Friday, 7 February 2025

’آپ کا بہت شکریہ‘، ٹرمپ کے ذریعہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے خلاف پابندی عائد کیے جانے پر نیتن یاہو کا اظہار خوشی






امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) یعنی بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ ٹرمپ کے اس فیصلے پر آج اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور امریکی صدر کو شکریہ بھی کہا ہے۔ نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں انھوں نے آئی سی سی کے خلاف پابندیوں پر اپنا خوش کن رد عمل ظاہر کیا۔


اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ”صدر ٹرمپ، آپ کے دلیرانہ آئی سی سی ایگزیکٹیو آرڈر کے لیے آپ کا بہت شکریہ۔“ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ یہ قدم امریکہ اور اسرائیل کو امریکہ مخالف اور یہود مخالف بدعنوان عدالت سے بچائے گا، جس کا ہمارے خلاف قانونی لڑائی میں حصہ لینے کا کوئی دائرہ اختیار یا موقف نہیں ہے۔ نیتن یاہو مزید کہتے ہیں کہ ”آئی سی سی نے امریکہ کے خلاف کارروائی کے مقدمے کے طور پر اسرائیل کے خلاف وحشیانہ مہم چلائی اور اب ٹرمپ کے حکم سے دونوں ممالک کی خود مختاری کا تحفظ ہوا۔“


دراصل امریکی صدر نے 6 فروری کو ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کیا تھا جس میں اسرائیل سمیت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف بدسلوکی کو پیش نظر رکھتے ہوئے آئی سی سی پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ حکم نامے کے تحت امریکہ آئی سی سی کی خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں پر ’کافی اور اہم نتائج‘ عائد کرے گا۔ اس کے نتائج میں جائیداد اور اثاثوں کی روک تھام کے ساتھ ساتھ آئی سی سی کے عہدیداروں، ملازمین اور ایجنٹوں کے ساتھ ساتھ ان کے قریبی خاندان کے افراد کے امریکہ میں داخلے کی معطلی بھی شامل ہے۔


واضح رہے کہ آئی سی سی نے 21 نومبر 2024 کو نیتن یاہو اور اسرائیل کے سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے گرفتاری وارنٹ جاری کیے تھے۔ نیتن یاہو کے دفتر نے عدالتی کارروائی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے اس پر اسرائیل کو الگ تھلگ کرنے اور یہودی ریاست کے خلاف دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگایا تھا۔



’مدر آف ڈیموکریسی‘ کو ’مینی پیولیٹیڈ ڈیموکریسی‘ نہیں بننے دیں گے، راہل گاندھی کے بعد کھڑگے کا بھی الیکشن کمیشن پر حملہ

 




کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے جمعہ کے روز الیکشن کمیشن کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے مہاراشٹر اسمبلی انتخاب میں ہوئی کچھ بے ضابطگیوں کو سامنے رکھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ 5 ماہ کے اندر ریاست کی ووٹر لسٹ میں 39 لاکھ سے زائد ووٹرس جوڑے گئے۔ ساتھ ہی انھوں نے دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر میں جوڑے گئے ووٹرس کی مجموعی تعداد ہماچل پردیش کے ووٹرس کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔ راہل گاندھی کے ذریعہ الیکشن کمیشن پر کیے گئے حملے کے بعد اب کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی کمیشن کو نشانے پر لیا ہے۔


ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ایکسیل فارمیٹ میں وہ ووٹر لسٹ دستیاب کرائیں جس میں تصویریں بھی شامل ہو۔ اپنے پوسٹ میں کھڑگے نے لکھا ہے کہ ”مہاراشٹر 2024 لوک سبھا انتخاب اور اسمبلی انتخاب کی ووٹر لسٹ میں بڑے فرق کا پتہ چلا ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ایکسیل فارمیٹ میں ایک مشمولہ تصویر ووٹر لسٹ، جس کا استعمال ووٹنگ کے لیے ہوا ہے، وہ ہمیں دستیاب کرانی چاہیے۔ انتخابی عمل کی غیر جانبداری میں بھروسہ اور جمہوریت میں عقیدہ کے لیے یہ بے حد ضروری ہے۔“ ساتھ ہی انھوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ”ہم ’مدر آف ڈیموکریسی‘ (مادرِ جمہوریت) کو ’مینی پیولیٹیڈ ڈیموکریسی‘ (جوڑ توڑ جمہوریت) نہیں بننے دیں گے۔“

واضح رہے کہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے 7 فروری کو ایم وی اے لیڈران کے ساتھ کی گئی ایک اہم پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ”مہاراشٹر میں 2019 اسمبلی انتخاب اور 2024 لوک سبھا انتخاب کے درمیان 5 سال میں 32 لاکھ نئے ووٹرس جوڑے گئے۔ پھر لوک سبھا انتخاب 2024 اور اسمبلی انتخاب 2024 کے درمیان 5 ماہ میں 39 لاکھ نئے ووٹرس جوڑے گئے۔ سوال یہ ہے کہ 5 ماہ کے اندر گزشتہ 5 سال سے زیادہ ووٹرس کیسے جوڑے گئے؟ یہ تعداد ہماچل پردیش کے مجموعی ووٹرس کے برابر ہے۔“


دوسرا ایشو راہل گاندھی نے یہ اٹھایا کہ مہاراشٹر میں ریاست کے مجموعی ووٹرس کی تعداد مہاراشٹر کی بالغ آبادی سے زیادہ کیوں ہے؟ انھوں نے کہا کہ لگتا ہے جیسے کسی بھی طرح مہاراشٹر میں اچانک ووٹرس بنائے گئے ہیں۔ اس معاملے میں شیوسیبا یو بی ٹی رکن پارلیمنٹ سنجے راو¿ت نے کہا کہ ”اگر اس ملک کا الیکشن کمیشن زندہ ہے، ان کا ضمیر مرا نہیں ہے تو راہل گاندھی نے جو سوال پوچھے ہیں، ان کا جواب دینا چاہیے۔ لیکن الیکشن کمیشن اس کا جواب نہیں دے گا، کیونکہ الیکشن کمیشن بھی حکومت کی غلامی کر رہا ہے۔“


زمین کے بدلے نوکری کیس: 17 فروری کو ہوگی سماعت، لالو خاندان کے پانچ افراد ملزم

 




نئی دہلی: زمین کے بدلے نوکری گھوٹالے میں دہلی کی راو¿ز ایونیو کورٹ میں آج ہونے والی سماعت ملتوی کر دی گئی۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 17 فروری کو ہوگی۔


اس کیس میں سی بی آئی نے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو سمیت 78 افراد کے خلاف ضمنی چارج شیٹ داخل کی ہے۔ چارج شیٹ میں لالو پرساد یادو کے علاوہ رابڑی دیوی، تیجسوی یادو، میسا بھارتی اور ہیما یادو کے نام بھی شامل ہیں۔


اس سے قبل 30 جنوری کو ہوئی سماعت میں عدالت نے دو سابق سرکاری افسران کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دی تھی، جن میں سابق آئی اے ایس افسر آر کے مہاجن بھی شامل ہیں۔ آر کے مہاجن اس وقت ریلوے بورڈ میں تعینات تھے جب لالو یادو یو پی اے-1 حکومت میں ریلوے وزیر تھے۔ سی بی آئی کا الزام ہے کہ آر کے مہاجن اس گھوٹالے میں شامل تھے اور انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔



گزشتہ سال انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بھی اس معاملے میں لالو پرساد یادو اور تیجسوی یادو کے خلاف ضمنی چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس چارج شیٹ میں لالو یادو، ان کے بیٹے تیجسوی یادو اور دیگر 10 افراد کو ملزم نامزد کیا گیا تھا۔ ای ڈی کا مقدمہ سی بی آئی کی درج کردہ ایف آئی آر پر مبنی ہے۔


یہ مبینہ گھوٹالہ 2004 سے 2009 کے درمیان کا ہے، جب لالو یادو یو پی اے-1 حکومت میں ریلوے وزیر تھے۔ الزام ہے کہ اس دوران بھارتی ریلوے کے مختلف زونز میں گروپ ڈی کی نوکریوں کے لیے لوگوں کو بھرتی کیا گیا اور بدلے میں ان افراد نے اپنی زمینیں لالو یادو کے خاندان کے افراد اور ان کی کمپنی اے کے انفوسس پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام کر دیں۔


’اب کسی کا خون ابال نہیں مار رہا؟‘ فرضی حب الوطنوں سے کانگریس کا تلخ سوال

 











امریکہ میں ناجائز طریقے سے مقیم ہندوستانیوں کو جس طرح وطن واپس بھیجا گیا ہے، اس نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو حیران کر دیا ہے۔ خصوصاً کانگریس نے تو اس معاملے میں آج ملک گیر سطح پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ گزشتہ دنوں 104 ہندوستانیوں کو ایک طیارہ میں ہتھکڑی پہنا کر امریکہ سے وطن واپس بھیجا گیا۔ کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے اس واقعہ پر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے تلخ انداز میں سوال کیا ہے کہ ”اب کسی کا خون ا±بال نہیں مار رہا؟ اب کسی کی حب الوطنی نہیں جاگ رہی ہے؟ اب کسی کو دقت نہیں ہو رہی ہے؟“


سپریا شرینیت نے اپنا ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کیا ہے جسے کانگریس نے اپنے آفیشیل ایکس ہینڈل پر شیئر کیا ہے۔ اس میں سپریا کہتی نظر آ رہی ہیں کہ ”ہندوستانیوں کو امریکہ زنجیروں میں باندھ کر ہتھکڑیاں پہنا کر بھیج رہا ہے۔ ہمارے ملک کی خواتین تک کو زنجیر میں باندھا گیا۔ ایک ناکارہ حکومت کے ساتھ ساتھ وہ سب لوگ جو اس پر یا تو خاموش ہیں، یا آنکھیں موند لی ہیں، یا اس کو درست ٹھہرا رہے ہیں– آپ کا پاکھنڈ اور فرضی حب الوطنی دیکھ کر تکلیف نہیں ہوتی بلکہ غصہ آتا ہے۔ حب الوطنی کی باتیں کرنے والوں، اگر اپنے ساتھی ہندوستانیوں کے ساتھ یہ ہوتا دیکھ کر تم خوش ہو رہے ہو یا درست ٹھہرا رہے ہو تو خاک محبت کرتے ہو تم اس ملک سے۔“ وہ مزید تلخ انداز اختیار کرتی ہوئی کہتی ہیں کہ ”بھارت ماتا کی جئے بولنے والوں، وہ ’جئے‘ ندی، نالوں، پیڑ، پہاڑوں، گاو¿ں، شہر سے کہیں زیادہ ہر ایک ہندوستانی کی ہے۔ کرکٹ میچ میں انڈیا-انڈیا چیخنے سے یا جرسی پہننا بھر ہی حب الوطنی نہیں ہے۔ اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ اگر غلط ہو تو اس کے خلاف بولنا حب الوطنی ہے۔“



اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے سپریا کہتی ہیں کہ ”کسی ملک میں ناجائز طریقے سے جانا بالکل غلط ہے، اور ہر ملک اس سے نمٹنے کے لیے بھی آزاد ہے۔ لیکن پوری دنیا میں ڈنکا بجنے کا دعویٰ کرنے والے، اپنے لوگوں کے ساتھ تھوڑی سی انسانیت یقینی نہیں بنا پائے؟ ہم سے چھوٹے ممالک نے اپنے شہریوں کو زنجیریں پہنانے کی مخالفت کی اور ہماری حکومت سے ایک چوں تک نہ نکلا۔ یہ عزت ہے 140 کروڑ ہندوستانیوں کی؟ یہ طوطی بول رہی ہے ہماری کہ ہمارے لوگوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک ہو؟“



مرکز کی مودی حکومت پر بے انتہا ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ”یہ اس لیے بول رہی ہوں کیونکہ ایک بار سوچیے گا، اگر اپنا بچہ غلطی کرے تو آپ اس کو ڈانٹیں گے، شاید تھپڑ بھی جڑ دیں، لیکن اگر کوئی باہری شخص ایسا کرے گا تو آپ کمر کس کے لڑنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ پھر ہمارے لوگوں کے ساتھ امریکہ نے اس بدسلوکی کا ارادہ بھی کیسے کیا؟ امریکہ نے ہمارے ملک کے 104 لوگوں کو بھیڑ بکری کی طرح زنجیروں سے باندھ کر کھدیڑ دیا۔ بھیجنے سے پہلے ڈٹینشن سنٹر میں رکھا، پھر 40 گھنٹے ظلم کیے۔“



ویڈیو میں مرکز کے خلاف حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے سپریا شرینیت نے کہا کہ ”آپ جملوں کی بارش کرتے رہے اور ہمارا ملک بے عزت ہوتا رہا، اور ناکامی کو درست کہنے والوں کا ضمیر تو کب کا مر چکا ہے، اب نمائش بھی ختم ہو گیا۔“ وہ مزید کہتی ہیں کہ ”جو کچھ بھی ہو، یہ (ڈیپورٹ کیے گئے ہندوستانی) ہیں تو اپنے لوگ ہی اور میری حب الوطنی ان کے ساتھ ہوئی غیر انسانی حرکت کو کسی قیمت پر درست نہیں ٹھہرا سکتا۔ اگر آپ کا ٹھہرا رہا ہے تو لعنت ہے آپ پر!“



مہاراشٹر انتخاب میں بے ضابطگی: ’راہل گاندھی جو بول رہے، وہ بالکل درست‘، اپوزیشن الیکشن کمیشن پر حملہ آور

 






مہاراشٹر اسمبلی انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج جو سوالات الیکشن کمیشن کے سامنے رکھے ہیں، اس معاملے میں اپوزیشن کا بھرپور ساتھ انھیں مل رہا ہے۔ کانگریس لیڈران تو راہل گاندھی کے سوالات کو جائز ٹھہرا ہی رہے ہیں، این سی پی-ایس پی، شیوسینا یو بی ٹی اور آر جے ڈی جیسی پارٹیوں کے لیڈران بھی ان سوالات کا جواب چاہتے ہیں۔


آر جے ڈی رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے راہل گاندھی کے ذریعہ مہاراشٹر اسمبلی انتخاب میں بے ضابطگی کے دعوے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم نے لگاتار کہا ہے کہ گزشتہ 10 سالوں میں کئی اداروں کا وقار اور بھروسہ گرا ہے۔ لیکن اس گراوٹ میں سب سے اوپر ہندوستان کا الیکشن کمیشن ہے۔“ ان کا کہنا ہے کہ فکر اس لیے ہے کیونکہ اس سے سیاست اور جمہوریت کی صحت متاثر ہوتی ہے۔ آج تک مہاراشٹر میں ووٹرس کی تعداد میں ہوئے حیرت انگیز اضافہ پر کوئی مدلل تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ ہلکی شعر و شاعری سنا کر آپ سنگین مسائل کو حل نہیں کر سکتے۔ آپ کو یہ طور طریقے بدلنے ہوں گے۔


کانگریس رکن پارلیمنٹ رجنی پاٹل سے جب میڈیا والوں نے اس معاملے میں رد عمل مانگا، تو انھوں نے کہا کہ ”راہل گاندھی جی جو کچھ بول رہے ہیں، وہ بالکل درست ہے۔ ہم اس معاملے کو بار بار عوام کے سامنے اٹھا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن اس پر توجہ نہیں دے رہا ہے۔“ وہ مزید کہتی ہیں کہ ”مہاراشٹر انتخاب کے نتائج سنگین فکر پیدا کرتے ہیں۔ صرف کچھ ماہ میں چیزیں اتنی تیزی سے کس طرح بدل گئیں؟ جواب دینا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔“

کانگریس رکن پارلیمنٹ راجیو شکلا نے تو اس معاملے میں الیکشن کمیشن کے رویے کو یکطرفہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ”الیکشن کمیشن جانبداری کر رہا ہے، اس کا رویہ یکطرفہ ہے۔ یہ الیکشن کمیشن سیدھے طور پر حکومت کے لیے کام کر رہا ہے۔ اگر الیکشن کمیشن سے اعداد و شمار مانگے گئے ہیں تو وہ دستیاب کروانا اس کی ذمہ داری ہے۔“ انھوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی کو انتخابی عمل پر کوئی شبہ ہے، تو یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس شبہ کو دور کرے۔“


مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والی رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڈ نے بھی راہل گاندھی کے ذریعہ مہاراشٹر اسمبلی انتخاب میں کیے گئے گڑبڑی کے دعووں کو درست ٹھہرایا۔ انھوں نے کہا کہ ”ہم نے مہاراشٹر انتخابات کو قریب سے دیکھا اور ہم اس عمل میں گہرائی سے شامل تھے۔ ایگزٹ پول میں مہاوکاس اگھاڑی آگے تھی، لیکن اچانک ٹرینڈ بدل گیا۔ نتیجہ بدل گیا۔“ وہ تو یہاں تک کہتی ہیں کہ ”بی جے پی خود نتائج کو لے کر حیران تھی، کیونکہ جیت کی صورت میں پھول اور مٹھائی کی انھوں نے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔“


امریکہ سے ڈیپورٹ پنجابی نوجوانوں کے لیے پنجاب پولیس نے بنائی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی، گہرائی سے ہوگی تحقیقات

 



پنجاب کے ڈی جی پی گورو یادو نے جمعہ (7 فروری) کے روز سنیئرآئی پی ایس افسران کی ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی/ ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی امریکہ سے ڈیپورٹ کیے گئے پنجاب کے نوجوانوں سے متعلق ہیومن اسمگلنگ کے زاویہ سے پورے معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کرے گی۔ جانچ رپورٹ کی بنیاد پر قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔


قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں امریکہ نے 104 ایسے ہندوستانیوں کو اپنے جنگی طیارہ ’سی 17‘ میں بھیجا تھا جو غیر قانونی طریقے سے وہاں مقیم تھے۔ ڈیپورٹ کیے گئے لوگوں میں بڑی تعداد پنجاب کے نوجوانوں کی بھی ہے۔ انہی سے متعلق جانچ کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی گئی ہے۔ یہ 4 رکنی ٹیم اے ڈی جی پی این آر آئی پروین سنہا کی صدارت میں تشکیل دی گئی ہے۔ اس میں اے ڈی جی پی داخلی سیکورٹی شیو ورما، آئی جی پی پروویزننگ ڈاکٹر ایس بھوپتی، آئی پی ایس اور ڈی آئی جی بارڈر رینج ستندر سنگھ شامل ہیں۔


فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی ٹیم کو قانون اور حقائق کے مطابق مناسب کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ ٹیم غیر قانونی کام کرنے والوں اور ہیومن اسمگلنگ میں ملوث پائے جانے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی کمیٹی کو جانچ میں کسی دیگر پولیس افسر کو بھی شامل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ یہ ٹیم متعلقہ سینئر پولیس کمشنروں کے ساتھ ربط بنائے رکھے گی، جنھیں کمیٹی کو سبھی ضروری امداد اور بنیادی سہولیات دستیاب کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔


آرجے ڈی نے کانٹی تھانے میں ہوئی موت کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا

 



پٹنہ، 07 فروری 2025 بہار پردیش راشٹریہ جنتا دل کے تر
جمان اعجاز احمد نے کہا کہ بہار میں پولیس کے ظلم و جبر کے باعث عام لوگوں کی زندگی دشوار ہو گئی ہے اور پولیس کی من مانی کا شکار عام شہری ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مظفرپور کے کانٹی تھانے میں ہونے والی شیوم کی موت کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں پولیس کے مظالم کے جو واقعات سامنے آ رہے ہیں، ان سے عوام کا حکومت اور انتظامیہ پر سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ پولیس مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے عام لوگوں پر زبردستی جرم قبول کروانے کے لیے غیر انسانی طریقے اپنا رہی ہے۔ بہار میں بھی اب اتر پردیش کی طرز پر پولیس کے مظالم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح کے واقعات کو دیکھتے ہوئے معزز سپریم کورٹ نے بھی کہا تھا کہ بہار میں پولیس کا راج چل رہا ہے۔

اعجاز احمد نے کہا کہ کچھ دن قبل مدھوبنی ضلع کے بینی پٹی میں مولانا فیروز کے ساتھ بہیمانہ طریقے سے پولیس نے زیادتی کی۔ دوسری طرف، مظفرپور ضلع کے کانٹی تھانے میں بائیک چوری کے الزام میں پولیس کے تشدد اور بربریت کے باعث شیوم کی حوالات میں موت ہو گئی، اور ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پولیس کی مارپیٹ ہی ان کی موت کا سبب بنی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس حراست میں ہونے والی اس موت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بہار میں پولیس کا راج چل رہا ہے۔ جب قائد حزب اختلاف تیجسوی پرساد یادو حکومت کے ان کارناموں اور پولیس کے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو حکومت کے ترجمان الٹا ایسے پولیس افسران کا دفاع کرنے لگتے ہیں۔ اپوزیشن کی آواز کو دبانے اور سچائی کو سامنے نہ آنے دینے کے لیے ایسے بیانات دیے جاتے ہیں، جبکہ اپوزیشن کی تحریک کو کچلنے کے لیے پولیس کے ظلم و جبر کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

اعجاز احمد نے مزید کہا کہ بہار میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جہاں ایک طرف جرائم اور مجرموں کو حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے، وہیں دوسری طرف مافیا اور جرائم پیشہ افراد کو اعلیٰ سطح پر تحفظ دیا جا رہا ہے، جس کے باعث عام شہریوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔


Thursday, 6 February 2025

غزہ کی پٹی کے ساحلوں کے لیے ٹرمپ کا داماد کیا خواب دیکھ رہا ہے ؟

 







امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں تجویز پیش کی تھی کہ غزہ کی پٹی کو فلسطینیوں سے خالی کرا کر اسے امریکا کے زیر کنٹرول ایک بین الاقوامی ساحلی سیاحتی مقام میں تبدیل کر دیا جائے۔ اس طرح کی تجویز کا عندیہ ٹرمپ کے داماد گیرڈ کوشنر تقریبا ایک برس پہلے دے چکے ہیں۔


ٹرمپ کی اس تجویز پر فلسطینیوں کے علاوہ عرب اور مغربی ممالک کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نسلی تطہیر ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت یہ غیر قانونی اقدام ہو گا۔


یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے پراپرٹی سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے غزہ کے بارے میں بات کی۔ اس سے پہلے اکتوبر 2024 میں وہ ایک ریڈیو انٹرویو میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر غزہ کی درست طریقے سے تعمیر نو کی جائے تو یہ "موناکو" سے بہتر جگہ بن جائے گی۔


اس سے پہلے ایوانکا ٹرمپ کے شوہر اور پراپرٹی کا کاروبار کرنے والے گیرڈ کوشنر نے 15 فروری 2024 کو ہاورڈ یونیورسٹی میں ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر لوگ رہائش اختیار کرنے پر توجہ مرکوز کریں تو غزہ میں سمندر کے مقابل واقع املاک بہت قیمتی ہیں۔


ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت سے قبل خود کوشنر نیویارک میں ایک پراپرٹی ڈیولپر تھے۔


فسلطینیوں کے لیے غزہ کو ایک ساحلی سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کی بات جو کہ خارج از امکان نظر آتی ہے، انھیں 1948 کی جنگ اور اسرائیل کے قیام کے بعد کے المیے کی یاد دلاتی ہے جب 7 لاکھ فلسطینیوں کو فرار ہونے یا اپنے گھروں کو چھوڑ جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔


ابھی تک یہ بات سامنے نہیں آئی ہے کہ غزہ میں "مشرق وسطی کا ریویرا" قائم کرنے کے حوالے سے ٹرمپ کے ویڑن پر عمل درآمد کس طرح کیا جائے گا۔ غزہ میں امور کی زمام ابھی تک حماس تنظیم کے پاس ہے۔


غزہ میں زمینوں کی ملکیت عثمانی دور کی حکم رانی، برطانوی سامراجی اور اردنی قوانین کی بنیاد پر ایک پیچیدہ امتزاج ہے۔ اس کے علاوہ خاندانوں کے مخصوص رواج بھی اس میں شامل ہیں جنہیں بعض اوقات سابقہ قانونی نظاموں کی دستاویزات کے ذریعے سہارا ملتا ہے۔ اس وقت غزہ میں غیر ملکیوں کے لیے زمین خریدنے پر سخت پابندیاں ہیں۔


ٹرمپ کے بیان کے مطابق تقریبا 15 ماہ کی مسلسل بم باری کے بعد غزہ "انہدام کا مقام" بن چکا ہے۔ مشرق وسطی کے لیے ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو ویٹکوف یہ کہہ چکے ہیں کہ غزہ کی پٹی کی تعمیر نو میں 10 سے 15 برس درکار ہوں گے۔


مختلف اندازوں کے مطابق غزہ کی تعمیر نو پر آنے والی لاگت 100 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔


اسرائیل جنگ ختم ہونے کے بعد غزہ کو امریکا کے حوالے کر دے گا: ٹرمپ

 







صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ غزہ کے حوالے سے ان کی پیش کردہ تجویز میں"امریکہ کو کسی فوجی کی ضرورت نہ ہو گی۔" چند دن قبل انہوں نے یہ اعلان کیا کہ امریکہ غزہ کی پٹی پر "قبضہ" کر سکتا اور اسے "اپنی ملکیت" میں لے سکتا ہے۔


"امریکہ کو کسی فوجی کی ضرورت نہیں ہو گی! خطے میں استحکام آئے گا!!!" انہوں نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر صبح سویرے ایک پوسٹ میں کہا۔ ٹرمپ جنہوں نے پہلے غزہ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا امکان ظاہر کیا تھا، اب اپنے تبصروں میں انہوں نے اپنے منصوبوں کی وضاحت کر دی ہے۔


انہوں نے کہا کہ اسرائیل جنگ کے اختتام پر غزہ کی پٹی کو امریکہ کے حوالے کر دے گا۔ فلسطینیوں کو "خطے میں نئے اور جدید گھروں کے ساتھ پہلے سے زیادہ محفوظ اور زیادہ خوبصورت کمیونٹیز میں دوبارہ آباد کیا جا چکا ہو گا۔"


اس ہفتے کے شروع میں جب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو امریکہ کے دورے پر تھے تو ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ "امریکہ غزہ کی پٹی کو اپنی تحویل میں لے لے گا۔"


انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا تھا، "ہم غزہ کے ساتھ بھی ایک کام کریں گے۔ ہم اس کے مالک ہوں گے۔" اس دوران ان کے ہانپنے کی آواز سنی جا سکتی تھی۔ انہوں نے اس بارے میں بعض تفصیلات پیش کیں کہ امریکہ کس طرح 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو وہاں سے نکال سکتا ہے یا کیسے جنگ زدہ علاقے کو کنٹرول کر سکتا ہے۔


فلسطینیوں، عرب حکومتوں اور عالمی رہنماو¿ں کی جانب سے تنقید کی شدید لہر کا سامنا کرنے کے بعد ان کی انتظامیہ بدھ تک اس تجویز سے دستبردار ہوتی نظر آئی۔


ٹرمپ کے سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اس خیال کا مقصد دشمنی یا مخالفت نہیں تھا جبکہ وائٹ ہاو¿س نے کہا کہ غزہ میں امریکی فوج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔



سعودی ولی عہد نے 'کنگ سلمان آٹوموبائل مینوفیکچرنگ کمپلیکس' کا آغاز کر دیا

 







سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کنگ عبداللہ اکنامک سٹی کے اسپیشل اکنامک زون میں آٹوموبائل کی سرگرمیوں کے لیے مخصوص علاقے کو "کنگ سلمان آٹو موبائل مینوفیکچرنگ کمپلیکس" کا نام دے دیا ہے۔


یہ کمپلیکس مملکت کی معیشت میں تنوع پیدا کرنے کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ یہ نان آئل مقامی پیداوار کو سپورٹ کرنے اور برآمدات میں اضافے میں بھی کردار ادا کرے گا۔ اس کے علاوہ آٹو سیکٹر کی صلاحیت کو بڑھا کر اس صنعت کو مقامی بنانے میں مدد گار بنے گا۔


کنگ سلمان آٹو موبائل مینوفیکچرنگ کمپلیکس آٹو سیکٹر میں مقامی اور عالمی کمپنیوں کا اہم مرکز ثابت ہو گا۔ ان میں نمایاں ترین "سیر" کمپنی ہے جو برقی گاڑیوں میں پہلا سعودی ٹریڈ مارک ہے۔ اسی طرح "لوسڈ موٹرز" جس نے 2023 میں کنگ عبداللہ اکنامک سٹی میں اپنا پہلا بین الاقوامی کارخانہ کھولا تھا۔ ان کے علاوہ کئی دیگر عالمی برانڈز ہوں گے جن میں "ہنڈائی موٹرز" اور "بیریللی" بھی شامل ہیں۔


اس کمپلیکس کا مقصد نجی سیکٹر کے لیے سرمایہ کاری کے مثالی مواقع پیدا کرنا اور مملکت میں تابناک مستقبل کے حامل سیکٹروں کو ترقی دینے میں شرکت ہے۔ اس کا ہدف سال 2035 تک نان آئل مجموعی مقامی پیداوار میں 92 رب ریال سے زیادہ کا حجم شامل کرنا ہے۔


کنگ سلمان کمپلیکس سرمایہ کاری کے لیے معاون اس ماحول سے مستفید ہو رہا ہے جو سعودی عرب کے ویڑن 2030 پروگرام نے پیش کیا ہے، ساتھ ہی ان سرمایہ کاری مراعات سے جو کنگ عبداللہ اکنامک سٹی میں پیش کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس کا لوجسٹک انفرا اسٹرکچر اور عالمی تجارت کے لیے اہم مقام پر واقع ایک جدید بندر گاہ سے جڑا ہونا تا کہ مقامی نجی شعبے اور عالمی کمپنیوں کے لیے اس طرح موقع فراہم کیا جا سکے کہ وہ شراکت دار، سپلائر یا سرمایہ کار بن کر خود کو گاڑیوں اور متعلقہ خدمات کے شعبے میں شامل کر سکیں۔




کنگ سلمان آٹوموبائل مینوفیکچرنگ کمپلیکس مملکت کے ویڑن 2030 کے اہداف کے حصول میں کردار ادا کرے گا جن میں معیشت کو متنوع بنانا اور پائے دار نمو کو یقینی بنانا شامل ہے۔


گاڑیوں اور نقل و حمل کا شعبہ عوامی سرمایہ کاری فنڈ کے لیے ایک تزویراتی اور ترجیحی شعبہ ہے، جہاں فنڈ کے پورٹ فولیو میں متعدد سرمایہ کاریاں شامل ہیں جو نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری میں گاڑیوں کے شعبے میں کی جاتی ہیں۔ اس کا مقصد انفرا اسٹرکچر کو مستحکم کرنا اور مقامی سپلائی چین کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے تا کہ عالمی سطح کی بڑی گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے مقامی مہارتوں اور ٹیکنالوجیز کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔



اسرائیلی آپریشن جاری، جنین میں 15 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر

 





ہلاکتوں کی تعداد 25 تک پہنچ گئی ، اسرائیلی فوج نے جنین اور اس کے کیمپ میں 180 مکانات کو تباہ کر دیا


اسرائیلی فوج کی مغربی کنارے کے شہر جنین اور اس کے کیمپ میں مسلسل 17ویں روز بھی کارروائیاں جاری رہیں۔ ان کارروائیوں میں اب تک 25 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ جنین کیمپ کی میڈیا کمیٹی کے مطابق کیمپ سے بے گھر ہونے والے افراد کی کل تعداد 15 ہزار شہریوں تک پہنچ گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے 180 گھروں کو تباہ کردیا ہے۔


میڈیا کمیٹی کے مطابق فوجی آپریشن کی وجہ سے بنیادی خدمات میں خلل ہے، سکول معطل ہوگئے ہیں اور چار ہسپتالوں کو پانی سے محروم کر دیا گیا ہے۔ جنین شہر کے لوگ پانی اور بجلی کی تعطل سے المناک حالات سے دوچار ہیں۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق آج جمعرات کو اسرائیلی گاڑیوں نے جنین کے سرکاری ہسپتال کے داخلی راستے اور اس کی طرف جانے والی مرکزی سڑک کو بلڈوز کرنے کے بعد اس کا محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے۔


مسلسل 17ویں دن ہسپتال کے محکمے پینے کے پانی کی شدید قلت سے دوچار ہیں۔، جنین میونسپلٹی سول ڈیفنس کے ساتھ مل کر چھوٹے زرعی ٹریکٹروں کے ذریعے ہسپتال تک پانی پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ جنین کے گورنر کمال ابو الرب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کیمپ کے اندر ہونے والے بم دھماکوں کے بعد اس کی ہندسی اور آبادیاتی شکل مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گی۔ جنین کے میئر محمد جرار نے تصدیق کی ہے کہ جنین میں صورتحال تباہ کن ہے اور شہر کے زندگی کے تمام پہلوو¿ں سے مفلوج ہوجانے کا خطرہ ہے۔


کل الیکٹریسٹی کمپنی کے عملے نے ان علاقوں میں بجلی کے کرنٹ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جہاں سے فوج جزوی طور پر پیچھے ہٹ گئی تھی۔ یہ جبل ابوظہیر اور جبریات کے علاقے تھے۔ دریں اثنا اسرائیلی فورسز نے جنین میونسپلٹی کے عملے کو ہدف بنائے گئے علاقوں اور شہر کے مغربی محلوں میں پانی کی لائنوں کی مرمت مکمل کرنے سے روک دیا۔


اسرائیلی فوج کی جانب سے جینین کیمپ میں مکانات کو اڑانے اور تباہ کرنے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ کیمپ کے اندر سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ بوبی ٹریپنگ سے گھروں کو اڑا دیا گیا ہے۔ کیمپ میں ایک مکان کو آگ لگنے کے نتیجے میں دھوئیں کے بادل اٹھ رہے ہیں۔


ٹرمپ کا فلسطینیوں کو مزید تین علاقوں میں منتقل کرنے پر غور

 





گذشتہ چند گھنٹوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے رہائشیوں کو بے گھر کرنے کے وڑن کے بارے میں متعدد تبصرے اور رد عمل دیکھنے میں آئے ہیں، جن میں سے تازہ ترین اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئےکیا۔ انہوں نے کہا کہ "غزہ سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے ٹرمپ کے خیال میں کوئی غلط بات نہیں ہے"۔

ادھر اسرائیلی میڈیا نے تین دیگر علاقوں کا انکشاف کیا ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کو منتقل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

چینل 12 اسرائیل نے وضاحت کی کہ مراکش کے ساتھ صومالی لینڈ اور پنٹ لینڈ وہ جگہیں ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ ان فلسطینیوں کے استقبال کے لیے نامزد کیا گیا ہے جنہیں امریکی انتظامیہ بے گھر کرنا چاہتی ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے وضاحت کی کہ صدر ٹرمپ نے غزہ کے مکینوں کو بے گھر کرنے کے بارے میں جو کچھ کہا وہ بیانات نہیں تھے بلکہ پہلے سے تیار کردہ منصوبے تھے۔


وائٹ ہاو¿س: ایک تاریخی منصوبہ

وائٹ ہاو¿س کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے اپنی طرف سے کچھ تفصیلات پر پیچھے ہٹ کر ٹرمپ کے منصوبے کی وضاحت کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے غزہ کی پٹی کی تعمیر نو اور وہاں موجود لوگوں کو عارضی طور پر منتقل کرنے کا عزم کیا ہے۔ ٹرمپ نے پٹی میں امریکی افواج کی تعیناتی کا وعدہ نہیں کیا، لیکن ساتھ ہی انہوں نے غزہ کے حوالے سے ٹرمپ کے منصوبے کو تاریخی قرار دیا۔

"صدر نے غزہ میں زمینی فوج بھیجنے کا عہد نہیں کیا۔ غزہ میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کا امکان نہیں، لیکن غزہ کی تعمیر نو اور انہیں عارضی طور پر وہاں منتقل کرنے کے لیے وہ امید کرتے ہیں کہ اردن اور مصر انہیں عارضی طور پر قبول کریں گے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ فلسطینی عارضی طور پر غزہ سے نکل جائیں، پٹی کی تعمیر نو کا کام زیر التوا ہے۔انہوں نے غزہ کے بارے میں ٹرمپ کی تجویز کو ایک منفرد اور انتہائی فراخدلانہ پیشکش قرار دیا۔




ریپبلکنز میں ملا جلا ردعمل

ٹرمپ کے منصوبے پر ردعمل ان کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے اراکین کی طرف سے بھی سنایا جا رہا ہے، اور انہیں کنفیوڑن قرار دیا جا سکتا ہے۔

سب سے نمایاں پوزیشن امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن کی تھی جنہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے امریکا کی تجویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایوان نمائندگان میں ریپبلکن ٹرمپ کے اس اقدام کی حمایت کریں گے۔

لیکن ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے ایکس پلیٹ فارم پر طنزیہ انداز میں کہا: "میں نے سوچا کہ ہم نے پہلے امریکہ کو ووٹ دیا ہے، ہمیں کسی دوسرے قبضے کے بارے میں سوچنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے جو ہماری دولت کو تباہ کر سکتا ہے اور ہمارے فوجیوں کا خون بہا سکتا ہے"

سینیٹر کرس وان ہولن نے MSNBC پر کہا کہ "یہ کسی اور نام سے نسلی صفائی ہے۔"


سینیٹر لیزا مرکووسکی نے ہنگامہ خیز علاقے میں امریکی فوجیوں کو بھیجنے کی کسی بھی ممکنہ تجویز کو "انتہائی خوفناک" قرار دیا۔

ریپبلکن نیشنل کمیٹی کے سابق چیئرمین مائیکل اسٹیل نے اس خیال کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے اس کی فزیبلٹی اور ممکنہ نتائج پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

سینیٹ میں ٹرمپ کے سب سے نمایاں اتحادیوں میں سے ایک سینیٹر لنڈسے گراہم نے اس تجویز کو مشکل قرار دیا اور غزہ میں امریکی فوج بھیجنے کے خلاف خبردار کیا۔انہوں نے کہا ان کے ووٹرز اسے مسترد کرتے ہیں۔


ہومی بھابھا کینسر اسپتال متھیلا انسٹی ٹیوٹ میں مفت چیک اپ کیمپ کا انعقاد کرے گا شاہد اطہر

 


 دربھنگہ: – عالمی یوم کینسر کے موقع پر ہومی بھابھا کینسر ہسپتال دربھنگہ یونٹ 8 فروری 2025 بروز سنیچر صبح 11:00 بجے سے دوپہر 3:00 بجے تک متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے احاطے میں مفت کینسر کی بیماری کی اسکریننگ اور کنسلٹیشن کیمپ (4 فروری سے 10 فروری 2025) کا انعقاد کر رہا ہے۔ جس میں ڈاکٹر انورادھا، ڈاکٹر شریٹی سنہا، ڈاکٹر محمد صدام انصاری، ڈاکٹر باسط علی، ڈاکٹر صویتا کے علاوہ نیہا کماری، رنجیت کمار اور کرن کمار بھی ہوں گے۔  یہ جانکاری ایڈووکیٹ شاہد اطہر ڈائریکٹر (مارکیٹنگ اینڈ پروموشن) نے ایک پریس ریلیز میں بتائی۔ شاہد اطہر نے کہا کہ اس ایک دن کے پروگرام میں کینسر سے متعلق ہر قسم کی معلومات، ٹیسٹ اور ادویات مفت دی جائیں گی۔ شاہد اطہر نے بتایا کہ ہومی بھابھا کینسر ہسپتال دربھنگہ کا ہیڈ آفس مظفر پور میں ہے جو ٹاٹا میموریل سنٹر ممبئی کے یونٹ کے ساتھ ساتھ حکومت ہند کے محکمہ جوہری توانائی کے تحت آتا ہے۔ یہ دربھنگہ ضلع کے لوگوں اور متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے طلباء وطالبات کے لیے بڑی خوش قسمتی کی بات ہے کہ سینئر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس میں آکر مفت چیک اپ کیمپ کا انعقاد کررہی ہے۔ جن کو بھی اس سلسلے میں کوئی معلومات حاصل کرنا ہے وہ متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس، نزد بنسی داس مڈل اسکول، جی این گنج، لہریا سرائے پر آ سکتا ہے یا مفت کیمپ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے 7209148222، 6201716848 اور 6203800996 پر رابطہ کر سکتا ہے۔