Friday, 7 February 2025

'اسرائیل کے ساتھ امریکی اظہار یکجہتی' بین الاقوامی فوجداری عدالت پر بھی پابندیاں ؟

 






امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اپنی صدارت کے پہلے ہی روز سے اپنے حکم ناموں اور اقدامات سے دنیا کو حیران کر رہے ہیں۔ انہوں نے جمعرات کے روز ایک بار پھر لوگوں کواس وقت حیرت میں ڈال دیا جب وائٹ ہاو¿س سے یہ خبر سامنے آئی کہ امریکہ ایک بار پھر بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگانے کے قریب ہے۔


اس بین الاقوامی عدالت نے پچھلے سال کے اواخر میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کے ساتھ تقریبا ایک سال تک غزہ میں اسرائیلی جنگ کی کمان کرنے والے وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے سلسلے میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ بین الاقوامی عدالت کو نیتن یاہو کے خلاف کارروائی کرنے کے آغاز پر ہی بے اثر کر دینے اور انتقام کا نشانہ بنانے کا امریکی صدر ٹرمپ نے فیصلہ کر لیا ہے۔ تاکہ نیتن یاہو وغیرہ کے خلاف کارروائی آگے نہ بڑھ سکے۔


تاہم اس امریکی فیصلے سے ایک نئی بحث ضرور چھڑ گئی ہے کہ ان امریکی پابندیوں سے اس بین الاقوامی ادارے کی ساکھ متاثر ہو گی یا امریکی ساکھ تباہی کی طرف مزید دھکیلی جائے گی۔ نیز امریکہ کی طرف سے کئی ملکوں پر لگائی پابندیوں پر بھی سوال اٹھنے لگیں گے کہ ان کا اخلاقی جواز ہے بھی یا نہیں۔ فوجداری عدالت پر پابندیوں کے لگائے جانے کے حوالے وائٹ ہاو¿س کے ایک ذمہ دار نے بتایا ہے کہ صدر ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔


وائٹ ہاو¿س حکام کے مطابق اس حکم نامے پر دستخطوں کے بعد فوجداری عدالت سے وابستہ تمام افراد اور ان کے خاندانوں پر معاشی اور امریکہ میں آنے جانے پر پابندیاں لگ جائیں گی۔ وہ تمام افراد جو عدالت کے لیے کام کرتے ہیں یا اس بین الاقوامی عدالت کی کسی حوالے سے معاونت کرتے ہیں اور امریکہ یا اس کے اتحادی ملکوں کے عہدے داروں کے خلاف تحقیق اور تفتیش کا حصہ ہیں پابندیوں کی زد پر آجائیں گے۔


ٹرمپ کی طرف سے ایگزیکٹو آرڈر کرنے کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے ان پابندیوں سے متعلق بل کو پچھلے ہفتے روک دیا تھا۔ تاہم بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اس امریکی فیصلے کے بارے میں ابھی تک کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ البتہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے ان ممکنہ پابندیوں کی اطلاعات سامنے اتے ہی اپنے بچاو¿ کے لیے اقدامات کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔


' رائٹرز' کو معلوم ہوا ہے کہ عدالت اپنے سٹاف کو تین ماہ کی پیشگی تنخواہ دے گی تاکہ بنکوں کے ساتھ کوئی مسئلہ ہو تو عملے کے ارکان کی تنخواہیں رک نہ جائیں۔


واضح رہے یہ دوسرا موقع پر کہ امریکہ بین الاقوامی عدالت کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا رہا ہے اس سے پہلے 2020 میں بھی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے جنگی جرائم کی بنیاد پر عدالتی کارروائی شروع ہونے پر یہی کارروائی کر چکی ہے۔ تاہم بعد ازاں جوبائیڈن انتظامیہ کے دور میں یہ پابندیاں ختم ہو گئی تھیں۔



فلسطین کوئی سرمایہ کاری کا منصوبہ نہیں ہے : فلسطینی اتھارٹی کا ٹرمپ کو جواب

 







فلسطینی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام اور قیادت 1948 اور 1967 کے سانحات کو دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے اور اس قضیے کو ختم کرنے کے مقصد سے پیش کیے جانے والے کسی بھی منصوبے کو ناکام بنا دیں گے۔


یہ بات فلسطینی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے فلسطینی اتھارٹی کے سرکاری ترجمان نبیل ابو ردینہ کے حوالے سے آج جمعرات کے روز بتائی۔


ابو ردینہ کے مطابق فلسطین اپنی سرزمین، تاریخ اور مقامات مقدسہ کے حوالے سے فروخت کے لیے نہیں ہے، یہ کوئی سرمایہ کاری کا منصوبہ نہیں ہے، فلسطینی عوام کے حقوق قابل مذاکرات نہیں ہیں، یہ سودے بازی کا کارڈ نہیں"۔


فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان نے مزید کہا کہ "ہماری فلسطینی قوم جس نے اپنے قانونی قومی حقوق کے دفاع کے لیے بھرپور قربانیاں دیں، اپنی سرزمین کی ایک بالشت سے بھی دست بردار نہیں ہو گی خواہ وہ غزہ کی پٹی ہو یا مغربی کنارا جس میں فلسطینی ریاست کا دار الحکومت مشرقی بیت المقدس بھی شامل ہے"۔


ابو ردینہ کے مطابق ... فلسطینیوں کی جبری ہجرت کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کے منصوبوں پر عربی اور بین الاقوامی رد عمل نے ثابت کر دیا ہے کہ پوری دنیا ایک زبان ہو کر بات کر رہی ہے جو اس مسئلے کی بین الاقوامی قانونی حیثیت اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں ہے .. جب کہ اکیلی امریکی انتظامیہ مختلف زبان بول رہی ہے ... اسی طرح امریکی شخصیات اور ارکان کانگریس اور اسرائیلی آوازیں بھی ہیں جن کے نزدیک یہ منصوبہ نا قابل عمل ہے"۔


ابو ردینہ نے باور کرایا کہ امن و استحکام کا یقینی بنایا جانا فلسطین کے اندر بالخصوص اس کے دار الحکومت بیت المقدس کے اندر پوشیدہ ہے، اس کا کسی دوسری جگہ یا کسی فرد کے فیصلے سے کوئی تعلق نہیں۔


ابو ردینہ نے بتایا کہ صدر محمود عباس نے اپنے سرکاری بیان میں ان عرب اور عالمی ممالک کے مواقف کو گراں قدر قرار دیا ہے جن میں جبری ہجرت یا انضمام کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے باور کرایا کہ مستقل اور مستحکم امن کے لیے بین الاقوامی قوانین اور عرب امن منصوبے کی بنیاد پر سیاسی حل کا کوئی متبادل نہیں ہے۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی شام وائٹ ہاو¿س میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا تھا کہ ان کا ملک غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی دیگر ممالک میں جبری ہجرت کے بعد پٹی کا کنٹرول سنبھالے گا۔


ٹرمپ کے مطابق غزہ کی تعمیر نو میں معاونت کے لیے امریکی فوج کی تعیناتی خارج از امکان نہیں۔ انھوں نے توقع ظاہر کی کہ غزہ کی پٹی میں امریکا کی "طویل المدت" ملکیت ہو سکتی ہے۔


بدھ کے روز سعودی عرب، امارات، اردن، مصر اور سلطنت عمان کے علاوہ فلسطین، عرب لیگ، عرب پارلیمنٹ اور خلیج تعاون کونسل نے ٹرمپ کے منصوبے کو مسترد کردیا۔ دوسری جانب اسرائیل میں سیاسی سطح پر منصوبے کو وسیع پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔


یورپ میں جرمنی، فرانس، برطانیہ، ہسپانیہ، پولینڈ، سلووینیا، اسکاٹ لینڈ، بیلجیم اور سوئٹزرلینڈ نے بدھ کے روز ٹرمپ کے منصوبوں کو یکسر مسترد کر دیا۔ ساتھ ہی خبردار کیا گیا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے جو مشرق وسطی میں نفرت اور بے چینی کو جنم دے سکتی ہے۔


مذکورہ ممالک نے دو ریاستی حل پر عمل درآمد کی جانب بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا جو تنازع ختم کرنے اور خطے میں امن یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔


گذشتہ ماہ 25 جنوری سے امریکی صدر ٹرمپ غزہ کے فلسطینیوں کی ہمسایہ ممالک مثلا مصر اور اردن منتقلی کے منصوبے کی ترویج کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا ہے اور دیگر عرب ممالک اور علاقائی اور بین الاقوامی تنظیمیں بھی اس موقف کی صف میں شامل ہو چکی ہیں۔



امریکی پابندیوں سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی آزادی کو خطرہ ہے: یورپی یونین

 




ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر پابندیوں کے بعد یورپی یونین نے جمعہ کو خبردار کیا کہ ان سے عدالت کی آزادی اور وسیع تر عدالتی نظام کو خطرہ ہے۔


ٹرمپ نے جمعرات کو ایک حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے کہا کہ دی ہیگ کی عدالت نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے لیے وارنٹ گر
فتاری جاری کر کے "اپنی طاقت کا غلط استعمال" کیا ہے۔ نیتن یاہو سے انھوں نے اس ہفتے کے اوائل میں بات چیت کی تھی۔


یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کی نمائندگی کرنے والی یورپی کونسل کے سربراہ انتونیو کوسٹا نے ایکس پر لکھا، "آئی سی سی پر پابندی سے عدالت کی آزادی کو خطرہ ہے اور مجموعی طور پر بین الاقوامی فوجداری انصاف کے نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔"


یورپی کمیشن نے علیحدہ طور پر ٹرمپ کی پابندیوں کے حوالے سے "افسوس" کا اظہار کیا اور آئی سی سی کی "بین الاقوامی فوجداری انصاف کو برقرار رکھنے اور استثنیٰ کے خلاف جنگ میں کلیدی اہمیت" پر زور دیا۔


کمیشن کے ترجمان نے کہا، صدارتی حکم نامے سے "جاری تحقیقات بشمول یوکرین کے حوالے سے کارروائیوں کے مت?ثر ہونے کا خطرہ ہے جس سے تمام دنیا میں احتساب کو یقینی بنانے کے لیے برسوں کی کوششوں پر اثر پڑے گا"۔


انہوں نے مزید کہا، "یورپی یونین حکم نامے کے مضمرات کی نگرانی اور مزید ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے گی۔"


ٹرمپ کے حکم نامے میں کہا گیا کہ ٹربیونل نے امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل کو نشانہ بناتے ہوئے "ناجائز اور بے بنیاد اقدامات" کیے۔ ان کا اشارہ افغانستان میں امریکی فوجیوں اور غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کی طرف تھا۔


امریکہ اور اسرائیل دونوں ہی عدالت کے رکن نہیں ہیں۔


یورپی یونین کونسل کے صدر کوسٹا نے جمعرات کو آئی سی سی کی صدر جج ٹوموکو اکانے سے ملاقات کی اور انہیں یورپی یونین کی حمایت کا یقین دلایا۔


کوسٹا نے سوشل میڈیا پر لکھا، "آئی سی سی دنیا کے بعض خوفناک ترین جرائم کے مت?ثرین کو انصاف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آزادی اور غیر جانبداری عدالت کے کام کی اہم خصوصیات ہیں۔"


یورپی یونین کے ایک اہلکار نے بتایا، ملاقات کے دوران کوسٹا اور اکانے نے ان ممکنہ طریقوں پر تبادل? خیال کیا جن سے بلاک ادارے کے لیے اپنی حمایت کو مضبوط بنا سکتا ہے۔



ایم وی اے کی مشترکہ پریس کانفرنس سے راہل گاندھی کا خطاب، مہاراشٹر انتخابات میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

 








نئی دہلی: مہاراشٹر کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں بے ضابطگیوں کے انکشاف کے لیے مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) اتحاد کے رہنماو¿ں راہل گاندھی، سپریہ سولے اور سنجے راو¿ت نے آج نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا، ”ہم وہ تمام اپوزیشن جماعتیں ہیں جنہوں نے مہاراشٹر کے پچھلے انتخابات میں حصہ لیا۔ ہم ہندوستان کے عوام کو مہاراشٹر انتخابات سے متعلق کچھ اہم معلومات دینا چاہتے ہیں جو ہم نے دریافت کی ہیں“



انہوں نے مزید کہا، ”ہماری ٹیم نے ووٹر لسٹ اور ووٹنگ پیٹرن کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور ہم اس پر کافی عرصے سے کام کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے، ہم نے متعدد بے ضابطگیاں پائی ہیں۔ ملک کے لیے، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے جو جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، یہ جاننا اور سمجھنا ضروری ہے۔“


راہل گاندھی نے کہا، ”2019 میں اسمبلی سبھا انتخابات اور 2024 میں لوک سبھا انتخابات کے درمیان پانچ سالوں میں 32 لاکھ ووٹرز کا اضافہ ہوا۔ تاہم، پانچ ماہ کے عرصے میں جو لوک سبھا 2024 میں جیتنے والی جماعتوں (کانگریس، این سی پی-ایس سی پی، شیو سینا (یو بی ٹی)) کے درمیان تھا، 39 لاکھ ووٹرز کا اضافہ ہوا۔“



انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ یہ 39 لاکھ ووٹرز کون ہیں؟ یہ اتنی تعداد ہے جتنی ہماچل پردیش کے تمام ووٹرز کی ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ مہاراشٹر میں ووٹرز کی تعداد ریاست کی مکمل ووٹنگ آبادی سے زیادہ کیوں ہے؟ کسی طرح، مہاراشٹر میں یہ ووٹرز اچانک پیدا ہو گئے ہیں۔“


راہل گاندھی نے کہا کہ اسمبلی انتخابات سے پہلے اقلیتی برادریوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے گئے تھے۔ ہمیں ووٹر لسٹ کی تفصیلات چاہئیں۔ اس کے علاوہ، لسٹ میں دلتوں اور اقلیتی برادریوں کے نام بھی حذف کیے گئے۔


راہل گاندھی نے کہا، ”ہم مہاراشٹر میں الیکشن کمیشن سے ووٹر لسٹ کی درخواست کرتے رہے ہیں، مگر ہمیں نہیں ملی۔ بی جے پی کا ووٹ شیئر اتنا زیادہ کیسے بڑھ گیا؟ ہم الزام نہیں لگا رہے بلکہ الیکشن کمیشن سے صرف معلومات مانگ رہے ہیں۔“


راہل گاندھی نے کہا، ”بابا صاحب امبیڈکر، جنہوں نے آئین کی تشکیل میں مدد کی، نے کہا تھا، انتخابی فہرست جمہوریت میں سب سے بنیادی چیز ہے۔ یہ انتہائی اہم ہے کہ انتخابات کو کسی بھی قسم کی مداخلت سے آزاد کیا جائے اور انتخابی مشینری کو حکومتی انتظامیہ کے کنٹرول سے باہر ہونا چاہیے۔“


انہوں نے کہا، ”اس سے پہلے، الیکشن کمیشنروں کا انتخاب ایک کمیٹی کے ذریعے کیا جاتا تھا جس میں چیف جسٹس آف انڈیا، اپوزیشن کے رہنما اور وزیراعظم شامل ہوتے تھے۔ اس حکومت نے اس میں تبدیلی کی—انہوں نے کمیٹی سے سی جے آئی کو ہٹا کر اس میں بی جے پی کے ایک شخص کو شامل کر لیا۔ لوک سبھا انتخابات سے فوراً پہلے، ایک الیکشن کمیشنر کو ہٹایا گیا اور دو نئے کمیشنروں کو مقرر کیا گیا۔“



راجستھان: کابینہ وزیر کروڑی لال مینا نے اپنی ہی حکومت پر عائد کیا جاسوسی اور فون ٹیپ کرنے کا سنگین الزام

 






راجستھان کی بی جے پی حکومت میں وزیر ڈاکٹر کروڑی لال مینا نے اپنی حکومت کے خلاف ا?واز بلند کرنی شروع کر دی ہے۔ انھوں نے بھجن لال شرما حکومت پر جاسوسی کرنے اور فون ٹیپ کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ کروڑی لال مینا کا کہنا ہے کہ میں نے بدعنوانی کے کچھ معاملے اٹھائے تھے، جس کے بعد 50 فرضی تھانیداروں کو گرفتار کیا گیا۔ میں نے جب کہا کہ یہ امتحان رد کرو، تو حکومت نے میری بات نہیں مانی۔ الٹا حکومت کی طرف سے میرے لیے چپہ چپہ پر سی ا?ئی ڈی لگائی جا رہی ہے اور میرا ٹیلی فون بھی ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔


ڈاکٹر مینا کا کہنا ہے کہ میرے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ میں کچھ بھی غلط کام نہیں کرتا۔ انھوں نے گزشتہ گہلوت حکومت کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ اس وقت بھی میرے ٹیلی فون ریکارڈ کیے گئے، سی ا?ئی ڈی لگائی گئی، لیکن میں نے سب کو چکما دے دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ”کوئی برا کام نہیں کرتا اس لیے میں ڈرتا نہیں، جھکتا نہیں اور ٹوٹتا بھی نہیں۔ میں سچ کہنے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔“ راجستھان کے کابینہ وزیر کروڑی لال مینا نے یہ بیان جئے پور کے ا?ماگڑھ مندر میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔



کروڑی لال مینا نے کہا کہ مجھے امید تھی کہ جب حکومت بدلے گی تو بدعنوانی کرنے والوں پر نکیل کسیں گے اور منھ کا کھایا ہوا ناک سے نکالیں گے۔ لیکن میں مایوس ہوں، کیونکہ جو تحریک میں نے گزشتہ حکومت میں شروع کی تھی، جن کی وجہ سے ہم اقتدار میں ا?ئے، ان ایشوز پر کام نہیں ہو رہا۔ انھیں فراموش کر دیا گیا ہے۔


گھریلو تشدد میں مداخلت نہ کرنے والا ہر رشتہ دار ملزم نہیں، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

 






نئی دہلی: سپریم کورٹ نے گھریلو تشدد کے ایک معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ محض کسی رشتہ دار کا مداخلت نہ کرنا اسے جرم میں شریک نہیں بناتا۔ عدالت نے کہا کہ گھریلو جھگڑوں میں شوہر کے تمام رشتہ داروں کو ملزم بنانا غلط رجحان ہے اور اگر کسی نے تشدد کے دوران کوئی کردار ادا نہیں کیا، تو اسے مقدمے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔


یہ معاملہ تلنگانہ کے بھوناگری ضلع کا ہے، جہاں ایک خاتون نے شوہر کے خلاف گھریلو تشدد اور جہیز ہراسانی کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ شکایت میں خاتون نے شوہر کی خالہ اور ان کی بیٹی کا بھی نام شامل کرا دیا۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے ان کا نام فہرست سے نکالنے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔



جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے کہا کہ کسی کو صرف اس بنیاد پر ملزم نہیں بنایا جا سکتا کہ وہ گھریلو تشدد کے واقعے کے دوران خاموش رہا یا متاثرہ کی مدد کے لیے آگے نہیں آیا۔ عدالت نے مزید کہا کہ گھریلو تشدد کے مقدمات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے لیکن جرم میں کوئی کردار نہ ادا کرنے والے افراد کو ملزم نہیں بنایا جا سکتا۔


سپریم کورٹ نے کہا کہ شکایت کنندہ کے لیے ہمیشہ یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ تمام الزامات کے ثبوت فراہم کر سکے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی بھی فرد کو بغیر کسی واضح ثبوت کے مقدمے میں شامل کر دیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ بے گناہ افراد کو غیر ضروری طور پر مقدمات میں الجھانے کا رجحان ختم ہونا چاہیے۔


اس فیصلے کے بعد شوہر کی خالہ اور ان کی بیٹی کو مقدمے سے بری کر دیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ جب تک کسی فرد کی واضح شمولیت ثابت نہ ہو، اس پر الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔



’تحریری جواب دیں گے‘، راہل گاندھی کے ذریعہ مہاراشٹر اسمبلی انتخاب میں بے ضابطگی کے الزام پر الیکشن کمیشن کا رد عمل

 






کانگریس رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ا?ج ایم وی اے لیڈران کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کر مہاراشٹر میں ہوئے اسمبلی انتخاب پر کئی طرح کے سوالات اٹھائے۔ انھوں نے الیکشن کمیشن پر انگلی اٹھائی اور کچھ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے بتایا کہ انتخاب کو متاثر کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں اب الیکشن کمیشن نے اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے الزامات کا جواب تحریری شکل میں دے گا۔


الیکشن کمیشن نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دیا ہے۔ آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر کیے گئے پوسٹ میں کمیشن نے لکھا ہے کہ ”الیکشن کمیشن سیاسی پارٹیوں کو ایک اہم اسٹیک ہولڈر کی شکل میں دیکھتا ہے۔ ہمارے لیے ووٹرس سب سے اہم ہیں، لیکن ہم سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ دیے گئے کسی بھی مشورہ اور اٹھائے گئے سوالات کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔“ ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے کہا کہ ”کمیشن ملک بھر کے انتخابات میں یکساں طریقے سے اختیار کیے گئے پوری طرح سے دلائل پر مبنی اور عمل پر مبنی میٹرکس کے ساتھ سبھی سوالوں کا تحریری شکل میں جواب دے گا۔“



قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی نے جمعہ کے روز کی گئی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے مہاراشٹر اسمبلی میں غلط طریقے سے کام کیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ووٹر لسٹ میں کئی طرح کی غلطیاں پائی گئی ہیں۔ مہاوکاس اگھاڑی (ایم وی اے) لیڈران کے ساتھ میڈیا سے بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے بتایا کہ مہاراشتر اسمبلی انتخاب میں کئی طرح کی بے ضابطگیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ راہل گاندھی نے یہ بھی بتایا کہ لگاتار ووٹرس اور ووٹر لسٹ کی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس کی مزید گہرائی سے جانچ کے لیے لوک سبھا انتخاب اور اسمبلی انتخاب کی ووٹر لسٹ کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آخر یہ نئے اضافی ووٹرس کون ہیں۔ آخر کیسے ایک بوتھ کے بیشتر ایس سی اور ایس ٹی ووٹرس کو دوسرے بوتھ پر بھیج دیا گیا۔“


راہل گاندھی نے پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن پر انگلی اٹھاتے ہوئے جانکاری دی کہ پارٹی نے الیکشن کمیشن سے مبینہ بے ضابطگی کے بارے میں جواب مانگا تھا، لیکن ان کی طرف سے ابھی تک کوئی جواب حاصل نہیں ہوا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے جو کچھ بھی کیا ہے، اس میں کچھ نہ کچھ گڑبڑی تو ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے اپنے الزامات کو مضبوطی کے ساتھ میڈیا کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ”میں یہاں پر کوئی ہوا ہوائی الزام نہیں لگا رہا ہوں، جو ڈاٹا ہمارے پاس دستیاب ہے اسے دِکھا بھی رہا ہوں۔“


’آپ کا بہت شکریہ‘، ٹرمپ کے ذریعہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے خلاف پابندی عائد کیے جانے پر نیتن یاہو کا اظہار خوشی






امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) یعنی بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ ٹرمپ کے اس فیصلے پر آج اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور امریکی صدر کو شکریہ بھی کہا ہے۔ نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں انھوں نے آئی سی سی کے خلاف پابندیوں پر اپنا خوش کن رد عمل ظاہر کیا۔


اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ”صدر ٹرمپ، آپ کے دلیرانہ آئی سی سی ایگزیکٹیو آرڈر کے لیے آپ کا بہت شکریہ۔“ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ یہ قدم امریکہ اور اسرائیل کو امریکہ مخالف اور یہود مخالف بدعنوان عدالت سے بچائے گا، جس کا ہمارے خلاف قانونی لڑائی میں حصہ لینے کا کوئی دائرہ اختیار یا موقف نہیں ہے۔ نیتن یاہو مزید کہتے ہیں کہ ”آئی سی سی نے امریکہ کے خلاف کارروائی کے مقدمے کے طور پر اسرائیل کے خلاف وحشیانہ مہم چلائی اور اب ٹرمپ کے حکم سے دونوں ممالک کی خود مختاری کا تحفظ ہوا۔“


دراصل امریکی صدر نے 6 فروری کو ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کیا تھا جس میں اسرائیل سمیت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف بدسلوکی کو پیش نظر رکھتے ہوئے آئی سی سی پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ حکم نامے کے تحت امریکہ آئی سی سی کی خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں پر ’کافی اور اہم نتائج‘ عائد کرے گا۔ اس کے نتائج میں جائیداد اور اثاثوں کی روک تھام کے ساتھ ساتھ آئی سی سی کے عہدیداروں، ملازمین اور ایجنٹوں کے ساتھ ساتھ ان کے قریبی خاندان کے افراد کے امریکہ میں داخلے کی معطلی بھی شامل ہے۔


واضح رہے کہ آئی سی سی نے 21 نومبر 2024 کو نیتن یاہو اور اسرائیل کے سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے گرفتاری وارنٹ جاری کیے تھے۔ نیتن یاہو کے دفتر نے عدالتی کارروائی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے اس پر اسرائیل کو الگ تھلگ کرنے اور یہودی ریاست کے خلاف دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگایا تھا۔



’مدر آف ڈیموکریسی‘ کو ’مینی پیولیٹیڈ ڈیموکریسی‘ نہیں بننے دیں گے، راہل گاندھی کے بعد کھڑگے کا بھی الیکشن کمیشن پر حملہ

 




کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے جمعہ کے روز الیکشن کمیشن کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے مہاراشٹر اسمبلی انتخاب میں ہوئی کچھ بے ضابطگیوں کو سامنے رکھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ 5 ماہ کے اندر ریاست کی ووٹر لسٹ میں 39 لاکھ سے زائد ووٹرس جوڑے گئے۔ ساتھ ہی انھوں نے دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر میں جوڑے گئے ووٹرس کی مجموعی تعداد ہماچل پردیش کے ووٹرس کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔ راہل گاندھی کے ذریعہ الیکشن کمیشن پر کیے گئے حملے کے بعد اب کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی کمیشن کو نشانے پر لیا ہے۔


ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ایکسیل فارمیٹ میں وہ ووٹر لسٹ دستیاب کرائیں جس میں تصویریں بھی شامل ہو۔ اپنے پوسٹ میں کھڑگے نے لکھا ہے کہ ”مہاراشٹر 2024 لوک سبھا انتخاب اور اسمبلی انتخاب کی ووٹر لسٹ میں بڑے فرق کا پتہ چلا ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ایکسیل فارمیٹ میں ایک مشمولہ تصویر ووٹر لسٹ، جس کا استعمال ووٹنگ کے لیے ہوا ہے، وہ ہمیں دستیاب کرانی چاہیے۔ انتخابی عمل کی غیر جانبداری میں بھروسہ اور جمہوریت میں عقیدہ کے لیے یہ بے حد ضروری ہے۔“ ساتھ ہی انھوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ”ہم ’مدر آف ڈیموکریسی‘ (مادرِ جمہوریت) کو ’مینی پیولیٹیڈ ڈیموکریسی‘ (جوڑ توڑ جمہوریت) نہیں بننے دیں گے۔“

واضح رہے کہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے 7 فروری کو ایم وی اے لیڈران کے ساتھ کی گئی ایک اہم پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ”مہاراشٹر میں 2019 اسمبلی انتخاب اور 2024 لوک سبھا انتخاب کے درمیان 5 سال میں 32 لاکھ نئے ووٹرس جوڑے گئے۔ پھر لوک سبھا انتخاب 2024 اور اسمبلی انتخاب 2024 کے درمیان 5 ماہ میں 39 لاکھ نئے ووٹرس جوڑے گئے۔ سوال یہ ہے کہ 5 ماہ کے اندر گزشتہ 5 سال سے زیادہ ووٹرس کیسے جوڑے گئے؟ یہ تعداد ہماچل پردیش کے مجموعی ووٹرس کے برابر ہے۔“


دوسرا ایشو راہل گاندھی نے یہ اٹھایا کہ مہاراشٹر میں ریاست کے مجموعی ووٹرس کی تعداد مہاراشٹر کی بالغ آبادی سے زیادہ کیوں ہے؟ انھوں نے کہا کہ لگتا ہے جیسے کسی بھی طرح مہاراشٹر میں اچانک ووٹرس بنائے گئے ہیں۔ اس معاملے میں شیوسیبا یو بی ٹی رکن پارلیمنٹ سنجے راو¿ت نے کہا کہ ”اگر اس ملک کا الیکشن کمیشن زندہ ہے، ان کا ضمیر مرا نہیں ہے تو راہل گاندھی نے جو سوال پوچھے ہیں، ان کا جواب دینا چاہیے۔ لیکن الیکشن کمیشن اس کا جواب نہیں دے گا، کیونکہ الیکشن کمیشن بھی حکومت کی غلامی کر رہا ہے۔“


زمین کے بدلے نوکری کیس: 17 فروری کو ہوگی سماعت، لالو خاندان کے پانچ افراد ملزم

 




نئی دہلی: زمین کے بدلے نوکری گھوٹالے میں دہلی کی راو¿ز ایونیو کورٹ میں آج ہونے والی سماعت ملتوی کر دی گئی۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 17 فروری کو ہوگی۔


اس کیس میں سی بی آئی نے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو سمیت 78 افراد کے خلاف ضمنی چارج شیٹ داخل کی ہے۔ چارج شیٹ میں لالو پرساد یادو کے علاوہ رابڑی دیوی، تیجسوی یادو، میسا بھارتی اور ہیما یادو کے نام بھی شامل ہیں۔


اس سے قبل 30 جنوری کو ہوئی سماعت میں عدالت نے دو سابق سرکاری افسران کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دی تھی، جن میں سابق آئی اے ایس افسر آر کے مہاجن بھی شامل ہیں۔ آر کے مہاجن اس وقت ریلوے بورڈ میں تعینات تھے جب لالو یادو یو پی اے-1 حکومت میں ریلوے وزیر تھے۔ سی بی آئی کا الزام ہے کہ آر کے مہاجن اس گھوٹالے میں شامل تھے اور انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔



گزشتہ سال انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بھی اس معاملے میں لالو پرساد یادو اور تیجسوی یادو کے خلاف ضمنی چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس چارج شیٹ میں لالو یادو، ان کے بیٹے تیجسوی یادو اور دیگر 10 افراد کو ملزم نامزد کیا گیا تھا۔ ای ڈی کا مقدمہ سی بی آئی کی درج کردہ ایف آئی آر پر مبنی ہے۔


یہ مبینہ گھوٹالہ 2004 سے 2009 کے درمیان کا ہے، جب لالو یادو یو پی اے-1 حکومت میں ریلوے وزیر تھے۔ الزام ہے کہ اس دوران بھارتی ریلوے کے مختلف زونز میں گروپ ڈی کی نوکریوں کے لیے لوگوں کو بھرتی کیا گیا اور بدلے میں ان افراد نے اپنی زمینیں لالو یادو کے خاندان کے افراد اور ان کی کمپنی اے کے انفوسس پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام کر دیں۔


’اب کسی کا خون ابال نہیں مار رہا؟‘ فرضی حب الوطنوں سے کانگریس کا تلخ سوال

 











امریکہ میں ناجائز طریقے سے مقیم ہندوستانیوں کو جس طرح وطن واپس بھیجا گیا ہے، اس نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو حیران کر دیا ہے۔ خصوصاً کانگریس نے تو اس معاملے میں آج ملک گیر سطح پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ گزشتہ دنوں 104 ہندوستانیوں کو ایک طیارہ میں ہتھکڑی پہنا کر امریکہ سے وطن واپس بھیجا گیا۔ کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے اس واقعہ پر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے تلخ انداز میں سوال کیا ہے کہ ”اب کسی کا خون ا±بال نہیں مار رہا؟ اب کسی کی حب الوطنی نہیں جاگ رہی ہے؟ اب کسی کو دقت نہیں ہو رہی ہے؟“


سپریا شرینیت نے اپنا ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کیا ہے جسے کانگریس نے اپنے آفیشیل ایکس ہینڈل پر شیئر کیا ہے۔ اس میں سپریا کہتی نظر آ رہی ہیں کہ ”ہندوستانیوں کو امریکہ زنجیروں میں باندھ کر ہتھکڑیاں پہنا کر بھیج رہا ہے۔ ہمارے ملک کی خواتین تک کو زنجیر میں باندھا گیا۔ ایک ناکارہ حکومت کے ساتھ ساتھ وہ سب لوگ جو اس پر یا تو خاموش ہیں، یا آنکھیں موند لی ہیں، یا اس کو درست ٹھہرا رہے ہیں– آپ کا پاکھنڈ اور فرضی حب الوطنی دیکھ کر تکلیف نہیں ہوتی بلکہ غصہ آتا ہے۔ حب الوطنی کی باتیں کرنے والوں، اگر اپنے ساتھی ہندوستانیوں کے ساتھ یہ ہوتا دیکھ کر تم خوش ہو رہے ہو یا درست ٹھہرا رہے ہو تو خاک محبت کرتے ہو تم اس ملک سے۔“ وہ مزید تلخ انداز اختیار کرتی ہوئی کہتی ہیں کہ ”بھارت ماتا کی جئے بولنے والوں، وہ ’جئے‘ ندی، نالوں، پیڑ، پہاڑوں، گاو¿ں، شہر سے کہیں زیادہ ہر ایک ہندوستانی کی ہے۔ کرکٹ میچ میں انڈیا-انڈیا چیخنے سے یا جرسی پہننا بھر ہی حب الوطنی نہیں ہے۔ اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ اگر غلط ہو تو اس کے خلاف بولنا حب الوطنی ہے۔“



اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے سپریا کہتی ہیں کہ ”کسی ملک میں ناجائز طریقے سے جانا بالکل غلط ہے، اور ہر ملک اس سے نمٹنے کے لیے بھی آزاد ہے۔ لیکن پوری دنیا میں ڈنکا بجنے کا دعویٰ کرنے والے، اپنے لوگوں کے ساتھ تھوڑی سی انسانیت یقینی نہیں بنا پائے؟ ہم سے چھوٹے ممالک نے اپنے شہریوں کو زنجیریں پہنانے کی مخالفت کی اور ہماری حکومت سے ایک چوں تک نہ نکلا۔ یہ عزت ہے 140 کروڑ ہندوستانیوں کی؟ یہ طوطی بول رہی ہے ہماری کہ ہمارے لوگوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک ہو؟“



مرکز کی مودی حکومت پر بے انتہا ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ”یہ اس لیے بول رہی ہوں کیونکہ ایک بار سوچیے گا، اگر اپنا بچہ غلطی کرے تو آپ اس کو ڈانٹیں گے، شاید تھپڑ بھی جڑ دیں، لیکن اگر کوئی باہری شخص ایسا کرے گا تو آپ کمر کس کے لڑنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ پھر ہمارے لوگوں کے ساتھ امریکہ نے اس بدسلوکی کا ارادہ بھی کیسے کیا؟ امریکہ نے ہمارے ملک کے 104 لوگوں کو بھیڑ بکری کی طرح زنجیروں سے باندھ کر کھدیڑ دیا۔ بھیجنے سے پہلے ڈٹینشن سنٹر میں رکھا، پھر 40 گھنٹے ظلم کیے۔“



ویڈیو میں مرکز کے خلاف حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے سپریا شرینیت نے کہا کہ ”آپ جملوں کی بارش کرتے رہے اور ہمارا ملک بے عزت ہوتا رہا، اور ناکامی کو درست کہنے والوں کا ضمیر تو کب کا مر چکا ہے، اب نمائش بھی ختم ہو گیا۔“ وہ مزید کہتی ہیں کہ ”جو کچھ بھی ہو، یہ (ڈیپورٹ کیے گئے ہندوستانی) ہیں تو اپنے لوگ ہی اور میری حب الوطنی ان کے ساتھ ہوئی غیر انسانی حرکت کو کسی قیمت پر درست نہیں ٹھہرا سکتا۔ اگر آپ کا ٹھہرا رہا ہے تو لعنت ہے آپ پر!“



مہاراشٹر انتخاب میں بے ضابطگی: ’راہل گاندھی جو بول رہے، وہ بالکل درست‘، اپوزیشن الیکشن کمیشن پر حملہ آور

 






مہاراشٹر اسمبلی انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج جو سوالات الیکشن کمیشن کے سامنے رکھے ہیں، اس معاملے میں اپوزیشن کا بھرپور ساتھ انھیں مل رہا ہے۔ کانگریس لیڈران تو راہل گاندھی کے سوالات کو جائز ٹھہرا ہی رہے ہیں، این سی پی-ایس پی، شیوسینا یو بی ٹی اور آر جے ڈی جیسی پارٹیوں کے لیڈران بھی ان سوالات کا جواب چاہتے ہیں۔


آر جے ڈی رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے راہل گاندھی کے ذریعہ مہاراشٹر اسمبلی انتخاب میں بے ضابطگی کے دعوے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم نے لگاتار کہا ہے کہ گزشتہ 10 سالوں میں کئی اداروں کا وقار اور بھروسہ گرا ہے۔ لیکن اس گراوٹ میں سب سے اوپر ہندوستان کا الیکشن کمیشن ہے۔“ ان کا کہنا ہے کہ فکر اس لیے ہے کیونکہ اس سے سیاست اور جمہوریت کی صحت متاثر ہوتی ہے۔ آج تک مہاراشٹر میں ووٹرس کی تعداد میں ہوئے حیرت انگیز اضافہ پر کوئی مدلل تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ ہلکی شعر و شاعری سنا کر آپ سنگین مسائل کو حل نہیں کر سکتے۔ آپ کو یہ طور طریقے بدلنے ہوں گے۔


کانگریس رکن پارلیمنٹ رجنی پاٹل سے جب میڈیا والوں نے اس معاملے میں رد عمل مانگا، تو انھوں نے کہا کہ ”راہل گاندھی جی جو کچھ بول رہے ہیں، وہ بالکل درست ہے۔ ہم اس معاملے کو بار بار عوام کے سامنے اٹھا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن اس پر توجہ نہیں دے رہا ہے۔“ وہ مزید کہتی ہیں کہ ”مہاراشٹر انتخاب کے نتائج سنگین فکر پیدا کرتے ہیں۔ صرف کچھ ماہ میں چیزیں اتنی تیزی سے کس طرح بدل گئیں؟ جواب دینا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔“

کانگریس رکن پارلیمنٹ راجیو شکلا نے تو اس معاملے میں الیکشن کمیشن کے رویے کو یکطرفہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ”الیکشن کمیشن جانبداری کر رہا ہے، اس کا رویہ یکطرفہ ہے۔ یہ الیکشن کمیشن سیدھے طور پر حکومت کے لیے کام کر رہا ہے۔ اگر الیکشن کمیشن سے اعداد و شمار مانگے گئے ہیں تو وہ دستیاب کروانا اس کی ذمہ داری ہے۔“ انھوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی کو انتخابی عمل پر کوئی شبہ ہے، تو یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس شبہ کو دور کرے۔“


مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والی رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڈ نے بھی راہل گاندھی کے ذریعہ مہاراشٹر اسمبلی انتخاب میں کیے گئے گڑبڑی کے دعووں کو درست ٹھہرایا۔ انھوں نے کہا کہ ”ہم نے مہاراشٹر انتخابات کو قریب سے دیکھا اور ہم اس عمل میں گہرائی سے شامل تھے۔ ایگزٹ پول میں مہاوکاس اگھاڑی آگے تھی، لیکن اچانک ٹرینڈ بدل گیا۔ نتیجہ بدل گیا۔“ وہ تو یہاں تک کہتی ہیں کہ ”بی جے پی خود نتائج کو لے کر حیران تھی، کیونکہ جیت کی صورت میں پھول اور مٹھائی کی انھوں نے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔“


امریکہ سے ڈیپورٹ پنجابی نوجوانوں کے لیے پنجاب پولیس نے بنائی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی، گہرائی سے ہوگی تحقیقات

 



پنجاب کے ڈی جی پی گورو یادو نے جمعہ (7 فروری) کے روز سنیئرآئی پی ایس افسران کی ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی/ ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی امریکہ سے ڈیپورٹ کیے گئے پنجاب کے نوجوانوں سے متعلق ہیومن اسمگلنگ کے زاویہ سے پورے معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کرے گی۔ جانچ رپورٹ کی بنیاد پر قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔


قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں امریکہ نے 104 ایسے ہندوستانیوں کو اپنے جنگی طیارہ ’سی 17‘ میں بھیجا تھا جو غیر قانونی طریقے سے وہاں مقیم تھے۔ ڈیپورٹ کیے گئے لوگوں میں بڑی تعداد پنجاب کے نوجوانوں کی بھی ہے۔ انہی سے متعلق جانچ کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی گئی ہے۔ یہ 4 رکنی ٹیم اے ڈی جی پی این آر آئی پروین سنہا کی صدارت میں تشکیل دی گئی ہے۔ اس میں اے ڈی جی پی داخلی سیکورٹی شیو ورما، آئی جی پی پروویزننگ ڈاکٹر ایس بھوپتی، آئی پی ایس اور ڈی آئی جی بارڈر رینج ستندر سنگھ شامل ہیں۔


فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی ٹیم کو قانون اور حقائق کے مطابق مناسب کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ ٹیم غیر قانونی کام کرنے والوں اور ہیومن اسمگلنگ میں ملوث پائے جانے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی کمیٹی کو جانچ میں کسی دیگر پولیس افسر کو بھی شامل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ یہ ٹیم متعلقہ سینئر پولیس کمشنروں کے ساتھ ربط بنائے رکھے گی، جنھیں کمیٹی کو سبھی ضروری امداد اور بنیادی سہولیات دستیاب کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔