Tuesday, 29 April 2025

پاکستانی فوج کا ہندوستانی لڑاکا طیارہ مار گرانے کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ہے :حکومت ہند

 



نئی دہلی، 29 اپریل : ہندوستان نے پاکستان کے حمایت یافتہ متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعہ ہندوستانی فضائیہ کے لڑاکا طیارے کو مار گرائے جانے کے دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گمراہ کن اور بے بنیاد پروپیگنڈہ ہے اور کسی بھی ہندوستانی طیارہ  کو نہیں مار گرایا  گیا ہے۔
اطلاعات و نشریات کی وزارت کے پریس انفارمیشن بیورو ( پی آئی بی ) نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس  پر کہا کہ پاکستان کے حامی کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس  یہ جھوٹا دعویٰ کر رہے ہیں کہ پاکستان نے جموں و کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب ہندوستان کا رافیل لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔
پریس انفارمیشن بیورو نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہندوستان کا کوئی لڑاکا طیارہ  نہیں مار گرایا  ہے۔ پاکستان کے حمایت یافتہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کی جانے والی ویڈیو سخوئی 30 لڑاکا طیارے کے حادثے کی ہے جو جون 2024 میں مہاراشٹر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔
پریس انفارمیشن بیورو نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسے غیر تصدیق شدہ دعووں پر مشتمل پوسٹس شیئر کرتے وقت احتیاط برتیں۔
قابل ذکر ہے کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے کشیدہ ماحول میں لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے پاکستان اور اس کے حمایت یافتہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر آئے روز ایسے جھوٹے دعوے کیے جا رہے ہیں۔  ہندوستان  نے پیر کو 16 پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی لگا دی ہہے  جو اس طرح کے پروپیگنڈے میں ملوث تھے۔

مودی نے راج ناتھ اور آرمی چیفس کے ساتھ اہم میٹنگ کی

 



نئی دہلی، 29 اپریل پہلگام دہشت گردانہ حملے کو انجام دینے والے دہشت گردوں اور اس حملے کی سازش کرنے والوں کے خلاف حکمت عملی بنانے کے لیے حکومت میں اعلیٰ سطحی میٹنگیں مسلسل جاری ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو وزیر دفاع، قومی سلامتی کے مشیر، چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں گہرائی سے بات چیت کی۔
ذرائع کے مطابق وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان، آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی، فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ اور بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش ترپاٹھی نے شام کو وزیراعظم کی رہائش گاہ پر ہوئی میٹنگ میں شرکت کی۔ وزیر دفاع سے وزیراعظم کی یہ تیسری ملاقات ہے۔
ملاقات میں وزیراعظم کو موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور فورسز کی تیاریوں کے بارے میں تفصیلات دی گئیں۔
 بدھ کو سیکورٹی معاملات پر مرکزی کابینہ کی میٹنگ سے قبل ہونے والی اس اعلیٰ سطحی میٹنگ کو بہت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ مرکزی داخلہ سکریٹری نے بارڈر سیکورٹی فورس، آسام رائفلز اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں بھی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان کے خلاف کئی سفارتی اور دیگر سخت فیصلے کرنے کے بعد اب ہندوستان دہشت گردوں کو ان کی مذموم حرکت کا سبق سکھانے کی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہے۔

ایس ایم اشرف فرید و ایس ایم جاوید اقبال کو میری دلی مبارک باد ایڈووکٹ شاہد اطہر




 دربھنگہ :- قابل ہونہار تعلیمی لیاقت و سماجی ملی مسائل کو حل کرنے کی فکر رکھنے والے بڑے بھائی محترم جناب ایس ایم اشرف فرید صاحب قومی تنظیم مدیر آعلی و اردو ایکشن کمیٹی کو شفیع مسلم ہائی اسکول بورڈ اف ٹرسٹی کے ممبر اور میرے استاد محترم جناب ایس ایم جاوید اقبال صاحب کو بورڈ اف ٹرسٹی کا کارگزار چیئرمین بنائے جانے پہ میری طرف سے بہت بہت مبارک باد ہےـ اپنی دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے متھیلانچل کے مشہور سماجی و تعلیمی خدمت گار ایڈوکیٹ شاہد اطہر ڈائریکٹر متھلا انسٹیوٹ اف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس نے جاری پریس ریلیز میں کہیں-  معلوم ہو کہ دونوں حضرات ضلع و صوبائی سطح پہ کئی تنظیم میں عہدے پہ فائض ہو کر سماج و قوم کی خدمت کرتے آ رہے ہیں- ایڈوکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ چونکہ گارجین جناب ڈاکٹر اجیرالحق صاحب کافی عرصہ سے علیل ہیں- جس کی وجہ کر کار گزار چیئرمین کی سخت ضرورت تھی جس کو استاد محترم کے کارگزار چیئرمین بنائے جانے سے اس کمی کو پوری کر دی گئی ہے- ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے آگے کہا کہ ان دونوں حضرات کا تجربے سے ادارہ اور ٹرسٹ کو چلانے میں مستحکم طاقت ملے گی وکافی ترقی بھی ملے گی

Tuesday, 15 April 2025

متھلا انسٹی ٹیوٹ کو ایم آئی سی سی ای کامکمل تعاون حاصل ہوگا: موہن کمار جھا





دربھنگہ: متھیلا میں صحت کے شعبے میں روزگار اور ملازمتوں کے بے پناہ امکانات ہیں، کیونکہ متھیلا میں بہت جلد ایمس اسپتال بننے جا رہا ہے جہاں ہزاروں لوگوں کو روزگار ملے گا۔ متھیلانچل چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر موہن کمار جھا نے آج متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے احاطے میں طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ سب کے بارے میں انجینئر اختر حسین، بورڈ آف ڈائریکٹرز سے بہت تفصیل سے سنا تھا، جو آج آپ سب کے درمیان آنے کے بعد دیکھنے کو ملا۔ موہن کمار جھا نے کہا کہ ہماری تنظیم کے ساتھی نے سوپول ضلع میں ایک بڑا ہسپتال بنایا ہے، جہاں میں آپ کے کالج سے پاس آؤٹ ہونے والے طلباء وطالبات کو لے جاؤں گا اور انہیں ملازمتیں فراہم کروں گا۔ متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سجاد احمد نے تعلیم کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔ آپ جتنی زیادہ تعلیم حاصل کریں گے آپ کے علم میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔ جبکہ مہمان اعزازی شمشاد نور نے کہا کہ ہم لوگ ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، جب بھی اور جہاں بھی ضرورت ہو ہمیں یاد رکھیں۔ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے، ڈاکٹر احمد نسیم آرزو، میکسیمائنڈ ہیلتھ کیئر پرائیویٹ لمیٹڈ، نئی دہلی اور الہلال ہسپتال، دربھنگہ کے ڈائریکٹر نے شری موہن کمار جھا کا تہہ دل سے خیرمقدم کیا اور کہا کہ آپ ہمارے درمیان بہت مختصر نوٹس پر آئے ہیں جو بلاشبہ ہر کوئی یہ کام نہیں کر سکتا۔ صحت کے شعبے میں آپ کے ساتھ کام کرنے سے ہم لوگوں کے تجربے میں اضافہ ہوگا۔ مہمان خصوصی جناب موہن موہن کمار جھا کا استقبال سجاد احمد صاحب نے مومنٹو اور شال سے کیا۔ پروگرام کی نظامت ایڈووکیٹ شاہد اطہر، ڈائریکٹر، متھیلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس نے کی۔ انسٹیٹیوٹ کے سنٹر ہیڈ گوپی کشن، استاد سمرن تیواری، استاد امت منڈل، محمد دانش، رگھوناتھ کمار صدیقہ خاتون، محمد رضوان وغیرہ نے پروگرام کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون کیا۔

Friday, 11 April 2025

تاریخی “جن سوراج” ریلی: بہار میں تبدیلی کی نئی لہر کی پرواز :شکیل اشرفی/ شاہد اطہر





گاندھی میدان آج ایک تاریخی منظر کا شاہد بنا، جب “جن سوراج” کی بہار بدلاؤ ریلی میں لاکھوں افراد کا سمندر امڈ آیا۔ پرشانت کشور کی قیادت میں منعقد اس عظیم اجتماع کو بہار کی سیاست میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ جمِ غفیر اس بات کی دلیل ہے کہ بہار کی عوام اب بیروزگاری، ہجرت، اور ذات پر مبنی سیاست سے تنگ آ کر حقیقی تبدیلی کی تلاش میں ہے۔ پرشانت کشور نے جوش و جذبے سے لبریز عوام سے خطاب کرتے ہوئے تعلیم، روزگار، اور شمولیتی طرزِ حکمرانی پر مبنی نئے بہار کے قیام کا عزم ظاہر کیا۔ میدان میں ہر طرف ولولہ انگیز نعرے گونج رہے تھے، اور بینروں کے سائے میں ایک نئے دور کے آغاز کی بازگشت سنائی دے رہی تھی۔ یہ صرف ایک ریلی نہیں، یہ بہار کی بیداری ہے،” کشور نے اعلان کیا، اور نوجوانوں و مایوس ووٹرز سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک کا حصہ بنیں۔ تاہم، یہ ریلی تنازعات سے خالی نہیں رہی۔ اطلاعات کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے ریلی میں لوگوں کی شرکت کو روکنے کی کوششیں کی گئیں — کئی سڑکیں بند کر دی گئیں اور لاکھوں افراد کو پٹنہ پہنچنے سے روکا گیا۔ مگر ان رکاوٹوں کے باوجود، ریلی میں شریک عوام نے یہ پیغام دے دیا کہ اب انہیں نہ دبایا جا سکتا ہے، نہ روکا جا سکتا ہے۔ اگر تم ہمیں روکنے کی کوشش کرو گے، تو ہم اور مضبوط ہو کر لوٹیں گے،” یہ جذبہ ہر چہرے پر نمایاں تھا — ایک ایسی للکار جو اقتدار کے ایوانوں میں خطرے کی گھنٹی بن سکتی ہے۔ یہ ریلی بہار کی سیاست میں زلزلہ لے آئی ہے۔ “جن سوراج” اب نومبر 2025 کے اسمبلی انتخابات میں ایک سنجیدہ اور مضبوط متبادل کے طور پر ابھرتا دکھ رہا ہے۔ آر جے ڈی اور جے ڈی (یو) جیسی بڑی جماعتیں اس عوامی لہر کے بعد ششدر ہیں، اور پوری توجہ کے ساتھ حالات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ پٹنہ کی فضا میں اب تبدیلی کی خوشبو ہے، اور ایک بات طے ہے - 11 اپریل 2025 کا دن بہار کی تاریخ میں اس دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب اس ریاست نے بڑے خواب دیکھنے کی ہمت کی۔ یہ انقلاب کی ابتدا ہے یا ایک لمحاتی اُمید  اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔

حکومت کسانوں کو فی ایکڑ 50 ہزار روپے معاوضہ دے: سی پی آئی

 


پٹنہ، 11 اپریل  بھارتی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی) کے ریاستی سکریٹری رام نریش پانڈے نے بہار بھر میں بے وقت بارش سے فصلوں کو پہنچنے والے بھاری نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے آندھی اور آسمانی بجلی گرنے سے ہونے والی اموات پر بھی دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

رام نریش پانڈے نے جمعہ کو کہا کہ تیز آندھی، موسلادھار بارش اور وِدْیُت پات (آسمانی بجلی) نے پورے بہار میں تباہی مچا دی ہے۔ گندم، مکئی، پیاز، مسور، چنا، مونگ، آم اور لیچی جیسی تیار فصلوں کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ اس صورتحال میں بہار کے کسان برباد ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو فی ایکڑ 50 ہزار روپے کے حساب سے فصلوں کا معاوضہ دیا جائے۔ اس کے علاوہ آسمانی بجلی سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو فی کس 25 لاکھ روپے معاوضہ فراہم کیا جائے۔

سی پی آئی رہنما نے کہا کہ کسانوں نے قرض لے کر گندم کی فصل بوئی تھی، لیکن اس غیرموسمی بارش اور آندھی نے ان کی محنت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ اسی طرح آم اور لیچی کے باغات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر فصل کے نقصان کا تخمینہ لگوائے اور کسانوں کو فی ایکڑ 50 ہزار روپے معاوضہ دے۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ آندھی اور آسمانی بجلی گرنے سے 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام جاں بحق افراد کے پسماندگان کو 25 لاکھ روپے فی کس کی مالی مدد کی ضمانت دے۔

Thursday, 3 April 2025

متھلا انسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس میں ضرورت ہے


 

ملی صفوں میں اتحاد ،اور مفاد پرست سیاسی لیڈران کے مستقل بائیکاٹ کی اپیل:شکیل اشرف

 





سنگھوارہ دربھنگہ (ایس ایم ضیاء)یہ اپیل ایک انتہائی 

سنجیدہ اور نازک مسئلے پر مسلم کمیونٹی کو متحد و متحرک کرنے کی کوشش ہے۔ وقف بل کی حمایت کرنے والے رہنماؤں کے بائیکاٹ کا مطالبہ دراصل ایک بڑے اصولی مؤقف کی نمائندگی کرتا ہے، جو درج ذیل نکات پر مبنی ہے: مذکورہ باتیں شکیل اشرفی ابو ظہبی نے پریس بیان بھیج کر کہی انھوں نے کہا کہ مسلم رہنماؤں کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی کے مفادات، حقوق، اور وقار کا دفاع کریں۔ وقف املاک کا مسئلہ نہ صرف ایک مالیاتی یا قانونی معاملہ ہے بلکہ یہ مسلم وراثت، مذہبی خودمختاری، اور سماجی فلاح و بہبود سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جو رہنما اس بل کی حمایت کرتے ہیں، وہ دراصل ان حقوق کی کمزوری کا سبب بن رہے ہیں، اور اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اجتماعی اثاثے اور ان کی خودمختاری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اسی لئے ایسے سیاسی لیڈران و سیاسی پارٹیوں کا بیکاٹ ہونا چاہیے 

 شکیل اشرفی نے مزید کہا کہ یہ بائیکاٹ کسی ذاتی عناد یا سیاسی رقابت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک اصولی موقف پر ہے۔ اس کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ مسلم کمیونٹی کو سیاسی طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور ان کی حمایت کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔ سیاسی رہنماؤں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے فیصلے عوام کی نظروں میں ہیں اور وہ ان کے ہر اقدام پر جوابدہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ وقت ایسا وقت ہے کہ مسلم کمیونٹی اپنی قیادت پر دوبارہ غور کرے۔ قیادت وہی مستحق ہے جو واقعی کمیونٹی کے مفادات کی نمائندگی کرے، نا کہ وہ جو صرف اپنی پارٹی کے احکامات پر عمل کرے یا وقتی سیاسی فوائد کے لئے فیصلے کرے۔ یہ بائیکاٹ ایک تحریک کا آغاز ہے تاکہ مسلم عوام ایسی قیادت کو مسترد کریں جو ان کے بنیادی حقوق کا دفاع کرنے میں ناکام ر ہے۔ انھوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 

یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنی سیاسی بصیرت کو مزید مضبوط کرنا ہوگا اور ایک اجتماعی شعور پیدا کرنا ہوگا تاکہ وہ اپنی بقا، اپنی جائیدادوں، اور اپنے مذہبی و سماجی تشخص کے دفاع کے لئے صحیح راستہ اختیار کرسکیں۔ یہ وقت مسلمانوں کو متحد ہو کر صرف ان افراد اور جماعتوں کی حمایت کرنے کا ہے جو عملی طور پر مسلمانوں کے مفادات کے لئے کام کر رہے ہیں۔

بائیکاٹ محض ایک علامتی قدم نہیں بلکہ ایک عملی حکمت عملی ہے۔ کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ نہ صرف غفلت برتنے والے رہنماؤں کو مسترد کرے بلکہ ایسے متبادل نمائندے سامنے لائے جو واقعتاً وقف املاک، مسلمانوں کے سیاسی حقوق اور سماجی استحکام کے لئے کام کرنے کے عزم کا مظاہرہ کریں۔ یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ اگر آج مسلم کمیونٹی اپنی قیادت کو جوابدہ نہیں بنائے گی، تو مستقبل میں اس سے بھی زیادہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا، یہ بائیکاٹ صرف ایک وقتی ردعمل نہیں بلکہ ایک طویل مدتی حکمت عملی ہونی چاہیے جو مسلمانوں کی اجتماعی طاقت اور سیاسی بصیرت کو مضبوط کرے

Tuesday, 1 April 2025

عید ملن اور پٹنہ ریلی کے حوالے سے گفتگو: شاہد اطہر

 




دربھنگہ: عید ملن کے موقع پر نگر جن سوراج کے جنرل سکریٹری شوکت صاحب کے ساتھ پارٹی کے لیڈروں علی اکبر اور اسلم صاحب کی رہائش گاہ پر لوگوں سے گلے مل کر مبارکباد دیتے ہوئے دربھنگہ شہری اسمبلی کے لیے پارٹی اور ممکنہ امیدوار ایڈوکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ 11 اپریل 2025 کو پٹنہ گاندھی میدان کی ریلی کو کس طرح کامیاب بنایا جائے اور ہر بار کی طرح اس بار بھی دربھنگہ ضلع کے لوگوں کا ہجوم کیسے جائے گا اس پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ شاہد اطہر نے کہا کہ بسوں اور فور وہیلر کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی آمدو رفت پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ نگر کے جنرل سکریٹری شوکت جی نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے تمام 48 وارڈ اور 18 بلاکس کی تمام پنچایتوں میں گھر گھر جا کر لوگوں کو اس ریلی کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ اسلم بھائی نے کہا کہ ان سہولتوں کے علاوہ لوگوں کے لیے ٹرین سے بھی سفر کرنا زیادہ آسان ہوگا، جہاں سے پٹنہ جنکشن سے گاندھی میدان تک تمام اضلاع سے آنے والے جن سوراج ساتھیوں کا ایک گروپ بنا کر گاندھی میدان کو بھرنے کا کام کیا جائے گا۔ علی اکبر نے کہا کہ اس بار پورے بہار میں رمضان کے دوران پارٹی کے سپریمو محترم پرشانت کشور جی کی قیادت میں کامیاب افطار کا پروگرام انعقاد کیا گیا جس سے جن سوراج کے تمام ساتھیوں کے حوصلے بہت بلند ہوئے ہیں۔ خاص طور پر ہمارے لیڈر نے جس طرح اقلیتی برادری کے درمیان گئے، پریس کانفرنسیں کیں اور لوگوں سے براہ راست رابطہ کیا اور پارٹی کی پالیسیوں کی وضاحت کی، انہوں نے ہمیشہ کہا کہ پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس کی آبادی کے مطابق اسے بھرپور شرکت ملے گی۔ اس لیے ہم سب کا بہت حوصلہ ہوا ہے اور ہم لوگ پوری تیاری کے ساتھ بہار اسمبلی الیکشن لڑیں گے اور اس ڈبل انجن والی حکومت کو گرانے کے لیے کام کریں گے۔




Wednesday, 26 March 2025

وقف ترمیمی بل کے خلاف ہماری پارٹی ہمیشہ کھڑی رہی ہے اور کھڑی رہے گی: لالو پرساد

 




وقف ترمیمی بل کی واپسی تک آر جے ڈی سڑک سے لے کر ایوان تک احتجاج جاری رکھے گی: تیجسوی پرساد یادو




پٹنہ، 26 مارچ :مرکزی حکومت کے ذریعے پیش کردہ وقف ترمیمی بل کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، امارتِ شرعیہ، خانقاہ مجیبیہ، جمعیت علمائے ہند، جماعتِ اسلامی، خانقاہ رحمانی، جماعت اہل حدیث سمیت مختلف مسلم تنظیموں نے گردنی باغ، پٹنہ میں ایک عظیم الشان دھرنا کا انعقاد کیا۔اس موقع پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی صدر لالو پرساد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف ہماری جدوجہد کبھی ختم نہیں ہوگی، اور ہم کسی بھی قیمت پر اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل جمہوریت کے خلاف اور آئینی حقوق پر حملہ ہے، اور ہم اس کی واپسی تک آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

لالو پرساد نے مزید کہا:"بی جے پی ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے، اور جو بھی پارٹی اس کی حمایت میں کھڑی ہے، وہ بے نقاب ہوچکی ہے۔ کچھ پارٹیاں محض اقتدار کی خاطر بی جے پی کی پالیسیوں کی حمایت کر رہی ہیں، جو قابل مذمت ہے۔"

اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا:"یہ بل مکمل طور پر غیر آئینی ہے، اور اس کے خلاف جو زبردست احتجاج کیا گیا ہے، میں اس کے لیے تمام تنظیموں اور عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہماری پارٹی، اور ہمارے رہنما لالو پرساد جی ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔"


انہوں نے کہا کہ:"لالو جی کی طبیعت خراب ہونے کے باوجود وہ آج اس دھرنے میں شامل ہوئے ہیں، تاکہ یہ پیغام دیا جائے کہ اقتدار رہے یا جائے، ہم اس بل کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہم نے آج اسمبلی میں وقف ترمیمی بل کے خلاف تحریک التوا پیش کیا تھا، جس کی وجہ سے حکومت کو ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔"

تیجسوی یادو نے مزید کہا:"یہ وقت آئین کی حفاظت کا ہے۔ جو لوگ محض اقتدار کی خاطر اس غیر آئینی بل کی حمایت کر رہے ہیں، وہ بابا صاحب امبیڈکر کے آئینی نظام کو کمزور کرنے کی سازش میں شامل ہیں۔ لیکن ہم عوام کے ساتھ مل کر اس سازش کو ناکام بنائیں گے۔"

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ:"اگر آپ اس احتجاج میں ایک قدم بڑھائیں گے، تو ہماری پارٹی چار قدم آگے بڑھے گی۔ ہم کسی بھی قیمت پر اس بل کو لاگو نہیں ہونے دیں گے، کیونکہ اس کا مقصد وقف جائیدادوں کو ہڑپنا ہے۔ لیکن ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔"

آر جے ڈی کے ترجمان اعجاز احمد نے بتایا کہ لالو پرساد اور تیجسوی یادو خود دھرنا میں شامل ہوئے اور احتجاج کو مضبوط حمایت دی۔ اس موقع پر پارٹی کے کئی سرکردہ رہنما اور کارکنان بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، جن میں عبدالباری صدیقی،ا±دَے نارائن چودھری،علی اشرف فاطمی،محبوب علی قیصر،ڈاکٹر تنویر حسن،رنوجے ساہو،اختر الاسلام شاہین،محمد نہال الدین،قاری محمد صہیب،یوسف صلاح الدین،شکتی سنگھ یادو،محمد فاروق،اعجاز احمد،مجتبیٰ حسین راہی،خورشید عالم صدیقی،غلام ربانی،محمد مہتاب عالم،محمد افروز عالم،محمد مشتاق احمد،سنیل کمار سنگھ،پروفیسر چندر شیکھر،ڈاکٹر ارمِلا ٹھاکر،اس کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں آر جے ڈی کارکنان اور اقلیتی برادری کے رہنما اس دھرنے میں شریک رہے۔

لالو پرساد اور تیجسوی یادو نے واضح الفاظ میں کہا کہ آر جے ڈی ہمیشہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑی رہے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ بل اقلیتوں کے خلاف ایک سازش ہے، اور ہم اسے کسی بھی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔"ہم نے کبھی فرقہ پرست طاقتوں سے سمجھوتہ نہیں کیا، اور نہ کبھی کریں گے۔ ہمارا یہ عزم ہمیشہ برقرار رہے گا۔"


بہار دیوس میں صغیرہ فاونڈیشن کی خدمات کا اعتراف




صغیرہ فاونڈیشن کے قیام کو بمشکل تین سال ہوئے ہیں۔ان تین سالوں میں اس کی خدمات کا جائزہ ہم لیتے ہیں تو مسرت بھی ہوتی ہے اورافتخار کا جذبہ بھی پیدا ہو تا ہے۔صغیرہ فاونڈیشن کے بانیان شروع سے ہی رمضان کے مبارک مہینہ میں غیر یبوں اورمحتا جوں کے درمیان راشن کی تقسیم کرتے رہے ہیں اور اس نیک کاموں کواب نہ صرف گونڈوی تگ محدود کئے ہوئے ہیں بلکہ نیو ممبئی شیووڈ، ماہم دھاراوی اور ممبئی میں رے روڈ تک اس کام کو بخوبی انجام دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔راشن کی تقسیم میں کسی طرح کی تفریق نہیں برتی گئی ہے، ہر طبقہ کے غریبوں اور محتاجوں کو راشن کا بستہ دیا گیا ہے۔حالیہ برسوں میں صغیرہ فاونڈیشن کا دائرہ ہیلتھ اور تعلیمی امداد تک  جا پہنچا ہے۔اپنے قیام کے باقاعدہ پہلے سال گونڈوی میں ایسے طلباء وطالبات جو اپنی فیس ادا نہیں کر پا رہے تھے ان کی پوری فیس براہ راست اسکول میں ادا کی گئی ہے۔ابتک ایسے مریض جو علاج کے اخراجات ادا نہیں کر پارہے تھے، جنہوں نے صغیرہ فاونڈیشن کے ذمہ داران سے رابطہ کیا ہے، تفتیش کے بعد ان کے علاج کے اخراجات براہ راست اسپتالوں میں داخل کئے گئے ہیں۔ ممبئی میں اہل بہار سالہا سال سے مقیم ہیں ان کے مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کے لئے ممبئی کے اسلام جمخانہ مرین لائنس میں بہار کے دانشوروں کا ایک یادگار عظیم جلسہ منعقد کیا گیا۔مذکورہ پروگرام میں بہار کے ہر مکتبہ فکر کے دانشوروں نے بہت ہی جوش وخروش سے حصہ لیا اور اسکے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔بہار فاونڈیشن ممبئی چیپٹر حکومت بہار کی تنظیم ہے جس کا بنیادی مقصد ممبئی میں مقیم اہل بہار کی فلاح وبہبود سے ہے مزید بہار کے تاجروں کو بہار میں تجارت کے قیام اور فروغ میں مدد اور رہنمائی بھی دینی ہے۔ابھی 23 مارچ سنہ2024 کو نیو ممبئی میں بہار دیوس جوش وخروش کے ساتھ ساتھ منایا گیا مذکورہ جشن میں بہار کے کئی وزراء شریک ہوئے۔ممبئی میں بہار کے اعلی عہدوں پہ فائز افسران بھی موجود تھے۔ اس جشن میں صغیرہ فاونڈیشن کی خدمات کا تذکرہ ہوا،خوب ستائش اور پذیرائی ہوئی۔ جناب سنجے سراوگی ریونیو اینڈ لینڈ منتری کے ہاتھوں جناب ابرار احمد شیخ جنرل سیکریٹری صغیرہ فاونڈیشن کو شال پیش کیا گیا، انھیں صغیرہ فاونڈیشن کی اہم خدمات کے لئے ستائشی شیلڈ بھی پیش کیا گیا۔اس موقع سے صغیرہ فاونڈیشن کے ٹرسٹی جناب نظام الدین اور یا سین انصاری صاحبان کی بھی گلپوشی کی گئ اور انھیں ستائشی کلمات سے نوازا گیا۔

ابرار احمد شیخ 

جنرل سیکرٹری صغیرہ فاونڈیشن گونڈوی ممبئی

Tuesday, 25 March 2025

تہرین ارشاد نے 412 نمبر لاکر نمایاں کامیابی حاصل کی


بھانجی کے کامیابی پے اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں: ایڈووکیٹ شاہد اطہر 




دربھنگہ : تہرین ارشاد نے آئی ایس سی میں 412 نمبر کے ساتھ 4 پیپرز میں ڈسٹنکسن کے ساتھ نمایاں کامیاب ہوتے ہوئے اپنے والدین کے نام روشن کی ہے الحمدللہ- اس موقع پر ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کے اللہ کے حکم سے اور والدین کے دعا کے ساتھ ساتھ محنت و مشقت سے پڑھائی کرنے کے وجہ سے بہترین مقام حاصل کرتے ہوئے سبھی کا نام روشن کیا ہے - اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اسی طرح سبھی منزل پر کامیابی کا پرچم لہراتے ہوئے آگے بڑھتی رہے۔۔۔ امین۔۔ تہرین ارشاد کو مبارکباد دینے والوں میں والدین کے علاوہ نانی محترمہ ' مامو جاوید اشرف حاجی اظہار اشرف حافظ عبداللہ بخاری خالو محمد محسن انصاری محمد اصد بابو کے ساتھ ساتھ سبھی خالہ ممانی کے علاوہ محمد اختر عالم حاجی آفتاب عالم عرف منا وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہے ? معلوم ہو کہ تہرین ارشاد سمستی پور کالج سمستی پور کی ٹاپر ہوئی ہے


Monday, 24 March 2025

قومی صدر لالو پرساد کی دعوتِ افطار میں گورنر عارف محمد خان سمیت ہزاروں روزہ داروںنے کی شرکت

 



پٹنہ، 24 مارچ :راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی صدر لالو پرساد یادو کی جانب سے دعوتِ افطار کا اہتمام آر جے ڈی کے قومی پرنسپل جنرل سکریٹری عبدالباری صدیقی کی سرکاری رہائش گاہ پر کیا گیا۔ اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں روزہ داروں کے ساتھ ساتھ بہار کے گورنر عارف محمد خان، معزز شخصیات اور مہاگٹھ بندھن کے تمام اتحادی جماعتوں کے رہنماو¿ں نے شرکت کی۔

میزبان کے طور پر لالو پرساد یادو، سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی، اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو اور عبدالباری صدیقی آنے والے تمام مہمانوں کا پرتپاک استقبال کر رہے تھے۔

افطار کے لیے روزہ داروں کے لیے علیحدہ خصوصی انتظامات کیے گئے تھے، جہاں نماز ادا کرنے کی سہولت بھی موجود تھی۔ معروف عالم مولانا حسیب اکرام الحق نے نمازِ مغرب کی امامت کی۔

نمازِ مغرب سے قبل روزے اور رمضان المبارک کی فضیلت و اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی اور اجتماعی دعا کی گئی۔ لالو پرساد یادو اور تیجسوی یادو نے کہا کہ اس طرح کے مذہبی و ثقافتی پروگرام مشترکہ وراثت کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ اس موقع پر ملک کی ترقی، یکجہتی، بھائی چارے اور محبت کے فروغ کے لیے دعا کی گئی اور کہا گیا کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو مزید استحکام ملے گا۔

اس موقع پر جن معزز شخصیات نے شرکت کی، ان میں گورنر عارف محمد خان، غلام غوث، پشوپتی کمار پارس، پرنس راج، سورج بھان سنگھ، پرتیماداس، کے ڈی یادو، رام بابو، متھیلیش جھا، علی اشرف فاطمی، ا±دے نارائن چودھری، شیوانند تیواری، اسرائیل منصوری، ڈاکٹر تنویر حسن، سید فیصل علی، قاری شعیب، ڈاکٹر کانتی سنگھ، جے پرکاش نارائن یادو، اخترالاسلام شاہین، ابو دجانہ، اشوک سنگھ، آلوک کمار مہتا، جاوید اقبال انصاری، وجے پرکاش، شکتی سنگھ یادو، اعجاز احمد، ڈاکٹر انور عالم، چترنجن گگن، مہتاب عالم، خورشید عالم صدیقی، آرزو خان، اخلاق احمد، ساریکا پاسوان، بنٹو سنگھ، اشرف صدیقی، شاہنواز عالم، ارون یادو، بھائی ارون کمار، بلی یادو، غلام ربانی، مولانا نقیب، انعام الحق، اروند سہنی، نندو یادو، پروفیسر چندردیپ، انیل سادھو، کمار رائے سمیت ہزاروں کی تعداد میں روزہ دار اور دیگر افراد شامل تھے۔ اس کے علاوہ مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندے بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔