Sunday, 9 February 2025

بیرین سنگھ کے استعفیٰ پر راہل گاندھی کا ردعمل، ’اب ترجیح امن بحالی اور عوام کے زخموں پر مرہم رکھنا ہونی چاہیے‘








نئی دہلی: منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ نے اتوار (9 فروری) کو گورنر سے ملاقات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب پیر (10 فروری) سے منی پور قانون ساز اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے والا تھا اور اپوزیشن ریاستی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔


بیرن سنگھ کے استعفے کے بعد کانگریس کے سرکردہ لیڈران نے بھی ردعمل دیا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا، ”بی جے پی کے وزیر اعلیٰ بیرن سنگھ نے تقریباً دو سال تک منی پور میں تفریق کو ہوا دی۔ ریاست میں تشدد، جانی نقصان اور ہندوستان کے تصور کی تباہی کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں بدستور حمایت دی۔“


راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں آگے لکھا کہ ”وزیر اعلیٰ بیرن سنگھ کا استعفیٰ ظاہر کرتا ہے کہ عوام کا بڑھتا ہوا دباو¿، سپریم کورٹ کی جانچ اور کانگریس کی جانب سے لائے گئے عدم اعتماد کی تحریک نے انہیں جوابدہ بنایا لیکن سب سے ضروری ہے ریاست میں امن بحال کرنا اور منی پور کے لوگوں کے زخموں پر مرہم لگانا۔“ علاوہ ازیں انہوں نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی کو فوراً منی پور کا دورہ کرنا چاہیے لوگوں کی باتیں سننی چاہیے اور انہیں ریاست میں حالات کو معمول پر لانے کے حوالے سے اپنے منصوبہ کے بارے میں واضح کرنا چاہیے۔“

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے بھی اس معاملے پر سوشل میڈیا پر تبصرہ کیا۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا، ”کل کانگریس پارٹی منی پور میں وزیر اعلیٰ اور ان کی وزرائ کونسل کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے پوری طرح تیار تھی، لیکن بدلتے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دے دیا۔ کانگریس مئی 2023 کے آغاز سے ہی ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی تھی، جب منی پور میں بدامنی پھوٹ پڑی تھی۔“


انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ تاخیر سے آیا۔ اب منی پور کے عوام ہمارے ’فریکوینٹ فلائر‘ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کا انتظار کر رہے ہیں، جو اس وقت فرانس اور امریکہ کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ انہیں گزشتہ 20 ماہ میں نہ تو منی پور جانے کا وقت ملا اور نہ ہی اس کی خواہش ہوئی۔“



منی پور: این بیرین سنگھ کا وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ، امت شاہ سے ملاقات کے بعد فیصلہ

 










نئی دہلی: منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے اتوار کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے یہ فیصلہ نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امِت شاہ سے ملاقات کے بعد کیا۔ سنگھ نے اپنا استعفیٰ راج بھون میں گورنر اجے کمار بھلّا کو پیش کیا۔ اس موقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ سمبت پاترا، ریاستی وزرا اور متعدد ارکان اسمبلی بھی موجود تھے۔


گزشتہ برس ریاست میں ہونے والے نسلی تشدد کے سبب این بیرین سنگھ کو شدید دباو¿ کا سامنا تھا۔ نومبر 2023 میں جیریبام میں تین خواتین اور ان کے بچوں کے قتل کے بعد حالات مزید خراب ہو گئے تھے۔ اس دوران قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی اتحادی جماعت نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی) نے حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی اور قیادت میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔



منی پور میں تشدد کا آغاز 3 مئی 2023 کو ہوا تھا جب میتئی برادری کو درج فہرست قبائل میں شامل کرنے کے منی پور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف آدیواسی طلبہ یونین (اے ٹی ایس یو ایم) نے احتجاجی ریلی نکالی۔ اس کے بعد سے ریاست میں کشیدگی برقرار ہے۔ اب تک 200 سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔ حالات پر قابو پانے کے لیے مرکز کو نیم فوجی دستے تعینات کرنا پڑے۔


گزشتہ سال کے آخر میں این بیرین سنگھ نے عوام سے معافی مانگی تھی اور اعتراف کیا تھا کہ سال 2023 ریاست کے لیے مشکل ترین ثابت ہوا۔ انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ 2025 میں منی پور میں حالات معمول پر آ جائیں گے۔ تاہم، بڑھتے دباو¿ اور سیاسی ہلچل کے باعث انہیں بالآخر اپنے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا۔



دہلی اسمبلی انتخابات: بی جے پی کی جیت پر منوج جھا کا ردعمل، ’اب ڈبل انجن کی حکومت نہ ہونے کا بہانہ نہیں رہے گا‘

 




دہلی میں بی جے پی کی جیت پر سیاسی لیڈران کا رد عمل جاری ہے۔ اسی کڑی میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا کا بھی رد عمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 27 سال بہت طویل عرصہ ہوتا ہے۔ 27 سال بعد بی جے پی دہلی میں اقتدار میں واپس آئی ہے، میں انہیں مبارک باد دیتا ہوں۔ اب ان کے پاس وہ بہانہ بھی نہیں رہے گا کہ ڈبل انجن والی حکومت نہیں ہے۔ مذکورہ باتیں انہوں نے ’اے این آئی‘ سے گفتگو کے دوران کہی۔


انڈیا اتحاد کے مستقبل کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آر جے ڈی لیڈر منوج جھا نے کہا کہ ”انڈیا اتحاد ایک مرکزی خیال تھا، ہم نے اسے مرکز میں متبادل حکومت کے امکانات کے لیے بنایا تھا۔ تب بھی تمام پارٹیوں کو معلوم تھا کہ ریاست میں ہم ایک دوسرے سامنے ہوں گے۔ اس طرح کے اختلافات ہوتے رہتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر پارٹیوں کو لگتا ہے کہ وہ بہتر کارکردگی کے لیے کوآرڈینیشن کر سکتے ہیں تو یہ پہلے سے کرنا ہوگا نہ کہ انتخاب کو دیکھ کر۔“


علاوہ ازیں منوج جھا نے کہا جمنا اور گنگا کے نام پر اس ملک میں سیاست بہت ہو گئی۔ وزیر اعظم نے گنگا کے حوالے سے کئی باتیں بولی ہیں۔ وزیر اعظم کی سیاست میں بھی شارٹ کٹ کے کئی پہلو ہیں۔ آپ کو مینڈیٹ ملا ہے کل کو کہیں مینڈیٹ نہیں ملے گا اس کو آخری انتخاب مان لینا صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں اندرا گاندھی اور اٹل بہاری واجپئی بھی انتخاب ہار گئے تھے اس لیے یہ جمہوریت ہے۔ اگر آپ عوام کا کام نہیں کرتے ہیں تو آپ کو عر ش سے فرش تک کے سفر کے لیے تیار رہنا چاہیے۔


آر جے ڈی لیڈر نے آگے کہا کہ 2020 مین تمام کوششوں کے بعد بھی ہم (آر جے ڈی) واحد سب سے بڑی پارٹی رہی۔ وزیر اعظم کے حوالے سے منوج جھا نے کہا آئیے بہار آپ کا فیصلہ بہاری کریں گے، کچھ بھی کریے لیکن بہاریوں کو دھوکہ مت دیجیے۔ پولرائزیشن جیسے مسائل کو لے کر بہار نہیں آئیے۔ ہم مسائل کو لے کر عوام کے درمیان جا رہے ہیں کون پلٹے گا اس سے کوئی مطلب نہیں ہے ہم لمبی لکیر کھینچ رہے ہیں، اس سے لمبی لکیر کوئی کھینچ کر بتا دے۔



امریکی پابندیاں اسرائیل کو بچانے کا حربہ


 





مدیحہ فصیح

بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی ) یا عالمی عدالت کے 79 رکن ممالک نے آئی سی سی پر امریکہ کی پابندیوں کی مذمت کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ یہ فیصلہ ’سنگین جرائم کے لئے معافی کے خطرے ‘کو بڑھا نے اور بین الاقوامی قانون کو کمزور کرنے والا عمل ہے۔ 8 فروری کو ایک بیان میں، ان ممالک کے گروپ نے – جو کہ عدالت کے ارکان کا تقریباً دو تہائی حصہ ہے – آئی سی سی کی حمایت کی اور کہا کہ عدالت کی جانب سے اسرائیل کی تحقیقات کرنے کی پاداش میں امریکی پابندیاں بین الاقوامی قانون کو کمزور کریں گی۔ سلووینیا، لکسمبرگ، میکسیکو، سیرا لیون اور وانواتو کی قیادت میں جاری بیان میں کہا گیا کہ ایسی کارروائیاں سنگین جرائم کے لئے معافی کے خطرے کو بڑھاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتی ہیں، جو عالمی نظم و امن کے قیام کے لئے انتہائی اہم ہے۔ اس گروپ میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، کینیڈا، برازیل اور بنگلہ دیش سمیت درجنوں دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔


امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 4 فروری کو آئی سی سی کے افسران، ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے خلاف اثاثوں کی منجمدی اور سفری پابندیاں عائد کرنے کا حکم دیا۔ جس کے تحت ان لوگوں کے خلاف بھی پابندیاں عائد کی گئیں جو عدالت کی تحقیقات میں معاونت کرتے تھے۔ بیان میں انتباہ کیا گیا کہ پابندیاں حساس معلومات کی رازداری اور ان افراد کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں جن میں متاثرین، گواہ اور عدالت کے افسران شامل ہیں، جن میں سے بہت سے ہمارے شہری ہیں۔ ہم آئی سی سی کی خودمختاری، دیانتداری اور غیر جانبداری کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔



حالانکہ امریکہ نے ہمیشہ خود کو ایک ایسے بین الاقوامی نظام کے ضامن کے طور پر پیش کیا ہے جو انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دیتا ہے، لیکن اس نے اکثر بین الاقوامی اداروں کی ان کوششوں پر حملہ کیا ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مبینہ استحصال کی تحقیقات کرتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کو امید ہے کہ پابندیاں عائد کرنے والے اس حکم سے امریکہ اور اس کے قریبی اتحادی اسرائیل کو نشانہ بنانے والے ’ناجائز اور بے بنیاد اقدامات‘ کے خلاف ’ٹھوس اور اہم نتائج‘ حاصل ہوں گے۔ ٹرمپ پہلے امریکی صدر ہیں جنہوں نے آئی سی سی پر پابندیاں عائد کی ہیں، ان کے ڈیموکریٹک پیش رو جو بائیڈن نے بھی عدالت کو اسرائیل کی تحقیقات کرنے پر سزا دینے کے لئے پابندیوں کے استعمال پر غور کیا تھا۔


گزشتہ سال نومبر میں، آئی سی سی نے اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے لئے گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے تھے، جہاں اسرائیل نے ایک مہم چلائی جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، پورے محلے تباہ ہو گئے، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور انسانی امداد کو وسیع پیمانے پر روک دیا تھا۔ رپورٹوں کے مطابق، کم از کم 61 ہزار فلسطینی اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، یہ تعداد بڑھنے کا امکان ہے کیونکہ ریسکیو کارکن ملبے میں دبی لاشوں کی تلاش کر رہے ہیں۔



اسرائیل نے ہمیشہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے لیکن اسے کبھی جوابدہ نہیں ٹھرایا گیا، اس صورتحال پر کینٹ یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کی لیکچرر شاہد حموری نے 'الجزیرہ' میں لکھا ہے کہ اسرائیل کو حاصل معافی نے ہمیں ایک ایسے نقطے پر پہنچا دیا ہے جہاں موجودہ عالمی نظام اب مزید قابل عمل نہیں رہا۔ اسرائیل نے اقوام متحدہ کے کارکنوں کو قتل کیا، یو این آر ڈبلیو اے کو بند کیا، اقوام متحدہ کے نمائندوں کو داخلے سے روکا اور بار بار اقوام متحدہ اور اس کے حکام کی توہین کی لیکن اسرائیل کو دہائیوں سے غیر معمولی استثنیٰ حاصل ہے۔ اسرائیلی حکومتوں اور ان کے اتحادیوں نے وہ تمام وسائل استعمال کیے ہیں جن سے آئی سی سی پر اسرائیلی جرائم کی تحقیقات نہ کرنے کے لئے دباو¿ ڈالا جا سکے– جسمانی تشدد کی براہ راست دھمکیوں سے لے کر پابندیوں اور بدنامی تک۔ عدالت پر حملے اس وقت اور بھی شدت اختیار کر گئے جب اس نے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔


آئی سی سی پر پابندیاں، پیرس موسمیاتی معاہدے اور عالمی صحت تنظیم سے امریکہ کا انخلا امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے وہ فیصلے ہیں جو عالمی کثیر الجہتی نظام پر ایک براہ راست حملہ ہیں۔ 4 فروری کو، امریکی صدر نے عالمی قانون کی مکمل بے حرمتی کرتے ہوئے غزہ پر ’قبضہ‘ کرنے اور ’اسے اپنا بنانے‘ کا ارادہ ظاہر کیا۔ یہ تمام واقعات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ آیا اقوام متحدہ کے زیر قیادت موجودہ عالمی نظام بچایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اگرچہ 1945 میں آنے والی نسلوں کو جنگ کے عذاب سے بچانے کے لئے اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تھا، مگر اقوام متحدہ طویل عرصے سے تنازعات کو روکنے اور ان سے بچنے میں ناکام رہی ہے۔ جیسا کہ ہمیں موسمیاتی تبدیلی اور عسکریت پسندی کے تیزی سے بڑھنے کے خطرے کا سامنا ہے، یہ واضح ہے کہ ہمیں ایک ایسے نئے عالمی قانونی نظام کی ضرورت ہے جو طاقت کے بجائے لوگوں کو انصاف کی بنیاد پر متحد کرے۔



کانگریس کو کمتر سمجھنا کیجریوال کی بڑی غلطی

 





نواب علی اختر

دہلی کے انتخابی نتائج اب سب کے سامنے ہیں۔ الزامات اور جوابی الزامات کے طویل عرصے کے بعد جب 8 فروری کو ای وی ایم کو کھولا گیا تو نتیجہ بی جے پی کے حق میں آیا۔ اس طرح دہلی میں بی جے پی کی27 سالہ جلا وطنی ختم ہو چکی ہے اور اروند کیجریوال پہلی بار اپوزیشن میں بیٹھنے جا رہے ہیں۔ تاہم کیجریوال خود ایوان میں اپوزیشن کے کیمپ میں نہیں بیٹھ پائیں گے کیونکہ انہیں نئی دہلی کی سیٹ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ نہ صرف کیجریوال بلکہ عام آدمی پارٹی کے تمام اہم لوگ ہار گئے ہیں۔ منیش سسودیا ہوں یا سوربھ بھاردواج، سب ہار گئے۔ بڑے لیڈروں میں آتشی ہی واحد نام ہے جو کالکاجی سے اپنی سیٹ بچانے میں کامیاب رہیں۔ بی جے پی کی جیت سے زیادہ کیجریوال کی ہار پر بحث ہو رہی ہے۔


اب جب کہ دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج آ چکے ہیں اور اس بار انتخابی جنگ نے قومی راجدھانی کی سیاسی تصویر پوری طرح بدل دی ہے۔ ’مفت والی سیاست‘ کرنے والے کیجریوال کی شکست کی کئی وجوہات ہیں جن میں بدعنوانی کے الزامات، فضائی آلودگی، حکومت مخالف لہر، بنیادی سہولیات سے متعلق عوامی شکایات، مسلسل داغدار تصویر قابل ذکر ہیں۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) جو مسلسل تیسری بار حکومت بنانے کا خواب دیکھ رہی تھی، اسے کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے فتح درج کر کے دہلی کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ دوسری طرف کانگریس ایک بار پھر کوئی سیٹ تو نہیں حاصل کر سکی مگر انتخابی میدان میں اپنی شاندار موجودگی درج کرانے میں کامیاب رہی۔



کرپشن کے خلاف تحریک سے جنم لینے والی عام آدمی پارٹی اپنی حکومت کے ابتدائی ایام میں عوام کے لیے ایک کشش رکھنے والی جماعت قرار پانے لگی تھی۔ عوام بھی یہ مان رہے تھے کہ یہ پارٹی سب سے مختلف ہے۔ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرتے ہوئے بھی اروند کیجریوال نے عوامی تائید و حمایت حاصل کی تھی۔ عوام میں یہ رائے پیدا کر دی گئی تھی کہ انہیں مفت کی سہولیات فراہم کرنا ہی حکومت کی اصل کارکردگی ہے۔ انہوں نے دوسرے اہم اور بنیادی مسائل پر زیادہ کچھ توجہ نہیں دی۔ کیجریوال کی دوسری مکمل میعاد کے دوران جب کرپشن کے الزامات عائد ہونے لگے تو عوام کو بڑا جھٹکا لگا تھا۔ بی جے پی کی تشہیری مشنری نے دہلی میں پیدا ہونے والی صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور عام آدمی پارٹی کو دفاعی موقف اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔


لگاتار الزامات اور مقدمات کے نتیجہ میں عام آدمی پارٹی عوامی موڈ کو سمجھنے اور ناراضگی کو دور کرنے کی حکمت عملی بنانے میں ناکام رہی۔ پارٹی کے بڑے چہروں کی شکست اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عوام کا ووٹ کسی کو بھی تخت پر اور کسی کو بھی تختہ پر لا سکتا ہے۔ دہلی کے نتائج اس بات کا واضح ثبوت دکھائی دیتے ہیں۔ دہلی کے نتائج آنے کے بعد ایک بڑا سوال ضرور کھڑا ہوا ہے کہ عام آدمی پارٹی کو کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنا چاہیے تھا؟ اگر ہاتھ کا ساتھ ملتا تو دہلی میں جھاڑ و کمال کر سکتی تھی۔ دونوں پارٹیاں مل کر الیکشن لڑتیں تو موجودہ انتخابی مساوات بدل سکتے تھے۔ اس کا ثبوت لوک سبھا انتخابات ہیں جس میں اپوزیشن پارٹیوں کے ’انڈیا اتحاد‘ نے بھگوا بریگیڈ کے بیشتر ہتھکنڈوں کو ناکام بنا کر مضبوط اپوزیشن کی بنیاد رکھی تھی۔



’انڈیا اتحاد‘ میں کانگریس اور اے اے پی بھی شامل تھیں لیکن جیسے جیسے اسمبلی انتخابات قریب آئے، کیجریوال کی وزیراعظم بننے کی خواہش نے دونوں پارٹیوں کو الگ الگ الیکشن لڑنے پر مجبور کر دیا۔ پہلے ہریانہ اور اب دہلی میں دونوں پارٹیاں الگ الگ الیکشن لڑے جس کا فائدہ بی جے پی کو پہنچا۔ کیجریوال کی مقبولیت میں کمی، کانگریس کے ساتھ اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے ووٹوں کی تقسیم اور بی جے پی کی جارحانہ انتخابی حکمت عملی نے اے اے پی کی شکست کا اسکرپٹ لکھا۔ کیجریوال کی خواہشات دہلی کے الیکشن میں بی جے پی کو کامیابی حاصل کرنے میں کافی مددگار ثابت ہوئی ہیں۔ وہیں اے اے پی کو کئی سیٹوں پر چند ہزار ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس کے ووٹ کئی سیٹوں پر اے اے پی کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتے تھے۔


عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال خود بی جے پی کے پرویش ورما سے صرف 4,089 ووٹوں کے فرق سے ہار گئے۔ اسی طرح منیش سسودیا اور سوربھ بھاردواج جیسے اے اے پی کے بڑے لیڈر بہت کم فرق سے سیٹیں ہار گئے اور ان سیٹوں پر اس فرق سے زیادہ ووٹ کانگریس کے امیدواروں کو ملے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کانگریس کے ساتھ اتحاد نہ کرنا اے اے پی کے لیے بڑا نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ اے اے پی نے 70 میں سے 22 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی لیکن ان میں سے کئی سیٹوں پر اس کے ووٹ شیئر میں کمی آئی ہے۔ کانگریس نے کوئی سیٹ نہیں جیتی لیکن کئی سیٹوں پر 5 سے15 فیصد ووٹ حاصل کر کے اپنی پوزیشن بہتر کی ہے۔


بی جے پی نے ایسی بہت سی سیٹیں جیتیں جہاں اسے اے اے پی اور کانگریس کے درمیان ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ ہوا۔ اگر اے اے پی اور کانگریس کے درمیان اتحاد ہوتا تو بی جے پی کو سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا۔ وجہ یہ ہے کہ دہلی میں ایسی 14 سیٹیں ہیں جہاں عام آدمی پارٹی کے امیدوار کانگریس سے اتحاد نہ کرنے کی وجہ سے ہار گئے۔ راجدھانی کی سب سے ہاٹ سیٹ رہی نئی دہلی کے نتائج بھی حیران کن رہے۔ پرویش صاحب سنگھ (بی جے پی) نے یہاں سے 30,088 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال 4089 ووٹوں سے ہار گئے۔ کیجریوال کو 25,999 ووٹ ملے جبکہ کانگریس کے سندیپ دکشت 4,568 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔


نئی دہلی سیٹ سے کیجریوال کا یہ چوتھا الیکشن تھا اور وہ یہاں پہلی بار ہارے ہیں۔ اس سے قبل 2014 میں بھی کیجریوال کو وارانسی لوک سبھا سیٹ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مقابلہ کیا تھا اور وہ 3 لاکھ 71 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہارے تھے۔ سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیجریوال جو ایک سال پہلے تک وزیراعظم بننے کی خواہش رکھتے تھے، وزیراعلیٰ کی کرسی بھی کھو چکے ہیں، اب وہ کیا کریں گے؟ سال 2023 میں اپوزیشن لوک سبھا انتخابات کی تیاری کر رہا تھا۔ تمام پارٹیاں اکٹھی ہوئیں اور ’انڈیا بلاک‘ تشکیل دیا۔ وزیراعظم کے چہرے پر بحث ہوئی تو اے اے پی نے کھل کر کیجریوال کا نام پیش کیا۔ بڑی اور تجربہ کار پارٹی کانگریس کو نظرانداز کرنا اور کیجریوال کا ’اوور کانفیڈینس‘ اے اے پی کولے ڈوبا۔



اب دہلی میں اے اے پی کی شکست سے نہ صرف کیجریوال کی سیاست پر گہرا اثر پڑے گا بلکہ پارٹی بھی متاثر ہوگی۔ اب صرف پنجاب میں اے اے پی کی حکومت رہ گئی ہے۔ یہ شکست یقیناً پارٹی ہائی کمان کو پریشان کرے گی اور اسے پنجاب کا قلعہ برقرار رکھنے کے لیے نئی حکمت عملی کے ساتھ آنا پڑ سکتا ہے۔ کانگریس کو دہلی میں کمتر سمجھنا کیجریوال کی سب سے بڑی بھول تھی۔ کانگریس کے ’آشیرواد‘ سے کیجریوال دہلی میں اپنی کشتی پار لگا سکتے تھے۔ ماہرین کا یہاں تک کہنا ہے کہ کانگریس کو دہلی میں اپنی کارکردگی کا فائدہ پنجاب میں ملے گا۔ کانگریس پنجاب میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہے اور دہلی کی طرح پنجاب میں بھی اے اے پی نے کانگریس سے اقتدار چھین لیا تھا۔



اروند کیجریوال کی پارٹی کو دہلی میں کیوں کرنا پڑا شکست کا سامنا؟ یوگیندر یادو نے بتائی کئی اہم وجوہات

 







دہلی اسمبلی انتخاب میں شکست کے بعد ایک طرف جہاں عام آدمی پارٹی خود احتسابی میں مشغول ہے۔ وہیں دوسری جانب اروند کیجریوال کے پرانے ساتھیوں میں سے ایک یوگیندر یادو نے بھی عآپ کی شکست کی کچھ وجوہات بتائی ہیں۔ یوگیندر یادو نے کہا کہ 2020 کے انتخاب کے بعد دہلی کے عوام کو کچھ نیا نہیں ملا صرف مفت بجلی اور بس ٹکٹ پر بات ہوتی رہی۔ ’دی ریڈ مائک‘ سے بات چیت کے دوران یوگیندر یادو نے کہا کہ ”عام آدمی پارٹی نے اخلاقیات اور متبادل والی بات تو چھوڑ دی۔ گڈ گورننس کو پکڑا۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ دہلی کے اسکولوں اور محلہ کلنک میں بہت بہتری آئی۔ اس پر ان کو اشتہار بھی کرنا آتا تھا۔ اس پر کیا الزام دیں۔“


یوگیندر یادو نے آگے کہا کہ ”2020 کے انتخاب میں انہیں عوام کی حمایت حاصل ہوئی یہ ان کی کامیابی تھی۔ انہیں اس کا فائدہ بھی ملا۔ اس کے بعد سے ک±ل ملا کر مفت بجلی اور خواتین کو دی گئی بس ٹکٹ کے اوپر ہی بات چل رہی تھی۔ نئی چیز نہیں ہو رہی تھی۔ ایسا نہیں ہو رہا تھا کہ دہلی کے عوام کو محسوس ہو کہ دہلی کا چہرہ بدل رہا ہے۔ 2022 میں ایم سی ڈی کا انتخاب جیت گیا تو بہانہ ختم ہو گیا۔ عوام نے سوال کیا اور عآپ جواب دینے میں ناکام رہی۔“



عام آدمی پارٹی پر طنز کستے ہوئے یوگیندر یادو نے کہا کہ ”عآپ کی حکمت عملی یہ ہے کہ بی جے پی نے ہندو ووٹ کی سیاست کی ہے۔ ہم بھی بی جے پی ہی کی طرح سیاست کریں گے اور خود کو اس سے زیادہ ہندو ثابت کریں گے۔ جب فسادات ہوں گے تو خاموش رہیں گے اور آنکھ بند کر لیں گے۔ روہنگیا کا مسئلہ آئے گا تو بی جے پی سے بڑا روہنگیا مخالف بن کر دکھائیں گے۔ ایسے میں کیسے کانگریس عآپ کا ساتھ دے گی۔“ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ”آج کے اس نتیجہ سے کانگریس اور عآپ کو سبق ملتا ہے کہ وہ بی جے پی کا مقابلہ اس کی پونچھ پکڑ کر نہیں کر سکتے۔ بی جے پی کے نظریے کو دہراتے ہوئے، بی جے پی کے جملے کو قبول کرتے ہوئے، ان کی فرقہ وارانہ سیاست پر یقین کرتے ہوئے اسے شکست نہیں دے سکتے۔“



مسئلہ فلسطین پر تبادلہ خیال کے لیے قاہرہ میں ہنگامی عرب سربراہی اجلاس 27 فروری کو طلب

 






قاہرہ:

مسئلہ فلسطین میں پیش رفت پر تبادلہ خیال کے لیے مصری وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ قاہرہ 27 فروری کو ہنگامی عرب سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔


مصری وزارت خارجہ نے اطلاع دی ہے کہ سربراہی اجلاس بحرین، عرب سربراہی اجلاس کے موجودہ صدر اور عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد منعقد کیا جارہا ہے۔


مصر کی طرف سے حالیہ دنوں میں عرب ممالک کے ساتھ اعلیٰ سطح پر مشاورت اور رابطہ کاری کے بعد اجلاس بلانے کا فیصلہ ہوا۔ اس دوران ریاست فلسطین نے سربراہی اجلاس منعقد کرنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ سربراہی اجلاس میں مسئلہ فلسطین میں نئی اور خطرناک پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔


نقل مکانی کے منصوبوں کا مقابلہ

باخبر ذرائع نے قبل ازیں چند دنوں کے اندر قاہرہ میں "ہنگامی" عرب سربراہی اجلاس منعقد کرنے کے لیے مشاورت کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا تاکہ فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے منصوبوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ذرائع نے ”العربیہ ڈاٹ نیٹ“ کو بتایا کہ سربراہی اجلاس میں ایک متفقہ عرب فیصلے اور موقف تک پہنچنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ ایساموقف ہوگا جو نقل مکانی کو مسترد کرے اور فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے ضروری قانونی اور بین الاقوامی اقدامات پر زور دے گا۔


ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سربراہی اجلاس میں فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کیے بغیر غزہ کی تعمیر نو کے منصوبوں پر بھی بات کی جائے گی۔ جنگ بندی معاہدے کی تکمیل اور کسی بھی خلاف ورزی کو روکنے کی حمایت بھی کی جائے گی۔


دریں اثنا عرب ریاستوں کی لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے فلسطینی کاز کے اصولوں کو کمزور کرنے سے انکار کرنے کے لیے عرب اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام اپنی سرزمین پر باقی رہیں اور انہیں ان کے حق خود ارادیت سے محروم نہ کیا جائے۔ ہنگامی سربراہی اجلاس کا انعقاد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا کہ ان کا ملک غزہ کی پٹی پر قبضہ کرنے اور اہل غزہ کو اردن اور مصر سمیت دیگر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے۔ دریں اثنا اردن اور مصر نے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے منصوبوں کی کئی مرتبہ مخالفت کی ہے۔



غزہ سے فلسطینی انخلا کا ٹرمپ منصوبہ : ہم اپنے حصے کا کام کریں گے، اسرائیل

 







اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کو فلسطینیوں سے صاف کرنے کے منصوبے کی تحسین کی ہے۔ اگرچہ دنیا بھر سے ٹرمپ کے اس منصوبے پر تنقید و مذمت پر مبنی بیانات آ رہے ہیں۔


اسرائیلی وزیراعظم نے اس تنقید و مذمت کی پروا کیے بغیر کہا ہے کہ اسرائیل صدر ٹرمپ کے منصوبے میں رنگ بھرنے کے لیے غزہ سے فلسطینیوں کے انخلائ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔


نیتن یاہو نے ان خیالات کا اظہار 'فاکس نیوز' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔ ان کا یہ انٹرویو امریکی دورے کے اختتام کے موقع پر سامنے آیا ہے۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ سے فلسطینیوں کے نکالے جانے کے حوالے سے سامنے آنے والے منصوبے جس کے سامنے آنے پر دنیا بھر میں سخت تنقید کی جا رہی ہے، نیتن یاہو نے اس منصوبے کا پوری طرح دفاع کیا اور کہا 'میرا خیال ہے صدر ٹرمپ کا یہ منصوبہ پہلا تازہ تصور ہے جو برسوں بعد سامنے آیا ہے اور اس منصوبے میں اتنی جان ہے کہ یہ غزہ کو مکمل طور پر بدل دے گا۔'


میرے خیال میں یہ منصوبہ بالکل صحیح اپروچ پر مبنی ہے اور صحیح اپروچ کی نمائندگی کرتا ہے۔ ٹرمپ نے وہ سب کچھ کہہ دیا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ سارے دروازے کھول دوں اور انہیں موقع دوں کہ وہ غزہ سے نکل جائیں۔ اس دوران ہم غزہ کو نئے سرے سے تعمیر کر لیں، نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کے منصوبے کو بیان کرتے ہوئے کہا۔


انہوں نے یہ بھی کہا کہ 'ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کبھی نہیں کہا کہ اس مقصد کے لیے وہ اپنی مسلح افواج کو غزہ میں لائیں گے۔ جو امریکی فوج کے کرنے کا کام ہوگا وہ غزہ میں ہم کریں گے۔' نیتن یاہو نے یہ بات کھلے انداز میں بیان کی۔


خیال رہے اسرائیل نے غزہ پر 1967 پر قبضہ کیا تھا اور اس قبضے کو 2005 تک جاری رکھا گیا۔ تاہم 2005 میں اسرائیل نے غزہ سے اپنی فوج نکالنے کے ساتھ ساتھ یہودی آبادکاروں کوبھی نکال لیا۔


اس کے بعد اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی شروع کردی۔ تاکہ حماس غزہ پر اپنی حکمرانی کو آسانی سے نبھا نہ سکے۔ اسی ناکہ بندی کے دوران حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ایک مثالی حملہ کر دیا۔ اس طرح کا حملہ اسرائیل پر اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔


اسرائیل و حماس کے درمیان غزہ میں کئی جنگیں ہوئی ہیں۔ تاہم جو جنگ اکتوبر 2023 میں شروع ہوئی اور اب تک کے فیصلے کے مطابق 19 جنوری 2025 تک لڑی جاتی رہی ہے، اس کی ماضی میں کبھی مثال نہیں تھی۔ یہ جنگ انسانی ہلاکتوں، گھروں، سکولوں، ہسپتالوں مسیت مساجد و گرجا گھروں کی تباہی کی ایک بدترین مثال کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ اس میں 48000 سے زائد فلسطینیوں میں سے دو تہائی خواتین اور بچے جنگ میں اسرائیل کی طرف سے قتل کیے گئے ہیں۔


نیتن یاہو نے کہا 'یہ وہی پرانا منصوبہ ہے جو ہم چلا رہے ہیں کہ غزہ کو حماس سے پاک کیا جائے۔ میراخیال ہے کہ ہمیں ٹرمپ کے اس منصوبے کی پیروی کرنی چاہیے۔'


انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا 'اہم معاملہ یہ ہے کہ غزہ کے لوگوں کو لینے کے لیے کون سا ملک تیار ہوگا۔' اسرائیلی رہنما نے کہا 'فلسطینیوں کو غزہ میں واپس آنے کے لیے دہشت گردی سے برائ ت کا اعلان کرنا پڑے گا۔'


نیتن یاہو نے کہا 'ہر کوئی کہتا ہے کہ غزہ ایک کھلی جیل ہے۔ میں انہیں کہتا ہوں اگر وہ غزہ کے لوگوں کو جیل میں سمجھتے ہیں تو وہ انہیں اپنے ہاں لے کیوں نہیں جاتے تاکہ وہ کھلی فضا میں سانس لے سکیں۔'


نیتن یاہو نے مزید کہا 'اگر وہ نیک لوگ انہیں لے جائیں گے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں جیل میں رکھا ہے تو پھر نہ زبردستی نکالنا ہوگا، نہ نسلی صفائی ہوگی اور نہ ہی لوگوں کو ملک سے باہر نکلنے کا خوف ہوگا۔



ٹرمپ کا غزہ سے فلسطینیوں کے انخلاءکا منصوبہ : پاکستان کا 'او آئی سی' اجلاس بلانے کامطالبہ

 







پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے غزہ سے فلسطینی عوام کے دوسرے ملکوں میں منتقل کیے جانے کے ٹرمپ منصوبے کے بعد اس ہفتے میں سامنے آنے والے ردعمل کے دوران کہا ہے کہ 'او آئی سی' کے وزرائے خارجہ کا اس معاملے میں اجلاس بلا کر فلسطینیوں کے خلاف جاری مظالم کا جائزہ لیا جائے اور ٹرمپ کے منصوبے کے سامنے آنے سے پیدا شدہ صورتحال پر غور کے لیے مسلم دنیا کے وزرائے خارجہ اکٹھے ہوں۔


ٹرمپ نے یہ منصوبہ اسی مہینے کے شروع میں پرزور انداز میں پیش کیا ہے۔ تاکہ غزہ فلسطینیوں سے خالی ہوجائے۔ ان فلسطینیوں کو مصر، اردن یا کچھ اور ملکوں میں منتقل کر دیا جائے اور غزہ کی صفائی کے ساتھ غزہ میں تعمیرات کا آغاز کر سکیں۔


اس حوالے سے صدر ٹرمپ پر مشرق وسطیٰ کے سب ملکوں کے علاوہ یورپ اور دنیا کے دیگر خطوں سے بھی تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور سرزمین سے نکال کر وہاں پر ساحلی تفریحی مرکز بنانا چاہتے ہیں۔


تاہم صدر ٹرمپ کے اس منصوبے پر اسرائیلی حکومت اور انتہا پسند اسرائیلی جماعتوں میں غیر معمولی طور پر جوش پایا جاتا ہے اور وہ اس سے بہت خوش ہوئے ہیں کہ جو کام اسرائیل نہیں کر سکا امریکی صدر نے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اس تجویز کو اردن، مصر سمیت دنیا کے دوسرے ملکوں اور پاکستان نے مذمت کی۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے بھی اس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔


پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس بارے میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران کہا ہے کہ دونوں اعلیٰ سفارتکاروں نے ٹرمپ کے اس منصوبے پر باہم تبادلہ خیال کیا اور گہرا اضطراب و تشویش ظاہر کی ہے کہ ٹرمپ کا یہ منصوبہ غیرمنصفانہ اور بین القوامی قاون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہے۔


اسحاق ڈار نے مطالبہ کیا کہ اس بارے میں مشترکہ مو¿قف اختیار کرنے کے لیے مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا فوری اجلاس بلایا جائے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ پاکستانی وزیر خارجہ کی گفتگو میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ پاکستان اور ایران اگلے دنوں سامنے آنے والی ایسی ڈویلپمنٹس پر آپس میں رابطے میں رہیں گے۔


اسحاق ڈار نے کہا کہ 'غزہ کی سرزمین فلسطینوں کی سرزمین ہے اور اس پر فلسطینی عوام کا حق ہے۔ '


اس موقع پر انہوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر بھی زور دیا۔ ان کے خیال میں یہی ایک ممکنہ حل موجود ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان فلسطینیوں کی آزاد و خودمختار ریاست کے قیام کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ ایسی فلسطینی ریاست جس کی سرحدیں 1967 کے فلسطین کی سرحدوں کی بنیاد پر ہوں اور جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔'


صدر ٹرمپ کا یہ منصوبہ اسرائیل و حماس کے درمیان ساڑھے 15 ماہ کی جنگ کے بعد ہونے والی جنگ بندی کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس جنگ بندی معاہدے کے مطابق اسرائیلی قیدیوں کی غزہ سے رہائی کے تبادلے میں اسرائیلی جیلوں سے فلسطینیوں کی رہائی شامل ہے۔













غزہ پر ٹرمپ کی تجویز نئی ہے، مصر پٹی کو جیل میں تبدیل پر تلا ہوا ہے: نیتن یاھو

 






گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی پٹی پر قبضے اور وہاں کے لوگوں کو بے گھر کرنے کے بیانات سے اٹھنے والے عرب اور بین الاقوامی ردعمل کے طوفان کی بازگشت ابھی تھمی نہیں تھی کہ اسرائیل نے ایک بار پھر یہ تجویز تازہ کردی ہے۔


اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس بات پر زوردیا کہ امریکی صدر کی تجویز پہلے سے اچھی ہے اور اس سے قبل اس طرح کی تجویز سامنے نہیں آئی۔


انہوں نے کہا کہ غزہ پر سے متعلق ٹرمپ کی تجویز کو کئی سالوں میں اپنی نوعیت کی پہلی تجویز ہے۔


انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "کچھ لوگ ہم پر غزہ کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کرنے کا الزام لگاتے تھے، لیکن اب وہ ٹرمپ کے انہیں اس جیل سے نکالنے کے خیال کو مسترد کرتے ہیں"۔


انہوں نے ’فاکس نیوز‘ کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران زور دیتے ہوئے کہا کہ مصر ہی فلسطینیوں کو تباہ شدہ پٹی چھوڑنے سے روک رہا ہے۔


انہوں نے مصر پر غزہ کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ "یہ فلسطینیوں کو غزہ چھوڑنے کا موقع دینے کا وقت ہے"۔



انہوں نے غزہ کے لوگوں کے لیے متبادل جگہ تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔


انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیل ان فلسطینیوں کو "جو دہشت گردی ترک کریں گے غزہ کی تعمیر نو کے بعد واپس آنے کی اجازت دے گا"۔


اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایران کے بارے میں کہا کہ ہم نے 8 اکتوبر 2023 ئ کو اپنا وعدہ پورا کر دیا، جب ہم نے عزم کیا تھا کہ ہم ایرانی محور کو الٹا کر دے یں گے۔ ہم نے حزب اللہ کو کمزور کردیا جو خطے میں ایران کے "تاج کا زیور" ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حماس کو شکست دے دی۔ بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ بھی ان کی حکمت عملی کانتیجہ ہے‘-


انہوں نے مزید کہا کہ صرف تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا باقی رہ گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس معاملے پر ٹرمپ کے ساتھ اس وقت بات کی تھی جب وہ چند روز قبل واشنگٹن میں ان سے ملے تھے۔


قابل ذکر ہے کہ غزہ کے حوالے سے ٹرمپ کی تجویز چند روز قبل وائٹ ہاو¿س میں نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے دوران سامنے آئی تھی۔


یہ بات قابل غور ہے کہ فلسطینی علاقے غز ہ کی پٹی سے جبری نقل مکانی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ صرف خطے میں بلکہ واشنگٹن کے مغربی اتحادیوں کی طرف سے بھی اس کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔



جنگ بندی کے بعد غزہ میں 3380 ٹرک داخل، ہم نے 800 زخمیوں کا علاج کیا: گورنر شمالی سینا

 












شمالی سینا کے گورنر میجر جنرل خالد مجاور نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحادث ڈاٹ نیٹ کو خصوصی بیانات دیتے ہوئے کہا کہ مصر نے جنگ بندی کے آغاز سے اب تک فلسطینی علاقوں میں داخل ہونے والی کل انسانی امداد کا 80 فیصد فراہم کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رفح کے راستے داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد 3300 سے تجاوز کرگئی ہے۔ جس میں 430 انسانی امدادی ٹرک شامل ہیں۔ 238 ایندھن اور کھانا پکانے والی گیس کے ٹرک اس کے علاوہ ہیں۔


انہوں نے کہا کہ فضائی اور سمندری راستے سے بھیجی جانے والی امداد 22 بحری جہازوں اور 3000 سے زائد طیاروں کے ذریعے العریش کے ہوائی اڈے اور بندرگاہ پر پہنچی ہے۔


انہوں نے کہا کہ ریاستی سطح پر ایک کرائسس روم ہے جس میں تمام متعلقہ شعبوں، وزارتوں اور ایجنسیوں کے نمائندے شامل ہیں۔ یہ پہلے سے طے شدہ معاہدے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ امداد کے داخلے اور زخمیوں کو وصول کرنے کے طریقہ کار کے ساتھ ساتھ سیاسی اور انسانی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ امداد بہترین طریقے سے فراہم کی جائے۔


میجر جنرل خالد مجاور نے بحری جہاز پر ترکیہ کی جانب سے 10 ہزار خیموں کی آمد کا انکشاف کیا۔ ان خیموں کا استقبال مصر میں ترک سفیر نے کیا۔ اس میں امدادی سامان، خیمے اور پناہ گاہوں کے سامان سمیت 5800 ٹن امدادی سامان بھی شامل تھا۔ غزہ کی پٹی سے زخمیوں کو وصول کرنے کے بارے میں شمالی سینائی کے گورنر نے وضاحت کی کہ ان کا داخلہ 3 درجے کے نظام کے مطابق ہوتا ہے۔ پہلی سطح میں شمالی سینائی گورنریٹ شامل ہے۔ گورنریٹ میں طبی شعبے کو مختلف سپیشلٹیز کے ڈاکٹروں کی تعداد کو دوگنا کر دیا گیا ہے۔ دوسرے درجے میں سینا میں طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ تیسرے درجے میں قاہرہ کے ہسپتال شامل ہیں۔


گورنر نے تصدیق کی کہ اب تک 800 زخمیوں کا علاج مکمل ہو چکا ہے۔ اب بھی 690 کے قریب زخمی پھنسے ہوئے ہیں ، جیسے ہی راہداری آمد و رفت کے لیے کھولی جائے گی ان کی واپسی ہو جائے گی۔


شمالی سینائ کے گورنر نے اشارہ کیا کہ مصری ہلال احمر نے اپنے رضاکاروں کی تعداد کو 1,200 سے بڑھا کر 1,500 رضاکاروں تک کردیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ رضاکار 3 ماہ تک جاری رہنے والی سخت تربیت سے گزرتے ہیں۔ ان کی تربیت میں نظریاتی اور عملی دونوں پہلو شامل ہیں۔ یہ رضا کار فیلڈ ورک میں شامل ہونے سے پہلے کوالیفائنگ ٹیسٹ پاس کرتے ہیں۔



غزہ کی تعمیر کے لیے صرف تین سال درکار ہیں: مصری ڈیویلپر کا دعویٰ

 






غزہ جنگ کی وجہ سے ہونے والی بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد تعمیر نو کا عمل، اس کی لاگت اور کام کے سالوں کی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہے۔ جنوری 2025 میں اقوام متحدہ کی طرف سے کیے گئے نقصان کے تخمینے سے ظاہر کیا گیا تھا کہ غزہ میں جنگ کے نتیجے میں 50 ملین ٹن سے زیادہ ملبے کو ہٹانے میں 21 سال لگ سکتے ہیں اور اس کی لاگت 1.2 بلین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے ایک مصری تاجر نے حیران کن بیان دیا ہے۔


متبادل منصوبہ

مصری بزنس مین ہشام طلعت مصطفیٰ نے 3 سال کے اندر غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک متبادل منصوبے کا انکشاف کیا۔ اپنے منصوبے میں انہوں نے مصر کے تجربات کی بنیاد پر بڑے ہاو¿سنگ پراجیکٹس کو موثر طریقے سے نافذ کرنے کے امکان کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے چینل "ایم بی سی مصر" کے پروگرام ” الحکای?“ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں 1.2 سے 1.3 ملین بے گھر افراد ہیں۔ تعمیر نو کے لیے 100 مربع میٹر فی یونٹ کی شرح سے 200,000 مکانات کی تعمیر کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب ہے ہر مربع میٹر پر تعمیر کی لاگت ایک ہزار ڈالر آئے تو تعمیر کی لاگت کا تخمینہ 20 ملین ڈالر ہوگا۔


انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس منصوبے کو 40 سے 50 کنٹریکٹ کرنے والی کمپنیوں کے ذریعے 3 سال کے اندر 6 مرحلوں میں لاگو کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس پر ” مدینتی“ اور ” الرحاب“ کے منصوبوں کا حوالہ بھی دیا جن میں ایک لاکھ 80 ہزار رہائشی یونٹس موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسی طرح ایک لاکھ 20 ہزار رہائشی یونٹس ” نور“ تعمیراتی منصوبے میں بھی موجود ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مصر کے پاس یہ استعداد ہے کہ وہ غزہ میں بھی ایسے ہی منصوبے مکمل کر سکتا ہے۔


انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ میں فلسطینیوں کے لیے بین الاقوامی برادری کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورت حال کا تسلسل خطرناک حالات کا باعث بن سکتا ہے۔


واضح رہے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکو نے 30 جنوری کو وضاحت کی تھی کہ غزہ کی پٹی میں تقریباً کچھ بھی نہیں بچا ہے۔ انہوں نے تجویز کیا تھا کہ غزہ کی تعمیر نو کے عمل میں 10 سے 15 سال لگ جائیں گے۔ انہوں نے غزہ کے لیے 5 سال کے اندر کسی ٹھوس منصوبے تک پہنچنے کو بھی ناممکن قرار دیا اور کہا کہ تعمیر نو میں 10 سے 15 سال لگ سکتے ہیں۔


یاد رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ 15 ماہ کی وحشیانہ جنگ کے بعد 19 جنوری کو نافذ ہوا اور دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی شرط رکھی گئی۔ اس میں شمال میں بفر زون کے قیام کے ساتھ ساتھ پوری غزہ کی پٹی سے بتدریج اسرائیلی انخلائ بھی شامل تھا۔ معاہدے میں جنگ کے مستقل خاتمے اور غزہ کی تعمیر نو کی بھی شرط رکھی گئی تھی۔






فلسطینیوں کی نقل مکانی سے متعلق نیتن یاہو کے بیانات ناقابل قبول ہیں: سعودی عرب

 







اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کی تجویز پر دوبارہ زور دیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے فلسطین کے مسئلے پر اپنے ٹھوس مو¿قف کا اعادہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ مملکت فلسطینیوں کی نقل مکانی کو مسترد کرتی ہے۔


سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اتوار کو ایک اخباری بیان میں اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین پر رہنے کا حق حاصل ہے۔ فلسطینی بیرون ملک سے آنے والے غیر ملکی قابض یا تارکین وطن نہیں ہیں۔


انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام کا حق ثابت قدم رہے گا اور کوئی بھی اسے چھین نہیں سکے گا چاہے اس میں کتنا وقت لگے۔


فلسطینیوں کی نقل مکانی

سعودی عرب نے فلسطینیوں کی نقل مکانی سے متعلق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے بیانات کو مسترد کر دیا۔ مملکت نے فلسطینی کاز کی مرکزیت پر زور دینے والے ممالک کی کاوشوں کو سراہا۔


سعودی عرب نے فلسطینیوں کو جبری طور پر بے گھر کرنےکے حوالے سے نیتن یاہو کے بیانات کی مذمت کرنے والے "برادر ممالک" کے موقف کو سراہا۔


سعودی عرب نے زور دے کر کہا کہ دو ریاستی حل کے ذریعے بقائے باہمی کے اصول کو قبول کرنے سے ہی پائیدار امن حاصل کیا جا سکتا ہے۔


وزارت خارجہ نے گذشتہ بدھ کو اس بات پر زور دیا تھا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بارے میں مملکت کا موقف مضبوط، غیر متزلزل اور ٹھوس ہے۔ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے سفارتی تعلقات نہیں ہوں گے۔


سعودی عرب کا یہ موقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے غزہ کی پٹی کے باشندوں دوسرے ملکوں میں منتقل کرنے اور غزہ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کا اعلان کیا تھا۔


قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کئی برسوں سے اسرائیل۔فلسطین تنازعے کے حل کے لیے دو ریاستی حل پر قائم رہنے کا اعلان کرتا رہا ہے اور فلسطینیوں کے ان کی سرزمین پر حق کی پاسداری کا اعادہ کرتا ہے۔