Thursday, 26 December 2024

سی ڈبلیو سی کے اجلاس کے دوران راہل گاندھی نے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات 2024 میں دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کیے

 





بیلگاوی میں کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کے اجلاس کے دوران راہل گاندھی نے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات 2024 میں دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کیے اور الیکشن کمیشن کی شفافیت پر سوال اٹھایا۔ راہل گاندھی نے کہا، ”مہاراشٹر کی 118 نشستوں پر 72 لاکھ نئے ووٹرز شامل کیے گئے، جن میں سے 102 نشستیں بی جے پی نے جیتیں۔ یہ غیرمعمولی ہے اور اس میں دھاندلی کا شبہ ہے۔“


کانگریس رہنما نے مزید کہا، ”ووٹنگ لسٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں اور اس کے نتیجے میں بی جے پی کو غیر منصفانہ فائدہ ہوا۔“ انہوں نے زور دیا کہ اتنی بڑی تعداد میں ووٹرز کا اضافہ عام بات نہیں اور اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔


خیال رہے کہ کانگریس کے ایک وفد نے حال ہی میں الیکشن کمیشن سے ملاقات کی تھی اور ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”47 لاکھ نئے ووٹرز شامل کیے گئے اور لاکھوں کے نام فہرست سے ہٹا دیے گئے ہیں۔“ تاہم، الیکشن کمیشن نے وضاحت کی کہ 39 لاکھ نئے ووٹرز شامل ہوئے، جو نوجوانوں کی آبادی میں اضافے کی وجہ سے ہے۔



راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کی اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ”یہ تعداد غیرمعمولی ہے اور دھاندلی کا اشارہ دیتی ہے۔“ ان کے مطابق، انتخابات کے نتائج کو شفافیت کے اصولوں کے مطابق جانچنے کی ضرورت ہے۔


راہل گاندھی کے بیان کے بعد سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔ کانگریس کے دیگر رہنماو¿ں اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی ان کے الزامات کی حمایت کی ہے۔ دوسری جانب، بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد انتخابی نتائج پر شک پیدا کرنا ہے۔


یہ الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب سی ڈبلیو سی اجلاس میں تنظیمی اصلاحات اور 'آئین بچاو¿ یاترا' کے منصوبے کا اعلان کیا گیا۔ کانگریس نے زور دیا ہے کہ جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ راہل گاندھی نے اجلاس کے دوران کہا کہ ”آئندہ انتخابات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، ورنہ جمہوری عمل متاثر ہو سکتا ہے۔”


وزیراعلیٰ نتیش کمار کے دور اقتدار میں اقلیتوںکیلئے جتنے کام کئے گئے اتنے کبھی نہیں کئے گئے : میجر اقبال حیدر

 


بہار کی اقلیتی برادری کو ان کے حقوق دلانے میں نتیش کا اہم کردار : اشرف انصاری

میجر اقبال حیدر ، اشرف انصاری کی قیادت میں اقلیت ترقیاتی سفرکاکارواں رواں دواں




پٹنہ26 دسمبر ( پریس ریلیز )بہار ریاستی جنتادل یونائٹیڈ ( جے ڈی یو ) کے جنرل سکریٹری اور اقلیتی سیل کے انچارج میجر اقبال حیدر اور بہار ریاستی جے ڈی یو اقلیتی سیل کے ریاستی صدر اشرف انصاری کی مشترکہ قیادت میں آج اقلیت ترقیاتی سفر کا کارواں دربھنگہ ضلع کے مریا ، نوٹولیا ، بہیڑا ، پیٹھان کوئی ، شیودھارا پہنچا ۔ جہاں لوگوںنے کارواں کا انتہائی پرجوش انداز میں استقبال کیا ۔ 

اس موقع جے ڈی یو جنرل سکریٹری اور اقلیتی سیل کے انچارج میجر اقبال حیدر نے کہاکہ وزیراعلیٰ نتیش کمار کے انیس سالہ دور اقتدار میں اقلیتوں کیلئے جتنے کام کئے گئے اتنے کبھی نہیں کئے گئے ۔ وزیراعلیٰ نے تمام طبقات کی بھلائی کیلئے کام کیا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ذات ایک ہمہ جہت اور ترقیاتی شخصیت ہے ۔ 

مسٹر حیدرنے کہاکہ وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بغیر کسی بھید بھاﺅ کے تمام طبقات کا خیال رکھا ہے ۔ ریاست کی ترقی اور ہم آہنگی میں نتیش کمار کا اہم کر دار ہے ۔ ہم لوگ اسی وجہ سے آج وزیراعلیٰ نتیش کمار کے ترقیاتی کاموں بالخصوص وزیراعلیٰ نے اقلیتی برادری کیلئے جوکارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں اس کو گاﺅں گاﺅں پہنچانے کیلئے کمر بستہ ہیں۔ 

 جنتا دل یو اقلیتی سیل کے ریاستی صدر اشرف انصاری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بہار کی اقلیتی برادری کو ان کے حقوق دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سماج کے تمام طبقات کو ترقی کے دھارے میں شامل کرکے سماجی انصاف کے ساتھ ترقی کی نادر مثال پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ وہ ریاست میں امن اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ پورے ملک میں ایسا وزیر اعلیٰ کبھی نہیں ہوا۔اس موقع پر بنیاد ی طور پر زاہد حسین ، انصار بکھو، ابوالخیر ، نواب اختر ، عرفان خان ، خواجہ فرید الدین رستم ، افتخار احمد گلزار ، ڈاکٹر شہنواز ، محمد کلام موجود تھے ۔

جیسس میری اسکول میں سائنس ایگزیبیشن میں آیان احمد نے آواز کی شناخت کا نظام پیش کیا



 دربھنگہ (محمد شرف عالم) جیسس میری اسکول میں سائنس ایگزیبیشن کا انعقاد کیا گیا ۔جس کا افتتاح وزیر مدن سہنی نے کیا اور سبھی لوگوں نے سائنس کو آگے بڑھانے کی بات کی سائنس سے ہی ملک کی ترقی ممکن ہے۔ اس ایگزیبیشن میں آیان  احمد درجہ اٹھ نے آواز کی شناخت کا نظام پیش کیا۔ جس میں آواز کے ذریعہ گیٹ کو کھولا اور بند کیا پریکٹیکل کر دکھایا اس کی ذہانت سے سبھی لوگ متاثر ہوئے۔

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا 92 سال کی عمر میں انتقال

 




ہندوستان کے سابق وزیر اعظم اور کانگریس کے سینئر رہنما ڈاکٹر منموہن سنگھ کا 92 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ ان کی وفات کی خبر نے ہندوستان بھر میں گہرے غم کی لہر دوڑا دی۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کا انتقال جمعرات کی شام دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں ہوا، جہاں انہیں حالت بگڑنے کے بعد ایمرجنسی شعبہ میں داخل کرایا گیا تھا۔


منموہن سنگھ کی صحت گزشتہ کچھ دنوں سے خراب تھی اور ان کی حالت تشویش ناک تھی۔ جمعرات کی شام انہیں فوراً اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ کچھ وقت تک زیر علاج رہے لیکن بدقسمتی سے ان کی زندگی بچائی نہ جا سکی اور وہ انتقال کر گئے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وفات کی اطلاع اسپتال کے ذرائع نے دی۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت، بشمول پرینکا گاندھی، بھی ایمس دہلی میں ان کی حالت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے پہنچی تھیں۔



منموہن سنگھ کی وفات کے بعد ہندوستانی سیاست میں ایک بڑی شخصیت کے چلے جانے کا سانحہ پیش آیا ہے۔ وہ ہندوستان کے ایک عظیم ماہر اقتصادیات اور ایماندار سیاستدان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ہندوستان کی اقتصادی اصلاحات میں اہم کردار ادا کیا اور 1991 میں اقتصادی لبرلائزیشن کی پالیسیوں کا آغاز کیا۔ ان کی قیادت میں ہندوستان نے عالمی اقتصادی منظر نامے پر اپنی پوزیشن مستحکم کی۔


وہ 2004 سے 2014 تک ہندوستان کے وزیر اعظم رہے اور ان کی حکومت میں ہندوستان نے معاشی ترقی کی ایک نئی راہ اختیار کی۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں ہندوستان کی معیشت میں تیز تر ترقی ہوئی اور ملک نے عالمی سطح پر اپنے آپ کو ایک اقتصادی طاقت کے طور پر تسلیم کرایا۔ ان کی پالیسیوں کا اثر آج تک محسوس کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ہندوستان کی اقتصادی پوزیشن اور عالمی تجارت میں ہندوستان کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا۔



ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سیاسی زندگی میں ان کی ایمانداری اور اصولوں کی پیروی نے انہیں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کا کردار نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سیاست میں بھی اہم تھا۔ ان کی قیادت میں ہندوستان نے عالمی اقتصادی بحرانوں کے باوجود ترقی کی اور کئی اہم عالمی اداروں میں ہندوستان کی پوزیشن کو مستحکم کیا۔


ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وفات کے بعد ان کے خاندان کے افراد، دوستوں اور تمام مداحوں کے لیے یہ ایک سخت آزمائش ہے۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کی رہنمائی کا اثر آنے والی نسلوں پر بھی مرتب ہوگا۔ ان کا انتقال ہندوستان کی سیاست اور معیشت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، جس کا خلا بھرنا مشکل ہوگا۔



Wednesday, 25 December 2024

الحراءپبلک اسکول شاہ گنج پٹنہ میں سالانہ اسپورٹس

 




پٹنہ23دسمبر : الحراءپبلک اسکول ، شاہ گنج کے سالانہ اسپورٹس اپنے طے شدہ وقت کے مطابق پٹنہ سیٹی کے گلزار باغ اسٹیڈیم میں ہوا۔ اسپورٹس کا افتتاح باضابطہ قرآن کی تلاوت سے ہوا۔ مختلف کھیلوں کا یہ مقابلہ اودھیش کمار جی کی نگرانی اور رہنمائی میں ہوا۔ اسپورٹس انچارج سکندر خان کے مطابق درجہ نرسری تا درجہ دہم کے طلباءوطالبات نے حصہ لیا اور اسپورٹس کے مختلف میدانوں جیسے ٹگ آف وار ، میوزیکل ، شوٹنگ، شاٹ پ±ٹ، اسپون ماربل ریس، ٹافی ریس، ٹائم ریس وغیرہ میںاپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔



اسکول کے پرنسپل سید ندیم احمد نے بتایا کہ اسکول ھذا روز اول سے بچوں کی ہمہ جہت ترقی کے لئے کوشاں رہا ہے، اس لئے جہاں نصاب پر پوری توجہ دی جاتی ہے وہیں انکی ہمہ جہت ترقی کے لئے ہم نصابی سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کی مخفی صلاحیتوںکو ابھارنے کی بھی کوشش کی جا!تی ہے جیسے مختلف قسم کے تقریری و تحریری مقابلے، مباحثہ ، مضمون نویسی ،کوئز ، کیرم ،کرکٹ میچ و کراٹے کے مقابلے بھی کرائے جاتے ہیں۔سالانہ کھیل کا اہتمام بھی اسکول کے پروگرام کا ایک حصہ ہے۔واضح رہے کہ اسکول کے سالانہ کھیل کود کے تمام مقابلے دو گروپ اور دو حصوں پر مشتمل تھے۔ درجہ نرسری سے درجہ دہم تک کےتمام بچے اوربچیاں اس کھیل مقابلے میں شریک ہوئے۔کھیل کا یہ مقابلہ صبح 8?بجے سے شروع ہوکر شام 4بجے تک اختتام پذیر ہوا۔

کھیل کود کے تعلق سے ننھے منے بچے اور بچیوں میں کافی جوش و خروش پایا جا رہا تھا۔نیز حصہ لینے والے بچوں کی حوصلہ افزائی دیگر طلباء و طالبات کے ساتھ اساتذہ کرام بھی کر رہے تھے۔ درجہ اول تادرجہ دہم کے لڑکوں کا مقابلہ بہت دلچسپ تھا۔ ہر گروپ کے لئے شوٹنگ ، شاٹ پ±ٹ ،فراگ جمپ ، سلو سائیکل ریس ، ڈسکست تھرو وغیرہ جیسے مقابلے رکھے گئے تھے۔سب سے دلچسپ مقابلہ کھیل ختم ہونے سے قبل اسکول کے الفافا ہاﺅس، اقراء ہاوئس ، السبیل ہاﺅس، العصر ہاوئس کے ما بین ٹگ ا?ف وار کھیلا گیاجس کو دیکھ کر تمام بچے اور بچیاں اپنی تالیوں کے گڑ گڑاہٹ سے اس مقابلے میں حصہ لینے والوں کی حوصلہ افزائی کی۔ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شہرعظیم آباد کی معتبر شخصیات میں محترمہ کرن مہتا جی (وارڈ پارشد) ، سلطان آزاد (مشہور رائٹر)، محمد ظفر(جرنلسٹ) ، زاہد حسین (جدیو کے فعال کارکن)، جناب بختیار صاحب (انگریزی کے استاد)، محمد سبحان ، ارشد نظام (انگریزی کے استاد) صاحبان نے شرکت فرماکر سالانہ اسپورٹس میں شریک بچوں کے لئے حوصلہ افزائی کی سبب بنی۔تمام مہمانوں نے اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ الحرا ءایک ایسا اسکول ہے جو کھلاڑیوں کی بہت احسن طریقے سے تعظیم کرتا ہے۔مہمانوں نے اسکول کے بچے اور بچیوں کے کھیل کود کے جذبے اور جوش و خروش کو کافی سراہا اور اسکول انتظامیہ کو بہتر اسپورٹس کرانے پر مبارک باد دی۔ واضح رہے کہ مہمانوں کی آمد سے قبل ہی گلزار باغ کا خوبصورت گراﺅنڈ رنگ برنگ جھنڈوں سے دلہن کی طرح بچے اور بچیوں کے اسپورٹس کے لئے سج دھج کر بالکل تیار تھا۔ اور مہمانوں کی آمد نے اس کے حسن میں مزیدچار چاند لگا دیا۔ سالانہ کھیل کودکے ا س پروگرام کو خوب سے خوب تر بنانے میں تمام اساتذہ کرام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اسکول کے ڈائرکٹر نذیر احمد نے تمام حصہ لینے والے بچوں اور بچیوں کو ان کی شاندار کارکردگی اور کامیابی کے لئے دلی مبارک باد دی۔ واضح رہے کہ جیتنے والے تمام بچوں کو مقابلوں کو فوراً بعد ہی انعامات سے نوازا گیا۔ 


محمد رفیع کو "بھارت رتن " دیا جائے:ڈاکٹر اظہار احمد




پٹنہ (پریس ریلیز) محمد رفیع کو بھارت رتن ایوارڈ دیا جائے اور ان کے یوم پیدائش 24 دسمبر کو سرکاری سطح پر "بھارتیہ گیت دیوس " کا اعلان کیا جائے۔ مذکورہ مطالبہ محبان اردو کے ذریعے منعقد شہرت یافتہ گلوکار، موسیقی کار، نغمہ نگار، اور غزل کار محمد رفیع کے صد سالہ یوم پیدائش تقریب میں سابق ایم ایل اے ڈاکٹر اظہار احمد ، گورنمنٹ اردو لائبریری کے چیئرمین جناب ارشد فیروز، اردو ایکشن کمیٹی کے سیکرٹری ڈاکٹر انوار الہدیٰ و اسحاق اثر سمیت تمام شرکاءنے مرکزی اور ریاستی حکومت سے کیا۔ اس پروگرام میں بااتفاق رائے یہ بھی طئے پایا کہ جلد ہی بڑے پیمانے محمد رفیع کو یاد کرنے کیلئے ایک محفل سجائی جائے گی جس میں ملک گیر پیمانے پر نامور شخصیات کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ چونکہ محمد رفیع نے ہر سماج کیلئے گیت، سنگیت اور بھجن گائے ہیں اس لئے اس طرح کے پروگرام سے سماجی خیرسگالی مزید مستحکم ہوگی اور ہم اپنے محبوب گلوکار کو سچا خراجِ عقیدت پیش کر سکیں گے۔ اپنے خطاب میں مہمان خصوصی ڈاکٹر اظہار احمد سابق ایم ایل اے نے کہا کہ محمد رفیع نے دنیا بھر میں اپنی جادوئی آواز سے بھارت کا نام روشن کیا ہے لہذا ہم مرکزی اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں بعد از مرگ بھارت رتن سے نوازا جائے اور ہر سال 24دسمبرکو ان کے یوم پیدائش کے دن سرکاری سطح پر پروگرام منعقد کر کے انہیں خراج عقیدت پیش کیا جائے۔ ان کی اس تجویز کا تمام شرکاء نے تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے استقبال کیا۔ صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے گورنمنٹ اردو لائبریری کے چئیرمین جناب ارشد فیروز نے کہا کہ محمد رفیع اتنے بڑے گلوکار تھے کہ آج تک ان کی جادوئی آواز کی کوئی نقل یا بدل پیش نہیں کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ مشہور گلوکار سونو نگم نے ایک جگہ کہا کہ میں تصور کرتا ہوں کہ اگر بھگوان کی کوئی آواز ہوتی تو وہ محمد رفیع جیسی ہوتی۔انہوں نے کہا کہ محمد رفیع نے اردو، ہندی، بنگلہ، پنجابی، اودھی اور بھوجپوری سمیت متعدد زبانوں میں گانا گایا۔ ان کے ایک ہی شاگرد مہیندر کپور ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ میرے بڑے بھائی شاہد احمد محمد رفیع کے بہت بڑے فئین تھے۔ انہوں نے اپنے انتقال سے قبل 27 اگست کو اپنے موبائل سے محمد رفیع کا آخری پوسٹ کیا تھا جو آج میرے پاس موجود ہے۔ جناب فیروز نے اپنی آواز میں محمد رفیع کا دو نغمہ پیش کر کے محفل کو رفیع مئے کردیا۔ ایڈوکیٹ استوش نے بھی ایک بھجن پیش کیا۔ نظامت کر رہے پرویز انور نے بھی کئی گیت اور غزل پیش کیا جبکہ ڈاکٹر شگفتہ پروین نے "بابل کی دعائیں لیتی جا" گا کر سب کو جھومنے پر مجبور کر دیا۔ اسحاق اثر نے سب سے پہلے محمد رفیع کی شخصیت پر کلیدی خطبہ پیش کیا۔ پروگرام سے خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر انوار الہدیٰ، نواب عتیق الزماں، ڈاکٹر شگفتہ پرویز، فیضان علی، مشتاق احمد، محمد شارق، راجیش کمار، ایڈوکیٹ استوش، محمد حسنین محمد نوشاد اور آفتاب احمد کے اسماء گرامی قابل ذکر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔



عزت مآب گورنر عارف محمد خان کا بہار میں خیر مقدم



پٹنہ

اُردو ہندی کے عالمی شہرت یافتہ ادیب شاعر ماہرِ تعلیم سابق ہیڈ لینگویجز ایس سی ای آر ٹی بہار ڈاکٹر قاسم خورشید نے بہار کے نئے گورنر عزت مآب عارف محمد خان سے متعلق شادمانی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ہندوستانی آئین کی یہی خوبصورتی ہے کہ ہم ذمّہ داری کے ساتھ فطری طور پر کسی بھی آئینی عہدے کی عزت افزائی کرتے ہیں در اصل یہ عقیدت یا وقار صرف آئین کا نہیں ہوتا بلکہ پورے جمہوری نظام کا ہوتا ہے جس میں ہر اک شہری کو حقوق اور فرائض دونوں حاصل ہوا کرتے ہیں_  صدر جمہوریہ ہند کو پہلا شہری ہونے کا حق حاصل ہے اور صوبائی سطح پر یہی حق گورنر کو بھی حاصل ہوتا ہے ۔میرے لیے یہ خبر بہُت ہی خوشی کی ہے کہ جب عزت مآب کیرالا کے گورنر تھے تو مُجھے اُن کے دست مبارک ہندی کے اعلیٰ ترین اعزاز ساہتیہ مارتنڈ ایوارڈ سے نوازے جانے کا شرف حاصل ہوا تھا ان کی دعائیں اور نیک خواہشات میرے ساتھ رہی ہیں ڈاکٹر قاسم خورشید نے پھر جذبات سے لبریز ہوکر انتہائی مودبانہ لہجے میں یہ بھی کہا کہ بہار کے گورنر کے طور پر ہم خصوصی طور پر عزت مآب عارف محمد خان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور مکمل یقین بھی ہے کہ بہار کی ترقی میں مزید اضافہ ہونے کے ساتھ اور خوبصورت دانشورانہ ماحول بھی بنے گا کیونکہ اُن کی علمی بصیرت اور تقریر کی لذت کا بھی زمانہ قائل ہے

لارڈ بدھا کوسی فارمیسی کالج میں جدید طلباء و طالبات کااستقبالیہ تقریب ۔

 سوپول (محمد نظام الدین اشاعتی)



لارڈ بدھا کوسی فارمیسی کالج میں جدید طلباء و طالبات کے استقبال کے لۓ ایک تقریب کا اہتمام کیاگیا جس میں کثیر تعداد میں ڈاکٹروں اور دانشوروں کی شرکت ہوئی مہمان خصوصی کے طور پر پروفیسر شیلیندر کمار سنگھ سابق پرنسپل جی پی آئی پٹنہ، مہتاب عالم اسسٹنٹ ایم جی ایم، ڈاکٹر کلیانی سنگھ، صدر لارڈ بدھا کوسی میڈیکل اینڈ فارمیسی کالج سہرسہ اور ڈاکٹر رفیق  تشریف لائے۔ پروگرام کا آغاز پرنسپل ڈاکٹر نیاز عالم اور دیگر مہمانوں نے چراغ جلا کر کیا۔  اس موقع پر  طلباء و طالبات نے دلچسپ پروگرام پیش کیا  جس میں ڈانس، میوزک، طبلہ وغیرہ شامل ہے ۔ کشیش، ریشبھ فریشر، نشا ایم ایس اسپارک، دیو کمار کو مسٹر اسپارک منتخب کیا گیا۔  اس موقع پر  ڈاکٹر سرفراز کو عالمی سائنسدانوں کے گروپ میں شامل ہونے پر اعزاز سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر اویناش کمار سنگھ، ڈاکٹر آریہ ودیادھری، سنیل کمار سنگھا، سنجیو کمار سنگھ، مرتضیٰ اقبال ،ستیندر کمار سنگھ، اسعدعالم ،سچن کمار سنگھ، شیوکانت ٹھاکر، ستیم پریاد رشی، محمد سہراب عالم ،اومپی کماری، سومیا بھاردواج، اکھل کمار۔ اور سنٹو جی وغیرہ اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون کۓ ‌

سدرہ اکیڈمی میں سالانہ تقریب کا انعقاد، نواب عتیق الزماں نے بچوں کو تعلیم کی اہمیت وافادیت بتائی




پٹنہ25 دسمبرسدرہ پبلک اسکول پتھر کی مسجد پٹنہ میں سالانہ بزم تقریب کا آغاز اسکول کے ننھے منے بچوں نے تلاوت کلام پاک سے کیا بعد ارزاں حمد ونعت پاک اور دیگر پروگرام بچوں نے پیش کیا۔یہ تقریب نییر صاحب کی صدارت میں ہوئی اور تقریب کی نظامت اساتذہ نے کی اور اس تقریب میں سہر پٹنہ کے نامور شخصیات نے شرکت کی۔۔مہمان خصوصی کی حیثیت سے اسکول کے بانی نواب عتیق الزماں نے اپنی کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کے بچوں کو تعلیم کی اہمیت بتائی اور کہا کے سدرہ اسکول کو کھولنے کا ہم لوگوں کا ایک خواب تھاجو ہم لوگوں نے ملکر کیا آج سدرہ اکیڈمی کو دیکھکر خوشی ہو رہی ہے کے یہ اس اسکول دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کررہا ہے ایک دن یہ اسکول مذہبی اور عصری تعلیم کا بڑا مرکز بنے گا اس اسکول کے اساتذہ کے ساتھ ڈائریکٹر جناب ذاکر حسین مبارکباد کے مستحق ہیں اس کے بعد انہوں نے طلباءکو انعامات تقسیم کئے جناب شکیل ھاشمی ریاستی اقلیتی صدر ھم پارٹی۔جناب سرور آزاد معروف شوشل ورکر۔جناب ذیشان دائریکٹر بیسٹ اسپوکین انگلش اور دیگر شخصیات نے بھی اپنے مفید مشورہ پیش کئے اور طلباءکی خوب ہمت افزاءکی۔آخر میں اسکول کے ڈائریکٹر ذاکر حسین کے تمام مہمانوں کا شکریہ کے ساتھ تقریب کا اختتام ھوا۔۔



صغیرہ فاﺅنڈیشن کے جنرل سکریٹری ابرار احمد شیخ کی والدہ انتہائی علیل ، دعائے صحت کی اپیل

 


ممبئی : انتہائی افسوس کے ساتھ یہ خبر دی جارہی ہیکہ جناب ابرار احمد شیخ (جنرل سکریٹری صغیرہ فاو¿نڈیشن) کی والدہ ان دنوں بیحد علیل ہیں۔ دربھنگہ سٹی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ محترمہ اچھی عادت و اخلاق سے متصف اور صوم وصلوٰة کی پابند ہیں۔ جملہ مسلمانوں سے گذارش ہیکہ خصوصی دعا فر مائیں اللہ رب العزت انہیں شفائے کاملہ عاجلہ، مستمرہ سے نوازے۔مذکورہ جانکاری محمد ذکریا قمر سرپرست صغیرہ فاﺅنڈیشن گونڈی ممبئی نے دی ہے ۔ 


Tuesday, 24 December 2024

سید شمائل احمد آج عمرہ کیلئے سعودی عرب ہوں گے روانہ



پٹنہ:پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر سید شمائل احمد 25 دسمبر 2024 کو اپنے تمام اہل خانہ کے ساتھ اپنی رہائش گاہ جمیل کمپاو¿نڈ سمن پورہ راجہ بازار سے سعودی عرب، مکہ اور مدینہ کے 11 روزہ روحانی دورے پر عمرہ کے لیے روانہ ہوں گے۔یہ روحانی دورہ مسلم کمیونٹی کے لوگوں کے لیے ایک نعمت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو وہاں جانے کا موقع دیتا ہے۔ایسے میں پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر سید شمائل احمد بہت پرجوش ہیں کیونکہ زندگی میں کم از کم ایک بار اس مقدس مقام کی زیارت کرنا زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت سمجھی جاتی ہے۔ سید شمائل احمد نے کہا کہ وہ اس مقدس مقام پر جائیں گے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے خاندان، رشتہ داروں، پڑوسیوں، دوستوں، عزیزوں، جاننے والوں اور ہندوستان کے تمام ساتھیوں کی اچھی صحت، کامیابی اور خیر و عافیت کے لیے دعا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہار اور ہندوستان کے تمام لوگوں کی سلامتی، صحت اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کریں گے۔



’لہسن کبھی 40 روپے تھا، آج 400 روپے‘: راہل گاندھی

 







نئی دہلی : ہندوستان میں بڑھتی مہنگائی کے درمیان راہل گاندھی نے سبزی مارکیٹ کا دورہ کر سبزیوں کی قیمت جاننے کی کوشش کی۔ اس کی ویڈیو راہل گاندھی نے اپنے یوٹیوب چینل اور ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے۔ اس ویڈیو کے ذریعہ راہل گاندھی نے مودی حکومت کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے جو ہمیشہ عوامی مفاد میں کام کرنے کا دعویٰ کرتی رہتی ہے۔ 24 دسمبر کو ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی گئی اس ویڈیو کے ساتھ راہل گاندھی نے لکھا ہے ”لہسن کبھی 40 روپے تھا، آج 400 روپے ہے۔ بڑھتی مہنگائی نے بگاڑا عام آدمی کی رسوئی کا بجٹ۔ کمبھ کرن کی نیند سو رہی حکومت۔“



تقریباً 6 منٹ کی اس ویڈیو کو کانگریس نے بھی اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل سے شیئر کیا ہے۔ اس کے ساتھ لکھا ہے کہ ”کبھی 40 روپے کلو فروخت ہونے والا لہسن ا?ج 400 روپے کلو ہے۔ بڑھتی مہنگائی نے عام لوگوں کا بجٹ بگاڑ دیا ہے۔ ساگ سبزی، تیل، آٹا سب مہنگا ہے۔ لیکن مودی حکومت کو عوام کے مسائل سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔ وہ کمبھ کرن کی نیند میں مست ہے۔“ اس ویڈیو میں راہل گاندھی کچھ خواتین کے ساتھ نظر آ رہے ہیں جو سبزی کی بڑھتی قیمت کے سبب ہو رہی پریشانی کا تذکرہ کرتی ہیں۔



ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ راہل گاندھی سبزی مارکیٹ میں سبزی فروش سے الگ الگ سبزیوں کی قیمت پوچھ رہے ہیں۔ راہل گاندھی کے قریب کھڑی ایک خاتون مزاحیہ انداز میں کہتی ہے کہ ”سونا سستا ہوگا، لیکن لہسن نہیں۔“ یہ بات سن کر راہل گاندھی مسکرائے بغیر نہیں رہ پاتے۔ ایک دیگر خاتون کہتی نظر ا?تی ہے کہ ”شلجم جو (کچھ دنوں پہلے) 40-30 روپے کلو مل جاتے تھے، وہ آج 60 روپے کلو بتا رہے ہیں، مٹر کی قیمت تو 120 روپے کلو ہے۔“



راہل گاندھی جس سبزی مارکیٹ کا دورہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں، وہ گری نگر کا ہے۔ راہل گاندھی اس سبزی مارکیٹ میں موجود کچھ خواتین سے بات کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ ”مہنگائی ہر سال بڑھتی جا رہی ہے، اس سے آپ پر دباو¿ بڑھتا ہوگا؟“ جواب میں خواتین نے حامی بھری اور کہا کہ ”مہنگائی بہت بڑھی ہے۔“ مہنگائی سے پریشان ایک خاتون کہتی ہے کہ ہمارا بجٹ بہت بگڑ رہا ہے۔ تنخواہ نہیں بڑھ رہی، لیکن مہنگائی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ کسی چیز کی قیمت اگر بڑھ گئی تو پھر وہ کم ہونے کا نام نہیں لیتی۔



راہل گاندھی کے ساتھ سبزی منڈی میں خریداری کرنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ پہلے لہسن ایک کلو خریدتی تھی، لیکن اب 400 روپے قیمت ہونے پر ایک پاو¿ خرید کر کام چلانا پڑتا ہے۔ وہ یہ بھی بتاتی ہے کہ آلو اور پیاز جیسی بنیادی سبزیوں کی قیمت بھی ہمیشہ بڑھی ہوئی رہتی ہے۔ ایک دیگر خاتون نے بتایا کہ پہلے وہ سبزی لینے ا?تی تھی تو 5-4 سبزیاں خریدتی تھی، لیکن آج 2 سبزیاں لے کر ہی گھر واپس جا رہی ہیں۔ مٹر کی قیمت کے بارے میں خاتون نے بتایا کہ پہلے سیزن میں 60 روپے کلو تک مل جاتے تھے، لیکن اس مرتبہ 120 روپے کلو ہے۔



راہل گاندھی نے جب ایک خاتون سے یہ سوال کیا کہ انھیں کیا لگتا ہے، مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے؟ جواب میں اس نے کہا کہ ”جو حکومت بیٹھی ہوئی ہے، وہ اس طرف دھیان ہی نہیں دیتی۔ وہ تو صرف اپنی تقریروں میں لگے ہوئے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ عوام کی کیا حالت ہے۔ حکومت یہ نہیں سوچتی کہ نارمل کھانا بھی اتنا مہنگا ہو گیا ہے، تو لوگ کس طرح کھائیں گے۔“



راہل گاندھی سبزی منڈی کا دورہ کرنے کے بعد ایک خاتون کی رہائش پر بھی گئے۔ وہاں ایک ضعیف خاتون نے مہنگائی بڑھنے سے ہو رہی پریشانیوں کے بارے میں بتایا۔ ضعیفہ نے کہا کہ اگر کسی کو 20 ہزار تنخواہ ملتی ہے تو اس میں مکان کا کرایہ، ناشتہ کھانا، بچوں کی تعلیم وغیرہ کیسے ممکن ہے۔ دفتر میں کام کرنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ گزشتہ دو تین سالوں سے اس کی تنخواہ نہیں بڑھی، لیکن مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ گھر چلانا مشکل ہے۔ اس گھر میں چائے پیتے ہوئے راہل گاندھی نے الگ الگ خواتین سے مختلف مسائل پر بات کی، اور بیشتر نے کھانے پینے کی چیزوں کی بڑھتی قیمتوں کو سب سے بڑا مسئلہ بتایا۔



بہار اور کیرالہ کے گورنر کی ہوئی ’ادلا-بدلی‘

 







آج ملک کی کچھ ریاستوں کو نیا گورنر ملا گیا ہے۔ کچھ گورنرس کو ایک ریاست سے دوسری ریاست بھیجا گیا ہے اور اڈیشہ کے گورنر رگھوبر داس کو اس ذمہ داری سے سبکدوش کیا گیا ہے۔ راشٹرپتی بھون کے ذریعہ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے اڈیشہ کے گورنر رگھوبر داس کا استعفیٰ منظور کر لیا۔ ان کی جگہ اب ہری بابو اڈیشہ کے گورنر ہوں گے، جو کہ پہلے میزورم کے گورنر تھے۔ رگھوبر داس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ ’مین اسٹریم کی سیاست‘ میں پھر سے واپسی کر سکتے ہیں۔



بہار اور کیرالہ کو لے کر بڑی خبر یہ سامنے آ رہی ہے کہ ان دونوں ریاستوں کے گورنر کی ’ادلا-بدلی‘ ہو گئی ہے۔ یعنی کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان اب بہار کے گورنر ہوں گے، اور بہار کے گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر اب کیرالہ کے گورنر ہوں گے۔ عارف محمد خان کو 6 ستمبر 2019 کو کیرالہ کا گورنر بنایا گیا تھا۔ وہ اکثر اپنے بیانات اور فیصلوں کی وجہ سے سرخیوں میں رہے۔ بہار میں ان کی کارکردگی کیسی رہتی ہے، یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔ خاص طور پر آئندہ سال بہار اسمبلی انتخابات کے بعد حکومت سازی میں کوئی رسہ کشی ہوتی ہے تو پھر عارف محمد خان کا کردار بہت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔




جنرل وی کے سنگھ اور اجئے کمار بھلّا ایسے دو نام ہیں جن کی تقرری حقیقی معنوں میں نئے گورنر کے طور پر ہوئی ہے۔ سابق داخلہ سکریٹری اجئے بھلا کو منی پور کا گورنر بنایا گیا ہے، جبکہ جنرل وی کے سنگھ میزورم کے گورنر بنائے گئے ہیں۔ داخلہ سکریٹری کے طور پر اجئے کمار بھلّا کی مدت کار 22 اگست 2024 کو ہی ختم ہوئی ہے۔ وہ آسام-میگھالیہ کیڈر کے 1984 بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں۔ مودی حکومت نے انھیں 2019 میں مرکزی داخلہ سکریٹری مقرر کیا تھا۔ نومبر 2020 میں انھیں سبکدوش ہونا تھا، لیکن مرکزی حکومت کی طرف سے بھلّا کو لگاتار 4 مرتبہ سروس میں توسیع دی گئی۔


جنرل وی کے سنگھ کی بات کریں تو وہ غازی آباد سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں۔ بی جے پی نے 2019 کے لوک سبھا انتخاب میں جنرل وی کے سنگھ کو غازی آباد سیٹ سے میدان میں اتارا تھا اور انھوں نے جیت حاصل کی تھی۔ وہ گزشتہ حکومت میں وزیر مملکت برائے خارجہ بنائے گئے تھے۔ 2024 کے انتخاب میں پارٹی نے انھیں ٹکٹ نہیں دیا۔ اس کے بعد سے ہی جنرل وی کے سنگھ کو لے کر طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں۔ اب انھیں میزورم کا گورنر بنایا گیا ہے تو قیاس آرائیوں کا بازار بھی بند ہو گیا ہے۔