Tuesday, 4 February 2025

ووٹ ضرور دیں، کانگریس کو دیا گیا ایک-ایک ووٹ آپ کے حقوق کی حفاظت کرے گا: راہل گاندھی

 







دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے 70 اسمبلی سیٹوں پر ووٹنگ کا دور جاری ہے۔ ووٹر کافی جوش و خروش کے ساتھ اپنی حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں کئی رہنماو¿ں نے لوگوں سے جمہوریت کے اس عظیم تہوار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے بھی سوشل میڈیا سائٹ 'ایکس' پر اپنے ایک پوسٹ میں ووٹروں سے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔


انہوں نے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے، "میں آپ سبھی سے اپیل کرتا ہوں کہ آج ووٹ دینے ضرور جائیں۔ کانگریس کو دیا گیا آپ کا ایک-ایک ووٹ آپ کے حقوق کی حفاظت کرے گا، آئین کو مضبوط کرے گا اور دہلی کو ترقی کی راہ پر پھر سے موڑ دے گا۔" راہل نے ووٹروں سے اپیل کرتے ہوئے آگے کہا، "آپ یاد رکھیں کہ آلودہ ہوا، گندے پانی، ٹوٹی سڑکوں کے لیے کون ذمہ دار ہے۔ شفاف سیاست کرنے کی بات بول کر دہلی کا سب سے بڑا گھوٹالہ کس نے کیا۔"


واضح ہو کہ بدھ کی صبح 7 بجے مقررہ وقت سے سبھی پولنگ مراکز پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس دوران رائے دہندگان میں کافی جوش دیکھا جا رہا ہے۔ کئی جگہوں پر 7 بجے سے پہلے ہی ووٹنگ مراکز کے باہر ووٹروں کی قطار لگ گئی۔ ابھی تک کئی اہم رہنماو?ں نے بھی اپنی حق رائے دہی کا استعمال کر لیا ہے۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ، کانگریس ایم پی راہل گاندھی اور دہلی کی وزیر اعلیٰ آتشی سمیت کئی دیگر رہنماو¿ں نے پولنگ بوتھ پہنچ کر ووٹ ڈالا۔ اس دوران انہوں نے لوگوں سے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اپیل بھی کی۔


'آپ کا ووٹ آپ کے بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے'، ترقی اور ایمانداری کے لیے ووٹ کرنے کی کیجریوال کی اپیل


دہلی اسمبلی انتخاب کے لیے ووٹنگ شروع ہو چکی ہے۔ کئی ووٹروں نے جوش دکھاتے ہوئے صبح میں ہی اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرلیا ہے۔ اس درمیان عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پوسٹ کرکے دہلی کے عوام سے بڑی اپیل کی ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، "پیارے دہلی والوں، آج ووٹ کا دن ہے، آپ کا ووٹ صرف ایک بٹن نہیں، یہ آپ کے بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے، اچھے اسکول، بہترین اسپتال اور ہر کنبہ کو باعزت زندگی دینے کا موقع ہے۔"


اروند کیجریوال نے ا?گے لکھا، "ا?ج ہمیں جھوٹ، نفرت اور خوف کی سیاست کو شکست دے کر سچائی، ترقی اور ایمانداری کو فتح دلانا ہے۔ خود بھی ووٹ کریں اور اپنے دوستوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں کو بھی راغب کریں، غنڈہ گردی ہارے گی، دلّی جیتے گی۔"


واضح ہو کہ اروند کیجریوال نئی دہلی سیٹ سے انتخابی میدان میں ہیں۔ انہیں دو سابق وزیر اعلیٰ کے بیٹوں سے چیلنج کا سامنا ہے۔ کیجریوال کے سامنے ایک طرف کانگریس کے سندیپ دیکشت ہیں تو وہیں دوسری طرف بی جے پی کے پرویش سنگھ ورما ہیں۔ ادھر عا?پ کے سینئر رہنما منیش سسودیا کو اپنی پارٹی کی جیت کا بھروسہ ہے۔ ووٹنگ سے پہلے کالکاجی کے درشن کرتے ہوئے سسودیا نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ دہلی کے عوام اروند کیجریوال کو ایک بار پھر سے وزیر اعلیٰ بنائیں گے اور وہ خود جنگ پورہ سیٹ سے انتخاب جیتیں گے۔

بدھ (5 فروری) کو دہلی کی سبھی 70 اسمبلی سیٹوں پر ایک ساتھ ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس انتخاب میں عام ا?دمی پارٹی، کانگریس اور بی جے پی سمیت دیگر مقامی پارٹیاں اور آزاد امیدوار ملا کر ک±ل 699 امیدوار میدان میں ہیں۔ ووٹنگ کے لیے دہلی میں 13 ہزار سے زیادہ بوتھ بنائے گئے ہیں جہاں تحفظ کے سخت انتظامات میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔



بہار کی سیاست میں مسلمانوں کی سیاسی حصے داری کو ختم کرنے کی شازش ایڈووکیٹ شاہد

 



دربھنگہ :- جن سوراج پارٹی کے لیڈر ایڈووکٹ شاہد اطہر نے اج جن سوراج بیداری کارواں مہم کے تحت دربھنگہ نگر کے محلہ سرائے ستار خان میں نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بہار میں ایک بہتر نظام بنانے کے لیے ہم لوگ بیداری کارواں کے تحت بیداری پیدا کر رہے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ بہار کے کروڑوں لوگوں کو ان کے جائز حقوق دلوایا جائے قوم کے بچوں کو بہتر تعلیم اور روزگار فراہم کیا جائے اس کے ساتھ ہی قوم ملت سے جڑے کچھ اہم سماجی اور سیاسی مسائل پر گفتگو و ان سے مسئلے مسائل کے عملی عمل کے لیے آپسی مشورے کے ذریعے حکمت عملی طے کی جائے گی- ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ جہاں تک غور کرنے کی بات ہے مسلمانوں میں بہار کے چند بنیادی اور اہم مسائل جن میں بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں اور خوف کا ماحول پیدا کر کے بڑی تعداد میں بے قصور نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے وہیں اگر بات کریں سیاسی حصہ داری اور مسلم نمائندگی کی تو بہار میں مسلمانوں کی سیاسی شرکت میں بڑی کمی دیکھی جا رہی ہے ابادی میں 18 فیصد ہونے کے باوجود پنچایتی راج سے لے کر اسمبلی و پارلیمنٹ تک میں مسلمانوں کی نمائندگی دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے اگر بہار کی قانون ساز اسمبلی کی بات کریں تو یہاں بھی مسلمانوں کی شرکت نہ صرف کم ہے بلکہ حقیقت میں نہ ہونے کے برابر ہے- ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ بے روزگاری تعلیم اور اے ایم ہو سنٹر کا جو وقت کی اہم ضرورت ہے وہ قابل غور ہے کہ بہار میں مسلمانوں کی تعلیم روزگار کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے تعلیم کے میدان میں ان کی حالت مناسب معیار کی تعلیم سے کوسوں دور ہے غربت پسماندگی اور سماجی مسائل ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں ایڈووکٹ شاہد اطہر نے کہا کہ جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع بھی بہت محدود ہوتے جا رہے ہیں بہار حکومت ایک عرصے سے اردو زبان کو تعلیمی میدان میں سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے جس کی وجہ سے اردو سے متعلق کئی مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں وہیں بہار اردو اکیڈمی کو بند بھی کر دیا گیا ہے سرکاری مدارس کی حالت پہ کیا بات کی جائے ان کی تو حالت ہی خراب ہوتی جا رہی ہے کشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شاخ کی تعمیرات کو جان بوجھ کر روکا گیا ہے شدید احتجاج کے باوجود بھی کوئی حکومت یا ایسی کوئی سیکولر پارٹی اس طرف توجہ نہیں دے رہی ہے- ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے آگے کہا کہ بہار میں سیکولر پارٹیاں یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ تمام مذاہب کے لوگوں کو یکساں اہمیت دیتی ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ مسلمان کا لفظ استعمال کرنے سے بھی گریزاں ہیں انتخابات میں ٹکٹ دیتے وقت مسلمانوں کو ان کی ابادی کے مطابق مناسب نمائندگی نہیں ملتی ایڈوکٹ شاہد اطغ نے کہا کہ اگر انہیں ٹکٹ دیا بھی جاتا ہے تو انہیں ان سیٹوں پہ دیا جائے گا جہاں مسلم ووٹوں کی تعداد بہت کم ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ پارٹیاں مسلمانوں کا ووٹ لینا چاہتی ہیں لیکن مسلمانوں کو اپنی پارٹی کا چہرہ نہیں بنانا چاہتے یہ مسلمانوں کے حقوق کے ساتھ خلا سیاسی فریب بدترین خیانت ہے ابادی کے لحاظ سے حصے داری کو جب تک یقینی نہیں بنایا جائے گا بہار میں مسلمانوں کا بھلا نہیں ہو سکتا- اسی باتوں کو نظر میں رکھتے ہوئے جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے مسلمانوں سے اپیل کیا ہے کہ اپ بیداری کارواں کے ساتھ جڑیں اور ائندہ اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کو ابادی کے حساب سے 18 فیصد کے حساب سے 40 ٹکٹ کم و بیش دینے کا کام کیا جائے گا اور ان کو جتانے کا بھی کام کیا جائے گا-

کینسر کے علاج میں جدید ادویہ کے ساتھ ساتھ یونانی دواﺅں سے بہتر نتائج برآمد ہونگے:ڈاکٹر شمیم اختر






عالمی یوم کینسر کے موقع پر گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ میں یک روزہ سمینار کا انعقاد

پٹنہ،پی جی اسکالر ڈاکٹرمحمد ظفر اقبال نےپریس ریلیز کرتے ہو¿ے کہا کہ آج 4 فروری 2025 بروز منگل عالمی یومِ کینسر(سرطان) کے موقع پر شعبہ ماہیت الامراض گورنمنٹ طبی کالج ،پٹنہ کی جانب سے ایک علمی اور بیداری پر مبنی ایک روزہ سیمینارمنعقد کیا گیا۔جس میں ماہرینِ صحت، طلباء، اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ پروگرام کی شروعات تلاوت قران پاک سے ہوئی۔ ڈاکٹر محمد ظفر اقبال نے تلاوت کی۔اس سیمینار کے سرپرستِ اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر محفوظ الرحمٰن پرنسپل گورنمنٹ طبی کالج و ہسپتال ،پٹنہ،تھے۔جنہوں نے پروگرام کی اہمیت اور اس کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ مہمانِ خصوصی کے طور پر پروفیسر ڈاکٹر عباس مصطفیٰ صدرشعبہ علم الجراحت نے شرکت کی، جنہوں نے اپنے وسیع تجربات اور علمی بصیرت سے شرکاءکو مستفیض کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کینسر جیسے موذی مرض کے خطرات، تحقیق کی ضرورت، اور جدید طبی سہولیات کی دستیابی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، "ایسے علمی پروگرام معاشرے میں صحت کے حوالے سے بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کینسر جیسے موذی مرض سے نمٹنے کے لیے تحقیق، جدید علاج، اور آگاہی مہمات کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ابوالقاسم زہراوی کے تعلق سے انکے کیے گئے کینسر سے متعلق جراحی تجربات کا خاص طور سے ذکر کیا جو آج بھی قابل عمل ہیں" انہوں نے سیمینار کے مقررین کی کاوشوں کو سراہا اور حاضرین کو صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دی۔

سیمینارکے مہمان اعزازی روندکمار، ڈائریکٹر بدھا کینسر سنٹر،پٹنہ نے شرکت کی۔ انہوں نے عالمی سطح پر کینسر کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز، علاج کے جدید طریقے، اور تحقیق میں ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کینسر کے مریضوں کی ذہنی صحت اور ان کی بحالی کے عمل پر بھی زور دیا، اور کہا کہ کینسر کے علاج کے ساتھ ساتھ مریض کی ذہنی اور جذباتی صحت پر توجہ دینا بھی نہایت اہم ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کینسر کے خاتمے میں Autophagy کا اہم رول ہے۔اسکے لیے روزہ رکھنا یا فاقہ کشی کرنا یا کم کھانا،بہت ضروری ہے۔

پروگرام کے آرگنائزنگ چیرمین ڈاکٹرمحمد شمیم اختر صدر شعبہ ماہیت الامراض گورنمنٹ طبی کالج ،پٹنہ نے سیمینار کے کامیاب انعقاد میں مرکزی اور فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے سیمینار کے اغراض و مقاصد بیان کیے اور کہا کہ کینسر ایک خطرناک بیماری ہے ،لیکن بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ہمارا مقصد عوام میں اس حوالے سے بیدار ی پیداکرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکیں۔ان کی قائدانہ صلاحیتیں، عمدہ منصوبہ بندی، اور انتظامی مہارت نے پروگرام کو ایک کامیاب علمی تقریب میں تبدیل کر دیا۔ ان کی انتھک محنت اور و سیع نظری نے سیمینار کو ایک مثالی علمی پلیٹ فارم فراہم کیا۔



سیمینار میں مختلف موضوعات پر پی جی اسکالر شعبہ ماہیت الامراض نے اپنی معلومات پیش کیں۔ ڈاکٹر محمد ظفر اقبال پی جی اسکالر نے 'پروسٹیٹ کینسر' کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے پروسٹیٹ کینسر کی ابتدائی علامات، خطرے کے عوامل، جدید تشخیصی طریقے، اور علاج کی جدید ترین ٹیکنالوجیز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، "پروسٹیٹ کینسر کی بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے مریض کی زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔" ان کا خطاب نہایت جامع اور سائنسی بنیادوں پر مبنی تھا جس نے شرکاءکو اہم معلومات فراہم کیں۔

ڈاکٹر سکینہ بانو نے 'سروائیکل کینسر' کے حوالے سے معلومات فراہم کرتے ہوئے اس کی وجوہات، علامات اور بچاو¿ کے طریقوں پر زور دیا۔ انہوں نے ایچ پی وی ویکسین کی اہمیت اور اس بیماری سے بچاو¿ کے اقدامات پر تفصیل سے بات کی۔9سے 14 سال کی بچیوں کو HPV ویکسین لینا چاہیے۔جن سے سروائکل کنسر(بچہ دانی کا کنسر) کے امکانات 90 فیصد یکم ہو جاتے ہیں۔ڈاکٹر عصمت حیات نے 'بریسٹ کینسر' پر گفتگو کی، جس میں انہوں نے خود معائنہ کرنے کے طریقے اور ابتدائی مراحل میں تشخیص کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

ڈاکٹر تنویر نور نے 'پھیپھڑوں کے کینسر' پر سیر حاصل گفتگو کی، جس میں انہوں نے سگریٹ نوشی کے خطرات، ماحولیاتی آلودگی، اور دیگر خطرناک عوامل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دیا کہ "پھیپھڑوں کے کینسر سے بچنے کے لیے صحت مند طرزِ زندگی اپنانا اور سگریٹ نوشی ترک کرنا ضروری ہے۔" ڈاکٹر سمرن خان نے عالمی یومِ کینسر کے تھیم پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے عالمی سطح پر کینسر سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور آگاہی مہمات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

اس سیمینارمیں ڈپارٹمنٹ آف ماہیت الامراض کے اساتذہ، جن میںسابق پرنسپل جناب پروفیسر توحید کبریا صاحب ، گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ایس کے پنکج ،اسسٹنٹ پروفیسر جناب ادیب احمدصاحب،۔اسکے علاوہ مختلف شعبہ جات مثلاً تحفظی و سماجی طب سے داکٹر ملکہ بلند ،ڈاکٹر وجیہ الدین، ڈاکٹر طلعت ناہیدشعبہ علم الادویہ سے صدر شعبہ ڈاکٹر محمد انس، ڈاکٹر محمد راشد، ڈاکٹر محمد نظام الدین، شعبہ معالجات سے صدر شعبہ داکٹر نجیب الرحمان ، ڈاکٹر جمال احمداور شعبہ کلیات سے صدر شعبہ ڈاکٹر تنویر عالم ، ڈاکٹر متانت کریم ، داکٹر جمال اختر اور پروفیسر رضوان احمد ، شعبہ صیدلہ سے ڈاکٹر محمد یوسف ، شعبہ علم الاطفال سے ڈاکٹر محمد شیبہ فروز اور شعبہ ای این ٹی سے ڈاکٹر خصال احمداور میڈیکل آفیسر ڈاکٹر جاوید احمد اور سبھی پی جی ڈپارٹمنٹ کے پی جی طلبا و طالبات موجود تھے،جنہوں نے سیمینار کی اہمیت میں اضافہ کیا۔

اس تقریب کے تعلق سے کوارڈینیٹرکے فرائض انجام دے رہےپی جی اسکا لر ڈاکٹر محمد ظفر اقبال اور ڈاکٹر سکینہ بانو، اور نظامت کر ر ہےڈاکٹر ندیم اخترنے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ا خیر میں پروفیسر جناب توحید کبریا صاحب نے اس پروگرام کی کامیابی پر طبی کالج کے پرنسپل ،آرگنازنگ چیئرمین ،کوارڈینیٹر ، مہمانان خصوصی اور دیگر شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا۔



Monday, 3 February 2025

وکاس یاترا یاترا کے دوران عوام کا جم غفیر اور ان کا جوش و خروش نتیش کمار کی زبردست مقبولیت کا ثبوت:نول شرما

 




پٹنہ:جے ڈی یو کے ترجمان نول شرما نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی وکاس یاترا کئی لحاظ سے تاریخی ثابت ہو رہی ہے۔ اس یاترا کے دوران عوام کا جم غفیر اور ان کا جوش و خروش نتیش کمار کی زبردست مقبولیت کا ثبوت ہے۔

شرما نے کہا کہ وزیر اعلیٰ جس بھی ضلع کا دورہ کر رہے ہیں، وہاں کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کر رہے ہیں۔ ہر ضلع کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے دور اندیشی کے ساتھ منصوبے ترتیب دیے جا رہے ہیں۔

بانکا ضلع کے بابر چک میں بہار کے پہلے اسمارٹ ولیج کی تعمیر وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی ایک ایسی سوغات ہے جسے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ یہ گاو¿ں خاص طور پر اس لحاظ سے اہم ہے کہ 1989 کے فسادات میں یہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا، لیکن آج وہی گاو¿ں جدید سہولیات سے آراستہ ایک اسمارٹ ولیج کے طور پر وزیر اعلیٰ کے وژن کا ثبوت پیش کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وکاس یاترا سے بہار میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، جو ریاست کی ہمہ جہتی ترقی کو مزید رفتار دے گا۔


ڈاکٹر شکیل احمد خان کے فرزند آیان کی ناگہانی موت پر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ سمیت سنیئر کانگریسی رہنماﺅں کا اظہار غم

 


پٹنہ، 03 فروری 2025 بہار کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر شکیل احمد خان کے اکلوتے بیٹے آیان خان کے ناگہانی انتقال پرریاستی کانگریس صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ سمیت پارٹی کے سینئر رہنماو¿ں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

ریاستی کانگریس صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ بارہویں جماعت میں زیر تعلیم آیان ایک نہایت نیک دل اور شریف النفس طالب علم تھے۔ ان کے اچانک انتقال سے پورا کانگریسی کنبہ غمزدہ ہے۔ میں دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اہل خانہ کو اس صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔

ڈاکٹر شکیل احمد خان کے فرزند آیان کے انتقال پر قانون ساز کونسل میں پارٹی لیڈر ڈاکٹر مدن موہن جھا، سابق گورنر نکھل کمار، سابق وزیر کرپاناتھ پاٹھک، پریم چندر مشر، ڈاکٹر سمیر کمار سنگھ، نریندر کمار، اودھیش کمار سنگھ، برجیش پانڈے، برجیش پرساد منن، نرمل ورما، راجیش راٹھوڑ، لال بابو لال، ایم ایل اے اظہار الحسن، منا تیواری، ڈاکٹر اجے کمار سنگھ، ترجمان آنند مادھو، ڈاکٹر سنہاشیش وردھن پانڈے، گیان رنجن، راج کشور سنگھ، ندھی پانڈے، آشوتوش شرما، سدے شرما سمیت دیگر رہنماو¿ں نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔


Friday, 31 January 2025

ڈونلڈ ٹرمپ کی ہندوستان اور چین کو وارننگ، ’ڈالر کو چیلنج کیا تو 100 فیصد ’ٹیرف‘ لگایا جائے گا‘

 







واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس ممالک، جن میں ہندوستان، چین، روس، برازیل اور جنوبی افریقہ شامل ہیں، کو سخت وارننگ دی ہے کہ اگر انہوں نے امریکی ڈالر کے غلبہ کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی کرنسی لانچ کی تو ان پر 100 فیصد ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں دیا۔


ٹرمپ نے کہا کہ برکس ممالک امریکی ڈالر کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر وہ نئی کرنسی کا اجراء یا کسی اور کرنسی کی حمایت کریں گے تو انہیں امریکی بازار سے باہر کر دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اس خطرے کو خاموشی سے نہیں دیکھے گا اور سخت اقدامات کرے گا۔



برکس ممالک کی جانب سے اپنی کرنسی بنانے کا مقصد عالمی تجارت میں امریکی ڈالر پر انحصار کو کم کرنا ہے۔ روس اور چین پہلے ہی یوان اور دیگر مقامی کرنسیوں میں تجارت کر رہے ہیں اور اب یہ گروپ ایک مشترکہ کرنسی کے ذریعے امریکی ڈالر کی برتری کو کم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔


ماہرین کے مطابق، اگر برکس ممالک اپنی کرنسی لانچ کرتے ہیں، تو یہ امریکی ڈالر کے غلبہ کو کمزور کر سکتا ہے اور امریکہ کی اقتصادی طاقت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ امریکہ کی عالمی معاشی برتری کی ایک بڑی وجہ اس کے ڈالر کی اہمیت ہے، جو اگر کم ہوئی تو امریکی معیشت کو بڑا جھٹکا لگ سکتا ہے۔


چین اور روس پہلے ہی امریکی ڈالر سے دور ہونے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں، اور ہندوستان اور برازیل بھی مقامی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔



صدر ٹرمپ کا خطرناک منصوبہ، 30000 غیر قانونی تارکین وطن کو گوانتانامو بے جیل بھیجنے کی تیاری!

 








امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ حلف برداری کے بعد سے ہی غیر قانونی تارکین وطن پر شکنجہ کسنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ اس درمیان بدھ کو ان کے ایک بیان نے سبھی کو چونکا دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کے لیے ایک ڈِٹینشن سینٹر بنائیں گے جہاں 30 ہزار سے زیادہ لوگوں کو ایک ساتھ رکھا جائے گا۔


ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر امریکہ میں رہ رہے لوگوں کو کیوبا کے مشرقی کنارے پر واقع بدنام زمانہ گوانتانامو جیل میں رکھنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ غور طلب ہے کہ اس جیل کو 9/11 کے حملوں کے بعد بنوایا گیا تھا جہاں سب سے خطرناک دہشت گردوں کو رکھا جاتا تھا۔


اس سے پہلے بدھ کو ٹرمپ نے غیر قانونی تارکین وطن کو بغیر مقدمہ کے حراست میں لینے کی اجازت دینے والے قانون کو بھی منظوری دے دی۔ یہ دوسری مدت کار میں ٹرمپ کے ذریعہ دستخط کیا گیا پہلا قانون بھی بن گیا ہے۔ اس قانون کو منظوری دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ گوانتانامو جیل کا یہ منصوبہ امریکہ میں تارکین وطن کے ذریعہ کیے جا رہے جرم کی لعنت سے ا?زادی دلائے گا۔


ٹرمپ نے کہا "ہمارے پاس گوانتانامو میں 30000 بیڈ ہیں جہاں ہم امریکی لوگوں کو دھمکانے والے خطرناک مجرم غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں رکھ سکتے ہیں۔"



قابل ذکر ہے کہ گوانتانامو بے فوجی جیل کو جنوری 2002 میں جنوب-مشرقی کیوبا میں امریکی بحریہ کے ایک بیس پر کھولا گیا تھا۔ اس کے بعد سے دہشت گردانہ سرگرمیوں اور دہشت گردی سے متعلق جرائم کے شبہ میں حراست میں لیے گئے تقریباً 800 لوگوں کو یہاں رکھا گیا تھا۔ گوانتانامو بے میں فی الحال افغانستان اور عراق کے جنگجو سمیت 9/11 حملوں میں شامل 15 مجرمین قید ہیں جن میں ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد بھی شامل ہے۔


حالانکہ یہاں کی حالت ٹھیک نہیں ہونے کی وجہ سے کئی بار امریکہ کی سخت تنقید بھی ہوئی ہے۔ حقوق انسانی تنظیموں کی تنقید کے بعد سابق صدر براک اوبامہ اور جو بائیڈن نے اپنی مدت کار کے دوران اس جیل کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اراکین پارلیمنٹ نے اس کی مخالفت کی تھی جس کی وجہ سے ا?ج بھی یہ جیل کھلا ہے۔




امریکہ: طیارے اور ہیلی کاپٹر کے حادثے میں تمام 67 افراد ہلاک

 



امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب امریکن ایئرلائنز کا ایک طیارہ اور ایک ہیلی کاپٹر آمنے سامنے ٹکرا گئے۔ تصادم کے بعد طیارہ اور ہیلی کاپٹر ٹوٹ کر دریا میں جا گرے۔ اب اس حادثے کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے واشنگٹن کے فائر چیف نے کہا کہ اس حادثے میں تمام 67 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔


واشنگٹن ڈی سی کے فائر چیف کا کہنا ہے کہ طیارے اور ہیلی کاپٹر کے درمیان تصادم میں کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔ واشنگٹن ڈی سی فائر اور ای ایم ایس کے سربراہ جان ڈونیلی نے کہا کہ اب ہم ریسکیو آپریشن کو ریکوری آپریشن میں تبدیل کر رہے ہیں۔ کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اس حادثے میں کوئی نہیں بچا۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹیشن سیکرٹری نے بتایا کہ حادثے کے بعد امریکن ایئر لائن کے طیارے کے تین ٹکڑوں میں پوٹو میک دریا میں پائے گئے۔



حکام کا خیال ہے کہ امریکن ایگل فلائٹ 5342 ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب آرمی کے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر سے ٹکرا گئی۔ طیارے میں سوار تمام مسافر اور عملے کے ارکان کی موت ہوگئی اور سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ قبل ازیں ریسکیو ٹیم نے دریا سے 19 لاشیں نکالیں۔


رپورٹ کے مطابق یہ ایک چھوٹا مسافر طیارہ تھا جو کنساس سے واشنگٹن آرہا تھا۔ طیارے میں 65 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ حادثے کے وقت طیارے میں 64 مسافر سوار تھے۔ جبکہ آرمی ہیلی کاپٹر میں تین افراد سوار تھے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے والا تھا۔ اس کے بعد پیچھے سے آنے والا امریکی فوج کا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اس سے ٹکرا گیا۔ اس کے بعد وہ دونوں ٹکرا گئے اور دریائے پوٹومیک میں گر گئے۔



’عبوری حکومت میں سب کو شامل کریں گے‘، شامی صدر احمد الشرع کا پہلا خطاب

 





شام کے نئے صدر احمد الشرع نے اپنے پہلے باضابطہ خطاب میں اعلان کیا ہے کہ وہ ملک میں ایک جامع عبوری حکومت تشکیل دیں گے جس میں تمام طبقوں کی نمائندگی ہوگی۔ یہ حکومت ملکی اداروں کا قیام عمل میں لاتے ہوئے ملک کا نظم و نسق چلائے گی اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرائے گی۔ احمد الشرع نے کہا کہ وہ ایک مختصر قانون ساز ادارہ بھی قائم کریں گے جو نئے انتخابات تک کام کرے گا۔


احمد الشرع نے 29 جنوری کو شام کے صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا، اور یہ ان کا قوم سے پہلا خطاب تھا۔ اس خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ اس عبوری حکومت کے تحت ملک کی سیاسی صورتحال کو مستحکم کریں گے اور ایک نئے آئین کی تشکیل کے عمل کو آگے بڑھائیں گے۔


اس سے قبل بدھ کے روز شامی پارلیمنٹ کو باقاعدہ طور پر تحلیل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد صدر احمد الشرع نے قانون ساز ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ ادارہ اس وقت تک کام کرے گا جب تک نئے انتخابات کا انعقاد نہ ہو جائے۔



احمد الشرع نے اپنی تقریر میں ایک اہم اعلان بھی کیا کہ وہ ایک کمیٹی قائم کریں گے جو قومی مکالمے کے لیے ایک کانفرنس کا اہتمام کرے گی۔ اس کانفرنس میں ملک کے سیاسی مستقبل کا پروگرام ترتیب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئینی اعلامیہ کے تحت نئے آئین کی تشکیل کی جائے گی تاکہ ملک کے نظام کو ایک قاعدے کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکے۔


صدر احمد الشرع کا یہ خطاب شام میں 13 سال کی خانہ جنگی کے بعد ایک اہم سیاسی موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ 8 دسمبر 2024 کو 'ہیتہ التحریر الشام' کے سربراہ نے بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا تھا، جس کے بعد سے ملک میں مختلف سیاسی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔


Thursday, 30 January 2025

احمد الشرع کو شام میں عبوری صدر تعینات کردیا گیا: ذرائع

 




اقتدار کے خلا کو پر کرنا، امن برقرار رکھنا اور ریاستی اداروں کی تعمیر آج شام کی ترجیحات ہیں: احمد الشرع


احمد الشرع کو شام میں عبوری دور کے صدر کے طور پر تعینات کردیا گیا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب العربیہ کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ شام میں قومی مذاکراتی کانفرنس شرائط کی کمی کی وجہ سے اگلے نوٹس تک ملتوی کر دی گئی ہے۔


شام میں نئی انتظامیہ کے کمانڈر انچیف احمد الشرع نے بدھ کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ شام کی آج کی ترجیحات میں اقتدار کے خلا کو پر کرنا، شہری امن کا تحفظ، ریاستی اداروں کی تعمیر، ترقیاتی اقتصادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے کام کرنا اور شام کی علاقائی اور بین الاقوامی حیثیت کی بحالی ہے۔


احمد الشرع نے ” شامی فتح کا اعلان“ کے نام سے کانفرنس کی سرگرمیوں کے دوران ملٹری آپریشن ڈیپارٹمنٹ اور شامی انقلابی فورسز کے گروپوں کی موجودگی میں کہا کہ کچھ ماہ قبل دمشق نے میرے لیے اس طرح کی تیاری کی تھی جیسے ایک سرشار ماں اپنے بچوں کو مدد کی متلاشی نظروں سے دیکھتی ہے، زخموں، ذلتوں اور رسوائی کی شکایت کرتی ہے، خون بہتے ہوئے درد پر فخر کرتی ہے، یہ کہتے ہوئے گرپڑتی ہے کہ اپنے قوم کو قبول کرلو، انہوں نے مزید کہا کہ جس چیز کی آج شام کو ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ماضی میں جس طرح ہم نے اسے آزاد کرنے کا عزم کیا تھا اسی طرح ہم اس کی تعمیر و ترقی کا بھی عزم کریں۔


سرکاری خبر ایجنسی نے کہا ” شامی انقلاب کی فتح کا اعلان" کے عنوان سے کانفرنس کی سرگرمیاں دمشق میں ملٹری آپریشنز ڈیپارٹمنٹ اور شامی انقلابی فورسز کے دھڑوں کی موجودگی میں شروع کی گئیں۔ احمد الشرع نے مزید کہا کہ ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اذیت دینے والوں کو آزاد کر دیا۔ یہ ایک عظیم فتح تھی جو بڑی تباہی اور خونریزی کے بعد حاصل ہوئی لیکن شام کی فتح حاصل ہوئی اور وہ رحمت اور عدل سے بھر گیا۔


انہوں نے مزید کہا کہ فتح اپنے آپ میں ایک کام ہے۔ فتح کرنے والوں کا کام بھاری ہے اور ان کی ذمہ داری بہت بڑی ہے۔ شام کو آج جس چیز کی ضرورت ہے وہ ماضی سے زیادہ ہے۔ جس طرح ہم ماضی میں اس کی آزادی کے لیے پرعزم تھے، اسی طرح ہمارا فرض ہے کہہم اس کی تعمیر اور ترقی کا عزم کریں






احمد الشرع کو شام کا عبوری صدر بننے پر سعودی عرب کی مبارکباد

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شام کے عبوری صدر احمد الشرع کو عبوری صدر بننے پر مبارکباد دی ہے۔ اس امر کا اعلان سعودی خبر رساں ادارے 'ایس پی اے' نے جمعرات کے روز کیا ہے۔


خیال رہے شام کے حکام نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ بشار الاسد رجیم کے اقتدار کے خاتمے کے بعد احمد الشرع شام کے عبوری صدر ہوں گے۔ بطور عبوری صدر احمد الشرع عبوری مقننہ تشکیل دیں گے۔

یاد رہے گزشتہ ہفتے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے دمشق کا دورہ کیا تھا۔ ان کے اس دورے کے دوران ان کی احمد الشرع سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔

اس موقع پر شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا 'ریاض شام کے نئے حکام کو بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے میں مدد فراہم کرنا چاہتا ہے۔' ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب شام کے ساتھ کھڑا ہے۔

خیال رہے شام کی نئی رجیم نے پہلا سرکاری دورہ سعودی عرب کا کیا ہے۔

گزشتہ ماہ 'العربیہ' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں احمد الشرع نے کہا تھا کہ ' مملکت شام کے مستقبل کے حوالے سے اہم کردار ادا کرے گی۔'


قرآن پاک نذرِ آتش کرنے والے سلوان مومیکا کا سویڈن میں گولی مار کر قتل

 






قرآن پاک نذرِ آتش کرنے والے بدنام زمانہ عراقی شخص سلوان مومیکا کا آج گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق سلوان مومیکا کو سوڈرٹالجے واقع ہووسجو میں گولی ماری گئی۔ اس کی خبر ملتے ہی سویڈش افسران جائے حادثہ پر پہنچے اور لاش کو قبضے میں لیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر سلوان کے قتل کی ویڈیو سی سی ٹی وی میں قید ہو گئی ہے۔ یہ بھی جانکاری سامنے آئی ہے کہ گولی باری سے کچھ دیر قبل ہی سلوان لائیو اسٹریم پر آیا تھا۔

مقامی پولیس نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ گولی باری میں ہلاک ہونے والا شخص 38 سالہ سلوان مومیکا ہی ہے۔ سلوان پر کئی مرتبہ قرآن پاک کو نذرِ آتش کرنے کا الزام ہے۔ 2023 میں عیدالاضحیٰ سے عین قبل اس نے سویڈن میں عراقی قرآن کو بھی نذر آتش کیا تھا۔ اس کے لیے سلوان نے باضابطہ انتظامیہ سے اجازت مانگی تھی اور پولیس نے اجازت دے بھی دی تھی۔ اس کے بعد اس نے قرآن پاک کو نذرِ آتش کرتے ہوئے اسلام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔


عراقی باشندہ سلوان مومیکا اسلامی نظریات اور عقیدے کا سخت ناقد تھا۔ سلوان کا کہنا تھا کہ وہ سویڈن کے ناٹو میں شامل ہونے کا مخالف نہیں ہے، بلکہ اسلام کی مخالفت میں قرآن جلانا چاہتے تھے۔ قرآن پاک نذر آتش کرنے سے پہلے اس نے کہا تھا ’سویڈن جاگو۔ یہ جمہوریت ہے۔‘ سلوان کے قرآن جلانے کے بعد کئی مسلم ممالک نے اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔ اس مخالفت کے بعد اس نے سویڈن چھوڑ کر ناروے میں پناہ لینے کا منصوبہ بنایا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ سویڈین کی حکومت نے اس کی ریسیڈنسی پرمٹ (رہنے کی اجازت) کو رد کر دیا تھا۔ سویڈن میں وہ ایک عراقی پناہ گزیں کے طور پر مقیم تھا۔ سویڈن چھوڑنے کی بات پر مومیکا نے کہا تھا کہ سویڈن میں اظہارِ رائے کی آزادی اور حقوق انسانی کا تحفظ ایک بڑا جھوٹ ہے۔



یکساں سول کوڈ معاملے پر اب بہار میں سیاست شروع، بی جے پی نے جلد نافذ کرنے کا کیا مطالبہ، جنتا دل یو کی مخالفت!

 




جے ڈی یو ایم ایل سی خالد انور نے کہا کہ ”اتراکھنڈ میں جو یو سی سی نافذ کیا گیا ہے وہ افسوسناک ہے۔ اتراکھنڈ میں جبراً مسلمانوں پر مسلط کیا گیا ہے۔ آئین یو سی سی کی اجازت نہیں دیتا ہے۔“


بی جے پی اتراکھنڈ کی طرح بہار میں بھی یکساں سِول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ حالانکہ جے ڈی یو نے بی جے پی کے اس مطالبہ کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ بہار میں یو سی سی نافذ نہیں کیا جائے گا۔ جنتا دل یو کے ایک لیڈر کا یہاں تک کہنا ہے کہ ”یو سی سی اتراکھنڈ میں مسلمانوں پر جبراً مسلط کیا گیا ہے۔ بی جے پی کے سامنے ہم نے اپنا نظریہ گِروی نہیں رکھا ہے۔ مسلمانوں کو بی جے پی خوفزدہ کر رہی ہے۔“ دلچسپ بات یہ ہے کہ رواں سال بہار میں اسمبلی انتخاب ہونے والا ہے، ایسے میں یو سی سی ایک بڑا سیاسی ایشو بن سکتا ہے۔



بی جے پی لیڈر اور سینئر ترجمان رنجن پٹیل نے بہار میں یو سی سی نافذ کرنے کا مطالبہ سامنے رکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”اتراکھنڈ کی طرح بہار میں بھی یونیفارم سِول کوڈ نافذ کیا جائے۔ پشکر دھامی قابل مبارکباد ہیں۔ اتراکھنڈ یو سی سی نافذ کرنے والی پہلی ریاست بن گئی ہے۔ اب پورے ملک میں یو سی سی کا نفاذ ہو۔ تمام مذاہب کے لیے یکساں قوانین ہونے چاہئیں۔ کسی مذہب یا خاص برادری کے لیے الگ قانون نہیں ہونا چاہیے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”یو سی سی ایسا قانون ہے جس کا مقصد مذہب، ذات، جنس یا برادی کی بنیاد پر کسی بھی طرح کے امتیاز کو ختم کرنا ہے۔ اس کے نفاذ سے شادی، طلاق، وراثت اور جائیداد کے حقوق جیسے معاملات میں سب کے لیے ایک ہی قانون ہوگا۔ اس کو نافذ کر کے اتراکھنڈ نے تمام ریاستوں کے لیے ایک نظیر پیش کی ہے۔ مسلم طبقہ کو یو سی سی سے کوئی گھبراہٹ نہیں ہے۔ جب سب کے لیے ایک طرح کا قانون ہوگا تو گھبراہٹ کیوں رہے گی۔“



اس معاملے میں جنتا دل یو کے ایم ایل سی خالد انور نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”اتراکھنڈ میں جو یو سی سی نافذ کیا گیا ہے وہ افسوسناک ہے۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ قانون اتراکھنڈ میں جبراً مسلمانوں پر مسلط کیا گیا ہے۔ آئین یو سی سی کی اجازت نہیں دیتا۔ اتراکھنڈ حکومت مسلمانوں کو پریشان کرنے کے لیے یہ قانون لائی ہے۔“ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ”بہار میں یہ کبھی نافذ نہیں ہوگا۔ بی جے پی کے سامنے ہم لوگوں نے اپنا نظریہ گروی نہیں رکھا ہے۔ یو سی سی پر کبھی بھی مرکزی حکومت کی حمایت نہیں کریں گے۔ بی جے پی لیڈران سوچ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو ڈرا کر اقتدار حاصل کر لیں گے۔“



’ہم جان دے سکتے ہیں لیکن بی جے پی-آر ایس ایس سے سمجھوتہ نہیں کر سکتے‘:راہل گاندھی

 



راہل گاندھی نے کہا کہ مودی جی نفرت پھیلاتے ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک کی عوام تقسیم ہو جائے اور پھر آپ کی دولت اڈانی و امبانی جیسے لوگوں کو دی جا سکے۔


کانگریس رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے جمعرات کو بادلی میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کیا۔ اس دوران انھوں نے کہا کہ پی ایم مودی اور کیجریوال میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں ریزرویشن اور دلت مخالف ہیں، دونوں ہی اقتدار کی طاقت صرف اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتے ہیں۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ ”میں اپنی جان دے سکتا ہوں، لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس سے کبھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔“

بادلی اسمبلی حلقہ سے کانگریس امیدوار اور دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو کے لیے انتخابی تشہیر کرنے بادلی پہنچے راہل گاندھی نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر ملک میں نفرت پھیلانے کا الزام عائد کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے دعویٰ کیا کہ جن لوگوں نے مہاتما گاندھی کو گولی ماری تھی ان کے نظریات آج ہندوستان کو چلا رہے ہیں۔ عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ”آپ کبھی مت بھولیے گا کہ آپ کے ساتھ کون کھڑا ہوتا ہے، آئین کو کون بچاتا ہے اور آپ سے سچ کون بولتا ہے۔ کانگریس پارٹی نے آپ سے وعدہ کیا تھا منریگا دیں گے، کھانے کا حق دیں گے، قرض معاف کریں گے، کرناٹک کی خواتین کے لیے مفت بس سروس دیں گے، کرناٹک و تلنگانہ میں خواتین کے اکاو¿نٹس میں براہ راست پیسہ دیں گے، چھتیس گڑھ میں کسانوں کو دھان کی صحیح قیمت دیں گے... کانگریس پارٹی نے ان سبھی وعدوں کو پورا کیا۔ کانگریس پارٹی کبھی جھوٹے وعدے نہیں کرتی۔ یہ اس لیے کیونکہ کانگریس پارٹی اور عوام کا رشتہ محبت و بھائی چارے کا رشتہ ہے۔“

راہل گاندھی نے عآپ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ صاف ستھری سیاست کی بات کرنے والے سابق وزیر اعلیٰ نے سب سے بڑا آبکاری گھوٹالہ کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ ”کیجریوال جی کچھ سال قبل سیاست میں آئے تھے۔ بجلی کے کھمبے پر چڑھ گئے تھے، چھوٹی گاڑی میں گھومتے تھے۔ آج کل وہی کیجریوال جی شیش محل میں رہتے ہیں۔“

جمنا میں گندے پانی کا تذکرہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ کیجریوال نے 5 سال پہلے جمنا کو صاف کرنے کا وعدہ کیا تھا جو اب تک وفا نہیں ہو سکا۔ وہ کہتے ہیں کہ ”کیجریوال جی جمنا کا پانی چھوڑو، لوگوں کے گھروں میں جو پانی آ رہا ہے وہی پانی پی کر دکھا دو۔“ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ کیجریوال دراصل مودی جی کے ہی نئے ورڑن ہیں۔ دونوں کھوکھلی باتیں کرتے ہیں، دونوں ایک پر ایک جھوٹ بولتے ہیں، دونوں ریزرویشن اور دلت مخالف ہیں، دونوں بہوجنوں کی شراکت داری نہیں چاہتے، دونوں اقتدار کی طاقت بس اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتے ہیں۔