر نشانہ بنایا تھا اس کی ناکامی کا منھ بولتا ثبوت ہے بہت جلد تمام تر برے خیالات باطل ہوں گے اسرائیلی عزائم خاک آلود ہوں گے ایرانی تدبیریں تباہ ہوں گی اور باغیوں کا صفایا مکمل ہوگا پھر ایک مسکراتا ہوا شام ہمارے درمیان ہوگا ۔