Saturday, 21 December 2024

مدھیہ پردیش میں’20 سال میں ٹرانسپورٹ محکمہ میں 15 ہزار کروڑ روپے کا ہوا گھوٹالہ

 



بھوپال : مدھیہ پردیش میں محکمہ ٹرانسپورٹ کے سابق کانسٹیبل سوربھ شرما کے پاس کروڑوں روپے کی ملکیت ملنے کے بعد کانگریس حملہ آور ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ 20 سالوں میں ٹرانسپورٹ محکمہ میں 15 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا گھوٹالہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملے کی سی بی آئی یا سبکدوش جج سے جانچ کے مطالبہ کو لے کر کانگریس ہائی کورٹ جائے گی۔

کانگریس دفتر میں نامہ نگاروں سے مخاطب ہوتے ہوئے پٹواری نے کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک سابق کانسٹیبل سوربھ شرما کے یہاں کروڑوں روپے کی ملکیت ملی۔ پھر ایک کار میں 52 کلوگرام سونا اور 10 کروڑ روپے نقد ملے ہیں۔ لوک آی±کت اور انکم ٹیکس کی کارروائی سے 2 دن پہلے سوربھ دبئی چلا جاتا ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ اسے جانچ ایجنسی سے ہی چھاپے کی خبر ملی ہوگی۔ جیتو پٹواری کا کہنا ہے کہ جب ایک کانسٹیبل کے یہاں کروڑوں کی ملکیت مل سکتی ہے تو ٹرانسپورٹ محکمہ کے چیف سکریٹری اور وزیر کے پاس کتنی ملکیت ہوگی۔ ان لوگوں نے ریاست میں بدعنوانی کی ہے۔ گزشتہ 20 سالوں میں ریاست میں 15 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا گھوٹالہ ہوا ہے۔

جیتو پٹواری نے ایک افسر کے ذریعہ ملی جانکاری کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ریاست میں ہر ماہ 30 سے 35 کروڑ روپے کی مختلف ناقوں سے محکمہ ٹرانسپورٹ وصولی کرتا ہے۔ اس طرح سال میں 4 سے 5 کروڑ روپے اور 20 سال میں 15 ہزار کروڑ روپے کی بدعنوانی ہوئی ہے۔ اس پورے معاملے کی سی بی آئی یا سبکدوش جج سے جانچ کرائی جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کانگریس اس معاملے کی جانچ کے لیے ہائی کورٹ جائے گی۔

مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے ریاست کے ذریعہ لیے جا رہے قرض پر بھی حکومت کو گھیرا۔ انھوں نے کہا کہ ریاست میں پرچی کی حکومت ہے جو بہت مہنگی پڑ رہی ہے۔ ہر روز کئی لاکھ روپے ہیلی کاپٹر پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ریاستی حکومت اپنی سیاسی عیاشی کے لیے قرض لے رہی ہے۔ پٹواری نے محکمہ آبی وسائل میں بھی بڑے پیمانے پر گھوٹالہ ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ بغیر کسی کمیشن کے ٹھیکا ہی نہیں ملتا ہے۔

مدھیہ پردیش #جیتو پٹواری#کانگریس #ٹرانسپورٹ محکمہ 




سعودی عرب: اقامہ، سرحدوں اور ملازمت کے ضوابط کی خلاف ورزی پر بیس ہزار سے زائد افراد گرفتار


ریاض:سعودی عرب میں قانون نافذ کرنےوالے اداروں کی جانب سے مملکت میں اقامہ، ملازمت اور سرحدوں کی خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاو¿ن جاری ہے۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پولیس نے ضوابط کی خلاف ورزی پر 20 ہزار 159 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔



سعودی عرب کی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق 12 دسمبر 2024ئ سے 18 دسمبر 2024ئ کے دوران سعودی عرب کے علاقوں میں اقامہ، کام اور سرحدی حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کی نگرانی کی گئی۔ قانون نافذ کرنےوالے اداروں کی مشترکہ فیلڈ مہمات کے دوران مجموعی طور پر 20,159 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اقامہ کی خلاف ورزی پر11,302 افراد گرفتار کیے گئے۔5652 افراد کو بارڈر سکیورٹی سسٹم کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ لیبر ضوابط کی خلاف ورزی پر3205 افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔


سرحد پار کر کے مملکت میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار ہونے والے ملزمان کی تعداد1861 تک پہنچ گئی۔ ان میں 33 فی صد یمنی، 65 فی صد ایتھوپیائی اور (02 فی صد دیگر قومیتوں کے افراد شامل ہیں۔ 112 لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے مملکت سے باہر سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے پر گرفتار کیا گیا۔

اس ہفتے میں 17 افراد کو رہائش، کام اور سرحدی حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نقل و حمل، پناہ دینے اور ان کے لیے کام کرنے والے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔


اس دوران 20,337 ملزمان کو سفری دستاویزات حاصل کرنے کے لیے ان کے سفارتی مشنوں میں بھیجا گیا، 3,425 خلاف ورزی کرنے والوں کو ان کے سفری تحفظات مکمل کرنے کے لیے ریفر کیا گیا۔9,461 خلاف ورزی کرنے والوں کو ملک بدر کر دیا گیا۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی سرحدی حفاظتی نظام کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مملکت میں داخل کرنے میں سہولت فراہم کرتا ہے، انہیں اس کے اندر لے جاتا ہے، انہیں پناہ دیتا ہے، یا انہیں کسی بھی طرح سے کوئی مدد یا خدمت فراہم کرتا ہے تو اسے 15 سال قید، 10 لاکھ ریال تک کا جرمانہ اور املاک کی ضبطی کی سزا ہوسکتی ہے۔


شام پر ایک رائے سے حکومت نہیں کی جا سکتی : احمد الشرع



دبئی:شام میں "عسکری کارروائیوں کی انتظامیہ" کے کمانڈر احمد الشرع نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ ملک میں کثیر الجہتی کا تحفظ اہمیت کا حامل ہے۔ عسکری انتظامیہ میں کئی مسلح گروپوں کے نمائندے شامل ہیں جن میں نمایاں ترین "تحریر الشام تنظیم" ہے۔

الشرع کے مطابق "ہم یہ توقع نہیں کر سکتے کہ شام جیسے حجم ، وسائل اور مختلف طبقات کے حامل ملک پر کوئی ایک رائے غالب آ جائے"۔


احمد الشرع نے جو ماضی میں "ابو محمد الجولانی" کے نام سے معروف تھے، عربی اخبار "الشرق الاوسط" کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اختلاف ایک اچھا اور صحت مند رجحان ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ "یہ کامیابی کسی ایک طبقے کی نہیں بلکہ یہ تمام شامیوں کی کامیابی ہے"۔

الشرع نے باور کرایا کہ ان کا ملک "کسی حملے کا پلیٹ فارم یا کسی بھی عرب یا خلیجی ملک کے لیے تشویش کا باعث نہیں بنے گا"۔

تحریر الشام تنظیم کے سربراہ نے واضح کیا کہ اپوزیشن گروپوں کی کامیابی نے خطے میں ایرانی منصوبے کو 40 برس پیچھے دھکیل دیا ہے۔ الشرع کے مطابق ایرانی منصوبے کے پیچھے ہونے کے باعث خلیجی ممالک کی اسٹریٹجک سیکورٹی زیادہ محفوظ ہو گئی ہے۔


گرفتار شدگان اور جبری گمشدہ افراد کے حوالے سے احمد الشرع نے بتایا کہ "اس سلسلے میں مدد کے لیے کئی خصوصی تنظیموں نے رابطہ کیا ہے"۔ الشرع کے مطابق لا پتا افراد خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ، ان کا معاملہ دیکھنے کے لیے ایک خصوصی وزارت قائم کی جائے گی۔

جب احمد الشرع سے یہ پوچھا گیا کہ وہ بشار الاسد کی جگہ بیٹھ کر کیسا محسوس کر رہے ہیں تو انھوں نے ہنس کر جواب دیا "حقیقت یہ ہے کہ میں ہر گز آرام محسوس نہیں کر رہا"۔

احمد الشرع اس سے پہلے کئی بار اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ شامی عوام کے تمام طبقوں کے درمیان یکجہتی کی ضرورت ہے۔ وہ واضح کر چکے ہیں کہ آنے والے وقت میں ملک کو نئے آئین اور ایسے قوانین کے تحت چلایا جائے گا جن میں سب کے لیے انصاف اور مساوات کا خیال رکھا جائے گا۔


القاعدہ کے ساتھ ہمارا تعلق ماضی کا قصہ بن چکا ہے: احمد الشرع


شام کے ملٹری آپریشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ احمد الشرع نے القاعدہ سے اپنے تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے ساتھ ان کا تعلق ماضی کا قصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس وقت اعلیٰ ترین شامی مفادات کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارا فی الحال کسی تنظیم یا بیرونی جماعتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے"۔

گذشتہ روز بی بی سی نیٹ ورک پر نشر ہونے والے ایک ٹیلی ویڑن انٹرویو میں احمد الشرع نے اس بات کی تردید کی تھی کہ اس نے پہلے عراق کی لڑائیوں میں حصہ لیا تھا جب وہ فرقہ واریت کی طرف منحرف ہوئے تھے۔


احمد الشرع جسے پہلے "ابو محمد الجولانی" کے نام سے جانا جاتا تھا نے زور دیا کہ متنوع شام افغانستان میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ ان کا خیال تھا کہ ملک جنگ سے تھک چکا ہے اور اسے اپنے پڑوسیوں یا مغرب کے لیے خطرہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

انہوں نے دمشق پر سے تمام امریکی اور یورپی پابندیاں اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ یہ دوبارہ اٹھ سکے۔

انہوں نے اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ سےھی? تحریر الشام کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کا بھی مطالبہ کیا۔

احمد الشرع سابق صدر بشار الاسد کی معزولی اور ماسکو فرار کے بعد سے ملک میں ڈی فیکٹو فوجی حکمران بن چکے ہیں، ماضی میں ایک سے زیادہ بار اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ شام کےطبقات کو ان کے وجود کے مطابق حکومت میں شامل کیا جائے گا۔



Friday, 20 December 2024

ہوٹل تاج کی یادگار تقریب میں قاسم خورشید کے شعری مجموعہ کی روشنی



گزشتہ روز پٹنہ میں قائم عالیشان ہوٹل تاج نے مخصوص ضیافت کے ساتھ ہر شعبے کے مشاہیر کو خصوصی طور پر مدعو کرکے انتہائی شاندار اور یادگار تقریب کا اہتمام کیا تھا جس میں عالمی شہرت یافتہ تخلیق کار ماہرِ تعلیم اور بشمول سابق انچارچ ڈائریکٹر ایجوکیشنل ٹیلیویژن بہار و صدر لینگویجز ایس سی ای آر ٹی بہار ڈاکٹر قاسم خورشید کو بھی مدعو کیا تھا اس تقریب کی خوبی یہ تھی کہ بشمول انفارمیشن کمشنر جناب تری پراری شرن سابق چیف سیکرٹری برجیش مہروترا چیئر مین جناب امبوجہ نیوٹیا ایم ڈی جناب پنت چٹوال جنرل منیجر سدھارتھ جین انگریزی ہندی فکشن نگار نسائی تحریک کار ڈاکٹر ممتا مہروترا معتبر مصوّر ڈاکٹر اجے پانڈے  کے ساتھ فوج کے بڑے افسران مینجمنٹ کی منفرد شخصیتیں آرٹ و کلچر  کے قومی سربراہان اعلیٰ آئی اے ایس آئی پی ایس افسران سی ای او اور دوسرے شعبے کے نامور لوگوں کی کہکشاں میں مختلف سماجی ثقافتی ادبی اور تعلیمی موضوعات پر سیر حاصل گفتگو اور بہترین ضیافت کے درمیان ڈاکٹر قاسم خورشید کی غزلوں اور نظموں پر مبنی اُن کا نیا شعری مجموعہ "دستکیں خاموش ہیں" بھی تحفتاً پیشِ کیا گیا جسے اہل ذوق نے خوب سراہا ڈاکٹر قاسم خورشید نے ہوٹل تاج گروپ کی خصوصی دعوت اور بہترین اعزاز کے لیے تمام متعلقہ افراد کا دل کی گہرائی سے شکریہ ادا کرتے ہوئے زور دیا کہ بہار میں بھی اس  ہوٹل کے قیام نے صوبے کو اور رونق ادا کر دی ہے ہماری تہذیبی اور ثقافتی وراثت کو بھی جتنی خوشنودی سے پیش کیا جا رہا ہے وہ قابلِ رشک ہے

شاہد اطہر کو جن سوراج پارٹی کی ریاستی سطح کی کمیٹی کا رکن بننے پر مبارکباد ڈاکٹر آرزو




  دربھنگہ:- سچے دل سے لوگوں کی خدمت کرنا شاہد اطہر کی پہچان ہے۔ دین اسلام بھی یہی کہتا ہے کہ ضرورت مندوں کی مدد کرنی چاہیے اور ایڈوکیٹ شاہد اطہر کی اس خوبی کو جن سوراج پارٹی نے تسلیم کیا ہے اور یہی وجہ ہے کے پرشانت کشور جی نے انہیں ریاستی سطح کی کمیٹی کا رکن نامزد کیا ہے۔ جس کے لیے ایڈوکیٹ شاہد اطہر اور پرشانت کشور کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں - متھیلانچل کے مشہور سماجی کارکن اور الہلال ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد نسیم آرزو نے کہا کہ ایڈووکیٹ شاہد اطہر یقیناً دربھنگہ شہری اسمبلی حلقہ کے مستقبل ہیں کیونکہ ان کا کام ان کی آواز بنتی جا رہی ہے - مبارکباد دینے والوں میں شمشاد نور، شمشاد ناجمی عرف شمسی، آمنہ صافی، ڈاکٹر اقبال حسن ریشو، انجینئر اختر حسین، جن سوراج پارٹی کور کمیٹی رکن وسیم نیئر انصاری، عبید الرحمن، ڈاکٹر ایم آئی ایچ نعمانی، انجینئر انور باری، شکیل اشرفی ، تنویر امام، شہری صدر ارونیش چندر، نائب صدر محمد شوکت، سینئر صحافی سید  دانش، شعیب احمد خان، شمیم ​​اللہ خان عرف شمیم ​​سابق ضلع پریثد، ڈاکٹر جمشید عالم، آفتاب شیخ، سماجی کارکن منا انصاری، گوپی کشن، آلوک منڈل، آرزو عروف، مانی گاچھی بلاک صدر مدنی ودود، عامر حیدر، کیوٹی بلاک صدر شعیب خان، کرشنا موہن چودھری، ترجمان سدرشن جھا ایڈووکیٹ، ایڈوکیٹ ذاکر حسین ' محمد ضیاء اللہ انصاری، اویس انصاری، پسماندہ سماج کے ترجمان محمد قمر الدین انصاری، جاوید رحمان، مظفر عالم، ریاض علی خان، ایڈوکیٹ افسر علی، ایڈوکیٹ محمد آرزو، ڈاکٹر صادات غازی کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں نے انہیں مبارکباد پیش کی۔

دانشوران بہار کا خوبصورت کار آمد پروگرام




 

Thursday, 19 December 2024

 ایم ای پی ایس سی اور پرائیوٹ اسکول اینڈ چلڈرین ویلفیئر ایسوسی ایشن کے مابین مفاہمت نامے پر دستخط: سید شمائل احمد



مینجمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ اینڈ پروفیشنل اسکلز کونسل (MEPSC) حکومت ہند کے ابھیشیک بنرجی اور پرائیویٹ اسکولس اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر سید شمائل احمد کے درمیان ایک مشترکہ مفاہمت نامے پر دستخط کیے گئے جس کا مقصد پورے ملک میں 25 لاکھ پری پرائمری اساتذہ کو تربیتدینے کا ہدف رکھا گیا۔ موقع تھا ایسوسی ایشن کی تین روزہ قومی کانفرنس جو 17 سے 19 دسمبر 2024 کو اتر پردیش کے آگرہ شہر کے فائیو اسٹار ہوٹل کلارک شیراز میں منعقد ہوئی۔

 اس کا افتتاح مشہور آئی پی ایس افسر مسٹر وکاس ویبھو، حکومت ہند کی مینجمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ اینڈ پروفیشنل ا سکلز کونسل (MEPSC) کے ابھیشیک بنرجی، ایسوسی ایشن کے قومی صدر سید شمائل احمد اور جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر ایس پی ورما نے شمع روشن کر کیا۔

اسوسی ایشن کے قومی صدر سید شمائل احمد نے کہا کہ پہلی بار حکومت ہند کے کسی ادارے (MEPSC) نے ایک پرائیویٹ ادارے پر بھروسہ کیا ہے اور 25 لاکھ پرائمری اساتذہ کو تربیت دینے کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ساتھ ایک ایم او یو پر دستخط کیے ہیں۔ جس سے انجمن کے عہدیداران میں کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔

اس کانفرنس میں قومی صدر سید شمائل احمد نے ملک بھر سے آئے ہوئے تمام ریاستوں کے نمائندوں کے کئی مسائل سنے جن میں بنیادی طور پر کئی سالوں سے آر ٹی ای کی رقم نہیں ملنا، محکمہ تعلیم کے افسران کی طرف سے مسلسل ہراساںکئے جانے سمیت متعدد مسائل پر، انہوں نے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ جلد ہی حکومت ہند کے وزیر تعلیم سے ملاقات کریں گے اور ان مسائل کو حل کرنے کی بات کریں گے۔

اپنے خطاب میں آئی پی ایس وکاس ویبھو نے ہندوستان میں تعلیم کے میدان میں پرائیویٹ اسکولوں کے اہم کردار کی تعریف کی اور کہا کہ زیادہ تر لوگ نجی اسکولوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور اپنے بچوں کو وہاں پڑھنے کے لیے بھیجتے ہیں۔ جو یقینان کا یہ فیصلہ درست ہے ۔ اب بھی سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے لیکن پرائیویٹ سکول بہت اچھے کام کر رہے ہیں۔

ایم ای پی ایس سی کے ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ این ای پی 2020 کے تحت حکومت ہند نے پرائیویٹ اسکولوں اور بچوں کی بہبود ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر پری اسکول اساتذہ کو اچھی تعلیم فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جس کے لیے جلد ہی ملک بھر میں پری اسکول اساتذہ کو تربیت دی جائے گی۔

اس کانفرنس میں ملک بھر سے 300 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی جن میں ڈاکٹر ایس پی ورما، ڈاکٹر شیام نارائن کنڑ، ڈاکٹر فرزانہ شکیل، ڈاکٹر دھیرج مہروترا، فوزیہ خان، ریتیکا راٹھور، جی این وار، ڈاکٹر افشاد احمد، کنہیا پرساد، توفیق حسین، ڈاکٹر رام چندرن نائر، ڈاکٹر بلال، ڈاکٹر پون شرما، ڈاکٹر راج کمار شرما، اشرف بابا، انورادھا ورما، عفت رحمان، پنکج کشور سنگھ، ڈاکٹر ایس کے گپتا، تبسم فاروق، کلدیپ شرما، چرنجیت کور، ڈاکٹر بی این پی بارنوال، روہت ورما اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔


Tuesday, 17 December 2024


 نریندر مودی اور امیت شاہ فوجیوں سے معافی مانگیں :غریب داس


پٹنہ 17 دسمبر:1971 کی تاریخی فتح کی وراثت پر حملہ اور ہمارے جنگی ہیروز کی توہین برداشت نہ کرنے کے معاملے پر بہار پردیش یوتھ کانگریس کے ریاستی صدر شیو پرکاش غریب داس کی قیادت میں پٹنہ کےگردنی باغ چوراہے پر نریندر مودی کا پتلانذرآتش کیا گیا۔
شیو پرکاش غریب داس نے کہا کہ نریندر مودی اور امت شاہ کو فوجیوں سے معافی مانگنی چاہیے، مودی حکومت کی جانب سے پاکستان کے ہتھیار ڈالنے کی تصویروں کو ہٹانا ہمارے ملک کی شاندار تاریخ کے تئیں ان کی بے حسی اور منفی رویہ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف تصاویر ہٹانا نہیں بلکہ ہمارے ہیروز کی بہادری اور قربانی کی توہین ہے۔ یوتھ کانگریس کا مطالبہ ہے کہ تصویر کو بحال کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ 1971 میں شہید ہونے والے فوجیوں کی تصاویر ہٹانا بہت بڑی توہین ہے۔ یوتھ کانگریس کا ہر کارکن متحد ہو کر اس ناانصافی کے خلاف لڑے گا، اس تصویر کو ہٹانا مودی حکومت کی گھٹیا ذہنیت کا ثبوت ہے۔
اس موقع پر راہول پاسوان، سورج کمار، امیت سکندر، امیت سوڈو، وویک چوبے، پرنس کمار آدیش سنگھ، بسنت کمار، سرفراز، چودھری چرن سنگھ، بھولا سنگھ، سونو اگروال کے علاوہ درجنوں یوتھ کانگریس کارکنان موجود تھے۔ 



ایڈوکیٹ شاہد اطہر کو جن سوراج پارٹی کی ریاستی سطح کی کمیٹی کا ممبر بنایا گیا- *

جن سوراج پارٹی اور پرشانت کشور جی کا بہت شکریہ- شاہد اطہر 

 

 دربھنگہ: جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور جی اور پارٹی کے صدر منوج بھارتی جی نے مجھے ریاستی سطح کی کمیٹی کا رکن بنایا ہے اس کے لئے میں دونوں حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس کمزور کندھے پر اتنی بڑی ذمہ داری سونپی گئی ہے اسے پوری لگن کے ساتھ مکمل کرنا میرا سیاسی مقصد رہیگا شاہد اطہر نے کہا کہ ہماری جن سوراج پارٹی اس سال 2 اکتوبر 2024 کو قائم ہوئی اور اس کے بنتے ہی پارٹی نے چار اسمبلی ضمنی انتخابات میں اطمینان بخش کارکردگی کا مظاہرہ کیا جب کہ ان چاروں اسمبلیوں میں نہ تو پیدل یاترا ہوئی اور نہ ہی ضلعی کمیٹی بنائی گئی۔ لیکن جن سوراج نے پرشانت جی کی قیادت میں 35 سال پرانی پارٹی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا کام کیا، جس کے لیے پرشانت جی اور تمام جن سوراجی مبارکباد کے مستحق ہیں-  شاہد اطہر نے کہا کہ پرشانت جی نے اعلان کیا ہے کہ جن سوراج کے اقتدار میں آنے کے 5 سال بعد بہار میں بچوں کے لیے بہترین تعلیمی نظام ہوگا، بہار میں ہی نوجوانوں کے لیے 10 سے 15000 روپے کا روزگار اور 60 سال سے زیادہ عمر کے مردوں اور عورتوں کو 2000 روپے ماہانہ پنشن فراہم کرنے کا کام کرینگے -اس موقع پر شاہد اطہر نے کہا کہ تبدیلی کا طوفان شروع ہو چکا ہے جو 2025 میں جن سوراج کے اقتدار میں آنے کے بعد ہی رکے گا۔ شاہد اطہر نے کہا کہ پرشانت جی نے 2025 کے اسمبلی انتخابات میں اقلیتوں کو 40 سیٹیں دینے کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سے اقلیتوں نے کرپشن اور اقربا پروری کی حکومت کو گرانے کا ذہن بنا لیا ہے۔ شاہد اطہر نے کہا کہ 24 جنوری کو جننائک کرپوری ٹھاکر جی کے یوم پیدائش پر ایک پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا۔ شاہد اطہر نے مزید کہا کہ جن سوراج کے کور کمیٹی کے ممبر وسیم نیر انصاری، عبید الرحمان، ڈاکٹر رام بابو کھیتان، ڈاکٹر اعجاز علی، ڈاکٹر بی بی ساہی، فتح احمد اور دربھنگہ کے ضلع صدر بلٹو ساہنی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً جن سوراج کے مشن کو کامیاب بنانے میں آپ کے ساتھ قدم بہ قدم چلوں گا اور جن سوراج و پرشانت جی کے مشن کو متھیلانچل کے تمام لوگوں کے دلوں میں بسانے کا کام کروں گا-رہے گا۔

Saturday, 14 December 2024

 فزیوتھراپی کے ذریعے خواتین اور بزرگوں کی کئی بیماریوں کا علاج ممکن: ڈاکٹر ارچنا اگروال



 پٹنہ(پریس ریلیز) آسٹیوپوروسس اور آسٹیوپینیا یعنی ہڈیوں کا کمزور ہونا ایک عام بیماری بن گئی ہے جس کی وجہ سے جسم کی ہڈیوں اور پٹھوں میں درد ہوتا ہے۔  یہ اکثر خواتین میں ماہواری بند ہونے کے بعد دیکھا جاتا ہے۔  بڑی عمر کے مردوں میں ہڈیوں کا کمزور ہونا بھی عام ہے۔  یہ باتیں کنکرباغ میں واقع ہائی ٹیک فزیو کلینک کی ڈاکٹر ارچنا اگروال نے کہیں۔  انہوں نے کہا کہ اس بیماری کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے ہمیں تیس سال کی عمر سے ہی فزیو تھراپسٹ کی تجویز کردہ ورزشوں کو اپنے طرز زندگی میں شامل کرنا چاہیے۔  جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، بہت سے لوگوں کو توازن کے مسائل ہونے لگتے ہیں اور گرنے کی وجہ سے ہڈیاں ٹوٹنا ممکن ہوتا ہے۔  ایسی صورت حال میں ہمیں متوازن ورزشوں اور ہڈیوں کو مضبوط کرنے والی ورزشوں پر توجہ دینی چاہیے۔


---------انتقال پُر ملال-------

السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 

جناب حافظ محمد شعیب صاحب ساکن موضع برار ضلع سیتامرهی بہار 

60سالوں سے محراب مسجد وزیر کمپاؤنڈ ملاڈ ایسٹ میں بحیثیت امام خدمت انجام دے رہے تھے،آج دن میں مرحوم اس دار فانی سے عالم بقا کو کوچ کر گئے(انا للہ وانا الیہ راجعون) کل بروز اتوار ۱۵دسمبر 2024 بعد نماز ظہر محراب مسجد ملاڈ(ایسٹ) میں نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی،سومواری بازار قبرستان ملاڈ(ویسٹ) مین تدفین عمل میں آئیگی 

مولانا زکریا قمر 

سرپرست 

صغیرہ فاؤنڈیشن گوونڈی ممبئ (انڈیا)


پارٹی کے تمام کارکنان 'مشن 2025-ہدف 225' کو حاصل کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم اور وقف: امیش کشواہا

چھٹے مرحلے کے 5 تنظیمی اضلاع میں جے ڈی (یو) کی ضلع سطح کی ورکرس کانفرنس کا انعقاد



پٹنہ، 14 دسمبر : ہفتہ کو ریاستی جنتا دل (یو) نے ویشالی، مدھوبنی، پٹنہ میٹروپولیٹن، سہرسہ اور شیوہر میں ضلع سطح کی ورکرس کانفرنس کا اہتمام کیا۔ ہر ٹیم میں بہار حکومت کے معزز وزیر جناب وجے کمار چودھری، عزت مآب ریاستی صدر جناب امیش سنگھ کشواہا، عزت مآب وزیر جناب شرون کمار، عزت مآب وزیر جناب بیجیندر پرساد کی یادو اور وزیر اشوک چودھری کی صدارت میں پارٹی کے نو۔ نو لیڈران شامل ہوئے۔ پارٹی کے قومی کارگزار صدر اور معزز راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ جناب سنجے کمار جھا مدھوبنی میں منعقدہ ضلع سطح کے کارکنان کانفرنس میں موجود تھے۔

 اس موقع پر عزت مآب ریاستی صدر جناب امیش سنگھ کشواہا نے کہا کہ پارٹی کے تمام کارکنان 'مشن 2025-ٹارگٹ 225' کو حاصل کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم اور وقف ہیں۔ ورکرز کانفرنسوں میں بے پناہ ہجوم کا جمع ہونا ہماری پارٹی کے لیے ایک اچھی علامت ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے مثبت اثرات یقیناً نظر آئیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفادار کارکن ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں اور کارکنوں کی مدد سے ہم 2025 میں ترقی دشمن قوتوں کو شکست دیں گے۔


نتیش کمار کے 20 سالہ دور حکومت میں سماج کے کمزور طبقات کی بہتری کے لیے بے مثال کام کیا گیا : راجیو رنجن پرساد

پٹنہ، 14 دسمبر 2024: ہفتہ کو پٹنہ میٹروپولیٹن جنتا دل (یونائیٹڈ) کے کارکنان کانفرنس کا اہتمام پٹنہ میٹروپولیٹن ضلع صدر جناب آصف کمال کی صدارت میں رام لکھن سنگھ یادو کالج، انیس آباد میں کیا گیا۔ اس کا افتتاح کرتے ہوئے دیہی ترقی کے وزیر شراون کمار نے کہا کہ عزت مآب وزیر اعلیٰ نتیش کمار پورے بہار کی ترقی میں مصروف ہیں، 10 لاکھ 63 ہزار خواتین کو خصوصی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ حکومت کی طرف سے ان کی روزی روٹی کے لیے ہر ایک کو 2-2 لاکھ روپے کی مالی امداد دی گئی ہے۔ تالاب کی دیکھ بھال اور بکری پالنے کے لیے حکومت کی طرف سے مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سرس میلے میں پہلی بار بہار کی خواتین کاروباریوں کو اسٹال لگانے میں ترجیح دی گئی ہے تاکہ خواتین کاروباریوں کا سامان فروخت کیا جاسکے۔



 جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے جنتا دل (یونائیٹڈ) کے قومی جنرل سکریٹری اور سابق وزیر شری شیام رجک نے کہا کہ ڈاکٹر بابا صاحب بھیم راو¿ امبیڈکر نے دلتوں کی سماجی، اقتصادی اور سیاسی ترقی کے لیے بہت کام کیا۔ آزادی حاصل کرنے کے بعد کچھ لوگوں نے دلتوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا تاکہ صرف ان کے ووٹ لے کر حکومت بنائی جائے۔ اپنے دور اقتدار کے 20 سال کے دوران، وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے سماجی، اقتصادی اور سیاسی پوزیشن کے لیے پنچایتوں میں ریزرویشن فراہم کیا، امبیڈکر ہاسٹل تعلیم کے لیے تعمیر کرکے تعلیمی ترقی کے لیے کام کیا اور معاشی ترقی کے لیے کاروباری منصوبے بنا کر لوگوں کو بااختیار بنایا۔

 جنتا دل (یونائیٹڈ) کے قومی ترجمان جناب راجیو رنجن پرساد نے کہا کہ عزت مآب وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار کے 20 سال کے دور حکومت میں سماج کے کمزور طبقات کی بہتری کے لیے بے مثال کام کیا گیا ہے۔ شری نتیش کمار نے قومی سطح پر ایک نمونہ قائم کیا ہے، خاص طور پر خواتین، سماج کے محروم طبقات، انتہائی پسماندہ، دلتوں اور مہادلیت کی ترقی کے لیے۔

 اس موقع پر سابق ایم پی مسٹر چندیشور پرساد چندرونشی، سابق وزیر مسٹر جئے کمار سنگھ، مسزکہکشاں پروین، مسٹر رام سیوک سنگھ، مسٹر للت نارائن منڈل، مسٹر ارون مانجھی، مسٹر نیہورا پرساد یادو، مسٹر اروند۔ نشاد، مسٹر رنوجے کمار، مسٹر ڈاکٹر دھرمیندر چندرونشی، مسٹر جتیندر پٹیل، مسٹر دھیرج کشواہا، مسٹر انیل کمار سنگھ، مسٹر رویندر پٹیل، مسٹر شتروگھن پاسوان، مسٹر آفتاب عالم، مسٹر۔ بنٹی چندراونشی، مسٹر کمل نوپانی موجود تھے۔