Tuesday, 24 December 2024

کانگریس کا امبیڈ کرسمان مارچ کامیاب ، مجاہدین آزادی اور ملک کے عظیم ہیروز کا احترام کیاجائے : عطاءالرحمان





پٹنہ(پریس ریلیز ) کانگریس کے سنیئر لیڈر ایڈووکیٹ عطاءالرحمان نے کہاکہ کانگریس کا امبیڈ کر سمان مارچ انتہائی کامیاب رہا ۔ انہوںنے کہاکہ آئین کے معمار باباصاحب ڈاکٹر بھیم راﺅ کے خلاف وزیر داخلہ امت شاہ کا بیان انتہائی قابل مذمت ہے ۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ کیونکہ وہ ملک کے ایک بڑے عہدے پر فائز ہیں انہیں اس طرح کا بیان دینا کسی طرح زیب نہیں دیتا ہے ۔ وہ بھی پارلیمنٹ کے اندر اس طرح کی بات کرنا تو انتہائی شرمناک ہے ۔ کانگریس ان کے اس بیان کی شدید مذمت کرتاہے ۔ انہوںنے کہاکہ آج ملک کے عظیم مجاہد ین آزادی کی موجودہ بی جے پی حکومت کے سرکردہ لیڈران تحقیر کر رہے ہیں جو کہ کسی بھی طرح سے مناسب نہیںہے ۔ خاص کر جب کوئی آئینی عہدے پر فائز ہو تو ایسے شخص کو تو سوچ سمجھ کر بیان دینا چاہئے۔ آج افسوس ہوتاہے کہ وزیر اعظم سے لیکر چھٹ بھیا نیتا سبھی ایک ہی طرح کی بولی بولتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہیکہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھا جائے ۔ آپسی میل محبت سے رہا جائے ، مجاہدین آزادی اور ملک کے عظیم ہیروز کی قدر کی جائے اور ہم آہنگی کو برقرار رکھاجائے ۔


Monday, 23 December 2024

بیٹی کے سسرال میں رشتہ داروں اور دوستوں کا طویل وقت تک ٹک جانا بے رحمی: کلکتہ ہائی کورٹ



کلکتہ ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلہ میں بیٹی کی سسرال میں اس کے گھر والوں اور دوستوں کے طویل وقت تک (بغیراجازت) رہ جانے کو بے رحمی قرار دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے اسی بنیاد پر 19 دسمبر کو ایک شخص کو طلاق کی منظوری دے دی۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ شوہر کی مرضی کے خلاف بیوی کے دوستوں یا رشتے داروں کا طویل وقت تک اس کے گھر میں رہنا بے رحمی ہے۔ کئی بار ایسے حالات میں جبکہ بیوی خود بھی گھر میں نہیں ہے، رشتے داروں کی وہاں موجودگی سے عرضی دہندہ کی زندگی پر گہرا اثر پڑا ہوگا۔ خاتون کے شوہر نے شادی کے تین سال بعد سال 2008 میں ہی طلاق کی عرضی فائل کی تھی۔


ان دونوں کی شادی مغربی بنگال کے نابا دویپ میں ہوئی تھی۔ بعد میں 2006 میں یہ دونوں کولا گھاٹ چلے آئے، جہاں شوہر کام کرتا تھا۔ پھر 2008 میں بیوی کولکاتہ کے نارکیل ڈانگہ چلی گئی۔ اس کا کہنا تھا کہ یہاں پر رہنا اس کے لیے زیادہ بہتر ہے، کیونکہ یہ سیالدہ سے نزدیک پڑتا ہے، جہاں وہ کام کرتی ہے۔ حالانکہ پوچھ تاچھ کے دوران اس نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے شوہر سے دور اس لیے ہوئی کیونکہ وہ بے بس ہو گئی تھی۔



2008 میں کولا گھاٹ واقع شوہر کے گھر سے بیوی کے چلے جانے کے بعد بھی اس کا کنبہ اور ایک دوست وہیں ٹھہرے رہے۔ 2016 میں بیوی ا±تر پارا چلی گئی۔ شوہر کا کہنا ہے کہ بیوی کا اس سے دور رہنا بے رحمی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے یہ بھی کہا کہ بیوی کسی طرح کا تعلق رکھنے یا پھر بچے پیدا کرنے کی خواہش مند نہیں ہے۔



سنیئر کانگریسی لیڈر عطاءالرحمان کی دختر اقرا نے اوپن مائنڈ س برلااسکول کے کھیلوں کے مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی

 




پٹنہ ( پریس ریلیز ) سنیئر کانگریسی لیڈر اور ایڈووکیٹ جنا ب عطاءالرحمان صاحب کی بیٹی اقرا جوکہ اوپن مائنڈ س برلا اسکول کنکڑ باغ میں زیر تعلیم ہیں نے اسپورٹ مقابلے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی پوزیشن (گولڈ) حاصل کی ہے ۔ جس پر اسکول کی جانب سے اقرا کو سند و اعزاز سے نواز اگیا ہے ۔ اس کی اس بہتر کارکردگی پر اساتذہ، والدین ، رشتہ داروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ بچی کے والد جناب عطاءالرحمان نے کہاکہ میری بیٹی اقرا پڑھنے لکھنے سمیت کھیل کود میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے مجھے اس کی اس کارکردگی پر فخر ہے اور اللہ سے دعا ہیکہ اللہ مزید اسے ترقی عطا کرے ۔ 


ہمیں اپنی مسجدوں کوایک مرکز بنا کر موجودہ اور مستقبل کے نسل کی سماجی تعلیمی ، اور معاشی بہتری کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے : ڈاکٹر عبد القدیر

 





مساجد کو نبوی دور کے طرزپربنانے کیلئے جامع تحریک کی آج کے دور میں سخت ضرورت ہے: مقررین

ممبئی :مساجد کو نبوی دور کے طرزپربنانے کیلئے جامع تحریک کی آج کے دور میں سخت ضرورت ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دورمیں مسجد نبوی صرف عبادات، ذکر و تلاوت تک محدود نہیں تھی بلکہ دنیوی معاملات کا بھی مرکز رہی۔جس سے انسانی فلاح وبہبود اور معاشرے کی بہتری کے ساتھ ساتھ تہذیب کے دائرے میں رہ کر کھیل کود اور تفریح کا سامان بھی مہیا کرایا جاتاتھااورہمیں بھی مسجد نبوی کی طرز پر اپنی مساجد کو کمیونٹی کی ترقی کا مرکز بنانے کی جانب توجہ دینا چاہئیے،ان خیالات کا اظہار مقررین نے گلوبل کیئر فاو¿نڈیشن کی زیر نگرانی ایک کتابچے' مثالی مسجد'کے اجراء کے جلسہ میں کیا۔

جنوبی ممبئی میں واقع اسلام جمخانہ (مرین لائنس) سیلی بریشن ہال میں اس تعلق سے منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صدرجلسہ انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی نے کہا کہ مساجد کی اہمیت اور افادیت پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسجد نبوی جہاں عبادات کا مرکز بھی وہیں دار القضاء بھی تھا، دار الشفاءبھی تھا ، انسانیت کی نفع رسانی اور تمام امور خیر کی انجام دہی کا عالمی نمونہ بھی۔ مسجدیں ہمیں وقت پابندی کا بھی درس دیتی ہیں،جہاں سے وقت پر اذان اور وقت پر جماعت کا بہر صورت اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس لئے علماءکو حالات کے تناظر میں سوچنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کئی مثالیں بھی پیش کیں اور معاشرے کی بدحالی کا بھی ذکر کیا۔اس لیے ضروری ہے کہ مساجدکو ایک ایسا مرکز بنایا جائے کہ نوجوانوں میں بہتری لائی جاسکے۔صدر اسلام جمخانہ ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے کہا کہ اس سلسلہ میں عملی قدم اٹھانا ہوگا۔ اس میں ٹرسٹیان کارول اہم ہوناچاہئیے۔ایک کتاب کا اجراءکافی نہیں ہے ، اس کے لئے ہمیں لوگوں کو مسجد سے جوڑنا ہوگا۔

شاہین انسٹی ٹیوٹ بیدرکے روح رواں ڈاکٹر عبد القدیرموجودہ نسل کی زبوں حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہماری یہ نسل ہی اصل ہے، یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہمیں اپنی مسجدوں کوایک مرکز بنا کر اپنی موجودہ اور مستقبل کی نسل کی سماجی تعلیمی ، اور معاشی بہتری کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔بلکہ سنجیدگی سے ان کی بہتر تربیت پرغور کرنا ہوگا۔اس ضمن میں تاخیر نقصان دہ ثابت ہوگی۔

سینئر پولیس افسر قیصر خالد نے کہا کہ بیرون ملک اور خصوصی طور پر یورپ اور ملائیشیا کی مثال پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں عملی طورپر مثالی مسجد بنانا چاہئیے۔انہوں نے مزیدکہاکہ کسی دوست کے ملاقات ہوتی ہے تو برسوں کا تعلق اور یادیں تازہ ہو جاتی ہیں،اور تعلیمی اداروں کو یاد کیاجاتا ہے،ہمیں اس طرح کاتعلق مساجد سے وابستہ کرنا چاہئیے۔مساجد کوکچھ دیرکے لئے ہی استعمال کرتے ہیں۔آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم جب ہجرت کے بعدمدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ نے مسجد کی بنیاد رکھی ، یہ واضح پیغام ہے کہ آپ کی تہذیبی زندگی کا مرکز تھی،مسجد نبوی میں مشورے اور منصوبہ سازی کی جاتی تھی ،جنگ میں زخمیوں کا علاج ہوتااورخیر کے کام بھی انجام دیئے جاتے تھے۔ اس واضح رہنمائی اور ہدایت کے باوجود ہم کورے ہیں۔

اقبال میمن ،صدر میمن فیڈریشن نےکہا کہ ہم سب کو اس طرف توجہ دے کر کام کرنا ہوگا تبھی ہم مقصد حاصل کر سکیں گے۔ ابتدائ میں گلوبل کیئر فاو¿نڈیشن کے سربراہ عابد احمد نے کتابچے کی تالیف کا مقصد بتایااور کہاکہ اس کے ذریعے مساجد کے متولیان اور ائمہ کرام کو ترغیب دلانا ہے کہ وہ مساجد کو نماز ، تلاوت قرآن اور دیگر عبادات کے ساتھ ایک مثالی کمیونٹی مراکز میں تبدیل کریں اور نوجوانوں کی فکر کریں۔ ملت کے درد مندوں کی خواہش ہے کہ مساجد میں نبوی طرز پر مثبت تبدیلی لائی جائے ، یہ اس وقت ممکن ہے جب ہم سب عملبکتیں گے،ورنہ کچھ نہیں ہوگا۔

مولانا اعجاز احمد کشمیری نے کہا کہ ائمہ کے احوال اور مسجد کے تقدس پر بھی ہماری نگاہ ہواور ائمہ کے احوال اور ان کے معاشی حالات پر بھی توجہ دی جائے۔انہیں خود کفیل بنایاجاسکے امام ایک سربراہ کی حیثیت رکھے۔اور مساجد کا تقدس بھی پامال نہ ہو۔ مفتی محمد اشفاق قاضی ،جامع مسجد نے کہا کہ جن خطوط پر کوشش کرنے کیلئے گفتگو کی گئی اور کتابچہ کا اجراء عمل میں آیا ، اس طرزپر کسی حد تک جامع مسجد میں کام ہو رہا ہے۔ اورسب سے اہم بطور خاص وقتا فوقتا غیر مسلم بھائیوں کو مسجد اور مسجد کی سرگرمیوں سے متعارف کرایا جاتاہے۔ اس نشست سے ڈاکٹر محمد علی پاٹنکر، اے ایم پی کے صدرعامر ادریسی اور سنئیر سوشل ورکرسعید خان نے بھی خطاب کیا،صحافی سرفراز آرزو ،جاویدجمال الدین،عبدالقادر چودھری،شہباز صدیقی،بھی پیش پیش تھے۔



Sunday, 22 December 2024

اتل خودکشی معاملے میں نیا موڑ، نکیتا کا الزام، اتل سبھاش کی تین گرل فرینڈز تھیں؟

 





اتل سبھاش کی موت کا معاملہ ہر روز نیا موڑ لے رہا ہے۔ اتل سبھاش کی ملزم بیوی نکیتا سنگھانیہ نے پولیس پوچھ تاچھ کے دوران متوفی اتل کے کردار پر سنگین الزامات لگائے ہیں جب کہ اتل سبھاش کے بھائی نے نکیتا کے دعوو¿ں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ ثبوت فراہم کرنے کو تیار ہیں۔


پولس پوچھ تاچھ کے دوران نکیتا سنگھانیہ نے متوفی اتل کے کردار پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ نکیتا نے دعویٰ کیا ہے کہ اتل کی تین گرل فرینڈ تھیں۔ وہ ان خواتین پر بھاری رقم خرچ کرتا تھا۔ اپنی خاندانی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہا۔ نکیتا نے کہا، "اتل نے میرے ساتھ ٹھیک سے برتاو¿ نہیں کیا اور ہماری شادی شدہ زندگی تناو¿ کا شکار تھی۔ اس کے باہر کے معاملات ہمارے جھگڑوں کی بڑی وجہ تھے۔"



اتل سبھاش کے بھائی نے نکیتا کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ نکیتا کے دعووں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "یہ الزامات صرف اتل کی شبیہ کو خراب کرنے اور معاملے کو موڑنے کے لیے لگائے جا رہے ہیں۔ ہم پہلے ہی اپنے بھائی کی موت پر صدمے میں ہیں اور اس طرح کے الزامات ہمارے درد کو بڑھا رہے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ اتل کا کردار بے داغ تھا۔ جو الزامات لگائے جا رہے ہیں وہ صرف توجہ ہٹانے اور سچ کو چھپانے کے لیے ہیں۔ پولیس نکیتا سنگھانیہ کے الزامات کی جانچ کر رہی ہے۔ اتل کی موت کی وجوہات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔


اے آئی انجینئر اتل سبھاش نے حال ہی میں بنگلورو میں خودکشی کر لی تھی۔ اتل اصل میں اتر پردیش کا رہنے والا تھا اور بنگلورو میں رہ رہا تھا۔ خودکشی کے بعد اتل کے بھائی کی شکایت پر پہلی ایف آئی آر درج کی گئی۔ اس معاملے میں اتل کی بیوی اور اس کے خاندان کے چار افراد کے خلاف خودکشی کے لیے اکسانے کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔



اُجالا فاؤنڈیشن نے قاسم خورشید کو امیر خسرو ایوارڈ سے نوازا



پٹنہ

پورے وقار اور بلند ترین معیار  و اقدار کے ساتھ اُردو ہندی کی انتہائی محترم شخصیت جن کا رب العزّت پر مصمم یقین رہا اور اپنے بچپن میں ہی والد کی شفقت سے محروم ہونے کے بعد انتہائی مشکل ترین حالات سے گزرتے ہوئے سخت تگ و دو کے بعد اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کی اپنی طالب علمی کے زمانے سے ہی درس و تدریس کے ساتھ تخلیقی سفر شروع کیا اور ملک اور بیرون ملک کے رسائل اور جرائد میں شائع بھی ہوتے رہے پھر کڑے وقت میں رشتوں کی بے اعتنائیوں کے باوجود کبھی ہمت نہیں ہارے اور  کم عمری میں ہی ہندوستان گیر سطح پر سروس کمیشن سے مشتہر کلاس ون آفیسر کے واحد عہدے پر فائز ہوکر ایک تاریخ بھی رقم کی اور بحیثیت صدر شعبہ اور انچارج ڈائریکٹر بھی اپنی صلاحیتوں سے بےحد متاثر کیا وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی سربراہی میں یوم تعلیم اور بہار دیوس کی شروعات سے ہی نیشنل سیمینار مشاعرہ کوی سمیلن کے کنوینر کے طور پر لگاتار اپنی خدمات دیں- خود قومی اور بین الاقوامی سیمینار مشاعرے میں مدعو کیے جاتے رہے جن میں حال میں ہی بحرین کا عالمی مشاعرہ اُن کی تخلیقی بصیرت کا غماز ہے- ڈاکٹر قاسم خورشید کی اُردو ہندی اور انگریزی میں 23 سے زیادہ کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں امسال ہی اُن کا دو شعری مجموعہ "دل کی کتاب"(اُردو)اور "دستکیں خاموش ہیں"(ہندی)بےحد مقبول ہو رہے ہیں ڈاکٹر قاسم خورشید اعزازی طور پر مُختلف ادبی سماجی تعلیمی اور ثقافتی ادارے کے چیئرمین وائس چیئر مین سیکرٹری ممبر مشاورتی بورڈ بھی ره چکے ہیں مختلف قومی اور بین الاقوامی اعزاز و اکرام سے بھی نوازے جاچکے ہیں اور بڑی بات یہ ہے کہ پوری فعالیت و شدّت کے ساتھ فلاحی کاموں سے جڑے ہوئے بھی ہیں اُن کی ایسی ہی متعدّد خدمات کو ملحوظ رکھتے ہوئے فلاحی ثقافتی ادبی ثقافتی تنظیم اُجالا فاؤنڈیشن نے سال 2024 کا بےحد پرکشش اور اعلیٰ امیر خسرو ایوارڈ ڈاکٹر قاسم خورشید کو دینے کا فیصلہ کیا جسے  انتہائی خوبصورت عالیشان تقریب میں پٹنہ کے بہترین سماجی رہنما جناب ششی شیکھر رستوگی نے عنایت کیا - قاسم خورشید کے اس ایوارڈ پر کثیر تعداد میں اُردو ہندی کی ہر دلعزیز شخصیتوں مداحوں اور سامعین نے پرجوش خیر مقدم کیا محترم ششی شیکھر رستوگی نے کہا کہ یہ ہمارے لیے انتہائی خوشی اور فخر کی بات ہے کہ ڈاکٹر قاسم خورشید جیسی محترم شخصیت کا تعلق بہار سے ہے اور انہوں نے پوری دنیا میں صوبے کا سر بلند کیا ہے ان کے لیے بہُت ساری دعائیں اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں ساتھ ہی فاؤڈیشن کے روحِ رواں اور بچوں کی تعلیم نیز ادبی ثقافتی کاموں کیلئے فاؤنڈیشن کے روحِ رواں جناب معین ابر اور اُنکی بڑی ٹیم کو بھی اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ڈاکٹر قاسم خورشید نے فرط جذبات سے لبریز ہوتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب ہر گوشے سے دعائیں اور محبتیں مل رہی ہُوں سوائے اللہ کا شُکر ادا کرنے کے زبان اور بھی کچھ کہنے سے قاصر رہتی ہے میرے لیے یہ اعزاز اس لیے بڑا ہے کہ حضرت امیر خسرو ہندوستانی تہذیب کے ایسے شاعر تھے جن کے روحانی کیف سے بھی زمانہ واقف ہے اور جب تک ہم محبت وطنیت اور روحانیت سے سرشار رہیں گے حضرت امیر خسرو ہماری ملی وراثت کا حصہ رہیں ہے میں اُجالا فاؤنڈیشن کو اور محترم  معین ابر اور اُن کے ہم نوا کو امیر خسرو کی یاد میں اس ایوارڈ کی تفہیم کے لیے بھی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں

ڈاکٹر قاسم خورشید کو امیر خسرو ایوارڈ دیے جانے پر ہر طرف سے پذیرائی جاری ہے

اس موقع پر ڈاکٹر قاسم خورشید کی صدارت میں ایک شاندار مشاعرے اور کوی سمیلن کا بھی انعقاد عمل میں آیا جس میں مطیع الرحمان ساحل  ارادھنا پرساد  وریندر ناتھ وبھاتسو طلعت پروین کاظم رضا پربھات کمار دھون شبانہ عشرت چندر پرکاش اور ناظمِ مشاعرہ کوی سمیلن نسیم احمد نے اپنے خوبصورت کلام سے محفل کو یادگار بناتے ہوئے ہندوی کے سب سے بڑے شاعر امیر خسرو کو بھی بہترین خراج دیا

اداکار مشتاق خان ۔ سنیل پال کے اغواکاروںکے خلاف غیر ضمانتی ورانٹ جاری





کامیڈین سنیل پال اور اداکار مشتاق خان کے اغوا معاملے میں پولیس نے بڑی کارروائی کی ہے۔ اس معاملے میں ملزم لوی پال، انکت پہاڑی اور شیوم کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ (این بی ڈبلیو) جاری کیا گیا ہے۔ ایک عرضی پر عدالت نے یہ حکم دیا۔ تینوں ملزمین پر ایس پی کی طرف سے 25-25 ہزار روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ دوسری طرف ملزمین کی تلاش میں پولیس اتراکھنڈ، دہلی سمیت کئی جگہوں پر دستک دے رہی ہے۔


'جاگرن' کی ایک خبر کے مطابق شہر کوتوال ادے پرتاپ سنگھ نے ملزمین کے وارنٹ کے لیے جمعہ کو سی جے ایم عدالت میں ایک درخواست دی تھی۔ ہفتہ کو سماعت کے دوران عدالت نے تینوں ملزمین لوی پال، انکت پہاڑی اور شیوم کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا ہے۔ ملزمین کے لیے گرفتاری وارنٹ جاری ہونے کے بعد پولیس نے املاک قرق کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اے ایس پی سٹی سنجیو باجپئی نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد ہی ملزمین کو گرفتار کرلیا جائے گا۔



قابل ذکر ہے کہ مشہور فلم اداکار مشتاق خان کا ایک ایونٹ بکنگ کے نام پر 20 نومبر کو اغوا کرکے نئی بستی میں لوی پال کے مکان پر رکھ کر تقریباً سوا دو لاکھ روپے کی وصولی کی گئی تھی۔ اسی گروہ پر 2 دسمبر کو کامیڈین سنیل پال کا بھی اسی طریقے سے اغوا کرکے لاکھوں روپے کی وصولی کا الزام ہے۔ اس کا مقدمہ میرٹھ کے لال ک±رتی تھانے میں درج ہے۔ 14 دسمبر کو بجنور پولیس نے اس گروہ کا راز فاش کرتے ہوئے کچھ لوگوں کو گرفتار کرکے جیل بھیجا تھا۔



کانگریس کا مودی حکومت پر شدید حملہ ،رندیپ سرجے والا نے مرکز سے کئے کئی تلخ سوالات

 





نئی دہلی : پیگاسس اسپائی ویئر معاملے پر ایک بار پھر سیاست گرم ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں کانگریس نے مودی حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔ کانگریسی رہنما رندیپ سنگھ سرجے والا نے مودی حکومت سے اس تعلق سے جواب مانگا ہے۔ دراصل حال ہی امریکہ کی ایک عدالت نے اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ کو قصور وار قرار دیا ہے۔


اس معاملے میں امریکی عدالت کا حکم آنے کے بعد رندیپ سنگھ سرجے والا نے مودی حکومت کی شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا "عدالت کے فیصلے سے ان الزامات کو زور مل رہا ہے کہ ہندوستان میں 300 نمبروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔"


سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے ایک پوسٹ میں سرجے والا نے کہا کہ پیگاسس اسپائی ویئر معاملے کا فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ غیر قانونی اسپائی ویئر ریکیٹ میں ہندوستانیوں کے 300 واٹس ایپ نمبروں کو کیسے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مرکز سے سوال کیا "جن 300 ناموں کو نشانہ بنایا گیا ہے، وہ کون ہیں؟ دو مرکزی وزیر کون ہیں؟ تین اپوزیشن رہنما کون ہیں؟ آئینی افسر کون ہے؟ صحافی کون ہیں؟ کاروباری کون ہیں؟ کانگریسی رہنما نے کہا کہ بی جے پی حکومت اور ایجنسیوں نے کون سی جانکاری حاصل کی؟ اس کا کس طرح سے استعمال کیا گیا۔ کیا اب موجودہ حکومت میں سیاسی ایگزیکٹیو/افسران اور این ایس او کی ملکیت والی کمپنی کے خلاف مناسب مجرمانہ معاملے درج کیے جائیں گے۔"



سرجے والا نے آگے سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ میٹا بمقابلہ این ایس او میں امریکی عدالت کے فیصلے پر توجہ دے گا؟ کیا سپریم کورٹ 22-2021 میں پیگاسس اسپائی ویئر پر تکنیکی ماہرین کی کمیٹی کی رپورٹ کو عوامی کرے گا؟ کیا سپریم کورٹ اب ہندوستان کے 300 سمیت 1400 واٹس ایپ نمبروں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرنے والے فیصلے کے پیش نظر آگے کی جانچ کرے گا؟ کیا سپریم کورٹ اب پیگاسس معاملے میں انصاف کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے میٹا سے 300 نام خود کو سونپنے کے لیے کہے گا؟"


قابل ذکر ہے کہ یہ معاملہ 2019 سے جڑا ہے۔ تب واٹس ایپ نے 2019 میں این ایس او گروپ پر الزام لگایا تھا کہ اس نے واٹس ایپ کے ایک بگ کا فائدہ اٹھا کر پیگاسس اسپائی ویئر کے ذریعہ 1400 لوگوں کے فون کو ہیک کیا تھا۔ ہندوستان میں بھی پیگاسس اور واٹس ایپ کا معاملہ چل رہا ہے۔



اپنے ہی بحریہ کے دو پائلٹوں کو امریکہ نے غلطی سے ماری گولی ،واقعے کو فرینڈلی فائر قرار دیا

 



بحیرہ احمر میں امریکی بحریہ کے دو پائلٹوں کو گولی مارنے کا سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے۔ حالانکہ امریکا نے اس واقعے کو ’فرینڈلی فائر‘ قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خود امریکا نے بحریہ کے دونوں پائلٹوں کو غلطی سے گولی مار دی تھی۔ حادثے کے بعد دونوں پائلٹوں کو زندہ نکال لیا گیا ہے جن میں سے ایک کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ بھلے ہی امریکہ اس واقعہ کو ’فرینڈلی فائر‘ قرار دیا ہو۔ لیکن یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے جہاز رانی پر مسلسل حملوں کی وجہ سے بحیرہ احمر کتنا خطرناک ہو گیا ہے۔ امریکی اور یورپی فوجی اتحاد اس علاقے میں لگاتار گشت کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔





امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈر نے بتایا کہ فائرنگ کے وقت فضائی حملے حوثی باغیوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے جا رہا تھے۔ حالانکہ مشن کے صحیح مقاصد کے حوالے سے کوئی جانکاری نہیں دی گئی ہے۔ حادثے کے دوران ایف/اے-18 لڑاکا طیارہ، طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ہیری ایس۔ ٹرومین سے اڑان بھر کر آیا تھا اسے مار گرایا گیا ہے۔ 15 دسمبر کو سنٹرل کمانڈر نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ٹرومین مشرق وسطیٰ میں داخل ہو چکا ہے۔ سنٹرل کمانڈر نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ گائیڈڈ میزائل کروزر یو ایس ایس گیٹسبرگ جو یو ایس ایس ہیری ایس۔ ٹرومین کیریئر سٹرائیک گروپ کا حصہ ہے۔ اس نے غلطی سے ایک ایف/اے-18 پر گولی چلائی۔




حالانکہ اب تک یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ گیٹسبرگ ایف/اے-18 کو دشمن کے طیارے یا میزائل کے طور پر کیسے سمجھا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب جنگی گروپ میں جہاز ریڈار اور ریڈیو کمیونیکیشن دونوں سے جڑے رہتے ہیں۔ جبکہ سنٹرل کمانڈ نے اس تعلق سے کہا کہ جنگی جہازوں اور طیاروں نے اس سے قبل حوثی ڈرونز اور باغیوں کی جانب سے لانچ کی گئی ایک اینٹی-شپ کروز میزائل کو مار گرایا تھا۔ ٹرومین کی آمد کے بعد امریکہ نے حوثی باغیوں اور ان کے میزائل فائر کو بحیرہ احمر اور آس پاس کے علاقوں میں ٹارگیٹ کر کے اپنے فضائی حملوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ حالانکہ امریکی جنگی جہاز گروپ کی موجودگی کی وجہ سے باغی دوبارہ سے حملے کر سکتے ہیں۔



Saturday, 21 December 2024

تیجسوی نے مہاگٹھ بندھن کی حکومت بننے پر 200 یونٹ مفت بجلی اور خواتین کو 2500 روپے ماہانہ دینے کا وعدہ کیا

پٹنہ: بہار اسمبلی میں قائد حزب لیڈر تیجسوی یادو نے ہفتے کو کہا کہ سیمانچل کے حالات بدتر ہیں۔ یہ پورا علاقہ غربت اور ہجرت کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ وہ اپنی یاترا کے تحت کٹیہار پہنچے تھے، جہاں انہوں نے حکومت کی شراب بندی پالیسی پر سوال اٹھائے۔





انہوں نے کہا، ”ہم چاہتے ہیں کہ بہار نشہ سے پاک ہو لیکن موجودہ قانون میں ترمیم ضروری ہے۔ قانون کے باوجود شراب کی ہوم ڈلیوری ہو رہی ہے۔ تمام جماعتوں کو مشاورت کے لیے بلانا چاہیے تاکہ قانون میں ضروری تبدیلی کی جا سکے۔“


تیجسوی یادو نے مہاگٹھ بندھن کی حکومت بننے کے بعد خواتین کو 2500 روپے ماہانہ دینے کا وعدہ دہراتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے خواتین کو خود کفیل بنایا جائے گا۔ انہوں نے مہنگائی کی وجہ سے خواتین کو درپیش مسائل اور اسمارٹ میٹر کے ذریعے آ رہے اضافی بجلی بلوں پر بھی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔




انہوں نے کہا کہ بہار میں سب سے مہنگی بجلی فراہم کی جا رہی ہے اور لوگ اسمارٹ میٹر کے انوکھے بلوں سے پریشان ہیں۔ اپوزیشن نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت 200 یونٹ بجلی مفت فراہم کرے گی۔


تیجسوی یادو نے وزیراعلیٰ نتیش کمار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نہ صرف ایوان کے اجلاس میں خاموش ہیں بلکہ اہم نشستوں سے بھی غائب رہتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نتیش کمار کی قیادت میں بہار حکومت ریٹائرڈ افسروں کے سہارے چل رہی ہے اور ریاست کو مناسب طور پر سنبھالا نہیں جا رہا۔


روس کے قازان شہر میں ڈرون حملے، 6 عمارتوں پر نشانہ، 9/11 جیسا واقعہ

 




قازان: روس کے قازان شہر میں ڈرون حملے کے بعد شہر میں 9/11 جیسے تباہ کن واقعات رونما ہوئے ہیں۔ قازان، جو روسی دارالحکومت ماسکو سے تقریباً 720 کلومیٹر دور واقع ہے، میں چھ عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، حملے میں 8 ڈرونز کا استعمال کیا گیا تھا جس میں سے ایک ڈرون کو ناکام کر دیا گیا تھا۔

روس کی دفاعی وزارت کے بیان کے مطابق، ’ایک یوکرینی ڈرون کو ناکام بنایا گیا ہے۔" حملے کے بعد، ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی جس میں ایک ڈرون عمارت سے ٹکراتے ہوئے دکھائی دے رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد روس نے اپنی سرحدوں پر حفاظتی اقدامات بڑھا دیے ہیں اور مزید نگرانی چوکیوں کی تنصیب کا اعلان کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں سے نمٹا جا سکے۔



دوسری جانب، یوکرین کی فوجی خفیہ سروس نے بیان دیا ہے کہ روس کے خلاف لڑائی کے لیے روس نے شمالی کوریا سے بھی فوجی دستے بھیجے ہیں۔ یہ خبریں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ شمالی کوریا کی فوج کو اس جنگ میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یوکرین کی دفاعی خفیہ ایجنسی (ڈی آئی یو) نے منگل کو اپنی ویب سائٹ پر اعلان کیا کہ امریکہ نے پہلی بار اس بات کی تصدیق کی ہے کہ روسی فوج کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔


ڈی آئی یو کے بیان میں کہا گیا ہے، ”سنگین نقصان اٹھانے کے بعد ڈی پی آر کے (شمالی کوریا) کی اکائیوں نے یوکرین کے سکیورٹی اور دفاعی دستوں کے ڈرونز کا پتہ لگانے کے لیے اضافی نگرانی چوکیوں کی تنصیب شروع کر دی ہے۔“ مغربی سرحدی علاقے کورسک میں روس اب بھی شمالی کوریا کے فوجیوں کا استعمال کر رہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق، ”کورسک علاقے میں شمالی کوریا کی فوجیوں کے مسلسل حملہ آور گروپوں کا جمع ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ماسکو جارحانہ کارروائیوں کی رفتار کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔“




مدھیہ پردیش میں’20 سال میں ٹرانسپورٹ محکمہ میں 15 ہزار کروڑ روپے کا ہوا گھوٹالہ

 



بھوپال : مدھیہ پردیش میں محکمہ ٹرانسپورٹ کے سابق کانسٹیبل سوربھ شرما کے پاس کروڑوں روپے کی ملکیت ملنے کے بعد کانگریس حملہ آور ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ 20 سالوں میں ٹرانسپورٹ محکمہ میں 15 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا گھوٹالہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملے کی سی بی آئی یا سبکدوش جج سے جانچ کے مطالبہ کو لے کر کانگریس ہائی کورٹ جائے گی۔

کانگریس دفتر میں نامہ نگاروں سے مخاطب ہوتے ہوئے پٹواری نے کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک سابق کانسٹیبل سوربھ شرما کے یہاں کروڑوں روپے کی ملکیت ملی۔ پھر ایک کار میں 52 کلوگرام سونا اور 10 کروڑ روپے نقد ملے ہیں۔ لوک آی±کت اور انکم ٹیکس کی کارروائی سے 2 دن پہلے سوربھ دبئی چلا جاتا ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ اسے جانچ ایجنسی سے ہی چھاپے کی خبر ملی ہوگی۔ جیتو پٹواری کا کہنا ہے کہ جب ایک کانسٹیبل کے یہاں کروڑوں کی ملکیت مل سکتی ہے تو ٹرانسپورٹ محکمہ کے چیف سکریٹری اور وزیر کے پاس کتنی ملکیت ہوگی۔ ان لوگوں نے ریاست میں بدعنوانی کی ہے۔ گزشتہ 20 سالوں میں ریاست میں 15 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا گھوٹالہ ہوا ہے۔

جیتو پٹواری نے ایک افسر کے ذریعہ ملی جانکاری کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ریاست میں ہر ماہ 30 سے 35 کروڑ روپے کی مختلف ناقوں سے محکمہ ٹرانسپورٹ وصولی کرتا ہے۔ اس طرح سال میں 4 سے 5 کروڑ روپے اور 20 سال میں 15 ہزار کروڑ روپے کی بدعنوانی ہوئی ہے۔ اس پورے معاملے کی سی بی آئی یا سبکدوش جج سے جانچ کرائی جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کانگریس اس معاملے کی جانچ کے لیے ہائی کورٹ جائے گی۔

مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے ریاست کے ذریعہ لیے جا رہے قرض پر بھی حکومت کو گھیرا۔ انھوں نے کہا کہ ریاست میں پرچی کی حکومت ہے جو بہت مہنگی پڑ رہی ہے۔ ہر روز کئی لاکھ روپے ہیلی کاپٹر پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ریاستی حکومت اپنی سیاسی عیاشی کے لیے قرض لے رہی ہے۔ پٹواری نے محکمہ آبی وسائل میں بھی بڑے پیمانے پر گھوٹالہ ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ بغیر کسی کمیشن کے ٹھیکا ہی نہیں ملتا ہے۔

مدھیہ پردیش #جیتو پٹواری#کانگریس #ٹرانسپورٹ محکمہ 




سعودی عرب: اقامہ، سرحدوں اور ملازمت کے ضوابط کی خلاف ورزی پر بیس ہزار سے زائد افراد گرفتار


ریاض:سعودی عرب میں قانون نافذ کرنےوالے اداروں کی جانب سے مملکت میں اقامہ، ملازمت اور سرحدوں کی خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاو¿ن جاری ہے۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پولیس نے ضوابط کی خلاف ورزی پر 20 ہزار 159 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔



سعودی عرب کی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق 12 دسمبر 2024ئ سے 18 دسمبر 2024ئ کے دوران سعودی عرب کے علاقوں میں اقامہ، کام اور سرحدی حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کی نگرانی کی گئی۔ قانون نافذ کرنےوالے اداروں کی مشترکہ فیلڈ مہمات کے دوران مجموعی طور پر 20,159 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اقامہ کی خلاف ورزی پر11,302 افراد گرفتار کیے گئے۔5652 افراد کو بارڈر سکیورٹی سسٹم کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ لیبر ضوابط کی خلاف ورزی پر3205 افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔


سرحد پار کر کے مملکت میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار ہونے والے ملزمان کی تعداد1861 تک پہنچ گئی۔ ان میں 33 فی صد یمنی، 65 فی صد ایتھوپیائی اور (02 فی صد دیگر قومیتوں کے افراد شامل ہیں۔ 112 لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے مملکت سے باہر سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے پر گرفتار کیا گیا۔

اس ہفتے میں 17 افراد کو رہائش، کام اور سرحدی حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نقل و حمل، پناہ دینے اور ان کے لیے کام کرنے والے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔


اس دوران 20,337 ملزمان کو سفری دستاویزات حاصل کرنے کے لیے ان کے سفارتی مشنوں میں بھیجا گیا، 3,425 خلاف ورزی کرنے والوں کو ان کے سفری تحفظات مکمل کرنے کے لیے ریفر کیا گیا۔9,461 خلاف ورزی کرنے والوں کو ملک بدر کر دیا گیا۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی سرحدی حفاظتی نظام کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مملکت میں داخل کرنے میں سہولت فراہم کرتا ہے، انہیں اس کے اندر لے جاتا ہے، انہیں پناہ دیتا ہے، یا انہیں کسی بھی طرح سے کوئی مدد یا خدمت فراہم کرتا ہے تو اسے 15 سال قید، 10 لاکھ ریال تک کا جرمانہ اور املاک کی ضبطی کی سزا ہوسکتی ہے۔